কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
روزوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৪৫ টি
হাদীস নং: ২২৩২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
بنی عامر بن صعصعہ کی اولاد میں سے مطرف نامی ایک شخص کہتے ہیں کہ عثمان بن ابی العاص (رض) نے ان کے لیے دودھ منگوایا تاکہ وہ انہیں پلائیں تو مطرف نے کہا : میں تو روزے سے ہوں۔ تو عثمان (رض) عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : روزہ ڈھال ہے جس طرح کہ لڑائی کے موقع پر تم میں سے کسی کے پاس ڈھال ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصوم ١ (١٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٩٧٧١) ، مسند احمد ٤/ ٢١، ٢٢، ٢١٧، ٢١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2230
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، أَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
مطرف کہتے ہیں کہ میں عثمان بن ابی العاص (رض) کے پاس آیا تو انہوں نے (میری ضیافت کے لیے) دودھ منگوایا، تو میں نے کہا : میں روزے سے ہوں، تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : روزہ آگ سے بچاؤ کے لیے کی ڈھال ہے جس طرح کہ تم میں سے کسی کے پاس لڑائی میں دشمن کے وار سے بچاؤ کے لیے ڈھال ہوتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2231
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ فَدَعَا بِلَبَنٍ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
سعید بن ابی ہند کہتے ہیں کہ مطرف عثمان (رض) عنہ کے پاس آئے۔ آگے راوی نے اس طرح کی روایت بیان کی، یہ روایت مرسل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٣٢ (صحیح) (مؤلف نے اسے مرسل کہا ہے، یعنی یہ موقوف ہے، اس معنی میں کہ عثمان بن ابی العاص رضی الله عنہ نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی طرف نسبت کئے بغیر ہی اسے موقوفاً روایت کیا ہے، نیز احتمال ہے کہ ارسال یہاں انقطاع کے معنی میں ہو کیونکہ مطرف کا عثمان کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس میں سعید موجود تھے اس بارے میں عبداللہ بن سعید کی روایت صریح نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : سكت عنه الشيخ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2232
أَخْبَرَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: دَخَلَ مُطَرِّفٌ عَلَى عُثْمَانَ نَحْوَهُ مُرْسَلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے (جھوٹ و غیبت وغیرہ کے ذریعہ) پھاڑ نہ دے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٥٠٤٧) ، مسند احمد ١/١٩٥، ١٩٦، یأتي عند المؤلف برقم ٢٢٣٧ (ضعیف) (اس کے رواة بشار اور عیاض دونوں لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2233
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ بَشَّارِ بْنِ أَبِي سَيْفٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ، قَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: الصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : روزہ جہنم کی آگ سے بچنے کے لیے ڈھال ہے، جو شخص روزہ دار ہو کر صبح کرے تو وہ اس دن جہالت و نادانی کی کوئی بات نہ کرے، اور اگر کوئی شخص اس کے ساتھ جہالت و نادانی کی بات کرنے لگے تو اسے گالی نہ دے، برا بھلا نہ کہے۔ اس کے لیے مناسب ہوگا کہ وہ اس سے کہے، (بھائی) میں روزے سے ہوں، (میں تم سے لڑائی جھگڑا نہیں کرسکتا) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے، روزہ دار کے منہ کی بو مشک کی بو سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ١٧٣٥٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2234
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الْآدَمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ فَمَنْ أَصْبَحَ صَائِمًا، فَلَا يَجْهَلْ يَوْمَئِذٍ، وَإِنِ امْرُؤٌ جَهِلَ عَلَيْهِ فَلَا يَشْتُمْهُ وَلَا يَسُبَّهُ وَلْيَقُلْ إِنِّي صَائِمٌ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ، أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
ابوعبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ روزہ ڈھال ہے جب تک کہ وہ اسے پھاڑ نہ دے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٣٥ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد مقطوع صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2235
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا حَبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: حَدَّثَنَاأَصْحَابُنَا، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
سہل بن سعد ساعدی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : روزہ دار کے لیے جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، روزہ دار کے سوا کوئی اور اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا، اور جب آخری روزہ دار دروازہ کے اندر پہنچ جائے گا تو دروازہ بند کردیا جائے گا، جو وہاں پہنچ جائے گا وہ پئے گا اور جو پئے گا، وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٤٦٧٩) ،، حم ٥/٣٣٣، ٣٣٥، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٦) ، وبدء الخلق ٩ (٣٢٥٧) ، صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥٢) ، سنن الترمذی/الصوم ٥٥ (٧٦٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2236
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لِلصَّائِمِينَ بَابٌ فِي الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، لَا يَدْخُلُ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ أُغْلِقَ مَنْ دَخَلَ فِيهِ شَرِبَ، وَمَنْ شَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৩৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
سہل رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکار کر کہا جائے گا، روزہ دارو ! کہاں ہو ؟ کیا تمہیں ریان کی طرف آنے کی رغبت ہے ؟ جو شخص اس میں داخل ہوگا، اور (اس کے چشمے (ریان) کا پانی پئے گا) وہ پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا، جب وہ داخل ہوجائیں گے تو وہ بند کردیا جائے گا۔ اس دروازے سے روزہ دار کے سوا کوئی اور داخل نہ ہوگا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ٤٧٩١ (صحیح الإسناد) (یہ حدیث مرفوعا متفق علیہ ہے، من دخله لم يظمأ أبدا مرفوع حدیث میں ثابت نہیں ہے، صحیح الترغیب ٩٦٩، تراجع الالبانی ٣٥١ ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد موقوف ق مرفوعا دون جملة الظمأ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2237
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَهْلٌ، أَنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الصَّائِمُونَ هَلْ لَكُمْ إِلَى الرَّيَّانِ مَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، فَإِذَا دَخَلُوا أُغْلِقَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يَدْخُلْ فِيهِ أَحَدٌ غَيْرُهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا دے گا ١ ؎ اسے جنت میں بلا کر پکارا جائے گا، اے اللہ کے بندے ! یہ تیری نیکی ہے، تو جو شخص نمازی ہوگا وہ صلاۃ کے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو مجاہدین میں سے ہوگا وہ جہاد والے دروازہ سے بلایا جائے گا، اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہوگا وہ صدقہ والے دروازے سے بلایا جائے گا، اور جو روزہ داروں میں سے ہوگا وہ باب ریان سے بلایا جائے گا۔ ابوبکر صدیق (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کسی کے لیے ضرورت تو ٢ ؎ نہیں کہ وہ ان سبھی دروازوں سے بلایا جائے، لیکن کیا کوئی ان سبھی دروازوں سے بھی بلایا جائے گا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں لوگوں میں سے ہو گے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٧) ، الجھاد ٣٧ (٢٨٤١) ، بدء الخلق ٦ (٣٢١٦) ، فضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٦) ، صحیح مسلم/الزکاة ٢٧ (١٠٢٧) ، سنن الترمذی/المناقب ١٦ (٣٦٧٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٧٩) موطا امام مالک/الجھاد ١٩ (٤٩) ، مسند احمد ٢/٢٦٨، ٣٦٦، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٢٤٤١، ٣١٣٧ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎:ـ مثلاً دو دینار، دو گھوڑے، دو کپڑے، دو روٹیاں، دو غلام اور دو لونڈیاں وغیرہ وغیرہ دے گا۔ ٢ ؎: کیونکہ ایک دروازے سے بلایا جانا جنت میں داخل ہونے کے لیے کافی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2238
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قراءة عليه وأنا أسمع، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِيمَالِكٌ، وَيُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ يُدْعَى مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ! مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، اور ہم سب نوجوان تھے۔ ہم (جوانی کے جوش میں) کسی چیز پر قابو نہیں رکھ پاتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے نوجوانوں کی جماعت ! تم اپنے اوپر شادی کرنے کو لازم پکڑو کیونکہ یہ نظر کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، اور جو نہ کرسکتا ہو (یعنی نان، نفقے کا بوجھ نہ اٹھا سکتا ہو) وہ اپنے اوپر روزہ لازم کرلے کیونکہ یہ اس کے لیے بمنزلہ خصی بنا دینے کے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١٠ (١٩٠٥) ، ٣ (٥٠٦٦) ، صحیح مسلم/الصوم ١ (١٤٠٠) ، سنن الترمذی/الصوم ١ (١٠٨١) ، تحفة الأشراف : ٩٣٨٥) ، مسند احمد ١/٥٩٢، حم ١/٣٧٨، ٤٢٤، ٤٢٥، ٤٣٢، سنن الدارمی/النکاح ٢ (٨٢١١) ، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ٢٢٤٤، ٣٢١١، ٣٢١٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2239
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَابٌ لَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، قَالَ: يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ! عَلَيْكُمْ بِالْبَاءَةِ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
علقمہ سے روایت ہے کہ ابن مسعود (رضی اللہ عنہ) ، عثمان (رضی اللہ عنہ) سے عرفات میں ملے، تو وہ انہیں لے کر تنہائی میں چلے گئے اور ان سے باتیں کیں، عثمان (رض) عنہ نے ابن مسعود (رض) سے کہا : کیا آپ کو کسی دوشیزہ کی خواہش ہے کہ میں آپ کی اس سے شادی کرا دوں ؟ تو عبداللہ بن مسعود (رض) نے علقمہ کو بھی بلا لیا (آجاؤ کوئی خاص بات نہیں ہے اور جب وہ آگئے) تو انہوں نے عثمان (رض) عنہ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے : جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے اسے چاہیئے کہ وہ شادی کرلے کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی رکھنے اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے کا بہترین ذریعہ ہے، اور جو طاقت نہ رکھے، تو اسے چاہیئے کہ روزہ رکھے کیونکہ روزہ اس کے لیے وجاء ہے (یعنی وہ اسے خصی بنا دے گا، اس کی شہوت کو توڑ دے گا) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ١٠ (١٩٠٥) مختصراً ، النکاح ٢ (٥٠٦٥) ، صحیح مسلم/الصوم ١ (١٤٠٠) ، سنن ابی داود/النکاح ١ (٢٠٤٦) ، سنن الترمذی/الصوم ١ (١٠٨١) تعلیقًا، سنن ابن ماجہ/الصوم ١ (١٨٤٥) مطولًا، تحفة الأشراف : ٩٤١٧، مسند احمد ١/ ٣٧٨، ٤٤٧، سنن الدارمی/النکاح ٢ (٢٢١٢) ، ویأتي عند المؤلف ٣٢٠٩، ٣٢١٠، ٣٢١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2240
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَ عُثْمَانَ بِعَرَفَاتٍ فَخَلَا بِهِ فَحَدَّثَهُ، وَأَنَّ عُثْمَانَ، قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا ؟ فَدَعَاعَبْدُ اللَّهِ عَلْقَمَةَ فَحَدَّثَهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ لَهُ وِجَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص تم میں سے نان و نفقہ کی طاقت رکھے، تو وہ شادی کرلے اور جو نہ رکھے، وہ اپنے اوپر روزہ لازم کرلے، کیونکہ یہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2241
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، وَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت ہے کہ ہم عبداللہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) کے پاس آئے اور ہمارے ساتھ علقمہ، اسود اور ایک جماعت تھی، تو انہوں نے ہم سے ایک حدیث بیان کی، اور میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے لوگوں کے سامنے وہ حدیث میرے ہی لیے بیان کی تھی کیونکہ میں ان لوگوں میں سب سے زیادہ نوعمر تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے نوجوانوں کی جماعت ! جو تم میں بیوی کے نان و نفقہ کی طاقت رکھتا ہو وہ نکاح کرلے، کیونکہ یہ نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے ۔ علی بن ہاشم (راوی) کہتے ہیں کہ اعمش سے ابراہیم والی روایت کے بارے میں پوچھا گیا، سائل نے پوچھا : عن إبراهيم عن علقمة عن عبداللہ اسی کے مثل مروی ہے، اعمش نے کہا : ہاں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٤١ (صحیح) (متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” علا باہلی “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2242
أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَمَعَنَا عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ وَجَمَاعَةٌ، فَحَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ مَا رَأَيْتُهُ حَدَّثَ بِهِ الْقَوْمَ، إِلَّا مِنْ أَجْلِي لِأَنِّي كُنْتُ أَحْدَثَهُمْ سِنًّا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ ! مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، قَالَ عَلِيٌّ: وَسُئِلَ الْأَعْمَشِ عَنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مِثْلَهُ، قَالَ: نَعَمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوامامہ کی حدیث حضرت محمد بن ابی یعقوب پر اختلاف
علقمہ کہتے ہیں : میں ابن مسعود (رض) کے ساتھ تھا اور وہ عثمان (رض) عنہ کے پاس تھے تو ثمان (رض) نے کہا : رسول اللہ ﷺ چند نوجوانوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : تم میں سے جو شخص وسعت والا ہو وہ شادی کرلے۔ کیونکہ یہ چیز نگاہ کو نیچی اور شرمگاہ کو محفوظ رکھنے والی ہے، اور جو شخص ایسا نہ ہو تو روزہ اس کی شہوت کو کچل دینے کا ذریعہ ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : سند میں مذکور ابومعشر کا نام زیاد بن کلیب ہے، وہ ثقہ ہیں اور وہ ابراہیم (نخعی) کے تلامذہ میں سے ہیں، اور ان سے منصور، مغیرہ اور شعبہ نے روایت کی ہے۔ اور (ایک دوسرے) ابومعشر جو مدنی ہیں ان کا نام نجیح (نجیح بن عبدالرحمٰن سندی) ہے، وہ ضعیف ہیں، اور ضعف کے ساتھ اختلاط کا شکار ہوگئے تھے ان کے یہاں کچھ منکر احادیث بھی ہیں جن میں سے ایک وہ ہے جو انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے ابوہریرہ (رض) سے، اور ابوہریرہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : مشرق و مغرب کے درمیان جو ہے وہ قبلہ ہے ١ ؎۔ نیز اسی میں سے ایک حدیث وہ ہے جو انہوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے والد عروہ سے، عروہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے، اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : گوشت چھری سے نہ کاٹو بلکہ نوچ نوچ کر کھاؤ ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (لم يذكر المزي طرف الحديث في ترجمة أبي معشر زياد بن کليب عن إبراهيم عن علقمة عن ابن مسعود /تحفة الأشراف 6/ 363) حم ١/٥٨ ویأتی عند المؤلف ٣٢٠٨ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎: أخرجه الترمذي (342) وابن ماجه (1011) (تحفة الأشراف 15124) (حافظ ابن حجر النکت الظراف میں لکھتے ہیں کہ خلیلی نے ارشاد میں ایک دوسرے طریقے سے اسے بسند ابو معشر عن ہشام عن ابیہ عن عائشہ روایت کیا ہے، اس حدیث میں ابو معشر نجیح بن عبدالرحمٰن سندی ہیں، جو ضعیف راوی ہیں، اسی لیے حافظ ابن حجر نے ان کے بارے میں کہا : ضعیف أسن واختلط یعنی ضعیف ہیں، عمر دراز ہوئے اور اختلاط کا شکار ہوئے، اسی وجہ سے امام نسائی نے باب میں موجود ابو معشر زیاد بن کلیب کی توثیق کے بعد اسی کنیت کے دوسرے راوی یعنی نجیح بن عبدالرحمٰن سندی کا تذکرہ ان کی منکر احادیث کے ساتھ دیا تاکہ دونوں میں تمیز ہوجائے، اور یہ امام نسائی کی کتاب کی خوبی ہے کہ وہ اس طرح کے افادات رقم فرماتے ہیں، لیکن مذکور حدیث دوسرے طرق کی وجہ سے صحیح ہے، تفصیل کے ملاحظہ ہو : الإرواء : ٢٩٢ ) ٢ ؎: حدیث لأستغفرن لک ما لم أنه عنك اس کی تخریج ابوداؤد اور بیہقی نے سنن کبریٰ میں کی ہے، اور شیخ البانی نے اسے ضعیف الجامع ( ٦٢٥٦ ) میں داخل کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2243
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَهُوَ عِنْدَ عُثْمَانَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فِتْيَةٍ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ ذَا طَوْلٍ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَا فَالصَّوْمُ لَهُ وِجَاءٌ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو مَعْشَرٍ: هَذَا اسْمُهُ زِيَادُ بْنُ كُلَيْبٍ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَهُوَ صَاحِبُ إِبْرَاهِيمَ رَوَى عَنْهُ مَنْصُورٌ، وَمُغِيرَةُ، وَشُعْبَةُ، وَأَبُو مَعْشَرٍ الْمَدَنِيُّ: اسْمُهُ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَمَعَ ضَعْفِهِ أَيْضًا كَانَ قَدِ اخْتَلَطَ عِنْدَهُ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ، مِنْهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ قِبْلَةٌ، وَمِنْهَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَقْطَعُوا اللَّحْمَ بِالسِّكِّينِ وَلَكِنِ انْهَسُوا نَهْسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ایک روزہ رکھے اور اس سے متعلق حدیث میں سہیل بن ابی صالح پر اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ (یعنی جہاد یا اس کے سفر) میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ تعالیٰ اسے اس دن کے بدلے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/فضائل الجھاد ٣ (١٦٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٤ (١٧١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٨٦٢٤) حم ٢/٣٠٠، ٣٥٧ (صحیح) (مزی نے تحفة الاشراف میں ابن حیویہ کی روایت پر اعتماد کرتے ہوئے اس حدیث کو مراسیل میں ذکر کیا ہے (١٨٦٢٤) اس لیے کہ اس کے نسخہ (ہ) میں ” عن أبي هريرة “ ساقط ہے، اور ابن الاحمر اور ابن سیار نیز سنن صغریٰ سب میں ” عن ابی ہریرة “ موجود ہے، اور مسند میں بھی ایسے ہی ہے) (ملاحظہ ہو : السنن الکبریٰ : ٢٥٦٤ ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2244
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ایک روزہ رکھے اور اس سے متعلق حدیث میں سہیل بن ابی صالح پر اختلاف
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اس دن کے بدلے اس کے اور جہنم کی آگ کے درمیان ستر سال کی دوری کر دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ٤٢٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2245
أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ بِذَلِكَ الْيَوْمِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ایک روزہ رکھے اور اس سے متعلق حدیث میں سہیل بن ابی صالح پر اختلاف
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ عزوجل اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ١٢٦٥٩، مسند احمد ٢/٣٥٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2246
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَاعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৪৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ایک روزہ رکھے اور اس سے متعلق حدیث میں سہیل بن ابی صالح پر اختلاف
ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ٤٠٧٨، مسند احمد ٣/٤٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2247
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ صَفْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ عَامًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ایک روزہ رکھے اور اس سے متعلق حدیث میں سہیل بن ابی صالح پر اختلاف
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جس شخص نے بھی اللہ عزوجل کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھا، اللہ عزوجل اس دن کے بدلے اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ٣٦ (٢٨٤٠) ، صحیح مسلم/الصوم ٣١ (١١٥٣) ، سنن الترمذی/الجہاد ٣ (١٦٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٣٤ (١٧١٧) ، تحفة الأشراف : ٤٣٨٨، مسند احمد ٣/٢٦، ٥٩، ٨٣، سنن الدارمی/الجہاد ١٠ (٢٤٤٤) ، و یأتي عند المؤلف بأرقام : ٢٢٥١-٢٢٥٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2248
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، عَنْ شُعَيْبٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مِنْ عَبْدٍ يَصُومُ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا بَعَّدَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِذَلِكَ الْيَوْمِ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৫১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں ایک روزہ رکھے اور اس سے متعلق حدیث میں سہیل بن ابی صالح پر اختلاف
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن روزہ رکھا، اللہ اسے جہنم سے ستر سال کی دوری پر کر دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٥٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2249
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ الْأَسْوَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بَاعَدَهُ اللَّهُ عَنِ النَّارِ سَبْعِينَ خَرِيفًا.
তাহকীক: