কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
روزوں سے متعلقہ احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৪৫ টি
হাদীস নং: ২২৭২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسافر کے واسطے روزہ کے معاف ہونے سے متعلق
ابوالمہاجر کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوامیہ یعنی ضمری (رض) نے بیان کیا ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2270
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَرْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِييَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْمُهَاجِرِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أُمَيَّةَ يَعْنِي الضَّمْرِيَّ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسافر کے واسطے روزہ کے معاف ہونے سے متعلق
ابوقلابہ جرمی کا بیان ہے کہ ان سے ابوامیہ ضمری (رض) نے بیان کیا کہ وہ ایک سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ نے ان سے کہا : ابوامیہ ! دوپہر کے کھانے کا انتظار کرلو (کھا کر چلے جانا) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا : قریب آؤ، میں مسافر کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں : اللہ نے اس سے روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور نماز آدھی کردی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2271
أَخْبَرَنِي شُعَيْبُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ حَدَّثَهُمْ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ، فَقَالَ: انْتَظِرِ الْغَدَاءَ يَا أَبَا أُمَيَّةَ. قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنِ الْمُسَافِرِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْهُ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ابوامیہ ضمری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ سفر سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور وہ روزے سے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا : (تم جانا چاہتے ہو) کیا، تم دوپہر کے کھانے کا انتظار نہیں کرو گے ، انہوں نے کہا : میں روزے سے ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آؤ میں روزے سے متعلق تمہیں بتاتا ہوں۔ اللہ عزوجل نے مسافر کو روزے کی چھوٹ دی ہے اور نماز آدھی کردی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2272
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَرَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَنْتَظِرِ الْغَدَاءَ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَالَ أُخْبِرْكَ عَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصِّيَامَ، وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ابوامیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس سفر سے آئے، آگے راوی نے پوری روایت اسی طرح ذکر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠٩) (صحیح الإسناد ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2273
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَلِيٌّ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، أَنَّ أَبَا أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
انس (قشیری) رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے اور، حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی (روزے کی چھوٹ دی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصوم ٤٣ (٢٤٠٨) ، سنن الترمذی/الصوم ٢١ (٧١٥) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ١٢ (١٦٦٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٢) ، مسند احمد ٤/٣٤٧ و ٥/٢٩، وانظر الأرقام التالیة، ٢٢٧٧، إلی ٢٢٨٠، ٢٢٨٤، ٢٣١٧ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2274
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ التَّلِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ، وَالصَّوْمَ وَعَنِ الْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ایوب قبیلہ قشیر کے ایک شیخ سے، اور وہ قشیری اپنے چچا ١ ؎ سے روایت کرتے ہیں، (ایوب کہتے ہیں) ہم سے حدیث بیان کی گئی، پھر ہم نے انہیں (شیخ قشیری کو) ان کے اونٹوں میں پایا، تو ان سے ابوقلابہ نے کہا : آپ ان سے (ایوب سے) حدیث بیان کیجئے تو (قشیری) شیخ نے کہا : مجھ سے میرے چچا نے بیان کیا کہ وہ اپنے اونٹوں میں گئے، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچے، آپ کھانا کھا رہے تھے (راوی کو شک ہے یا ٔکل کہا یا یطعم کہا) آپ ﷺ نے فرمایا : قریب آؤ اور کھانا کھاؤ (راوی کو شک ہے ادن فکل کہا یا ادن فاطعم کہا) تو میں نے کہا : مںَ صائم ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دے دی ہے، اور حاملہ عورت اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم ٢٢٧٦ (حسن) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت حسن ہے، ورنہ اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ) وضاحت : ١ ؎: ان کا نام انس بن مالک قشیری ہے۔ ٢ ؎: حاملہ اور مرضعہ کو روزے کی چھوٹ دی ہے، نہ کہ آدھی نماز کی، جیسا کہ متبادر ہو رہا ہے، ترمذی کی عبارت واضح ہے مسافر کو روزہ اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ و مرضعہ کو روزے کی ۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2275
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ قُشَيْرٍ، عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنَا، ثُمَّ أَلْفَيْنَاهُ فِي إِبِلٍ لَهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو قِلَابَةَ حَدِّثْهُ، فَقَالَ الشَّيْخُ: حَدَّثَنِي عَمِّي، أَنَّهُ ذَهَبَ فِي إِبِلٍ لَهُ فَانْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، أَوْ قَالَ: يَطْعَمُ، فَقَالَ: ادْنُ فَكُلْ، أَوْ قَالَ: ادْنُ فَاطْعَمْ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ وَعَنِ الْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ایوب کہتے ہیں کہ مجھ سے ابوقلابہ نے یہ حدیث بیان کی، پھر مجھ سے کہا : کیا آپ اس حدیث کے بیان کرنے والے سے ملنا چاہیں گے ؟ پھر انہوں نے ان کی طرف میری رہنمائی کی، تو میں جا کر ان سے ملا، انہوں نے کہا : مجھ سے میرے ایک رشتہ دار نے جنہیں انس بن مالک کہا جاتا ہے نے بیان کیا کہ میں اپنے اونٹوں کے سلسلے میں جو پکڑ لیے گئے تھے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، میں پہنچا تو آپ کھانا کھا رہے تھے، تو آپ نے مجھے اپنے کھانے میں شریک ہونے کے لیے بلایا۔ میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : قریب آؤ میں تمہیں اس کے متعلق بتاتا ہوں، (سنو) اللہ تعالیٰ نے مسافر کو روزہ، اور آدھی نماز کی چھوٹ دی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم : ٢٢٧٦، ٢٢٧٧ (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2276
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَهَذَا الْحَدِيثَ، ثُمّ قَالَ: هَلْ لَكَ فِي صَاحِبِ الْحَدِيثِ، فَدَلَّنِي عَلَيْهِ فَلَقِيتُهُ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي قَرِيبٌ لِي، يُقَالُ لَهُ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ كَانَتْ لِي أُخِذَتْ فَوَافَقْتُهُ وَهُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي إِلَى طَعَامِهِ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: ادْنُ أُخْبِرْكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৭৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ایک صحابی کہتے ہیں : میں ایک ضرورت سے رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا اتفاق کی بات آپ اس وقت دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، آپ نے کہا : آؤ کھانا میں شریک ہوجاؤ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں، آپ نے فرمایا : آؤ میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز اور روزے کی چھوٹ دی ہے، اور حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو بھی چھوٹ دی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٧٦ و ٢٢٧٧ (حسن ) وضاحت : ١ ؎: اگر ان کے روزہ رکھنے سے پیٹ کے بچہ کو یا شیرخوار بچہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو اوہ روزہ نہ رکھیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2277
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَإِذَا هُوَ يَتَغَدَّى، قَالَ: هَلُمَّ إِلَى الْغَدَاءِ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: هَلُمَّ أُخْبِرْكَ عَنِ الصَّوْمِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصَّوْمَ وَرَخَّصَ لِلْحُبْلَى وَالْمُرْضِعِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ابو العلاء بن شخیر بھی ایک شخص سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٧٦ (حسن ) صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2278
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ہانی بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا تو میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، اور میں روزے سے تھا، اور آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا : آؤ (کھانے میں شریک ہوجاؤ) میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا : ادھر آؤ، کیا تمہیں اس چیز کا علم نہیں جو اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ۔ میں نے کہا : اللہ نے مسافر کو کیا چھوٹ دی ہے ؟ آپ نے فرمایا : روزے کی، اور آدھی نماز کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ٥٣٥٣ (صحیح) (سابقہ متابعت سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی بن الشخیر “ لین الحدیث ہیں، نیز اس کی سند میں ایک مبہم راوی ہے ) وضاحت : ١ ؎: بلحریش بنی الحریش کا مخفف ہے جیسے بلحارث بنی الحارث کا مخفف ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2279
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا صَائِمٌ وَهُوَ يَأْكُلُ، قَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: تَعَالَ أَلَمْ تَعْلَمْ مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ، قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ، قَالَ: الصَّوْمَ وَنِصْفَ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮২
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
ہانی بن عبداللہ بن شخیر بلحریش کے ایک شخص سے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور رہا ہم سفر کرتے رہے، پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ نے فرمایا : آؤ کھانا کھاؤ، میں نے عرض کیا : میں روزے سے ہوں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں : اللہ تعالیٰ نے مسافر سے روزے کی چھوٹ دی ہے، اور آدھی نماز کی بھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2280
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْحَرِيشٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُسَافِرُ مَا شَاءَ اللَّهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَطْعَمُ، فَقَالَ: هَلُمَّ فَاطْعَمْ، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُحَدِّثُكُمْ عَنِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৩
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
عبداللہ بن شخیر کہتے ہیں کہ میں مسافر تھا، رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، آپ کھانا کھا رہے تھے اور میں روزے سے تھا، آپ نے فرمایا : آؤ (کھانا کھالو) میں نے کہا : میں روزے سے ہوں۔ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں وہ چیز معلوم ہے جس کی اللہ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، میں نے کہا : کس چیز کی اللہ تعالیٰ نے مسافر کو چھوٹ دی ہے ؟ ، آپ ﷺ نے فرمایا : روزے اور آدھی نماز کی ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٨١ (صحیح) (متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح ہے، ورنہ اس کے راوی ” ھانی “ لین الحدیث ہیں ) قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2281
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ هَانِئِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ مُسَافِرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَأْكُلُ، وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ: هَلُمَّ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: أَتَدْرِي مَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟، قُلْتُ: وَمَا وَضَعَ اللَّهُ عَنِ الْمُسَافِرِ ؟ قَالَ: الصَّوْمَ وَشَطْرَ الصَّلَاةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৪
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ زیر نظر حدیث شریف میں حضرت معاویہ بن سلام اور حضرت علی بن مبارک پر اختلاف
غیلان کہتے ہیں : میں ابوقلابہ کے ساتھ ایک سفر میں نکلا (کھانے کے وقت) انہوں نے کھانا میرے آگے بڑھایا تو میں نے کہا : میں تو روزے سے ہوں، اس پر انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں نکلے، آپ نے کھانا آگے بڑھاتے ہوئے ایک شخص سے کہا : قریب آ جاؤ کھانا کھاؤ، اس نے کہا : میں روزے سے ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا ـ: اللہ تعالیٰ نے مسافر کے لیے آدھی نماز کی اور سفر میں روزے کی چھوٹ دی ہے ۔ تو اب آؤ کھاؤ، تو میں قریب ہوگیا، اور کھانے لگا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٧٦ (صحیح) (سند میں ضعف ارسال کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ ابو قلابہ نے راوی صحابی کا ذکر نہیں کیا ہے، متابعات سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2282
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مُوسَى هُوَ ابْنُ أَبِي عَائِشَةَ، عَنْ غَيْلَانَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي قِلَابَةَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا، فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي سَفَرٍ فَقَرَّبَ طَعَامًا، فَقَالَ لِرَجُلٍ: ادْنُ فَاطْعَمْ، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ نِصْفَ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامَ فِي السَّفَرِ فَادْنُ فَاطْعَمْ، فَدَنَوْتُ فَطَعِمْتُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৫
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت سفر روزہ نہ رکھنے کی فضیلت سے متعلق
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، ہم میں سے کچھ لوگ روزہ رکھے ہوئے تھے اور کچھ لوگ بغیر روزے کے تھے، ہم نے ایک گرم دن میں پڑاؤ کیا، اور ہم (چھولداریاں اور خیمے لگا لگا کر) سایہ کرنے لگے، تو روزہ دار (سخت گرمی کی تاب نہ لا کر) گر گرپڑے، اور روزہ نہ رہنے والے اٹھے، اور انہوں نے سواریوں کو پانی پلایا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آج غیر روزہ دار ثواب مار لے گئے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٧١ (٢٨٩٠) ، صحیح مسلم/الصوم ١٦ (١١١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٦٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2283
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ، فَمِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ، فَنَزَلْنَا فِي يَوْمٍ حَارٍّ وَاتَّخَذْنَا ظِلَالًا فَسَقَطَ الصُّوَّامُ، وَقَامَ الْمُفْطِرُونَ فَسَقَوْا الرِّكَابَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَهَبَ الْمُفْطِرُونَ الْيَوْمَ بِالْأَجْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৬
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سفر روزہ رکھنا ایسا ہے کہ جس طریقہ سے مکان میں بغیر روزہ کے رہنا
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں : کہا جاتا ہے سفر میں روزہ رکھنا ایسا ہے جیسے حضر میں افطار کرنا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الصوم ١١ (١٦٦٦) مرفوعا (ضعیف) (ابوسلمہ کا اپنے والد ” عبدالرحمن بن عوف “ سے سماع نہیں ہے (لیکن حمید کا سماع ہے، ان کی روایت آگے آرہی ہے، اور ابن ماجہ کی روایت جو مرفوعاً ہے اس میں یہی انقطاع ہے، نیز اس میں ایک ضعیف راوی بھی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف موقوف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2284
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: يُقَالُ الصِّيَامُ فِي السَّفَرِ كَالْإِفْطَارِ فِي الْحَضَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৭
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سفر روزہ رکھنا ایسا ہے کہ جس طریقہ سے مکان میں بغیر روزہ کے رہنا
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں : سفر میں روزہ رکھنے والا ایسا ہی ہے جیسے حضر میں روزہ نہ رکھنے والا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایت پر کلام ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2285
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ الْخَيَّاطِ، وَأَبُو عَامِرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْأَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৮
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ دوران سفر روزہ رکھنا ایسا ہے کہ جس طریقہ سے مکان میں بغیر روزہ کے رہنا
عبدالرحمٰن بن عوف رضی الله عنہ کہتے ہیں : سفر میں روزہ رکھنے والا حضر میں افطار کرنے والے کی طرح ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٧١٩۔ ألف) (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جس طرح حضر میں افطار کرنا گناہ ہے اس طرح سفر میں روزہ رکھنا بھی باعث گناہ ہے، مگر یہ صحابی کا قول ہے جو حدیث رسول ﷺ کے مخالف ہے (یعنی مسافر کو چھوٹ ہے چاہے رکھے، چاہے نہ رکھے اور قضاء کرے) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2286
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: الصَّائِمُ فِي السَّفَرِ كَالْمُفْطِرِ فِي الْحَضَرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৮৯
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت سفر روزہ رکھنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رمضان کے مہینے میں سفر پر نکلے، تو آپ روزے سے رہے۔ یہاں تک کہ آپ قدید پہنچے، تو آپ کے سامنے دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا، تو آپ نے پیا، اور آپ نے اور آپ کے صحابہ نے روزہ توڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٦٤٧٩) ، مسند احمد ١/٢٤٤، ٣٤١، ٣٤٤، ٣٥٠ (صحیح) (آنے والی احادیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے ) وضاحت : ١ ؎: قدید مدینہ سے سات منزل کی دوری پر عسفان کے قریب ایک گاؤں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح لغيره صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2287
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُوَيْدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَرَجَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ أُتِيَ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ وَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯০
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت سفر روزہ رکھنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں روزہ رکھا، (اور چلے) یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے روزہ توڑ دیا، اور مکہ پہنچنے تک بغیر روزہ کے رہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف : ٦٣٨٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2288
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْثَرٌ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২২৯১
روزوں سے متعلقہ احادیث
পরিচ্ছেদঃ بحالت سفر روزہ رکھنے سے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ قدید آئے، پھر آپ نے دودھ کا ایک پیالہ منگایا اور (اسے) پیا، اور آپ نے اور آپ کے اصحاب نے روزہ توڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٢٨٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2289
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْمِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَصَامَ فِي السَّفَرِ حَتَّى أَتَى قُدَيْدًا، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبَ فَأَفْطَرَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ.
তাহকীক: