আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
جنت کی صفات کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৪ টি
হাদীস নং: ২৫৬২
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادنیٰ درجے کے جنتی کے لئے انعامات کے متعلق
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کم درجے کا جتنی وہ ہے جس کے لیے اسی ہزار خادم اور بہتر بیویاں ہوں گی۔ اس کے لیے موتی، زمرد اور یاقوت کا خیمہ نصب کیا جائے گا جو مقام جابیہ سے صنعاء (یمن) تک کے برابر ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٥٠٥٩) (ضعیف) (سند میں دراج ابو السمح اور رشدین ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (5648) // ضعيف الجامع الصغير (266) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2562
حدیث نمبر: 2562 حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ الَّذِي لَهُ ثَمَانُونَ أَلْفَ خَادِمٍ، وَاثْنَتَانِ وَسَبْعُونَ زَوْجَةً، وَتُنْصَبُ لَهُ قُبَّةٌ مِنْ لُؤْلُؤٍ وَزَبَرْجَدٍ وَيَاقُوتٍ كَمَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৩
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ادنیٰ درجے کے جنتی کے لئے انعامات کے متعلق
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب مومن جنت میں لڑکے کی خواہش کرے گا تو حمل ٹھہرنا، ولادت ہونا اور اس کی عمر بڑھنا یہ سب کچھ اس کی خواہش کے مطابق ایک ساعت میں ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اس بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض لوگ کہتے ہیں : جنت میں جماع تو ہوگا مگر بچہ نہیں پیدا ہوگا۔ طاؤس، مجاہد اور ابراہیم نخعی سے اسی طرح مروی ہے، ٣ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نبی اکرم ﷺ کی اس حدیث کے بارے میں کہتے ہیں : جب جنت میں مومن بچے کی خواہش کرے گا تو یہ ایک ساعت میں ہوجائے گا، جیسے ہی وہ خواہش کرے گا لیکن وہ ایسی خواہش نہیں کرے گا، ٤ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : ابورزین عقیلی (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنتی کے لیے جنت میں کوئی بچہ نہیں ہوگا، ٥ - ابوصدیق ناجی کا نام بکر بن عمرو ہے، انہیں بکر بن قیس بھی کہا جاتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٣٨) (تحفة الأشراف : ٣٩٧٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح ظلال الجنة (528) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2563
حدیث نمبر: 2563 حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُؤْمِنُ إِذَا اشْتَهَى الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ حَمْلُهُ وَوَضْعُهُ وَسِنُّهُ فِي سَاعَةٍ كَمَا يَشْتَهِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فِي الْجَنَّةِ جِمَاعٌ وَلَا يَكُونُ وَلَدٌ، هَكَذَا رُوِيَ عَنْ طَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ: قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اشْتَهَى الْمُؤْمِنُ الْوَلَدَ فِي الْجَنَّةِ كَانَ فِي سَاعَةٍ وَاحِدَةٍ كَمَا يَشْتَهِي وَلَكِنْ لَا يَشْتَهِي ، قَالَ مُحَمَّدٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا يَكُونُ لَهُمْ فِيهَا وَلَدٌ ، وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ اسْمُهُ: بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৪
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حوروں کی گفتگوں کے متعلق
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت میں حورعین کے لیے ایک محفل ہوگی اس میں وہ اپنا نغمہ ایسا بلند کرے گا کہ مخلوق نے کبھی اس جیسی آواز نہیں سنی ہوگی ، آپ نے فرمایا : وہ کہیں گی : ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں کبھی فنا نہیں ہوں گی، ہم ناز و نعمت والی ہیں کبھی محتاج نہیں ہوں گی، ہم خوش رہنے والی ہیں کبھی ناراض نہیں ہوں گی، اس کے لیے خوشخبری اور مبارک ہو اس کے لیے جو ہمارے لیے ہے اور ہم اس کے لیے ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - علی (رض) کی حدیث غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، ابو سعید خدری اور انس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٠٢٩٨) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن اسحاق بن الحارث واسطی ضعیف راوی ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1982) // ضعيف الجامع الصغير (1898) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2564
حدیث نمبر: 2564 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاق، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَمُجْتَمَعًا لِلْحُورِ الْعِينِ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتٍ لَمْ يَسْمَعِ الْخَلَائِقُ مِثْلَهَا ، قَالَ: يَقُلْنَ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَبِيدُ، وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ، وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ، طُوبَى لِمَنْ كَانَ لَنَا وَكُنَّا لَهُ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثِ عَلِيٍّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৫
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
یحییٰ بن ابی کثیر آیت کریمہ : «فهم في روضة يحبرون» وہ جنت میں خوش کردیئے جائیں گے کے بارے میں کہتے ہیں : اس سے مراد سماع ہے اور سماع کا مفہوم وہی ہے جو حدیث میں آیا ہے کہ حورعین اپنے نغمے کی آواز بلند کریں گی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : لم یذکرہ المزي) (صحیح ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2565
حدیث نمبر: 2565 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ سورة الروم آية 15، قَالَ السَّمَّاعُ: وَمَعْنَى السَّمَّاعِ: مثل ما ورد في الحديث أَنَّ الْحُورَ الْعِينَ يُرَفِّعْنَ بِأَصْوَاتِهِنَّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৬
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین قسم کے لوگ مشک کے ٹیلے پر ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے فرمایا : قیامت کے دن، ان پر اگلے اور پچھلے رشک کریں گے : ایک وہ آدمی جو رات دن میں پانچ وقت نماز کے لیے اذان دے، دوسرا وہ آدمی جو کسی قوم کی امامت کرتا ہو اور وہ اس سے راضی ہوں اور تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کا اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف سفیان ثوری کی روایت سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ١٩٨٦ (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان ضعیف مدلس اور مختلط راوی ہے، تشیع میں بھی غالی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (666) ، نقد التاج (184) ، التعليق الرغيب (1 / 110) // ضعيف الجامع الصغير (2579) وتقدم برقم (339 / 2069) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2566
حدیث نمبر: 2566 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ، عَنْ زَاذَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَلَاثَةٌ عَلَى كُثْبَانِ الْمِسْكِ أُرَهُ قَالَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَغْبِطُهُمُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ: رَجُلٌ يُنَادِي بِالصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، وَرَجُلٌ يَؤُمُّ قَوْمًا وَهُمْ بِهِ رَاضُونَ، وَعَبْدٌ أَدَّى حَقَّ اللَّهِ وَحَقَّ مَوَالِيهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَبُو الْيَقْظَانِ اسْمُهُ: عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ وَيُقَالُ: ابْنُ قَيْسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৭
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے : ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ صحیح وہ روایت ہے جسے شعبہ وغیرہ نے «عن منصور عن ربعي بن حراش عن زيد بن ظبيان عن أبي ذر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے روایت کی ہے، ابوبکر بن عیاش بہت غلطیاں کرتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٩١٩٩) (ضعیف) (سند میں ابوبکر بن عیاش سے بہت غلطیاں ہوجایا کرتی تھیں، یہاں انہوں نے ابو ذر (رض) کی روایت کو ابن مسعود “ (رض) کی روایت بنا ڈالی ہے، جیسا کہ مؤلف نے صراحت کی ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (1921 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2609) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2567
حدیث نمبر: 2567 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ، قَالَ: ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ صَدَقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا ، أُرَهُ قَالَ: مِنْ شِمَالِهِ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كَثِيرُ الْغَلَطِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৮
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے، اور تین قسم کے لوگوں سے نفرت، جن لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے وہ یہ ہیں : ایک وہ آدمی جو کسی قوم کے پاس جائے اور ان سے اللہ کا واسطہ دے کر مانگے وہ اپنے اور اس قوم کے درمیان پائے جانے والے کسی رشتے کا واسطہ دے کر نہ مانگے اور وہ لوگ اسے کچھ نہ دیں، پھر ان میں سے ایک آدمی پیچھے پھرے اور اسے چپکے سے لا کر کچھ دے، اس کے عطیہ کو اللہ تعالیٰ اور جس کو دیا ہے اس کے سوا کوئی نہ جانے۔ دوسرے وہ لوگ جو رات کو چلیں یہاں تک کہ جب ان کو نیند ان چیزوں سے پیاری ہوجائے جو نیند کے برابر ہیں تو سواری سے اتریں اور سر رکھ کر سو جائیں اور ان میں کا ایک آدمی کھڑا ہو کر میری خوشامد کرنے اور میری آیتوں کی تلاوت کرنے لگے، تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور دشمن سے مقابلہ ہو تو اس کے ساتھی ہار جائیں پھر بھی وہ سینہ سپر ہو کر آگے بڑھے یہاں تک کہ مارا جائے یا فتح حاصل ہوجائے۔ جن تین لوگوں سے اللہ تعالیٰ نفرت کرتا ہے وہ یہ ہیں : وہ بوڑھا جو زنا کار ہو، وہ فقیر جو تکبر کرنے والا ہو اور مالدار جو دوسروں پر ظلم ڈھائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٧ (١٦١٦) ، والزکاة ٧٥ (٢٥٧١) (تحفة الأشراف : ١٩١٣) ، و مسند احمد (٥/١٥٣) (سند میں ” زید بن ظبیان “ لین الحدیث ہیں) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2568 اس سند سے بھی ابوذر (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث صحیح ہے، ٢ - اسی طرح شیبان نے منصور کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، یہ ابوبکر بن عیاش کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (ضعیف ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (1922) // ضعيف الجامع الصغير (2610) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2568
حدیث نمبر: 2568 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ، قَال: سَمِعْتُ رِبْعِيَّ بْنَ حِرَاشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ، يَرْفَعُهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ، فَأَمَّا الَّذِينَ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ: فَرَجُلٌ أَتَى قَوْمًا فَسَأَلَهُمْ بِاللَّهِ وَلَمْ يَسْأَلْهُمْ بِقَرَابَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَمَنَعُوهُ فَتَخَلَّفَ رَجُلٌ بِأَعْقَابِهِمْ فَأَعْطَاهُ سِرًّا لَا يَعْلَمُ بِعَطِيَّتِهِ إِلَّا اللَّهُ وَالَّذِي أَعْطَاهُ، وَقَوْمٌ سَارُوا لَيْلَتَهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ النَّوْمُ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِمَّا يُعْدَلُ بِهِ نَزَلُوا فَوَضَعُوا رُءُوسَهُمْ فَقَامَ أَحَدُهُمْ يَتَمَلَّقُنِي وَيَتْلُو آيَاتِي، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَلَقِيَ الْعَدُوَّ فَهُزِمُوا وَأَقْبَلَ بِصَدْرِهِ حَتَّى يُقْتَلَ أَوْ يُفْتَحَ لَهُ، وَالثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمُ اللَّهُ: الشَّيْخُ الزَّانِي، وَالْفَقِيرُ الْمُخْتَالُ، وَالْغَنِيُّ الظَّلُومُ . حدیث نمبر: 2568 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ شُعْبَةَ، نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَ هَذَا، وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩) ، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف : ١٢٢٦٣) ، و مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2569 ابوہریرہ (رض) سے اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا : سونے کا پہاڑ اگلے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٣٧٩٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2570
حدیث نمبر: 2569 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الْفُرَاتُ يَحْسِرُ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حدیث نمبر: 2570 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৬৯
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قریب ہے کہ دریائے فرات سونے کا خزانہ اگلے، لہٰذا (اس وقت) جو موجود ہو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٢٤ (٧١١٩) ، صحیح مسلم/الفتن ٨ (٢٨٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٥ (٤٠٤٥) (تحفة الأشراف : ١٢٢٦٣) ، و مسند احمد (٢/٢٦١، ٣٣٢، ٣٦٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس لیے کہ یہ جھگڑا اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بن جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2569 ابوہریرہ (رض) سے اس سند سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا : سونے کا پہاڑ اگلے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف : ١٣٧٩٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2570
حدیث نمبر: 2569 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَدِّهِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الْفُرَاتُ يَحْسِرُ عَنْ كَنْزٍ مِنْ ذَهَبٍ فَمَنْ حَضَرَهُ فَلَا يَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حدیث نمبر: 2570 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭০
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، مگر اس میں یہ فرق ہے کہ آپ نے فرمایا: ”سونے کا پہاڑ اگلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: يَحْسِرُ عَنْ جَبَلٍ مِنْ ذَهَبٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭১
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں پانی کا سمندر ہے، شہد کا سمندر ہے، دودھ کا سمندر ہے اور شراب کا سمندر ہے، پھر اس کے بعد چھوٹی چھوٹی نہریں نکلتی ہیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١١٣٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (5650 / التحقيق الثانی) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2571
حدیث نمبر: 2571 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ وَبَحْرَ الْعَسَلِ وَبَحْرَ اللَّبَنِ وَبَحْرَ الْخَمْرِ، ثُمَّ تُشَقَّقُ الْأَنْهَارُ بَعْدُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَكِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ هُوَ وَالِدُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، وَالْجُرَيْرِيُّ يُكْنَى: أَبَا مَسْعُودٍ وَاسْمُهُ: سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے : اے اللہ ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے : اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالک» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ٥٦ (٥٥٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٤٠) (تحفة الأشراف : ٢٤٣) ، و مسند احمد (٣/٢٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2478 / التحقيق الثانی) ، التعليق الرغيب (4 / 222) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2572
حدیث نمبر: 2572 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ ، قَالَ: هَكَذَا رَوَى يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَوْقُوفًا أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭২
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت کی نہروں کے متعلق
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ سے تین بار جنت مانگتا ہے تو جنت کہتی ہے : اے اللہ ! اسے جنت میں داخل کر دے، اور جو تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے تو جہنم کہتی ہے : اے اللہ اس کو جہنم سے نجات دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اسی طرح «يونس بن أبي إسحق عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے، ٢ - یہ حدیث «عن أبي إسحق عن بريد بن أبي مريم عن أنس بن مالک» کی سند سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الاستعاذة ٥٦ (٥٥٢٣) ، سنن ابن ماجہ/الزہد ٣٩ (٤٣٤٠) (تحفة الأشراف : ٢٤٣) ، و مسند احمد (٣/٢٠٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (2478 / التحقيق الثانی) ، التعليق الرغيب (4 / 222) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2572
حدیث نمبر: 2572 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ، وَمَنِ اسْتَجَارَ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنَ النَّارِ ، قَالَ: هَكَذَا رَوَى يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَوْقُوفًا أَيْضًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ২৫৭৩
جنت کی صفات کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن جہنم اس طرح لائی جائے گی کہ اس کی ستر ہزار لگام ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے اسے کھینچ رہے ہوں گے“۔ عبداللہ بن عبدالرحمٰن دارمی کہتے ہیں: ثوری نے اسے مرفوع نہیں کیا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ خَالِدٍ الْكَاهِلِيِّ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ لَهَا سَبْعُونَ أَلْفَ زِمَامٍ، مَعَ كُلِّ زِمَامٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ يَجُرُّونَهَا ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَالثَّوْرِيُّ لَا يَرْفَعُهُ.
তাহকীক: