আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)
كتاب الموطأ للإمام مالك
ترکے کی تقسیم کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪ টি
হাদীস নং: ১৪০৭
ترکے کی تقسیم کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔
محمد بن اشعث کی ایک پھوپھی یہودی تھی یا نصرانی مرگئی محمد بن اشعث نے حضرت عمر (رض) سے بیان کیا اور پوچھا کہ اس کا کون وارث ہوگا عمر بن خطاب (رض) نے کہا اس کے مذہب والے وارث ہوں گے پھر عثمان (رض) بن عفان جب خلیفہ ہوئے تو ان سے پوچھا عثمان نے کہا کیا تو سمجھتا ہے کہ عمر نے جو تجھ سے کہا تھا اس کو میں بھول گیا وہی اس کے وارث ہوں گے جو اس کے مذہب والے ہیں۔
عَنْ مُحَمَّدَ بْنَ الْأَشْعَثِ ذَکَرَ ذَلِکَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَقَالَ لَهُ مَنْ يَرِثُهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا ثُمَّ أَتَی عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ أَتُرَانِي نَسِيتُ مَا قَالَ لَکَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَرِثُهَا أَهْلُ دِينِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৮
ترکے کی تقسیم کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ملت اور مذہب کا اختلاف ہو تو میراث نہیں ہے۔
اسمعیل بن ابی حکیم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا ایک غلام نصرانی تھا اس کو انہوں نے آزاد کردیا وہ مرگیا تو عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے کہا کہ اس کا مال بیت المال میں داخل کردو۔ سعید بن مسیب کہتے تھے کہ عمر بن خطاب نے انکار کیا غیر ملک کے لوگوں کی میراث دلانے کا اپنے ملک والوں کی مگر جو عرب میں پیدا ہوا ہو۔ کہا مالک نے اگر ایک عورت حاملہ کفار کے ملک میں سے آ کر عرب میں رہے اور وہاں (بچہ) جنے تو وہ اپنے لڑکے کی وارث ہوگی اور لڑکا اس کا وارث ہوگا۔ کہا مالک نے ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے اور اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ مسلمان کافر کا کسی رشتہ کی وجہ سے وارث نہیں ہوسکتا خواہ وہ رشتہ نانے کا ہو یا ولاء کا یا قرابت کا اور نہ کسی کو اس کی وارثت سے محروم کرسکتا ہے۔ کہا مالک نے اسی طرح جو شخص میراث نہ پائے وہ دوسرے کو محروم نہیں کرسکتا۔
عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي حَکِيمٍ أَنَّ نَصْرَانِيًّا أَعْتَقَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هَلَکَ قَالَ إِسْمَعِيلُ فَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَجْعَلَ مَالَهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك عَنْ الثِّقَةِ عِنْدَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ أَبَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنْ يُوَرِّثَ أَحَدًا مِنْ الْأَعَاجِمِ إِلَّا أَحَدًا وُلِدَ فِي الْعَرَبِ قَالَ مَالِك وَإِنْ جَاءَتْ امْرَأَةٌ حَامِلٌ مِنْ أَرْضِ الْعَدُوِّ فَوَضَعَتْهُ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ فَهُوَ وَلَدُهَا يَرِثُهَا إِنْ مَاتَتْ وَتَرِثُهُ إِنْ مَاتَ مِيرَاثَهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَ مَالِك الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا وَالسُّنَّةُ الَّتِي لَا اخْتِلَافَ فِيهَا وَالَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا أَنَّهُ لَا يَرِثُ الْمُسْلِمُ الْكَافِرَ بِقَرَابَةٍ وَلَا وَلَاءٍ وَلَا رَحِمٍ وَلَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ قَالَ مَالِك وَكَذَلِكَ كُلُّ مَنْ لَا يَرِثُ إِذَا لَمْ يَكُنْ دُونَهُ وَارِثٌ فَإِنَّهُ لَا يَحْجُبُ أَحَدًا عَنْ مِيرَاثِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৯
ترکے کی تقسیم کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جن کی موت کا وقت معلوم نہ ہو مثلا لڑائی میں کئی آدمی مارے جائیں ان کا بیان
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن اور بہت سے علماء سے روایت ہے کہ جتنے لوگ قتل ہوئے جنگ جمل اور جنگ صفین اور یوم الحرہ میں اور جو یوم القدید میں مارے گئے وہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوئے مگر جس شخص کا حال معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے وارث سے پہلے مارا گیا۔ کہا مالک نے یہی حکم ہے اگر کوئی آدمی ڈوب جائے یا مکان سے گر کر مارے جائیں یا قتل کئے جائیں جب معلوم نہ ہوسکے کہ پہلے کون مرا اور بعد میں کون مرا تو آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے بلکہ ہر ایک کا ترکہ اس کے وارثوں کو جو زندہ ہوں پہنچے گا۔ کہا مالک نے کوئی کسی کا وارث شک سے نہ ہوگا بلکہ علم و یقین سے وارث ہوگا مثلا ایک شخص مرجائے اور اس کے باپ کا مولیٰ (غلام آزاد کیا ہوا) مرجائے اب اس کے بیٹے یہ کہیں اس مولیٰ کا وارث ہمارا باپ تھا تو یہ نہیں ہوسکتا جب تک کہ علم و یقین یا گواہوں سے یہ ثابت نہ ہو کہ پہلے مولیٰ مرا تھا۔ اس وقت تک مولیٰ کے وارث جو زندہ ہوں اس ترکہ کو پائیں گے۔ کہا مالک نے اسی طرح اگر سگے دو بھائی مرجائیں ایک کی اولاد ہو اور دوسرا لاولد ہو ان دونوں کا ایک سوتیلا بھائی بھی ہو پھر معلوم نہ ہوسکے کہ پہلے کون سا بھائی مرا ہے تو جو بھائی لاولد مرا ہے اس کا ترکہ اس کے سوتیلے بھائی کو ملے گا اس کے بھتیجوں کو نہ ملے گا۔
عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ عُلَمَائِهِمْ أَنَّهُ لَمْ يَتَوَارَثْ مَنْ قُتِلَ يَوْمَ الْجَمَلِ وَيَوْمَ صِفِّينَ وَيَوْمَ الْحَرَّةِ ثُمَّ کَانَ يَوْمَ قُدَيْدٍ فَلَمْ يُوَرَّثْ أَحَدٌ مِنْ صَاحِبِهِ شَيْئًا إِلَّا مَنْ عُلِمَ أَنَّهُ قُتِلَ قَبْلَ صَاحِبِهِ قَالَ مَالِك وَذَلِكَ الْأَمْرُ الَّذِي لَا اخْتِلَافَ فِيهِ وَلَا شَكَّ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا وَكَذَلِكَ الْعَمَلُ فِي كُلِّ مُتَوَارِثَيْنِ هَلَكَا بِغَرَقٍ أَوْ قَتْلٍ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الْمَوْتِ إِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ لَمْ يَرِثْ أَحَدٌ مِنْهُمَا مِنْ صَاحِبِهِ شَيْئًا وَكَانَ مِيرَاثُهُمَا لِمَنْ بَقِيَ مِنْ وَرَثَتِهِمَا يَرِثُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَرَثَتُهُ مِنْ الْأَحْيَاءِ و قَالَ مَالِك لَا يَنْبَغِي أَنْ يَرِثَ أَحَدٌ أَحَدًا بِالشَّكِّ وَلَا يَرِثُ أَحَدٌ أَحَدًا إِلَّا بِالْيَقِينِ مِنْ الْعِلْمِ وَالشُّهَدَاءِ وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ يَهْلَكُ هُوَ وَمَوْلَاهُ الَّذِي أَعْتَقَهُ أَبُوهُ فَيَقُولُ بَنُو الرَّجُلِ الْعَرَبِيِّ قَدْ وَرِثَهُ أَبُونَا فَلَيْسَ ذَلِكَ لَهُمْ أَنْ يَرِثُوهُ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا شَهَادَةٍ إِنَّهُ مَاتَ قَبْلَهُ وَإِنَّمَا يَرِثُهُ أَوْلَى النَّاسِ بِهِ مِنْ الْأَحْيَاءِ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا الْأَخَوَانِ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ يَمُوتَانِ وَلِأَحَدِهِمَا وَلَدٌ وَالْآخَرُ لَا وَلَدَ لَهُ وَلَهُمَا أَخٌ لِأَبِيهِمَا فَلَا يُعْلَمُ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلَ صَاحِبِهِ فَمِيرَاثُ الَّذِي لَا وَلَدَ لَهُ لِأَخِيهِ لِأَبِيهِ وَلَيْسَ لِبَنِي أَخِيهِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ شَيْءٌ قَالَ مَالِك وَمِنْ ذَلِكَ أَيْضًا أَنْ تَهْلَكَ الْعَمَّةُ وَابْنُ أَخِيهَا أَوْ ابْنَةُ الْأَخِ وَعَمُّهَا فَلَا يُعْلَمُ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ فَإِنْ لَمْ يُعْلَمْ أَيُّهُمَا مَاتَ قَبْلُ لَمْ يَرِثْ الْعَمُّ مِنْ ابْنَةِ أَخِيهِ شَيْئًا وَلَا يَرِثُ ابْنُ الْأَخِ مِنْ عَمَّتِهِ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১০
ترکے کی تقسیم کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لعان والی عورت کے بچے اور ولد الزنا کی میراث کا بیان
عروہ بن زبیر کہتے تھے کہ لعان والی عورت کا لڑکا یا زنا کا لڑکا جب مرجائے تو اس کی ماں کتاب اللہ کے موافق اپنا حصہ لے گی اور جو اس کے مادری بھائی ہیں وہ اپنا حصہ لیں گے باقی اس کی ماں کے موالی کو ملے گا اگر وہ آزاد کی ہوئی ہو اور اگر عربیہ ہو تو بعد ماں اور بھائی بہنوں کے حصے کے جو بچے گا وہ مسلمانوں کا حق ہوگا۔ کہا مالک نے سلیمان بن یسار سے بھی مجھے ایسا ہی پہنچا اور ہمارے شہر کے اہل علم کی یہی رائے ہے۔
بَاب مِيرَاثِ وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا حَدَّثَنِي يَحْيَى عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ كَانَ يَقُولُ فِي وَلَدِ الْمُلَاعَنَةِ وَوَلَدِ الزِّنَا إِنَّهُ إِذَا مَاتَ وَرِثَتْهُ أُمُّهُ حَقَّهَا فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَيَرِثُ الْبَقِيَّةَ مَوَالِي أُمِّهِ إِنْ كَانَتْ مَوْلَاةً وَإِنْ كَانَتْ عَرَبِيَّةً وَرِثَتْ حَقَّهَا وَوَرِثَ إِخْوَتُهُ لِأُمِّهِ حُقُوقَهُمْ وَكَانَ مَا بَقِيَ لِلْمُسْلِمِينَ قَالَ مَالِك وَبَلَغَنِي عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ مَالِك وَعَلَى ذَلِكَ أَدْرَكْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا
তাহকীক: