কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
جنائز کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৩ টি
হাদীস নং: ২০৫৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کے میت کو دبانے سے متعلق
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آیت کریمہ يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة اللہ ایمان والوں کو دنیا اور آخرت (دونوں میں) ٹھیک بات پر قائم رکھے گا ۔ عذاب قبر کے سلسلے میں اتری ہے۔ میت سے پوچھا جائے گا : تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہے گا : میرا رب اللہ ہے، میرا دین محمد ﷺ کا دین ہے۔ اللہ کے قول : يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة سے یہی مراد ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٦ (١٣٦٩) ، و تفسیر سورة ابراھیم ٢ (٤٦٩٩) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧١) ، سنن ابی داود/السنة ٢٧ (٤٧٥٠، ٤٧٥٣) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة إبراھیم (٣١١٩) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٦٩) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٢) ، مسند احمد ٤/٢٨٢، ٢٩١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2057
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِالْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27، قَالَ: نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ مَنْ رَبُّكَ، فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِي دِينُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کے میت کو دبانے سے متعلق
انس رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے کسی قبر سے ایک آواز سنی تو پوچھا : یہ کب مرا ہے ؟ لوگوں نے کہا : زمانہ جاہلیت میں مرا ہے، آپ اس بات سے خوش ہوئے، اور فرمایا : اگر یہ ڈر نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو دفن کرنا چھوڑ دو گے، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تمہیں عذاب قبر سنا دے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧١١) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٨) ، مسند احمد ٣/١٠٣، ١١١، ١١٤، ١٥٣، ١٧٥، ١٧٦، ٢٠١، ٢٧٣، ٢٨٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2058
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ، فَقَالَ: مَتَى مَاتَ هَذَا ؟قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ: لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر کے میت کو دبانے سے متعلق
ابوایوب انصاری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈوبنے کے بعد نکلے، تو ایک آواز سنی، آپ نے فرمایا : یہود اپنی قبروں میں عذاب دیئے جا رہے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٣٧٥) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٥٤) ، مسند احمد ٥/٤١٧، ٤١٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2059
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَسَمِعَ صَوْتًا، فَقَالَ: يَهُودُ تُعَذَّبُ فِي قُبُورِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دعا کرتے تھے : اللہم إني أعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من عذاب النار وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال اے اللہ ! میں عذاب قبر سے تیری پناہ مانگتا ہوں، جہنم کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں، زندگی اور موت کی آزمائش سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور مسیح دجال کی آزمائش سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٥٤٣٥) ، صحیح البخاری/الجنائز ٨٧ (١٣٧٧) ، مسند احمد ٢/٤١٤، ویأتی عند المؤلف برقم : ٥٥٠٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2060
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٤ (٥٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٨٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی : یہودی عورت کے عذاب قبر کے ذکر کے بعد آپ نے عذاب قبر سے پناہ مانگنی شروع کردی تھی، دیکھئیے حدیث رقم : ٢٠٦٦ ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2061
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
اسماء بنت ابی بکر رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے (اور) اس آزمائش کا ذکر کیا جس سے آدمی اپنی قبر میں دوچار ہوتا ہے، تو جب آپ نے اس کا ذکر کیا تو مسلمانوں نے ایک چیخ ماری جو میرے اور رسول اللہ ﷺ کی بات سمجھنے کے درمیان حائل ہوگئی، جب ان کی چیخ و پکار بند ہوئیں تو میں نے ایک شخص سے جو مجھ سے قریب تھا کہا : اللہ تجھے برکت دے ! رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطاب کے آخر میں کیا کہا تھا ؟ اس نے کہا : (آپ نے فرمایا تھا :) مجھ پر وحی کی گئی ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش ہوگی جو دجال کی آزمائش کے قریب قریب ہوگی ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٢٤ (٨٦) ، والوضوء ٣٧ (١٨٤) ، والجمعة ٢٩ (١٠٥٣) ، والکسوف ١٠ (١٠٦١) ، والجنائز ٨٦ (١٣٧٣) مختصراً ، والاعتصام ٢ (٧٢٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٢٨) ، صحیح مسلم/الکسوف ٣ (٩٠٥) ، موطا امام مالک/الکسوف ٢ (٤) ، مسند احمد ٦/٣٤٥، ٣٥٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2062
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَأَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ، تَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْفِتْنَةَ الَّتِي يُفْتَنُ بِهَا الْمَرْءُ فِي قَبْرِهِ، فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي، أَيْ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ ؟ قَالَ: قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا انہیں اسی طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے کہو : اللہم إنا نعوذ بک من عذاب جهنم وأعوذ بک من عذاب القبر وأعوذ بک من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بک من فتنة المحيا والممات اے اللہ ! ہم تیری پناہ مانگتے ہیں جہنم کے عذاب سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں عذاب قبر سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں موت اور زندگی کی آزمائش سے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٥ (٥٩٠) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣٦٧ (١٥٤٢) ، سنن الترمذی/الدعوات ٧٧ (٣٤٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٥٢) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/الدعاء ٣ (٣٨٤٠) ، موطا امام مالک/القرآن ٨ (٣٣) ، مسند احمد ١/٢٤٢، ٢٥٨، ٢٩٨، ٣١١، ویأتي عند المؤلف برقم : ٥٥١٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2063
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَلِّمُهُمْ هَذَا الدُّعَاءَ كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، میرے پاس ایک یہودی عورت تھی، وہ کہہ رہی تھی کہ تم لوگ قبروں میں آزمائے جاؤ گے، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ گھبرا گئے، اور فرمایا : صرف یہودیوں ہی کی آزمائش ہوگی ۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : پھر ہم کئی رات ٹھہرے رہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھ پر وحی آئی ہے کہ تمہیں (بھی) قبروں میں آزمایا جائے گا ، اس کے بعد سے میں رسول اللہ ﷺ کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے سنتی رہی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٤ (٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٦٧١٢) ، مسند احمد ٦/٨٩، ٢٣٨، ٢٤٨، ٢٧١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2064
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي امْرَأَةٌ مِنَ الْيَهُودِ، وَهِيَ تَقُولُ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُودُ، وَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ قبر کے عذاب، اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرتے، اور فرماتے : تم اپنی قبروں میں آزمائے جاؤ گے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٧٩٤٤) ، ویأتی برقم : ٥٥٠٦ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2065
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَقَالَ: إِنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی (اور) اس نے ان سے کوئی چیز مانگی تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے دیا تو اس نے کہا : اللہ تجھے قبر کے عذاب سے بچائے ! عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : تو اس کی یہ بات میرے دل میں بیٹھ گئی یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے جسے چوپائے سنتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدعوات ٣٧ (٦٣٦٦) ، صحیح مسلم/المساجد ٢٤ (٥٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦١١) ، مسند احمد ٦/٤٤، ٢٠٥ (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2066
أَخْبَرَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ دَخَلَتْ يَهُودِيَّةٌ عَلَيْهَا فَاسْتَوْهَبَتْهَا شَيْئًا، فَوَهَبَتْ لَهَا عَائِشَةُ، فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُمْ لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৬৯
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ عذاب قبر سے پناہ کے متعلق
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں یہود مدینہ کی بوڑھی عورتوں میں سے دو عورتیں میرے پاس آئیں، (اور) کہنے لگیں کہ قبر والوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو میں نے ان کو جھٹلا دیا اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ان کی تصدیق کروں، وہ دونوں نکل گئیں (تبھی) رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہود مدینہ کی بوڑھیوں میں سے دو بوڑھیاں کہہ رہی تھیں کہ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب دیا جاتا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان دونوں نے سچ کہا، انہیں عذاب دیا جاتا ہے جسے سارے چوپائے سنتے ہیں ، (پھر) میں نے دیکھا آپ ہر صلاۃ کے بعد عذاب قبر سے پناہ مانگتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2067
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ عَجُوزَتَانِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَكَذَّبْتُهُمَا وَلَمْ أَنْعَمْ أَنْ أُصَدِّقَهُمَا، فَخَرَجَتَا وَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عَجُوزَتَيْنِ مِنْ عُجُزِ يَهُودِ الْمَدِينَةِ، قَالَتَا: إِنَّ أَهْلَ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، قَالَ: صَدَقَتَا إِنَّهُمْ يُعَذَّبُونَ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ كُلُّهَا، فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭০
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ مکہ یا مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ کے پاس سے گزرے، تو آپ نے دو انسانوں کی آوازیں سنیں جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور انہیں کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے ١ ؎، بلکہ ان میں سے ایک اچھی طرح اپنے پیشاب سے پاکی نہیں حاصل کرتا تھا، اور دوسرا چغل خوری ٢ ؎ کرتا تھا ، پھر آپ نے ایک ٹہنی منگوائی (اور) اس کے دو ٹکڑے کئے پھر ان میں سے ہر ایک کی قبر پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا، تو آپ سے سوال کیا گیا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : شاید ان کے عذاب میں نرمی کردی جائے جب تک یہ دونوں (ٹہنیاں) خشک نہ ہوں ۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے ما لم ييبسا أو أن ييبسا فرمایا، یا إلى أن ييبسا فرمایا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دیا جا رہا ہے کا مطلب ہے ان کے خیال میں وہ کوئی بڑا جرم نہیں ورنہ شریعت کی نظر میں تو وہ بڑا جرم تھا، اور بعض لوگوں نے کہا ہے کہ کبیر سے مراد ہے کہ ان کا ترک کرنا کوئی زیادہ مشکل امر نہیں تھا اگر چاہتا تو آسانی سے اس گناہ سے بچ سکتا تھا۔ ٢ ؎: دو آدمیوں میں فساد ڈالنے کی نیت سے ایک بات دوسرے تک پہنچانے کا نام چغل خوری ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2068
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ مَكَّةَ أَوِ الْمَدِينَةِ، سَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانَيْنِ يُعَذَّبَانِ فِي قُبُورِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، ثُمَّ قَالَ: بَلَى كَانَ أَحَدُهُمَا لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَكَانَ الْآخَرُ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَكَسَرَهَا كِسْرَتَيْنِ، فَوَضَعَ عَلَى كُلِّ قَبْرٍ مِنْهُمَا كِسْرَةً، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ هَذَا ؟ قَالَ: لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا أَوْ إِلَى أَنْ يَيْبَسَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭১
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو قبر کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے، اور یہ کسی بڑے جرم میں عذاب نہیں دئیے جا رہے ہیں، رہا ان میں سے ایک تو وہ اپنے پیشاب سے اچھی طرح پاکی حاصل نہیں کرتا تھا، اور رہا دوسرا تو وہ چغل خوری کرتا تھا، پھر آپ نے کھجور کی ایک ہری ٹہنی لی (اور) اسے آدھا آدھا چیر دیا، پھر ہر ایک کی قبر پہ گاڑ دیا ، تو لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : شاید ان دونوں کا عذاب ہلکا کردیا جائے جب تک یہ دونوں (ٹہنیاں) خشک نہ ہوں ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٣١ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2069
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، فِي حَدِيثِهِ عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرَيْنِ فَقَالَ: إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي كَبِيرٍ، أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ لَا يَسْتَبْرِئُ مِنْ بَوْلِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا نِصْفَيْنِ، ثُمَّ غَرَزَ فِي كُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ صَنَعْتَ هَذَا ؟ فَقَالَ: لَعَلَّهُمَا أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭২
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سنو ! جب تم میں سے کوئی مرجاتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے، اگر جنتی ہے تو جنت میں کا، اور اگر جہنمی ہے تو جہنم میں کا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز اٹھائے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٩ (١٣٧٩) ، وبدء الخلق ٨ (٣٢٤٠) ، والرقاق ٤٢ (٦٥١٥) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٩٢) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٦) ، سنن الترمذی/الجنائز ٧٠ (١٠٧٢) ، سنن ابن ماجہ/الزھد ٣٢ (٤٢٧٠) ، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٧) ، مسند احمد ٢/١٦، ٥١، ١١٣، ١٢٣ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یعنی اٹھائے جانے کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا، اور وہ اپنے اس ٹھکانے میں پہنچ جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2070
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৩
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس پر صبح و شام اس کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے، چناچہ اگر وہ جہنمی ہے تو جہنمیوں (کے ٹھکانوں) میں سے (پیش کیا جائے گا) ، اور کہا جاتا ہے : یہ ہے تمہارا ٹھکانا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہیں قیامت کے روز اٹھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٨١٢٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2071
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يُعْرَضُ عَلَى أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ مَقْعَدُهُ مِنَ الْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، قِيلَ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৪
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ قبر پر درخت کی شاخ لگانے سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی مرتا ہے تو اس کا ٹھکانا اس پر صبح و شام پیش کیا جاتا ہے، اگر وہ جنتی ہے تو جنتیوں (کے ٹھکانوں) میں سے، اور اگر جہنمی ہے تو جہنمیوں (کے ٹھکانوں) میں سے، (اور اس سے) کہا جاتا ہے : یہ تمہارا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ اللہ عزوجل تمہیں قیامت کے روز اٹھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٩ (١٣٧٩) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٦٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٣٦١) ، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٧) ، مسند احمد ٢/١١٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2072
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ عُرِضَ عَلَى مَقْعَدِهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ، إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৫
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث
کعب بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کی جان جنت کے درختوں پہ اڑتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے اس کے جسم کی طرف بھیج دے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/فضائل الجھاد ١٣ (١٦٤١) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٤ (١٤٤٩) ، والزھد ٣٢ (٤٢٧١) ، (تحفة الأشراف : ١١١٤٨) ، موطا امام مالک/الجنائز ١٦ (٤٩) ، مسند احمد ٣/٤٥٥، ٤٥٦، ٤٦٠، ٦/٣٨٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2073
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَاهُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ كَانَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى جَسَدِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৬
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم عمر (رض) کے ساتھ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ وہ ہم سے اہل بدر کے سلسلہ میں بیان کرنے لگے، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں (کافروں کے) مارے جانے کی جگہیں ایک دن پہلے دکھلا دیں، اور فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو کل فلاں کے پچھاڑ کھا کر گرنے کی جگہ یہاں ہوگی، اور فلاں کی یہاں ، عمر (رض) کہتے ہیں : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ! ان جگہوں میں کوئی فرق نہیں آیا، چناچہ انہیں ایک کنویں میں ڈال دیا گیا، (پھر) نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے، (اور) پکارا : اے فلاں، فلاں کے بیٹے ! اے فلاں، فلاں کے بیٹے ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے صحیح پایا ؟ میں نے تو اللہ نے جو وعدہ مجھ سے کیا تھا اسے صحیح پایا ، اس پر عمر (رض) نے کہا : آپ ایسے جسموں سے بات کر رہے ہیں جن میں روح نہیں ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٤١٠) ، مسند احمد ١/٢٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2074
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، أَخَذَ يُحَدِّثُنَا عَنْ أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُرِينَا مَصَارِعَهُمْ بِالْأَمْسِ قَالَ: هَذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًاقَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا أَخْطَئُوا تِيكَ فَجُعِلُوا فِي بِئْرٍ، فَأَتَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَىيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ؟ فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي اللَّهُ حَقًّا، فَقَالَ عُمَرُ: تُكَلِّمُ أَجْسَادًا لَا أَرْوَاحَ فِيهَا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৭
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں نے رات کو بدر کے کنویں پر رسول اللہ ﷺ کو کھڑے آواز لگاتے سنا : اے ابوجہل بن ہشام ! اے شیبہ بن ربیعہ ! اے عتبہ بن ربیعہ ! اور اے امیہ بن خلف ! کیا تم سے تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا اسے تم نے صحیح پایا ؟ ، میں نے تو اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ ان لوگوں کو پکارتے ہیں جو محض بدبودار لاش ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو میں کہہ رہا ہوں اسے تم ان سے زیادہ نہیں سن سکتے، لیکن (فرق صرف اتنا ہے کہ) وہ جواب نہیں دے سکتے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٧١٣) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧٤) ، مسند احمد ٣/١٠٤، ٢٢٠، ٢٦٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2075
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ مِنَ اللَّيْلِ بِبِئْرِ بَدْرٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُنَادِييَا أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ، وَيَا شَيْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا عُتْبَةُ بْنَ رَبِيعَةَ، وَيَا أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ، هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، فَإِنِّي وَجَدْتُ مَا وَعَدَنِي رَبِّي حَقًّا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَ تُنَادِي قَوْمًا قَدْ جَيَّفُوا، فَقَالَ: مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ وَلَكِنَّهُمْ لَا يَسْتَطِيعُونَ أَنْ يُجِيبُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২০৭৮
جنائز کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ اہل ایمان کی روحوں سے متعلق احادیث
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ بدر کے کنویں پہ کھڑے ہوئے (اور) فرمایا : کیا تم نے اپنے رب کے وعدہ کو صحیح پایا ؟ (پھر) آپ نے فرمایا : اس وقت جو کچھ میں ان سے کہہ رہا ہوں اسے یہ لوگ سن رہے ہیں ، تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ذکر کیا گیا، تو انہوں نے کہا : ابن عمر (رض) سے بھول ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے (یوں) کہا تھا : یہ لوگ اب خوب جان رہے ہیں کہ جو میں ان سے کہتا تھا وہ سچ تھا ، پھر انہوں نے اللہ کا قول پڑھا : إنک لا تسمع الموتى (النمل : ٨٠ ) یہاں تک کہ پوری آیت پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٨ (٣٩٨٠) ، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٢٣) ، مسند احمد ٢/٣٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 2076
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، فَقَالَ: هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا، قَالَ: إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ الْآنَ مَا أَقُولُ لَهُمْ، فَذُكِرَ ذَلِكَلِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: وَهِلَ ابْنُ عُمَرَ، إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُمُ الْآنَ يَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ، ثُمَّ قَرَأَتْ قَوْلَهُ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.
তাহকীক: