আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

ایمان کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৯ টি

হাদীস নং: ২৬২৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کوئی زانی زنا کرتے ہوئے حامل ایمان نہیں رہتا
علی بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے کوئی جرم کیا اور اسے اس کے جرم کی سزا دنیا میں مل گئی تو اللہ اس سے کہیں زیادہ انصاف پسند ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے اور جس نے کوئی گناہ کیا اور اللہ نے اس کی پردہ پوشی کردی اور اس سے درگزر کردیا تو اللہ کا کرم اس سے کہیں بڑھ کر ہے کہ وہ بندے سے اس بات پر دوبارہ مواخذہ کرے جسے وہ پہلے معاف کرچکا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - یہی اہل علم کا قول ہے۔ ہم کسی شخص کو نہیں جانتے جس نے زنا کر بیٹھنے، چوری کر ڈالنے اور شراب پی لینے والے کو کافر گردانا ہو۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٣ (٢٦٠٤) (تحفة الأشراف : ١٠٣١٣) (ضعیف) (سند میں حجاج بن محمد المصیصی اگرچہ ثقہ راوی ہیں، لیکن آخری عمر میں موت سے پہلے بغداد آنے پر اختلاط کا شکار ہوگئے تھے، اور ابواسحاق السبیعی ثقہ لیکن مدلس اور مختلط راوی ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2604) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (567) مع اختلاف في اللفظ، ضعيف الجامع الصغير (5423) ، المشکاة (3629) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2626
حدیث نمبر: 2626 حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ أَبِي السَّفَرِ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَمْدَانِيُّ الْكُوفِيُّ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْيُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ أَصَابَ حَدًّا فَعُجِّلَ عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثَنِّيَ عَلَى عَبْدِهِ الْعُقُوبَةَ فِي الْآخِرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَصَابَ حَدًّا فَسَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَذَا قَوْلُ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا كَفَّرَ أَحَدًا بِالزِّنَا أَوِ السَّرِقَةِ وَشُرْبِ الْخَمْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان (کامل) وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، اور مومن (کامل) وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو محفوظ سمجھیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر، ابوموسیٰ اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے (بھی) احادیث آئی ہیں، ٣-
حدیث نمبر: 2627 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. (حديث مرفوع)
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں۔
نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ سے پوچھا گیا : سب سے بہتر مسلمان کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الإیمان ٨ (٤٩٩٨) (تحفة الأشراف : ١٢٨٦٤) ، و مسند احمد (٢/٣٧٩) (حسن صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، المشکاة (33 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (549) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2627 ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے پوچھا گیا کہ مسلمانوں میں کون سا مسلمان سب سے بہتر ہے ؟ آپ نے فرمایا : وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ (کے شر) سے مسلمان محفوظ رہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابوموسیٰ اشعری کی روایت سے جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں صحیح غریب حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ٢٥٠٤ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح وهو مکرر (2632) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2628
وَيُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سُئِلَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي مُوسَى، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. حدیث نمبر: 2628 حَدَّثَنَا بِذَلِكَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ،‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْمُسْلِمِينَ أَفْضَلُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬২৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ اسلام کی ابتداء وانتہاء غریبوں سے ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسلام اجنبی حالت میں شروع ہوا، عنقریب پھر اجنبی بن جائے گا، لہٰذا ایسے وقت میں اس پر قائم رہنے والے اجنبیوں کے لیے خوشخبری و مبارک بادی ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن مسعود (رض) کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں سعد، ابن عمر، جابر، اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی روایت ہے، ٣ - میں اس حدیث کو صرف حفص بن غیاث کی روایت سے جسے وہ اعمش کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں، جانتا ہوں، ٤ - ابوالاحوص کا نام عوف بن مالک بن نضلہ جشمی ہے، ٥ - ابوحفص اس حدیث کی روایت میں منفرد ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ١٥ (٣٩٨٨) (تحفة الأشراف : ٩٥١٠) ، و مسند احمد (١/٣٩٨) ، وسنن الدارمی/الرقاق ٤٢ (٢٧٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مفہوم یہ ہے کہ اسلام جب آیا تو اس کے ماننے والوں کی زندگی جس اجنبیت کے عالم میں گزر رہی تھی یہاں تک کہ لوگ ان سے نفرت کرتے تھے ، اور ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے کو اپنے لیے حقارت سمجھتے تھے انہیں تکلیفیں پہنچاتے تھے ، ٹھیک اسی اجنبیت کے عالم میں اسلام کے آخری دور میں اس کے پیروکار ہوں گے ، لیکن خوشخبری اور مبارک بادی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے اس اجنبی حالت میں اسلام کو گلے سے لگایا اور جو اس کے آخری دور میں اسے گلے سے لگائیں گے ، اور دشمنوں کی تکالیف برداشت کر کے جان و مال سے اس کی خدمت و اشاعت کرتے رہیں گے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3988) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2629
حدیث نمبر: 2629 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْإِسْلَامَ بَدَأَ غَرِيبًا وَسَيَعُودُ غَرِيبًا كَمَا بَدَأَ، ‏‏‏‏‏‏فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الْأَعْمَشِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو الْأَحْوَصِ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ الْجُشَمِيُّ تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ اسلام کی ابتداء وانتہاء غریبوں سے ہے
عمرو بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (ایک وقت آئے گا کہ) دین اسلام حجاز میں سمٹ کر رہ جائے گا جس طرح کہ سانپ اپنے سوراخ میں سمٹ کر بیٹھ جاتا ہے۔ اور یقیناً دین حجاز میں آ کر ایسے ہی محفوظ ہوجائے گا جس طرح پہاڑی بکری پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر محفوظ ہوجاتی ہے ١ ؎، دین اجنبی حالت میں آیا اور وہ پھر اجنبی حالت میں جائے گا، خوشخبری اور مبارک بادی ہے ایسے گمنام مصلحین کے لیے جو میرے بعد میری سنت میں لوگوں کی پیدا کردہ خرابیوں اور برائیوں کی اصلاح کرتے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٧٧٨) (ضعیف جدا) (سند میں کثیر بن عبداللہ سخت ضعیف راوی ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بارش کا بادل پہاڑ کی نچلی سطح پر ہوتا ہے تو بکری پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اپنے کو بارش سے بچا لیتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بکری پہاڑ کی نشیبی سطح پر ہو اور برساتی پانی کا ریلا آ کر اسے بہا لے جائے اور مار ڈالے اس ڈر سے وہ پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر اس طرح کی مصیبتوں اور ہلاکتوں سے اپنے کو محفوظ کرلیتی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا الصحيحة تحت الحديث (1273) ، المشکاة (170) // ضعيف الجامع الصغير (1441) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2630
حدیث نمبر: 2630 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ زَيْدِ بْنِ مِلْحَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ مِنَ الْحِجَازِ مَعْقِلَ الْأُرْوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ الدِّينَ بَدَأَ غَرِيبًا وَيَرْجِعُ غَرِيبًا، ‏‏‏‏‏‏فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ الَّذِينَ يُصْلِحُونَ مَا أَفْسَدَ النَّاسُ مِنْ بَعْدِي مِنْ سُنَّتِي ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی علمات کے متعلق
اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٤٣٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں ایک منافق کی جو خصلتیں بیان ہوئی ہیں ، بدقسمتی سے آج مسلمانوں کی اکثریت اس عملی نفاق میں مبتلا ہے ، مسلمان دنیا بھر میں جو ذلیل و رسوا ہو رہے ہیں اس میں ان کے اسی منافقانہ کردار اور اخلاق و عمل کا دخل ہے ، منافق وہ ہے جو اپنی زبان سے اہل اسلام کے سامنے اسلام کا اظہار کرے ، لیکن دل میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض و عناد رکھے ، یہ اعتقادی نفاق ہے ، وحی الٰہی کے بغیر اس کا پہچاننا اور جاننا ناممکن ہے ، حدیث میں مذکورہ خصلتیں عملی نفاق کی ہیں ، اعتقادی نفاق کفر ہے ، جب کہ عملی نفاق کفر نہیں ہے تاہم یہ بھی بہت خطرناک ہے جس سے بچنا چاہیئے ، رب العالمین مسلمانوں کو ہدایت بخشے۔ آمین قال الشيخ الألباني : صحيح إيمان أبي عبيد ص (95) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2631
حدیث نمبر: 2631 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو سُهَيْلٍ هُوَ عَمُّ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَاسْمُهُ:‏‏‏‏ نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ الْأَصْبَحِيُّ الْخَوْلَانِيُّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی علمات کے متعلق
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : چار خصلتیں جس شخص میں ہوں گی وہ (مکمل) منافق ہوگا۔ اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہوگی، اس میں نفاق کی ایک خصلت ہوگی یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے : وہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے اور جب معاہدہ کرے تو بےوفائی کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الإیمان ٢٤ (٣٤) ، والمظالم ١٧ (٢٤٥٩) ، والجزیة ١٧ (٢١٧٨) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٥ (٥٨) ، سنن ابی داود/ السنة ١٦ (٤٦٨٨) ، سنن النسائی/الإیمان ٢٠ (٥٠٢٣) (تحفة الأشراف : ٨٩٣١) ، و مسند احمد (٢/١٨٩، ١٩٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2632 اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس سے اہل علم کے نزدیک عملی نفاق مراد ہے، نفاق تکذیب (اعتقادی نفاق) صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھا ١ ؎، ٣ - حسن بصری سے بھی اس بارے میں کچھ اسی طرح سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : نفاق دو طرح کا ہوتا ہے، ایک عملی نفاق اور دوسرا اعتقادی نفاق۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کا عمل منافقوں جیسا ہے۔ اس کے عمل میں نفاق ہے ، لیکن ہم اس کے منافق ہونے کا فیصلہ نہیں کرسکتے۔ اسے اس کے ایمان میں جھوٹا ٹھہرا کر منافق قرار نہیں دے سکتے۔ ایسا تو صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ہوسکتا تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ صاحب وحی تھے ، وحی الٰہی کی روشنی میں آپ کسی کے بارے میں کہہ سکتے تھے کہ فلاں منافق ہے مگر ہمیں اور آپ کو کسی کے منافق ہونے کا فیصلہ کرنے کا حق و اختیار نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2632
حدیث نمبر: 2632 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْمَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَتْ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ فِيهِ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا:‏‏‏‏ مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ نِفَاقُ الْعَمَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا كَانَ نِفَاقُ التَّكْذِيبِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،‏‏‏‏ هَكَذَا رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ شَيْءٌ مِنْ هَذَا أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ النِّفَاقُ نِفَاقَانِ:‏‏‏‏ نِفَاقُ الْعَمَلِ، ‏‏‏‏‏‏وَنِفَاقُ التَّكْذِيبِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منافق کی علمات کے متعلق
زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب آدمی کسی سے وعدہ کرے اور اس کی نیت یہ ہو کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا لیکن وہ (کسی عذر و مجبوری سے) پورا نہ کرسکا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - اس کی اسناد قوی نہیں ہے، ٣ - علی بن عبدالاعلی ثقہ ہیں، ابونعمان اور ابو وقاص غیر معروف ہیں اور دونوں ہی مجہول راوی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ٩٠ (٤٩٩٥) (تحفة الأشراف : ٣٦٩٣) (ضعیف) (مولف نے وجہ بیان کر سنن الدارمی/ ہے ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ایسا شخص منافقین کے زمرہ میں نہ آئے گا ، کیونکہ اس کی نیت صالح تھی اور عمل کا دارومدار نیت پر ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (4881) ، الضعيفة (1447) // ضعيف الجامع الصغير (723) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2633
حدیث نمبر: 2633 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، عَنْ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِذَا وَعَدَ الرَّجُلُ وَيَنْوِي أَنْ يَفِيَ بِهِ فَلَمْ يَفِ بِهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يُعْرَفُ أَبُو النُّعْمَانِ وَلَا أَبُو وَقَّاصٍ وَهُمَا مَجْهُولَانِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے متعلق کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کا اپنے کسی مسلمان بھائی سے جنگ کرنا کفر ہے اور اس سے گالی گلوچ کرنا فسق ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن مسعود کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث عبداللہ بن مسعود سے کئی سندوں سے آئی ہے، ٣ - اس باب میں سعد اور عبداللہ بن مغفل (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٩٨٣) (تحفة الأشراف : ٩٣٦٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح وقد مضی (2066) سند آخر عنه صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2634
حدیث نمبر: 2634 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ قِتَالُ الْمُسْلِمِ أَخَاهُ كُفْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسِبَابُهُ فُسُوقٌ ،‏‏‏‏ وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ،‏‏‏‏ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৫
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس کے متعلق کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کو گالی گلوچ دینا فسق ہے، اور اس سے جنگ کرنا کفر ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - حدیث کے الفاظ «قتاله كفر» کا معنی و مراد یہ ہے کہ اسود عنسی کے ارتداد کے کفر جیسا کفر نہیں ہے اور اس کی دلیل نبی اکرم ﷺ کی وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کردیا گیا ہو تو اس مقتول کے اولیا و وارثین کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ چاہیں تو مقتول کے قاتل کو قصاص میں قتل کردیں اور چاہیں تو اسے معاف کردیں اور چھوڑ دیں۔ اگر یہ قتل کفر (حقیقی) کے درجہ میں ہوتا تو پھر قاتل کا قتل واجب ہوجاتا، ٤ - ابن عباس، طاؤس، عطاء اور دوسرے بہت سے اہل علم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں : یہ کفر تو ہے لیکن کمتر درجے کا کفر ہے، یہ فسق تو ہے لیکن چھوٹے درجے کا فسق ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٩٨٣ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح وهو مکرر الحديث (2066) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2635
حدیث نمبر: 2635 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقِتَالُهُ كُفْرٌ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ:‏‏‏‏ قِتَالُهُ كُفْرٌ لَيْسَ بِهِ كُفْرًا مِثْلَ الِارْتِدَادِ وَالْحُجَّةُ عَنِ الإِسْلامِ، ‏‏‏‏‏‏فِي ذَلِكَ مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ مَنْ قُتِلَ مُتَعَمَّدًا فَأَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءُوا قَتَلُوا وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كَانَ الْقَتْلُ كُفْرًا لَوَجَبَ الْقَتْلُ وَلَمْ يَصِحَّ الْعَفْوُ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَطَاوُسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَطَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا:‏‏‏‏ كُفْرٌ دُونَ كُفْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَفُسُوقٌ دُونَ فُسُوقٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৬
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی تکفیر کرے
ثابت بن ضحاک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بندہ جس چیز کا مالک نہ ہو اس چیز کی نذر مان لے تو اس نذر کا پورا کرنا واجب نہیں ١ ؎، مومن پر لعنت بھیجنے والا گناہ میں اس کے قاتل کی مانند ہے اور جو شخص کسی مومن کو کافر ٹھہرائے تو وہ ویسا ہی برا ہے جیسے اس مومن کا قاتل، اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کر ڈالا، تو اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن اسی چیز سے عذاب دے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابوذر اور ابن عمر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٨٣ (١٣٦٣) ، والأدب ٤٤ (٦٠٤٧) ، و ٧٣ (٦١٠٥) ، والأیمان والنذور ٧ (٦٦٥٢) ، صحیح مسلم/الأیمان ٤٧ (١١٠) ، سنن ابی داود/ الأیمان ٩ (٣٢٥٧) ، سنن النسائی/الأیمان ٧ (٣٨٠١، ٣٨٠٢) ، و ٣١ (٣٨٤٤) (تحفة الأشراف : ٢٠٦٢) ، و مسند احمد (٤/٣٣، ٣٤) (وانظر ماتقدم عند المؤلف برقم ١٥٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ میرے مریض کو شفاء دیدے تو فلاں غلام آزاد ہے ، حالانکہ اس غلام کا وہ مالک نہیں ہے ، معلوم ہوا کہ جو چیز بندہ کے بس میں نہیں ہے اس کی نذر ماننا صحیح نہیں اور ایسی نذر کا کچھ بھی اعتبار نہیں ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2098) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2636
حدیث نمبر: 2636 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَيْسَ عَلَى الْعَبْدِ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَاعِنُ الْمُؤْمِنِ كَقَاتِلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهُوَ كَقَاتِلِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ عَذَّبَهُ اللَّهُ بِمَا قَتَلَ بِهِ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৭
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی تکفیر کرے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر کسی نے اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہا تو ان دونوں میں سے ایک نے (گویا کہ) اپنے کافر ہونے کا اقرار کرلیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - «باء» ، «أقر» کے معنی میں ہے، یعنی اقرار کیا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأدب ٧٣ (٦١٠٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٢٦ (٦٠) (تحفة الأشراف : ٧٢٣٣) ، وط/الکلام ١ (١) ، و مسند احمد (٢/١٨، ٤٤، ٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ کسی مومن کو کافر ، کافر ہی کہہ سکتا ہے ، ایک مومن دوسرے مومن کو کافر نہیں کہہ سکتا ، اگر کہتا ہے تو جس کو کہا ہے وہ حقیقت میں اگر کافر کہلانے کا مستحق ہے تو وہ کافر ہے ، ورنہ کہنے والا اس کے سزا میں کفر کے وبال میں مبتلا ہوگا۔ اس لیے کوئی بات سوچ سمجھ کر اور زبان کو قابو میں رکھ کر ہی کہنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2637
حدیث نمبر: 2637 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ بْنِ أَنَسِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ كَافِرٌ فَقَدْ بَاءَ بِهِ أَحَدُهُمَا ،‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعْنَى قَوْلِهِ بَاءَ يَعْنِي:‏‏‏‏ أَقَرَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৮
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا خاتمہ توحید پر ہو
صنابحی سے روایت ہے کہ میں عبادہ بن صامت (رض) کے پاس اس وقت گیا جب وہ موت کی حالت میں تھے، میں (انہیں دیکھ کر) رو پڑا، انہوں نے کہا : ٹھہرو ٹھہرو، روتے کیوں ہو ؟ قسم اللہ کی ! اگر مجھ سے گواہی طلب کی گئی تو میں (آخرت میں) تمہارے ایمان کی گواہی دوں گا، اور اگر مجھے شفاعت کا موقع دیا گیا تو میں تمہاری سفارش ضرور کروں گا اور اگر مجھے کچھ استطاعت نصیب ہوئی تو میں تمہیں ضرور فائدہ پہنچاؤں گا۔ پھر انہوں نے کہا : قسم اللہ کی ! کوئی ایسی حدیث نہیں ہے جسے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو اور اس میں تم لوگوں کے لیے خیر ہو مگر میں نے اسے تم لوگوں سے بیان نہ کردیا ہو، سوائے ایک حدیث کے اور آج میں اسے بھی تم لوگوں سے بیان کیے دے رہا ہوں جب کہ میری موت قریب آچکی ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جو گواہی دے کہ کوئی معبود (برحق) نہیں سوائے اللہ کے اور گواہی دے کہ محمد ( ﷺ ) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ اس پر آگ کو حرام کر دے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ ابن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ آدمی ہیں اور حدیث میں مامون (قابل اعتماد) ہیں، ٣ - صنابحی سے مراد عبدالرحمٰن بن عسیلہ ابوعبداللہ ہیں (ابوعبداللہ کنیت ہے) ، ٤ - اس باب میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، جابر، ابن عمر، اور زید بن خالد (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٥ - زہری سے مروی ہے کہ ان سے نبی اکرم ﷺ کے فرمان : «من قال لا إله إلا اللہ دخل الجنة» جس نے «لا إله إلا الله» کہا وہ جنت میں داخل ہوگا کے متعلق پوچھا گیا (کہ اس کا مطلب کیا ہے ؟ ) تو انہوں نے کہا : یہ شروع اسلام کی بات ہے جب کہ فرائض اور امر و نہی کے احکام نہیں آئے تھے، ٦ - بعض اہل علم کے نزدیک اس حدیث کی توجیہ یہ ہے کہ اہل توحید (ہر حال میں) جنت میں جائیں گے اگرچہ انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آگ کی سزا سے بھی کیوں نہ دوچار ہونا پڑے، کیونکہ وہ جہنم میں ہمیشہ نہیں رہیں گے ١ ؎، ٧ - عبداللہ بن مسعود، ابوذر، عمران بن حصین، جابر بن عبداللہ، ابن عباس، ابو سعید خدری، انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عنقریب ایسا ہوگا کہ توحید کے قائلین کی ایک جماعت جہنم سے نکلے گی اور جنت میں داخل ہوگی ٢ ؎، ایسا ہی سعید بن جبیر ابراہیم نخعی اور دوسرے بہت سے تابعین سے مروی ہے، یہ لوگ آیت «ربما يود الذين کفروا لو کانوا مسلمين» وہ بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے (الحجر : ٢ ) ، کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں کہ جب اہل توحید جہنم سے نکالے اور جنت میں داخل کئے جائیں گے تو کافر لوگ آرزو کریں گے اے کاش ! وہ بھی مسلمان ہوتے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ١٠ (٢٩) (تحفة الأشراف : ٥٠٩٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی وہ اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر لامحالہ جنت میں جائیں گے اور ان کی آخری آرام گاہ جنت ہی ہوگی۔ ٢ ؎ : غالباً یہی وہ موحد لوگ ہوں گے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے جہنم کی سزائیں کاٹ کر جنت میں جائیں گے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2638
حدیث نمبر: 2638 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ، عَنْعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَبَكَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَهْلًا لِمَ تَبْكِي ؟ فَوَاللَّهِ لَئِنْ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَئِنْ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ ،‏‏‏‏ وفي الباب عن أَبِي بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَطَلْحَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عُمَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ:‏‏‏‏ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ كَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالصُّنَابِحِيُّ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُسَيْلَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ قَبْلَ نُزُولِ الْفَرَائِضِ وَالْأَمْرِ وَالنَّهْيِ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَوَجْهُ هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ أَهْلَ التَّوْحِيدِ سَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَإِنْ عُذِّبُوا بِالنَّارِ بِذُنُوبِهِمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُخَلَّدُونَ فِي النَّارِ،‏‏‏‏ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي ذَرٍّ، ‏‏‏‏‏‏وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ سَيَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ وَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ،‏‏‏‏ هَكَذَا رُوِيَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَفْسِيرِ هَذِهِ الْآيَةِ:‏‏‏‏ رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ سورة الحجر آية 2 قَالُوا:‏‏‏‏ إِذَا أُخْرِجَ أَهْلُ التَّوْحِيدِ مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُدْخِلُوا الْجَنَّةَ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৩৯
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس شخص کا خاتمہ توحید پر ہو
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن میری امت کے ایک شخص کو چھانٹ کر نکالے گا اور سارے لوگوں کے سامنے لائے گا اور اس کے سامنے (اس کے گناہوں کے) ننانوے دفتر پھیلائے جائیں گے، ہر دفتر حد نگاہ تک ہوگا، پھر اللہ عزوجل پوچھے گا : کیا تو اس میں سے کسی چیز کا انکار کرتا ہے ؟ کیا تم پر میرے محافظ کاتبوں نے ظلم کیا ہے ؟ وہ کہے گا : نہیں اے میرے رب ! پھر اللہ کہے گا : کیا تیرے پاس کوئی عذر ہے ؟ تو وہ کہے گا : نہیں، اے میرے رب ! اللہ کہے گا (کوئی بات نہیں) تیری ایک نیکی میرے پاس ہے۔ آج کے دن تجھ پر کوئی ظلم (و زیادتی) نہ ہوگی، پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس پر «أشهد أن لا إله إلا اللہ وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ( ﷺ ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں لکھا ہوگا۔ اللہ فرمائے گا : جاؤ اپنے اعمال کے وزن کے موقع پر (کانٹے پر) موجود رہو، وہ کہے گا : اے میرے رب ! ان دفتروں کے سامنے یہ پرچہ کیا حیثیت رکھتا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : تمہارے ساتھ زیادتی نہ ہوگی۔ آپ ( ﷺ ) نے فرمایا : پھر وہ تمام دفتر (رجسٹر) ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں، پھر وہ سارے دفتر اٹھ جائیں گے، اور پرچہ بھاری ہوگا۔ (اور سچی بات یہ ہے کہ) اللہ کے نام کے ساتھ (یعنی اس کے مقابلہ میں) جب کوئی چیز تولی جائے گی، تو وہ چیز اس سے بھاری ثابت نہیں ہوسکتی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٥ (٣٠٠) (تحفة الأشراف : ٨٨٥٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4300) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2639 اس سند سے بھی عبداللہ بن عمرو (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4300) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2639
حدیث نمبر: 2639 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ لَيْثِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَعَافِرِيِّ ثُمَّ الْحُبُلِيّ،‏‏‏‏ قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ سَيُخَلِّصُ رَجُلًا مِنْ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَنْشُرُ عَلَيْهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ سِجِلًّا كُلُّ سِجِلٍّ مِثْلُ مَدِّ الْبَصَرِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَتُنْكِرُ مِنْ هَذَا شَيْئًا ؟ أَظَلَمَكَ كَتَبَتِي الْحَافِظُونَ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَفَلَكَ عُذْرٌ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَا رَبِّ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ لَكَ عِنْدَنَا حَسَنَةً فَإِنَّهُ لَا ظُلْمَ عَلَيْكَ الْيَوْمَ، ‏‏‏‏‏‏فَتَخْرُجُ بِطَاقَةٌ فِيهَا أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ احْضُرْ وَزْنَكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ مَا هَذِهِ الْبِطَاقَةُ مَعَ هَذِهِ السِّجِلَّاتِ ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكَ لَا تُظْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتُوضَعُ السِّجِلَّاتُ فِي كَفَّةٍ وَالْبِطَاقَةُ فِي كَفَّةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَثْقُلُ مَعَ اسْمِ اللَّهِ شَيْءٌ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَاابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَامِرِ بْنِ يَحْيَى بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، ‏‏‏‏‏‏بِمَعْنَاهُ وَالْبِطَاقَةُ هِيَ الْقِطْعَةُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪০
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت میں افتراق کے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہود اکہتر یا بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور نصاریٰ بھی اسی طرح بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوہریرہ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، اور عوف بن مالک (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ١٧ (٣٩٩١) (تحفة الأشراف : ١٥٠٨٢) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بعض احادیث میں یہ آیا ہے کہ میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی ، ان میں سے بہتر جہنمی ہوں گے ، صرف ایک فرقہ جنتی ہوگا ، امت کے یہ فرقے کون ہیں ؟ صاحب تحفہ الأحوذی نے اس کی تشریح میں یہ لکھا ہے کہ فرق مذمومہ سے فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے فرقے مراد نہیں ہیں ، بلکہ اس سے مراد وہ فرقے ہیں جو اہل حق سے اصول میں اختلاف رکھتے ہیں ، مثلاً توحید ، تقدیر ، نبوت کی شرطیں اور موالات صحابہ وغیرہ ، کیونکہ یہ ایسے مسائل ہیں جن میں اختلاف کرنے والوں نے ایک دوسرے کی تکفیر کی ہے جب کہ فروعی مسائل میں اختلاف کرنے والے ایک دوسرے کی تکفیر نہیں کرتے ، جنتی فرقہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو کتاب وسنت پر قائم رہنے والے اور صحابہ کرام سے محبت کے ساتھ ان کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (3991) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2640
حدیث نمبر: 2640 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ أَوِ اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَالنَّصَارَى مِثْلَ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً ،‏‏‏‏ وفي الباب عن سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، ‏‏‏‏‏‏وَعَوْفِ بْنِ مَالِكٍ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪১
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت میں افتراق کے متعلق
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے ساتھ ہو بہو وہی صورت حال پیش آئے گی جو بنی اسرائیل کے ساتھ پیش آچکی ہے، (یعنی مماثلت میں دونوں برابر ہوں گے) یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اگر اپنی ماں کے ساتھ اعلانیہ زنا کیا ہوگا تو میری امت میں بھی ایسا شخص ہوگا جو اس فعل شنیع کا مرتکب ہوگا، بنی اسرائیل بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، اور ایک فرقہ کو چھوڑ کر باقی سبھی جہنم میں جائیں گے، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کون سی جماعت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو میرے اور میرے صحابہ کے نقش قدم پر ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث جس میں ابوہریرہ (رض) کے حدیث کے مقابلہ میں کچھ زیادہ وضاحت ہے حسن غریب ہے۔ ہم اسے اس طرح صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٨٦٤) (حسن) (تراجع الالبانی ٢٤٩، والصحیحہ ١٣٤٨ ) قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (171 / التحقيق الثاني) ، الصحيحة (1348) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2641
حدیث نمبر: 2641 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ بْنِ أَنْعَمُ الْأَفْرِيقِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، ‏‏‏‏‏‏حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، ‏‏‏‏‏‏وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مُفَسَّرٌ، ‏‏‏‏‏‏لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪২
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت میں افتراق کے متعلق
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنا نور ڈالا (یعنی اپنے نور کا پر تو) تو جس پر یہ نور پڑگیا وہ ہدایت یاب ہوگیا اور جس پر نور نہ پڑا (تجاوز کر گیا) تو وہ گمراہ ہوگیا، اسی لیے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم پر (تقدیر کا) قلم خشک ہوچکا ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : لم یذکرہ المزي) ، و مسند احمد (٢/١٧٦، ١٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی ہدایت و گمراہی کی پیشگی تحریر اللہ کے علم کے مطابق ازل میں لکھی جا چکی ہے ، اس میں کسی قسم کا ردوبدل نہیں ہوسکتا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (101) ، الصحيحة (1076) ، الظلال (241 - 244) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2642
حدیث نمبر: 2642 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمِيِّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ ذَلِكَ النُّورِ اهْتَدَى، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ، ‏‏‏‏‏‏فَلِذَلِكَ أَقُولُ:‏‏‏‏ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৩
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت میں افتراق کے متعلق
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا حق کیا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا : اس کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ۔ (پھر) آپ نے کہا : کیا تم یہ بھی جانتے ہو کہ جب لوگ ایسا کریں تو اللہ پر ان کا کیا حق ہے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ انہیں عذاب نہ دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث متعدد سندوں سے معاذ بن جبل (رض) سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجھاد ٤٦ (٢٨٥٦) ، واللباس ١٠١ (٥٩٦٧) ، والاستئذان ٣٠ (٦٢٦٧) ، والرقاق ٣٧ (٦٥٠٠) ، والتوحید ١ (٧٣٧٣) ، صحیح مسلم/الإیمان ١٠ (٣٠) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٥ (٤٢٩٦) (تحفة الأشراف : ١١٣٥١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4296) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2643
حدیث نمبر: 2643 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِنَّ حَقَّهُ عَلَيْهِمْ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلَوْا ذَلِكَ ؟ قُلْتُ:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ ،‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৪৪
ایمان کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امت میں افتراق کے متعلق
ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور مجھے بشارت دی کہ جو شخص اس حال میں مرگیا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں جائے گا ، میں نے کہا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، (اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو) ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو الدرداء سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستقراض ٣ (٢٣٨٨) ، و بدء الخلق ٦ (٣٢٢٢) ، والاستئذان ٣٠ (٦٢٦٨) ، والرقاق ١٣ (٦٤٤٣) ، و ١٤ (٦٤٤٤) ، والتوحید ٣٣ (٧٤٨٧) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٠ (٩٤) ، والزکاة ٩ (٩٤/٣٢) (تحفة الأشراف : ١١٩١٥) ، و مسند احمد (٥/١٥٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس کی صورت یہ ہوگی کہ وہ زنا اور چوری کی اپنی سزا کاٹ کر اپنے موحد ہونے کے صلہ میں لامحالہ جنت میں جائے گا ، یا ممکن ہے رب العالمین اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (826) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2644
حدیث نمبر: 2644 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ،وَالْأَعْمَشِ، كُلُّهُمْ سَمِعُوا زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ وَإِنْ زَنَى، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ سَرَقَ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ.
tahqiq

তাহকীক: