আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)

الجامع الكبير للترمذي

خواب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫ টি

হাদীস নং: ২২৯০
خواب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم کا میزاب اور ڈول کی تعبیر بتانا
عبداللہ بن عمر (رض) سے نبی اکرم ﷺ کے خواب کے بارے میں روایت ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے پراگندہ بالوں والی ایک کالی عورت کو دیکھا جو مدینہ سے نکلی اور مہیعہ میں ٹھہر گئی (مهيعه، جحفه کا دوسرا نام ہے) ، میں نے اس کی تعبیر یہ کی کہ وہ مدینہ کی (بخار والی) وبا ہے جو جحفہ چلی جائے گی ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التعبیر ٤١ (٧٠٣٨) ، و ٤٢ (٧٠٣٩) ، ٤٣ (٧٠٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١٠ (٣٩٢٤) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٢٣) ، وسنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢٢٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3924) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2290
حدیث نمبر: 2290 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنَ الْمَدِينَةِ حَتَّى قَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَوَّلْتُهَا وَبَاءَ الْمَدِينَةِ يُنْقَلُ إِلَى الْجُحْفَةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯১
خواب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم کا میزاب اور ڈول کی تعبیر بتانا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آخر وقت میں مومن کے خواب کم ہی جھوٹے ہوں گے، اور خواب ان لوگوں کا سچا ہوگا جن کی باتیں زیادہ سچی ہوں گی، خواب تین قسم کے ہوتے ہیں : اچھے خواب جو اللہ کی طرف سے بشارت ہوتے ہیں، وہ خواب جسے انسان دل میں سوچتا رہتا ہے، اور وہ خواب جو شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور غم کا سبب ہوتا ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ خوب دیکھے تو اسے کسی سے بیان نہ کرے، اسے چاہیئے کہ اٹھ کر نماز پڑھے ، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : میں خواب میں قید دیکھنا اچھا سمجھتا ہوں اور بیڑی دیکھنا برا سمجھتا ہوں، قید کی تعبیر ثابت قدمی ہے، ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : عبدالوہاب ثقفی نے ایوب سے یہ حدیث مرفوعاً روایت کی ہے اور حماد بن زید نے ایوب سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٢٢٧٠ و ٢٢٨٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر الحديث (2396 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2291
حدیث نمبر: 2291 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:‏‏‏‏ فِي آخِرِ الزَّمَانِ لَا تَكَادُ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ تَكْذِبُ وَأَصْدَقُهُمْ رُؤْيَا أَصْدَقُهُمْ حَدِيثًا، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا ثَلَاثٌ:‏‏‏‏ الْحَسَنَةُ بُشْرَى مِنَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا يُحَدِّثُ الرَّجُلُ بِهَا نَفْسَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَالرُّؤْيَا تَحْزِينٌ مِنَ الشَّيْطَانِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ رُؤْيَا يَكْرَهُهَا فَلَا يُحَدِّثُ بِهَا أَحَدًا، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ . (حديث موقوف) (حديث موقوف) قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ:‏‏‏‏ يُعْجِبُنِي الْقَيْدُ وَأَكْرَهُ الْغُلَّ، ‏‏‏‏‏‏الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسَى:‏‏‏‏ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ أَيُّوبَ مَرْفُوعًا، ‏‏‏‏‏‏وَرَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ وَوَقَفَهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯২
خواب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم کا میزاب اور ڈول کی تعبیر بتانا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن ہیں، ان کے حال نے مجھے غم میں ڈال دیا، پھر مجھے وحی کی گئی کہ میں ان پر پھونکوں، لہٰذا میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے، میں نے ان دونوں کنگنوں کی تعبیر (نبوت کا دعویٰ کرنے والے) دو جھوٹوں سے کی جو میرے بعد نکلیں گے : ایک کا نام مسیلمہ ہوگا جو یمامہ کا رہنے والا ہوگا اور دوسرے کا نام عنسی ہوگا، جو صنعاء کا رہنے والا ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٢٥ (٣٦٢١) ، والمغازي ٧٠ (٤٣٧٤، ٤٣٧٥) ، و ٧١ (٤٣٧٩) ، والتعبیر ٣٨ (٧٠٣٤) ، و ٤٠ (٧٠٣٧) ، صحیح مسلم/الرؤیا ٤ (٢٢٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١٠ (٣٩٢٢) (تحفة الأشراف : ١٣٥٧٤) ، و مسند احمد (٢/٣١٩، ٣٢٨، ٣٤٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کا خواب میں یہ دیکھنا کہ آپ سونے کا دو کنگن پہنے ہوئے ہیں ، جب کہ یہ عورتوں کا زیور ہے اس طرف اشارہ تھا کہ دو جھوٹے دعویدار ایسی بات کا دعویٰ کریں گے جس کے وہ حقدار نہ ہوں گے یعنی نبوت کا دعویٰ ، اور پھونک مارنے سے ان کا اڑ جانا اس سے اشارہ تھا کہ آپ کے کام کے سامنے ان کی باتوں کا کوئی وزن نہ ہوگا وہ «لاشیٔ» کے مثل ہوں گے اور انہیں ختم کردیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2292
حدیث نمبر: 2292 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، عَنْ شُعَيْبٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنَّ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا، ‏‏‏‏‏‏فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ أَنْفُخَهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا، ‏‏‏‏‏‏فَأَوَّلْتُهُمَا كَاذِبَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي، ‏‏‏‏‏‏يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا:‏‏‏‏ مُسَيْلِمَةُ صَاحِبُ الْيَمَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْعَنْسِيُّ صَاحِبُ صَنْعَاءَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৩
خواب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم کا میزاب اور ڈول کی تعبیر بتانا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے تھے : ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر کہا : میں نے رات کو خواب میں بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا، اور لوگوں کو میں نے دیکھا وہ اپنے ہاتھوں میں لے کر اسے پی رہے ہیں، کسی نے زیادہ پیا اور کسی نے کم، اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک لٹک رہی تھی، اللہ کے رسول ! اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ وہ رسی پکڑ کر اوپر چلے گئے، پھر آپ کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑ کر اوپر چلا گیا، پھر اس کے بعد ایک اور شخص نے پکڑ اور وہ بھی اوپر چلا گیا، پھر اسے ایک اور آدمی نے پکڑا تو رسی ٹوٹ گئی، پھر وہ جوڑ دی گئی تو وہ بھی اوپر چلا گیا، ابوبکر (رض) نے کہا : اللہ کے رسول ! - میرے باپ ماں آپ پر قربان ہوں - اللہ کی قسم ! مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے کی اجازت دیجئیے، آپ نے فرمایا : بیان کرو ، ابوبکر نے کہا : ابر کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے اور اس سے جو گھی اور شہد ٹپک رہا تھا وہ قرآن ہے اور اس کی شیرینی اور نرمی مراد ہے، زیادہ اور کم پینے والوں سے مراد قرآن حاصل کرنے والے ہیں، اور آسمان سے زمین تک لٹکنے والی اس رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ قائم ہیں، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں پھر اللہ تعالیٰ آپ کو اوپر اٹھا لے گا، پھر اس کے بعد ایک اور آدمی پکڑے گا اور وہ بھی پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا، اس کے بعد ایک اور آدمی پکڑے گا، تو وہ بھی پکڑ کر اوپر چڑھ جائے گا، پھر اس کے بعد ایک تیسرا آدمی پکڑے گا تو رسی ٹوٹ جائے گی، پھر اس کے لیے جوڑ دی جائے گی اور وہ بھی چڑھ جائے گا، اللہ کے رسول ! بتائیے میں نے صحیح بیان کیا یا غلط ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے کچھ صحیح بیان کیا اور کچھ غلط، ابوبکر (رض) نے کہا : میرے باپ ماں آپ پر قربان ! میں قسم دیتا ہوں آپ بتائیے میں نے کیا غلطی کی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قسم نہ دلاؤ ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأیمان والنذور ١٣ (٣٢٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١٠ (٣٩١٨) ، وانظر أیضا : صحیح البخاری/التعبیر ١١ (٧٠٠٠) ، و ٤٧ (٧٠٤٦) ، وصحیح مسلم/الرؤیا ٣ (٢٢٦٩) (تحفة الأشراف : ١٣٥٧٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمانا کہ تم نے صحیح بیان کرنے کے ساتھ کچھ غلط بیان کیا تو ابوبکر (رض) سے تعبیر بیان کرنے میں کیا غلطی ہوئی تھی اس سلسلہ میں علماء کے مختلف اقوال ہیں : بعض کا کہنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی اجازت کے بغیر انہوں نے تعبیر بیان کی یہ ان کی غلطی ہے ، لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺ نے انہیں بیان کرنے کی اجازت اپنے اس قول «أعبرها» سے دے دی تھی ، بعض کا کہنا ہے کہ ابوبکر (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے آپ کے پوچھنے سے پہلے ہی تعبیر بیان کرنے کی خواہش ظاہر کردی یہ ان کی غلطی تھی ، بعض کا کہنا ہے تعبیر بیان کرنے میں غلطی واقع ہوئی تھی ، صحیح بات یہ ہے کہ اگر ابوبکر (رض) اس خواب کی تعبیر کے لیے اپنے آپ کو پیش نہ کرتے تو شاید آپ ﷺ اس کی تعبیر خود بیان کرتے اور ظاہر ہے کہ آپ کی بیان کردہ تعبیر اس امت کے لیے ایک بشارت ثابت ہوتی اور اس سے جو علم حاصل ہوتا وہ یقینی ہوتا نہ کہ ظنی و اجتہادی ، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ قسم کو پورا کرنا اسی وقت ضروری ہے جب اس سے کسی شر و فساد کا خطرہ نہ ہو اور اگر بات ایسی ہے تو پھر قسم کو پورا کرنا ضروری نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3918) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2293
حدیث نمبر: 2293 حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَبُو هُرَيْرَة يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ النَّاسَ يَسْتَقُونَ بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ، ‏‏‏‏‏‏وَرَأَيْتُ سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَكَ فَعَلَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ بَعْدَهُ فَعَلَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ فَقُطِعَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:‏‏‏‏ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي أَعْبُرُهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ اعْبُرْهَا ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ، ‏‏‏‏‏‏فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلَاوَتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ فَأَخَذْتَ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ بَعْدَكَ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ بَعْدَهُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَأْخُذُ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو، ‏‏‏‏‏‏أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَوْ أَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَقْسَمْتُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَتُخْبِرَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُقْسِمْ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২২৯৪
خواب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی اکرم کا میزاب اور ڈول کی تعبیر بتانا
سمرہ بن جندب (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب ہمیں فجر پڑھا کر فارغ ہوتے تو لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے : کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے ؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث ایک طویل قصے کے ضمن میں عوف اور جریر بن حازم سے مروی ہے، جسے یہ دونوں رجاء سے، رجاء، سمرہ سے اور سمرہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں ٣ - محمد بن بشار نے اسی طرح یہ حدیث وہب بن جریر سے اختصار کے ساتھ روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٩٣ (١٣٨٦) ، والتعبیر ٤٨ (٧٠٤٧) ، صحیح مسلم/الرؤیا ٤ (٢٢٧٥) (تحفة الأشراف : ٤٦٣٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، التعليق الرغيب (1 / 198 - 199) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 2294
حدیث نمبر: 2294 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمْرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ إِذَا صَلَّى بِنَا الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمُ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا ؟ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، ‏‏‏‏‏‏وَيُروى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَوْفٍ، وَجَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمُ فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَهَكَذَا رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ هَذَا الْحَدِيثَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ مُخْتَصَرًا.
tahqiq

তাহকীক: