কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
حروف اور قرات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪০ টি
হাদীস নং: ৩৯৮৯
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
اس سند سے ابوہریرہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے وحی کی حدیث ١ ؎ روایت کی اس کے بعد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے قول حتى إذا فزع عن قلوبهم یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے (سورۃ سبا : ٢٣) ٢ ؎ سے یہی مراد ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة الحجر ١ (٤٧٠١) ، التوحید ٣٢ (٧٤٨١) ، سنن الترمذی/التفسیر ٣٥ (٣٢٢٣) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٩٤) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : صحیح بخاری کی کتاب التوحید کا سیاق یہ ہے : إذا قضی اللہ الأمر في السماء ضربت الملائکة بإجنحتہا خضعانا لقولہ کأنہ سلسلة علی صفوان۔ قال علي بن المدیني : وقال غیرہ : صفوان ینفذہم ذلک ۔ فإذا فزع عن قلوبہم قالوا : ماذا قال ربکم ؟ قالوا : الحق وہو العلي الکبیر ۔ ٢ ؎ : فُزِّع قراء کے نزدیک راء معجمہ اور عین مہملہ کے ساتھ ہے لیکن ابوہریرہ (رض) اسے راء مہملہ اور عین معجمہ کے ساتھ پڑھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3989 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو مَعْمَرٍ الْهُذَلِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ إِسْمَاعِيل: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رِوَايَةً فَذَكَرَ حَدِيثَ الْوَحْيِ قَالَ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: حَتَّى إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ سورة سبأ آية 23.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯০
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی قرآت بلى قد جاء تک آياتي فکذبت بها واستکبرت وکنت من الکافرين ہاں بیشک تیرے پاس میری آیتیں پہنچ چکی تھیں جنہیں تو نے جھٹلایا اور غرور و تکبر کیا اور تو تھا ہی کافروں میں سے (سورۃ الزمر : ٥٩) ١ ؎ (واحد مونث حاضر کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل ہے، ربیع نے ام سلمہ (رض) کو نہیں پایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٨٥٠) (ضعیف الإسناد ) وضاحت : وضاحت ١ ؎ : جمہور کی قرات واحد مذکر حاضر کے صیغہ کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 3990 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ، سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَذْكُرُ، عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 بَلَى قَدْ جَاءَتْكِ آيَاتِي فَكَذَّبْتِ بِهَا وَاسْتَكْبَرْتِ وَكُنْتِ مِنَ الْكَافِرِينَ 0، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا مُرْسَلٌ الرَّبِيعُ لَمْ يُدْرِكْ أُمَّ سَلَمَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯১
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فروح وريحان تو عیش و آرام ہے (سورۃ الواقعہ : ٨٩) ١ ؎ (راء کے پیش کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/القراء ات سورة الواقعة ٦ (٢٩٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٠٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٦٤، ٢١٣) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : جمہور کی قرات راء کے زبر کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 3991 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مُوسَى النَّحْوِيُّ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَؤُهَا: 0 فَرُوحٌ وَرَيْحَانٌ 0.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯২
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
یعلیٰ بن امیہ۔ منیہ۔ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر ونادوا يا مالک اور پکار پکار کہیں گے اے مالک ! (سورۃ الزخرف : ٧٧) پڑھتے سنا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی بغیر ترخیم کے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٣٠) ، و تفسیر القرآن ١ (٣٢٦٦) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧١) ، سنن الترمذی/الجمعة ١٣ (٥٠٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٨٣٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 3992 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ ابْنُ حَنْبَلٍ: لَمْ أَفْهَمْهُ جَيِّدًا، عَنْ صَفْوَانَ، قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ ابْنُ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقْرَأُ: وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77، قَالَ أَبُو دَاوُد: يَعْنِي بِلَا تَرْخِيمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৩
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے إني أنا الرزاق ذو القوة المتين ١ ؎ پڑھایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/القراء ات سورة الذاریات ٨ (٢٩٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٨٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٤، ٣٩٧، ٤١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مشہور قرات إن الله هو الرزاق ذو القوة المتين ہے یعنی اللہ تعالیٰ تو خود ہی سب کا روزی رساں ، توانائی والا اور زور آور ہے (سورۃ الذاریات : ٥٨ )
حدیث نمبر: 3993 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْرَأَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 إِنِّي أَنَا الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ 0.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৪
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فهل من مدکر تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا (سورۃ الذاریات : ٥٨) (یعنی دال کو مشدد) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مُدَّكِّرٍ میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٤١) ، و تفسیر القرآن ٢ (٤٨٧٤) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥٠ (٨٢٣) ، سنن الترمذی/القراء ات سورة القمر ٥ ( ٢٩٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٥، ٤٠٦، ٤١٣، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٦١) (صحیح )
حدیث نمبر: 3994 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَؤُهَا: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 يَعْنِي: مُثَقَّلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَضْمُومَةَ الْمِيمِ مَفْتُوحَةَ الدَّالِ مَكْسُورَةُ الْكَافِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৫
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
جابر (رض) کہتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو يحسب أن ماله أخلده ١ ؎ پڑھتے دیکھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٠٢٦) (ضعیف الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : مشہور قر a ت بغیر ہمزہ استفہام کے ہے یعنی کیا وہ گمان کرتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ رہے گا (سورۃ الہمزۃ : ٣ )
حدیث نمبر: 3995 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الذِّمَارِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ: 0 أَيَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُ أَخْلَدَهُ 0.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৬
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں (کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے) فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧١) (ضعیف الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی صیغہ مجہول کے ساتھ جب کہ مشہور قرات دونوں میں صیغہ معروف کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 3996 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَعَمَّنْ أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ 25 وَلا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ 26 سورة الفجر آية 25-26، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَعْضُهُمْ أَدْخَلَ بَيْنَ خَالِدٍ وأَبِي قِلَابَةَ رَجُلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৭
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ابوقلابہ کہتے ہیں : مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے پڑھایا ہے یا جسے ایک ایسے شخص نے پڑھایا ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے پڑھا یا ہے کہ فيومئذ لا يعذب (مجہول کے صیغہ کے ساتھ) ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عاصم، اعمش، طلحہ بن مصرف، ابوجعفر یزید بن قعقاع، شیبہ بن نصاح، نافع بن عبدالرحمٰن، عبداللہ بن کثیر داری، ابوعمرو بن علاء، حمزہ زیات، عبدالرحمٰن اعرج، قتادہ، حسن بصری، مجاہد، حمید اعرج، عبداللہ بن عباس اور عبدالرحمٰن بن ابی بکر نے لا يعذب ولا يوثق صیغہ معروف کے ساتھ پڑھا ہے مگر مرفوع روایت میں يعذب (ذال کے فتحہ کے ساتھ) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٨) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 3997 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: أَنْبَأَنِي مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَنْ أَقْرَأَهُ مَنْ أَقْرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ سورة الفجر آية 25، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَرَأَ عَاصِمٌ، وَالْأَعْمَشُ، وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ، وَأَبُو جَعْفَرٍ يَزِيدُ بْنُ الْقَعْقَاعِ، وَشَيْبَةُ بْنُ نَصَّاحٍ، وَنَافِعُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَثِيرٍ الدَّارِيُّ، وَأَبُو عَمْرِو بْنُ الْعَلَاءِ، وَحَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ، وَقَتَادَةُ، وَالْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَمُجَاهِدٌ، وَحُمَيْدٌ الْأَعْرَجُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ لَا يُعَذِّبُ وَلَا يُوثِقُ إِلَّا الْحَدِيثَ الْمَرْفُوعَ فَإِنَّه يُعَذَّبُ بِالْفَتْحِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৮
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک حدیث بیان فرمائی جس میں جبرائیل و میکال کا ذکر تھا تو آپ ﷺ نے جبرائل و میکائل پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : خلف کا بیان ہے میں چالیس سال سے برابر لکھ رہا ہوں لیکن جبرائل و میکائل لکھنے میں مجھے جتنی دشواری ہوئی ہے کسی اور چیز میں نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٢٠٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٩) (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 3998 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ حَدَّثَهُمْ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا ذَكَرَ فِيهِ جِبْرِيلَ وَمِيكَالَ، فَقَالَ جِبْرَائِلُ، وَمِيكَائِلُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ خَلَفٌ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَمْ أَرْفَعِ الْقَلَمَ عَنْ كِتَابَةِ الْحُرُوفِ مَا أَعْيَانِي شَيْءٌ مَا أَعْيَانِي جِبْرَائِلُ، وَمِيكَائِلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৯৯৯
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس فرشتہ کا ذکر کیا جو صور لیے کھڑا ہے تو فرمایا : اس کے داہنی جانب جبرائل ہیں اور بائیں جانب میکائل ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٢٠٥) (ضعیف )
حدیث نمبر: 3999 حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ، قَالَ: ذُكِرَ كَيْفَ قِرَاءَةُ جِبْرَائِلَ، وَمِيكَائِلَ عِنْدَ الْأَعْمَشِ، فَحَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَاحِبَ الصُّورِ، فَقَالَ: عَنْ يَمِينِهِ جِبْرَائِلُ وَعَنْ يَسَارِهِ مِيكَائِلُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০০
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
عبدالرزاق کہتے ہیں ہمیں معمر نے زہری کے واسطہ سے خبر دی ہے اور معمر نے کبھی کبھی زہری کے بجائے ابن مسیب کا ذکر کیا ہے، وہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ ابوبکر و عمر اور عثمان مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ پڑھتے تھے اور مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ سب سے پہلے مروان نے پڑھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ مرسل سند زہری کی حدیث سے جو انس (رض) سے مروی ہے نیز زہری کی اس حدیث سے جو سالم سے مروی ہے اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود (ضعیف الإسناد )
حدیث نمبر: 4000 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ مَعْمَرٌ: وَرُبَمَا ذَكَرَ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ يَقْرَءُونَ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4 وَأَوَّلُ مَنْ قَرَأَهَا 0 مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 مَرْوَانُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ وَالزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০১
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے ذکر کیا یا اس کے علاوہ راوی نے کوئی اور کلمہ کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی قرآت یوں ہوتی بسم الله الرحمن الرحيم * الحمد لله رب العالمين * الرحمن الرحيم * ملك يوم الدين آپ ہر ہر آیت الگ الگ پڑھتے تھے (ایک آیت کو دوسری آیت میں ملاتے نہیں تھے) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد کو کہتے سنا ہے کہ پرانی قرآت مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/القراء ات سورة الفاتحة ١ (٢٩٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨١٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠٢، ٣٢٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 4001 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ: أَنَّهَا ذَكَرَتْ أَوْ كَلِمَةً غَيْرَهَا قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: 0 بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ 0 يُقَطِّعُ قِرَاءَتَهُ آيَةً آيَةً، قَالَ أَبُو دَاوُد: سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ: الْقِرَاءَةُ الْقَدِيمَةُ: مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ سورة الفاتحة آية 4.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০২
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : فإنها تغرب في عين حامية یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے (سورۃ الکہف : ٨٦) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٤ (٣١٩٩) ، و تفسیر القرآن ٣٦ (٤٨٠٣) ، والتوحید ٢٢ (٧٤٢٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٢ (١٥٩) ، سنن الترمذی/الفتن ٢٢ (٢١٨٦) ، تفسیر القرآن سورة یٰسن ٣٧ (٣٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٢، ١٥٨ ع ١٦٥، ١٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مشہور قرات حَمِئَةٍ ہے یعنی کالی مٹی کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔
حدیث نمبر: 4002 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ وَالشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ هَذِهِ ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِيَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৩
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
واثلہ بن الاسقع بکری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ان کے پاس مہاجرین کے صفے میں آئے تو آپ سے ایک شخص نے پوچھا : قرآن کی سب سے بڑی آیت کون سی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : الله لا إله إلا هو الحى القيوم لا تأخذه سنة ولا نوم اللہ ہی معبود برحق ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ زندہ ہے اور سب کو تھامنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آئے نہ نیند (سورۃ البقرہ : ٢٥٥) ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١١٧٥٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 4003 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءٍ، أَنَّ مَوْلًى لِابْنِ الْأَسْقَعِ رَجُلَ صِدْقٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّهُ سَمِعَهُ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُمْ فِي صُفَّةِ الْمُهَاجِرِينَ فَسَأَلَهُ إِنْسَانٌ أَيُّ آيَةٍ فِي الْقُرْآنِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৪
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے هَيْتَ لَكَ ١ ؎ پڑھا تو ابو وائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا : ہم تو اسے هِئْتُ لَكَ پڑھتے ہیں تو ابن مسعود (رض) نے کہا : جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٤ (٤٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معنی ہے آجاؤ (سورۃ یوسف : ٣) اور هئتُ کے معنیٰ ہے میں تیار ہوں۔
حدیث نمبر: 4004 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍأَنَّهُ قَرَأَ: هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23، فَقَالَ شَقِيقٌ: إِنَّا نَقْرَؤُهَا: 0 هِئْتُ لَكَ 0 يَعْنِي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৫
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں عبداللہ بن مسعود (رض) سے کہا گیا کہ کچھ لوگ اس آیت کو وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ پڑھتے ہیں تو انہوں نے کہا : جیسے مجھے سکھایا گیا ہے ویسے ہی پڑھنا مجھے زیادہ پسند ہے وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٢٦٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 4005 حَدَّثَنَا هَنَادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، قَالَ: قِيلَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ أُنَاسًا يَقْرَءُونَ هَذِهِ الْآيَةَ: 0 وَقَالَتْ هِيتَ لَكَ 0، فَقَالَ: إِنِّي أَقْرَأُ كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ: وَقَالَتْ هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৬
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ عزوجل نے بنی اسرائیل سے فرمایا : ادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة تغفر لکم خطاياكم اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہو و اور زبان سے حطة کہو تمہارے گناہ بخش دیئے جائیں گے (سورۃ البقرہ : ٥٨) ١ ؎ (بصیغہ واحد مونث غائب مضارع مجہول) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤١٨٠) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تُغْفَرُ بصیغہ واحد مؤنث غائب مضارع مجہول مشہور قرات جمع متکلم مضارع معروف کے صیغے کے ساتھ ہے۔
حدیث نمبر: 4006 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ. ح وحَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَاهِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ تُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৭
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
اس سند سے بھی ہشام بن سعد سے اسی کے مثل مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤١٨٠) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 4007 حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪০০৮
حروف اور قرات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس میں کوئی عنوان نہیں ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ پر وحی اتری تو آپ نے ہمیں سورة أنزلناها وفرضناها یہ وہ سورت ہے جو ہم نے نازل فرمائی ہے اور مقرر کردی ہے (سورۃ النور : ١) پڑھ کر سنایا۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی مخفف پڑھا ١ ؎ یہاں تک کہ ان آیات پر آئے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٦٨٧٨) (صحیح الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : مراد فرضناها کی راء ہے، جمہور کی قرات تخفیف راء کے ساتھ ہے، اور ابوعمرو اور ابن کثیر نے اسے تشدید راء کے ساتھ پڑھا ہے۔
حدیث نمبر: 4008 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ عَلَيْنَا: سُورَةَ أَنْزَلْنَاهَا وَفَرَضْنَاهَا، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: يَعْنِي مُخَفَّفَةً حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَاتِ.
তাহকীক: