আল মুওয়াত্তা - ইমাম মালিক রহঃ (উর্দু)

كتاب الموطأ للإمام مالك

کتاب نکاح کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪৯ টি

হাদীস নং: ১০০২
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو نکاح درست نہیں اس کا بیان
ابو زبیر سے روایت ہے کہ حضرت عمر خطاب کے سامنے ایک نکاح کا ذکر آیا جس کا کوئی گواہ نہ تھا سوائے ایک مرد اور ایک عورت کے آپ نے فرمایا یہ چوری چھپے کا نکاح میں جائز نہیں رکھتا اگر میں پہلے اس کو بیان کرچکا ہوتا تو اب میں رجم کرتا
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَکِّيِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِنِکَاحٍ لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ إِلَّا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ فَقَالَ هَذَا نِکَاحُ السِّرِّ وَلَا أُجِيزُهُ وَلَوْ کُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهِ لَرَجَمْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৩
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ جو نکاح درست نہیں اس کا بیان
سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ طلحہ الاسدیہ رشید ثقفی کے نکاح میں تھیں انہوں نے طلاق دی تو طلحہ الاسدیہ نے عدت کے اندر دوسرے شخص سے نکاح کرلیا حضرت عمر نے دونوں کو کوڑے مارے اور نکاح چھڑوا دیا پھر فرمایا کہ عورت عدت میں نکاح کرے کسی اور شخص سے تو اگر جماع نہ کیا ہو تو نکاح چھوڑ کر پہلے خاوند کی جس قدر عدت باقی ہو پوری کرے اب جس سے جی چاہے نکاح کرے دوسرے خاوند سے زندگی بھر نکاح نہیں ہوسکتا سعید بن مسیب نے کہا کہ وہ عورت دوسرے خاوند سے اپنا مہر لے سکتی ہے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ طُلَيْحَةَ الْأَسَدِيَّةَ کَانَتْ تَحْتَ رُشَيْدٍ الثَّقَفِيِّ فَطَلَّقَهَا فَنَکَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَضَرَبَهَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَضَرَبَ زَوْجَهَا بِالْمِخْفَقَةِ ضَرَبَاتٍ وَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَکَحَتْ فِي عِدَّتِهَا فَإِنْ کَانَ زَوْجُهَا الَّذِي تَزَوَّجَهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ زَوْجِهَا الْأَوَّلِ ثُمَّ کَانَ الْآخَرُ خَاطِبًا مِنْ الْخُطَّابِ وَإِنْ کَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ اعْتَدَّتْ بَقِيَّةَ عِدَّتِهَا مِنْ الْأَوَّلِ ثُمَّ اعْتَدَّتْ مِنْ الْآخَرِ ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا قَالَ مَالِک وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৪
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنے کا بیان
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر سے سوال ہوا کہ ایک شخص کے نکاح میں آزاد عورت موجود ہو پھر وہ لونڈی سے نکاح کرنا چاہے جواب دیا ان دونوں کو جمع کرنا مکروہ ہے۔
عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ کَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ فَأَرَادَ أَنْ يَنْکِحَ عَلَيْهَا أَمَةً فَکَرِهَا أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৫
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح کرنے کا بیان
سعید بن مسیب کہتے تھے کہ آزاد عورت کے ہوتے ہوئے لونڈی سے نکاح نہ کیا جائے گا مگر جب آزاد عورت راضی ہوجائے دو دن خاوند اس کے پاس رہے گا اور ایک دن لونڈی کے پاس۔ کہا مالک نے آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت ہو تو لونڈی سے نکاح نہ کرے اور اگر آزاد عورت سے نکاح کرنے کی قدرت نہ ہو تو بھی لونڈی سے نکاح نہ کرے مگر اس حال میں کہ زنا کا خوف ہو کیونکہ اللہ جل جلالہ نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے قدرت نہ رکھے آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی تو مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرلے اور یہ اس شخص کے واسطے ہے جو تم میں سے زنا کا خوف کرے۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَا تُنْکَحُ الْأَمَةُ عَلَی الْحُرَّةِ إِلَّا أَنْ تَشَائَ الْحُرَّةُ فَإِنْ طَاعَتْ الْحُرَّةُ فَلَهَا الثُّلُثَانِ مِنْ الْقَسْمِ قَالَ مَالِک وَلَا يَنْبَغِي لِحُرٍّ أَنْ يَتَزَوَّجَ أَمَةً وَهُوَ يَجِدُ طَوْلًا لِحُرَّةٍ وَلَا يَتَزَوَّجَ أَمَةً إِذَا لَمْ يَجِدْ طَوْلًا لِحُرَّةٍ إِلَّا أَنْ يَخْشَی الْعَنَتَ وَذَلِکَ أَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ فِي کِتَابِهِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ مِنْ فَتَيَاتِکُمْ الْمُؤْمِنَاتِ وَقَالَ ذَلِکَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْکُمْ قَالَ مَالِک وَالْعَنَتُ هُوَ الزِّنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৬
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تین طلاق کے بعد لونڈی کے خرید لینے کا بیان
زید بن ثابت کہتے تھے جو شخص لونڈی کو تین طلاقیں دے کر خرید لے تو صحبت کرنا درست نہیں جب تک دوسرا نکاح نہ کرلے۔ سعید بن مسیب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کا اپنی لونڈی سے نکاح کردیا غلام نے لونڈی کو دو طلاقیں دیں اس کے بعد مولیٰ نے وہ لونڈی غلام کو ہبہ کردی اب وہ لونڈی غلام کو درست ہے یا نہیں ان دونوں نے جواب دیا درست نہیں یہاں تک کہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ الْأَمَةَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَشْتَرِيهَا إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ عَنْ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ سُئِلَا عَنْ رَجُلٍ زَوَّجَ عَبْدًا لَهُ جَارِيَةً فَطَلَّقَهَا الْعَبْدُ الْبَتَّةَ ثُمَّ وَهَبَهَا سَيِّدُهَا لَهُ فَهَلْ تَحِلُّ لَهُ بِمِلْکِ الْيَمِينِ فَقَالَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৭
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ تین طلاق کے بعد لونڈی کے خرید لینے کا بیان
مسنگ کہا مالک نے ایک شخص نکاح کرے ایک لونڈی سے پھر اس سے بچہ پیدا ہو اس کے بعد لونڈی کو خرید کرلے تو وہ لونڈی پہلے بچے کی وجہ سے اس کی ام ولد نہ ہوگی البتہ اگر خریدنے کے بعد دوسرا بچہ مالک سے پیدا ہوا تو ام ولد ہوجائے گی اور جس نے اس لونڈی کو خریدا حمل کی حالت میں وہ حمل خریدنے والے کا تھا اس کے پاس آ کر جنے تو ام ولد ہوجائے گی۔
و حَدَّثَنِي عَنْ مَالِك أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ شِهَابٍ عَنْ رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ أَمَةٌ مَمْلُوكَةٌ فَاشْتَرَاهَا وَقَدْ كَانَ طَلَّقَهَا وَاحِدَةً فَقَالَ تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ مَا لَمْ يَبُتَّ طَلَاقَهَا فَإِنْ بَتَّ طَلَاقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ بِمِلْكِ يَمِينِهِ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ قَالَ مَالِک فِي الرَّجُلِ يَنْکِحُ الْأَمَةَ فَتَلِدُ مِنْهُ ثُمَّ يَبْتَاعُهَا إِنَّهَا لَا تَکُونُ أُمَّ وَلَدٍ لَهُ بِذَلِکَ الْوَلَدِ الَّذِي وَلَدَتْ مِنْهُ وَهِيَ لِغَيْرِهِ حَتَّی تَلِدَ مِنْهُ وَهِيَ فِي مِلْکِهِ بَعْدَ ابْتِيَاعِهِ إِيَّاهَا قَالَ مَالِک وَإِنْ اشْتَرَاهَا وَهِيَ حَامِلٌ مِنْهُ ثُمَّ وَضَعَتْ عِنْدَهُ کَانَتْ أُمَّ وَلَدِهِ بِذَلِکَ الْحَمْلِ فِيمَا نُرَی وَاللَّهُ أَعْلَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৮
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دو بہنوں کو یا ماں بیٹیوں کو ملک یمین سے رکھنے کا بیان
حضرت عمر بن خطاب سے سوال ہوا کہ ماں بیٹی دونوں سے جماع کرنا آگے پیچھے ملک یمین کی وجہ سے درست ہے بولے میرے نزدیک اچھا نہیں اور اس کو منع کیا۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِلَ عَنْ الْمَرْأَةِ وَابْنَتِهَا مِنْ مِلْکِ الْيَمِينِ تُوطَأُ إِحْدَاهُمَا بَعْدَ الْأُخْرَی فَقَالَ عُمَرُ مَا أُحِبُّ أَنْ أَخْبُرَهُمَا جَمِيعًا وَنَهَی عَنْ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০০৯
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ دو بہنوں کو یا ماں بیٹیوں کو ملک یمین سے رکھنے کا بیان
قبیصہ بن ذویب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عثمان بن عفان سے پوچھا کہ دو بہنوں کو ملک یمین سے رکھنا درست ہے یا نہیں حضرت عثماں نے فرمایا کہ ایک آیت کی رو سے درست ہے اور دوسری آیت کی رو سے درست نہیں ہے مگر میں اس کو پسند نہیں کرتا پھر وہ شخص چلا گیا اور ایک اور صحابی سے ملا ان سے بھی یہی مسئلہ پوچھا انہوں نے کہا اگر میں حاکم ہوتا اور کسی کو ایسا کرتے دیکھتا تو سخت سزا دیتا ابن شہاب نے کہا میں سمجھتا ہوں وہ صحابی حضرت علی تھے۔ زبیر بن عوام سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔ کہا مالک نے اگر کسی شخص کے پاس ایک لونڈی ہو اور وہ اس سے جماع کرے پھر اس کی بہن سے جماع کرنا چاہے تو یہ درست نہیں ہے جب تک پہلی بہن کی فرج اپنے اوپر حرام نہ کرے مثلا اس کا نکاح کر دے یا اپنے غلام سے بیاہ کر دے۔
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنْ الْأُخْتَيْنِ مِنْ مِلْکِ الْيَمِينِ هَلْ يُجْمَعُ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عُثْمَانُ أَحَلَّتْهُمَا آيَةٌ وَحَرَّمَتْهُمَا آيَةٌ فَأَمَّا أَنَا فَلَا أُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ ذَلِکَ قَالَ فَخَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ لَوْ کَانَ لِي مِنْ الْأَمْرِ شَيْئٌ ثُمَّ وَجَدْتُ أَحَدًا فَعَلَ ذَلِکَ لَجَعَلْتُهُ نَکَالًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أُرَاهُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مِثْلُ ذَلِکَ قَالَ مَالِک فِي الْأَمَةِ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَيُصِيبُهَا ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُصِيبَ أُخْتَهَا إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّی يُحَرِّمَ عَلَيْهِ فَرْجَ أُخْتِهَا بِنِکَاحٍ أَوْ عِتَاقَةٍ أَوْ کِتَابَةٍ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِکَ يُزَوِّجُهَا عَبْدَهُ أَوْ غَيْرَ عَبْدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১০
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حضرت عمر بن خطاب نے اپنے لڑکے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے ایک بار اس کا بدن کھولا تھا۔
عَنْ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهَبَ لِابْنِهِ جَارِيَةً فَقَالَ لَا تَمَسَّهَا فَإِنِّي قَدْ کَشَفْتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১১
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں
عبدالرحمن بن مجبر نے کہا کہ سالم بن عبداللہ نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہا کہ اس سے جماع نہ کرنا کیونکہ میں نے ارادہ کیا تھا اس سے جماع کا میں رک گیا۔
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُجَبَّرِ أَنَّهُ قَالَ وَهَبَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ لِابْنِهِ جَارِيَةً فَقَالَ لَا تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُهَا فَلَمْ أَنْشَطْ إِلَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১২
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں
یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ابونہشل بن اسود نے قاسم بن محمد سے کہا کہ میں نے اپنی لونڈی کو ننگا دیکھا چاندنی میں تو میں اس کے پاؤں اٹھا کر جماع کو مستعد ہوگیا وہ بولی حائضہ ہوں تو میں اٹھ کھڑا ہوا اب میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے قاسم بن محمد نے منع کیا۔
عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا نَهْشَلِ بْنَ الْأَسْوَدِ قَالَ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِنِّي رَأَيْتُ جَارِيَةً لِي مُنْکَشِفًا عَنْهَا وَهِيَ فِي الْقَمَرِ فَجَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ مِنْ امْرَأَتِهِ فَقَالَتْ إِنِّي حَائِضٌ فَقُمْتُ فَلَمْ أَقْرَبْهَا بَعْدُ أَفَأَهَبُهَا لِابْنِي يَطَؤُهَا فَنَهَاهُ الْقَاسِمُ عَنْ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৩
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ لونڈی باپ کے تصرف میں آئے اس سے جماع کرنے کی ممانعت کے بیان میں
عبدالملک بن مروان نے اپنے دوست کو ایک لونڈی ہبہ کی پھر اس سے اس لونڈی کا حال پوچھا اس نے کہا میرا ارادہ ہے کہ میں اس لونڈی کو ہبہ کر دوں اپنے بیٹے کو تاکہ وہ اس سے جماع کرے عبدالملک نے کہا کہ مروان تجھ سے زیادہ پرہیز گار تھا اس نے اپنے بیٹے کو ایک لونڈی ہبہ کی اور کہہ دیا اس سے صحبت نہ کرنا کیونکہ میں نے اس کی پنڈلیاں کھلی ہوئی دیکھی تھیں۔ کہا مالک نے یہودی لونڈی اور نصرانی لونڈی سے نکاح کرنا درست نہیں اور اللہ جل جلالہ نے اپنی کتاب میں جو اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح درست کیا ہے اس سے آزاد عورتیں مراد ہیں اور اللہ جل جلالہ نے فرمایا جو شخص تم میں سے مسلمان آزاد عورتوں سے نکاح کرنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرے اللہ نے مسلمان لونڈیوں سے نکاح کرنا حلال کیا ہے نہ کہ اہل کتاب کی لونڈیوں سے البتہ یہودی یا نصرانی لونڈی سے اس کے مالک کو جماع کرنا درست ہے مگر مشرکہ لونڈی سے درست نہیں۔
عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ أَنَّهُ وَهَبَ لِصَاحِبٍ لَهُ جَارِيَةً ثُمَّ سَأَلَهُ عَنْهَا فَقَالَ قَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَهَبَهَا لِابْنِي فَيَفْعَلُ بِهَا کَذَا وَکَذَا فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لَمَرْوَانُ کَانَ أَوْرَعَ مِنْکَ وَهَبَ لِابْنِهِ جَارِيَةً ثُمَّ قَالَ لَا تَقْرَبْهَا فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ سَاقَهَا مُنْکَشِفَةً قَالَ مَالِک لَا يَحِلُّ نِکَاحُ أَمَةٍ يَهُودِيَّةٍ وَلَا نَصْرَانِيَّةٍ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنْ الَّذِينَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکُمْ فَهُنَّ الْحَرَائِرُ مِنْ الْيَهُودِيَّاتِ وَالنَّصْرَانِيَّاتِ وَقَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْکُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْکِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِمَّا مَلَکَتْ أَيْمَانُکُمْ مِنْ فَتَيَاتِکُمْ الْمُؤْمِنَاتِ فَهُنَّ الْإِمَائُ الْمُؤْمِنَاتُ قَالَ مَالِک فَإِنَّمَا أَحَلَّ اللَّهُ فِيمَا نُرَی نِکَاحَ الْإِمَائِ الْمُؤْمِنَاتِ وَلَمْ يُحْلِلْ نِکَاحَ إِمَائِ أَهْلِ الْکِتَابِ الْيَهُودِيَّةِ وَالنَّصْرَانِيَّةِ قَالَ مَالِک وَالْأَمَةُ الْيَهُودِيَّةُ وَالنَّصْرَانِيَّةُ تَحِلُّ لِسَيِّدِهَا بِمِلْکِ الْيَمِينِ وَلَا يَحِلُّ وَطْئُ أَمَةٍ مَجُوسِيَّةٍ بِمِلْکِ الْيَمِينِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৪
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ احصان کا بیان
سعید بن مسیب نے کہا کہ محصنات سے دو عورتیں مراد ہیں جو خاوند والیاں ہیں مطلب اس کا یہ ہے کہ اللہ نے زنا کو حرم کیا۔
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ قَالَ الْمُحْصَنَاتُ مِنْ النِّسَائِ هُنَّ أُولَاتُ الْأَزْوَاجِ وَيَرْجِعُ ذَلِکَ إِلَی أَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ الزِّنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৫
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ احصان کا بیان
ابن شہاب اور قاسم بن محمد کہتے ہیں اگر آزاد شخص نے لونڈی سے نکاح کیا اور اس سے جماع کیا تو وہ محصن ہوگیا۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَبَلَغَهُ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّهُمَا کَانَا يَقُولَانِ إِذَا نَکَحَ الْحُرُّ الْأَمَةَ فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ قَالَ مَالِک وَکُلُّ مَنْ أَدْرَکْتُ کَانَ يَقُولُ ذَلِکَ تُحْصِنُ الْأَمَةُ الْحُرَّ إِذَا نَکَحَهَا فَمَسَّهَا فَقَدْ أَحْصَنَتْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৬
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ متعہ کا بیان
حضرت علی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع کیا جنگ خبیر کے روز متعے سے اور گدھوں کے گوشت کھانے سے۔
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ مُتْعَةِ النِّسَائِ يَوْمَ خَيْبَرَ وَعَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৭
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ متعہ کا بیان
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ خولہ بنت حکیم حضرت عمر کے پاس گئیں اور کہا کہ ربیعہ بن امیہ نے ایک عورت مولدہ سے متعہ کیا تھا وہ ربیعہ سے حاملہ ہے پس حضرت عمر (رض) گھبرا کر چادر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہا یہ متعہ ہے اگر میں پہلے اس کی ممانعت کرچکا ہوتا تو رجم کرتا
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ خَوْلَةَ بِنْتَ حَکِيمٍ دَخَلَتْ عَلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَتْ إِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ أُمَيَّةَ اسْتَمْتَعَ بِامْرَأَةٍ فَحَمَلَتْ مِنْهُ فَخَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَزِعًا يَجُرُّ رِدَائَهُ فَقَالَ هَذِهِ الْمُتْعَةُ وَلَوْ کُنْتُ تَقَدَّمْتُ فِيهَا لَرَجَمْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৮
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ غلام کے نکاح کا بیان
ربیعہ بن ابوعبدالرحمن کہتے تھے غلام چار عورتوں سے نکاح کرسکتا ہے۔ کہا مالک نے یہ قول بہت اچھا ہے میرے نزدیک۔ کہا مالک نے غلام کا نکاح مالی کی اجازت پر موقوف ہے اگر مالی اجازت دے گا تو صحیح ہوگا ورنہ تفریق کی جائے اور حلالہ کا نکاح ہر طرح سے چھوڑا جائے گا۔ کہا مالک نے اگر زوج زوجہ کا مالک ہوجائے یا زوجہ زوج کی مالک ہوجائے تو نکاح خوبخود بغیر طلاق کے فسخ ہوجائے گا اب اگر پھر نکاح کریں گے تو خاوند کو تین طلاق کا اختیار رہے گا۔ کہا مالک نے اگر زوجہ اپنے خاوند کو خرید کر آزاد کر دے اور وہ عدت میں ہو تو وہ دونوں نئے نکاح کے بغیر نہیں مل سکتے۔
عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ يَنْکِحُ الْعَبْدُ أَرْبَعَ نِسْوَةٍ قَالَ مَالِک وَهَذَا أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَالْعَبْدُ مُخَالِفٌ لِلْمُحَلِّلِ إِنْ أَذِنَ لَهُ سَيِّدُهُ ثَبَتَ نِکَاحُهُ وَإِنْ لَمْ يَأْذَنْ لَهُ سَيِّدُهُ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَالْمُحَلِّلُ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا عَلَی کُلِّ حَالٍ إِذَا أُرِيدَ بِالنِّکَاحِ التَّحْلِيلُ قَالَ مَالِک فِي الْعَبْدِ إِذَا مَلَکَتْهُ امْرَأَتُهُ أَوْ الزَّوْجُ يَمْلِکُ امْرَأَتَهُ إِنَّ مِلْکَ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا صَاحِبَهُ يَکُونُ فَسْخًا بِغَيْرِ طَلَاقٍ وَإِنْ تَرَاجَعَا بِنِکَاحٍ بَعْدُ لَمْ تَکُنْ تِلْکَ الْفُرْقَةُ طَلَاقًا قَالَ مَالِک وَالْعَبْدُ إِذَا أَعْتَقَتْهُ امْرَأَتُهُ إِذَا مَلَکَتْهُ وَهِيَ فِي عِدَّةٍ مِنْهُ لَمْ يَتَرَاجَعَا إِلَّا بِنِکَاحٍ جَدِيدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০১৯
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مشرک کی زوجہ کا خاوند سے پہلے مسلمان ہونے کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ چند عورتیں رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مسلمان ہوجاتی تھیں اپنے ملک میں ہجرت نہیں کرتی تھیں اور خاوند ان کے کافر ہوتے تھے انہی عورتوں میں سے ایک عاتکہ تھی جو ولید بن مغیرہ کی بیٹی تھیں جو صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھیں وہ فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئیں اور ان کے خاوند صفوان بھاگ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے چچا زاد بھائی وہب بن عمیر کو اپنی چادر نشانی کے واسطے دے کو صفوان کے پاس بھیجا اور ان کو امان دی اور اسلام کی طرف بلایا اور یہ کہا کہ میرے پاس آئے اگر تمہای خوشی ہو تو مسلمان ہونا نہ تو تم کو دو مہینے کی مہلت ملے گی جب صفوان رسول اللہ ﷺ کے پاس آپ کی چادر لے کر آ آئے تو لوگوں کے سامنے پکار اٹھے اے محمد وہب بن عمیر میرے پاس تمہاری چادر لے کر آئے اور مجھ سے کہا کہ تم نے مجھ کو بلایا ہے اس شرط پر کہ اگر میں چاہوں تو مسلمان ہوجاؤں نہیں تو مجھ کو دو مہینے کی مہلت ملے گی۔ آپ نے فرمایا اترو اے ابو وہب صفوان نے کہا قسم اللہ کی میں کبھی نہ اتروں گا جب تک تم مجھ سے بیان نہ کرو گے کہ وہب بن عمیر کا پیام صحیح ہے آپ نے فرمایا وہ تو کیا میں تمہیں چار مہینے کی مہلت دیتا ہوں پھر رسول اللہ ﷺ قبیلہ ہوازن کی طرف حنین میں گئے اور آپ نے صفوان سے کچھ ہتھیار اور سامان عاریتاً مانگا صفوان نے کہا آپ خوشی سے مانگتے ہیں یا زبردستی سے آپ نے فرمایا خوشی سے صفوان نے ہتھیار اور سامان دئیے پھر رسول اللہ ﷺ لوٹے اور صفوان کفر ہی کی حالت میں آپ کے ساتھ رہے مگر آپ نے ان کی عورت کو ان سے نہ چھڑایا یہاں تک کہ صفوان بھی مسلمان ہوگئے اور ان کی عورت بدستور ان کے پاس رہیں۔ ابن شہاب نے کہا کہ صفوان کی بی بی خاوند سے ایک مہینہ پہلے اسلام لائی تھیں اور جو عورت دارالکفر سے مسلمان ہو کر دارالا سلام میں ہجرت کر کے آئے تو وہ اپنے خاوند سے جدا ہوجائے گی اور عدت کر کے دوسرا نکاح کرلے گی مگر جب اس کا خاوند اس کی عدت کے اندر مسلمان ہو کر دارالاسلام میں آجائے۔
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ نِسَائً کُنَّ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمْنَ بِأَرْضِهِنَّ وَهُنَّ غَيْرُ مُهَاجِرَاتٍ وَأَزْوَاجُهُنَّ حِينَ أَسْلَمْنَ کُفَّارٌ مِنْهُنَّ بِنْتُ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَکَانَتْ تَحْتَ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ مِنْ الْإِسْلَامِ فَبَعَثَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ عَمِّهِ وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ بِرِدَائِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَانًا لِصَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ وَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْإِسْلَامِ وَأَنْ يَقْدَمَ عَلَيْهِ فَإِنْ رَضِيَ أَمْرًا قَبِلَهُ وَإِلَّا سَيَّرَهُ شَهْرَيْنِ فَلَمَّا قَدِمَ صَفْوَانُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ نَادَاهُ عَلَی رُئُوسِ النَّاسِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّ هَذَا وَهْبَ بْنَ عُمَيْرٍ جَائَنِي بِرِدَائِکَ وَزَعَمَ أَنَّکَ دَعَوْتَنِي إِلَی الْقُدُومِ عَلَيْکَ فَإِنْ رَضِيتُ أَمْرًا قَبِلْتُهُ وَإِلَّا سَيَّرْتَنِي شَهْرَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْزِلْ أَبَا وَهْبٍ فَقَالَ لَا وَاللَّهِ لَا أَنْزِلُ حَتَّی تُبَيِّنَ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلْ لَکَ تَسِيرُ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ فَأَرْسَلَ إِلَی صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ يَسْتَعِيرُهُ أَدَاةً وَسِلَاحًا عِنْدَهُ فَقَالَ صَفْوَانُ أَطَوْعًا أَمْ کَرْهًا فَقَالَ بَلْ طَوْعًا فَأَعَارَهُ الْأَدَاةَ وَالسِّلَاحَ الَّذِي عِنْدَهُ ثُمَّ خَرَجَ صَفْوَانُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ کَافِرٌ فَشَهِدَ حُنَيْنًا وَالطَّائِفَ وَهُوَ کَافِرٌ وَامْرَأَتُهُ مُسْلِمَةٌ وَلَمْ يُفَرِّقْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ حَتَّی أَسْلَمَ صَفْوَانُ وَاسْتَقَرَّتْ عِنْدَهُ امْرَأَتُهُ بِذَلِکَ النِّکَاحِ و عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ بَيْنَ إِسْلَامِ صَفْوَانَ وَبَيْنَ إِسْلَامِ امْرَأَتِهِ نَحْوٌ مِنْ شَهْرَيْنِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ يَبْلُغْنَا أَنَّ امْرَأَةً هَاجَرَتْ إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَزَوْجُهَا کَافِرٌ مُقِيمٌ بِدَارِ الْکُفْرِ إِلَّا فَرَّقَتْ هِجْرَتُهَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ زَوْجِهَا إِلَّا أَنْ يَقْدَمَ زَوْجُهَا مُهَاجِرًا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২০
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ مشرک کی زوجہ کا خاوند سے پہلے مسلمان ہونے کا بیان
ابن شہاب سے روایت ہے کہ ام حکیم عکرمہ بن ابوجہل کی بی بی فتح مکہ کے روز مسلمان ہوئی اور ان کے خاوند عکرمہ یمن بھاگ گئے ام حکیم بھی وہاں چلی گئیں اور ان کو دین اسلام کی طرف بلایا وہ مسلمان ہوگئے اور اسی سال آپ ﷺ کے پاس آئی آپ ﷺ نے جب ان کو دیکھا تو خوشی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان سے بیعت لی اس وقت آپ ﷺ کے جسم شریف پر چادر نہ تھی پھر دونوں میاں بی بی اپنے نکاح پر قائم رہے۔ کہا مالک نے جب مرد اپنی بی بی سے پہلے مسلمان ہوجائے اور بی بی سے مسلمان ہونے کو کہا جائے اور وہ مسلمان نہ ہو تو نکاح فسخ ہوجائے گا کیونکہ اللہ جل جلالہ اپنی کتاب میں فرماتا ہے مت علاقہ رکھو کافر عورتوں سے
عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ أُمَّ حَکِيمٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَکَانَتْ تَحْتَ عِکْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَأَسْلَمَتْ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهَرَبَ زَوْجُهَا عِکْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مِنْ الْإِسْلَامِ حَتَّی قَدِمَ الْيَمَنَ فَارْتَحَلَتْ أُمُّ حَکِيمٍ حَتَّی قَدِمَتْ عَلَيْهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَتْهُ إِلَی الْإِسْلَامِ فَأَسْلَمَ وَقَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ إِلَيْهِ فَرِحًا وَمَا عَلَيْهِ رِدَائٌ حَتَّی بَايَعَهُ فَثَبَتَا عَلَی نِکَاحِهِمَا ذَلِکَ قَالَ مَالِک وَإِذَا أَسْلَمَ الرَّجُلُ قَبْلَ امْرَأَتِهِ وَقَعَتْ الْفُرْقَةُ بَيْنَهُمَا إِذَا عُرِضَ عَلَيْهَا الْإِسْلَامُ فَلَمْ تُسْلِمْ لِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی يَقُولُ فِي کِتَابِهِ وَلَا تُمْسِکُوا بِعِصَمِ الْکَوَافِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২১
کتاب نکاح کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ ولیمہ کے بیان میں
انس بن مالک سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن عوف رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور ان پر زردی کا نشان تھا رسول اللہ ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے انہوں نے بیان کیا کہ میں نے ایک انصاری عورت سے نکاح کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا مہر دیا ہے انہوں نے کہا ایک گٹھلی برابر سونا آپ ﷺ نے فرمایا ولیمہ کر اگرچہ ایک بکری کا ہو۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ جَائَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِهِ أَثَرُ صُفْرَةٍ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ تَزَوَّجَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمْ سُقْتَ إِلَيْهَا فَقَالَ زِنَةَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
tahqiq

তাহকীক: