কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
علم کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৯ টি
হাদীস নং: ৩৬৬০
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علم کی نشرواشاعت کی فضیلت
زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے یاد رکھا یہاں تک کہ اسے دوسروں تک پہنچا دیا کیونکہ بہت سے حاملین فقہ ایسے ہیں جو فقہ کو اپنے سے زیادہ فقہ و بصیرت والے کو پہنچا دیتے ہیں، اور بہت سے فقہ کے حاملین خود فقیہ نہیں ہوتے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/العلم ٧ (٢٦٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٩٤) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٨ (١٢٣٠) ، مسند احمد (١/٤٣٧، ٥/١٨٣) ، سنن الدارمی/المقدمة ٢٤(٢٣٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 3660 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ مِنْ وَلَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ، وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ لَيْسَ بِفَقِيهٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬১
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ علم کی نشرواشاعت کی فضیلت
سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قسم اللہ کی، اگر تیری رہنمائی سے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو بھی ہدایت دیدے تو یہ تیرے لیے سرخ اونٹ سے (جو بہت قیمتی اور عزیز ہوتے ہیں) بہتر ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٤٧٣٠) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٠٢(٢٩٤٢) ، ١٤٣ (٣٠٠٩) ، المناقب ١ (٣٧٠١) ، المغازي ٣٨ (٤٢١٠) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٦) ، مسند احمد (١/١٨٥) (صحیح )
حدیث نمبر: 3661 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَهْلٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِهُدَاكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬২
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنی اسرائیل سے روایت کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بنی اسرائیل سے روایت کرو، اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٠٧٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٧٤، ٥٠٢، ٣/٤٦، ٥٦) (صحیح )
حدیث نمبر: 3662 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَدِّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৩
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بنی اسرائیل سے روایت کا بیان
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ہم سے بنی اسرائیل کی باتیں اس قدر بیان کرتے کہ صبح ہوجاتی اور صرف فرض نماز ہی کے لیے اٹھتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٨٩٣٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤٣٧) (صحیح الإسناد )
حدیث نمبر: 3663 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيُحَدِّثُنَا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى يُصْبِحَ مَا يَقُومُ إِلَّا إِلَى عُظْمِ صَلَاةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৪
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غیر اللہ کے لئے علم طلب کرنے کا بیان
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ایسا علم صرف دنیاوی مقصد کے لیے سیکھا جس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی جاتی ہے تو وہ قیامت کے دن جنت کی خوشبو تک نہیں پائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٣٨) (صحیح )
حدیث نمبر: 3664 حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَعَلَّمَ عِلْمًا مِمَّا يُبْتَغَى بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَلَّمُهُ إِلَّا لِيُصِيبَ بِهِ عَرَضًا مِنَ الدُّنْيَا لَمْ يَجِدْ عَرْفَ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَعْنِي رِيحَهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৫
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصے وغیرہ کا بیان
عوف بن مالک اشجعی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو امیر ہو یا مامور ہو یا فریبی ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩١٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٣، ٢٧، ٢٩) (حسن صحیح )
حدیث نمبر: 3665 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ الْخَوَّاصُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْعَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ، أَوْ مَأْمُورٌ، أَوْ مُخْتَالٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৬
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصے وغیرہ کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں میں غریب و خستہ حال مہاجرین کی جماعت میں جا بیٹھا، ان میں بعض بعض کی آڑ میں برہنگی کے سبب چھپتا تھا اور ایک قاری ہم میں قرآن پڑھ رہا تھا، اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور ہمارے درمیان آ کر کھڑے ہوگئے، جب آپ ﷺ کھڑے ہوگئے تو قاری خاموش ہوگیا، آپ نے ہمیں سلام کیا پھر فرمایا : تم لوگ کیا کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا : ہمارے یہ قاری ہیں ہمیں قرآن پڑھ کر سنا رہے تھے اور ہم اللہ کی کتاب سن رہے تھے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سبھی تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جس نے میری امت میں ایسے لوگوں کو پیدا کیا کہ مجھے حکم دیا گیا کہ میں اپنے آپ کو ان کے ساتھ روکے رکھوں ۔ پھر آپ ﷺ ہمارے درمیان میں آ کر بیٹھ گئے تاکہ اپنے آپ کو ہمارے برابر کرلیں، آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے حلقہ بنا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، تو سبھی لوگ حلقہ بنا کر بیٹھ گئے اور ان سب کا رخ آپ کی طرف ہوگیا۔ ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں : تو میرے علاوہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کو نہیں پہچانا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : اے فقرائے مہاجرین کی جماعت ! تمہارے لیے قیامت کے دن نور کامل کی بشارت ہے، تم لوگ جنت میں مالداروں سے آدھے دن پہلے داخل ہو گے، اور یہ پانچ سو برس ہوگا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٩٧٨) ، وقد أخرجہ : سنن ابن ماجہ/ الزہد ٦ (١٤٢٢) ، (قولہ : فقراء المہاجرون یدخلون الجنة قبل أغنیاء الناس ۔۔۔ ) مسند احمد (٣/٦٣، ٩٦) (ضعیف) ( اس کے راوی العلاء مجہول ہیں، لیکن آخری ٹکڑا متابعات کے سبب حسن ہے ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ ایسے فقراء و مساکین کا مقام و مرتبہ اغنیاء اور مالداروں سے بڑھ کر ہوگا، اور قیامت کے دن کے طویل ہونے میں جو اختلاف آیات و احادیث میں مذکور ہے تو یہ لوگوں کے اختلاف حال پر محمول ہے، یعنی جس پر جتنی سختی ہوگی اسے قیامت کا دن اتنا ہی لمبا معلوم ہوگا، اور اس پر جس قدر تکلیف کم ہوگی اسے اتنا ہی کم معلوم ہوگا۔
حدیث نمبر: 3666 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ بَشِيرٍ الْمُزَنِيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: جَلَسْتُ فِي عِصَابَةٍ مِنْ ضُعَفَاءِ الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنَّ بَعْضَهُمْ لَيَسْتَتِرُ بِبَعْضٍ مِنَ الْعُرْيِ، وَقَارِئٌ يَقْرَأُ عَلَيْنَا إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ عَلَيْنَا، فَلَمَّا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَكَتَ الْقَارِئُ، فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: مَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ ؟، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ قَارِئٌ لَنَا يَقْرَأُ عَلَيْنَا، فَكُنَّا نَسْتَمِعُ إِلَى كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ أُمِرْتُ أَنْ أَصْبِرَ نَفْسِي مَعَهُمْ، قَالَ: فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسْطَنَا لِيَعْدِلَ بِنَفْسِهِ فِينَا، ثُمَّ قَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا فَتَحَلَّقُوا وَبَرَزَتْ وُجُوهُهُمْ لَهُ، قَالَ: فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَفَ مِنْهُمْ أَحَدًا غَيْرِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرُوا يَا مَعْشَرَ صَعَالِيكِ الْمُهَاجِرِينَ بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَاءِ النَّاسِ بِنِصْفِ يَوْمٍ وَذَاكَ خَمْسُ مِائَةِ سَنَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৭
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصے وغیرہ کا بیان
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو فجر سے لے کر طلوع شمس تک اللہ کا ذکر کرتی ہو میرے نزدیک اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ امر ہے، اور میرا ایسی قوم کے ساتھ بیٹھنا جو نماز عصر سے غروب آفتاب تک اللہ کے ذکرو اذکار میں منہمک رہتی ہو میرے نزدیک چار غلام آزاد کرنے سے زیادہ محبوب ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٣٥١) (حسن )
حدیث نمبر: 3667 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي عَبْدُ السَّلَامِ يَعْنِي ابْنَ مُطَهَّرٍ أَبُو ظَفَرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ خَلَفٍ الْعَمِّيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل، وَلَأَنْ أَقْعُدَ مَعَ قَوْمٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ أَنْ أَعْتِقَ أَرْبَعَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৬৬৮
علم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصے وغیرہ کا بیان
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم مجھ پر سورة نساء پڑھو میں نے عرض کیا : کیا میں آپ کو پڑھ کے سناؤں ؟ جب کہ وہ آپ پر اتاری گئی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میں اوروں سے سنوں پھر میں نے آپ کو فكيف إذا جئنا من کل أمة بشهيد اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے (سورة النساء : ٤١) تک پڑھ کر سنایا، اور اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی دونوں آنکھوں سے آنسو جاری ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٩ (٤٥٨٢) ، فضائل القرآن ٣٢ (٥٠٤٩) ، ٣٣ (٥٠٥٠) ، ٣٥ (٥٠٥٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ٤٠ (٨٠٠) ، سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء ٥ (٣٠٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٤٠٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٠، ٤٣٢) (صحیح )
حدیث نمبر: 3668 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَأْ عَلَيَّ سُورَةَ النِّسَاءِ، قَالَ: قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟، قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ حَتَّى إِذَا انْتَهَيْتُ إِلَى قَوْلِهِ: فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ سورة النساء آية 41، فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا عَيْنَاهُ تَهْمِلَانِ.
তাহকীক: