আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৩ টি

হাদীস নং: ৩১০৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت یونس
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ذکر کیا کہ (جب فرعون ڈوبنے لگا) جبرائیل (علیہ السلام) فرعون کے منہ میں مٹی ٹھونسنے لگے، اس ڈر سے کہ وہ کہیں «لا إلٰہ إلا اللہ» نہ کہہ دے تو اللہ کو اس پر رحم آ جائے۔ راوی کو شک ہوگیا ہے کہ آپ نے «خشية أن يقول لا إله إلا الله» کہا یا «خشية أن يرحمه الله» کہا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ٥٥٦١، ٥٥٧٢) (صحیح الإسناد ) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3108
حدیث نمبر: 3108 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ذَكَرَ أَحَدُهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ يَدُسُّ فِي فِي فِرْعَوْنَ الطِّينَ خَشْيَةَ أَنْ يَقُولَ:‏‏‏‏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَرْحَمَهُ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ خَشْيَةَ أَنْ يَرْحَمَهُ اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১০৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ہود
ابورزین (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ اپنی مخلوق کو پیدا کرنے سے پہلے کہاں تھا ؟ آپ نے فرمایا : «عماء» میں تھا، نہ تو اس کے نیچے ہوا تھی نہ ہی اس کے اوپر۔ اس نے اپنا عرش پانی پر بنایا ١ ؎، احمد بن منیع کہتے ہیں : (ہمارے استاد) یزید نے بتایا : «عماء» کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ساتھ کوئی چیز نہ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اسی طرح حماد بن سلمہ نے اپنی روایت میں وكيع بن حدس کہا ہے اور شعبہ، ابو عوانہ اور ہشیم نے وكيع بن عدس کہا ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے، ٣ - ابورزین کا نام لقیط بن عامر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ١٣ (١٨١) (تحفة الأشراف : ١١١٧٦) (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : «عماء» : اگر بالمد ہو تو اس کے معنی «سحاب» ، «رقیق» (بدلی) کے ہیں ، اور اگر بالقصر ہو تو اس کے معنی «لاشیٔ» کے ہوتے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (281) // { كذا } وهو في ضعيف سنن ابن ماجة برقم (32 - 182) ، مختصر العلو (193 و 250) ، السنة (612) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3109
حدیث نمبر: 3109 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ وَكِيعِ بْنِ حُدُسٍ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي رَزِينٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيْنَ كَانَ رَبُّنَا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ خَلْقَهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ فِي عَمَاءٍ مَا تَحْتَهُ هَوَاءٌ وَمَا فَوْقَهُ هَوَاءٌ وَخَلَقَ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ الْعَمَاءُ:‏‏‏‏ أَيْ لَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَكَذَا رَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَكِيعُ بْنُ حُدُسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو عَوَانَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهُشَيْمٌ:‏‏‏‏ وَكِيعُ بْنُ عُدُسٍ وَهُوَ أَصَحُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو رَزِينٍ اسْمُهُ لَقِيطُ بْنُ عَامِرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ہود
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ تبارک و تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے مگر جب اسے گرفت میں لے لیتا ہے پھر تو اسے چھوڑتا بھی نہیں ، پھر آپ نے آیت «وكذلك أخذ ربک إذا أخذ القری وهي ظالمة» ایسی ہی ہے تیرے رب کی پکڑ جب وہ کسی ظالم بستی والے کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بڑی سخت، درد ناک ہوتی ہے (ہود : ١٠٢ ) ، تلاوت فرمائی۔ (راوی ابومعاویہ نے کبھی «یملی» کہا اور کبھی «یمہل» دونوں کا معنی ایک ہے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - ابواسامہ نے بھی اسے برید سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور «یُملی» کا لفظ استعمال کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر ھود ٤ (٤٦٨٦) ، صحیح مسلم/البر والصلة ١٥ (٢٥٨٣) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٢ (٤٠١٨) (تحفة الأشراف : ٩٠٣٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3110 ابوموسیٰ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی اور اس میں «یُملی» کا لفظ کسی شک کے بغیر کہا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3110
حدیث نمبر: 3110 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُمْلِي، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّمَا قَالَ:‏‏‏‏ يُمْهِلُ، ‏‏‏‏‏‏لِلظَّالِمِ حَتَّى إِذَا أَخَذَهُ لَمْ يُفْلِتْهُ ثُمَّ قَرَأَ وَكَذَلِكَ أَخْذُ رَبِّكَ إِذَا أَخَذَ الْقُرَى وَهِيَ ظَالِمَةٌ سورة هود آية 102 الْآيَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو أُسَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُرَيْدٍ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ يُمْلِي. حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ يُمْلِي وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ہود
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «فمنهم شقي وسعيد» سو ان میں کوئی بدبخت ہوگا اور کوئی نیک بخت (ہود : ١٠٥ ) ، نازل ہوئی تو میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کے نبی ! پھر ہم کس چیز کے موافق عمل کریں ؟ کیا اس چیز کے موافق عمل کریں جس سے فراغت ہوچکی ہے (یعنی جس کا فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے) ؟ یا ہم ایسی چیز پر عمل کریں جس سے ابھی فراغت نہیں ہوئی ہے۔ (یعنی اس کا فیصلہ ہمارا عمل دیکھ کر کیا جائے گا) آپ نے فرمایا : عمر ! ہم اسی چیز کے موافق عمل کرتے ہیں جس سے فراغت ہوچکی ہے۔ (اور ہمارے عمل سے پہلے) وہ چیز ضبط تحریر میں آچکی ہے ٢ ؎، لیکن بات صرف اتنی ہے کہ ہر شخص کے لیے وہی آسان ہے جس کے لیے وہ پیدا ہوا ہے ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عبدالملک بن عمرو کی حدیث سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٥٤٠) (صحیح ) وضاحت : ٢ ؎ : ہمارے وجود میں آنے سے پہلے ہی سب کچھ لکھا جا چکا ہے کہ ہم پیدا ہو کر کیا کچھ کریں گے اور کس انجام کو پہنچیں گے۔ ٣ ؎ : نیک کو نیک عمل کی اور برے کو برے عمل کی توفیق دی جاتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الظلال (161 - 166) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3111
حدیث نمبر: 3111 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ هُوَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ سورة هود آية 105 سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَعَلَى مَا نَعْمَلُ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ أَوْ عَلَى شَيْءٍ لَمْ يُفْرَغْ مِنْهُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ عَلَى شَيْءٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ وَجَرَتْ بِهِ الْأَقْلَامُ يَا عُمَرُ وَلَكِنْ كُلٌّ مُيَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَمْرٍو.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ہود
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : شہر کے بیرونی علاقے میں ایک عورت سے میں ملا اور سوائے جماع کے اس کے ساتھ میں نے سب کچھ کیا، اور اب بذات خود میں یہاں موجود ہوں، تو آپ اب میرے بارے میں جو فیصلہ چاہیں صادر فرمائیں (میں وہ سزا جھیلنے کے لیے تیار ہوں) عمر (رض) نے اس سے کہا : اللہ نے تیری پردہ پوشی کی ہے کاش تو نے بھی اپنے نفس کی پردہ پوشی کی ہوتی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اور وہ آدمی چلا گیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اسے آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلک ذكرى للذاکرين» نماز قائم کرو دن کے دونوں کناروں میں اور رات کے حصوں میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔ یہ نصیحت ہے یاد رکھنے والوں کے لیے (ہود : ١١٤ ) ، تک پڑھ کر سنائی۔ ایک صحابی نے کہا : کیا یہ (بشارت) اس شخص کے لیے خاص ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ سب کے لیے ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسی طرح اسی جیسی روایت کی ہے اسرائیل نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے علقمہ اور اسود سے، اور ان دونوں نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے، ٣ - اور اسی سفیان ثوری نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اور ان لوگوں کی روایت سفیان ثوری کی روایت سے زیادہ صحیح ہے ٣ ؎، ٤ - شعبہ نے سماک بن حرب سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے اسود سے اور اسود نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/مواقیت الصلاة ٤ (٥٢٦) ، وتفسیر ھود ٤ (٤٦٨٧) ، صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٣) ، سنن ابی داود/ الحدود ٣٢ (٤٤٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٣ (١٣٩٨) ، ویأتي بعد حدیث (تحفة الأشراف : ٩١٦٢) (صحیح) وضاحت : ٢ ؎ : یہ گناہ صغیرہ کے بارے میں ہے کیونکہ گناہ کبیرہ سے بغیر توبہ کے معافی نہیں ہے ، اور اس آدمی سے گناہ صغیرہ ہی سرزد ہوا تھا۔ ٣ ؎ : یعنی اسرائیل ، ابوالاحوص اور شعبہ کی روایات ثوری کی روایت سے (سنداً ) زیادہ صحیح ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (1398) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3112 اس سند سے، سفیان نے اعمش سے، (اور اعمش) اور سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (1398) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3112 سفیان سے، سفیان نے سماک سے، سماک نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن یزید سے اور عبدالرحمٰن نے عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے اسی کی ہم معنی حدیث روایت کی۔ اور اس سند میں اعمش کا ذکر نہیں کیا، اور سلیمان تیمی نے یہ حدیث ابوعثمان نہدی سے روایت کی، اور ابوعثمان نے ابن مسعود کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (1398) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3112
حدیث نمبر: 3112 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:‏‏‏‏ لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ عَلَى نَفْسِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَأَتْبَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَدَعَاهُ فَتَلَا عَلَيْهِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ هَذَا لَهُ خَاصَّةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرِوَايَةُ هَؤُلَاءِ أَصَحُّ مِنْ رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ. حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، وَسِمَاكٌ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ. حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْأَعْمَشَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَىسُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ہود
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ایک ایسے شخص کے بارے میں مجھے بتائیے جو ایک ایسی عورت سے ملا جن دونوں کا آپس میں جان پہچان، رشتہ و ناطہٰ (نکاح) نہیں ہے اور اس نے اس عورت کے ساتھ سوائے جماع کے وہ سب کچھ (بوس و کنار چوما چاٹی وغیرہ) کیا جو ایک مرد اپنی بیوی کے ساتھ کرتا ہے ؟ ، (اس پر) اللہ تعالیٰ نے آیت : «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلک ذكرى للذاکرين» ناز فرمائی، آپ ﷺ نے اسے وضو کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا، میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ! کیا یہ حکم اس شخص کے لیے خاص ہے یا سبھی مومنین کے لیے عام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ سبھی مسلمانوں کے لیے عام ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس حدیث کی سند متصل نہیں ہے، (اس لیے کہ) عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے معاذ سے نہیں سنا ہے، اور معاذ بن جبل (رض) کا انتقال عمر (رض) کے دور خلافت میں ہوا تھا، اور عمر (رض) جب شہید کیے گئے تو اس وقت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ چھ برس کے چھوٹے بچے تھے۔ حالانکہ انہوں نے عمر سے (مرسلاً ) روایت کی ہے (جبکہ صرف) انہیں دیکھا ہے، ٢ - شعبہ نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کے واسطہ سے، نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ١١٣٤٣) (ضعیف الإسناد) (مؤلف نے سبب بیان کردیا ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3113
حدیث نمبر: 3113 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ مُعَاذٍ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَرَأَيْتَ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا مَعْرِفَةٌ فَلَيْسَ يَأْتِي الرَّجُلُ شَيْئًا إِلَى امْرَأَتِهِ إِلَّا قَدْ أَتَى هُوَ إِلَيْهَا إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يُجَامِعْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَيُصَلِّيَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ مُعَاذٌ:‏‏‏‏ فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَهِيَ لَهُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ لِلْمُؤْمِنِينَ عَامَّةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ مَاتَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَقُتِلَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى غُلَامٌ صَغِيرٌ ابْنُ سِتِّ سِنِينَ وَقَدْ رَوَى عَنْ عُمَرَ وَرَآهُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ہود
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک (غیر محرم) عورت کا ناجائز بوسہ لے لیا پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر پوچھا کہ اس کا کفارہ کیا ہے ؟ اس پر آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات» نازل ہوئی، اس شخص نے پوچھا کیا یہ (کفارہ) صرف میرے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ تمہارے لیے ہے اور میری امت کے ہر اس شخص کے لیے جو یہ غلطی کر بیٹھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٣١١٢ (تحفة الأشراف : ٩٣٨٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1398) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3114
حدیث نمبر: 3114 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةَ حَرَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا فَنَزَلَتْ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّجُلُ:‏‏‏‏ أَلِي هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَكَ وَلِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت ہود
ابوالیسر (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت میرے پاس کھجور خریدنے آئی، میں نے اس سے کہا : (یہ کھجور جو یہاں موجود ہے جسے تم دیکھ رہی ہو) اس سے اچھی اور عمدہ کھجور گھر میں رکھی ہے۔ چناچہ وہ بھی میرے ساتھ ساتھ گھر میں آ گئی، میں اس کی طرف مائل ہوگیا اور اس کو چوم لیا، تب ابوبکر (رض) کے پاس آ کر ان سے اس واقعہ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا : اپنے نفس (کی اس غلطی) پر پردہ ڈال دو ، توبہ کرو دوسرے کسی اور سے اس واقعہ کا ذکر نہ کرو، لیکن مجھ سے صبر نہ ہوسکا چناچہ میں عمر (رض) کے پاس آیا اور ان سے بھی اس (واقعہ) کا ذکر کیا، انہوں نے بھی کہا : اپنے نفس کی پردہ پوشی کرو، توبہ کرو اور کسی دوسرے کو یہ واقعہ نہ بتاؤ۔ (مگر میرا جی نہ مانا) میں اس بات پر قائم نہ رہا، اور رسول اللہ ﷺ کے پاس آ کر آپ کو بھی یہ بات بتادی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے ایک غازی کی بیوی کے ساتھ جو اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلا ہے اس کی غیر موجودگی میں ایسی حرکت کی ہے ؟ آپ کی اتنی بات کہنے سے مجھے اتنی غیرت آئی کہ میں نے تمنا کی کہ کاش میں اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہوتا بلکہ اب لاتا اسے خیال ہوا کہ وہ تو جہنم والوں میں سے ہوگیا ہے رسول اللہ ﷺ (سوچ میں) کافی دیر تک سر جھکائے رہے یہاں تک کہ آپ پر بذریعہ وحی آیت «وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل» سے «ذكرى للذاکرين» تک نازل ہوئی۔ ابوالیسر (رض) کہتے ہیں : (جب) میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی۔ صحابہ نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا یہ (بشارت) ان کے لیے خاص ہے یا سبھی لوگوں کے لیے عام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، بلکہ سبھی لوگوں کے لیے عام ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - قیس بن ربیع کو وکیع وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوالیسر کعب بن عمرو (رض) ہیں، ٣ - شریک نے عثمان بن عبداللہ سے یہ حدیث قیس بن ربیع کی روایت کی طرح روایت کی ہے، ٤ - اس باب میں ابوامامہ اور واثلہ بن اسقع اور انس بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ١١١٢٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : پچھلی روایات میں مبہم آدمی یہی ابوالیسر (رض) ہوں گے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3115
حدیث نمبر: 3115 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْيَسَرِ، قَالَ:‏‏‏‏ أَتَتْنِي امْرَأَةٌ تَبْتَاعُ تَمْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ إِنَّ فِي الْبَيْتِ تَمْرًا أَطْيَبَ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلَتْ مَعِي فِي الْبَيْتِ فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا فَتَقَبَّلْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ وَتُبْ وَلَا تُخْبِرْ أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَصْبِرْ فَأَتَيْتُ عُمَرَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اسْتُرْ عَلَى نَفْسِكَ وَتُبْ وَلَا تُخْبِرْ أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمْ أَصْبِرْ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَخَلَفْتَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فِي أَهْلِهِ بِمِثْلِ هَذَا حَتَّى تَمَنَّى أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَسْلَمَ إِلَّا تِلْكَ السَّاعَةَ حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَأَطْرَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَوِيلًا حَتَّى أَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِلَى قَوْلِهِ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو الْيَسَرِ:‏‏‏‏ فَأَتَيْتُهُ فَقَرَأَهَا عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَصْحَابُهُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَلِهَذَا خَاصَّةً أَمْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ؟ قَالَ:‏‏‏‏ بَلْ لِلنَّاسِ عَامَّةً ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ضَعَّفَهُ وَكِيعٌ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْيَسَرِ هُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَرَوَى شَرِيكٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ هَذَا الْحَدِيثَ مِثْلَ رِوَايَةِ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت یوسف
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : شریف بیٹے شریف (باپ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف (باپ) کے وہ بھی شریف بیٹے شریف باپ کے (یعنی) یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم (علیہم السلام) ١ ؎ کی عظمت اور نجابت و شرافت کا یہ حال تھا کہ جتنے دنوں یوسف (علیہ السلام) جیل خانے میں رہے ٢ ؎ اگر میں قید خانے میں رہتا، پھر (بادشاہ کا) قاصد مجھے بلانے آتا تو میں اس کی پکار پر فوراً جا حاضر ہوتا، یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ کی طلبی کو قبول نہ کیا بلکہ کہا جاؤ پہلے بادشاہ سے پوچھو ! ان محترمات کا اب کیا معاملہ ہے، جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ لیے تھے۔ پھر آپ نے آیت : «فلما جاء ه الرسول قال ارجع إلى ربک فاسأله ما بال النسوة اللاتي قطعن أيديهن» ٣ ؎ کی تلاوت فرمائی۔ آپ نے فرمایا : اللہ رحم فرمائے لوط (علیہ السلام) پر جب کہ انہوں نے مجبور ہو کر تمنا کی تھی : اے کاش میرے پاس طاقت ہوتی، یا کوئی مضبوط سہارا مل جاتا۔ جب کہ انہوں نے کہا : «لو أن لي بکم قوة أو آوي إلى رکن شديد» ٤ ؎۔ آپ نے فرمایا : لوط (علیہ السلام) کے بعد تو اللہ نے جتنے بھی نبی بھیجے انہیں ان کی قوم کے اعلیٰ نسب چیدہ لوگوں اور بلند مقام والوں ہی میں سے بھیجے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مسند احمد (٢/٣٣٢، ٣٨٤) (تحفة الأشراف : ١٥٠٨١) (حسن) (” ذروة “ کے بجائے ” ثروة “ کے لفظ سے یہ حسن ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں آ رہا ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جن کی چار پشت میں نبوت و شرافت مسلسل چلی آئی۔ ٢ ؎ : بقول عکرمہ سات سال اور بقول کلبی پانچ برس۔ ٣ ؎ : جب قاصد یوسف کے پاس پہنچا تو انہوں نے کہا : اپنے بادشاہ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا حقیقی واقعہ کیا ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے ؟ (یوسف : ٥٠ ) ۔ ٤ ؎ : کاش میرے پاس قوت ہوتی (کہ میں طاقت کے ذریعہ تمہیں ناروا فعل سے روک دیتا) یا یہ کہ مجھے (قبیلہ یا خاندان کا) مضبوط سہارا حاصل ہوتا (ہود : ٨٠ ) ۔ قال الشيخ الألباني : حسن - باللفظ الآتی : ثروة -، الصحيحة (1617 و 1867) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3116
حدیث نمبر: 3116 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ الْخُزَاعِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْكَرِيمَ ابْنَ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ ابْنِ الْكَرِيمِ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَلَوْ لَبِثْتُ فِي السِّجْنِ مَا لَبِثَ يُوسُفُ ثُمَّ جَاءَنِي الرَّسُولُ أَجَبْتُ ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ فَلَمَّا جَاءَهُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ سورة يوسف آية 50 قَالَ:‏‏‏‏ وَرَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى لُوطٍ إِنْ كَانَ لَيَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ إِذْ قَالَ:‏‏‏‏ لَوْ أَنَّ لِي بِكُمْ قُوَّةً أَوْ آوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ سورة هود آية 80 فَمَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ بَعْدِهِ نَبِيًّا إِلَّا فِي ذِرْوَةٍ مِنْ قَوْمِهِ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت الرعد
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے کہا : اے ابوالقاسم ! ہمیں «رعد» کے بارے میں بتائیے وہ کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہے۔ بادلوں کو گردش دینے (ہانکنے) پر مقرر ہے، اس کے پاس آگ کے کوڑے ہیں۔ اس کے ذریعہ اللہ جہاں چاہتا ہے وہ وہاں بادلوں کو ہانک کرلے جاتا ہے ۔ پھر انہوں نے کہا : یہ آواز کیسی ہے جسے ہم سنتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ تو بادل کو اس کی ڈانٹ ہے، جب تک کہ جہاں پہنچنے کا حکم دیا گیا ہے نہ پہنچے ڈانٹ پڑتی ہی رہتی ہے۔ انہوں نے کہا : آپ نے درست فرمایا : اچھا اب ہمیں یہ بتائیے اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے آپ پر کیا چیز حرام کرلی تھی ؟ آپ نے فرمایا : اسرائیل کو عرق النسا کی تکلیف ہوگئی تھی تو انہوں نے اونٹوں کے گوشت اور ان کا دودھ (بطور نذر) ١ ؎ کھانا پینا حرام کرلیا تھا ۔ انہوں نے کہا : آپ صحیح فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ـ یہحدیثحسنغریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف : ٥٤٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مسند احمد کی روایت کے مطابق : انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر میں صحت یاب ہوگیا تو سب سے محبوب کھانے کو اپنے اوپر حرام کروں گا اس لیے انہوں نے اونٹوں کے گوشت اور دودھ کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1872) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3117
حدیث نمبر: 3117 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، وَكَانَ يَكُونُ فِي بَنِي عِجْلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُكَيْرِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أَقْبَلَتْ يَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبِرْنَا عَنِ الرَّعْدِ مَا هُوَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَلَكٌ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُوَكَّلٌ بِالسَّحَابِ، ‏‏‏‏‏‏مَعَهُ مَخَارِيقُ مِنْ نَارٍ يَسُوقُ بِهَا السَّحَابَ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ فَمَا هَذَا الصَّوْتُ الَّذِي نَسْمَعُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ زَجْرُهُ بِالسَّحَابِ إِذَا زَجَرَهُ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى حَيْثُ أُمِرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ صَدَقْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبِرْنَا عَمَّا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ اشْتَكَى عِرْقَ النَّسَا فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يُلَائِمُهُ إِلَّا لُحُومَ الْإِبِلِ وَأَلْبَانَهَا فَلِذَلِكَ حَرَّمَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ صَدَقْتَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت الرعد
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول «ونفضل بعضها علی بعض في الأكل» ہم بعض پھلوں کو بعض پر (لذت اور خوش ذائقگی میں) فضیلت دیتے ہیں (الرعد : ٤ ) ، بارے میں فرمایا : اس سے مراد ردی اور سوکھی کھجوریں ہیں، فارسی کھجوریں ہیں، میٹھی اور کڑوی کسیلی کھجوریں ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - زید بن ابی انیسہ نے اعمش سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - اور سیف بن محمد (جو اس روایت کے راویوں میں سے ہیں) وہ عمار بن محمد کے بھائی ہیں اور عمار ان سے زیادہ ثقہ ہیں اور یہ سفیان ثوری کے بھانجے ہیں۔ فائدہ ١ ؎: ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک ہے، نشو و نما کرنے والی دھوپ، گرمی اور ہوا ایک ہے، مگر رنگ، شکلیں اور ذائقے الگ الگ ہیں، یہ اللہ کا کمال قدرت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٣٩١) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3118
حدیث نمبر: 3118 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ الثَّوْرِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ وَنُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلَى بَعْضٍ فِي الأُكُلِ سورة الرعد آية 4، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الدَّقَلُ وَالْفَارِسِيُّ وَالْحُلْوُ وَالْحَامِضُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِنَحْوَ هَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَسَيْفُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ أَخُو عَمَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَمَّارٌ أَثْبَتُ مِنْهُ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১১৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ ابراہیم کی تفسیر
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ٹوکری لائی گئی جس میں تروتازہ پکی ہوئی کھجوریں تھیں، آپ نے فرمایا : «كلمة طيبة کشجرة طيبة أصلها ثابت وفرعها في السماء تؤتي أكلها كل حين بإذن ربها» ١ ؎ آپ نے فرمایا : یہ کھجور کا درخت ہے، اور آیت «ومثل کلمة خبيثة کشجرة خبيثة اجتثت من فوق الأرض ما لها من قرار» ٢ ؎ میں برے درخت سے مراد اندرائن ہے۔ شعیب بن حبحاب (راوی حدیث) کہتے ہیں : میں نے اس حدیث کا ذکر ابوالعالیہ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے سچ اور صحیح کہا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (ضعیف) (مرفوعا صحیح نہیں ہے، یہ انس (رض) کا قول ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں ہے) وضاحت : ١ ؎ : کلمہ طیبہ کی مثال شجرہ طیبہ (کھجور کے درخت) کی ہے جس کی جڑ ثابت و (مضبوط) ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے برابر (لگاتار) پھل دیتا رہتا ہے (ابراہیم : ٢٤ ) ۔ ٢ ؎ : برے کلمے (بری بات) کی مثال برے درخت جیسی ہے جو زمین کی اوپری سطح سے اکھیڑ دیا جاسکتا ہے جسے کوئی جماؤ (ثبات و مضبوطی) حاصل نہیں ہوتی (ابراہیم : ٢٦ ) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3119 امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں : ہم سے ابوبکر بن شعیب بن حبحاب نے بیان کیا، اور ابوبکر نے اپنے باپ شعیب سے اور شعیب نے انس بن مالک سے اسی طرح اسی حدیث کی ہم معنی حدیث روایت کی، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا، نہ ہی انہوں نے ابوالعالیہ کا قول نقل کیا ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - کئی ایک نے ایسی ہی حدیث موقوفاً روایت کی ہے، اور ہم حماد بن سلمہ کے سوا کسی کو بھی نہیں جانتے جنہوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہو، اس حدیث کو معمر اور حماد بن زید اور کئی اور لوگوں نے بھی روایت کیا ہے، لیکن ان لوگوں نے اسے مرفوع روایت نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3119 ہم سے احمد بن عبدۃ ضبی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا اور حماد نے شعیب بن حبحاب کے واسطہ سے انس سے قتیبہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، لیکن اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3119
حدیث نمبر: 3119 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:‏‏‏‏ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقِنَاعٍ عَلَيْهِ رُطَبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَثَلُ كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ‏‏‏‏ 24 ‏‏‏‏ تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَا سورة إبراهيم آية 24 ـ 25، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هِيَ النَّخْلَةُ وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ سورة إبراهيم آية 26 قَالَ:‏‏‏‏ هِيَ الْحَنْظَلُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرْتُ بِذَلِكَ أَبَا الْعَالِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ وَأَحْسَنَ. حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ أَبِي الْعَالِيَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ مِثْلَ هَذَا مَوْقُوفًا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ غَيْرَ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ وَلَمْ يَرْفَعُوهُ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ ابراہیم کی تفسیر
براء بن عازب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت «يثبت اللہ الذين آمنوا بالقول الثابت في الحياة الدنيا وفي الآخرة» اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں، قول ثابت (محکم بات) کے ذریعہ دنیا و آخرت دونوں میں ثابت قدم رکھتا ہے (ابراہیم : ٢٧ ) ، کی تفسیر میں فرمایا : ثابت رکھنے سے مراد قبر میں اس وقت ثابت رکھنا ہے جب قبر میں پوچھا جائے گا : «من ربك ؟» ‏‏‏‏ تمہارا رب، معبود کون ہے ؟ «وما دينك ؟» ‏‏‏‏ تمہارا دین کیا ہے ؟ «ومن نبيك ؟» ‏‏‏‏ تمہارا نبی کون ہے ؟ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٦ (١٣٦٩) ، وتفسیر سورة ابراہیم ٢ (٤٦٩٩) ، صحیح مسلم/الجنة ١٧ (٢٨٧١) ، سنن ابی داود/ السنة ٢٧ (٤٧٥٠) ، سنن النسائی/الجنائز ١١٤ (٢٠٥٩) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٢ (٤٢٦٩) (تحفة الأشراف : ١٧٦٢) (وانظر أیضا ماعند د برقم ٣٢١٢، و ٤٨٥٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ مومن بندہ کہے گا : میرا رب (معبود) اللہ ہے ، میرا دین اسلام ہے اور میرے نبی محمد ﷺ ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3120
حدیث نمبر: 3120 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ عُبَيْدَةَيُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْبَرَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى:‏‏‏‏ يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ سورة إبراهيم آية 27 قَالَ:‏‏‏‏ فِي الْقَبْرِ إِذَا قِيلَ لَهُ مَنْ رَبُّكَ وَمَا دِينُكَ وَمَنْ نَبِيُّكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ ابراہیم کی تفسیر
مسروق کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ (رض) نے آیت «يوم تبدل الأرض غير الأرض» جس دن زمین و آسمان بدل کر دوسری طرح کے کردیئے جائیں گے (ابراہیم : ٤٨ ) ، پڑھ کر سوال کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت لوگ کہاں ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا : «علی الصراط» پل صراط پر ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ام المؤمنین عائشہ (رض) سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المنافقین ٢ (٢٩٧١) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٣ (٤٢٧٩) (تحفة الأشراف : ١٧٦١٧) ، و مسند احمد (٦/٣٥، ١٠١، ١٣٤، ٢١٨) ، وسنن الدارمی/الرقاق ٨٨ (٢٨٥١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4279) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3121
حدیث نمبر: 3121 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ:‏‏‏‏ تَلَتْ عَائِشَةُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ سورة إبراهيم آية 48، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَيْنَ يَكُونُ النَّاسُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ عَلَى الصِّرَاطِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَائِشَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حجر
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک خوبصورت عورت رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (عورتوں کی صفوں میں) نماز پڑھا کرتی تھی تو بعض لوگ آگے بڑھ کر پہلی صف میں ہوجاتے تھے تاکہ وہ اسے نہ دیکھ سکیں اور بعض آگے سے پیچھے آ کر آخری صف میں ہوجاتے تھے (عورتوں کی صف سے ملی ہوئی صف میں) پھر جب وہ رکوع میں جاتے تو اپنی بغلوں کے نیچے سے اسے دیکھتے، اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ولقد علمنا المستقدمين منکم ولقد علمنا المستأخرين» ہم خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو آگے بڑھ جانے والے ہیں اور ان لوگوں کو بھی جو پیچھے ہٹ جانے والے ہیں (الحجر : ٢٤ ) ، نازل فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : جعفر بن سلیمان نے یہ حدیث عمرو بن مالک سے اور عمروبن مالک نے ابوالجوزاء سے اسی طرح روایت کی ہے، اور اس میں «عن ابن عباس» کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور اس میں اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ یہ نوح کی حدیث سے زیادہ صحیح و درست ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإمامة ٦٢ (٨٧١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦٨ (١٠٤٦) (تحفة الأشراف : ٥٣٦٤) ، و مسند احمد (١/٣٠٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2472) ، الثمر المستطاب / الصلاة صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3122
حدیث نمبر: 3122 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَتِ امْرَأَةٌ تُصَلِّي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْنَاءُ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَانَ بَعْضُ الْقَوْمِ يَتَقَدَّمُ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ لِئَلَّا يَرَاهَا، ‏‏‏‏‏‏وَيَسْتَأْخِرُ بَعْضُهُمْ حَتَّى يَكُونَ فِي الصَّفِّ الْمُؤَخَّرِ فَإِذَا رَكَعَ نَظَرَ مِنْ تَحْتِ إِبْطَيْهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنْكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ سورة الحجر آية 24 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَرَوَى جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ أَصَحَّ مِنْ حَدِيثِ نُوحٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حجر
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہنم کے سات دروازے ہیں، ان میں سے ایک دروازہ ان لوگوں کے لیے ہے جو میری امت یا امت محمدیہ پر تلوار اٹھائیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف مالک بن مغول کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٦٧٨) (ضعیف) (سند میں جنید مجہول الحال راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مولف نے یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «لها سبعة أبواب» (الحجر : ٤٤ ) کی تفسیر میں لائے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (3530 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4661) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3123
حدیث نمبر: 3123 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ جُنَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِجَهَنَّمَ سَبْعَةُ أَبْوَابٍ بَابٌ مِنْهَا لِمَنْ سَلَّ السَّيْفَ عَلَى أُمَّتِي أَوْ قَالَ عَلَى أُمَّةِ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حجر
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سورة الحمدللہ (فاتحہ) ، ام القرآن ہے، ام الکتاب (قرآن کی اصل اساس ہے) اور «السبع المثانی» ہے (باربار دہرائی جانے والی آیتیں) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر الحجر ٣ (٤٧٠٤) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٥١ (…) (تحفة الأشراف : ١٣٠١٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث کو مؤلف نے ارشاد باری تعالیٰ : «ولقد آتيناک سبعا من المثاني والقرآن العظيم» (الحجر : ٨٧) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (131) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3124
حدیث نمبر: 3124 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْحَمْدُ لِلَّهِ أُمُّ الْقُرْآنِ وَأُمُّ الْكِتَابِ وَالسَّبْعُ الْمَثَانِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حجر
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ابی بن کعب کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تو رات میں اور نہ ہی انجیل میں ام القرآن (فاتحہ) جیسی کوئی سورة نازل فرمائی ہے، اور یہ سات آیتیں ہیں جو (ہر رکعت میں پڑھی جانے کی وجہ سے) باربار دہرائی جانے والی ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان تقسیم ہیں اور میرے بندے کے لیے وہ سب کچھ ہے جو وہ مانگے ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٨٧٥ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (2 / 216) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3125
حدیث نمبر: 3125 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ مِثْلَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَهِيَ مَقْسُومَةٌ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حجر
انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے قول «لنسألنهم أجمعين عما کانوا يعملون» ہم ان سے پوچھیں گے اس کے بارے میں جو وہ کرتے تھے (الحجر : ٩٢) ، کے متعلق فرمایا : یہ پوچھنا «لا إله إلا الله» کے متعلق ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے لیث بن ابی سلیم کی روایت ہی سے جانتے ہیں، ٣- عبداللہ بن ادریس نے لیث بن ابی سلیم سے، اور لیث نے بشر کے واسطہ سے انس سے ایسے ہی روایت کی ہے، لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٢٤٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف، اور بشر مجہول راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3126
حدیث نمبر: 3126 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِي قَوْلِهِ:‏‏‏‏ لَنَسْأَلَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ‏‏‏‏ 92 ‏‏‏‏ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ‏‏‏‏ 93 ‏‏‏‏ سورة الحجر آية 92-93، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ عَنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ بِشْرٍ، عَنْ أَنَسٍ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَهُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১২৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت حجر
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے ، پھر آپ نے آیت «إن في ذلک لآيات للمتوسمين» بیشک اس میں نشانیاں ہیں سمجھ داروں کے لیے ہے (الحجر : ٧٥) ، تلاوت فرمائی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، بعض اہل علم نے اس آیت «إن في ذلک لآيات للمتوسمين» کی تفسیر یہ کی ہے کہ اس میں نشانیاں ہیں اصحاب فراست کے لیے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٢١٧) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، ملاحظہ ہو : الضعیفة رقم : ١٨٢١) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1821) // ضعيف الجامع الصغير (127) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3127
حدیث نمبر: 3127 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الطَّيِّبِ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ، عَنْعَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ سورة الحجر آية 75 ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لآيَاتٍ لِلْمُتَوَسِّمِينَ سورة الحجر آية 75، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لِلْمُتَفَرِّسِينَ.
tahqiq

তাহকীক: