কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
ادب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫০৩ টি
হাদীস নং: ৪৮৯৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بھائی چارہ اور اخوت کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ (خود) اس پر ظلم کرتا ہے، اور نہ اسے (کسی ظالم) کے حوالہ کرتا ہے، جو شخص اپنے بھائی کی کوئی حاجت پوری کرنے میں لگا رہتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی حاجت کی تکمیل میں لگا رہتا ہے، اور جو کسی مسلمان کی کوئی مصیبت دور کرے گا، تو اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے مصائب و مشکلات میں سے اس سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا، اور جو کوئی کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ٣ (٢٤٤٢) ، الإکراہ ٧ (٦٩٥١) ، صحیح مسلم/البر والصلة ١٥(٢٥٨٠) ، سنن الترمذی/الحدود ٣ (١٤٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٦٨٧٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4893 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ فَإِنَّ اللَّهَ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گالم گلوچ کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : باہم گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ کہتے ہیں اس کا گناہ اس شخص پر ہوگا جس نے ابتداء کی ہوگی جب تک کہ مظلوم اس سے تجاوز نہ کرے (اگر وہ تجاوز کر جائے تو زیادتی و تجاوز کا گناہ اس پر ہوگا) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٥١ (١٩٨١) ، (تحفة الأشراف : ١٤٠٥٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/البر والصلة ١٨ (٢٥٨٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 4894 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْمُسْتَبَّانِ: مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِي مِنْهُمَا مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تواضع اور انکساری کا بیان
عیاض بن حمار (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ نے مجھ کو وحی کی ہے کہ تم لوگ تواضع اختیار کرو یہاں تک کہ تم میں سے کوئی کسی پر زیادتی نہ کرے اور نہ کوئی کسی پر فخر کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ١٦ (٤١٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٠١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4895 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ تَوَاضَعُوا حَتَّى لَا يَبْغِيَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَفْخَرَ أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تواضع اور انکساری کا بیان
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے اور آپ کے ساتھ آپ کے صحابہ بھی تھے کہ اسی دوران ایک شخص ابوبکر (رض) سے الجھ پڑا اور آپ کو ایذاء پہنچائی تو آپ اس پر خاموش رہے، اس نے دوسری بار ایذاء دی، ابوبکر (رض) اس بار بھی چپ رہے پھر اس نے تیسری بار بھی ایذاء دی تو ابوبکر (رض) نے اس سے بدلہ لے، جب ابوبکر (رض) بدلہ لینے لگے تو رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے، ابوبکر (رض) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھ سے ناراض ہوگئے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا تھا، وہ ان باتوں میں اس کے قول کی تکذیب کر رہا تھا، لیکن جب تم نے بدلہ لے لیا تو شیطان آپڑا پھر جب شیطان آپڑا ہو تو میں بیٹھنے والا نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦٥٩٧، ١٣٠٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٣٦) (حسن لغیرہ) (سعید بن المسیب تابعی ہیں ، اس لئے یہ سند ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن یہ حدیث آنے والی حدیث سے تقویت پاکر حسن ہے )
حدیث نمبر: 4896 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ الْمُحَرَّرِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَمَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَعَ رَجُلٌ بأَبي بَكْرٍ فَآذَاهُ فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّانِيَةَ، فَصَمَتَ عَنْهُ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ آذَاهُ الثَّالِثَةَ، فَانْتَصَرَ مِنْهُ أَبُو بَكْرٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ انْتَصَرَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَوَجَدْتَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَزَلَ مَلَكٌ مِنَ السَّمَاءِ يُكَذِّبُهُ بِمَا قَالَ لَكَ، فَلَمَّا انْتَصَرْتَ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِأَجْلِسَ إِذْ وَقَعَ الشَّيْطَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تواضع اور انکساری کا بیان
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص ابوبکر (رض) کو گالی دے رہا تھا، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث بیان کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے صفوان بن عیسیٰ نے ابن عجلان سے روایت کیا ہے جیسا کہ سفیان نے کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفردبہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٣١٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٤٢) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4897 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَسُبُّ أَبَا بَكْرٍ وَسَاقَ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، كَمَا قَالَ سُفْيَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تواضع اور انکساری کا بیان
ابن عون کہتے ہیں آیت کریمہ ولمن انتصر بعد ظلمه فأولئك ما عليهم من سبيل اور جو لوگ اپنے مظلوم ہونے کے بعد (برابر کا) بدلہ لے لیں تو ایسے لوگوں پر الزام کا کوئی راستہ نہیں (سورۃ الشوریٰ : ٤١) میں بدلہ لینے کا جو ذکر ہے اس کے متعلق میں پوچھ رہا تھا تو مجھ سے علی بن زید بن جدعان نے بیان کیا، وہ اپنی سوتیلی ماں ام محمد سے روایت کر رہے تھے، (ابن عون کہتے ہیں : لوگ کہتے ہیں کہ وہ (ام محمد) ام المؤمنین ١ ؎ کے پاس جایا کرتی تھیں) ام محمد کہتی ہیں : ام المؤمنین نے کہا : میرے پاس رسول اللہ ﷺ آئے، ہمارے پاس زینب بنت حجش (رض) تھیں آپ اپنے ہاتھ سے مجھے کچھ چھیڑنے لگے (جیسے میاں بیوی میں ہوتا ہے) تو میں نے ہاتھ کے اشارہ سے آپ کو بتادیا کہ زینب بنت حجش بیٹھی ہوئی ہیں، تو آپ رک گئے اتنے میں زینب آ کر ام المؤمنین عائشہ (رض) سے الجھ گئیں اور انہیں برا بھلا کہنے لگیں، تو آپ نے انہیں اس سے منع فرمایا لیکن وہ نہ مانیں، تو آپ نے ام المؤمنین عائشہ سے فرمایا : تم بھی انہیں کہو ، تو انہوں نے بھی کہا اور وہ ان پر غالب آگئیں، تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا، علی (رض) کے پاس گئیں، اور ان سے کہا کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے تمہیں یعنی بنو ہاشم کو گالیاں دیں ہیں (کیونکہ ام زینب ہاشمیہ تھیں) پھر فاطمہ (رض) (نبی اکرم ﷺ کے پاس ام المؤمنین عائشہ (رض) کی شکایت کرنے) آئیں تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا : قسم ہے کعبہ کے رب کی وہ (یعنی عائشہ) تمہارے والد کی چہیتی ہیں تو وہ لوٹ گئیں اور بنو ہاشم کے لوگوں سے جا کر انہوں نے کہا : میں نے آپ سے ایسا اور ایسا کہا تو آپ نے مجھے ایسا اور ایسا فرمایا، اور علی (رض) بھی نبی اکرم ﷺ کے پاس آپ سے اس سلسلے میں گفتگو کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٢٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٠) (ضعیف الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد ام المومنین عائشہ (رض) ہیں۔
حدیث نمبر: 4898 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي. ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، أخبرنا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، الْمَعْنَى وَاحِدٌ، أخبرنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: كُنْتُ أَسْأَلُ عَنِ الِانْتِصَارِ وَلَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهِ فَأُولَئِكَ مَا عَلَيْهِمْ مِنْ سَبِيلٍ سورة الشورى آية 41، فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ امْرَأَةِ أَبِيهِ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَزَعَمُوا أَنَّهَا كَانَتْ تَدْخُلُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ: دَخَلَ عَلَيَّ ّرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ، فَجَعَلَ يَصْنَعُ شَيْئًا بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: بِيَدِهِ حَتَّى فَطَّنْتُهُ لَهَا، فَأَمْسَكَ وَأَقْبَلَتْ زَيْنَبُ تَقَحَّمُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَنَهَاهَا فَأَبَتْ أَنْ تَنْتَهِيَ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ: سُبِّيهَا فَسَبَّتْهَا فَغَلَبَتْهَا، فَانْطَلَقَتْ زَيْنَبُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَتْ: إِنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَعَتْ بِكُمْ وَفَعَلَتْ فَجَاءَتْ فَاطِمَةُ، فَقَالَ لَهَا: إِنَّهَا حِبَّةُ أَبِيكِ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَانْصَرَفَتْ، فَقَالَتْ لَهُمْ: أَنِّي قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لِي: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: وَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَلَّمَهُ فِي ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৯৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ لوگوں کو برابھلا کہنے کی ممانعت
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تمہارا ساتھی (یعنی مسلمان جس کے ساتھ تم رہتے سہتے ہو) مرجائے تو اسے چھوڑ دو ١ ؎ اس کے عیوب نہ بیان کرو۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٧٢٨٢) ، وقد أخرجہ : الرقاق ٤٢ (٦٥١٦) ، سنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٣٨) ، مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس کے سلسلہ میں کوئی ایسی بات نہ کہو جس سے اگر وہ زندہ ہوتا تو اسے تکلیف ہوتی۔
حدیث نمبر: 4899 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا مَاتَ صَاحِبُكُمْ فَدَعُوهُ وَلَا تَقَعُوا فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردہ لوگوں کو برابھلا کہنے کی ممانعت
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو اور ان کی برائیاں بیان کرنے سے باز رہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٣٤ (١٠١٩) ، (تحفة الأشراف : ٧٣٢٨) (ضعیف) (عمران بن انس ضعیف راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مرے ہوئے کافروں اور فاسقوں کی برائیوں کا ذکر اگر اس لیے کیا جائے تاکہ لوگ اس سے بچیں اور عبرت حاصل کریں تو جائز ہے ، اسی طرح سے ضعیف اور مجروح رواۃ حدیث پر جرح و تنفید بھی باتفاق علماء جائز ہے ، خواہ وہ مردہ ہو یا زندہ ، اس لیے کہ اس کا مقصد عقیدہ ، علم ، اور حدیث کی خدمت و حفاظت ہے۔
حدیث نمبر: 4900 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَنَسٍ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اذْكُرُوا مَحَاسِنَ مَوْتَاكُمْ وَكُفُّوا عَنْ مَسَاوِيهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برائی اور تکبر کی ممانعت کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : بنی اسرائیل میں دو شخص برابر کے تھے، ان میں سے ایک تو گناہ کے کاموں میں لگا رہتا تھا اور دوسرا عبادت میں کوشاں رہتا تھا، عبادت گزار دوسرے کو برابر گناہ میں لگا رہتا دیکھتا تو اس سے کہتا : باز رہ، ایک دفعہ اس نے اسے گناہ کرتے پایا تو اس سے کہا : باز رہ اس نے کہا : قسم ہے میرے رب کی تو مجھے چھوڑ دے (اپنا کام کرو) کیا تم میرا نگہبان بنا کر بھیجے گئے ہو ؟ تو اس نے کہا : اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں بخشے گا یا تمہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا، پھر ان کی روحیں قبض کرلی گئیں تو وہ دونوں رب العالمین کے پاس اکٹھا ہوئے، اللہ نے اس عبادت گزار سے کہا : تو مجھے جانتا تھا، یا تو اس پر قادر تھا، جو میرے دست قدرت میں ہے ؟ اور گنہگار سے کہا : جا اور میری رحمت سے جنت میں داخل ہوجا، اور دوسرے کے متعلق کہا : اسے جہنم میں لے جاؤ۔ ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا اور آخرت خراب کردی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٣٥١٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4901 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ضَمْضَمُ بْنُ جَوْسٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كَانَ رَجُلَانِ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ مُتَآخِيَيْنِ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يُذْنِبُ وَالْآخَرُ مُجْتَهِدٌ فِي الْعِبَادَةِ، فَكَانَ لَا يَزَالُ الْمُجْتَهِدُ يَرَى الْآخَرَ عَلَى الذَّنْبِ، فَيَقُولُ: أَقْصِرْ، فَوَجَدَهُ يَوْمًا عَلَى ذَنْبٍ، فَقَالَ لَهُ: أَقْصِرْ، فَقَالَ: خَلِّنِي وَرَبِّي أَبُعِثْتَ عَلَيَّ رَقِيبًا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ أَوْ لَا يُدْخِلُكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ فَقَبَضَ أَرْوَاحَهُمَا، فَاجْتَمَعَا عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَقَالَ لِهَذَا الْمُجْتَهِدِ: أَكُنْتَ بِي عَالِمًا أَوْ كُنْتَ عَلَى مَا فِي يَدِي قَادِرًا، وَقَالَ لِلْمُذْنِبِ: اذْهَبْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِي، وَقَالَ لِلْآخَرِ: اذْهَبُوا بِهِ إِلَى النَّارِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ أَوْبَقَتْ دُنْيَاهُ وَآخِرَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ برائی اور تکبر کی ممانعت کا بیان
ابوبکرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ظلم و بغاوت اور قطع رحمی (رشتہ ناتا توڑنے) جیسا کوئی اور گناہ نہیں ہے، جو اس لائق ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کے مرتکب کو اسی دنیا میں سزا دے باوجود اس کے کہ اس کی سزا اس نے آخرت میں رکھ چھوڑی ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/صفة القیامة ٥٧ (١٥١١) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٣ (٤٢١١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بغی سے مراد باغی کا ظلم یا سلطان کے خلاف بغاوت یا کبر و غرور ہے۔
حدیث نمبر: 4902 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عُيَيْنَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ ذَنْبٍ أَجْدَرُ أَنْ يُعَجِّلَ اللَّهُ تَعَالَى لِصَاحِبِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا مَعَ مَا يَدَّخِرُ لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِثْلُ الْبَغْيِ وَقَطِيعَةِ الرَّحِمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৩
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حسد کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ حسد سے بچو، اس لیے کہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا لیتا ہے، جیسے آگ ایندھن کو کھا لیتی ہے یا کہا گھاس کو (کھا لیتی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٥٤٨٨) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4903 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِيَّاكُمْ وَالْحَسَدَ فَإِنَّ الْحَسَدَ يَأْكُلُ الْحَسَنَاتِ كَمَا تَأْكُلُ النَّارُ الْحَطَبَ، أَوْ قَالَ: الْعُشْبَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৪
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حسد کا بیان
سہل بن ابی امامہ کا بیان ہے کہ وہ اور ان کے والد عمر بن عبدالعزیز کے زمانے میں جب وہ مدینے کے گورنر تھے، مدینے میں انس (رض) کے پاس گئے تو دیکھا، وہ ہلکی یا مختصر نماز پڑھ رہے ہیں، جیسے وہ مسافر کی نماز ہو یا اس سے قریب تر کوئی نماز، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میرے والد نے کہا : اللہ آپ پر رحم کرے، آپ بتائیے کہ یہ فرض نماز تھی یا آپ کوئی نفلی نماز پڑھ رہے تھے تو انہوں نے کہا : یہ فرض نماز تھی، اور یہ رسول اللہ ﷺ کی نماز ہے، اور جب بھی مجھ سے کوئی غلطی ہوتی ہے، میں اس کے بدلے سجدہ سہو کرلیتا ہوں، پھر کہنے لگے : رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے : اپنی جانوں پر سختی نہ کرو ٢ ؎ کہ تم پر سختی کی جائے ٣ ؎ اس لیے کہ کچھ لوگوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کردی تو ایسے ہی لوگوں کے باقی ماندہ لوگ گرجا گھروں میں ہیں انہوں نے رہبانیت کی شروعات کی جو کہ ہم نے ان پر فرض نہیں کی تھی پھر جب دوسرے دن صبح ہوئی تو کہا : کیا تم سواری نہیں کرتے یعنی سفر نہیں کرتے کہ دیکھو اور نصیحت حاصل کرو، انہوں نے کہا : ہاں (کرتے ہیں) پھر وہ سب سوار ہوئے تو جب وہ اچانک کچھ ایسے گھروں کے پاس پہنچے، جہاں کے لوگ ہلاک اور فنا ہو کر ختم ہوچکے تھے، اور گھر چھتوں کے بل گرے ہوئے تھے، تو انہوں نے کہا : کیا تم ان گھروں کو پہنچانتے ہو ؟ میں نے کہا : مجھے کس نے ان کے اور ان کے لوگوں کے بارے میں بتایا ؟ (یعنی میں نہیں جانتا) تو انس نے کہا : یہ ان لوگوں کے گھر ہیں جنہیں ان کے ظلم اور حسد نے ہلاک کردیا، بیشک حسد نیکیوں کے نور کو گل کردیتا ہے اور ظلم اس کی تصدیق کرتا ہے یا تکذیب اور آنکھ زنا کرتی ہے اور ہتھیلی، قدم جسم اور زبان بھی اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٩٩) (حسن) (اس میں سعید بن عبدالرحمن لین الحدیث ہیں، شواہد وطرق کی بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحہ، للالبانی ٣١٢٤ وتراجع الألباني ١٣ ) وضاحت : ١ ؎ : دشوار اور شاق عمل کر کے جیسے صوم دہر، پوری پوری رات شب بیداری اور عورتوں سے مکمل علیحدگی وغیرہ اعمال۔ ٢ ؎ : یعنی یہ اعمال تم پر فرض قرار دے دئیے جائیں۔
حدیث نمبر: 4904 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْعَمْيَاءِ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ أَبِي أُمَامَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَأَبُوهُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْمَدِينَةِ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي صَلَاةً خَفِيفَةً دَقِيقَةً كَأَنَّهَا صَلَاةُ مُسَافِرٍ أَوْ قَرِيبًا مِنْهَا فَلَمَّا سَلَّمَ، قَالَ أَبِي: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، أَرَأَيْتَ هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ أَوْ شَيْءٌ تَنَفَّلْتَهُ ؟، قَالَ: إِنَّهَا الْمَكْتُوبَةُ وَإِنَّهَا لَصَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا أَخْطَأْتُ إِلَّا شَيْئًا سَهَوْتُ عَنْهُ، فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: لَا تُشَدِّدُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ فَيُشَدَّدَ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّ قَوْمًا شَدَّدُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ فَشَدَّدَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَتِلْكَ بَقَايَاهُمْ فِي الصَّوَامِعِ وَالدِّيَار وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ، ثُمَّ غَدَا مِنَ الْغَدِ، فَقَالَ: أَلَا تَرْكَبُ لِتَنْظُرَ وَلِتَعْتَبِرَ، قَالَ: نَعَمْ، فَرَكِبُوا جَمِيعًا فَإِذَا هُمْ بِدِيَارٍ بَادَ أَهْلُهَا وَانْقَضَوْا وَفَنُوا خَاوِيَةٍ عَلَى عُرُوشِهَا، فَقَالَ: أَتَعْرِفُ هَذِهِ الدِّيَارَ، فَقُلْتُ: مَا أَعْرَفَنِي بِهَا وَبِأَهْلِهَا، هَذِهِ دِيَارُ قَوْمٍ أَهْلَكَهُمُ الْبَغْيُ وَالْحَسَدُ إِنَّ الْحَسَدَ يُطْفِئُ نُورَ الْحَسَنَاتِ وَالْبَغْيُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ وَالْعَيْنُ تَزْنِي وَالْكَفُّ وَالْقَدَمُ وَالْجَسَدُ وَاللِّسَانُ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৫
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعنت کا بیان
ام الدرداء (رض) کہتی ہیں کہ میں نے ابو الدرداء کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بندہ جب کسی چیز پر لعنت کرتا ہے، تو یہ لعنت آسمان پر چڑھتی ہے، تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہوجاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے، تو اس کے دروازے بھی بند ہوجاتے ہیں پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف پلٹ آتی ہے جس پر لعنت کی گئی تھی، اب اگر وہ اس کا مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ کہنے والے کی طرف ہی پلٹ آتی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٠٠٠) (حسن )
حدیث نمبر: 4905 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ رَبَاحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ نِمْرَانَ يَذْكُرُ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا لَعَنَ شَيْئًا صَعِدَتِ اللَّعْنَةُ إِلَى السَّمَاءِ، فَتُغْلَقُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ دُونَهَا ثُمَّ تَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ فَتُغْلَقُ أَبْوَابُهَا دُونَهَا، ثُمَّ تَأْخُذُ يَمِينًا وَشِمَالًا فَإِذَا لَمْ تَجِدْ مَسَاغًا رَجَعَتْ إِلَى الَّذِي لُعِنَ فَإِنْ كَانَ لِذَلِكَ أَهْلًا وَإِلَّا رَجَعَتْ إِلَى قَائِلِهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ: هُوَ رَبَاحُ بْنُ الْوَلِيدِ سَمِعَ مِنْهُ وَذَكَرَ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ وَهِمَ فِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৬
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعنت کا بیان
سمرہ بن جندب (رض) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کی لعنت یا اللہ کا غضب یا جہنم کی لعنت کسی پر نہ کیا کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٤٨ (١٩٧٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی یوں نہ کہو : تجھ پر اللہ کی لعنت ہو، یا اللہ کا غضب ہو، یا اللہ تجھے جہنم میں داخل کرے، یہ ممانعت اس صورت کے ساتھ مخصوص ہے کہ آدمی کسی معین شخص پر لعنت بھیجے، اور اگر کسی وصف عام یا وصف خاص کے ساتھ لعنت بھیج رہا ہو مثلاً یوں کہے لعنة الله على الکافرين ، یا لعنة الله على اليهود ، یا کسی ایسے متعین کافر پر لعنت بھیج رہا ہو جس کا کفر کی حالت میں مرنا معلوم ہو تو یہ جائز ہے جیسے لعنة الله على الکافرين ، یا لعنة الله على أبي جهل کہنا۔
حدیث نمبر: 4906 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَلَاعَنُوا بِلَعْنَةِ اللَّهِ وَلَا بِغَضَبِ اللَّهِ وَلَا بِالنَّارِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৭
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعنت کا بیان
ام الدرداء (رض) کہتی ہیں کہ میں نے ابوالدرداء کو سنا وہ کہہ رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : لعنت کرنے والے نہ سفارشی ہوسکتے ہیں اور نہ گواہ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/البروالصلة ٢٤ (٢٥٩٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٨٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی امت کے فرد نہیں ہوسکتے، کیونکہ آپ کی امت قیامت کے روز دوسری امتوں پر سفارشی اور گواہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 4907 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، أَنَّ أُمَّ الدَّرْدَاءِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَكُونُ اللَّعَّانُونَ شُفَعَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৮
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لعنت کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ہوا پر لعنت کی (مسلم کی روایت میں اس طرح ہے) نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں ہوا نے ایک شخص کی چادر اڑا دی، تو اس نے اس پر لعنت کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس پر لعنت نہ کرو، اس لیے کہ وہ تابعدار ہے، اور اس لیے کہ جو کوئی ایسی چیز کی لعنت کرے جس کا وہ اہل نہ ہو تو وہ لعنت اسی کی طرف لوٹ آتی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٤٨ (١٩٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٤٢٦، ١٨٦٤١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4908 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ. ح حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، قَالَ زَيْدٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرِّيحَ، وَقَالَ مُسْلِمٌ: إِنَّ رَجُلًا نَازَعَتْهُ الرِّيحُ رِدَاءَهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَنَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَلْعَنْهَا فَإِنَّهَا مَأْمُورَةٌ وَإِنَّهُ مَنْ لَعَنَ شَيْئًا لَيْسَ لَهُ بِأَهْلٍ رَجَعَتِ اللَّعْنَةُ عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯০৯
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ظالم کے لئے بدعا کرنے کا بیان
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ان کی کوئی چیز چوری ہوگئی، تو وہ اس پر بد دعا کرنے لگیں، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس (چور) سے عذاب کو ہلکا نہ کر ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، مسند احمد (٦/٤٥، ١٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٧٧) (ضعیف) نوٹ : یہی حدیث ١٤٩٧ میں گزری ہے اس پر حسن کا حکم ہے
حدیث نمبر: 4909 حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سُرِقَ لَهَا شَيْءٌ فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُسَبِّخِي عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১০
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑنے کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، اور ایک دوسرے کو پیٹھ نہ دکھاؤ (یعنی ملاقات ترک نہ کرو) اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن کر رہو، اور کسی مسلمان کے لیے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ ملنا جلنا چھوڑے رکھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٥٧ (٦٠٦٥) ، ٦٢ (٦٠٧٦) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٧ (٢٥٥٩) ، (تحفة الأشراف : ١٥٣٠) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/البر والصلة ٢٤ (١٩٣٥) ، مسند احمد (٣/١٩٩) ، موطا امام مالک/ حسن الخلق ٤ (١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حکم ایسی ناراضگی سے متعلق ہے جو مسلمانوں کے درمیان باہمی معاشرتی حقوق میں کوتاہی کی وجہ سے ہوئی ہو ، اور اگر دینی امور میں کوتاہی کی وجہ سے ہو تو یہ جائز ہے، بلکہ بدعتیوں اور ہوا پرستوں سے میل جول نہ رکھنا واجب ہے جب تک کہ وہ توبہ نہ کرلیں، اور حق کی طرف پلٹ نہ آئیں۔
حدیث نمبر: 4910 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১১
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑنے کا بیان
ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کسی مسلمان کے لیے درست نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے کہ وہ دونوں ملیں تو یہ منہ پھیر لے، اور وہ منہ پھیر لے، اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام میں پہل کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٦٢ (٦٠٧٧) ، الاستئذان ٩ (٦٢٣٧) ، صحیح مسلم/البر والصلة ٨ (٢٥٦٠) ، سنن الترمذی/البر والصلة ٢١ (١٩٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٣٤٧٩) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/حسن الخلق ٤ (١٣) ، مسند احمد (٤١٦٥، ٤٢١، ٤٢٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ اس کا پہل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں تواضع اور خاکساری زیادہ ہے۔
حدیث نمبر: 4911 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ يَلْتَقِيَانِ فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৯১২
ادب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کا اپنے مسلمان بھائی کو چھوڑنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کسی مومن کے لیے درست نہیں کہ وہ کسی مومن کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے، اگر اس پر تین دن گزر جائیں تو وہ اس سے ملے اور اس کو سلام کرے، اب اگر وہ سلام کا جواب دیتا ہے، تو وہ دونوں اجر میں شریک ہیں اور اگر وہ جواب نہیں دیتا تو وہ گنہگار ہوا، اور سلام کرنے والا قطع تعلق کے گناہ سے نکل گیا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٨٠٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/البر والصلة ٨ (٢٥٦١) ، مسند احمد (٢/٣٩٢، ٤٥٦) (ضعیف ) q
حدیث نمبر: 4912 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، أَنَّ أَبَا عَامِرٍ أَخْبَرَهُمْ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يَحِلُّ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَهْجُرَ مُؤْمِنًا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنْ مَرَّتْ بِهِ ثَلَاثٌ فَلْيَلْقَهُ فَلْيُسَلِّمْ عَلَيْهِ فَإِنْ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ فَقَدِ اشْتَرَكَا فِي الْأَجْرِ وَإِنْ لَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ فَقَدْ بَاءَ بِالْإِثْمِزَادَ أَحْمَدُ وَخَرَجَ الْمُسَلِّمُ مِنَ الْهِجْرَةِ.
তাহকীক: