কিতাবুস সুনান (আলমুজতাবা) - ইমাম নাসায়ী রহঃ (উর্দু)
المجتبى من السنن للنسائي
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২২০ টি
হাদীস নং: ১৭১৯
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر کی سات رکعت پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بوڑھے ہوگئے، اور بدن پر گوشت چڑھ گیا، تو آپ سات رکعت پڑھنے لگے، اور صرف ان کے آخر میں قعدہ کرتے تھے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کر دو رکعت اور پڑھتے تو میرے بیٹے یہ نو رکعتیں ہوئیں، اور رسول اللہ ﷺ جب کوئی صلاۃ پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں، (یہ حدیث مختصر ہے) ۔ ہشام دستوائی نے شعبہ کی مخالفت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦١١٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1718
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ، وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ، فَتِلْكَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَإِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَامُخْتَصَرٌ خَالَفَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২০
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر کی سات رکعت پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نو رکعت وتر پڑھتے تو صرف آٹھویں رکعت میں قعدہ کرتے، اللہ کی حمد کرتے، اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر کھڑے ہوجاتے، اور سلام نہیں پھیرتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ عزوجل کا ذکر کرتے، دعا کرتے، پھر ایک سلام پھیرتے جو ہمیں سناتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر جب آپ بوڑھے اور کمزور ہوگئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، صرف چھٹی میں قعدہ کرتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوجاتے، اور ساتویں رکعت پڑھتے، پھر ایک سلام پھیرتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعت پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦١١٣، ١٦١١٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1719
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوْتَرَ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ لَمْ يَقْعُدْ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُو ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ إِلَّا فِي السَّادِسَةِ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ فَيُصَلِّي السَّابِعَةَ، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২১
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نو رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے مسواک اور وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیا کرتے تھے، پھر جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا تورات میں آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے (پھر) وضو کرتے اور نو رکعتیں پڑھتے، ان میں صرف آٹھویں رکعت پر بیٹھتے، اور اللہ کی حمد کرتے، اور اس کے نبی کریم ﷺ پر نماز (درود و رحمت) بھیجتے، اور ان کے درمیان دعائیں کرتے، اور کوئی سلام نہ پھیرتے، پھر نویں رکعات پڑھتے اور قعدہ کرتے، راوی نے اس طرح کی کوئی بات ذکر کی کہ آپ اللہ کی حمد کرتے، اس کے نبی کریم ﷺ پر نماز (درود و رحمت) بھیجتے، اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٣١٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1720
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَسْتَاكُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهِنَّ إِلَّا عِنْدَ الثَّامِنَةِ، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو بَيْنَهُنَّ وَلَا يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا، ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ وَيَقْعُدُ، وَذَكَرَ كَلِمَةً نَحْوَهَا، وَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَاعِدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২২
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نو رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں کہ وہ ابن عباس رضی اللہ عنہم کے پاس آئے، اور ان سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے کہا : کیا میں تمہیں اس ہستی کو نہ بتاؤں یا اس ہستی کی خبر نہ دوں جو رسول اللہ ﷺ کے وتر کو زمین والوں میں سب سے زیادہ جانتی ہے ؟ میں نے پوچھا : وہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں، تو ہم ان کے پاس آئے، اور ہم نے انہیں سلام کیا، اور ہم اندر گئے، اور اس بارے میں میں نے ان سے پوچھا، میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں بتائیے تو انہوں نے کہا : ہم آپ کے لیے آپ کی مسواک اور آپ کے وضو کا پانی تیار کر کے رکھ دیتے، پھر رات کو جب اللہ تعالیٰ کو جگانا منظور ہوتا آپ کو جگا دیتا، آپ مسواک کرتے اور وضو کرتے، پھر نو رکعتیں پڑھتے، سوائے آٹھویں کے ان میں سے کسی میں قعدہ نہیں کرتے، اللہ کی حمد کرتے اس کا ذکر کرتے، اور دعا مانگتے، پھر بغیر سلام پھیرے کھڑے ہوجاتے، پھر نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھتے تو اللہ کی حمد اور اس کا ذکر کرتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے جسے آپ ہمیں سناتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، میرے بیٹے ! اس طرح یہ گیارہ رکعتیں ہوتی تھیں، لیکن جب آپ بوڑھے ہوگئے اور آپ کے جسم پر گوشت چڑھ گیا تو آپ وتر سات رکعت پڑھنے لگے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے، اس طرح میرے بیٹے ! یہ کل نو رکعتیں ہوتی تھیں، اور رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو چاہتے کہ اس پر مداومت کریں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٣١٦، ١٦٠٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1721
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ لَمَّا أَنْ قَدِمَ عَلَيْنَا أَخْبَرَنَا، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَلَا أَدُلُّكَ أَوْ أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ: مَنْ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ، فَأَتَيْنَاهَا فَسَلَّمْنَا عَلَيْهَا وَدَخَلْنَا فَسَأَلْنَاهَا، فَقُلْتُ: أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: كُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاكَهُ وَطَهُورَهُ، فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنَ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّكُ وَيَتَوَضَّأُ، ثُمَّ يُصَلِّي تِسْعَ رَكَعَاتٍ لَا يَقْعُدُ فِيهِنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يُصَلِّي التَّاسِعَةَ فَيَجْلِسُ فَيَحْمَدُ اللَّهَ وَيَذْكُرُهُ وَيَدْعُو، ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتِلْكَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً يَا بُنَيَّ، فَلَمَّا أَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ اللَّحْمَ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ فَتِلْكَ تِسْعًا أَيْ بُنَيَّ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৩
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نو رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نو رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، تو جب آپ کمزور ہوگئے تو سات رکعت وتر پڑھنے لگے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٦٥٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1722
أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قال: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، قال: أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُ سَمِعَهَا تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَلَمَّا ضَعُفَ أَوْتَرَ بِسَبْعِ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৪
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نو رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نو رکعت وتر پڑھتے تھے، اور دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ١٦٠٩٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1723
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ بِتِسْعٍ وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৫
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نو رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
سعد بن ہشام سے روایت ہے کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور انہوں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی نماز کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بتایا : آپ رات کو آٹھ رکعتیں پڑھتے، اور نویں رکعت کے ذریعہ اسے وتر کرلیتے، پھر آپ بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٦٥٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1724
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخَلَنْجِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَعْنِي مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قال: حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ نَافِعٍ، قال: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ، أَنَّهُ وَفَدَ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ، فَسَأَلَهَا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ وَيُوتِرُ بِالتَّاسِعَةِ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌمُخْتَصَرٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৬
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ نو رکعات وتر پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نو رکعتیں پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢١١ (٤٤٣، ٤٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨١ (١٣٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٥١) ، مسند احمد ٦/١٠٠، ٢٥٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1725
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنِ الْأَعْمَشِ أُرَاهُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৭
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر کی گیارہ رکعت پڑھنے کے طریقہ کا بیان
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ رات کو گیارہ رکعت پڑھتے، اور آپ ایک کے ذریعہ اسے وتر کرلیتے، پھر آپ اپنے داہنے پہلو پر لیٹ جاتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٦٩٧ (صحیح) (وتر کے بعد لیٹنے کا ذکر شاذ ہے، محفوظ یہ ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد لیٹتے تھے ) قال الشيخ الألباني : صحيح لکن ذکر الاضطجاع بعد الوتر شاذ صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1726
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، قال: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ مِنْهَا بِوَاحِدَةٍ، ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৮
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ تیرہ رکعت وتر پڑھنے کا بیان
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تیرہ رکعت وتر پڑھتے تھے، پھر جب آپ بوڑھے اور ضعیف ہوگئے تو نو رکعت پڑھنے لگے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1727
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَرْبٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، فَلَمَّا كَبِرَ وَضَعُفَ أَوْتَرَ بِتِسْعٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭২৯
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر میں قرأت کرنے کا بیان
ابومجلز سے روایت ہے کہ ابوموسیٰ اشعری مکہ اور مدینے کے درمیان تھے، کہ انہوں نے عشاء کی نماز دو رکعت پڑھی، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ایک رکعت وتر پڑھی، اس میں انہوں نے سورة نساء کی سو آیتیں پڑھیں، پھر کہا : میں نے اپنے دونوں قدموں کو اس جگہ رکھنے میں جہاں رسول اللہ ﷺ نے رکھے تھے، اور ان آیتوں کے پڑھنے میں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے پڑھی تھی کوئی کوتاہی نہیں کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٠٣٣) ، مسند احمد ٤/٤١٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1728
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَةً أَوْتَرَ بِهَا، فَقَرَأَ فِيهَا بِمِائَةِ آيَةٍ مِنَ النِّسَاءِ، ثُمّ قَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أَضَعَ قَدَمَيَّ حَيْثُ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدَمَيْهِ وَأَنَا أَقْرَأُ بِمَا قَرَأَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩০
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر میں ایک اور طریقہ سے قرأت کرنے کا بیان
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے، پھر جب آپ سلام پھیرتے تو تین بار سبحان الملک القدوس کہتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر رقم ١٧٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1729
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِشْكَابَ النَّسَائِيُّ، قال: أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدَةَ، قال: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِالْأَعْمَشِ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر میں ایک اور طریقہ سے قرأت کرنے کا بیان
ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے۔ ان دونوں کی یعنی زبید اور طلحہ کی حصین نے مخالفت کی ہے، انہوں نے اسے ذر سے، ذر نے ابن عبدالرحمٰن بن ابزی سے انہوں نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی (رض) سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧٠٠ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1730
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ، عَنِالْأَعْمَشِ، عَنْ زُبَيْدٍ، وَطَلْحَةَ، عَنْ ذَرٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، خَالَفَهُمَا حُصَيْنٌ فَرَوَاهُ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ وتر میں ایک اور طریقہ سے قرأت کرنے کا بیان
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف : ٩٦٨٣) ، مسند احمد ٣/٤٠٦، ٤٠٧، ویأتی عند المؤلف بأرقام : ١٧٣٣- ١٧٣٧، ١٧٤٠- ١٧٤٣، ١٧٥١- ١٧٥٦ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1731
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مندرجہ بالا حدیث میں شعبہ کے متعلق اختلاف راویان
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے تھے، تو سبحان الملک القدوس تین بار کہتے، اور تیسری بار اپنی آواز بلند کرتے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1732
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، وَزُبَيْدٍ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَكَانَ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالثَّالِثَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مندرجہ بالا حدیث میں شعبہ کے متعلق اختلاف راویان
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى اور قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیرتے، تو سبحان الملک القدوس کہتے، اور تیسری بار سبحان الملک القدوس کہتے وقت اپنی آواز بلند کرتے تھے۔ منصور نے اسے سلمہ بن کہیل سے روایت کیا ہے، اور اس میں انہوں نے ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1733
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قال: أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ، وَزُبَيْدٌ، عَنْ ذَرٍّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَكَانَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، ثُمَّ يَقُولُ إِذَا سَلَّمَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، وَيَرْفَعُ بِسُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ صَوْتَهُ بِالثَّالِثَةِ، رَوَاهُ مَنْصُورٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَرًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مندرجہ بالا حدیث میں شعبہ کے متعلق اختلاف راویان
عبدالرحمٰن بن ابزی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے، اور جب سلام پھیر کر فارغ ہوجاتے تو تین بار سبحان الملک القدوس کہتے، اور تیسری بار کھینچ کر کہتے تھے۔ نیز اسے عبدالملک بن ابی سلیمان نے زبید سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے بھی ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1734
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَكَانَ إِذَا سَلَّمَ وَفَرَغَ، قَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثًا طَوَّلَ فِي الثَّالِثَةِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَرًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مندرجہ بالا حدیث میں شعبہ کے متعلق اختلاف راویان
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے۔ نیز محمد بن جحادہ نے اسے زبید سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے بھی ذر کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1735
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْسَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ وَلَمْ يَذْكُرْ ذَرًّا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ مندرجہ بالا حدیث میں شعبہ کے متعلق اختلاف راویان
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے، اور جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو تین بار سبحان الملک القدوس کہتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1736
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِذَا فَرَغَ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ: سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮
رات دن کے نوافل کے متعلق احادیث
পরিচ্ছেদঃ حدیث ذیل میں مالک بن مغول کے متعلق اختلاف کا بیان
عبدالرحمٰن بن ابزیٰ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ وتر میں سبح اسم ربک الأعلى، قل يا أيها الکافرون اور قل هو اللہ أحد پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٧٣٢ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن النسائي الألباني : حديث نمبر 1737
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى، عَنْأَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْوِتْرِ بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ،
তাহকীক: