কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৩ টি
হাদীস নং: ১৯৫৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حد زنا میں جو شخص پتھروں سے مارا جائے اس پر نماز جنازہ پڑھنا
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی، اور کہنے لگی : میں نے زنا کیا ہے، وہ حاملہ تھی، تو آپ نے اسے اس کے ولی کے سپرد کردیا اور کہا : اسے اچھی طرح رکھو، اور جب بچہ جن دے تو میرے پاس لے کر آنا ، چناچہ جب اس نے بچہ جن دیا تو ولی اسے لے کر آیا، تو آپ نے اسے حکم دیا، اس کے کپڑے باندھ دیئے گئے، پھر آپ نے اسے رجم کیا، پھر اس کی نماز جنازہ پڑھی، اس پر عمر (رض) نے آپ سے عرض کیا : آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ رہے ہیں ؟ حالانکہ وہ زنا کرچکی ہے، تو آپ نے فرمایا : اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ اہل مدینہ کے ستر لوگوں کے درمیان تقسیم کردی جائے تو ان سب کو کافی ہوجائے، اور اس سے بہتر توبہ اور کیا ہوگی کہ اس نے اللہ تعالیٰ (کی شریعت کے پاس و لحاظ میں) اپنی جان (تک) قربان کردی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحدود ٥ (١٦٩٦) ، سنن ابی داود/الحدود ٢٥ (٤٤٤٠، ٤٤٤١) ، سنن الترمذی/الحدود ٩ (١٤٣٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ٩ (٢٥٥٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨١) ، مسند احمد ٤/٤٢٠، ٤٢٩، ٤٣٥، ٤٣٧، ٤٤٠، سنن الدارمی/الحدود ١٧ (٢٣٧٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1957
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي زَنَيْتُ، وَهِيَ حُبْلَى فَدَفَعَهَا إِلَى وَلِيِّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ رَجَمَهَا ثُمَّ صَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَتُصَلِّي عَلَيْهَا وَقَدْ زَنَتْ ؟ فَقَالَ: لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو آدمی وصیت کرنے میں ظلم سے کام لے (یعنی جائز حق سے زیادہ کی وصیت کرے) اس کی نماز جنازہ
عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کردیئے، اس کے پاس ان کے علاوہ اور کوئی مال (مال و اسباب) نہ تھا، یہ بات نبی اکرم ﷺ کو معلوم ہوئی تو آپ اس سے ناراض ہوئے، اور فرمایا : میں نے ارادہ کیا کہ اس کی نماز جنازہ نہ پڑھوں ، پھر آپ نے اس کے غلاموں کو بلایا، اور ان کے تین حصے کیے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، اور دو کو آزاد کردیا، اور چار کو رہنے دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٠٨١٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الأیمان ١١ (١٦٦٨) ، سنن ابی داود/العتق ١٠ (٣٩٥٨) ، سنن الترمذی/الأحکام ٢٧ (١٣٦٤) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٥) ، مسند احمد ٤/٤٢٦، ٤٣١، ٤٣٨، ٤٤٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1958
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مَنْصُورٍ وَهُوَ ابْنُ زَاذَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةً مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَغَضِبَ مِنْ ذَلِكَ وَقَالَ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُصَلِّيَ عَلَيْهِ، ثُمَّ دَعَا مَمْلُوكِيهِ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جس کسی نے مال غنیمت میں چوری کی ہو اس پر نماز پڑھنا
زید بن خالد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص خیبر میں مرگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو، اس نے اللہ کی راہ میں چوری کی ہے ، تو (جب) ہم نے اس کے اسباب کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہود کے نگینوں میں سے کچھ نگینے ملے، جو دو درہم کے برابر بھی نہیں تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجھاد ١٤٣ (٢٧١٠) ، سنن ابن ماجہ/الجھاد ٣٤ (٢٨٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٦٧) ، موطا امام مالک/الجھاد ١٣ (٢٣) ، مسند احمد ٤/١١٤ و ٥/١٩٢ (ضعیف) (اس کے راوی ” ابو عمرہ “ لین الحدیث ہیں، اور موطا میں یہ سند سے ساقط ہیں، کما حررہ ابن عبدالبر ) قال الشيخ الألباني : ضعيف صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1959
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، قال: مَاتَ رَجُلٌ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ إِنَّهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ يَهُودَ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقروض شخص کی جنازہ کی نماز
ابوقتادہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس انصار کا ایک شخص لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ دیں، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو (میں نہیں پڑھتا) کیونکہ اس پر قرض ہے ، ابوقتادہ (رض) نے کہا : یہ میرے ذمہ ہے، نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : تم اس کی ادائیگی کرو گے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں میں اس کی ادائیگی کروں گا، تب آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٦٩) ، سنن ابن ماجہ/الکفالة ٩ (٢٤٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٠٣) ، مسند احمد ٥/٣٠١، ٣٠٢، ٣١١، سنن الدارمی/البیوع ٥٣ (٢٦٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1960
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، سَمِعْتُعَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَإِنَّ عَلَيْهِ دَيْنًا، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُوَ عَلَيَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِالْوَفَاءِ، قَالَ: بِالْوَفَاءِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقروض شخص کی جنازہ کی نماز
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا : اللہ کے نبی ! اس کی نماز جنازہ پڑھ دیجئیے، آپ نے پوچھا : کیا اس نے اپنے اوپر کچھ قرض چھوڑا ہے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں، آپ نے پوچھا : کیا اس نے اس کی ادائیگی کے لیے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے کہا : نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ، تو ابوقتادہ نامی ایک انصاری نے عرض کیا : آپ اس کی نماز (جنازہ) پڑھ دیجئیے، اس کا قرض میرے ذمہ ہے، تو آپ ﷺ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحوالة ٣ (٢٢٨٩) ، والکفالة ٣ (٢٢٩٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٤٧) ، مسند احمد ٤/٤٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1961
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ، قال: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ: هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ ؟، قَالُوا: لَا، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: صَلِّ عَلَيْهِ وَعَلَيَّ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقروض شخص کی جنازہ کی نماز
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مقروض آدمی کی نماز جنازہ نہیں پڑھتے تھے، چناچہ ایک جنازہ آپ کے پاس لایا گیا تو آپ نے پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : ہاں، اس پر دو دینار (کا قرض) ہے، آپ نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی پر نماز جنازہ پڑھ لو ، ابوقتادہ (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ دونوں دینار میرے ذمہ ہیں، تو آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو فتح و نصرت عطا کی، تو آپ نے فرمایا : میں ہر مومن پر اس کی جان سے زیادہ حق رکھتا ہوں، جو قرض چھوڑ کر مرے (اس کی ادائیگی) مجھ پر ہے، اور جو مال چھوڑ کر مرے تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الخراج ١٥ (٢٩٥٤) ، البیوع ٩ (٣٣٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٣١٥٨) ، مسند احمد ٣/٢٩٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1962
أَخْبَرَنَا نُوحُ بْنُ حَبِيبٍ الْقَوْمَسِيُّ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْجَابِرٍ، قال: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي عَلَى رَجُلٍ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَأُتِيَ بِمَيْتٍ، فَسَأَلَ: أَعَلَيْهِ دَيْنٌ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، عَلَيْهِ دِينَارَانِ، قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ دَيْنًا فَعَلَيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مقروض شخص کی جنازہ کی نماز
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی مومن مرتا اور اس پر قرض ہوتا ہے تو رسول اللہ ﷺ پوچھتے : کیا اس نے اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ چھوڑا ہے ؟ اگر لوگ کہتے : جی ہاں، تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھتے، اور اگر کہتے : نہیں، تو آپ کہتے : تم اپنے ساتھی پر نماز (جنازہ) پڑھ لو ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پر فتح و نصرت کا دروازہ کھولا، تو آپ نے فرمایا : میں مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں، تو جو وفات پا جائے اور اس پر قرض ہو، تو (اس کی ادائیگی) مجھ پر ہے، اور اگر کوئی مال چھوڑ کر گیا تو وہ اس کے وارثوں کا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الکفالة ٥ (٢٢٩٨) ، والنفقات ١٥ (٢٣٩٨) ، صحیح مسلم/الفرائض ٤ (١٦١٩) ، سنن الترمذی/الجنائز ٦٩ (١٠٧٠) ، سنن ابن ماجہ/الصدقات ١٣ (٢٤١٥) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٥٧، ١٥٣١٥) ، مسند احمد ٢/٢٩٠، ٤٥٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1963
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا تُوُفِّيَ الْمُؤْمِنُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ سَأَلَ: هَلْ تَرَكَ لِدَيْنِهِ مِنْ قَضَاءٍ ؟فَإِنْ قَالُوا: نَعَمْ، صَلَّى عَلَيْهِ، وَإِنْ قَالُوا: لَا قَالَ: صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ، فَلَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَنَا أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ تُوُفِّيَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَعَلَيَّ قَضَاؤُهُ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص خود کو ہلاک کرے اس کی نماز جنازہ سے متعلق احادیث
ابن سمرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے تیر کی انی سے خودکشی کرلی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : رہا میں تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھ سکتا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنائز ٣٦ (٩٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٢١٥٧) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز ٥١ (٣١٨٥) مطولاً ، سنن الترمذی/الجنائز ٦٨ (١٠٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣١ (١٥٢٦) ، مسند احمد ٥/٨٧، ٩٠، ٩١، ٩٢، ٩٤، ٩٦، ٩٧، ١٠٠، ١٠٧ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1964
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: أَنْبَأَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرٌ، قال: حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنِ ابْنِ سَمُرَةَ، أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَّا أَنَا فَلَا أُصَلِّي عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جو شخص خود کو ہلاک کرے اس کی نماز جنازہ سے متعلق احادیث
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص اپنے آپ کو کسی پہاڑ سے گرا کر مار ڈالے، تو وہ جہنم میں ہمیشہ ہمیش اپنے آپ کو اوپر سے نیچے گراتا رہے گا، اور جو زہر پی کر اپنے آپ کو مار ڈالے تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں رہے گا اسے وہ ہمیشہ ہمیش جہنم میں پیتا رہے گا، اور جو شخص کسی دھار دار چیز سے اپنے آپ کو مار ڈالے (راوی کہتے ہیں : پھر کوئی چیز میرے سننے سے رہ گئی ١ ؎، خالد کہہ رہے تھے :) تو اس کا لوہا اس کے ہاتھ میں ہوگا اسے وہ جہنم کی آگ میں اپنے پیٹ میں برابر گھونپتا رہے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٥٦ (٥٧٧٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٧ (١٠٩) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الطب ١١ (٣٨٧٢) ، سنن الترمذی/الطب ٧ (١٠٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الطب ١١ (١٠٤٣) ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٩٤) ، مسند احمد ٢/٢٥٤، ٢٧٨، ٤٨٨، سنن الدارمی/الدیات ١٠ (٢٤٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ متن حدیث کا حصہ نہیں ہے بلکہ خالد سے روایت کرنے والے راوی کا کلام ہے یعنی خالد کہہ رہے تھے کہ من قتل نفسہ بحدید ۃ کے بعد کوئی لفظ رہ گیا ہے جسے میں سن نہیں سکا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1965
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ تَرَدَّى مِنْ جَبَلٍ فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَهُوَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّى خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ تَحَسَّى سُمًّا فَقَتَلَ نَفْسَهُ فَسُمُّهُ فِي يَدِهِ يَتَحَسَّاهُ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا، وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِحَدِيدَةٍ ثُمَّ انْقَطَعَ عَلَيَّ شَيْءٌ خَالِدٌ، يَقُولُ: كَانَتْ حَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَجَأُ بِهَا فِي بَطْنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيهَا أَبَدًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ منافقین پر نماز نہ پڑھنے سے متعلق
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب عبداللہ بن ابی ابن سلول (منافقوں کا سردار) مرگیا، تو رسول اللہ ﷺ بلائے گئے، تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں، جب رسول اللہ ﷺ (نماز پڑھنے کے لیے) کھڑے ہوئے تو میں تیزی سے آپ کی طرف بڑھا، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ابن ابی پر نماز جنازہ پڑھیں گے ؟ حالانکہ فلاں دن وہ ایسا ایسا کہہ رہا تھا، میں اس کی تمام باتیں آپ پر گنانے لگا، تو آپ مسکرائے، اور فرمایا : اے عمر ! ان باتوں کو جانے دو ۔ جب میں نے کافی اصرار کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : مجھے اختیار ہے (نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں) تو میں نے پڑھنا پسند کیا، اگر میں یہ جانتا کہ ستر بار سے زیادہ مغفرت چاہنے پر اس کی مغفرت ہوجائے گی تو میں اس سے زیادہ مغفرت کرتا ١ ؎ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی، پھر لوٹے اور ابھی ذرا سا دم ہی لیا تھا کہ سورة برأت کی دونوں آیتیں نازل ہوئیں : ولا تصل على أحد منهم مات أبدا ولا تقم على قبره إنهم کفروا باللہ ورسوله وماتوا وهم فاسقون جب یہ مرجائیں تو تم ان میں سے کسی پر کبھی بھی نماز جنازہ نہ پڑھو، اور نہ اس کی قبر پہ کھڑے ہو، اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا ہے، اور گنہگار ہو کر مرے ہیں ، بعد میں مجھے رسول اللہ ﷺ کے خلاف اپنی اس دن کی اس جرات پر حیرت ہوئی، اور اللہ اور اس کے رسول خوب جانتے ہیں کہ یہ جرات میں نے کیوں کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٤ (١٣٦٦) ، و تفسیر التوبة ١٢ (٤٦٧١) ، سنن الترمذی/الجنائز/تفسیر التوبة (٣٠٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٥٠٩) ، مسند احمد ١/١٦ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی ستر بار سے زیادہ اس کی مغفرت کے لیے دعا کرتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1966
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قال: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قال: لَمَّا مَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ دُعِيَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُصَلِّي عَلَى ابْنِ أُبَيٍّ وَقَدْ قَالَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا كَذَا وَكَذَا أُعَدِّدُ عَلَيْهِ ؟ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: أَخِّرْ عَنِّي يَا عُمَرُ، فَلَمَّا أَكْثَرْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: إِنِّي قَدْ خُيِّرْتُ فَاخْتَرْتُ، فَلَوْ عَلِمْتُ أَنِّي لَوْ زِدْتُ عَلَى السَّبْعِينَ غُفِرَ لَهُ لَزِدْتُ عَلَيْهَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى نَزَلَتِ الْآيَتَانِ مِنْ بَرَاءَةَ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَاتُوا وَهُمْ فَاسِقُونَ سورة التوبة آية 84 فَعَجِبْتُ بَعْدُ مِنْ جُرْأَتِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৬৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء (رض) کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنائز ٣٤ (٩٧٣) مطولاً ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الجنائز ٥٤ (٣١٨٩) ، سنن الترمذی/الجنائز ٤٤ (١٠٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٢٩ (١٥١٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٧٥) ، موطا امام مالک/الجنائز ٨ (٢٢) ، مسند احمد ٦/٧٨، ١٣٣، ١٦٩ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے مسجد میں جنازہ پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، اگرچہ آپ کا معمول مسجد سے باہر پڑھنے کا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1967
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْعَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مسجد میں نماز جنازہ ادا کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سہیل بن بیضاء ١ ؎ کی نماز جنازہ مسجد کے صحن ہی میں پڑھی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بیضاء کے تین بیٹے تھے جن کے نام سہل، سہیل اور صفوان تھے اور ان کی ماں کا نام رعد تھا، بیضاء ان کا وصفی نام ہے، اور ان کے والد کا نام وہب بن ربیعہ قرشی فہری تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1968
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلَّا فِي جَوْفِ الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ رات میں نماز جنازہ ادا کرنا
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عوالی مدینہ کی ایک غریب عورت ١ ؎ بیمار پڑگئی، نبی اکرم ﷺ اس کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہتے تھے، اور کہہ رکھا تھا کہ اگر یہ مرجائے تو اسے دفن مت کرنا جب تک کہ میں اس کی نماز جنازہ نہ پڑھ لوں ، چناچہ وہ مرگئی، تو لوگ اسے عشاء کے بعد مدینہ لے کر آئے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا مناسب نہ سمجھا، چناچہ ان لوگوں نے اس کی نماز جنازہ پڑھ لی، اور اسے لے جا کر مقبرہ بقیع میں دفن کردیا، جب رسول اللہ ﷺ نے صبح کی تو لوگ آپ کے پاس آئے، آپ نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! وہ تو دفنائی جا چکی، (رات) ہم آپ کے پاس آئے (بھی) تھے، (لیکن) ہم نے آپ کو سویا ہوا پایا، تو آپ کو جگانا نامناسب سمجھا، آپ نے فرمایا : چلو ! (اور) خود بھی چل پڑے، اور لوگ بھی آپ کے ساتھ گئے یہاں تک کہ ان لوگوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صف باندھا، آپ نے اس کی نماز (جنازہ) پڑھائی اور (اس میں) چار تکبیریں کہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٩٠٨ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس عورت کا نام ام محجن تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1969
أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: أَنْبَأَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قال: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، أَنَّهُ قَالَ: اشْتَكَتِ امْرَأَةٌ بِالْعَوالِي مِسْكِينَةٌ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُمْ عَنْهَا وَقَالَ: إِنْ مَاتَتْ فَلَا تَدْفِنُوهَا حَتَّى أُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَتُوُفِّيَتْ فَجَاءُوا بِهَا إِلَى الْمَدِينَةِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ، فَوَجَدُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَامَ فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، فَصَلَّوْا عَلَيْهَا وَدَفَنُوهَا بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءُوا فَسَأَلَهُمْ عَنْهَا فَقَالُوا: قَدْ دُفِنَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَقَدْ جِئْنَاكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، قَالَ: فَانْطَلِقُوافَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَشَوْا مَعَهُ حَتَّى أَرَوْهُ قَبْرَهَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفُّوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے بھائی نجاشی کی موت ہوگئی ہے، تو تم لوگ اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو ، (پھر) آپ نے ہماری صف بندی کی جیسے جنازہ پر صف بندی کی جاتی ہے، اور ان کی نماز جنازہ پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٥٣ (١٣١٧) ، ٥٤ (١٣٢٠) ، ٦٤ (١٣٣٤) ، ومناقب الأنصار ٣٨ (٣٨٧٧) ، صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٥٠) ، مسند احمد ٣/٢٩٥، ٣١٩، ٣٦٩، ٤٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1970
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ، فَقَامَ فَصَفَّ بِنَا كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْجَنَازَةِ وَصَلَّى عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو نجاشی کی موت کی خبر اسی دن دی جس دن وہ مرے، پھر آپ لوگوں کو لے کر صلاۃ گاہ کی طرف نکلے، اور ان کی صف بندی کی، (پھر) آپ نے ان کی نماز (جنازہ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٤ (١٢٤٥) ، ٥٤ (١٣١٨) ، ٦٠ (١٣٢٨) ، ٦٤ (١٣٣٤) ، والمناقب ٣٨ (٣٨٨٠- ٣٨٨١) صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥١) ، سنن ابی داود/الجنائز ٦٢ (٣٢٠٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الجنائز ٣٧ (١٠٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٣ (١٥٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٣٢) ، موطا امام مالک/الجنائز ٥ (١٤) ، مسند احمد ٢/٢٨١، ٢٨٩، ٤٣٨، ٤٣٩، ویأتی عند المؤلف برقم : ١٩٨٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1971
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَى لِلنَّاسِ النَّجَاشِيَّ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ، ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ إِلَى الْمُصَلَّى فَصَفَّ بِهِمْ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ میں اپنے صحابہ کو نجاشی کی موت کی خبر دی، تو انہوں نے آپ کے پیچھے صف بندی کی، آپ نے ان کی نماز (جنازہ) پڑھائی، اور چار تکبیریں کہیں۔ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں : ابن مسیب کا نام جیسا میں سننا چاہتا تھا نہیں سن سکا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٥٤ (١٣١٨) ، سنن الترمذی/الجنائز ٣٧ (١٠٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٣ (١٥٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٣٢٦٧، ١٥٢٩٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1972
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قال: نَعَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَّ لِأَصْحَابِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَصَفُّوا خَلْفَهُ فَصَلَّى عَلَيْهِ وَكَبَّرَ أَرْبَعًا، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنِّي لَمْ أَفْهَمْهُ كَمَا أَرَدْتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا : تمہارے بھائی (نجاشی) مرگئے ہیں تو تم لوگ اٹھو، اور ان کی نماز جنازہ پڑھو تو ہم نے ان پر دو صفیں باندھیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر صحیح مسلم/الجنائز ٢٢ (٩٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٧٠) ، مسند احمد ٣/٣٥٥ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1973
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ مَاتَ فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ صَفَّيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جس دن رسول اللہ ﷺ نے نجاشی کی نماز (جنازہ) پڑھی تھی میں دوسری صف میں تھا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٥٤ (١٣٢٠) تعلیقاً ، (تحفة الأشراف : ٢٧٧٤) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1974
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ: السَّاعَةَ يَخْرُجُ السَّاعَةَ يَخْرُجُ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال: كُنْتُ فِي الصَّفِّ الثَّانِي يَوْمَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النَّجَاشِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ پر صفیں باندھنے سے متعلق
عمران بن حصین رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا : تمہارے بھائی نجاشی انتقال کر گئے ہیں تو تم اٹھو اور ان کی نماز جنازہ پڑھو ، تو ہم کھڑے ہوئے (اور) ہم نے ان پر اسی طرح صف بندی کی جس طرح میت پر کی جاتی ہے، اور ہم نے ان کی نماز (جنازہ) اسی طرح پڑھی جس طرح میت کی پڑھی جاتی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر سنن الترمذی/الجنائز ٤٨ (١٠٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٣ (١٥٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٨٩) ، مسند احمد ٤/٤٣٩، ٤٤١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1975
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، قال: حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قال: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُمْنَا، فَصَفَفْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَفُّ عَلَى الْمَيِّتِ، وَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ كَمَا يُصَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৯৭৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ جنازہ پر کھڑے ہو کر نماز پڑھنا
سمرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ام کعب رضی اللہ عنہا کی نماز (جنازہ) پڑھی، جو اپنی زچگی میں مرگئیں تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نماز میں ان کی کمر کے پاس کھڑے ہوئے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣٩٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1976
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ سَمُرَةَ، قال: صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أُمِّ كَعْبٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ فِي وَسَطِهَا.
তাহকীক: