কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
مناسک حج سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩২ টি
হাদীস নং: ২৬৪১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج قضا کرنا قرضہ ادا کرنے جیسا ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میرے والد انتقال کر گئے اور انہوں نے حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : کیا خیال ہے اگر تمہارے والد پر کچھ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے ؟ اس نے کہا : ہاں (میں ادا کرتا) تو آپ نے فرمایا : تو اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کئے جانے کا زیادہ مستحق ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٠٤١) (ضعیف الإسناد شاذ) (اس کے راوی ” محکم “ کو وہم ہوجایا کرتا تھا، اسی لیے انہوں نے پوچھنے والے کو مرد اور جس کے بارے میں پوچھا گیا اس کو عورت بنادیا ہے ) وضاحت : ١ ؎: عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کی روایت میں صحیح بات یہ ہے کہ مسئلہ پوچھنے والی عورت تھی، اور اپنے باپ کے بارے میں پوچھا تھا جو زندہ مگر کمزور تھا، اور اس واقعہ کے وقت یا تو دونوں بھائی (عبداللہ اور فضل) موجود تھے یا فضل نے یہ واقعہ عبداللہ بن عباس سے بیان کیا، روایت کی صحت میں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت کے سوا دیگر صحابہ کی روایتوں میں دیگر واقعات بھی اسی طرح کے سوال و جواب کے ممکن ہیں، پوچھنے والے مرد و عورت بھی ہوسکتے ہیں، اور جن کے بارے میں پوچھا گیا وہ بھی مرد و عورت ہوسکتے ہیں، اور یہ کوئی ایسی بات نہیں، جس کو بنیاد بنا کر حدیث کی حجیت کے سلسلے میں شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2639
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حج قضا کرنا قرضہ ادا کرنے جیسا ہے
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : میرے باپ کو (فریضہ) حج نے اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں اپنی سواری پر ٹک نہیں سکتے، اگر میں انہیں سواری پر بٹھا کر باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں مر نہ جائیں۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو اسے ادا کرتے، تو وہ کافی ہوجاتا ؟ اس نے کہا : ہاں (کافی ہوجاتا) آپ نے فرمایا : پھر اپنے باپ کی طرف سے حج کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلنسائي، (تحفة الأشراف : ٥٦٥٧) ، انظر حدیث رقم : ٢٦٣٥ (شاذ أومنکر) (اس کے راوی ” ہشیم “ کثیر التدلیس ہیں، سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے ) قال الشيخ الألباني : شاذ أو منکر بذکر الرجل والمحفوظ أن السائل امرأة صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2640
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَإِنْ شَدَدْتُهُ خَشِيتُ أَنْ يَمُوتَ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ، أَكَانَ مُجْزِئًا ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أَبِيكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৩
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کا مرد کی جانب سے حج ادا کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ فضل بن عباس (رض) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر تھے، تو قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک مسئلہ پوچھنے آئی، تو فضل اسے دیکھنے لگے، اور وہ فضل کو دیکھنے لگی، اور آپ فضل کا چہرہ دوسری طرف پھیرنے لگے، تو اس عورت نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اپنے بندوں پر اللہ کے عائد کردہ فریضہ حج نے میرے باپ کو اس حال میں پایا : انتہائی بوڑھے ہوچکے ہیں، سواری پر ٹک نہیں سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کرلوں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں کرلو ، یہ واقعہ حجۃ الوداع کا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٣٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2641
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ تَسْتَفْتِيهِ وَجَعَلَ الْفَضْلُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا وَتَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْرِفُ وَجْهَ الْفَضْلِ إِلَى الشِّقِّ الْآخَرِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْأَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى الرَّاحِلَةِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ ؟ قَالَ: نَعَمْوَذَلِكَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৪
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ عورت کا مرد کی جانب سے حج ادا کرنا
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ حجۃ الوداع کے موقع پر قبیلہ خثعم کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس مسئلہ پوچھنے آئی اور فضل بن عباس (رض) رسول اللہ ﷺ کے پیچھے اونٹ پر سوار تھے، اس عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اپنے بندوں پر عائد کردہ اللہ کے فریضہ حج نے میرے والد کو اس حال میں پایا کہ وہ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں وہ سواری پر سیدھے نہیں رہ سکتے، تو کیا اگر میں ان کی طرف سے حج کروں تو ان کی طرف سے پورا ہوجائے گا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں ہوجائے گا ، تو فضل بن عباس (رض) اسے مڑ کر دیکھنے لگے، وہ ایک خوبصورت عورت تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فضل بن عباس کو پکڑ کر ان کا چہرہ دوسری جانب پھیر دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٣٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2642
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّسُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ اسْتَفْتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ أَدْرَكَتْأَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَوِي عَلَى الرَّاحِلَةِ فَهَلْ يَقْضِي عَنْهُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، فَأَخَذَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ يَلْتَفِتُ إِلَيْهَا، وَكَانَتِ امْرَأَةً حَسْنَاءَ، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضْلَ، فَحَوَّلَ وَجْهَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৫
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مرد کا عورت کی جانب سے حج کرنے سے متعلق
فضل بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھے تو آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری ماں بہت بوڑھی ہوچکی ہیں، اگر میں انہیں سواری پر چڑھا دوں تو وہ بیٹھی نہیں رہ سکتیں، اور اگر میں انہیں (سواری پر بٹھا کر) باندھ دوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں ان کی جان نہ لے بیٹھوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا خیال ہے اگر تمہاری ماں پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے ؟ اس نے کہا : جی ہاں (میں ادا کرتا) آپ نے فرمایا : تو تم اپنی ماں کی جانب سے حج کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١١٠٤٤) ، مسند احمد (١/٢١٢) ، ویأعند المؤلف برقم : ٥٣٩٦، ٥٣٩٧ (شاذ) (سائل کا عورت ہونا ہی محفوظ بات ہے ) قال الشيخ الألباني : شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2643
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ هَارُونَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ، وَإِنْ حَمَلْتُهَا لَمْ تَسْتَمْسِكْ، وَإِنْ رَبَطْتُهَا خَشِيتُ أَنْ أَقْتُلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ ؟قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَحُجَّ عَنْ أُمِّكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৬
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ والد کی طرف سے بڑے بیٹے کا حج کرنا مستحب ہے
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا : تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٦٣٩ (ضعیف) (اس کے راوی ” یوسف “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2644
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ يُوسُفَ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِرَجُلٍ: أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَحُجَّ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৭
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اٹھایا اور پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧٢ (١٣٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٦٠) ، مسند احمد (١/٣٤٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مطلب یہ ہے کہ چھوٹے بچے کو حج کرانا جائز ہے اس کا اجر ماں باپ کو ملے گا لیکن کوئی بچہ بالغ ہونے کے بعد صاحب استطاعت ہوجائے تو اس کے لیے دوبارہ فریضہ حج کی ادائیگی ضروری ہوگی بچپن کا کیا ہوا حج کافی نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2645
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً رَفَعَتْ صَبِيًّا لَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِأَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৮
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے بچے کو ہودج سے اوپر اٹھایا اور کہنے لگی : اللہ کے رسول ! کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٤٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2646
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا لَهَا مِنْ هَوْدَجٍ، فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِأَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৪৯
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک عورت نے ایک بچے کو نبی اکرم ﷺ کے سامنے اٹھایا اور پوچھنے لگی : کیا اس کا بھی حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں (اس کا بھی حج ہے) اور تمہیں اس کا اجر ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحج ٧٢ (١٣٣٦) ، سنن ابی داود/الحج ٨ (١٧٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٣٦) ، موطا امام مالک/الحج ٨١ (٢٤٤) ، مسند احمد (١/٢٤٤، ٢٨٨، ٣٤٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2647
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: رَفَعَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَبِيًّا، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫০
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ چلے جب روحاء پہنچے تو کچھ لوگوں سے ملے تو آپ نے پوچھا : تم کون لوگ ہو ؟ ان لوگوں نے کہا : ہم مسلمان ہیں، پھر ان لوگوں نے پوچھا : آپ کون ہیں ؟ لوگوں نے بتایا : آپ اللہ کے رسول ہیں ، یہ سن کر ایک عورت نے کجاوے سے ایک بچے کو نکالا، اور پوچھنے لگی : کیا اس کے لیے حج ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں اور ثواب تمہیں ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٤٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مکہ کے راستے میں مدینہ سے ٣٦ میل ( ٧٥ کلومیٹر) کی دوری پر ایک مقام کا نام ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2648
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُقْبَةَ. ح وحَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ لَقِيَ قَوْمًا، فَقَالَ: مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: مَنْ أَنْتُمْ ؟ قَالُوا: رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: فَأَخْرَجَتِ امْرَأَةٌ صَبِيًّا مِنَ الْمِحَفَّةِ فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫১
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ نا بالغ بچہ کو حج کرانے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک عورت کے پاس سے گزرے وہ پردے میں تھی اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا بچہ تھا، اس نے کہا : کیا اس کے لیے حج ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں، اور ثواب تمہیں ملے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٦٤٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح م دون ذکر الخدر صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2649
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ حَمَّادِ بْنِ سَعْدٍ ابْن أَخِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ أَبُو الرَّبِيعِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، مَعَهَا صَبِيٌّ، فَقَالَتْ: أَلِهَذَا حَجٌّ ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِ أَجْرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৬৫২
مناسک حج سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جب حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ منورہ سے حج کرنے کے واسطے نکلے
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ذی قعدہ کی پانچ تاریخیں رہ گئی تھیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ (مدینہ سے) سے نکلے، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا، یہاں تک کہ جب ہم مکہ کے قریب پہنچے تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو جن کے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہیں تھا حکم دیا کہ وہ طواف کر چکیں تو احرام کھول دیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحج ٣٤ (١٥٦١) ، ١١٥ (١٧٠٩) ، ١٢٤ (١٧٢٠) ، والجہاد ١٠٥ (٢٩٥٢) ، صحیح مسلم/الحج ١٧ (١٢١١) ، سنن ابن ماجہ/الحج ٤١ (٢٩٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٣٣) ، سنن ابی داود/الحج ٢٣ (١٧٨٣) ، موطا امام مالک/الحج ٥٨ (١٧٩) ، مسند احمد (٦/٢ ١٢، ١٩٤، ٢٦٦، ٢٧٣) ، سنن الدارمی/المناسک ٣١ (١٨٨٨) ، ویأتي عند المؤلف برقم : ٢٨٠٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2650
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، تَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقِعْدَةِ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ مَكَّةَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ إِذَا طَافَ بِالْبَيْتِ أَنْ يَحِلَّ الْمَوَاقِيتُ.
তাহকীক: