আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

جہنم کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩২ টি

হাদীস নং: ২৫৯৪
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کہے گا : اسے جہنم سے نکال لو جس نے ایک دن بھی مجھے یاد کیا یا ایک مقام پر بھی مجھ سے ڈرا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٨٦) (ضعیف) (سند میں مبارک بن فضالہ تدلیس تسویہ کیا کرتے ہیں اور یہاں روایت عنعنہ سے ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الظلال (833) ، التعليق الرغيب (4 / 138) ، المشکاة (5349 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6436) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2594
حدیث نمبر: 2594 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْأَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يَقُولُ اللَّهُ:‏‏‏‏ أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ ذَكَرَنِي يَوْمًا أَوْ خَافَنِي فِي مَقَامٍ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৫
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، وہ ایسا آدمی ہوگا جو سرین کے بل چلتے ہوئے نکلے گا اور عرض کرے گا : اے میرے رب ! لوگ جنت کی تمام جگہ لے چکے ہوں گے ، آپ نے فرمایا : اس سے کہا جائے گا : چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، آپ نے فرمایا : وہ داخل ہونے کے لیے جائے گا (جنت کو اس حال میں) پائے گا کہ لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں، وہ واپس آ کر عرض کرے گا : اے میرے رب ! لوگ تمام جگہ لے چکے ہیں ؟ !، آپ نے فرمایا : اس سے کہا جائے گا : کیا وہ دن یاد ہیں جن میں (دنیا کے اندر) تھے ؟ وہ کہے گا : ہاں، اس سے کہا جائے گا : آرزو کرو ، آپ نے فرمایا : وہ آرزو کرے گا، اس سے کہا جائے گا : تمہارے لیے وہ تمام چیزیں جس کی تم نے آرزو کی ہے اور دنیا کے دس گنا ہے ۔ آپ نے فرمایا : وہ کہے گا : (اے باری تعالیٰ ! ) آپ مذاق کر رہے ہیں حالانکہ آپ مالک ہیں ، ابن مسعود کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی کے دانت نظر آنے لگے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٥١ (٦٥٧١) ، والتوحید ٣٦ (٧٥١١) ، صحیح مسلم/الإیمان ٨٣ (١٨٦) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٩) (تحفة الأشراف : ٩٤٠٥) ، و مسند احمد (١/٤٦٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ ادنیٰ ترین جنتی کا حال ہے کہ اسے جنت کی نعمتیں اور دیگر چیزیں اتنی تعداد میں ملیں گی کہ وہ دنیا کی دس گناہوں گی ، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اعلیٰ مقام و مراتب پر فائز ہونے والے جنتیوں پر رب العالمین کا کس قدر انعام و اکرام ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4339) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2595
حدیث نمبر: 2595 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا، ‏‏‏‏‏‏رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنْهَا زَحْفًا فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ انْطَلِقْ فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَذْهَبُ لِيَدْخُلَ فَيَجِدُ النَّاسَ قَدْ أَخَذُوا الْمَنَازِلَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَرْجِعُ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ قَدْ أَخَذَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ أَتَذْكُرُ الزَّمَانَ الَّذِي كُنْتَ فِيهِ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ تَمَنَّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَتَمَنَّى، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لَكَ مَا تَمَنَّيْتَ وَعَشْرَةَ أَضْعَافِ الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ أَتَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৬
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم سے سب سے آخر میں نکلنے اور جنت میں سب سے آخر میں داخل ہونے والے آدمی کو میں جانتا ہوں، ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اللہ تعالیٰ (فرشتوں سے) کہے گا : اس سے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کے بارے میں پوچھو اور اس کے بڑے گناہوں کو چھپا دو ، اس سے کہا جائے گا : تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کئے تھے، تم نے فلاں فلاں دن ایسے ایسے گناہ کیے تھے ؟ ، آپ نے فرمایا : اس سے کہا جائے گا : تمہارے ہر گناہ کے بدلے ایک نیکی ہے ۔ آپ نے فرمایا : وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! میں نے کچھ ایسے بھی گناہ کیے تھے جسے یہاں نہیں دیکھ رہا ہوں ۔ ابوذر (رض) کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو ہنستے ہوئے دیکھا حتیٰ کہ آپ کے اندرونی دانت نظر آنے لگے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الإیمان ٨٤ (١٩٠) (تحفة الأشراف : ١١٩٨٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2596
حدیث نمبر: 2596 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏يُؤْتَى بِرَجُلٍ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ سَلُوا عَنْ صِغَارِ ذُنُوبِهِ وَاخْبَئُوا كِبَارَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيُقَالُ لَهُ:‏‏‏‏ فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ لَقَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ مَا أَرَاهَا هَا هُنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৭
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : موحدین میں سے کچھ لوگ جہنم میں عذاب دئیے جائیں گے، یہاں تک کہ کوئلہ ہوجائیں گے، پھر ان پر رحمت الٰہی سایہ فگن ہوگی تو وہ نکالے جائیں گے اور جنت کے دروازے پر ڈال دئیے جائیں گے ۔ آپ نے فرمایا : جنتی ان پر پانی چھڑکیں گے تو وہ ویسے ہی اگیں گے جیسے سیلاب کی مٹیوں میں دانہ اگتا ہے، پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ دوسری سند سے بھی جابر سے مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٢٣٣٢) ، وانظر مسند احمد (٣/٣٩١) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2451) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2597
حدیث نمبر: 2597 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ يُعَذَّبُ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ فِي النَّارِ حَتَّى يَكُونُوا فِيهَا حُمَمًا ثُمَّ تُدْرِكُهُمُ الرَّحْمَةُ فَيُخْرَجُونَ وَيُطْرَحُونَ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَيَرُشُّ عَلَيْهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْمَاءَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْغُثَاءُ فِي حِمَالَةِ السَّيْلِ ثُمَّ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ جَابِرٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৮
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جہنم سے وہ آدمی نکلے گا جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہوگا، ابو سعید خدری (رض) نے کہا : جس کو شک ہو وہ یہ آیت پڑھے «إن اللہ لا يظلم مثقال ذرة» اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ہے (النساء : ٤٠ ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف و راجع : صحیح البخاری/التوحید ٢٤ (٧٤٣٩) ، و صحیح مسلم/الإیمان ٨١ (١٨٣) (تحفة الأشراف : ٤١٨١) ، وانظر مسند احمد (٣/٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2598
حدیث نمبر: 2598 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ يُخْرَجُ مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنَ الْإِيمَانِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ:‏‏‏‏ فَمَنْ شَكَّ فَلْيَقْرَأْ:‏‏‏‏ إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ سورة النساء آية 40،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৫৯৯
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہنم میں داخل ہونے والوں میں سے دو آدمیوں کی چیخ بلند ہوگی ۔ رب عزوجل کہے گا : ان دونوں کو نکالو، جب انہیں نکالا جائے گا تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا : تمہاری چیخ کیوں بلند ہو رہی ہے ؟ وہ دونوں عرض کریں گے : ہم نے ایسا اس وجہ سے کیا تاکہ تو ہم پر رحم کر۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم دونوں کے لیے ہماری رحمت یہی ہے کہ تم جاؤ اور اپنے آپ کو اسی جگہ جہنم میں ڈال دو جہاں پہلے تھے۔ وہ دونوں چلیں گے ان میں سے ایک اپنے آپ کو جہنم میں ڈال دے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جہنم کو ٹھنڈا اور سلامتی والی بنا دے گا اور دوسرا کھڑا رہے گا اور اپنے آپ کو نہیں ڈالے گا۔ اس سے رب عزوجل پوچھے گا : تمہیں جہنم میں اپنے آپ کو ڈالنے سے کس چیز نے روکا ؟ جیسے تمہارے ساتھی نے اپنے آپ کو ڈالا ؟ وہ عرض کرے گا : اے میرے رب ! مجھے امید ہے کہ تو جہنم سے نکالنے کے بعد اس میں دوبارہ نہیں داخل کرے گا، اس سے رب تعالیٰ کہے گا : تمہارے لیے تیری تمنا پوری کی جا رہی ہے، پھر وہ دونوں اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کی سند ضعیف ہے، اس لیے کہ یہ رشدین بن سعد کے واسطہ سے مروی ہے، اور رشدین بن سعد محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، اور رشدین عبدالرحمٰن بن انعم سے روایت کرتے ہیں، یہ ابن انعم افریقی ہیں اور افریقی بھی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٥٤٤٨) (ضعیف) (سند میں ابو عثمان لین الحدیث، مجہول ہیں اور رشد ین بن سعد اور افریقی ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5605) ، الضعيفة (1977) // ضعيف الجامع الصغير (1859) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2599
حدیث نمبر: 2599 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَنْعُمَ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَجُلَيْنِ مِمَّنْ دَخَلَ النَّارَ اشْتَدَّ صِيَاحُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ أَخْرِجُوهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أُخْرِجَا قَالَ لَهُمَا:‏‏‏‏ لِأَيِّ شَيْءٍ اشْتَدَّ صِيَاحُكُمَا ؟ قَالَا:‏‏‏‏ فَعَلْنَا ذَلِكَ لِتَرْحَمَنَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ رَحْمَتِي لَكُمَا أَنْ تَنْطَلِقَا فَتُلْقِيَا أَنْفُسَكُمَا حَيْثُ كُنْتُمَا مِنَ النَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَيَنْطَلِقَانِ فَيُلْقِي أَحَدُهُمَا نَفْسَهُ فَيَجْعَلُهَا عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُومُ الْآخَرُ فَلَا يُلْقِي نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ:‏‏‏‏ مَا مَنَعَكَ أَنْ تُلْقِيَ نَفْسَكَ كَمَا أَلْقَى صَاحِبُكَ ؟ فَيَقُولُ:‏‏‏‏ يَا رَبِّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا بَعْدَ مَا أَخْرَجْتَنِي، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ لَهُ الرَّبُّ:‏‏‏‏ لَكَ رَجَاؤُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَدْخُلَانِ جَمِيعًا الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ إِسْنَادُ هَذَا الْحَدِيثِ ضَعِيفٌ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّهُ عَنْ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ،‏‏‏‏ وَرِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ هُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ أَنْعُمَ وَهُوَ الْأَفْرِيقِيُّ،‏‏‏‏ وَالْأَفْرِيقِيُّ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০০
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری امت کی ایک جماعت میری شفاعت کے سبب جہنم سے نکلے گی ان کا نام جہنمی رکھا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٥٠ (٦٥٥٩) ، سنن ابی داود/ السنة ٢٣ (٤٧٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٧ (٤٣١٥) (تحفة الأشراف : ١٠٨٧١) ، و مسند احمد (٤/٤٣٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4315) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2600
حدیث نمبر: 2600 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ لَيَخْرُجَنَّ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَتِي يُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيُّونَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ اسْمُهُ:‏‏‏‏ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ وَيُقَالُ:‏‏‏‏ ابْنُ مِلْحَانَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০১
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دوزخ کے لئے دو سانس اور اہل توحید کا اس سے نکالے جانے کے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے جہنم جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والے سو رہے ہیں اور جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی جس کے طلب کرنے والے سو رہے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس کو ہم صرف یحییٰ بن عبیداللہ کی سند سے جانتے ہیں اور یحییٰ بن عبیداللہ اکثر محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، ان کے بارے میں شعبہ نے کلام کیا ہے۔ یحییٰ بن عبیداللہ کے دادا کا نام موہب ہے اور وہ مدنی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٤١٢٤) (حسن) (سند میں یحییٰ بن عبید اللہ متروک الحدیث ہے، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے : الصحیحة : ٩٥٣ ) قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (951) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2601
حدیث نمبر: 2601 حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَلَا مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْحَدِيثِ تَكَلَّمَ فِيهِ شُعْبَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ مَوْهَبٍ وَهُوَ مَدَنِيٌّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০২
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہوگی
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں اور جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ١٦ (تعلیقا عقب حدیث ٦٤٤٩) ، صحیح مسلم/الذکر والدعاء ٢٦ (٢٧٣٧) (تحفة الأشراف : ٦٣١٧) ، و مسند احمد (١/٢٩٤، ٣٥٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الضعيفة تحت الحديث (2800) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2602
حدیث نمبر: 2602 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৩
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بارے میں کہ جہنم میں عورتوں کی اکثریت ہوگی
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے جہنم میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جہنمی عورتیں ہیں اور جنت میں جھانکا تو دیکھا کہ اکثر جنتی فقیر ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عوف نے سند بیان کرتے ہوئے اس طرح کہا ہے : «عن أبي رجاء عن عمران بن حصين» اور ایوب نے کہا : «عن أبي رجاء عن ابن عباس» ، دونوں سندوں میں کوئی کلام نہیں ہے۔ اس بات کا احتمال ہے کہ ابورجاء نے عمران بن حصین اور ابن عباس دونوں سے سنا ہو، عوف کے علاوہ دوسرے لوگوں نے بھی یہ حدیث ابورجاء کے واسطہ سے عمران بن حصین سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤١) ، والنکاح ٨٨ (٥١٩٨) ، والرقاق ١٦ (٦٤٤٩) ، و ٥١ (٦٥٤٦) (تحفة الأشراف : ١٠٨٧٣) ، و مسند احمد (٤/٤٢٩، ٤٤٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (2602) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2603
حدیث نمبر: 2603 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالُوا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا عَوْفٌ هُوَ ابْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَاطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَهَكَذَا يَقُولُ عَوْفٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولُ أَيُّوبُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏وَكِلَا الْإِسْنَادَيْنِ لَيْسَ فِيهِمَا مَقَالٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو رَجَاءٍ سَمِعَ مِنْهُمَا جَمِيعًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ رَوَى غَيْرُ عَوْفٍ أَيْضًا هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৪
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب والا وہ جہنمی ہوگا جس کے تلوے میں دو انگارے ہوں گے جن سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عباس بن عبدالمطلب، ابو سعید خدری اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ١٥ (٦٥٦١، ٦٥٦٢) ، صحیح مسلم/الإیمان ٩١ (٢١٣) (تحفة الأشراف : ١١٦٣٦) ، و مسند احمد (٤/٢٧٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اغلب یہی ہے کہ اس سے ابوطالب مراد ہیں کیونکہ مسلم اور دیگر لوگوں کی دیگر روایات میں اس کی صراحت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (1680) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2604
حدیث نمبر: 2604 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وفي الباب عن الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبِي هُرَيْرَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬০৫
جہنم کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
حارثہ بن وہب خزاعی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : کیا میں تمہیں جنتیوں کے بارے میں نہ بتادوں ؟ ہر کمزور حال آدمی جسے لوگ حقیر سمجھیں اگر وہ اللہ کی قسم کھائے تو اللہ اسے پوری کر دے۔ کیا میں تمہیں جہنمیوں کے بارے میں نہ بتادوں ؟ ہر سرکش، بخیل اور متکبر ، (جہنم میں جائے گا۔ ) امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة القلم ١ (٤٩١٨) ، والأدب ٦١ (٦٠٧١) ، والأیمان والنذور ٩ (٦٦٥٧) ، صحیح مسلم/الجنة ١٣ (٢٨٥٣) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٤ (٤١١٦) (تحفة الأشراف : ٣٢٨٥) ، و مسند احمد (٤/٣٠٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4116) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2605
حدیث نمبر: 2605 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ، قَال:‏‏‏‏ سَمِعْتُ حَارِثَةَ بْنَ وَهْبٍ الْخُزَاعِيَّ،‏‏‏‏ يَقُولُ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، ‏‏‏‏‏‏أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ مُتَكَبِّرٍ ،‏‏‏‏ قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক: