কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
شرطوں سے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮৭ টি
হাদীস নং: ৩৯২৮
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بٹائی کا معاملہ کرتے تھے، پھر کہتے ہیں کہ ان کے ایک چچا ان کے پاس آئے اور بولے : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسی چیز سے روک دیا ہے جو ہمارے لیے نفع بخش اور مفید تھی لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش اور مفید ہے۔ ہم نے کہا : وہ کیا چیز ہے ؟ کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : جس کی کوئی زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی کرے یا اسے اپنے بھائی کو کھیتی کرنے کے لیے (بلا کرایہ) دیدے، لیکن اسے تہائی، چوتھائی اور معینہ مقدار غلہ کے بدلے کرائے پر نہ دے ۔ اسے حنظلہ بن قیس نے بھی رافع (رض) سے روایت کیا ہے اور (حنظلہ سے روایت کرنے والے) ربیعہ کے تلامذہ نے ربیعہ سے روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3897
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا نُحَاقِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَعَمَ أَنَّ بَعْضَ عُمُومَتِهِ أَتَاهُ، فَقَالَ: نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا، قُلْنَا: وَمَا ذَاكَ ؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا، أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ، وَلَا يُكَارِيهَا بِثُلُثٍ، وَلَا رُبُعٍ، وَلَا طَعَامٍ مُسَمًّى. رَوَاهُ حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعٍ فَاخْتَلَفَ عَلَى رَبِيعَةَ فِي رِوَايَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯২৯
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیا ریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی (الگ) کرلیتا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس سے روک دیا۔ میں نے رافع (رض) سے کہا : تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا ؟ رافع (رض) نے کہا : دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے، (ان کی روایت آگے آرہی ہے جس میں چچا کا ذکر نہیں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3898
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي: أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِي صَاحِبُ الْأَرْضِ، فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ. فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ، وَالدِّرْهَمِ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩০
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے دینار اور چاندی کے بدلے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ اس پیداوار کے بدلے کرائے دیا کرتے تھے جو کیا ریوں اور نالیوں کے اوپر پیدا ہوتی ہے، تو کبھی اس جگہ پیداوار ہوتی اور دوسری جگہ نہیں ہوتی اور کبھی یہاں نہیں ہوتی اور دوسری جگہ ہوتی، لوگوں کا بٹائی پر دینے کا یہی طریقہ ہوتا، اس لیے اس پر زجر و توبیخ ہوئی۔ رہی معین چیز (پر بٹائی) جس کی ضمانت دی جاسکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ مالک بن انس نے بھی اوزاعی کی سند میں (چچا کے نہ ذکر کرنے میں) موافقت کی ہے لیکن الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحرث ٧ (٢٣٢٧) ، ١٢ (٢٣٣٢) ، ١٩(٢٣٤٦) ، الشروط ٧ (٢٧٢٢) ، صحیح مسلم/البیوع ١٩ (١٥٤٧) ، سنن ابی داود/البیوع ٣١ (٣٣٩٢) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ٩ (٢٤٥٨) (تحفة الأشراف : ٣٥٥٣) ، مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤/١٤٠، ١٤٢) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٣٩٣١-٣٩٣٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3899
أَخْبَرَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى هُوَ ابْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ بِالدِّينَارِ، وَالْوَرِقِ ؟ فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤَاجِرُونَ عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ، وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ، فَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا، فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلَّا هَذَا، فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ فَأَمَّا شَيْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلَا بَأْسَ بِهِ. وَافَقَهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَلَى إِسْنَادِهِ، وَخَالَفَهُ فِي لَفْظِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩১
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے روکا ہے، میں نے کہا : سونے، چاندی کے بدلے ؟ کہا : نہیں (اس سے نہیں روکا ہے) ۔ آپ نے تو اس سے صرف اس کی پیداوار کے بدلے روکا ہے۔ رہا سونا اور چاندی (کے بدلے کرایہ پر دینا) تو اس میں کوئی حرج نہیں سفیان ثوری نے بھی اسے ربیعہ سے روایت کیا ہے لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3900
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. قُلْتُ: بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ ؟ قَالَ: لَا، إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا بِمَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ فَلَا بَأْسَ. رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَبِيعَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩২
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے رافع بن خدیج (رض) سے سونے، چاندی کے بدلے صاف زمین کرائے پر اٹھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : حلال ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، یہ زمین کا حق ہے۔ یحییٰ بن سعید نے بھی اسے حنظلہ بن قیس سے روایت کیا ہے اور اسے مرفوع کیا ہے جیسا کہ مالک نے ربیعہ سے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر أیضا حدیث رقم : ٣٩٣٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3901
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ وَكِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ الْبَيْضَاءِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، فَقَالَ: حَلَالٌ لَا بَأْسَ بِهِ ذَلِكَ فَرْضُ الْأَرْضِ. رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، وَرَفَعَهُ. كَمَا رَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৩
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اپنی زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا، اس وقت سونا اور چاندی (زیادہ) نہیں تھا۔ تو آدمی اپنی زمین کیا ریوں اور نالیوں پر ہونے والی پیداوار اور متعین چیزوں کے بدلے کرایہ پر دیتا تھا۔ اسے سالم بن عبداللہ بن عمر نے رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے، اور اس میں زہری پر اختلاف ہوا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٣٠ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3902
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ أَرْضِنَا وَلَمْ يَكُنْ يَوْمَئِذٍ ذَهَبٌ وَلَا فِضَّةٌ، فَكَانَ الرَّجُلُ يُكْرِي أَرْضَهُ بِمَا عَلَى الرَّبِيعِ، وَالْأَقْبَالِ، وَأَشْيَاءَ مَعْلُومَةٍ وَسَاقَهُ. رَوَاهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، وَاخْتُلِفَ عَلَى الزُّهْرِيِّ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৪
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
زہری سے روایت ہے کہ سالم بن عبداللہ نے کہا، اور پھر اسی طرح روایت بیان کی، اور (اس روایت میں) عقیل بن خالد نے مالک کی متابعت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/البیوع ٣٢ (٣٣٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٧١) ، مسند احمد (٣/٤٦٥، ١٤٣) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٣٩٣٥، ٣٩٣٦، ٣٩٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3903
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِالزُّهْرِيِّ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَذَكَرَ نَحْوَهُ. تَابَعَهُ عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৫
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) اپنی زمین کرائے پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج (رض) زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکتے ہیں، تو عبداللہ بن عمر (رض) نے ان سے ملاقات کی اور کہا : ابن خدیج ! زمین کو کرائے پر اٹھانے کے بارے میں آپ رسول اللہ ﷺ سے کیا نقل کرتے ہیں ؟ تو رافع (رض) نے عبداللہ بن عمر (رض) سے کہا : میں نے اپنے دو چچاؤں کو (کہتے) سنا (ان دونوں نے بدر میں شرکت کی تھی) وہ دونوں گھر والوں سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکا ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : میں تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جانتا تھا کہ زمین کرائے پر اٹھائی جاسکتی ہے، پھر عبداللہ بن عمر (رض) کو خوف ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ نے اس سلسلے میں کوئی ایسی نئی بات کہی ہوگی جسے وہ نہ جان سکے ہوں، چناچہ انہوں نے زمین کو کرائے پر اٹھانا چھوڑ دیا۔ اسے شعیب بن ابی حمزہ نے مرسلاً روایت کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: شعیب نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے : عن الزھری قال بلغنا أن رافع بن خدیج جب کہ آگے روایت آرہی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3904
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ، حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ ؟ فَقَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا، يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. أَرْسَلَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৬
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
زہری کہتے ہیں کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رافع بن خدیج (رض) اپنے دو چچاؤں سے جو ان کے خیال میں غزوہ بدر میں شریک تھے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا۔ اسے عثمان بن سعید نے بھی شعیب سے روایت کیا ہے اور اس میں ان کے دونوں چچاؤں کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٣٤(صحیح) (سند میں انقطاع کی وجہ سے یہ روایت صحیح نہیں ہے، لیکن متابعات سے تقویت پاکر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3905
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: بَلَغَنَا أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍكَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَمَّيْهِ، وَكَانَا يَزْعُمُ شَهِدَا بَدْرًا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. رَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ وَلَمْ يَذْكُرْ عَمَّيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৭
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
زہری کہتے ہیں کہ سعید بن مسیب کہتے تھے : سونے اور چاندی کے بدلے زمین کرائے پر اٹھانے میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں اور رافع بن خدیج (رض) بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ عبدالکریم بن حارث نے اس کے مرسل ہونے میں ان کی موافقت کی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٥٨٠) (صحیح) (یہ روایت منقطع ہے، زہری کی رافع رضی الله عنہ سے ملاقات نہیں ہے، لیکن سابقہ متابعات کی وجہ سے صحیح ہے ) وضاحت : ١ ؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3906
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: كَانَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ: لَيْسَ بِاسْتِكْرَاءِ الْأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بَأْسٌ، وَكَانَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ ذَلِكَ، وَافَقَهُ عَلَى إِرْسَالِهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْحَارِثِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৮
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
١ ؎: یعنی شعیب کی موافقت کی ہے اور یہ موافقت اس طرح ہے کہ زھری اور رافع کے درمیان سالم کا ذکر نہیں ہے جب کہ مالک اور عقیل نے سالم کا ذکر کیا ہے۔ شرافع بن خدیج (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا۔ زہری کہتے ہیں : اس کے بعد رافع (رض) سے پوچھا گیا : وہ لوگ زمین کو کرائے پر کیوں کر اٹھاتے تھے ؟ وہ بولے : غلے کی متعینہ مقدار کے بدلے میں اور اس بات کی شرط ہوتی تھی کہ ہمارے لیے وہ بھی ہوگا جو زمین میں کیا ریوں اور نالیوں پر پیدا ہوتا ہے۔ اسے نافع نے بھی رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے اور اس کی روایت میں ان کے شاگردوں میں اختلاف ہوا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (یہ روایت بھی منقطع ہے، لیکن سابقہ متابعت سے تقویت پاکر صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3907
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ: عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو خُزَيْمَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَرِيفٍ، عَنْعَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِابْنُ شِهَابٍ: فَسُئِلَ رَافِعٌ بَعْدَ ذَلِكَ: كَيْفَ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ ؟، قَالَ: بِشَيْءٍ مِنَ الطَّعَامِ مُسَمًّى، وَيُشْتَرَطُ أَنَّ لَنَا مَا تُنْبِتُ مَاذِيَانَاتُ الْأَرْضِ وَأَقْبَالُ الْجَدَاوِلِ. رَوَاهُ نَافِعٌ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৩৯
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
نافع کا بیان ہے کہ رافع بن خدیج (رض) نے عبداللہ بن عمر (رض) کو خبر دی کہ ہمارے چچا لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے، پھر واپس آ کر خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیت کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، تو عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا : ہمیں معلوم ہے کہ وہ (رافع) رسول اللہ ﷺ کے عہد میں زمین والے تھے، اور اسے کرائے پر اس شرط پر دیتے تھے کہ جو کچھ اس کی کیا ریوں کے کناروں پر جہاں سے پانی ہو کر گزرتا ہے پیدا ہوگا اور کچھ گھاس (چارہ) جس کی مقدار انہیں معلوم نہیں ان کی ہوگی۔ اسے ابن عون نے بھی نافع سے روایت کیا ہے لیکن اس میں (عمومتہ کے بجائے) بعض عمومتہ کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٣٥ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3908
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ عُمُومَتَهُ جَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعُوا فَأَخْبَرُوا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ كَانَ كُلُّ صَاحِبَ مَزْرَعَةٍ يُكْرِيهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنَّ لَهُ مَا عَلَى الرَّبِيعِ السَّاقِي الَّذِي يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الْمَاءُ، وَطَائِفَةٌ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِي كَمْ هِيَ ؟. رَوَاهُ ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، فَقَالَ: عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪০
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) زمین کا کرایہ لیتے تھے، انہیں رافع بن خدیج (رض) کی کوئی بات سننے کو ملی تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور رافع (رض) کے پاس گئے اور میں ان کے ساتھ تھا، تو رافع (رض) نے ان سے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے (یہ حدیث بیان کی) کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، اس کے بعد عبداللہ بن عمر (رض) نے اسے ترک کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3909
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ، فَبَلَغَهُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ شَيْءٌ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَمَشَى إِلَى رَافِعٍ، وَأَنَا مَعَهُ، فَحَدَّثَهُ رَافِعٌ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪১
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ زمین کا کرایہ لیتے تھے، یہاں تک کہ رافع (رض) نے اپنے کسی چچا سے روایت کرتے ہوئے ان سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائیے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ چناچہ اس کے بعد انہوں نے اسے ترک کردیا۔ اسے ایوب نے نافع سے، انہوں نے رافع (رض) سے روایت کیا ہے اور ان کے چچاؤں کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3910
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاق الْأَزْرَقُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْخُذُ كِرَاءَ الْأَرْضِ حَتَّى حَدَّثَهُ رَافِعٌ، عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَتَرَكَهَا بَعْدُ. رَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ رَافِعٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ عُمُومَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪২
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
نافع سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) اپنے کھیت کرایہ پر اٹھاتے تھے، یہاں تک کہ معاویہ (رض) کی خلافت کے آخری دور میں انہیں معلوم ہوا کہ اس سلسلے میں رافع بن خدیج (رض) رسول اللہ ﷺ سے ممانعت نقل کرتے ہیں تو وہ ان کے پاس آئے، میں ان کے ساتھ تھا، انہوں نے رافع سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرماتے تھے۔ اس کے بعد ابن عمر (رض) نے اسے ترک کردیا، پھر جب ان سے اس کے متعلق پوچھا جاتا تو کہتے کہ رافع (رض) کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ ایوب کی موافقت عبیداللہ بن عمر، کثیر بن فرقد اور جویریہ بن اسماء نے بھی کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإجارة ٢٢ (٢٢٨٥) ، الحرث ١٨ (٢٣٤٣) ، صحیح مسلم/البیوع ١٧ (١٥٤٨) ، سنن ابی داود/البیوع ٣٢ (٣٣٩٤ تعلیقًا) ، سنن ابن ماجہ/الرہون ٨ (٢٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٨٦) ، مسند احمد (٢/٦٤، ٣/٤٦٤، ٤٦٥، ٤/١٤٠) ، ویأتي عند المؤلف بأرقام : ٣٩٤٣-٣٩٤٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3911
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي مَزَارِعَهُ، حَتَّى بَلَغَهُ فِي آخِرِ خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُخْبِرُ فِيهَا بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ فَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا، قَالَ: زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا. وَافَقَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، وَكَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَجُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৩
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
نافع سے روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) کھیتوں کو کرائیے پر دیتے تھے، ان سے کہا گیا کہ رافع بن خدیج (رض) نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے روکا ہے۔ نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) مقام بلاط کی طرف نکلے، میں ان کے ساتھ تھا، تو آپ نے رافع (رض) سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ہاں، رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے روکا ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر (رض) نے اسے کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٤٢ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3912
أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ بْنِ أَعْيَنَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي الْمَزَارِعَ، فَحُدِّثَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، قَالَ نَافِعٌ: فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَلَاطِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৪
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
نافع سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ابن عمر (رض) کو بتایا کہ رافع بن خدیج (رض) زمین کو کرائے پر دینے کے سلسلے میں حدیث بیان کرتے ہیں، تو میں اور وہ شخص جس نے انہیں بتایا تھا ان کے ساتھ چلے یہاں تک کہ وہ رافع (رض) کے پاس آئے، تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، چناچہ عبداللہ بن عمر (رض) نے زمین کرائے پر اٹھانی چھوڑ دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٤٢ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3913
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا أَخْبَرَ ابْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَأْثُرُ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ حَدِيثًا، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ أَنَا، وَالرَّجُلُ الَّذِي أَخْبَرَهُ، حَتَّى أَتَى رَافِعًا فَأَخْبَرَهُ رَافِعٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَتَرَكَ عَبْدُ اللَّهِ كِرَاءَ الْأَرْضِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৫
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
نافع سے روایت ہے کہ رافع بن خدیج (رض) نے عبداللہ بن عمر (رض) سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے کھیتوں کو کرائے پر اٹھانے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٤٢ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3914
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍحَدَّثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৬
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر (رض) اپنی زمین کو اس میں پیدا ہونے والے غلہ کے بعض حصے کے بدلے کرائے پر دیتے تھے، پھر انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج (رض) اس سے روکتے اور کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس پر عبداللہ بن عمر (رض) نے کہا کہ رافع (رض) کو جاننے سے پہلے ہم زمین کرائے پر اٹھاتے تھے۔ پھر آپ نے اپنے دل میں کچھ محسوس کیا، تو اپنا ہاتھ میرے مونڈھے پر رکھا یہاں تک کہ ہم رافع کے پاس جا پہنچے، پھر ابن عمر نے رافع سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو زمین کرائے پر دینے سے منع فرماتے سنا ہے ؟ رافع (رض) نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا ہے کہ کسی چیز کے بدلے زمین کرائے پر نہ دو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣٩٤٢ (شاذ) (اس روایت میں ” بشیٔ “ کا لفظ شاذ ہے، باقی باتیں صحیح ہیں ) وضاحت : ١ ؎: بشیٔ (کسی چیز کے بدلے) کا لفظ شاذ ہے، کیونکہ سونے چاندی کے عوض زمین کو کرایہ پر دینے کی بات صحیح اور ثابت ہے۔ قال الشيخ الألباني : شاذ بزيادة بشيء صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3915
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ عِنَانٍ، عَنْنَافِعٍ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ: قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُكْرِي أَرْضَهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا، فَبَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَزْجُرُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: كُنَّا نُكْرِي الْأَرْضَ قَبْلَ أَنْ نَعْرِفَ رَافِعًا ثُمَّ وَجَدَ فِي نَفْسِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي حَتَّى دُفِعْنَا إِلَى رَافِعٍ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ: أَسَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقَالَ رَافِعٌ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُكْرُوا الْأَرْضَ بِشَيْءٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৪৭
شرطوں سے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ زمین کو تہائی یا چوتھائی پیدا وار پر کرایہ پر دینے سے متعلق مختلف احادیث
رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے زمین کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ بن عمر (رض) نے اسے رافع بن خدیج (رض) سے روایت کیا ہے، اور (اس روایت میں ابن عمر (رض) سے رویت کرنے والے) عمرو بن دینار سے روایت میں ان کے شاگردوں نے اختلاف کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٣٥٧٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3916
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، وَنَافِعٍ أخبراه، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ. رَوَاهُ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ. وَاخْتُلِفَ عَلَى عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.
তাহকীক: