কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
کنگھی کرنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৫ টি
হাদীস নং: ৪১৯৯
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مونچھوں کے خوب کترنے، اور داڑھیوں کے بڑھانے کا حکم دیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٩) ، سنن الترمذی/الأدب ١٨ (٢٧٦٤) ، سنن النسائی/الطھارة ١٥ (١٥) ، الزینة ٥٤ (٥٢٢٨) ، (تحفة الأشراف : ٨٥٤٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/اللباس ٦٤ (٥٨٩٢) ، ٦٥ (٥٨٩٣) ، الزینة من السنن ٢ (٥٠٤٩) ، الزینة من المجتبی ٢ (٥٢٢٨) ، موطا امام مالک/الشعر ١ (١) ، مسند احمد (٢/٥٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 4199 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِحْفَاءِ الشَّوَارِبِ وَإِعْفَاءِ اللِّحَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০০
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے زیر ناف کے بال مونڈنے، ناخن کاٹنے، مونچھیں تراشنے اور بغل کے بال اکھاڑنے کی چالیس دن میں ایک بار کی تحدید فرما دی ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے جعفر بن سلیمان نے ابوعمران سے اور انہوں نے انس سے روایت کیا ہے اور نبی اکرم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ہے اور اس میں وقَّتَ لنا کے بجائے وُقِّتَ لنا بصیغہ مجہول ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الطھارة ١٦ (٢٥٨) ، سنن الترمذی/الأدب ١٤ (٢٧٥٨) ، سنن النسائی/الطھارة ١٤ (١٤) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٨ (٢٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٢٢، ٢٠٣، ٢٥٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4200 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا صَدُقَةُ الدَّقِيقِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلْقَ الْعَانَةِ وَتَقْلِيمَ الْأَظْفَارِ وَقَصَّ الشَّارِبِ وَنَتْفَ الْإِبِطِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا مَرَّةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ، عَنْ أَنَسٍ، لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وُقِّتَ لَنَا وَهَذَا أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০১
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچوں کو لمبے بال رکھنے کی اجازت کا بیان
جابر (رض) کہتے ہیں کہ ہم حج و عمرہ کے سوا ہمیشہ داڑھیوں کو لٹکتا رہنے دیتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : استحداد کے معنی زیر ناف مونڈنے کے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٧٨٩) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4201 حَدَّثَنَا ابْنُ نُفَيْلٍ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَقَرَأَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَلَى أَبِي الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا نُعْفِي السِّبَالَ إِلَّا فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، قَالَ أَبُو دَاوُد: الِاسْتِحْدَادُ حَلْقُ الْعَانَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০২
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سفید بال اکھاڑنے کا بیان
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سفید بال نہ اکھیڑو، اس لیے کہ جس مسلمان کا کوئی بال حالت اسلام میں سفید ہوا ہو (سفیان کی روایت میں ہے) تو وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا (اور یحییٰ کی روایت میں ہے) اس کے بدلے اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھے گا اور اس سے ایک گناہ مٹا دے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٧٨٣، ٨٨٠١ ) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأدب ٥٩ (٢٨٢١) ، سنن النسائی/الزینة ١٣ (٥٠٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الأدب ٢٥ (٣٧٢١) ، مسند احمد (٢/٢٠٦، ٢٠٧، ٢١٢) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4202 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الْمَعْنَى، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَنْتِفُوا الشَّيْبَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَشِيبُ شَيْبَةً فِي الْإِسْلَامِ، قَالَ عَنْ سُفْيَانَ: إِلَّا كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِ يَحْيَى: إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৩
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہود و نصاریٰ اپنی داڑھیاں نہیں رنگتے ہیں، لہٰذا تم ان کی مخالفت کرو ، یعنی انہیں خضاب سے رنگا کرو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأنبیاء ٥٠ (٣٤٦٢) واللباس ٦٧ (٥٨٩٩) ، صحیح مسلم/اللباس ٢٥ (٢١٠٣) ، سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٢) ، سنن النسائی/الزینة ١٤ (٥٠٧٥) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٣٤٨٠، ١٥١٤٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٠، ٢٦٠، ٣٠٩، ٤٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 4203 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৪
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے کا بیان
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن (ابوبکر (رض) کے والد) ابوقحافہ کو لایا گیا، ان کا سر اور ان کی داڑھی ثغامہ (نامی سفید رنگ کے پودے) کے مانند سفید تھی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے کسی چیز سے بدل دو اور سیاہی سے بچو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/اللباس ٢٤ (٢١٠٢) ، سنن النسائی/الزینة ١٥، (٥٢٤٤) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٣ (٣٦٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٧، ٥٠٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١٦، ٣٢٢، ٣٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 4204 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَأَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৫
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے کا بیان
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے اچھی چیز جس سے اس بڑھاپے (بال کی سفیدی) کو بدلا جائے حناء (مہندی) اور کتم (وسمہ) ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/اللباس ٢٠ (١٧٥٣) ، سنن النسائی/الزینة ١٦ (٥٠٨١، ٥٠٨٢) ، سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٢ (٣٦٢٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٢٧، ١٨٨٨٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٧، ١٥٠، ١٥٤، ١٥٦، ١٦٩) (صحیح )
حدیث نمبر: 4205 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৬
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے کا بیان
ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گیا تو دیکھا کہ آپ کے سر کے بال کان کی لو تک ہیں، ان میں مہندی لگی ہوئی ہے، اور آپ کے جسم مبارک پر سبز رنگ کی دو چادریں ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٠٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4206 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِيَادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِيَادٌ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ ذُو وَفْرَةٍ بِهَا رَدْعُ حِنَّاءٍ وَعَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৭
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے کا بیان
اس سند سے ابورمثہ (رض) سے اس حدیث میں مروی ہے کہ میرے والد نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا کہ مجھے آپ اپنی وہ چیز دکھائیں جو آپ کی پشت پر ہے کیونکہ میں طبیب ہوں، آپ نے فرمایا : طبیب تو اللہ ہے، بلکہ تو رفیق ہے (مریض کو تسکین اور دلا سے دیتا ہے) طبیب تو وہی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٠٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4207 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ أَبِي: أَرِنِي هَذَا الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي رَجُلٌ طَبِيبٌ، قَالَ: اللَّهُ الطَّبِيبُ بَلْ أَنْتَ رَجُلٌ رَفِيقٌ طَبِيبُهَا الَّذِي خَلَقَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৮
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے کا بیان
ابورمثہ (رض) کہتے ہیں کہ میں اور میرے والد نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے آپ نے ایک شخص سے یا میرے والد سے پوچھا : یہ کون ہے ؟ وہ بولے : میرا بیٹا ہے، آپ نے فرمایا : یہ تمہارا بوجھ نہیں اٹھائے گا، تم جو کرو گے اس کی باز پرس تم سے ہوگی، آپ نے اپنی داڑھی میں مہندی لگا رکھی تھی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/ الشمائل (٤٣، ٤٥) ، سنن النسائی/القسامة ٣٥ (٤٨٣٦) ، ویأتی برقم (٤٤٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4208 حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبِي فَقَالَ لِرَجُلٍ أَوْ لِأَبِيهِ: مَنْ هَذَا ؟ قَالَ: ابْنِي، قَالَ: لَا تَجْنِي عَلَيْهِ وَكَانَ قَدْ لَطَّخَ لِحْيَتَهُ بِالْحِنَّاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২০৯
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خضاب لگانے کا بیان
انس (رض) سے روایت ہے کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : آپ ﷺ نے تو خضاب لگایا ہی نہیں، ہاں ابوبکر و عمر (رض) نے لگایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٣ (٣٥٥٠) ، اللباس ٦٦ (٥٨٩٥) ، صحیح مسلم/الفضائل ٢٩ (٢٣٤١) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/الزینة ١٧ (٥٠٩٠) ، مسند احمد (٣/٢١٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4209 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ خِضَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَخْضِبْ وَلَكِنْ قَدْ خَضَبَ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১০
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زرد رنگ کے خضاب کا بیان
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کھال کی سبتی جوتیاں پہنتے تھے جس پر بال نہیں ہوتے تھے، اور اپنی داڑھی ورس ١ ؎ اور زعفران سے رنگتے تھے، اور ابن عمر (رض) بھی ایسا کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة من المجتبی ١٢ (٥٢٤٦) ، (تحفة الأشراف : ٧٧٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ورس ایک قسم کی گھاس ہے جس سے رنگتے ہیں۔
حدیث نمبر: 4210 حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي رَوَّادٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَانَ يَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَيُصَفِّرُ لِحْيَتَهُ بِالْوَرْسِ وَالزَّعْفَرَانِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُ ذَلِكَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১১
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ زرد رنگ کے خضاب کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک شخص گزرا جس نے مہندی کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا : یہ کتنا اچھا ہے پھر ایک اور شخص گزرا جس نے مہندی اور کتم کا خضاب لگا رکھا تھا، تو آپ نے فرمایا : یہ اس سے بھی اچھا ہے اتنے میں ایک تیسرا شخص زرد خضاب لگا کے گزرا تو آپ نے فرمایا : یہ ان سب سے اچھا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/اللباس ٣٤ (٣٦٢٧) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٢٠) (ضعیف )
حدیث نمبر: 4211 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا ؟ قَالَ: فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَّبَ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا، قَالَ: فَمَرَّ آخَرُ قَدْ خَضَّبَ بِالصُّفْرَةِ، فَقَالَ: هَذَا أَحْسَنُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১২
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سیاہ خضاب کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : آخر زمانے میں کچھ لوگ کبوتر کے سینے کی طرح سیاہ خضاب لگائیں گے وہ جنت کی بو تک نہ پائیں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة ١٥ (٥٠٧٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٤٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4212 حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَكُونُ قَوْمٌ يَخْضِبُونَ فِي آخِرِ الزَّمَانِ بِالسَّوَادِ كَحَوَاصِلِ الْحَمَامِ لَا يَرِيحُونَ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪২১৩
کنگھی کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہاتھی دانت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے
ثوبان مولیٰ رسول اللہ ﷺ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی سفر پر تشریف لے جاتے تو اپنے گھر والوں میں سب سے اخیر میں فاطمہ (رض) سے ملتے اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ (رض) سے ملاقات کرتے، چناچہ آپ ﷺ ایک غزوہ سے تشریف لائے، فاطمہ (رض) نے اپنے دروازے پر ایک ٹاٹ یا پردہ لٹکا رکھا تھا اور حسن و حسین (رض) دونوں کو چاندی کے دو کنگن پہنا رکھے تھے، آپ ﷺ تشریف لائے تو گھر میں داخل نہیں ہوئے تو وہ سمجھ گئیں کہ آپ کے اندر آنے سے یہی چیز مانع رہی ہے جو آپ نے دیکھا ہے، تو انہوں نے دروازے سے پردہ اتار دیا، پھر دونوں صاحبزادوں کے کنگن کو اتار لیا، اور کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا، تو وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس روتے ہوئے آئے، آپ نے ان سے کٹے ہوئے ٹکڑے لے کر فرمایا : ثوبان ! اسے مدینہ میں فلاں گھر والوں کو جا کر دے آؤ پھر فرمایا : یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں مجھے یہ ناپسند ہے کہ یہ اپنے مزے دنیا ہی میں لوٹ لیں، اے ثوبان ! فاطمہ کے لیے مونگوں والا ایک ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید کرلے آؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٢٠٨٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٧٥، ٢٧٩) (ضعیف الإسناد منکر )
حدیث نمبر: 4213 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ الشَّامِيِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْمُنَبِّهِيِّ، عَنْثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ كَانَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ مِنْ أَهْلِهِ فَاطِمَةَ، وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهَا إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةَ، فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ وَقَدْ عَلَّقَتْ مِسْحًا أَوْ سِتْرًا عَلَى بَابِهَا وَحَلَّتِ الْحَسَنَ، وَالْحُسَيْنَ قُلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَقَدِمَ فَلَمْ يَدْخُلْ فَظَنَّتْ أَنَّ مَا مَنَعَهُ أَنْ يَدْخُلَ مَا رَأَى، فَهَتَكَتِ السِّتْرَ وَفَكَّكَتِ الْقُلْبَيْنِ عَنِ الصَّبِيَّيْنِ وَقَطَّعَتْهُ بَيْنَهُمَا، فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ، فَأَخَذَهُ مِنْهُمَا، وَقَالَ: يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى آلِ فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ إِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي أَكْرَهُ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا يَا ثَوْبَانُ اشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ.
তাহকীক: