কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
کتاب اداب القضاة - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৯ টি
হাদীস নং: ৫৪০১
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ علماء جس امر پر اتفاق کریں اس کے مطابق حکم کرنے سے متعلق
شریح سے روایت ہے کہ انہوں نے عمر (رض) سے ایک مسئلہ پوچھنے کے لیے انہیں ایک خط لکھا تو انہوں نے لکھا : فیصلہ کرو اس کے مطابق جو کتاب اللہ (قرآن) میں ہے، اور اگر وہ کتاب اللہ (قرآن) میں نہ ہو تو سنت رسول (حدیث) کے مطابق، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول (حدیث) میں تو اس کے مطابق فیصلہ کرو جو نیک لوگوں نے کیا تھا، اور اگر وہ نہ کتاب اللہ (قرآن) میں ہو اور نہ سنت رسول ﷺ میں اور نہ ہی نیک لوگوں کا کوئی فیصلہ ہو تو اگر تم چاہو تو آگے بڑھو (اور اپنی عقل سے کام لے کر فیصلہ کرو) اور اگر چاہو تو پیچھے رہو (فیصلہ نہ کرو) اور میں پیچھے رہنے ہی کو تمہارے حق میں بہتر سمجھتا ہوں۔ والسلام علیکم۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٩١٩٧) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5399
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ: أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ: أَنْ اقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاقْضِ بِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ وَلَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَقْضِ بِهِ الصَّالِحُونَ، فَإِنْ شِئْتَ فَتَقَدَّمْ، وَإِنْ شِئْتَ فَتَأَخَّرْ، وَلَا أَرَى التَّأَخُّرَ إِلَّا خَيْرًا لَكَ، وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০২
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ آیت کریمہ|"ومن لم یحکم بما انزل اللہ الآیہ کی تفسیر سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کے بعد کئی بادشاہ ہوئے جن ہوں نے تورات اور انجیل کو بدل ڈالا، ان میں کچھ مومن تھے جو توراۃ پڑھتے تھے، ان کے بادشاہوں سے عرض کیا گیا : ہمیں اس سے زیادہ سخت گالی نہیں ملتی جو یہ ہمیں دیتے ہیں، یہ لوگ پڑھتے ہیں جس نے اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہ کیا وہ کافر ہیں یہ لوگ اس قسم کی آیات پڑھتے ہیں ور ساتھ ہی وہ چیزیں پڑھتے ہیں جس میں ہمارا عیب نکلتا ہے تو انہیں بلا کر کہو کہ وہ بھی ویسے ہی پڑھیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور اسی طرح کا ایمان لائیں جیسا ہم لائے ہیں، چناچہ اس (بادشاہ) نے انہیں بلایا اور اکٹھا کیا اور کہا : قتل منظور کرو یا پھر توراۃ اور انجیل کو پڑھنا چھوڑ دو ، البتہ وہ پڑھو جو بدل دیا گیا ہے۔ وہ بولے : تمہارا اس سے کیا مقصد ہے ؟ ہمیں چھوڑ دو ۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہمارے لیے ایک مینار بنادو اور ہمیں اس پر چڑھا دو پھر ہمیں کھانے پینے کی کچھ چیزیں دے دو ، تو ہم تمہارے پاس کبھی لوٹ کر نہ آئیں گے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے کہا : ہمیں چھوڑ دو ، ہم زمین میں گھومیں ور بھٹکتے پھریں اور جنگلی جانوروں کی طرح پئیں، پھر اگر تم ہمیں اپنی زمین میں دیکھ لو تو مار ڈالنا، ان میں سے بعض لوگوں نے کہا : ہمارے لیے صحراء و بیابان میں گھر بنادو ، ہم خود کنویں کھود لیں گے اور سبزیاں بولیں گے، پھر پلٹ کر تمہارے پاس نہ آئیں گے اور نہ تمہارے پاس سے گزریں گے، اور کوئی قبیلہ ایسا نہ تھا جس کا دوست یا رشتہ دار اس میں نہ ہو۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، تو اللہ تعالیٰ نے آیت : ورهبانية ابتدعوها ما کتبناها عليهم إلا ابتغاء رضوان اللہ فما رعوها حق رعايتها اور جو درویشی انہوں نے خود نکالی تھی ہم نے انہیں اس کا حکم نہیں دیا تھا سوائے اللہ کی رضا جوئی کے، پھر انہوں نے اس کی بھی پوری رعایت نہیں کی (الحدید : ٢٧ ) نازل فرمائی، کچھ دوسرے لوگوں نے کہا : ہم بھی فلاں کی طرح عبادت کریں گے اور فلاں کی طرح گھومیں گے اور فلاں کی طرح گھر بنائیں گے حالانکہ وہ شرک میں مبتلا تھے، یہ ان لوگوں کے ایمان سے باخبر نہ تھے جن کی پیروی کا یہ دم بھر رہے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کو بھیجا تو ان میں سے بہت تھوڑے سے لوگ بچے تھے، ایک شخص اپنے عبادت خانے سے اترا اور جنگل میں گھومنے والا گھوم کر لوٹا اور گرجا گھر میں رہنے والا گرجا گھر سے لوٹا اور یہ سب کے سب آپ پر ایمان لائے اور آپ کی تصدیق کی، تو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا : يا أيها الذين آمنوا اتقوا اللہ وآمنوا برسوله يؤتكم كفلين من رحمته اے لوگو ! جو ایمان رکھتے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ وہ تمہیں اپنی رحمت کا دوگنا حصہ دے گا (الحدید : ٢٩ ) دوہرا اجر ان کے عیسیٰ ، تورات اور انجیل پر ایمان کے بدلے اور محمد ﷺ پر ایمان اور تصدیق کے بدلے، پھر فرمایا : وہ تمہارے چلنے کے لیے ایک روشنی دے گا یعنی قرآن اور نبی اکرم ﷺ کی پیروی تاکہ اہل کتاب یعنی وہ اہل کتاب جو تمہاری مشابہت کرتے ہیں جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٥٧٥) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5400
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَتْ مُلُوكٌ بَعْدَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ بَدَّلُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ، ، وَكَانَ فِيهِمْ مُؤْمِنُونَ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ، قِيلَ لِمُلُوكِهِمْ: مَا نَجِدُ شَتْمًا أَشَدَّ مِنْ شَتْمٍ يَشْتِمُونَّا هَؤُلَاءِ، إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ: وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ سورة المائدة آية 44، وَهَؤُلَاءِ الْآيَاتِ مَعَ مَا يَعِيبُونَّا بِهِ فِي أَعْمَالِنَا فِي قِرَاءَتِهِمْ، فَادْعُهُمْ فَلْيَقْرَءُوا كَمَا نَقْرَأُ، وَلْيُؤْمِنُوا كَمَا آمَنَّا، فَدَعَاهُمْ فَجَمَعَهُمْ وَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلَ، أَوْ يَتْرُكُوا قِرَاءَةَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ إِلَّا مَا بَدَّلُوا مِنْهَا، فَقَالُوا: مَا تُرِيدُونَ إِلَى ذَلِكَ دَعُونَا، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا أُسْطُوَانَةً، ثُمَّ ارْفَعُونَا إِلَيْهَا، ثُمَّ اعْطُونَا شَيْئًا نَرْفَعُ بِهِ طَعَامَنَا وَشَرَابَنَا فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: دَعُونَا نَسِيحُ فِي الْأَرْضِ وَنَهِيمُ وَنَشْرَبُ كَمَا يَشْرَبُ الْوَحْشُ فَإِنْ قَدَرْتُمْ عَلَيْنَا فِي أَرْضِكُمْ فَاقْتُلُونَا، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: ابْنُوا لَنَا دُورًا فِي الْفَيَافِي وَنَحْتَفِرُ الْآبَارَ، وَنَحْتَرِثُ الْبُقُولَ فَلَا نَرِدُ عَلَيْكُمْ وَلَا نَمُرُّ بِكُمْ، وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنَ الْقَبَائِلِ إِلَّا وَلَهُ حَمِيمٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَفَعَلُوا ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا سورة الحديد آية 27، وَالْآخَرُونَ قَالُوا: نَتَعَبَّدُ كَمَا تَعَبَّدَ فُلَانٌ، وَنَسِيحُ كَمَا سَاحَ فُلَانٌ، وَنَتَّخِذُ دُورًا كَمَا اتَّخَذَ فُلَانٌ، وَهُمْ عَلَى شِرْكِهِمْ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِإِيمَانِ الَّذِينَ اقْتَدَوْا بِهِ، فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا قَلِيلٌ، انْحَطَّ رَجُلٌ مِنْ صَوْمَعَتِهِ، وَجَاءَ سَائِحٌ مِنْ سِيَاحَتِهِ، وَصَاحِبُ الدَّيْرِ مِنْ دَيْرِهِ، فَآمَنُوا بِهِ، وَصَدَّقُوهُ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ سورة الحديد آية 28، أَجْرَيْنِ بِإِيمَانِهِمْ بِعِيسَى، وَبِالتَّوْرَاةِ، وَالْإِنْجِيلِ، وَبِإِيمَانِهِمْ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَصْدِيقِهِمْ قَالَ: وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ سورة الحديد آية 28 الْقُرْآنَ، وَاتِّبَاعَهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ سورة الحديد آية 29 يَتَشَبَّهُونَ بِكُمْ أَلا يَقْدِرُونَ عَلَى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ سورة الحديد آية 29 الْآيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৩
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ قاضی کا ظاہر شرع پر حکم
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ میرے سامنے مقدمات لاتے ہو، میں تو بس تمہاری طرح ایک انسان ہوں ١ ؎، ممکن ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا حق دلا دوں (اور وہ حقیقت میں اس کا نہ ہو) تو اسے وہ نہ لے کیونکہ میں تو اسے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ١٦ (٢٤٩٨) ، الشہادات ٢٧ (٢٦٨٠) ، الحیل ١٠ (٦٩٦٧) ، الأحکام ٢٠ (٧١٦٩) ، ٢٩ (٧١٨١) ، صحیح مسلم/الأقضیة ٣ (١٧١٣) ، سنن ابی داود/الأقضیة ٧ (٣٥٨٣) ، سنن الترمذی/الأحکام ١١ (١٣٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١١ (٢٣١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٦١) ، موطا امام مالک/الأقضیة ١(١) ، مسند احمد (٦/٢٠٣، ٢٩٠، ٣٠٧، ٣٠٨) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٤٢٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی غیب کا علم صرف اللہ کو ہے، میں تو صرف ظاہر کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5401
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَلَا يَأْخُذْهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُهُ بِهِ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৪
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ حاکم اپنی عقل سے فیصلہ کرسکتا ہے
ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو عورتیں تھیں ان دونوں کے ساتھ ان کا ایک ایک بچہ تھا، اتنے میں بھیڑیا آیا اور ایک کا بچہ اٹھا لے گیا، تو اس نے دوسری سے کہا : وہ تمہارا بچہ لے گیا، دوسری بولی : تمہارا بچہ لے گیا، پھر وہ دونوں مقدمہ لے کر داود (علیہ السلام) کے پاس گئیں تو آپ نے بڑی کے حق میں فیصلہ کیا۔ پھر وہ دونوں سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں اور ان سے بیان کیا تو انہوں نے کہا : ایک چھری لاؤ، میں اسے دونوں کے درمیان تقسیم کردیتا ہوں، چھوٹی بولی : ایسا نہ کیجئیے، اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، وہ اسی کا بیٹا ہے، تو انہوں نے چھوٹی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! سوائے اس دن کے ہم نے کبھی چھری کا نام سکین نہیں سنا، ہم) تو اسے مدیہ کہا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الَٔنبیاء ٤٠ (٣٤٢٧) ، والفرائض ٣٠ (٦٧٦٩) ، (تحفة الُٔشراف : ١٣٧٢٨) ، مسند احمد ٢/٣٢٢٢٢، ٣٤٠، وانظر حدیث رقم : ٥٤٠٥، ٥٤٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5402
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ رَاشِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزِّنَادِ، مِمَّا حَدَّثَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، مِمَّا ذَكَرَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ بِهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا ابْنَاهُمَا جَاءَ الذِّئْبُ، فَذَهَبَ بِابْنِ إِحْدَاهُمَا، فَقَالَتْ هَذِهِ لِصَاحِبَتِهَا: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: إِنَّمَا ذَهَبَ بِابْنِكِ فَتَحَاكَمَتَا إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى: فَخَرَجَتَا إِلَى سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ فَأَخْبَرَتَاهُ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّهُ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَفْعَلْ يَرْحَمُكَ اللَّهُ هُوَ ابْنُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلصُّغْرَى. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَاللَّهِ مَا سَمِعْتُ بِالسِّكِّينِ قَطُّ إِلَّا يَوْمَئِذٍ مَا كُنَّا نَقُولُ إِلَّا الْمُدْيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৫
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ قاضی و حاکم کے لئے اس کی گنجائش کہ جو کام نہ کرنا ہو اس کو ظاہر کرے کہ میں یہ کام کروں گا تاکہ حق ظاہر ہو جائے
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کردیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ دونوں اس بچے کے سلسلے میں جو باقی تھا جھگڑتی ہوئی داود (علیہ السلام) کے پاس آئیں، تو انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، پھر وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں، وہ بولے : تم دونوں کا کیا قضیہ ہے ؟ چناچہ انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا، تو انہوں نے کہا : چھری لاؤ، بچے کے دو حصے کر کے ان دونوں کے درمیان تقسیم کروں گا ١ ؎، چھوٹی عورت بولی : کیا آپ اسے کاٹیں گے ؟ کہا : ہاں، وہ بولی : ایسا نہ کیجئیے، اس میں جو میرا حصہ ہے وہ بھی اسی کو دے دیجئیے، سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : یہ تمہارا بیٹا ہے، چناچہ آپ نے اس کے حق میں فیصلہ کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الَٔقضیة ١٠ (١٧٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٨٦٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اسی جملے میں باب سے مطابقت ہے، سلیمان (علیہ السلام) کا مقصد بچے کو حقیقت میں ٹکڑے کر کے تقسیم کرنا نہیں تھا، بس اس طریقے سے وہ بچے کی حقیقی ماں کو پہچاننا چاہتے تھے، واقعی میں جس کا بچہ تھا وہ (چھوٹی عورت) بچے کے ٹکڑے کرنے پر راضی نہیں ہوئی، جب کہ جس کا بچہ نہیں تھا وہ خاموش رہی، اسے دوسری کے بچے سے کیا محبت ہوسکتی تھی ؟ اس لیے ٹکڑے کرنے پر خاموش رہی، اس طرح آپ نے حقیقت کا پتہ چلا لیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5403
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا صَبِيَّانِ لَهُمَا، فَعَدَا الذِّئْبُ عَلَى إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ وَلَدَهَا، فَأَصْبَحَتَا تَخْتَصِمَانِ فِي الصَّبِيِّ الْبَاقِي إِلَى دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْرُكُمَا ؟ فَقَصَّتَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: ائْتُونِي بِالسِّكِّينِ أَشُقُّ الْغُلَامَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَتِ الصُّغْرَى: أَتَشُقُّهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: لَا تَفْعَلْ حَظِّي مِنْهُ لَهَا، قَالَ: هُوَ ابْنُكِ فَقَضَى بِهِ لَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৬
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ ایک حاکم اپنے برابر والے کا یا اپنے سے زیادہ درجہ والے شخص کا فیصلہ توڑ سکتا ہے اگر اس میں غلطی کا علم ہو
ابوہریرہ (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دو عورتیں نکلیں، ان کے ساتھ ان کے دو بچے بھی تھے، ان میں سے ایک پر بھیڑیئے نے حملہ کردیا اور اس کے بچے کو اٹھا لے گیا، وہ اس بچے کے سلسلے میں جو باقی رہ گیا تھا جھگڑتی ہوئی داود (علیہ السلام) کے پاس آئیں، انہوں نے ان میں سے بڑی کے حق میں فیصلہ دیا، وہ سلیمان (علیہ السلام) کے پاس گئیں تو انہوں نے کہا : تم دونوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا ؟ (چھوٹی) بولی بڑی کے حق میں فیصلہ کیا، سلیمان (علیہ السلام) نے کہا : میں اس بچے کو دو حصوں میں تقسیم کروں گا، ایک حصہ اس کے لیے اور دوسرا حصہ اس کے لیے ہوگا، بڑی عورت بولی : ہاں ! آپ اسے کاٹ دیں، جب کہ چھوٹی عورت نے کہا : ایسا نہ کیجئیے، یہ بچہ اسی کا ہے، چناچہ انہوں نے اس کے حق میں فیصلہ کیا جس نے بچہ کو کاٹنے سے روکا تھا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٤٠٤ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: سلیمان (علیہ السلام) نے اپنے باپ داود (علیہ السلام) کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، یہی باب سے مطابقت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5404
أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: خَرَجَتِ امْرَأَتَانِ مَعَهُمَا وَلَدَاهُمَا فَأَخَذَ الذِّئْبُ أَحَدَهُمَا، فَاخْتَصَمَتَا فِي الْوَلَدِ إِلَى دَاوُدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى مِنْهُمَا، فَمَرَّتَا عَلَى سُلَيْمَانَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَ: كَيْفَ قَضَى بَيْنَكُمَا ؟ قَالَتْ: قَضَى بِهِ لِلْكُبْرَى، قَالَ سُلَيْمَانُ: أَقْطَعُهُ بِنِصْفَيْنِ لِهَذِهِ نِصْفٌ، وَلِهَذِهِ نِصْفٌ، قَالَتِ الْكُبْرَى: نَعَمِ، اقْطَعُوهُ. فَقَالَتِ الصُّغْرَى: لَا تَقْطَعْهُ هُوَ وَلَدُهَا، فَقَضَى بِهِ لِلَّتِي أَبَتْ أَنْ يَقْطَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৭
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ جب کوئی حاکم ناحق فیصلہ کر دے تو اس کو رد کرنا صحیح ہے
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے خالد بن ولید (رض) کو بنی جذیمہ کی طرف روانہ کیا، خالد (رض) نے انہیں اسلام کی دعوت دی، مگر وہ اچھی طرح اسلمنا ہم اسلام لائے نہ کہہ سکے بلکہ کہنے لگی : ہم نے اپنا دین چھوڑا، چناچہ خالد (رض) نے بعض کو قتل کردیا اور بعض کو قیدی بنا لیا اور ہر شخص کو اس کا قیدی حوالے کردیا، جب صبح ہوئی تو خالد (رض) نے ہم میں سے ہر شخص کو اپنا قیدی قتل کرنے کا حکم دیا، ابن عمر (رض) نے کہا : اللہ کی قسم ! میں اپنا قیدی قتل نہیں کروں گا اور نہ ہی (میرے ساتھیوں میں سے) کوئی دوسرا، پھر ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور خالد (رض) کی اس کارروائی کا آپ سے ذکر کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا (اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھی) : اے اللہ میں اس سے برأت کا اعلان کرتا ہوں جو خالد نے کیا ١ ؎۔ بشر کی روایت میں ہے کہ آپ نے یوں فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے بَری ہوں جو خالد نے کیا ہے ، ایسا آپ نے دو مرتبہ کہا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٥٨ (٤٣٣٩) ، الٔمحکام ٣٥ (٧١٨٩) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٤١) ، مسند احمد (٢/١٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہی باب سے مناسبت ہے، آپ ﷺ نے خالد بن ولید کے فیصلہ کو رد کردیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5405
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ. ح، وَأَنْبَأَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى بَنِي جَذِيمَةَ، فَدَعَاهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ يُحْسِنُوا أَنْ يَقُولُوا: أَسْلَمْنَا، فَجَعَلُوا يَقُولُونَ: صَبَأْنَا، وَجَعَلَ خَالِدٌ قَتْلًا وَأَسْرًا، قَالَ: فَدَفَعَ إِلَى كُلِّ رَجُلٍ أَسِيرَهُ حَتَّى إِذَا أَصْبَحَ يَوْمُنَا، أَمَرَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَنْ يَقْتُلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا أَسِيرَهُ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَا أَقْتُلُ أَسِيرِي وَلَا يَقْتُلُ أَحَدٌ، وَقَالَ بِشْرٌ: مِنْ أَصْحَابِي أَسِيرَهُ، قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذُكِرَ لَهُ صُنْعُ خَالِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ، قَالَ زَكَرِيَّا فِي حَدِيثِهِ فَذُكِرَ، وَفِي حَدِيثِ بِشْرٍ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ خَالِدٌ مَرَّتَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৮
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ کون سی باتوں سے (قاضی و) حاکم کو بچنا چاہیے
عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ کہتے ہیں کہ میرے والد نے لکھوایا تو میں نے عبیداللہ بن ابی بکرہ کے پاس لکھا وہ سجستان کے قاضی تھے، تم دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرو، اس لیے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی شخص دو لوگوں کے درمیان غصے کی حالت میں فیصلہ نہ کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الٔنحکام ١٣ (٧١٥٨) ، صحیح مسلم/الِٔقضیة ٧ (١٧١٧) ، سنن ابی داود/الٔدقضیة ٩ (٣٥٨٩) ، سنن الترمذی/الْٔحکام ٧ (١٣٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الٔرحکام ٤ (٢٣١٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٧٦) ، مسند احمد (٥/٣٦، ٣٧، ٣٨، ٤٦، ٥٢) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٤٢٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5406
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: كَتَبَ أَبِي، وَكَتَبْتُ لَهُ: إِلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ وَهُوَ قَاضِي سِجِسْتَانَ: أَنْ لَا تَحْكُمَ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَأَنْتَ غَضْبَانُ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَحْكُمْ أَحَدٌ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَهُوَ غَضْبَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪০৯
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ جو حاکم ایماندار ہو تو وہ بحالت غصہ فیصلہ کرسکتا ہے
زبیر بن عوام (رض) سے روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص سے جو بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شریک ہوا تھا حرہ کی نالیوں کے سلسلہ میں ان کا جھگڑا ہوگیا۔ وہ دونوں ہی اس سے اپنے کھجوروں کے باغ کی سنیچائی کرتے تھے۔ انصاری نے کہا : پانی چھوڑ دو وہ اس سے گزر کر چلا جائے، انہوں نے پانی چھوڑنے سے انکار کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : زبیر ! پہلے سنیچائی کرو، پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، انصاری کو غصہ آگیا وہ بولا : اللہ کے رسول ! وہ (زبیر) آپ کے پھوپھی زاد (بھائی) ہیں نا ؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا ١ ؎، پھر فرمایا : زبیر ! سینچائی کرو، پھر پانی اس قدر روکو کہ میڈوں تک ہوجائے ، اس طرح رسول اللہ ﷺ نے زبیر کو ان کا پورا پورا حق دلایا، حالانکہ اس سے پہلے آپ نے جو مشورہ دیا تھا اس میں ان کا بھی فائدہ تھا اور انصاری کا بھی۔ لیکن جب رسول اللہ ﷺ کو انصاری نے غصہ دلایا تو آپ نے زبیر (رض) کو صریح حکم دے کر ان کا حق دلا دیا۔ زبیر (رض) کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے : فلا وربک لا يؤمنون حتى يحكموک فيما شجر بينهم نہیں، آپ کے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو حکم تسلیم نہ کرلیں (النساء : ٦٥ ) (اس حدیث کے دو راوی ہیں) اس واقعہ کو بیان کرنے میں ایک کے یہاں دوسرے کے بالمقابل کچھ کمی بیشی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٦٣٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ٦-٨ (٢٣٦٠- ٢٣٦٢) ، والصلح ١٢ (٢٧٠٨) ، و تفسیر سورة النساء ١٢ (٤٥٨٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧) ، سنن ابی داود/الأقضیة ٣١ (٣٦٣٧) ، سنن الترمذی/الأحکام ٢٦ (١٣٦٣) ، و تفسیر سورة النساء، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥) ، والرہون ٢٠ (٢٤٨٠) ، مسند احمد (١/١٦٥) ، ویأتی عند المؤلف برقم : ٥٤١٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہی باب سے مطابقت ہے کہ غصہ کی حالت میں ایک فیصلہ صادر فرمایا، چونکہ آپ امین تھے اس لیے آپ کو غصہ کی حالت میں بھی فیصلہ کرنے کا حق تھا، عام قاضیوں کو یہ حق نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5407
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَاللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَنَّهُ خَاصَمَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ، كَانَا يَسْقِيَانِ بِهِ كِلَاهُمَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ عَلَيْهِ، فَأَبَى عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ، اسْقِ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، فَاسْتَوْفَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ ذَلِكَ أَشَارَ عَلَى الزُّبَيْرِ بِرَأْيٍ فِيهِ السَّعَةُ لَهُ وَلِلْأَنْصَارِيِّ، فَلَمَّا أَحْفَظَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارِيُّ اسْتَوْفَى لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ، قَالَ الزُّبَيْرُ: لَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ أُنْزِلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ: فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65. وَأَحَدُهُمَا يَزِيدُ عَلَى صَاحِبِهِ فِي الْقِصَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১০
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ اپنے گھر میں فیصلہ کرنا
کعب (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد (رض) سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چناچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا : کعب ! وہ بولے : حاضر ہوں اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : اتنا قرض معاف کر دو اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا : میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد سے) کہا : اٹھو اور قرض ادا کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٧١ (٤٥٧) ، ٧٣ (٤٧١) ، الخصومات ٤ (٢٤١٨) ، ٩ (٢٤٢٤) ، الصلح ١٠ (٢٧٠٦) ، ١٤ (٢٧١٠) ، صحیح مسلم/البیوع ٢٥ (المساقاة ٤) (١٥٥٨) ، سنن ابی داود/الأقضیة (٣٥٩٥) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٨ (٢٤٢٩) ، (تحفة الأشراف : ١١١٣٠) ، مسند احمد (٦/٣٩٠) ، سنن الدارمی/البیوع ٤٩ (٢٦٢٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5408
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا، فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ، فَنَادَى: يَا كَعْبُ، قَالَ: لَبَّيْكَ، يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا، وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّطْرِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: قُمْ فَاقْضِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১১
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ مدد چاہنے سے متعلق
عباد بن شرحبیل (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مدینے آیا تو وہاں کے ایک باغ میں گیا اور ایک بالی (توڑ کر) مسل ڈالی، اتنے میں باغ کا مالک آگیا، اس نے میری چادر چھین لی اور مجھے مارا، میں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ سے اس کے خلاف مدد چاہی، چناچہ آپ نے اس شخص کو بلا بھیجا۔ لوگ اسے لے کر آئے، آپ نے فرمایا : اس اقدام پر تمہیں کس چیز نے اکسایا ؟ وہ بولا : اللہ کے رسول ! یہ میرے باغ میں آیا اور بالی توڑ کر مسل دی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : نہ تو تم نے اسے بتایا جب کہ وہ ناسمجھ تھا، نہ تم نے اسے کھلایا جبکہ وہ بھوکا تھا، اس کی چادر اسے لوٹا دو ، اور مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک وسق یا آدھا وسق دینے کا حکم دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ٩٣ (٢٦٢٠، ٢٦٢١) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦٧ (٢٢٩٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٦١) ، مسند احمد (٤/١٦٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ابوداؤد کے الفاظ ہیں وأعطانی یعنی اس باغ والے نے مجھے ایک یا آدھا صاع غلہ دیا یعنی اس نے جو میری ساتھ زیادتی کی تھی اس کے بدلے میں آپ ﷺ نے میرے لیے اس تاوان کا حکم دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5409
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شَرَحِبِيلَ، قَالَ: قَدِمْتُ مَعَ عُمُومَتِي الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِهَا، فَفَرَكْتُ مِنْ سُنْبُلِهِ، فَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَأَخَذَ كِسَائِي، وَضَرَبَنِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَعْدِي عَلَيْهِ فَأَرْسَلَ إِلَى الرَّجُلِ فَجَاءُوا بِهِ، فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا ؟، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ دَخَلَ حَائِطِي فَأَخَذَ مِنْ سُنْبُلِهِ فَفَرَكَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا عَلَّمْتَهُ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَهُ إِذْ كَانَ جَائِعًا، ارْدُدْ عَلَيْهِ كِسَاءَهُ، وَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَسْقٍ، أَوْ نِصْفِ وَسْقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১২
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ خواتین کو عدالت میں حاضر کرنے سے بچانے سے متعلق
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی جھگڑا لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، ان میں سے ایک نے کہا : ہمارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) سے فیصلہ فرمایئے اور دوسرا جو زیادہ سمجھدار تھا بولا : ہاں، اللہ کے رسول اور مجھے کچھ بولنے کی اجازت دیجئیے، وہ کہنے لگا : میرا بیٹا اس آدمی کے یہاں نوکر تھا، اس نے اس کی عورت کے ساتھ زنا کیا، تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا رجم ہے، چناچہ میں نے اسے بدلے میں سو بکریاں اور اپنی ایک لونڈی دے دی، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا، تو انہوں نے بتایا کہ میرے بیٹے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے، اور رجم کی سزا اس کی عورت کی تھی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا، تمہاری بکریاں اور لونڈی تو تمہیں لوٹائی جائیں گی ، اور آپ نے اس کے بیٹے کو سو کوڑے لگائے اور اسے ایک سال کے لیے جلا وطن کردیا، اور انیس (رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا کہ وہ دوسرے کی بیوی کے پاس جائیں ١ ؎، اگر وہ اس جرم کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دو ، چناچہ اس نے اعتراف کرلیا تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوکالة ١٣ (٢٣١٤) ، الصلح ٥ (٢٦٩٥، ٢٦٩٦) ، الشروط ٩ (٢٧٢٤، ٢٧٢٥) ، الأیمان ٣ (٦٦٣٣، ٦٦٣٤) ، الحدود ٣٠ (٦٨٢٧، ٦٨٢٨) ، ٣٤ (٦٨٣٥) ، ٣٨ (٦٨٤٢) ، ٤٦ (٦٨٦٠) ، الأحکام ٤٣ (٧١٩٣) ، الآحاد ١ (٧٢٥٨) ، صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٩٧) ، سنن ابی داود/الحدود ٢٥ (٤٤٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٧ (٢٥٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٥٥) ، موطا امام مالک/الحدود ١ (٦) ، مسند احمد ٤/١١٥، ١١٦، سنن الدارمی/الحدود ١٢ (٢٣٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اسی میں باب سے مطابقت ہے، یعنی : وہ عورت مجلس قضاء میں طلب نہیں کی گئی، اسی لیے آپ نے انیس (رض) کو اس کے پاس اس کے گھر بھیجا، ہاں اگر کسی معاملہ میں عورتوں کی حاضری مجلس قضاء میں ضروری ہو تو پردے کے ساتھ ان کو لایا جاسکتا ہے، اور پردے کی آڑ سے ان کا بیان لیا جاسکتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5410
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُهُمَا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأْذَنْ لِي فِي أَنْ أَتَكَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَبِجَارِيَةٍ لِي، ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَإِنَّمَا الرَّجْمُ عَلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا غَنَمُكَ وَجَارِيَتُكَ فَرَدٌّ إِلَيْكَ، وَجَلَدَ ابْنَهُ مِائَةً وَغَرَّبَهُ عَامًا، وَأَمَرَ أُنَيْسًا: أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةَ الْآخَرِ فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا. فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৩
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ خواتین کو عدالت میں حاضر کرنے سے بچانے سے متعلق
ابوہریرہ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے، تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا : میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کیجئے، پھر اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا اور وہ اس سے زیادہ سمجھ دار تھا، اس نے کہا : اس نے ٹھیک کہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ فرمایئے۔ آپ نے فرمایا : بتاؤ تو اس نے کہا : میرا بیٹا اس کے یہاں نوکر تھا، تو وہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر بیٹھا۔ چناچہ میں نے اس کے بدلے سو بکریاں اور ایک خادم (غلام) دے دیا (گویا اسے معلوم تھا کہ اس کے بیٹے پر رجم ہے، چناچہ اس نے تاوان دے دیا) ، پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب (قرآن) کے مطابق فیصلہ کروں گا : رہیں سو بکریاں اور خادم (غلام) تو وہ تمہیں لوٹائے جائیں گے، اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی کی سزا ہے، اور انیس ! تم صبح اس کی عورت کے پاس جاؤ، اگر وہ اقبال جرم کرلے تو اسے رجم کردینا ، چناچہ وہ گئے، اس نے اقبال جرم کیا تو انہوں نے اسے رجم کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5411
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، وَشِبْلٍ، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ إِلَّا مَا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: قُلْ، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ، وَكَأَنَّهُ أُخْبِرَ أَنَّ عَلَى ابْنِهِ الرَّجْمَ فَافْتَدَى مِنْهُ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَمَّا الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اغْدُ يَا أُنَيْسُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৪
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ جس نے زنا کیا ہو حاکم کو اس کا طلب کرنا
ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے (مرسلاً ) ١ ؎ روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا تو آپ نے فرمایا : کس کے ساتھ ؟ وہ بولی : اپاہج سے جو سعد (رض) کے باغ میں رہتا ہے، آپ نے اسے بلا بھیجا چناچہ وہ لاد کر لایا گیا اور اسے آپ کے سامنے رکھا گیا، پھر اس نے اعتراف کیا تو رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے خوشے منگا کر اسے مارا اور اس کے لنجے پن کی وجہ سے اس پر رحم کیا اور اس پر تخفیف کی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٤٠) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الحدود ٣٤ (٤٤٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٨ (٢٥٧٤) ، مسند احمد (٥/٢٢٢٢٢) (کلھم بزیادة ” سعید بن سعد بن عبادة “ أو ” بعض أصحاب النبی ﷺ “ بعد ” أبی أمامة “ ) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نسائی کی روایت مرسل ہے، لیکن دیگر لوگوں کے یہاں سعید بن سعد بن عبادہ (ایک چھوٹے صحابی) یا : بعض اصحاب نبی اکرم ﷺ کا واسطہ موجود ہے، اس لیے حدیث متصل مرفوع صحیح ہے۔ ٢ ؎: چونکہ وہ غیر شادی شدہ تھا اس لیے اس کو رجم کی سزا نہیں دی گئی، اور کوڑے میں بھی تخفیف سے کام لیا گیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5412
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَرْمَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ، فَقَالَ: مِمَّنْ ؟قَالَتْ: مِنَ الْمُقْعَدِ الَّذِي فِي حَائِطِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَأُتِيَ بِهِ مَحْمُولًا فَوُضِعَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَاعْتَرَفَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِثْكَالٍ، فَضَرَبَهُ وَرَحِمَهُ لِزَمَانَتِهِ وَخَفَّفَ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৫
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ حاکم کا رعایا کے درمیان صلح کرانے کے لئے خود جانا
سہل بن سعد ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ انصار کے دو قبیلوں کے درمیان تکرار ہوئی یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کو پتھر مارنے لگے، تو نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان صلح کرانے گئے، اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا، تو بلال (رض) نے اذان دی اور آپ کا انتظار کیا اور رکے رہے، پھر اقامت کہی اور ابوبکر (رض) آگے بڑھے، اتنے میں نبی اکرم ﷺ آگئے، ابوبکر (رض) لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، جب لوگوں نے آپ کو دیکھا تو (بتانے کے لیے) تالی بجا دی۔ (ابوبکر نماز میں کسی اور طرف توجہ نہیں دیتے تھے) پھر جب انہوں نے ان سب کی تالی کی آواز سنی تو مڑے، دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ہیں، انہوں نے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کیا، تو آپ نے وہیں رہنے کا اشارہ کیا، تو ابوبکر (رض) نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور الٹے پاؤں پیچھے ہٹے، پھر رسول اللہ ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے نماز پوری کرلی تو فرمایا : تمہیں وہیں رکنے سے کس چیز نے روکا ؟ وہ بولے : یہ ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ ابوقحافہ کے بیٹے کو اپنے نبی کے آگے دیکھے، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں نماز میں کوئی چیز پیش آتی ہے تو تالی بجانے لگتے ہو، یہ تو عورتوں کے لیے ہے، تم میں سے کسی کو جب کوئی بات پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٤٦٩٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العمل فی الصلاة ٣ (١٢٠١) ، ١٦ (١٢١٨) ، الصلح ١ (٢٦٩٠) ، صحیح مسلم/الصلاة ٢٢ (٤٢١) ، مسند احمد (٥/٣٣٠، ٣٣١، ٢٣٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5413
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، يَقُولُ: وَقَعَ بَيْنَ حَيَّيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلَامٌ حَتَّى تَرَامَوْا بِالْحِجَارَةِ، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ وَانْتُظِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاحْتُبِسَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، وَتَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ، فَلَمَّا رَآهُ النَّاسُ صَفَّحُوا، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا سَمِعَ تَصْفِيحَهُمُ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَتَأَخَّرَ فَأَشَارَ إِلَيْهِ أَنِ اثْبُتْ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعْنِي يَدَيْهِ، ثُمَّ نَكَصَ الْقَهْقَرَى، وَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ، قَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ ؟قَالَ: مَا كَانَ اللَّهُ لِيَرَى ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ بَيْنَ يَدَيْ نَبِيِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ إِذَا نَابَكُمْ شَيْءٌ فِي صَلَاتِكُمْ صَفَّحْتُمْ، إِنَّ ذَلِكَ لِلنِّسَاءِ، مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৬
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ حاکم دونوں فریق میں سے کسی ایک کو مصالحت کے واسطے اشارہ کرسکتا ہے
کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی حدرد اسلمی (رض) پر ان کا قرضہ تھا، وہ راستے میں مل گئے تو انہیں پکڑ لیا، پھر ان دونوں میں تکرار ہوگئی، یہاں تک کہ ان کی آوازیں بلند ہوگئیں، ان کے پاس سے رسول اللہ ﷺ کا گزر ہوا تو آپ نے فرمایا : کعب ! پھر اپنے ہاتھ سے ایک اشارہ کیا گویا آپ کہہ رہے تھے : آدھا ، چناچہ انہوں نے آدھا قرضہ لے لیا اور آدھا چھوڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٥٤١٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5414
أَخْبَرَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ لَهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ يَعْنِي دَيْنًا، فَلَقِيَهُ فَلَزِمَهُ فَتَكَلَّمَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ، فَمَرَّ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا كَعْبُ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: النِّصْفَ، فَأَخَذَ نِصْفًا مِمَّا عَلَيْهِ، وَتَرَكَ نِصْفًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৭
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ حاکم معاف کرنے کے واسطے اشارہ کرسکتا ہے
وائل (رض) کہتے ہیں کہ میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر تھا جب قاتل کو مقتول کا ولی ایک رسی میں باندھ کر گھسیٹتا ہوا لایا، رسول اللہ ﷺ نے مقتول کے ولی سے فرمایا : کیا تم معاف کر دو گے ؟ وہ بولا : نہیں، آپ نے فرمایا : کیا دیت لو گے ؟ وہ بولا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تو اسے قتل کرو گے ؟ کہا : جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : اسے لے جاؤ (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : کیا معاف کر دو گے ؟ کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : دیت لو گے ؟ کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو اسے قتل کرو گے ؟ کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) جب وہ چلا اور آپ کے پاس سے چلا گیا تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : کیا معاف کر دو گے ؟ کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : دیت لو گے ؟ کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : تو اسے قتل کرو گے ؟ کہا : ہاں، آپ نے فرمایا : لے جاؤ اسے (اور قتل کرو) پھر رسول اللہ ﷺ نے اس وقت فرمایا : اگر تم اسے معاف کر دو تو یہ اپنے گناہ اور تمہارے (مقتول) ساتھی کے گناہ سمیٹ لے گا ، یہ سن کر اس نے معاف کردیا اور اسے چھوڑ دیا، میں نے دیکھا کہ وہ اپنی رسی کھینچ رہا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٧٢٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5415
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَمْزَةُ أَبُو عُمَرَ الْعَائِذِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَاعَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ وَائِلٍ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَاءَ بِالْقَاتِلِ يَقُودُهُ وَلِيُّ الْمَقْتُولِ فِي نِسْعَةٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَلِيِّ الْمَقْتُولِ: أَتَعْفُو ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ: أَتَعْفُوقَالَ: لَا، قَالَ: فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَلَمَّا ذَهَبَ فَوَلَّى مِنْ عِنْدِهِ دَعَاهُ، فَقَالَ: أَتَعْفُو ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَأْخُذُ الدِّيَةَ ؟قَالَ: لَا، قَالَ: فَتَقْتُلُهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اذْهَبْ بِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ يَبُوءُ بِإِثْمِهِ وَإِثْمِ صَاحِبِكَ، فَعَفَا عَنْهُ وَتَرَكَهُ فَأَنَا رَأَيْتُهُ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৮
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ حاکم پہلے نرمی کرنے کا حکم دے سکتا ہے؟
عبداللہ بن زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے زبیر (رض) سے حرہ کی نالیوں کے سلسلے میں جھگڑا کیا، (جن سے وہ باغ کی سینچائی کرتے تھے) اور مقدمہ رسول اللہ ﷺ کے پاس لے کر آئے، انصاری نے کہا : پانی کو بہتا چھوڑ دو ، تو انہوں نے انکار کیا، ان دونوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس مقدمہ پیش کیا، تو آپ نے فرمایا : زبیر ! سینچائی کرلو پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، انصاری کو غصہ آگیا، وہ بولا : اللہ کے رسول ! وہ آپ کے پھوپھی زاد ہیں نا ؟ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا، پھر آپ نے فرمایا : زبیر ! سینچائی کرو، اور پانی مینڈوں تک روک لو ، زبیر (رض) کہتے ہیں : میرا خیال ہے کہ یہ آیت : فلا وربک لا يؤمنون نہیں، تمہارے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوں گے (النساء : ٦٥ ) اسی سلسلے میں اتری۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المساقات ٦ (٢٣٥٩، ٢٣٦٠) ، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧) ، سنن ابی داود/الِٔقضیة ٣١ (٣٦٣٧) ، سنن الترمذی/الٔؤحکام ٢٦ (١٣٦٣) ، تفسیر سورة النساء (٣٠٢٧) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٧٥) ، مسند احمد (٤/٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5416
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلَا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرَّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ ؟ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ، قَالَ الزُّبَيْرُ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ سورة النساء آية 65 الْآيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪১৯
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ مقدمہ کے فیصلہ سے قبل حاکم کے سفارش کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے شوہر غلام تھے جنہیں مغیث کہا جاتا تھا، گویا میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ وہ اس (بریرہ) کے پیچھے پیچھے روتے پھر رہے ہیں، اور ان کے آنسو ڈاڑھی پر بہہ رہے ہیں، نبی اکرم ﷺ نے عباس (رض) سے کہا : عباس ! کیا آپ کو حیرت نہیں ہے کہ مغیث بریرہ سے کتنی محبت کرتا ہے اور بریرہ مغیث سے کس قدر نفرت کرتی ہے ؟ ، رسول اللہ ﷺ نے اس (بریرہ) سے فرمایا : اگر تم اس کے پاس واپس چلی جاتی (تو بہتر ہوتا) اس لیے کہ وہ تمہارے بچے کا باپ ہے ، وہ بولیں : اللہ کے رسول ! کیا مجھے آپ حکم دے رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، میں تو سفارش کر رہا ہوں ، وہ بولیں : پھر تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطلاق ١٦ (٥٢٨٣) ، سنن ابی داود/الطلاق ١٩ (٢٢٣١) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٩ (٢٠٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٦٠٤٨) ، مسند احمد (١/٢١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مغیث اور بریرہ (رضی اللہ عنہما) کے معاملہ میں عدالتی قانونی فیصلہ تو آپ ﷺ نے یہی فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزادی مل جانے کے بعد مغیث کے نکاح میں نہ رہنے کا حق حاصل ہے مگر اس عدالتی فیصلہ سے پہلے بریرہ رضی اللہ عنہا سے قانوناً نہیں اخلاقی طور پر مغیث کے نکاح میں باقی رہنے کی سفارش کی، یہی باب سے مناسبت ہے، اور اس طرح کی سفارش صرف ایسے ہی معاملات میں کی جاسکتی ہے، جس میں مدعی کو اختیار ہو (جیسے بریرہ کا معاملہ اور قصاص ودیت والا معاملہ وغیرہ) لیکن چوری و زنا کے حدود کے معاملے میں اس طرح کی سفارش نہیں کی جاسکتی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5417
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ زَوْجَ بَرِيرَةَ كَانَ عَبْدًا، يُقَالُ لَهُ: مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا يَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى لِحْيَتِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: يَا عَبَّاسُ، أَلَا تَعْجَبْ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا، فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْمُرُنِي ؟، قَالَ: إِنَّمَا أَنَا شَفِيعٌ، قَالَتْ: فَلَا حَاجَةَ لِي فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৪২০
کتاب اداب القضاة
পরিচ্ছেদঃ اگر کسی شخص کو مال کی ضرورت ہو اور وہ شخص اپنے مال کو ضائع کر دے تو حاکم روک سکتا ہے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے مدابرہ کے طور پر اپنا ایک غلام آزاد کردیا، حالانکہ وہ ضرورت مند تھا اور اس پر قرض بھی تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اسے آٹھ سو درہم میں بیچ کر مال اسے دے دیا اور فرمایا : اپنا قرض ادا کرو اور اپنے بال بچوں پر خرچ کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٤٦٥٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مدابرہ یہ کہنا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 5418
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلِ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ وَكَانَ مُحْتَاجًا، وَكَانَ عَلَيْهِ دَينٍ، فَبَاعهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَأَعْطَاهُ، فَقَالَ: اقْضِ دَيْنَكَ وَأَنْفِقْ عَلَى عِيَالِكَ.
তাহকীক: