কিতাবুস সুনান - ইমাম আবু দাউদ রহঃ (উর্দু)
كتاب السنن للإمام أبي داود
قربانی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪৬ টি
হাদীস নং: ২৮০৮
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ گائے اور بھینس وغیرہ کہ قربانی کتنے افراد کی طرف سے ہو سکتی ہے؟
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : گائے سات کی طرف سے کفایت کرتی ہے اور اونٹ بھی سات کی طرف سے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢٤٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٦٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2808 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْبَقَرَةُ عَنْ سَبْعَةٍ وَالْجَزُورُ عَنْ سَبْعَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮০৯
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ گائے اور بھینس وغیرہ کی قربانی کتنے افراد کی طرف سے ہو سکتی ہے؟
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے حدیبیہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات آدمیوں کی طرف سے اونٹ نحر کئے، اور گائے بھی سات آدمیوں کی طرف سے ذبح کی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ المناسک ٦٢ (١٣١٨) ، سنن الترمذی/ الحج ٦٦ (٩٠٤) ، الأضاحی ٨ (١٥٠٢) ، سنن ابن ماجہ/ الأضاحی ٥ (٣١٣٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٩٣٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2809 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ قَالَ: نَحَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ، وَالْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১০
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کئی آدمیوں کی طرف سے ایک بکری کی قربانی
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں عید الاضحی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عید گاہ میں موجود تھا، جب آپ ﷺ خطبہ دے چکے تو منبر سے اترے اور آپ کے پاس ایک مینڈھا لایا گیا، تو آپ ﷺ نے : بسم الله والله أكبر هذا عني وعمن لم يضح من أمتي اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے، یہ میری طرف سے اور میری امت کے ہر اس شخص کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی ہے ١ ؎ کہہ کر اسے اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأضاحي ٢٢ (١٥٢١) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١ (٣١٢١) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٩٩) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الأضاحي ١ (١٩٨٩) ، مسند احمد (٣/٣٥٦، ٣٦٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس جملے سے ثابت ہوا کہ مسلم کی جس روایت میں اجمال ہے (یعنی : یہ میری امت کی طرف سے ہے) اس سے مراد امت کے وہ زندہ لوگ ہیں جو عدم استطاعت کے سبب اس سال قربانی نہیں کرسکے تھے نہ کہ مردہ لوگ۔
حدیث نمبر: 2810 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَضْحَى بِالْمُصَلَّى، فَلَمَّا قَضَى خُطْبَتَهُ نَزَلَ مِنْ مِنْبَرِهِ وَأُتِيَ بِكَبْشٍ فَذَبَحَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، وَقَالَ: بِسْمِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا عَنِّي وَعَمَّنْ لَمْ يُضَحِّ مِنْ أُمَّتِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১১
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی قربانی عید گاہ میں ذبح کرتے تھے۔ اور ابن عمر (رض) بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٧ (٣١٦١) ، (تحفة الأشراف : ٧٤٧٣) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/العیدین ٢٢ (٩٨٢) ، والأضاحي ٦ (٥٥٥٢) ، سنن الترمذی/الضحایا ٩ (١٥٠٨) ، سنن النسائی/العیدین ٢٩ (١٥٩٠) ، والأضاحي ٢ (٤٣٧١) ، مسند احمد (٢/١٠٨، ١٥٢) (حسن صحیح) (ابن عمر (رض) کے فعل کے متعلق جملہ صحیح نہیں ہے )
حدیث نمبر: 2811 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَّ أَبَا أُسَامَةَ حدَّثَهُمْ عَنْ أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَذْبَحُ أُضْحِيَّتَهُ بِالْمُصَلَّى وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১২
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنا
عمرہ بنت عبدالرحمٰن کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں قربانی کے موقع پر (مدینہ میں) کچھ دیہاتی آگئے تو آپ ﷺ نے فرمایا : تین روز تک کا گوشت رکھ لو، جو باقی بچے صدقہ کر دو ، عائشہ (رض) کہتی ہیں : تو اس کے بعد جب پھر قربانی کا موقع آیا تو آپ ﷺ سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! لوگ اس سے پہلے اپنی قربانیوں سے فائدہ اٹھایا کرتے تھے، ان کی چربی محفوظ رکھتے تھے، ان کی کھالوں سے مشکیں بناتے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بات کیا ہے ؟ یا ایسے ہی کچھ کہا، تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ نے قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے اس وقت اس لیے منع کردیا تھا کہ کچھ دیہاتی تمہارے پاس آگئے تھے (اور انہیں بھی کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے ملنا چاہیئے تھا) ، اب قربانی کے گوشت کھاؤ، صدقہ کرو، اور رکھ چھوڑو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧١) ، سنن النسائی/الضحایا ٣٦ (٤٤٣٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٦٥، ١٧٩٠١) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأضاحي ١٤ (١٥١١) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٦ (٣١٦٠) ، موطا امام مالک/الضحایا ٤ (٧) ، مسند احمد (٦/٥١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2812 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: دَفَّ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ حَضْرَةَ الأَضْحَى فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ادَّخِرُوا الثُّلُثَ، وَتَصَدَّقُوا بِمَا بَقِيَ قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدُ ذَلِكَ، قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَانَ النَّاسُ يَنْتَفِعُونَ مِنْ ضَحَايَاهُمْ وَيَجْمُلُونَ مِنْهَا الْوَدَكَ، وَيَتَّخِذُونَ مِنْهَا الأَسْقِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَمَا ذَاكَ، أَوْ كَمَا قَالَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَهَيْتَ عَنْ إِمْسَاكِ لُحُومِ الضَّحَايَا بَعْدَ ثَلَاثٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّمَا نَهَيْتُكُمْ مِنْ أَجْلِ الدَّافَّةِ الَّتِي دَفَّتْ عَلَيْكُمْ فَكُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৩
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے گوشت کو رکھ چھوڑنا
نبیشہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا (بھی) رکھو اور (صدقہ دے کر) ثواب (بھی) کماؤ، سن لو ! یہ دن کھانے، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد (شکر گزاری) کے ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٢ (٤٢٤١) ، سنن ابن ماجہ/الأضاحي ١٦(٣١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٥٨٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧٥، ٧٦) ، دی/ الأضاحی ٦ (٢٠٠١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2813 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ لِكَيْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا، أَلَا وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৪
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے جانور پر شفقت کرنا
ثوبان (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (سفر میں) قربانی کی اور کہا : ثوبان ! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو (بناؤ) ، ثوبان (رض) کہتے ہیں : تو میں برابر وہی گوشت آپ ﷺ کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأضاحي ٥ (١٩٧٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٠٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٧٧، ٢٨١) ، سنن الدارمی/الأضاحي ٦ (٢٠٠٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2814 حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: خَصْلَتَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا قَالَ: غَيْرُ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৫
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قربانی کے جانور پر شفقت کرنا
شداد بن اوس (رض) کہتے ہیں کہ دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ایک یہ کہ : اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم (قصاص یا حد کے طور پر کسی کو) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو (یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کرلو تڑپا تڑپا کر مت مارو) ، (اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے) تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصید ١١ (١٩٥٥) ، سنن الترمذی/الدیات ١٤ (١٤٠٩) ، سنن النسائی/الضحایا ٢١ (٤٤١٠) ، ٢٦ (٤٤١٩) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٣ (٣١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٨١٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥) ، سنن الدارمی/الأضاحي ١٠ (٢٠١٣) (صحیح )
حدیث نمبر: 2815 حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَرَأَى فِتْيَانًا أَوْ غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا، فَقَالَ أَنَسٌ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৬
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسافر بھی قربانی کرے
ہشام بن زید کہتے ہیں کہ میں انس (رض) کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید ٢٥ (٥٥١٣) ، صحیح مسلم/الصید ١٢(١٩٥٦) ، سنن النسائی/الضحایا ٤٠ (٤٤٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٠ (٣١٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٧، ١٧١، ١٩١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2816 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ،عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَنَا لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ، قَالَ: فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৭
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ فکلوا مما ذکر اسم الله عليه سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ (سورۃ الانعام : ١١٨) ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو (سورۃ الانعام : ١٢١) تو یہ آیت منسوخ ہوچکی ہے، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہوگئے ہیں (یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وطَعام الذين أوتوا الکتاب حل لکم وطعامکم حل لهم اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے (سورۃ المائدہ : ٥) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٢٥٩) (حسن )
حدیث نمبر: 2817 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৮
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے : وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں (سورۃ المائدہ : ١٢١) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے : جسے اللہ نے ذبح کیا (یعنی اپنی موت مرگیا) اس کو نہ کھاؤ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا (سورۃ الانعام : ١٢١) ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الضحایا ٤٠ (٤٤٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٤ (٣١٧٣) ، (تحفة الأشراف : ٦١١١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2818 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ سورة الأنعام آية 121 يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلَا تَأْكُلُوا وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮১৯
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب کے ذبیحہ کا بیان
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری ولا تأکلوا مما لم يذكر اسم الله عليه۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/تفسیر الأنعام ٦ (٣٠٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٥٦٨) (صحیح) (یہود کا تذکرہ وہم ہے اصل معاملہ مشرکین کا ہے، ترمذی میں کسی کا تذکرہ نہیں ہے صرف الناس ہے )
حدیث نمبر: 2819 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَتْ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلَا نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২০
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جن جانوروں کو عرب اظہار تفاخر کے طور پر ذبح کریں ان کو کھانے کی ممانعت
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس (رض) پر موقوف کردیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٥٨١١) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : چونکہ ان جانوروں سے اللہ کی خوشنودی مقصود نہیں ہوتی تھی اسی لئے انہیں ما أهل لغير الله به کے مشابہ ٹھہرایا گیا۔
حدیث نمبر: 2820 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ، وَغُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২১
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے (بانس کی کھپچی) سے ذبح کریں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جلدی کرلو ١ ؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے، انہوں نے جلدی کی، اور کچھ مال غنیمت حاصل کرلیا، اور رسول اللہ ﷺ سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں، رسول اللہ ﷺ ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا، چناچہ وہ پلٹ دی گئیں، اور ان کے درمیان آپ ﷺ نے (مال غنیمت) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے (کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے) چناچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا (یعنی وہ چوٹ کھا کر گرگیا اور آگے نہ بڑھ سکا) اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشرکة ٣ (٢٤٨٨) ، ١٦ (٢٥٠٧) ، الجھاد ١٩١ (٣٠٧٥) ، الذبائح ١٥ (٥٤٩٨) ، ١٨ (٥٥٠٣) ، ٢٣ (٥٥٠٩) ، ٣٦ (٥٥٤٣) ، ٣٧ (٥٥٤٤) ، صحیح مسلم/الأضاحي ٤ (١٩٦٨) ، سنن الترمذی/الصید ١٩ (١٤٩٢) ، السیر ٤٠ (١٦٠٠) ، سنن النسائی/الصید ١٧ (٤٣٠٢) ، الضحایا ١٥ (٤٣٩٦) ، ٢٦ (٤٤١٤، ٤٤١٥) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩ (٣١٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤، ٤/١٤٠، ١٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ ایسی ہی کوئی صورت کر کے جلدی ذبح کرلو اور گوشت کھاؤ۔
حدیث نمبر: 2821 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ، وَتَقَدَّمَ بِهِ سَرْعَانٌ مِنَ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ النَّاسِ، فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقُدُورِ، فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২২
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان
محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید (دھار دار) پتھر سے ذبح کیا، پھر ان کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصید ٢٥ (٤٣١٨) ، والضحایا ١٧ (٤٤٠٤) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١٧ (٣٢٤٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٤٧١) (صحیح )
حدیث نمبر: 2822 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنِ زِيَادٍ، وَحَمَّادًا حَدَّثَاهُمُ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৩
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان
بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا، تو وہ مرنے لگی، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٦٤١) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الذبائح ٢ (٣) مسند احمد (٤/٣٦، ٥/٥٣٠) (صحیح )
حدیث نمبر: 2823 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ، فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ فَأَخَذَ وَتِدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهَرِيقَ دَمُهَا، ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৪
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مروہ (سفید پتھر) سے ذبح کرنے کا بیان
عدی بن حاتم (رض) کہتے ہیں میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید (دھار دار) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے (اس شکار کو) ذبح کرلے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم بسم اللہ اکبر کہہ کر (اللہ کا نام لے کر) جس چیز سے چاہے خون بہا دو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الصید ٢٠ (٤٣٠٩) ، الضحایا ١٨(٤٤٠٦) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٥ (٣١٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٩٨٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٥٦، ٢٥٨، ٣٧٧) (صحیح )
حدیث نمبر: 2824 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرَيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا، وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا، فَقَالَ: أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৫
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ وجانور کسی اونچی جگہ سے گر پڑے اس کے ذبح کر نیکا طریقہ
ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ متردی ١ ؎ اور متوحش ٢ ؎ کے ذبح کا طریقہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصید ١٣ (١٤٨١) ، سنن النسائی/الضحایا ٢٤ (٤٤١٣) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٩ (٣١٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٦٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٤) ، دی/ الأضاحي ١٢ (٢٠١٥) (منکر) (اس کے راوی ابوالعشراء مجہول اعرابی ہیں ان کے والد بھی مجہول ہیں مگر صحابی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جو جانور گرپڑے اور ذبح کی مہلت نہ ملے۔ ٢ ؎ : ایسا جنگلی جانور جو بھاگ نکلے۔
حدیث نمبر: 2825 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلَّا مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لَأَجْزَأَ عَنْكَ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا لَا يَصْلُحُ إِلَّا فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৬
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذبح خوب اچھی طرح کرنا چاہئے
عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے شريطة الشيطان سے منع فرمایا ہے ١ ؎۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے : اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ (تڑپ تڑپ کر) مرجائے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٦١٧٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٨٩) (ضعیف) (اس کے راوی عمرو بن عبد اللہ بن الاسوار ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : شریط کے معنی نشتر مارنے کے ہیں، یہ شریط حجامت سے ماخوذ ہے، اسی وجہ سے اسے شریط کہا گیا ہے، اور شیطان کی طرف اس کی نسبت اس وجہ سے کی گئی ہے کہ شیطان ہی اسے اس عمل پر اکساتا ہے ، اس میں جانور کو تکلیف ہوتی ہے، خون جلدی نہیں نکلتا اور اس کی جان تڑپ تڑپ کر نکلتی ہے۔
حدیث نمبر: 2826 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عِيسَى مَوْلَى ابن المبارك، عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، زَادَ ابْنُ عِيسَى، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَا: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ، زَادَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ وَهِيَ الَّتِي تُذْبَحُ فَيُقْطَعُ الْجِلْدُ وَلَا تُفْرَى الأَوْدَاجُ، ثُمَّ تُتْرَكُ حَتَّى تَمُوتَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৮২৭
قربانی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پیٹ کے بچہ کی زکوة (ذبح) کا بیان
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر چاہو تو اسے کھالو ١ ؎۔ مسدد کی روایت میں ہے : ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : چاہو تو اسے کھالو، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الأطعمة ٢ (١٤٧٦) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١٥ (٣١٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٨٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١، ٣٩، ٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اکثر علماء کا یہی مذہب ہے، لیکن امام ابوحنیفہ سے اس کے خلاف مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر زندہ نکلے تو ذبح کر کے کھائے اور اگر مردہ ہو تو نہ کھائے۔
حدیث نمبر: 2827 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْجَنِينِ، فَقَالَ: كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ، وَقَالَ مُسَدَّدٌ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ نَنْحَرُ النَّاقَةَ، وَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ فَنَجِدُ فِي بَطْنِهَا الْجَنِينَ أَنُلْقِيهِ أَمْ نَأْكُلُهُ ؟ قَالَ: كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ.
তাহকীক: