কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৩ টি
হাদীস নং: ৩৬১১
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑیوں کو خچر پیدا کرانے کے لئے گدھوں سے جفتی کرانے کے کی سخت مذمت کے بارے میں۔
عبداللہ بن عبیداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کے پاس تھا اس وقت ان سے کسی نے پوچھا : کیا رسول اللہ ﷺ ظہر اور عصر میں کچھ پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : نہیں، اس نے کہا ہوسکتا ہے اپنے من ہی من میں پڑھتے رہے ہوں۔ انہوں نے کہا : تم پر پتھر لگیں گے یہ تو پہلے سے بھی خراب بات تم نے کہی۔ رسول اللہ ﷺ اللہ کے بندے تھے، اللہ نے آپ کو اپنا پیغام دے کر بھیجا، آپ نے اسے پہنچا دیا۔ قسم اللہ کی، رسول اللہ ﷺ نے عامۃ الناس سے ہٹ کر ہم اہل بیت سے تین باتوں کے سوا اور کوئی خصوصیت نہیں برتی۔ ہمیں حکم دیا کہ ہم مکمل وضو کریں، ہم صدقہ کا مال نہ کھائیں اور نہ ہی گدھوں کو گھوڑیوں پر ک دائیں (جفتی کرائیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3581
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَبِي جَهْضَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَسَأَلَهُ رَجُلٌ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، قَالَ خَمْشًا: هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَمَرَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِأَمْرِهِ فَبَلَّغَهُ، وَاللَّهِ مَااخْتَصَّنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَيْءٍ دُونَ النَّاسِ إِلَّا بِثَلَاثَةٍ: أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَلَا نُنْزِيَ الْحُمُرَ عَلَى الْخَيْلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১২
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کو چارہ کھلانے کے ثواب سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں کام آنے کے لیے گھوڑا پالے اور اللہ پر اس کا پورا ایمان ہو اور اللہ کے وعدوں پر اسے پختہ یقین ہو تو اس گھوڑے کی آسودگی، اس کی سیرابی، اس کا پیشاب اور اس کا گوبر سب نیکیاں بنا کر اس کے میزان میں رکھ دی جائیں گی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٤٥ (٢٨٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٦٤) ، مسند احمد (٢/٥٧٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3582
قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيّحَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِوَعْدِ اللَّهِ، كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৩
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ غیر مضمر گھوڑوں کی گھڑ دوڑ
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (حفیاء سے ثنیۃ الوداع تک) گھوڑوں کی دوڑ کرائی (کہ کون گھوڑا آگے نکلتا ہے) ١ ؎ حفیاء سے روانہ کرتے (دوڑاتے) اور ثنیۃ الوداع آخری حد تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں میں بھی دوڑ کرائی جو محنت و مشقت کے عادی نہ تھے (جو سدھائے اور تربیت یافتہ نہ تھے) اور ان کے دوڑ کی حد ثنیۃ سے مسجد بنی زریق تک تھی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٥٦ (٢٨٦٨) ، ٥٧ (٢٨٦٩) ، ٥٨ (٢٨٧٠) ، الاعتصام ١٦ (٧٣٣٦) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (١٨٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٨٠) ، مسند احمد ٢/٥، ٥٥-٥٦، سنن الدارمی/الجھاد ٣٦ (٢٤٧٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حفیاء ایک گاؤں کا نام اور ثنیّۃ الوداع ایک پہاڑ یا ایک محلے کا نام ہے۔ ٢ ؎: ثنیّۃ سے مسجد بنی زریق تک ایک میل کا اور حفیاء سے ثنیّۃ تک پانچ چھ میل کا فاصلہ ہے، معلوم ہوا کہ مسابقہ و مقابلہ مشروع اور جائز ہے عبث ولا یعنی چیز نہیں ہے بلکہ اس سے ایسی مشق ہوتی ہے جن سے جنگ وغیرہ میں اچھے مقاصد حاصل ہوسکتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3583
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ يُرْسِلُهَا مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ، وَكَانَ أَمَدُهَا مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৪
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑوں کو دوڑنے کے لئے تیار کرنے سے متعلق
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سدھائے ہوئے گھوڑوں کے درمیان آگے بڑھنے کا مقابلہ کرایا، (دوڑ کی) آخری حد حفیاء سے شروع ہو کر ثنیۃ الوداع تک تھی، (ایسے ہی) رسول اللہ ﷺ نے ان گھوڑوں کے درمیان بھی ثنیۃ سے لے کر مسجد بنی زریق کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرایا جو، غیر تربیت یافتہ تھے (جو مشقت اور بھوک و تکلیف کے عادی نہ تھے) ۔ نافع کہتے ہیں : عبداللہ بن عمر (رض) ان لوگوں میں سے تھے جن ہوں نے اس مقابلے کے دوڑ میں حصہ لیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٤١ (٤٢٠) ، صحیح مسلم/الإمارة ٢٥ (٨٧٠) ، سنن ابی داود/الجہاد ٢٧ (٢٥٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٤٠) ، موطا امام مالک/الجہاد ٩ (٤٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3584
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي قَدْ أُضْمِرَتْ مِنَ الْحَفْيَاءِ، وَكَانَ أَمَدُهَا ثَنِيَّةَ الْوَدَاعِ، وَسَابَقَ بَيْنَ الْخَيْلِ الَّتِي لَمْ تُضْمَرْ مِنْ الثَّنِيَّةِ إِلَى مَسْجِدِ بَنِي زُرَيْقٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ مِمَّنْ سَابَقَ بِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৫
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑ دوڑ کے بیان میں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صرف تین چیزوں میں (انعام و اکرام کی) شرط لگانا جائز ہے : تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجہاد ٦٧ (٢٥٧٤) ، سنن الترمذی/الجہاد ٢٢ (١٧٠٠) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٣٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨) ، مسند احمد (٢/٢٥٦، ٣٥٨، ٤٢٥، ٤٧٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3585
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ حَافِرٍ أَوْ خُفٍّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৬
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑ دوڑ کے بیان میں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آگے بڑھنے کی شرط صرف تین چیزوں میں لگانا درست ہے : تیر اندازی میں، اونٹ بھگانے میں اور گھوڑے دوڑانے میں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3586
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَبُو عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ أَبِي نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا سَبَقَ إِلَّا فِي نَصْلٍ أَوْ خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৭
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑ دوڑ کے بیان میں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ شرط حلال نہیں ہے سوائے اونٹ میں اور گھوڑے میں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٥٤٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خف:( اونٹ کا پاؤں ) مراد ہے اونٹ، اور حافر:( جانور کا گھر ) مراد ہے گھوڑا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3587
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى الْجُنْدَعِيِّينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَا يَحِلُّ سَبَقٌ إِلَّا عَلَى خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৮
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑ دوڑ کے بیان میں۔
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی، اتفاقاً ایک اعرابی (دیہاتی) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا، یہ بات (ہار) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے : اللہ کے رسول ! عضباء شکست کھا گئی (اور ہمیں اس کا رنج ہے) ، آپ ﷺ نے فرمایا : یہ تو اللہ کے حق (و اختیار) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہوجاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کردیتا اور نیچے گرا دیتا ہے (اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٤١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجہاد ٥٩ (٢٨٧١) ، الرقاق ٣٨ (٦٥٠١) ، سنن ابی داود/الأدب ٩ (٤٨٠٢) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ، فَسَبَقَهَا فَشَقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، قَالَ: إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ إِلَّا وَضَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬১৯
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ گھوڑ دوڑ کے بیان میں۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اونٹوں اور گھوڑوں کے آگے بڑھنے کے مقابلوں کے سوا اور کہیں شرط لگانا درست نہیں ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الجہاد ٤٤ (٢٨٧٨) ، (تحفة الأشراف : ١٤٨٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3589
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي الْحَكَمِ مَوْلًى لِبَنِي لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا سَبَقَ إِلَّا فِي خُفٍّ أَوْ حَافِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২০
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جلب کے بارے میں
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسلام میں نہ تو جلب ہے اور نہ جنب ہے اور نہ ہی شغار ہے اور جس نے لوٹ کھسوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٣٣٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جلب یہ ہے کہ آدمی گھڑ دوڑ کے مقابلے میں اپنے گھوڑے کے پیچھے کسی کو اسے ڈانٹنے اور ہکارنے کے لیے لگالے تاکہ وہ اور تیز دوڑے۔ اور جنب یہ ہے کہ اپنے پہلو میں دوسرا گھوڑا رکھے اور جب مقابلے کا گھوڑا تھکنے لگے تو اس پر سوار ہوجائے۔ اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی کسی عزیزہ کی شادی دوسرے سے اس شرط کے ساتھ کر دے کہ وہ دوسرا اپنی قریبی عزیزہ کی شادی اس کے ساتھ کر دے، اور ان دونوں کے مابین مہر متعین نہ ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3590
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২১
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنب سے متعلق حدیث
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام میں نہ جلب ہے نہ جنب اور نہ ہی شغار ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ١٠٨١٧) ، مسند احمد (٤/٤٢٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3591
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২২
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنب سے متعلق حدیث
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی (دیہاتی) نے نبی اکرم ﷺ سے (اونٹنی کی) دوڑ کا مقابلہ کیا تو وہ آگے نکل گیا، اس سے رسول ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو ملال ہوا اور آپ سے ان کے اس چیز (رنج و ملال) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے اللہ کا حق اور اس کی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اس کا غرور ٹوٹ جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٦٩٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3592
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنِي شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَابَقَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيٌّ فَسَبَقَهُ، فَكَأَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ مِنْ ذَلِكَ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: حَقٌّ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْفَعَ شَيْءٌ نَفْسَهُ فِي الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ اللَّهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬২৩
گھوڑوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مال غنیمت میں گھوڑوں کے حصہ کے بارے میں
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے تھے کہ (فتح) خیبر کے سال زبیر بن العوام (رض) کے لیے رسول اللہ ﷺ نے (مال غنیمت میں) چار حصے لگائے۔ ایک حصہ ان کا اپنا اور ایک حصہ قرابت داری کا لحاظ کر کے کیونکہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا زبیر بن عوام (رض) کی ماں تھیں اور دو حصے گھوڑے کے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف : ٥٢٩١) ، مسند احمد (١/١٦٦) (حسن الإسناد ) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 3593
قَالَ: الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ خَيْبَرَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ، أَرْبَعَةَ أَسْهُمٍ سَهْمًا لِلزُّبَيْرِ، وَسَهْمًا لِذِي الْقُرْبَى لِصَفِيَّةَ بِنْتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُمِّ الزُّبَيْرِ، وَسَهْمَيْنِ لِلْفَرَسِ.
তাহকীক: