কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
سزاؤں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৪৩ টি
হাদীস নং: ৪৪৫১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا وہ دونوں شادی شدہ تھے، جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو تورات میں رجم کا حکم تحریر تھا، لیکن انہوں نے اسے چھوڑے رکھا تھا اور اس کے بدلہ تَجبیہ کو اختیار کرلیا تھا، تارکول ملی ہوئی رسی سے اسے سو بار مارا جاتا، اسے گدھے پر سوار کیا جاتا اور اس کا چہرہ گدھے کے پچھاڑی کی طرف ہوتا، تو ان کے علماء میں سے کچھ عالم اکٹھا ہوئے ان لوگوں نے کچھ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے پاس بھیجا اور کہا جا کر ان سے زنا کی حد کے متعلق پوچھو، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے : چونکہ وہ آپ ﷺ کے دین پر نہیں تھے کہ آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں اسی لیے آپ کو اس سلسلہ میں اختیار دیا گیا اور فرمایا گیا فإن جاءوک فاحکم بينهم أو أعرض عنهم اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو تمہیں اختیار ہے چاہو تو ان کے درمیان فیصلہ کر دو اور چاہو تو ٹال دو (سورۃ المائدہ : ٤٢) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، انظر حدیث (٤٨٨) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٩٢) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4451 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الْأَصْبَغِ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنِالزُّهْرِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: زَنَى رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ وَقَدْ أُحْصِنَا حِينَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، وَقَدْ كَانَ الرَّجْمُ مَكْتُوبًا عَلَيْهِمْ فِي التَّوْرَاةِ، فَتَرَكُوهُ وَأَخَذُوا بِالتَّجْبِيهِ يُضْرَبُ مِائَةً بِحَبْلٍ مَطْلِيٍّ بِقَارٍ وَيُحْمَلُ عَلَى حِمَارٍ وَجْهُهُ مِمَّا يَلِي دُبُرَ الْحِمَارِ، فَاجْتَمَعَ أَحْبَارٌ مِنْ أَحْبَارِهِمْ، فَبَعَثُوا قَوْمًا آخَرِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: سَلُوهُ عَنْ حَدِّ الزَّانِي، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ فِيهِ: قَالَ: وَلَمْ يَكُونُوا مِنْ أَهْلِ دِينِهِ فَيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ، فَخُيِّرَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ سورة المائدة آية 42.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو رجم کرنے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ یہود اپنے میں سے ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے ان دونوں نے زنا کیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا : دو ایسے شخصوں کو جو تمہارے سب سے بڑے عالم ہوں لے کر میرے پاس آؤ تو وہ لوگ صوریا کے دونوں لڑکوں کو لے کر آئے، آپ ﷺ نے اللہ کا واسطہ دے کر ان دونوں سے پوچھا : تم تورات میں ان دونوں کا حکم کیا پاتے ہو ؟ ان دونوں نے کہا : ہم تورات میں یہی پاتے ہیں کہ جب چار گواہ گواہی دیدیں کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کے فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں تو وہ رجم کر دئیے جائیں گے، آپ ﷺ نے پوچھا : تو پھر انہیں رجم کرنے سے کون سی چیز روک رہی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہماری سلطنت تو رہی نہیں اس لیے اب ہمیں قتل اچھا نہیں لگتا، پھر رسول اللہ ﷺ نے گواہوں کو بلایا، وہ چار گواہ لے کر آئے، انہوں نے گواہی دی کہ انہوں نے مرد کے ذکر کو عورت کی فرج میں ایسے ہی دیکھا ہے جیسے سلائی سرمہ دانی میں، چناچہ نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کو رجم کرنے کا حکم دے دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/ الأحکام (٢٣٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٣٨٧) ، صحیح مسلم/الحدود ٦ (٢٣٧٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4452 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، قَالَ: مُجَالِدٌ أَخْبَرَنَا، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَتْ الْيَهُودُ بِرَجُلٍ وَامْرَأَةٍ مِنْهُمْ زَنَيَا، فَقَالَ: ائْتُونِي بِأَعْلَمِ رَجُلَيْنِ مِنْكُمْ فَأَتَوْهُ بِابْنَيْ صُورِيَا، فَنَشَدَهُمَا: كَيْفَ تَجِدَانِ أَمْرَ هَذَيْنِ فِي التَّوْرَاةِ ؟ قَالَا: نَجِدُ فِي التَّوْرَاةِ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ رُجِمَا، قَالَ: فَمَا يَمْنَعُكُمَا أَنْ تَرْجُمُوهُمَا، قَالَا: ذَهَبَ سُلْطَانُنَا فَكَرِهْنَا الْقَتْلَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالشُّهُودِ، فَجَاءُوا بِأَرْبَعَةٍ فَشَهِدُوا أَنَّهُمْ رَأَوْا ذَكَرَهُ فِي فَرْجِهَا مِثْلَ الْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجْمِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ابن صیاد کا بیان
ابراہیم اور شعبی سے روایت ہے وہ دونوں نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں لیکن اس میں راوی نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ آپ نے گواہوں کو بلایا، اور انہوں نے گواہی دی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٦، ١٨٤٠٢، ١٨٨٧١) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے ورنہ یہ مرسل ہے اور مرسل ضعیف کی اقسام سے ہے ، اس لئے کہ ابراہیم نخعی اور عامر بن شراحیل شعبی تابعی ہیں )
حدیث نمبر: 4453 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَالشَّعْبِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، لَمْ يَذْكُرْ فَدَعَا بِالشُّهُودِ فَشَهِدُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ یہودیوں کو رجم کرنے کا بیان
اس سند سے بھی شعبی سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٢٣٤٦، ١٨٨٧١، ١٨٤٠٢ ) جابر بن عبداللہ (رض) کو کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے یہود کے ایک مرد اور ایک عورت کو جنہوں نے زنا کیا تھا رجم کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الحدود ٦ (١٧٠١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢١، ٣٨٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4454 حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنِ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ بِنَحْوٍ مِنْهُ. حدیث نمبر: 4455 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ، سَمِعَجَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: رَجَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً زَنَيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محارم سے زنا کرنے کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم ﷺ سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأحکام ٢٥ (١٣٦٢) ، سنن النسائی/النکاح ٥٨ (٣٣٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٥ (٢٦٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٣٤، ١٧٦٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٤/٢٩٢، ٢٩٥، ٢٩٧) ، سنن الدارمی/النکاح ٤٣ (٢٢٨٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4456 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ لِي ضَلَّتْ إِذْ أَقْبَلَ رَكْبٌ أَوْ فَوَارِسُ مَعَهُمْ لِوَاءٌ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابُ يَطِيفُونَ بِي لِمَنْزِلَتِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا أَنَّهُ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں اپنے ایک گمشدہ اونٹ کو ڈھونڈ رہا تھا کہ اسی دوران کچھ سوار آئے، ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا، تو دیہاتی لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری قربت کی وجہ سے میرے اردگرد گھومنے لگے، اتنے میں وہ ایک قبہ کے پاس آئے، اور اس میں سے ایک شخص کو نکالا اور اس کی گردن مار دی، تو میں نے اس کے متعلق ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی تھی۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أَطُوفُ عَلَى إِبِلٍ لِي ضَلَّتْ إِذْ أَقْبَلَ رَكْبٌ أَوْ فَوَارِسُ مَعَهُمْ لِوَاءٌ، فَجَعَلَ الْأَعْرَابُ يَطِيفُونَ بِي لِمَنْزِلَتِي مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَتَوْا قُبَّةً فَاسْتَخْرَجُوا مِنْهَا رَجُلًا فَضَرَبُوا عُنُقَهُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَذَكَرُوا أَنَّهُ أَعْرَسَ بِامْرَأَةِ أَبِيهِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محارم سے زنا کرنے کا بیان
براء بن عازب (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا سے ملا ان کے ساتھ ایک جھنڈا تھا میں نے ان سے پوچھا : کہاں کا ارادہ ہے ؟ کہا : مجھے رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کی طرف بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی بیوی سے شادی کر رکھی ہے، اور حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن مار دوں اور اس کا مال لے لوں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٥٣٤) (صحیح )
حدیث نمبر: 4457 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قُسَيْطٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَقِيتُ عَمِّي وَمَعَهُ رَايَةٌ، فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ تُرِيدُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ وَآخُذَ مَالَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اپنی بیوی کی باندی سے زنا کرے تو کیا حکم ہے؟
حبیب بن سالم سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن حنین نامی ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی، معاملہ کوفہ کے امیر نعمان بن بشیر (رض) کے پاس لایا گیا، تو انہوں نے کہا : میں بالکل رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق تمہارا فیصلہ کروں گا، اگر تمہاری بیوی نے اسے تمہارے لیے حلال کردیا تھا تو تمہیں سو کوڑے ماروں گا، اور اگر اسے تمہارے لیے حلال نہیں کیا تھا تو میں تمہیں رجم کروں گا، پھر پتا چلا کہ اس کی بیوی نے اس کے لیے اس لونڈی کو حلال کردیا تھا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے حبیب بن سالم کو لکھا تو انہوں نے یہ حدیث مجھے لکھ بھیجی۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحدود ٢١ (١٤٥١) ، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٦ /٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٧) ، دي /الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (حبیب بن سالم کے بارے میں بہت کلام ہے ، اور ان کا نعمان بن بشیر سے سماع ثابت نہیں ہے )
حدیث نمبر: 4458 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، أَنَّ رَجُلا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرَفَعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْكُوفَةِ، فَقَالَ: لأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ جَلَدْتُكَ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكْنُ أَحَلَّتْهَا لَكَ رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ . فَوَجَدُوهُ أَحَلَّتْهَا لَهُ فَجَلَدَهُ مِائَةً. قَالَ قَتَادَة: كَتَبْتُ إِلَى حَبِيبِ بْن سَالِمٍ فَكَتَبَ إِلَيَّ بِهَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৫৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اپنی بیوی کی باندی سے زنا کرے تو کیا حکم ہے؟
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کرتا ہو : اگر اس کی بیوی نے اس کے لیے لونڈی کو حلال کردیا ہو تو اسے سو کوڑے مارے جائیں، اور اگر حلال نہ کیا ہو تو میں اسے رجم کروں گا ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٣) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4459 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَأْتِي جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ جُلِدَ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اپنی بیوی کی باندی سے زنا کرے تو کیا حکم ہے؟
سلمہ بن محبق (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے متعلق جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے صحبت کرلی تھی فیصلہ کیا کہ اگر اس نے جبراً جماع کیا ہے تو لونڈی آزاد ہے، اور اس کی مالکہ کو اسے ویسی ہی لونڈی دینی ہوگی، اور اگر لونڈی نے خوشی سے اس کی مان لی ہے تو وہ اس کی ہو جائیگی، اور اسے لونڈی کی مالکہ کو ویسی ہی لونڈی دینی ہوگی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٨ (٢٥٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/٤٧٦، ٥/٦) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری مدلس راوی ہیں ، اور روایت عنعنہ سے ہے ) وضاحت : ١ ؎ : خطابی (رح) کہتے ہیں : میں نے کسی فقیہ کو نہ پایا جس نے اس حدیث کے مطابق فتویٰ دیا ہو، شاید یہ حدیث منسوخ ہو۔
حدیث نمبر: 4460 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْسَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي رَجُلٍ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ: إِنْ كَانَ اسْتَكْرَهَهَا فَهِيَ حُرَّةٌ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، فَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ لَهُ وَعَلَيْهِ لِسَيِّدَتِهَا مِثْلُهَا، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ وَمَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ وَسَلَّامٌ عَنْ الْحَسَنِ، هَذَا الْحَدِيثَ بِمَعْنَاهُ، لَمْ يَذْكُرْ يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ قَبِيصَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬১
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد اپنی بیوی کی باندی سے زنا کرے تو کیا حکم ہے؟
سلمہ بن محبق (رض) نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کرتے ہیں مگر اس میں ہے کہ اگر اس نے اس کی بات بخوشی مان لی ہو، تو وہ لونڈی اور اسی جیسی ایک اور لونڈی خاوند کے مال سے اس کی مالکن کو دلائی جائے گی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٤٥٥٩) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4461 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ الدِّرْهَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَإِنْ كَانَتْ طَاوَعَتْهُ فَهِيَ وَمِثْلُهَا مِنْ مَالِهِ لَسَيِّدَتِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬২
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قوم لوط کا عمل کرنے والے کی سزا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو کرنے والے اور جس کے ساتھ کیا گیا ہے دونوں کو قتل کر دو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحدود ٢٤ (١٤٥٦) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٢ (٢٥٦١) ، (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4462 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو مِثْلَهُ، وَرَوَاهُ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْعِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ، وَرَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬৩
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قوم لوط کا عمل کرنے والے کی سزا
عبداللہ بن عباس (رض) سے کنوارے کے بارے میں جو اغلام بازی میں پکڑا جائے مروی ہے کہ اسے سنگسار کردیا جائے گا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم والی روایت عمرو بن ابی عمرو والی روایت کی تضعیف کرتی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اوپر کی حدیث (٤٤٦٢) ابوداود کا یہ قول غالباً غلطی سے یہاں درج ہوگیا ہے، حدیث نمبر : (٤٤٦٥) کے بعد بھی یہ قول درج ہے اور وہی اس کی اصل جگہ ہے۔
حدیث نمبر: 4463 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ خُثَيْمٍ، قَالَ: سَمِعْتُسَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، وَمُجَاهِدًا يُحَدِّثَانِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي الْبِكْرِ يُؤْخَذُ عَلَى اللُّوطِيَّةِ، قَالَ: يُرْجَمُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬৪
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جانور سے بدکاری کرے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو کسی جانور سے جماع کرے اسے قتل کر دو ، اور اس کے ساتھ اس جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عکرمہ کہتے ہیں : میں نے ابن عباس سے پوچھا : اس چوپایہ کا کیا جرم ہے ؟ تو انہوں نے کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے یہ صرف اس وجہ سے فرمایا کہ ایسے جانور کے گوشت کھانے کو آپ نے برا جانا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث قوی نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم (٤٤٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4464 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَتَى بَهِيمَةً فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوهَا مَعَهُ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ قَالَ: مَا أُرَاهُ قَالَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ لَحْمُهَا وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: لَيْسَ هَذَا بِالْقَوِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬৫
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جانور سے بدکاری کرے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جو چوپائے سے جماع کرے اس پر حد نہیں ہے، ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عطاء نے کہا ہے۔ اور حکم کہتے ہیں : میری رائے یہ ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں، لیکن اتنے کوڑے جو حد سے کم ہوں۔ اور حسن کہتے ہیں : وہ زانی ہی کے درجہ میں ہے یعنی اس کی وہی سزا ہوگی جو زانی کی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم کی حدیث عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کی تضعیف کر رہی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الحدود ٢٣ (١٤٥٥) ، انظر حدیث رقم (٤٤٦٢) ، (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : ملاحظہ ہو حدیث نمبر (٤٤٦٢ )
حدیث نمبر: 4465 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَنَّ شَرِيكًا، وَأَبَا الْأَحْوَصِ، وَأَبَا بَكْرِ بْنَ عَيَّاشٍ، حَدَّثُوهُمْ عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَيْسَ عَلَى الَّذِي يَأْتِي الْبَهِيمَةَ حَدٌّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا قَالَ عَطَاءٌ، وقَالَ الْحَكَمُ: أَرَى أَنْ يُجْلَدَ وَلَا يُبْلَغَ بِهِ الْحَدَّ، وقَالَ الْحَسَنُ: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الزَّانِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: حَدِيثُ عَاصِمٍ يُضَعِّفُ حَدِيثَ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬৬
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جانور سے بدکاری کرے
سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر یہ اعتراف کیا کہ اس نے ایک عورت سے جس کا اس نے نام لیا زنا کیا ہے، تو آپ نے اس عورت کو بلوایا، اور اس سے اس بارے میں پوچھا، اس نے انکار کیا، تو آپ نے حد میں صرف مرد کو کوڑے مارے، اور عورت کو چھوڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٤٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٤٧٠٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4466 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَجُلًا أَتَاهُ فَأَقَرَّ عِنْدَهُ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ سَمَّاهَا لَهُ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَرْأَةِ، فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْ أَنْ تَكُونَ زَنَتْ، فَجَلَدَهُ الْحَدَّ وَتَرَكَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬৭
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جانور سے بدکاری کرے
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ بکر بن لیث کے ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر چار بار اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت سے زنا کیا ہے تو آپ نے اسے سو کوڑے لگائے، وہ کنوارا تھا، پھر اس سے عورت کے خلاف گواہی طلب کی تو عورت نے کہا : قسم اللہ کی وہ جھوٹا ہے، اللہ کے رسول ! تو اس پر آپ نے بہتان کے بھی اسی (٨٠) کوڑے لگائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٦٦٤) (منکر )
حدیث نمبر: 4467 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ الْبُرْدِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ فَيَّاضٍ الْأَبْنَاوِيِّ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنّ رَجُلًا مِنْ بَكْرِ بْنِ لَيْثٍ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَقَرَّ أَنَّهُ زَنَى بِامْرَأَةٍ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ،فَجَلَدَهُ مِائَةً وَكَانَ بِكْرًا ثُمَّ سَأَلَهُ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمَرْأَة، فَقَالَتْ: كَذَبَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَلَدَهُ حَدَّ الْفِرْيَةِ ثَمَانِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬৮
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی شخص کسی عورت سے جماع کے علاوہ سارے کام کرے پھر گرفتاری سے قبل توبہ کرلے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : مدینہ کے آخری کنارے کی ایک عورت سے میں لطف اندوز ہوا، لیکن جماع نہیں کیا، تو اب میں حاضر ہوں میرے اوپر جو چاہیئے حد قائم کیجئے، عمر (رض) نے کہا : اللہ نے تیری پردہ پوشی کی تھی تو تو خود بھی پردہ پوشی کرتا تو بہتر ہوتا، رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، تو وہ شخص چلا گیا، پھر اس کے پیچھے نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو بھیجا، وہ اسے بلا کر لایا تو آپ نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی وأقم الصلاة طرفى النهار وزلفا من الليل دن کے دونوں سروں میں نماز قائم کرو اور رات کی کچھ ساعتوں میں بھی ۔ (ھود : ١١٤) ١ ؎ تو ان میں سے ایک شخص نے پوچھا : اللہ کے رسول ! کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے، یا سارے لوگوں کے لیے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : سارے لوگوں کے لیے ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٩١٦٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٤ (٥٢٦) ، التفسیر ٤ (٤٦٨٧) ، سنن الترمذی/التفسیر ١٢ (٣١١٢) ، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة ١٩٣ (١٣٩٨) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : دن کے دونوں سرے مراد فجر، ظہر اور عصر کی نمازیں ہیں، اور رات کی ساعتوں سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں۔
حدیث نمبر: 4468 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً مِنْ أَقْصَى الْمَدِينَةِ فَأَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَأَقِمْ عَلَيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ عُمَرُ: قَدْ سَتَرَ اللَّهُ عَلَيْكَ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَدَعَاهُ فَتَلَا عَلَيْهِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ سورة هود آية 114 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ كَافَّةً ؟ فَقَالَ: لِلنَّاسِ كَافَّةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৬৯
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیر شادی شدہ لونڈی اگر زنا کرے تو کیا حکم ہے؟
ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لونڈی جب زنا کرے اور وہ شادی شدہ نہ ہو (تو اس کا کیا حکم ہے) تو آپ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے پھر کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے بیچ دو ، گو ایک رسی ہی کے عوض میں ہو ۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں : مجھے اچھی طرح معلوم نہیں کہ یہ آپ نے تیسری بار میں فرمایا : یا چوتھی بار میں اور ضفیر کے معنی رسی کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : خ /الحدود ٢٢ (٦٨٣٧ و ٦٨٣٨) ، صحیح مسلم/الحدود ٦ (١٧٠٣) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٤ (٢٥٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٧٥٦) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الحدود ١٣ (١٤٣٣) ، موطا امام مالک/الحدود ٣ (١٤) ، دي الحدود ١٨ (٢٣٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4469 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ إِذَا زَنَتْ وَلَمْ تُحْصَنْ ؟ قَالَ: إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَاجْلِدُوهَا ثُمَّ إِنْ زَنَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: لَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ، وَالضَّفِيرُ: الْحَبْلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৭০
سزاؤں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیر شادی شدہ لونڈی اگر زنا کرے تو کیا حکم ہے؟
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو اس پر حد قائم کرنا چاہیئے، یہ نہیں کہ اسے ڈانٹ ڈپٹ کر چھوڑ دے، ایسا وہ تین بار کرے، پھر اگر وہ چوتھی بار بھی زنا کرے تو چاہیئے کہ ایک رسی کے عوض یا بال کی رسی کے عوض اسے بیچ دے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الحدود ٦ (١٧٠٣) ، انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٢٩٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٧٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4470 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا زَنَتْ أَمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَحُدَّهَا وَلَا يُعَيِّرْهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَإِنْ عَادَتْ فِي الرَّابِعَةِ فَلْيَجْلِدْهَا وَلْيَبِعْهَا بِضَفِيرٍ أَوْ بِحَبْلٍ مِنْ شَعْرٍ.
তাহকীক: