আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

قرآن کی تفسیر کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪২৩ টি

হাদীস নং: ৩১৬৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت حج کی تفسیر
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربکم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولکن عذاب اللہ شديد» ١ ؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم (علیہ السلام) سے کہے گا «ابعث بعث النار» جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو آدم (علیہ السلام) کہیں گے : اے میرے رب «بعث النار» کیا ہے (یعنی کتنے) ؟ اللہ فرمائے گا : نو سو ننانوے ( ٩٩٩) افراد جہنم میں اور (ان کے مقابل میں) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان (صحابہ) رونے لگے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، (اہل جنت میں سے ہوجاؤ گے) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت (کی تاریکی پھیلی ہوئی) نہ ہو ، آپ نے فرمایا : یہ ( ٩٩٩ کی تعداد) عدد انہیں (ادوار) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور (پچھلی) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو (پسلی) میں ہو ٢ ؎ پھر آپ نے فرمایا : مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہوگی ، یہ سن کر (لوگوں نے خوش ہو کر) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا : مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے ، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا : مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے ، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی (اس سے آگے) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٧٩٩) (صحیح) (سند میں علی بن زید بن جدعان ضعیف راوی ہیں اور حسن بصری مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے، نیز ان کے عمران بن حصین (رض) سے سماع میں سخت اختلاف ہے، لیکن شاہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، نیز یہ حدیث ابو سعید خدری کی روایت سے متفق علیہ ہے) وضاحت : ١ ؎ : لوگو ! اپنے رب سے ڈرو ! بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے ، جس دن تم اسے دیکھو لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی ، اور تمام حمل والیوں کے حمل گرجائیں گے اور تو دیکھے گا کہ لوگ مدہوش دکھائی دیں گے حالانکہ درحقیقت وہ متوالے نہ ہوں گے لیکن اللہ کا عذاب بڑا ہی سخت ہے ( الحج : ٢) ٢ ؎ : یعنی اگلی امتوں کی تعداد کے مقابل میں تم جنتیوں کی تعداد بہت مختصر یعنی جانور کی اگلی دست میں ایک تل یا اونٹ کے پیٹ میں ایک معمولی نشان کی سی ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد، التعليق الرغيب (4 / 229) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3168
حدیث نمبر: 3168 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 قَالَ:‏‏‏‏ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنْشَأَ الْمُسْلِمُونَ يَبْكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنْ تَمَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا كَمُلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مَثَلُكُمْ وَالْأُمَمِ إِلَّا كَمَثَلِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الثُّلُثَيْنِ أَمْ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৬৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
جب آیت «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے قول «ولكن عذاب الله شديد» ۱؎ تک نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سفر میں تھے، آپ نے لوگوں سے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو وہ کون سا دن ہے؟“ لوگوں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ آدم ( علیہ السلام ) سے کہے گا «ابعث بعث النار» ”جہنم میں جانے والی جماعت کو چھانٹ کر بھیجو“ آدم علیہ السلام کہیں گے: اے میرے رب «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ فرمائے گا: نو سو ننانوے ( ۹۹۹ ) افراد جہنم میں اور ( ان کے مقابل میں ) ایک شخص جنت میں جائے گا، یہ سن کر مسلمان ( صحابہ ) رونے لگے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی نزدیکی حاصل کرو اور ہر کام صحیح اور درست ڈھنگ سے کرتے رہو، ( اہل جنت میں سے ہو جاؤ گے ) ، کیونکہ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ نبوت کا سلسلہ چلا ہو اور اس سے پہلے جاہلیت ( کی تاریکی پھیلی ہوئی ) نہ ہو“، آپ نے فرمایا: ”یہ ( ۹۹۹ کی تعداد ) عدد انہیں ( ادوار ) جاہلیت کے افراد سے پوری کی جائے گی۔ یہ تعداد اگر جاہلیت سے پوری نہ ہوئی تو ان کے ساتھ منافقین کو ملا کر پوری کی جائے گی، اور تمہاری اور ( پچھلی ) امتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہ داغ، نشان، تل جانور کے اگلے پیر میں، یا سیاہ نشان اونٹ کے پہلو ( پسلی ) میں ہو“ ۲؎ پھر آپ نے فرمایا: ”مگر مجھے امید ہے کہ جنت میں جانے والوں میں ایک چوتھائی تعداد تم لوگوں کی ہو گی“، یہ سن کر ( لوگوں نے خوش ہو کر ) نعرہ تکبیر بلند کیا، پھر آپ نے فرمایا: ”مجھے توقع ہے جنتیوں کی ایک تہائی تعداد تم ہو گے“، لوگوں نے پھر تکبیر بلند کی، آپ نے پھر فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھا آدھا تم لوگ ہو گے“، لوگوں نے پھر صدائے تکبیر بلند کی ( اس سے آگے ) مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے دو تہائی بھی فرمایا یا نہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہ حدیث کئی راویوں سے عمران بن حصین کے واسطہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا نَزَلَتْ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 قَالَ:‏‏‏‏ أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَتَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ فَقَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَلِكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَنْشَأَ الْمُسْلِمُونَ يَبْكُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا فَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا جَاهِلِيَّةٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُؤْخَذُ الْعَدَدُ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنْ تَمَّتْ، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا كَمُلَتْ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا مَثَلُكُمْ وَالْأُمَمِ إِلَّا كَمَثَلِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَكَبَّرُوا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَا أَدْرِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الثُّلُثَيْنِ أَمْ لَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْحَسَنِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৬৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت حج کی تفسیر
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہوگئے تھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں : «يا أيها الناس اتقوا ربکم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب اللہ شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے ؟ ، صحابہ نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا : «ابعث بعث النار» بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو ، آدم (علیہ السلام) کہیں گے : اے ہمارے رب !«بعث النار» کیا ہے (یعنی کتنے) ؟ اللہ کہے گا : ایک ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، یہ سن کر لوگ مایوس ہوگئے، ایسا لگا کہ اب یہ زندگی بھر کبھی ہنسیں گے نہیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کی یہ (مایوسانہ) کیفیت و گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا : اچھے بھلے کام کرو اور خوش ہوجاؤ (اچھے اعمال کے صلے میں جنت پاؤ گے) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! تم ایسی دو مخلوق کے ساتھ ہو کہ وہ جس کے بھی ساتھ ہوجائیں اس کی تعداد بڑھا دیں، ایک یاجوج و ماجوج اور دوسرے وہ جو اولاد آدم اور اولاد ابلیس میں سے (حالت کفر میں) مرچکے ہیں، آپ کی اس بات سے لوگوں کے رنج و فکر کی اس کیفیت میں کچھ کمی آئی جسے لوگ شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اپنے دلوں میں موجود پا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : نیکی کا عمل جاری رکھو، اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے ! تم تو لوگوں میں بس ایسے ہو جیسے اونٹ (جیسے بڑے جانور) کے پہلو (پسلی) میں کوئی داغ یا نشان ہو، یا چوپائے کی اگلی دست میں کوئی تل ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی بہت زیادہ گھبرانے کی بات اور ضرورت نہیں ہے ، جب اکثریت انہیں کفار و مشرکین کی ہے تو جہنم میں بھی وہی زیادہ ہوں گے ، ایک آدھ نام نہاد مسلم جائے گا بھی تو اسے اپنی بدعملی کی وجہ سے جانے سے کون روک سکتا ہے ، اور جو نہ جانا چاہے وہ اپنے ایمان و عقیدے کو درست رکھے شرک و بدعات سے دور رہے گا اور نیک و صالح اعمال کرتا رہے ، ایسا شخص ان شاء اللہ ضرور جنت میں جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3169
حدیث نمبر: 3169 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَتَفَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فِي السَّيْرِ، ‏‏‏‏‏‏فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ:‏‏‏‏ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ سورة الحج آية 1 ـ 2 ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَ قَوْلٍ يَقُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَلِكَ ؟ قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ذَاكَ يَوْمٌ يُنَادِي اللَّهُ فِيهِ آدَمَ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏وَمَا بَعْثُ النَّارِ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏فَيَئِسَ الْقَوْمُ حَتَّى مَا أَبَدَوْا بِضَاحِكَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي بِأَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا، ‏‏‏‏‏‏فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ مَاتَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَبَنِي إِبْلِيسَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسُرِّيَ عَنِ الْقَوْمِ بَعْضُ الَّذِي يَجِدُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت حج کی تفسیر
عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خانہ کعبہ کا نام «بيت العتيق» ١ ؎ (آزاد گھر) اس لیے رکھا گیا کہ اس پر کسی جابر و ظالم کا غلبہ و قبضہ نہیں ہوسکا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث زہری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسل طریقہ سے آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٢٨٤) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن صالح حافظہ کے ضعیف ہیں، اور ان کے مخالف ان سے ثقہ رواة نے اس کو عبد اللہ بن زبیر کا اپنا قول بتایا ہے، دیکھیے اگلی سند) وضاحت : ١ ؎ : مولف یہ حدیث ارشاد باری تعالیٰ «وليطوفوا بالبيت العتيق» (الحج : ٢٩) ۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3222) // ضعيف الجامع الصغير (2059) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3170 اس سند سے زہری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (3222) // ضعيف الجامع الصغير (2059) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3170
حدیث نمبر: 3170 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا سُمِّيَ الْبَيْتَ الْعَتِيقَ:‏‏‏‏ لِأَنَّهُ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهِ جَبَّارٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا.حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت حج کی تفسیر
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ مکہ سے نکالے گئے تو ابوبکر (رض) نے کہا کہ ان لوگوں نے اپنے نبی کو (اپنے وطن سے) نکال دیا ہے، یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ علی نصرهم لقدير» ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم (و کمزور) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان (مظلومین) کی مدد پر قادر ہے (الحج : ٣٩) ، نازل فرمائی ابوبکر (رض) نے کہا : (جب یہ آیت نازل ہوئی تو) میں نے یہ سمجھ لیا کہ اب (مسلمانوں اور کافروں میں) لڑائی ہوگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ٥٦١٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سفیان بن وکیع صدوق لیکن ساقط الحدیث راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3171 اس کو عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ نے سفیان سے، سفیان نے اعمش سے، اعمش نے مسلم بطین سے مسلم نے سعید بن جبیر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اس روایت میں ابن عباس (رض) سے روایت کا ذکر نہیں ہے، اسی طرح اور کئی راویوں نے سفیان سے، سفیان نے اعمش سے، اور اعمش نے مسلم بطین کے واسطہ سے، سعید بن جبیر سے مرسلاً روایت کی ہے، اس میں ابن عباس سے روایت کا ذکر نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3171
حدیث نمبر: 3171 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَإِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ لَيَهْلِكُنَّ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ سورة الحج آية 39 الْآيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ غيرُ واحدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورت حج کی تفسیر
سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ جب نبی ﷺ مکہ سے نکالے گئے، ایک آدمی نے کہا : ان لوگوں نے اپنے نبی کو نکال دیا تو اس پر آیت «أذن للذين يقاتلون بأنهم ظلموا وإن اللہ علی نصرهم لقدير الذين أخرجوا من ديارهم بغير حق» ان لوگوں کو بھی لڑنے کی اجازت دے دی گئی جن سے مظلوم (و کمزور) سمجھ کر جنگ چھیڑ رکھی گئی ہے، اللہ ان (مظلومین) کی مدد پر قادر ہے (الحج : ٣٩) ، نازل ہوئی، یعنی نبی اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ناحق نکال دیا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف) (ارسال کی وجہ سے ضعیف ہے) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3172
حدیث نمبر: 3172 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أُخْرِجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ قَالَ رَجُلٌ:‏‏‏‏ أَخْرَجُوا نَبِيَّهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ ‏‏‏‏ 39 ‏‏‏‏ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ سورة الحج آية 39 ـ 40 النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ مومنون کی تفسیر
عبدالرحمٰن بن عبدالقاری کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب (رض) کو کہتے ہوئے سنا۔ نبی اکرم ﷺ پر جب وحی نازل ہوتی تھی تو آپ کے منہ کے قریب شہد کی مکھی کے اڑنے کی طرح آواز (بھنبھناہٹ) سنائی پڑتی تھی۔ (ایک دن کا واقعہ ہے) آپ پر وحی نازل ہوئی ہم کچھ دیر (خاموش) ٹھہرے رہے، جب آپ سے نزول وحی کے وقت کی کیفیت (تکلیف) دور ہوئی تو آپ قبلہ رخ ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یہ دعا فرمائی : «اللهم زدنا ولا تنقصنا وأکرمنا ولا تهنا وأعطنا ولا تحرمنا وآثرنا ولا تؤثر علينا وارضنا وارض عنا» اے اللہ ! ہم کو زیادہ دے، ہمیں دینے میں کمی نہ کر، ہم کو عزت دے، ہمیں ذلیل و رسوا نہ کر، ہمیں اپنی نعمتوں سے نواز، اپنی نوازشات سے ہمیں محروم نہ رکھ، ہمیں (اوروں) پر فضیلت دے، اور دوسروں کو ہم پر فضیلت و تفوّق نہ دے، اور ہمیں راضی کر دے (اپنی عبادت و بندگی کرنے کے لیے) اور ہم سے راضی و خوش ہوجا پھر آپ نے فرمایا : مجھ پر دس آیتیں نازل ہوئی ہیں جو ان پر عمل کرتا رہے گا، وہ جنت میں جائے گا، پھر آپ نے «قد أفلح المؤمنون» (سورۃ المومنون : ١- ١٠) سے شروع کر کے دس آیتیں مکمل تلاوت فرمائیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف : ١٠٥٩٣) (ضعیف) (سند میں اضطراب ہے جسے مؤلف نے بیان کردیا ہے) قال الشيخ الألباني : (الحديث الذي في سنده عن يونس بن سليم عن الزهري) ضعيف، (الحديث الذي في سنده عن يونس بن يزيد عن الزهري) ضعيف أيضا (الحديث الذي في سنده عن يونس بن سليم عن الزهري) ، المشکاة (2494 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1208 و 1343) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3173
حدیث نمبر: 3173 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، وَعَبْدُ بْنُ حميد، وغير واحد،‏‏‏‏ المعنى واحد، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ سُمِعَ عِنْدَ وَجْهِهِ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، ‏‏‏‏‏‏فَأُنْزِلَ عَلَيْهِ يَوْمًا فَمَكَثْنَا سَاعَةً، ‏‏‏‏‏‏فَسُرِّيَ عَنْهُ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، ‏‏‏‏‏‏وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، ‏‏‏‏‏‏وَارْضِنَا وَارْضَ عَنَّا ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أُنْزِلَ عَلَيَّ عَشْرُ آيَاتٍ مَنْ أَقَامَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَرَأَ:‏‏‏‏ قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ حَتَّى خَتَمَ عَشْرَ آيَاتٍ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ مومنون کی تفسیر
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ربیع بنت نضر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں، ان کے بیٹے حارث بن سراقہ جنگ بدر میں شہید ہوگئے تھے، انہیں ایک انجانا تیر لگا تھا جس کے بارے میں پتا نہ لگ سکا تھا، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : آپ مجھے (میرے بیٹے) حارثہ کے بارے میں بتائیے، اگر وہ خیر پاس کا ہے تو میں ثواب کی امید رکھتی اور صبر کرتی ہوں، اور اگر وہ خیر (بھلائی) کو نہیں پاس کا تو میں (اس کے لیے) اور زیادہ دعائیں کروں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حارثہ کی ماں ! جنت میں بہت ساری جنتیں ہیں، تمہارا بیٹا جنت الفردوس میں پہنچ چکا ہے اور فردوس جنت کا ایک ٹیلہ ہے، جنت کے بیچ میں ہے اور جنت کی سب سے اچھی جگہ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ١٤ (١٨٠٩) ، والمغازي ٩ (٣٩٨٢) ، والرقاق ٥١ (٦٥٥٠، ٦٥٦٧) (تحفة الأشراف : ١٢١٧) ، و مسند احمد (٣/١٢٤، ٢١٠، ٢١٥، ٢٦٤، ٣٧٢، ٣٨٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ارشاد باری تعالیٰ «الذين يرثون الفردوس» (المومنون : ١١) کی تفسیر میں مؤلف نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1811 و 2003) ، مختصر العلو (76) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3174
حدیث نمبر: 3174 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ابْنُهَا حَارِثَةُ بْنُ سُرَاقَةَ أُصِيبَ يَوْمَ بَدْرٍ أَصَابَهُ سَهْمٌ غَرَبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ أَخْبِرْنِي عَنْ حَارِثَةَ لَئِنْ كَانَ أَصَابَ خَيْرًا احْتَسَبْتُ وَصَبَرْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ لَمْ يُصِبْ الْخَيْرَ اجْتَهَدْتُ فِي الدُّعَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ فِي جَنَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ ابْنَكِ أَصَابَ الْفِرْدَوْسَ الْأَعْلَى، ‏‏‏‏‏‏وَالْفِرْدَوْسُ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَأَفْضَلُهَا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ مومنون کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس آیت «والذين يؤتون ما آتوا وقلوبهم وجلة» جو لوگ اللہ کے لیے دیتے ہیں، جو دیتے ہیں اور ان کے دل خوف کھا رہے ہوتے ہیں (کہ قبول ہوگا یا نہیں) (المؤمنون : ٦٠) ، کا مطلب پوچھا : کیا یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے ہیں، اور چوری کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، صدیق کی صاحبزادی ! بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، صدقے دیتے ہیں، اس کے باوجود ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی یہ نیکیاں قبول نہ ہوں، یہی ہیں وہ لوگ جو خیرات (بھلے کاموں) میں ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہی لوگ بھلائیوں میں سبقت لے جانے والے لوگ ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : عبدالرحمٰن بن سعید نے بھی اس حدیث کو ابوحازم سے، ابوحازم نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٠ (٤١٩٨) (تحفة الأشراف : ١٦٣٠١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4198) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3175
حدیث نمبر: 3175 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ وَهْبٍ الْهَمْدَانِيِّ، أَنَّعَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ يُؤْتُونَ مَا آتَوْا وَقُلُوبُهُمْ وَجِلَةٌ سورة المؤمنون آية 60، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ أَهُمُ الَّذِينَ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَسْرِقُونَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ لَا يَا بِنْتَ الصِّدِّيقِ وَلَكِنَّهُمُ الَّذِينَ يَصُومُونَ وَيُصَلُّونَ وَيَتَصَدَّقُونَ وَهُمْ يَخَافُونَ أَنْ لَا يُقْبَلَ مِنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏أُولَئِكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَهُمْ لَهَا سَابِقُونَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حَازِمٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ مومنون کی تفسیر
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے آیت : «وهم فيها کالحون» اور وہ اس میں ڈراونی شکل والے ہوں گے (المومنون : ١٠٤) ، کے سلسلے سے فرمایا : جہنم ان کے منہ کو جھلسا دے گی، جس سے اوپر کا ہونٹ سکڑ کر آدھے سر تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ لٹک کر ناف سے ٹکرانے لگے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٠٦١) (ضعیف) (سند میں ابوالسمح دراج ضعیف راوی ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف وهو مکرر الحديث (2713) // (483 - 2726) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3176
حدیث نمبر: 3176 حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سَعِيدِ بْن يَزِيدَ أَبِي شُجَاعٍ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهُمْ فِيهَا كَالِحُونَ سورة المؤمنون آية 104، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَشْوِيهِ النَّارُ فَتَقَلَّصُ شَفَتُهُ الْعُلْيَا حَتَّى تَبْلُغَ وَسَطَ رَأْسِهِ وَتَسْتَرْخِي شَفَتُهُ السُّفْلَى حَتَّى تَضْرِبَ سُرَّتَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭৭
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ نور کی تفسیر
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ مرثد بن مرثد نامی صحابی وہ ایسے (جی دار و بہادر) شخص تھے جو (مسلمان) قیدیوں کو مکہ سے نکال کر مدینہ لے آیا کرتے تھے، اور مکہ میں عناق نامی ایک زانیہ، بدکار عورت تھی، وہ عورت اس صحابی کی (ان کے اسلام لانے سے پہلے کی) دوست تھی، انہوں نے مکہ کے قیدیوں میں سے ایک قیدی شخص سے وعدہ کر رکھا تھا کہ وہ اسے قید سے نکال کرلے جائیں گے، کہتے ہیں کہ میں (اسے قید سے نکال کر مدینہ لے جانے کے لیے) آگیا، میں ایک چاندنی رات میں مکہ کی دیواروں میں سے ایک دیوار کے سایہ میں جا کر کھڑا ہوا ہی تھا کہ عناق آ گئی۔ دیوار کے اوٹ میں میری سیاہ پرچھائیں اس نے دیکھ لی، جب میرے قریب پہنچی تو مجھے پہچان کر پوچھا : مرثد ہونا ؟ میں نے کہا : ہاں، مرثد ہوں، اس نے خوش آمدید کہا، (اور کہا :) آؤ، رات ہمارے پاس گزارو، میں نے کہا : عناق ! اللہ نے زنا کو حرام قرار دیا ہے، اس نے شور مچا دیا، اے خیمہ والو (دوڑو) یہ شخص تمہارے قیدیوں کو اٹھائے لیے جا رہا ہے، پھر میرے پیچھے آٹھ آدمی دوڑ پڑے، میں خندمہ (نامی پہاڑ) کی طرف بھاگا اور ایک غار یا کھوہ کے پاس پہنچ کر اس میں گھس کر چھپ گیا، وہ لوگ بھی اوپر چڑھ آئے اور میرے سر کے قریب ہی کھڑے ہو کر۔ انہوں نے پیشاب کیا تو ان کے پیشاب کی بوندیں ہمارے سر پر ٹپکیں، لیکن اللہ نے انہیں اندھا بنادیا، وہ ہمیں نہ دیکھ سکے، وہ لوٹے تو میں بھی لوٹ کر اپنے ساتھی کے پاس (جسے اٹھا کر مجھے لے جانا تھا) آگیا، وہ بھاری بھر کم آدمی تھے، میں نے انہیں اٹھا کر (پیٹھ پر) لاد لیا، اذخر (کی جھاڑیوں میں) پہنچ کر میں نے ان کی بیڑیاں توڑ ڈالیں اور پھر اٹھا کر چل پڑا، کبھی کبھی اس نے بھی میری مدد کی (وہ بھی بیڑیاں لے کر چلتا) اس طرح میں مدینہ آگیا۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچ کر میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں عناق سے شادی کرلوں ؟ (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، پھر یہ آیت «الزاني لا ينكح إلا زانية أو مشرکة والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرک وحرم ذلک علی المؤمنين» زانی زانیہ یا مشرکہ ہی سے نکاح کرے اور زانیہ سے زانی یا مشرک ہی نکاح کرے، مسلمانوں پر یہ نکاح حرام ہے (النور : ٣) ، نازل ہوئی آپ نے (اس آیت کے نزول کے بعد مرثد بن ابی مرثد سے) فرمایا : اس سے نکاح نہ کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، اور ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ النکاح ٥ (٢٠٥١) ، سنن النسائی/النکاح ١٢ (٣٢٢٨) (تحفة الأشراف : ٨٧٥٣) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3177
حدیث نمبر: 3177 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَجُلًا يَحْمِلُ الْأَسْرَى مِنْ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِمْ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَتِ امْرَأَةٌ بَغِيٌّ بِمَكَّةَ يُقَالُ لَهَا عَنَاقٌ وَكَانَتْ صَدِيقَةً لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهُ كَانَ وَعَدَ رَجُلًا مِنْ أُسَارَى مَكَّةَ يَحْمِلُهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجِئْتُ حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى ظِلِّ حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ مُقْمِرَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَجَاءَتْ عَنَاقٌ فَأَبْصَرَتْ سَوَادَ ظِلِّي بِجَنْبِ الْحَائِطِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا انْتَهَتْ إِلَيَّ عَرَفَتْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَرْثَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ مَرْثَدٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا وَأَهْلًا هَلُمَّ فَبِتْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا عَنَاقُ، ‏‏‏‏‏‏حَرَّمَ اللَّهُ الزِّنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا أَهْلَ الْخِيَامِ، ‏‏‏‏‏‏هَذَا الرَّجُلُ يَحْمِلُ أَسْرَاكُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَبِعَنِي ثَمَانِيَةٌ وَسَلَكْتُ الْخَنْدَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏فانتهيت إلى كهف أو غار فدخلت، ‏‏‏‏‏‏فجاءوا حتى قاموا على رأسي فبالوا، ‏‏‏‏‏‏فطل بولهم على رأسي وأعماهم الله عني، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ثُمَّ رَجَعُوا وَرَجَعْتُ إِلَى صَاحِبِي فَحَمَلْتُهُ وَكَانَ رَجُلًا ثَقِيلًا، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى انْتَهَيْتُ إِلَى الْإِذْخِرِ، ‏‏‏‏‏‏فَفَكَكْتُ عَنْهُ كَبْلَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلْتُ أَحْمِلُهُ يُعِيِنُنِي حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنْكِحُ عَنَاقًا مَرَّتَيْنِ فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا حَتَّى نَزَلَتْ:‏‏‏‏ الزَّانِي لا يَنْكِحُ إِلا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لا يَنْكِحُهَا إِلا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سورة النور آية 3، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا مَرْثَدُ الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً، ‏‏‏‏‏‏وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا تَنْكِحْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭৮
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ نور کی تفسیر
سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ مصعب بن زبیر (رض) کی امارت کے زمانے میں مجھ سے پوچھا گیا : کیا لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کردی جائے گی ؟ میری سمجھ میں نہ آیا کہ میں کیا جواب دوں میں اپنی جگہ سے اٹھ کر عبداللہ بن عمر (رض) کے گھر آگیا، ان کے پاس حاضر ہونے کی اجازت طلب کی، مجھ سے کہا گیا کہ وہ قیلولہ فرما رہے ہیں، مگر انہوں نے میری بات چیت سن لی۔ اور مجھے (پکار کر) کہا : ابن جبیر ! اندر آ جاؤ، تم کسی (دینی) ضرورت ہی سے آئے ہو گے، میں اندر داخل ہوا، دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے کجاوے کے نیچے ڈالنے والا کمبل بچھائے ہوئے ہیں، میں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! کیا دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! پاک اور برتر ذات ہے اللہ کی، ہاں، (سنو) سب سے پہلا شخص جس نے اس بارے میں مسئلہ پوچھا وہ فلاں بن فلاں تھے، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، کہا : اللہ کے رسول ! بتائیے اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بدکاری میں مبتلا یعنی زناکاری کرتے ہوئے دیکھے تو کیا کرے ؟ اگر بولتا ہے تو بڑی بات کہتا ہے اور اگر چپ رہتا ہے تو بڑی بات پر چپ رہتا ہے، آپ یہ سن کر چپ رہے اور انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر جب اس کے بعد ایسا واقعہ پیش ہی آگیا تو وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے آپ سے جو بات پوچھی تھی، اس سے میں خود دوچار ہوگیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورة النور کی آیات «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ١ ؎ سے ختم آیات تک «والخامسة أن غضب اللہ عليها إن کان من الصادقين» نازل فرمائیں، ابن عمر (رض) کہتے ہیں : پھر آپ ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور اسے یہ آیتیں پڑھ کر سنائیں اور اسے نصیحت کیا، اسے سمجھایا بجھایا، اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے، اس نے کہا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ! میں نے اس عورت پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے، اسے بھی وعظ و نصیحت کی، سمجھایا بجھایا، اسے بھی بتایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابل میں ہلکا اور آسان ہے ٢ ؎، اس نے کہا : نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے ! اس نے سچ نہیں کہا ہے، پھر آپ نے لعان کی شروعات مرد سے کی، مرد نے چار بار گواہیاں دی کہ اللہ گواہ ہے کہ وہ سچا ہے، پانچویں بار میں کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو، پھر آپ عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور اس نے بھی اللہ کی چار گواہیاں دیں، اللہ گواہ ہے کہ اس کا شوہر جھوٹوں میں سے ہے اور پانچویں بار کہا : اللہ کا غضب ہو اس پر اگر اس کا شوہر سچوں میں سے ہو، اس کے بعد آپ نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سہل بن سعد (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٢٠٢ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کا کوئی گواہ بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہیں کہ اس پر اللہ کی تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو ، اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہوسکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو ( النور : ٦-٩) ۔ ٢ ؎ : اگر گناہ سرزد ہوا ہے تو اسے قبول کرلو اور متعینہ سزا جھیل جاؤ ورنہ آخرت کا عذاب تو بہت بھاری اور سخت ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3178
حدیث نمبر: 3178 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي إِمَارَةِ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُمْتُ مِنْ مَكَانِي إِلَى مَنْزِلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ لِي إِنَّهُ قَائِلٌ، ‏‏‏‏‏‏فَسَمِعَ كَلَامِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِيَ:‏‏‏‏ ابْنَ جُبَيْرٍ ؟ ادْخُلْ مَا جَاءَ بِكَ إِلَّا حَاجَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْدَعَةَ رَحْلٍ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏الْمُتَلَاعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، ‏‏‏‏‏‏أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَحَدَنَا رَأَى امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ ؟ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى أَمْرٍ عَظِيمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُجِبْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ سورة النور آية 6 حَتَّى خَتَمَ الْآيَاتِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَعَا الرَّجُلَ فَتَلَاهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ وَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا صَدَقَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৭৯
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ نور کی تفسیر
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ہلال بن امیہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تو آپ ﷺ نے فرمایا : گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی، ہلال نے کہا : جب ہم میں سے کوئی کسی شخص کو اپنی بیوی سے ہمبستری کرتا ہوا دیکھے گا تو کیا وہ گواہ ڈھونڈتا پھرے گا ؟ رسول اللہ ﷺ کہتے رہے کہ تم گواہ پیش کرو ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد جاری ہوگی۔ ہلال نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں سچا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس معاملے میں کوئی ایسی چیز ضرور نازل فرمائے گا جو میری پیٹھ کو حد سے بچا دے گی، پھر (اسی موقع پر) آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» سے «والخامسة أن غضب اللہ عليها إن کان من الصادقين» تک نازل ہوئی آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب آپ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان دونوں کو بلا بھیجا، وہ دونوں آئے، پھر ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں، نبی اکرم ﷺ انہیں سمجھانے لگے : اللہ کو معلوم ہے کہ تم دونوں میں سے کوئی ایک جھوٹا ہے تو کیا تم میں سے کوئی ہے جو توبہ کرلے ؟ پھر عورت کھڑی ہوئی، اور اس نے بھی گواہی دی، پھر جب پانچویں گواہی اللہ کی اس پر لعنت ہو اگر وہ سچا ہو دینے کی باری آئی، تو لوگوں نے اس سے کہا : یہ گواہی اللہ کے غضب کو واجب کر دے گی ابن عباس (رض) کہتے ہیں : (لوگوں کی بات سن کر) وہ ٹھٹ کی اور ذلت و شرمندگی سے سر جھکا لیا، ہم سب نے گمان کیا کہ شاید وہ (اپنی پانچویں گواہی) سے پھر جائے گی، مگر اس نے کہا : میں اپنی قوم کو ہمیشہ کے لیے ذلیل و رسوا نہ کروں گی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس عورت کو دیکھتے رہو اگر وہ کالی آنکھوں والا موٹے چوتڑ والا اور بھری رانوں والا بچہ جنے تو سمجھ لو کہ دہ شریک بن سحماء کا ہے، تو اس نے ایسا ہی بچہ جنا، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر کتاب اللہ (قرآن) سے اس کا فیصلہ (لعان کا) نہ آچکا ہوتا تو ہماری اور اس کی ایک عجیب ہی شان ہوتی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے ہشام بن حسان کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢- اس حدیث کو عباد بن منصور نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس (رض) کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ٣- ایوب نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس روایت میں ابن عباس کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة النور ٢ (٤٧٤٦) ، والطلاق ٢٩ (٥٣٠٨) ، سنن ابی داود/ الطلاق ٢٧ (٢٢٥٤) ، سنن ابن ماجہ/الطلاق ٢٧ (٢٠٦٧) (تحفة الأشراف : ٦٢٢٥) ، و مسند احمد (١/٢٧٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی میں اس پر حد جاری کر کے ہی رہتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2067) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3179
حدیث نمبر: 3179 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ هِلَالٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلًا عَلَى امْرَأَتِهِ أَيَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ ؟ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الْبَيِّنَةَ وَإِلَّا فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَالَ هِلَالٌ:‏‏‏‏ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيَنْزِلَنَّ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ، ‏‏‏‏‏‏فَنَزَلَ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 6 ـ 9، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ هِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ:‏‏‏‏ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ، ‏‏‏‏‏‏فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ؟ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَتْ عِنْدَ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ سورة النور آية 9 قَالُوا لَهَا:‏‏‏‏ إِنَّهَا مُوجِبَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:‏‏‏‏ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَسَتْ حَتَّى ظَنَّنَا أَنْ سَتَرْجِعُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَا أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ السَّحْمَاءِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَوْلَا مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَانَ لَنَا وَلَهَا شَأْنٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍهَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮০
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ نور کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب میرے بارے میں افواہیں پھیلائی جانے لگیں جو پھیلائی گئیں، میں ان سے بیخبر تھی، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور میرے تعلق سے ایک خطبہ دیا، آپ نے شہادتین پڑھیں، اللہ کے شایان شان تعریف و ثنا کی، اور حمد و صلاۃ کے بعد فرمایا : لوگو ! ہمیں ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری گھر والی پر تہمت لگائی ہے، قسم اللہ کی ! میں نے اپنی بیوی میں کبھی کوئی برائی نہیں دیکھی، انہوں نے میری بیوی کو اس شخص کے ساتھ متہم کیا ہے جس کے بارے میں اللہ کی قسم ! میں نے کبھی کوئی برائی نہیں جانی، وہ میرے گھر میں کبھی بھی میری غیر موجودگی میں داخل نہیں ہوا، وہ جب بھی میرے گھر میں آیا ہے میں موجود رہا ہوں، اور جب بھی میں گھر سے غائب ہوا، سفر میں رہا وہ بھی میرے ساتھ گھر سے دور سفر میں رہا ہے ، (یہ سن کر) سعد بن معاذ (رض) نے کھڑے ہو کر، عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے میں ان کی گردنیں اڑا دوں، (یہ سن کر) خزرج قبیلے کا ایک اور شخص جس کے قبیلے سے حسان بن ثابت کی ماں تھیں کھڑا ہوا اس نے (سعد بن معاذ سے مخاطب ہو کر) کہا : آپ جھوٹ اور غلط بات کہہ رہے ہیں، سنئیے، اللہ کی قسم ! اگر یہ (تہمت لگانے والے آپ کے قبیلے) اوس کے ہوتے تو یہ پسند نہ کرتے کہ آپ ان کی گردنیں اڑا دیں، یہ بحث و تکرار اتنی بڑھی کہ اوس و خزرج کے درمیان مسجد ہی میں فساد عظیم برپا ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا، (عائشہ (رض) کہتی ہیں) مجھے اس کی بھی خبر نہ ہوئی، جب اس دن کی شام ہوئی تو میں اپنی (قضائے حاجت کی) ضرورت سے گھر سے باہر نکلی، میرے ساتھ مسطح کی ماں بھی تھیں، وہ (راستہ میں) ٹھوکر کھائی تو کہہ اٹھیں : مسطح تباہ برباد ہو ! میں نے ان سے کہا : آپ کیسی ماں ہیں بیٹے کو گالی دیتی ہیں ؟ تو وہ چپ رہیں، پھر دوبارہ ٹھوکر کھائی تو پھر وہی لفظ دہرایا، مسطح ہلاک ہو، میں نے پھر (ٹوکا) میں نے کہا : آپ کیسی ماں ہیں ؟ اپنے بیٹے کو گالی (بد دعا) دیتی ہیں ؟ وہ پھر خاموش رہیں، پھر جب تیسری بار ٹھوکر کھائی تو پھر یہی لفظ دہرایا تو میں نے ڈانٹا (اور جھڑک دیا) کیسی (خراب) ماں ہیں آپ ؟ اپنے ہی بیٹے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں، وہ بولیں : (بیٹی) قسم اللہ کی میں اسے صرف تیرے معاملے میں برا بھلا کہہ رہی ہوں، میں نے پوچھا : میرے کس معاملے میں ؟ تب انہوں نے مجھے ساری باتیں کھول کھول کر بتائیں، میں نے ان سے پوچھا : کیا ایسا ہوا ؟ (یہ ساری باتیں پھیل گئیں ؟ ) انہوں نے کہا : ہاں، قسم اللہ کی ! یہ سن کر میں گھر لوٹ آئی، تو ان میں جس کام کے لیے نکلی تھی، نکلی ہی نہیں، مجھے اس قضائے حاجت کی تھوڑی یا زیادہ کچھ بھی ضرورت محسوس نہ ہوئی، (بلکہ) مجھے تیز بخار چڑھ آیا، میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : مجھے میرے ابا کے گھر بھیج دیجئیے، رسول اللہ ﷺ نے میرے ساتھ ایک لڑکا کردیا، (اور میں اپنے ابا کے گھر آ گئی) میں گھر میں داخل ہوئی تو (اپنی ماں) ام رومان کو نیچے پایا اور (اپنے ابا) ابوبکر کو گھر کے اوپر پڑھتے ہوئے پایا، میری ماں نے کہا : بیٹی ! کیسے آئیں ؟ عائشہ (رض) کہتی ہیں : میں نے انہیں بتادیا اور انہیں ساری باتیں (اور سارا قصہ) سنا دیا، مگر انہیں یہ باتیں سن کر وہ اذیت نہ پہنچی جو مجھے پہنچی، انہوں نے کہا : بیٹی ! اپنے آپ کو سنبھالو، کیونکہ اللہ کی قسم ! بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی مرد کی کوئی حسین و جمیل عورت ہو جس سے وہ مرد (بےانتہا) محبت کرتا ہو، اس سے اس کی سوکنیں حسد نہ کرتی (اور جلن نہ رکھتی) ہوں اور اس کے بارے میں لگائی بجھائی نہ کرتی ہوں، غرضیکہ انہیں اتنا صدمہ نہ پہنچا جتنا مجھے پہنچا، میں نے پوچھا : کیا میرے ابو جان کو بھی یہ بات معلوم ہوچکی ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، میں نے (پھر) پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ بھی ان باتوں سے واقف ہوچکے ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہاں، (یہ سن کر) میں غم سے نڈھال ہوگئی اور رو پڑی، ابوبکر (رض) چھت پر قرآن پڑھ رہے تھے، میرے رونے کی آواز سن کر نیچے اتر آئے، میری ماں سے پوچھا، اسے کیا ہوا ؟ (یہ کیوں رو رہی ہے ؟ ) انہوں نے کہا : اس کے متعلق جو باتیں کہی گئیں (اور افواہیں پھیلائی گئی ہیں) وہ اسے بھی معلوم ہوگئی ہیں، (یہ سن کر) ان کی بھی آنکھیں بہہ پڑیں، (مگر) انہوں نے کہا : اے میری (لاڈلی) بیٹی ! میں تمہیں قسم دلا کر کہتا ہوں تو اپنے گھر لوٹ جا، میں اپنے گھر واپس ہوگئی، رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لائے اور میری لونڈی (بریرہ) سے میرے متعلق پوچھ تاچھ کی، اس نے کہا : نہیں، قسم اللہ کی ! میں ان میں کوئی عیب نہیں جانتی، ہاں، بس یہ بات ہے کہ (کام کرتے کرتے تھک کر) سو جاتی ہیں اور بکری آ کر گندھا ہوا آٹا کھا جاتی ہے، بعض صحابہ نے اسے ڈانٹا، (باتیں نہ بنا) رسول اللہ ﷺ کو سچ سچ بتا (اس سے اس پوچھ تاچھ میں) وہ (اپنے مقام و مرتبہ سے) نیچے اتر آئے، اس نے کہا : سبحان اللہ ! پاک و برتر ہے اللہ کی ذات، قسم اللہ کی ! میں انہیں بس ایسی ہی جانتی ہوں جیسے سنار سرخ سونے کے ڈلے کو جانتا پہچانتا ہے، پھر اس معاملے کی خبر اس شخص کو بھی ہوگئی جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ اس نے کہا : سبحان اللہ ! قسم اللہ کی، میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی کسی کا سینہ اور پہلو نہیں کھولا ہے ١ ؎، عائشہ (رض) کہتی ہیں : وہ اللہ کی راہ میں شہید ہو کر مرے، میرے ماں باپ صبح ہی میرے پاس آ گئے اور ہمارے ہی پاس رہے۔ عصر پڑھ کر رسول اللہ ﷺ ہمارے یہاں تشریف لے آئے، اور ہمارے پاس پہنچے، میرے ماں باپ ہمارے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے تھے، رسول اللہ ﷺ نے شہادتین پڑھی، اللہ کی شایان شان حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا : حمد و صلاۃ کے بعد : عائشہ ! اگر تو برائی کی مرتکب ہوگئی یا اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھی ہے تو اللہ سے توبہ کر، اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے ، اسی دوران انصار کی ایک عورت آ کر دروازے میں بیٹھ گئی تھی، میں نے عرض کیا : اس عورت کے سامنے (اس طرح کی) کوئی بات کرتے ہوئے کیا آپ کو شرم محسوس نہیں ہوئی ؟ بہرحال رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نصیحت فرمائی، میں اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوئی، ان سے کہا : آپ رسول اللہ ﷺ کی بات کا جواب دیں، انہوں نے کہا : میں کیا جواب دوں ؟ میں اپنی ماں کی طرف پلٹی، میں نے ان سے کہا : رسول اللہ ﷺ نے جو بات کہی ہے اس بارے میں (میری طرف سے) صفائی دیجئیے، انہوں نے کہا : کیا کہوں میں ؟ جب میرے ماں باپ نے کچھ جواب نہ دیا، تو میں نے کلمہ شہادت ادا کیا، اللہ کے شایان شان اس کی حمد و ثنا بیان کی، پھر میں نے کہا : سنئیے، قسم اللہ کی ! اگر میں آپ لوگوں سے کہتی ہوں کہ میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ گواہ ہے کہ میں سچی (بےگناہ) ہوں تب بھی مجھے آپ کے سامنے اس سے فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا کیونکہ آپ ہی یہ بات کہنے والے ہیں اور آپ کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی ہے اور اگر میں یہ کہہ دوں کہ میں نے ایسا کیا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں نے نہیں کیا، تو آپ ضرور کہیں گے کہ اس نے تو اعتراف جرم کرلیا ہے، اور میں قسم اللہ کی ! اپنے اور آپ کے لیے اس سے زیادہ مناسب حال کوئی مثال نہیں پاتی (میں نے مثال دینے کے لیے) یعقوب (علیہ السلام) کا نام ڈھونڈا اور یاد کیا، مگر میں اس پر قادر نہ ہوسکی، (مجھے ان کا نام یاد نہ آسکا تو میں نے ابویوسف کہہ دیا) مگر یوسف (علیہ السلام) کے باپ کی مثال جب کہ انہوں نے «فصبر جميل والله المستعان علی ما تصفون» کہا ٢ ؎۔ اسی وقت رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہونے لگی تو ہم سب خاموش ہوگئے، پھر آپ پر سے وحی کے آثار ختم ہوئے تو میں نے آپ کے چہرے سے خوشی پھوٹتی ہوئی دیکھی، آپ اپنی پیشانی سے پسینہ پونچھتے ہوئے فرمانے لگے : اے عائشہ ! خوش ہوجاؤ اللہ نے تمہاری براۃ میں آیت نازل فرما دی ہے ، مجھے اس وقت سخت غصہ آیا جب میرے ماں باپ نے مجھ سے کہا : کھڑی ہو کر آپ کا شکریہ ادا کر، میں نے کہا : نہیں، قسم اللہ کی ! میں آپ کا شکریہ ادا کرنے کے لیے کھڑی نہ ہوں گی، نہ میں ان کی تعریف کروں گی اور نہ آپ دونوں کی، نہ میں ان کی احسان مند ہوں گی اور نہ آپ دونوں کا بلکہ میں اس اللہ کا احسان مند اور شکر گزار ہوں گی جس نے میری براۃ میں آیت نازل فرمائی، آپ لوگوں نے تو میری غیبت و تہمت سنی، لیکن اس پر تردید و انکار نہ کیا، اور نہ اسے روک دینے اور بدل دینے کی کوشش کی، عائشہ (رض) کہا کرتی تھیں : رہی زینب بن حجش تو اللہ نے انہیں ان کی نیکی و دینداری کی وجہ سے بچا لیا، انہوں نے اس قضیہ میں جب بھی کہا، اچھی و بھلی بات ہی کہی، البتہ ان کی بہن حمنہ (شریک بہتان ہو کر) ہلاک ہونے والوں کے ساتھ ہلاک ہوگئی، اور جو لوگ اس بہتان بازی اور پروپیگنڈے میں لگے ہوئے تھے وہ مسطح، حسان بن ثابت اور منافق عبداللہ بن ابی بن سلول تھے، اور یہی منافق (فتنہ پردازوں کا سردار و سرغنہ) ہی اس معاملہ میں اپنی سیاست چلاتا اور اپنے ہم خیال لوگوں کو یکجا رکھتا تھا، یہی وہ شخص تھا اور اس کے ساتھ حمنہ بھی تھی، جو اس فتنہ انگیزی میں پیش پیش تھی، ابوبکر (رض) نے قسم کھالی کہ اب وہ (اس احسان فراموش و بدگو) مسطح کو کبھی کوئی فائدہ نہ پہنچائیں گے، اس پر آیت «ولا يأتل أولوا الفضل منکم والسعة» ٣ ؎ نازل ہوئی، اس سے یہاں مراد ابوبکر ہیں، «أن يؤتوا أولي القربی والمساکين والمهاجرين في سبيل الله» ٤ ؎ اس سے اشارہ مسطح کی طرف ہے۔ «ألا تحبون أن يغفر اللہ لکم والله غفور رحيم» ٥ ؎ (یہ آیت سن کر) ابوبکر (رض) نے کہا : کیوں نہیں، قسم اللہ کی ! ہمارے رب ! ہم پسند کرتے ہیں کہ تو ہمیں بخش دے، پھر مسطح کو دینے لگے جو پہلے دیتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث ہشام بن عروہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس حدیث کو یونس بن یزید، معمر اور کئی دوسرے لوگوں نے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ سے اور ان سبھوں نے عائشہ سے روایت کی ہے، یہ حدیث ہشام بن عروہ کی حدیث سے لمبی بھی ہے اور مکمل بھی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة النور ٦ (٤٧٥٠) و ١١ (٤٧٥٧) (تعلیقا) ، والإعتصام ٢٩ (تعلیقا) صحیح مسلم/التوبة ١٠ (٢٧٧٠/٥٨) ، سنن ابی داود/ الأدب ١٥٦ (٥٢١٩) (تحفة الأشراف : ١٦٧٩٨) ، و مسند احمد (٦/٥٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : میں نے کبھی کسی عورت کا آنچل تک نہیں سرکایا ہے چہ جائے گی میں ایسی گستاخی اور جسارت کروں۔ ٢ ؎ : صبر ہی بہتر ہے اور جو تم کہتے ، بیان کرتے ہو اس پر اللہ ہی معاون و مددگار ہے ۔ ٣ ؎ : اصحاب فضل اور فراخی والے قسم نہ کھائیں ( النور : ٢٢) ۔ ٤ ؎ : رشتہ والوں ، مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو نہ دیں گے ( النور : ٢٢) ۔ ٥ ؎ : کیا تمہیں پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہیں بخش دے ، اللہ بخشنے والا مہربان ہے ( النور : ٢٢) ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3180
حدیث نمبر: 3180 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا ذُكِرَ مِنْ شَأْنِي الَّذِي ذُكِرَ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيَّ خَطِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَتَشَهَّدَ وَحَمِدَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي أُنَاسٍ أَبَنُوا أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي مِنْ سُوءٍ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَنُوا بِمَنْ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِ مِنْ سُوءٍ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا دَخَلَ بَيْتِي قَطُّ إِلَّا وَأَنَا حَاضِرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا غِبْتُ فِي سَفَرٍ إِلَّا غَابَ مَعِي ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ أَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَقَامَ رَجُلٌ مِنَ بَنِي الْخَزْرَجِ وَكَانَتْ أُمُّ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ مِنْ رَهْطِ ذَلِكَ الرَّجُلِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَذَبْتَ أَمَا وَاللَّهِ أَنْ لَوْ كَانُوا مِنَ الْأَوْسِ مَا أَحْبَبْتَ أَنْ تُضْرَبَ أَعْنَاقُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى كَادَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ شَرٌّ فِي الْمَسْجِدِ وَمَا عَلِمْتُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا كَانَ مَسَاءُ ذَلِكَ الْيَوْمِ خَرَجْتُ لِبَعْضِ حَاجَتِي وَمَعِي أُمُّ مِسْطَحٍ، ‏‏‏‏‏‏فَعَثَرَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّانِيَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَهَرْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَسَكَتَتْ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَثَرَتِ الثَّالِثَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ تَعِسَ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏فَانْتَهَرْتُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لَهَا:‏‏‏‏ أَيْ أُمُّ تَسُبِّينَ ابْنَكِ ؟ فَقَالَتْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا أَسُبُّهُ إِلَّا فِيكِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ فِي أَيِّ شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَبَقَرَتْ لِي الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَقَدْ كَانَ هَذَا ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَقَدْ رَجَعْتُ إِلَى بَيْتِي وَكَأَنَّ الَّذِي خَرَجْتُ لَهُ لَمْ أَخْرُجْ لَا أَجِدُ مِنْهُ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، ‏‏‏‏‏‏وَوُعِكْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَرْسِلْنِي إِلَى بَيْتِ أَبِي فَأَرْسَلَ مَعِي الْغُلَامَ، ‏‏‏‏‏‏فَدَخَلْتُ الدَّارَ فَوَجَدْتُ أُمَّ رُومَانَ فِي السُّفْلِ وَأَبُو بَكْرٍ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ أُمِّي:‏‏‏‏ مَا جَاءَ بِكِ يَا بُنَيَّةُ ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَأَخْبَرْتُهَا وَذَكَرْتُ لَهَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا هُوَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا بُنَيَّةُ خَفِّفِي عَلَيْكِ الشَّأْنَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ لَقَلَّمَا كَانَتِ امْرَأَةٌ حَسْنَاءُ عِنْدَ رَجُلٍ يُحِبُّهَا لَهَا ضَرَائِرُ إِلَّا حَسَدْنَهَا وَقِيلَ فِيهَا فَإِذَا هِيَ لَمْ يَبْلُغْ مِنْهَا مَا بَلَغَ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ وَقَدْ عَلِمَ بِهِ أَبِي ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏وَاسْتَعْبَرْتُ وَبَكَيْتُ فَسَمِعَ أَبُو بَكْرٍ صَوْتِي وَهُوَ فَوْقَ الْبَيْتِ يَقْرَأُ فَنَزَلَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِأُمِّي:‏‏‏‏ مَا شَأْنُهَا ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ بَلَغَهَا الَّذِي ذُكِرَ مِنْ شَأْنِهَا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَقَسَمْتُ عَلَيْكِ يَا بُنَيَّةُ إِلَّا رَجَعْتِ إِلَى بَيْتِكِ فَرَجَعْتُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَقَدْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَ عَنِّي خَادِمَتِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا عَيْبًا إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ تَرْقُدُ حَتَّى تَدْخُلَ الشَّاةُ فَتَأْكُلَ خَمِيرَتَهَا أَوْ عَجِينَتَهَا، ‏‏‏‏‏‏وَانْتَهَرَهَا بَعْضُ أَصْحَابِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصْدِقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسْقَطُوا لَهَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَيْهَا إِلَّا مَا يَعْلَمُ الصَّائِغُ عَلَى تِبْرِ الذَّهَبِ الْأَحْمَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَ الْأَمْرُ ذَلِكَ الرَّجُلَ الَّذِي قِيلَ لَهُ فَقَالَ:‏‏‏‏ سُبْحَانَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ كَنَفَ أُنْثَى قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَقُتِلَ شَهِيدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأَصْبَحَ أَبَوَايَ عِنْدِي فَلَمْ يَزَالَا حَتَّى دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّى الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَخَلَ وَقَدِ اكْتَنَفَنِي أَبَوَايَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، ‏‏‏‏‏‏فَتَشَهَّدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ يَا عَائِشَةُ إِنْ كُنْتِ قَارَفْتِ سُوءًا أَوْ ظَلَمْتِ فَتُوبِي إِلَى اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَقَدْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَهِيَ جَالِسَةٌ بِالْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَلَا تَسْتَحْيِي مِنْ هَذِهِ الْمَرْأَةِ أَنْ تَذْكُرَ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏فَوَعَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتُّ إِلَى أَبِي، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَجِبْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَمَاذَا أَقُولُ ؟ فَالْتَفَتُّ إِلَى أُمِّي فَقُلْتُ:‏‏‏‏ أَجِيبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ أَقُولُ مَاذَا ؟ قَالَتْ:‏‏‏‏ فَلَمَّا لَمْ يُجِيبَا تَشَهَّدْتُ فَحَمِدْتُ اللَّهَ وَأَثْنَيْتُ عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قُلْتُ:‏‏‏‏ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ قُلْتُ لَكُمْ إِنِّي لَمْ أَفْعَلْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنِّي لَصَادِقَةٌ مَا ذَاكَ بِنَافِعِي عِنْدَكُمْ لِي لَقَدْ تَكَلَّمْتُمْ وَأُشْرِبَتْ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ قُلْتُ:‏‏‏‏ إِنِّي قَدْ فَعَلْتُ وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَفْعَلْ لَتَقُولُنَّ إِنَّهَا قَدْ بَاءَتْ بِهِ عَلَى نَفْسِهَا وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مَثَلًا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَالْتَمَسْتُ اسْمَ يَعْقُوبَ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَيْهِ إِلَّا أَبَا يُوسُفَ حِينَ قَالَ:‏‏‏‏ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ عَلَى مَا تَصِفُونَ سورة يوسف آية 18 قَالَتْ:‏‏‏‏ وَأُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَاعَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَسَكَتْنَا فَرُفِعَ عَنْهُ وَإِنِّي لَأَتَبَيَّنُ السُّرُورَ فِي وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُ جَبِينَهُ وَيَقُولُ:‏‏‏‏ الْبُشْرَى يَا عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَكُنْتُ أَشَدَّ مَا كُنْتُ غَضَبًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي أَبَوَايَ:‏‏‏‏ قُومِي إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ لَا وَاللَّهِ لَا أَقُومُ إِلَيْهِ وَلَا أَحْمَدُهُ وَلَا أَحْمَدُكُمَا وَلَكِنْ أَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَنْزَلَ بَرَاءَتِي، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ سَمِعْتُمُوهُ فَمَا أَنْكَرْتُمُوهُ وَلَا غَيَّرْتُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ عَائِشَةُ، ‏‏‏‏‏‏تَقُولُ:‏‏‏‏ أَمَّا زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ فَعَصَمَهَا اللَّهُ بِدِينِهَا فَلَمْ تَقُلْ إِلَّا خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أُخْتُهَا حَمْنَةُ فَهَلَكَتْ فِيمَنْ هَلَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الَّذِي يَتَكَلَّمُ فِيهِ مِسْطَحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَحَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُنَافِقُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ يَسُوسُهُ وَيَجْمَعُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ الَّذِي تَوَلَّى كِبْرَهُ مِنْهُمْ هُوَ وَحَمْنَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ فَحَلَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنْ لَا يَنْفَعَ مِسْطَحًا بِنَافِعَةٍ أَبَدًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَلا يَأْتَلِ أُولُو الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ سورة النور آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، ‏‏‏‏‏‏يَعْنِي:‏‏‏‏ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبَى وَالْمَسَاكِينَ وَالْمُهَاجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَعْنِي:‏‏‏‏ مِسْطَحًا، ‏‏‏‏‏‏إِلَى قَوْلِهِ أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ يَا رَبَّنَا إِنَّا لَنُحِبُّ أَنْ تَغْفِرَ لَنَا، ‏‏‏‏‏‏وَعَادَ لَهُ بِمَا كَانَ يَصْنَعُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْمَرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرُ وَاحِدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وعبيد الله بن عبد الله، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ هَذَا الْحَدِيثَ أَطْوَلَ مِنْ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَأَتَمَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮১
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ نور کی تفسیر
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب میری صفائی و پاکدامنی کی آیت نازل ہوگئی تو رسول اللہ ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا ذکر کیا، قرآن کی تلاوت کی، اور منبر سے اترنے کے بعد دو مردوں اور ایک عورت پر حد (قذف) جاری کرنے کا حکم فرمایا۔ چناچہ ان سب پر حد جاری کردی گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے محمد بن اسحاق کی روایت کے سوا اور کسی طریقے سے نہیں جانتے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٣٥ (٤٤٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٥ (٢٥٦٧) (تحفة الأشراف : ١٧٨٩٨) ، و مسند احمد (٦/٣٥) (حسن) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (2567) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3181
حدیث نمبر: 3181 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَ عُذْرِي قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَذَكَرَ ذَلِكَ وَتَلَا الْقُرْآنَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا نَزَلَ أَمَرَ بِرَجُلَيْنِ وَامْرَأَةٍ فَضُرِبُوا حَدَّهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮২
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ فرقان کی تفسیر
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کا کسی کو شریک ٹھہراؤ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ صرف اسی ایک ذات نے تمہیں پیدا کیا ہے (اس کا کوئی شریک نہیں ہے) ۔ میں نے کہا : پھر کون سا گناہ بہت بڑا ہے ؟ فرمایا : یہ ہے کہ تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھائے گا ، میں نے کہا : پھر کون سا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر البقرة ٣ (٤٤٧٧) ، والأدب ٢٠ (٤٧٦١) ، والحدود ٢٠ (٦٨١١) ، والدیات ٢ (٦٨٦١) ، والتوحید ٤٠ (٧٥٢٠) ، و ٤٦ (٧٥٣٢) ، صحیح مسلم/الإیمان ٣٧ (٨٦) (الطلاق ٥٠ (٢٣١٠) (تحفة الأشراف : ٩٤٨٠) ، و مسند احمد (١/٣٨٠، ٤٧١، ٤٢٤، ٤٦٢) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : مؤلف نے اس حدیث کو ارشاد باری تعالیٰ : «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلک يلق أثاما» (الفرقان : ٦٨) کی تفسیر میں ذکر کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2337) ، صحيح أبي داود (2000) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3182
حدیث نمبر: 3182 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৩
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سورہ فرقان کی تفسیر
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کون سا گناہ بڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بڑا گناہ یہ ہے کہ تم کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراؤ، جب کہ اسی نے تم کو پیدا کیا ہے، اور تم اپنے بیٹے کو اس ڈر سے مار ڈالو کہ وہ رہے گا تو تمہارے ساتھ کھائے پیئے گا، یا تمہارے کھانے میں سے کھائے گا، اور تم اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو، اور آپ نے یہ آیت پڑھی «والذين لا يدعون مع اللہ إلها آخر ولا يقتلون النفس التي حرم اللہ إلا بالحق ولا يزنون ومن يفعل ذلک يلق أثاما يضاعف له العذاب يوم القيامة ويخلد فيه مهانا» اللہ کے بندے وہ ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود جان کر نہیں پکارتے، اور کسی جان کو جس کا قتل اللہ نے حرام کردیا ہے، ناحق (یعنی بغیر قصاص وغیرہ) قتل نہیں کرتے، اور زنا نہیں کرتے، اور جو ایسا کچھ کرے گا وہ اپنے گناہوں کی سزا سے دوچار ہوگا، قیامت کے دن عذاب دوچند ہوجائے گا اور اس میں ہمیشہ ذلیل و رسوا ہو کر رہے گا (الفرقان : ٦ ٨- ٦٩) ،۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- سفیان کی وہ روایت جسے انہوں نے منصور اور اعمش سے روایت کی ہے، واصل کی روایت کے مقابلہ میں زیادہ صحیح ہے اس لیے کہ انہوں نے اس حدیث کی سند میں ایک راوی (عمرو بن شرحبیل) کا اضافہ کیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف : ٩٣١١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ سفیان کی صرف واصل سے روایت ( رقم : ٣١٨٢) میں بھی سند میں عمرو بن شرحبیل کا اضافہ ہے ، دراصل سفیان کی دونوں روایتوں میں یہ اضافہ موجود ہے ، شعبہ کی دونوں روایتوں میں یہ اضافہ نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2337) ، صحيح أبي داود (2000) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3183 اس سند سے شعبہ نے واصل سے، واصل نے ابو وائل سے اور ابو وائل عبداللہ بن مسعود کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کی ہے، ٣- اسی طرح شعبہ نے واصل سے واصل نے ابو وائل سے اور ابو وائل نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے اور انہوں نے اس میں عمرو بن شرحبیل کا ذکر نہیں کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2337) ، صحيح أبي داود (2000) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3183
حدیث نمبر: 3183 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ أَبُو زَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَأْكُلَ مَعَكَ أَوْ مِنْ طَعَامِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنْ تَزْنِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ وَلا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا ‏‏‏‏ 68 ‏‏‏‏ يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا ‏‏‏‏ 69 ‏‏‏‏ سورة الفرقان آية 68-69. قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ سُفْيَانَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورٍ، ‏‏‏‏‏‏وَالْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَاصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ زَادَ فِي إِسْنَادِهِ رَجُلًا.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ وَاصِلٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَاصِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَمْرَو بْنَ شُرَحْبِيلَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৪
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت شعرائ
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب یہ آیت «وأنذر عشيرتک الأقربين» اے نبی ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ (الشعراء : ٢١٤) ، نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے صفیہ بنت عبدالمطلب، اے فاطمہ بنت محمد، اے بنی عبدالمطلب : سن لو میں اللہ سے متعلق معاملات میں تمہاری کچھ بھی حمایت، مدد و سفارش نہیں کرسکتا، ہاں (اس دنیا میں) میرے مال میں سے جو چاہو مانگ سکتے ہو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح روایت کی ہے وکیع اور کئی راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے اور عروہ نے عائشہ سے محمد بن عبدالرحمٰن طفاوی کی حدیث کی مانند، ٣- اور بعض راویوں نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے اور اس سند میں عائشہ (رض) کا ذکر نہیں کیا، ٤- اس باب میں علی اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٣١٠ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح وهو مکرر الحديث (2412) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3184
حدیث نمبر: 3184 حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ:‏‏‏‏ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يَا صَفِيَّةُ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، ‏‏‏‏‏‏يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، ‏‏‏‏‏‏سَلُونِي مِنْ مَالِي مَا شِئْتُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا رَوَى وَكِيعٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَفِي الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৫
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت شعرائ
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت «وأنذر عشيرتک الأقربين» اے نبی ! اپنے قرابت داروں کو ڈرایئے نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے خاص و عام سبھی قریش کو اکٹھا کیا ١ ؎، آپ نے انہیں مخاطب کر کے کہا : اے قریش کے لوگو ! اپنی جانوں کو آگ سے بچا لو، اس لیے کہ میں تمہیں اللہ کے مقابل میں کوئی نقصان یا کوئی نفع پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اے بنی عبد مناف کے لوگو ! اپنے آپ کو جہنم سے بچا لو، کیونکہ میں تمہیں اللہ کے مقابل میں کسی طرح کا نقصان یا نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اے بنی قصی کے لوگو ! اپنی جانوں کو آگ سے بچا لو۔ کیونکہ میں تمہیں کوئی نقصان یا فائدہ پہنچانے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اے بنی عبدالمطلب کے لوگو ! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، کیونکہ میں تمہیں کسی طرح کا ضرر یا نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، اے فاطمہ بنت محمد ! اپنی جان کو جہنم کی آگ سے بچا لے، کیونکہ میں تجھے کوئی نقصان یا نفع پہنچانے کا اختیار نہیں رکھتا، تم سے میرا رحم (خون) کا رشتہ ہے سو میں احساس کو تازہ رکھوں گا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : موسیٰ بن طلحہ کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١١ (٢٧٥٣) والمناق ١٣ (٣٥٢٧) ، وتفسیر سورة الشعراء ٢ (٤٧٧١) ، صحیح مسلم/الإیمان ٨٩ (٢٠٤) ، سنن النسائی/الوصایا ٦ (٣٦٧ ¤ ٤- ٣٦٧٧) (تحفة الأشراف : ١٤٦٢٣) ، و مسند احمد (٢/٣٣٣، ٣٦٠، ٥١٩) ، سنن الدارمی/الرقاق ٢٣ (٢٧٧٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہ دوسری عام مجلس ہوگی ، اور پہلی مجلس خاص اہل خاندان کے ساتھ ہوئی ہوگی ؟۔ ٢ ؎ : یعنی اس کا حق ( اس دنیا میں ) ادا کروں گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3185 اس سند سے موسیٰ بن طلحہ سے اور موسیٰ بن طلحہ نے ابوہریرہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کی ہم معنی حدیث روایت کی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3185
حدیث نمبر: 3185 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرَّقِّيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا فَخَصَّ وَعَمَّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، ‏‏‏‏‏‏أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، ‏‏‏‏‏‏يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ مِنَ اللَّهِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، ‏‏‏‏‏‏يَا مَعْشَرَ بَنِي قُصَيٍّ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، ‏‏‏‏‏‏يَا مَعْشَرَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا، ‏‏‏‏‏‏يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ فَإِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكِ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِنَّ لَكِ رَحِمًا سَأَبُلُّهَا بِبَلَالِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ يُعْرَفُ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ. حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ، عَنْ عبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏بِمَعْنَاهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৩১৮৬
قرآن کی تفسیر کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تفسیر سورت شعرائ
ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ جب آیت : «وأنذر عشيرتک الأقربين» نازل ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیاں کانوں میں (اذان کی طرح) ڈال کر بلند آواز سے پکار کہا : یا بنی عبد مناف ! یا صباحاہ ! اے عبد مناف کے لوگو ! جمع ہوجاؤ (اور سنو اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کرو) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- بعض نے اس حدیث کو عوف سے، اور عوف نے قسامہ بن زہیر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے اور انہوں نے اس میں ابوموسیٰ (اشعری) سے روایت کا ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے، ٣- میں نے اس کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے مذاکرہ کیا تو انہوں نے ابوموسیٰ اشعری کے واسطہ سے اس حدیث کی معرفت سے اپنی لاعلمی ظاہر کی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٠٢٦) (حسن صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 3186
حدیث نمبر: 3186 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زَيْدٍ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا نَزَلَ وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214 وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ فَرَفَعَ مِنْ صَوْتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ يَا صَبَاحَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، ‏‏‏‏‏‏وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ أَصَحُّ ذَاكَرْتُ بِهِ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل فَلَمْ يَعْرِفْهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى.
tahqiq

তাহকীক: