আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
نذر اور قسموں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৪ টি
হাদীস নং: ১৫৪৪
نذر اور قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے غلام کو تمانچہ مارے
عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بہن نے نذر مانی ہے کہ وہ چادر اوڑھے بغیر ننگے پاؤں چل کر خانہ کعبہ تک جائے گی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا ! ١ ؎ اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہوجائے، چادر اوڑھ لے اور تین دن کے روزے رکھے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأیمان ٢٣ (٣٢٩٣، ٣٢٩٩٤) ، سنن النسائی/الأیمان ٣٣ (٣٨٤٥) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢٠ (٢١٣٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٩٣٠) ، و مسند احمد (٤/١٤٣، ١٤٥، ١٤٩، ١٥١) ، سنن الدارمی/النذور ٢ (٢٣٧٩) (ضعیف) (اس کے راوی ” عبیداللہ بن زحر “ سخت ضعیف ہیں، اس میں ” روزہ والی بات “ ضعیف ہے، باقی ٹکڑوں کے صحیح شواہد موجود ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب اسے نہیں دے گا۔ ٢ ؎ : اس حدیث کی رو سے اگر کسی نے بیت اللہ شریف کی طرف پیدل یا ننگے پاؤں چل کر جانے کی نذر مانی ہو تو ایسی نذر کا پورا کرنا ضروری اور لازم نہیں ، اور اگر کسی عورت نے ننگے سر جانے کی نذر مانی ہو تو اس کو تو پوری ہی نہیں کرنی ہے کیونکہ یہ معصیت اور گناہ کا کام ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2134) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1544
حدیث نمبر: 1544 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الرُّعَيْنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ الْيَحْصُبِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَرْكَبْ وَلْتَخْتَمِرْ، وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৫
نذر اور قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنے غلام کو تمانچہ مارے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں کہا : لات اور عزیٰ کی قسم ہے ! وہ «لا إله إلا الله» کہے اور جس شخص نے کہا : آؤ جوا کھیلیں وہ صدقہ کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة النجم ٢ (٤٨٦٠) ، والأدب ٧٤ (٦١٠٧) ، والاستئذان ٥٢ (٦٣٠١) ، والأیمان ٥ (٦٦٥٠) ، صحیح مسلم/الأیمان ٢ (١٦٤٨) ، سنن ابی داود/ الأیمان ٤ (٣٢٤٧) ، سنن النسائی/الأیمان ١١ (٣٧٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ٢ (٢٠٩٦) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٧٦) ، و مسند احمد (٢/٣٠٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2096) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1545
حدیث نمبر: 1545 حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَلَفَ مِنْكُمْ، فَقَالَ فِي حَلِفِهِ: وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى، فَلْيَقُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَمَنْ قَالَ: تَعَالَ أُقَامِرْكَ، فَلْيَتَصَدَّقْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ هُوَ الْخَوْلَانِيُّ الْحِمْصِيُّ وَاسْمُهُ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ الْحَجَّاجِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৬
نذر اور قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ میت کی طرف سے نذر پوری کرنا۔
عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے ایک نذر کے بارے جو ان کی ماں پر واجب تھی اور اسے پوری کرنے سے پہلے وہ مرگئیں، فتویٰ پوچھا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کی طرف سے نذر تم پوری کرو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ١٩ (٢٧٦١) ، والأیمان ٣٠ (٦٦٩٨) ، والحیل ٣ (٦٩٥٩) ، صحیح مسلم/النذور ١ (١٦٣٨) ، سنن ابی داود/ الأیمان ٢٥ (٣٣٠٧) ، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨٨) ، والأیمان ٣٥ (٣٨٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٩ (٢١٢٣) ، (تحفة الأشراف : ٥٨٣٥) ، وط/النذور ١ (١) ، و مسند احمد (١/٢١٩، ٢٢٩، ٣٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : میت کے واجب حقوق کو پورا کرنا اس کے وارثوں کے ذمہ واجب ہے ، اس کے لیے میت کی طرف سے اسے پوری کرنے کی وصیت ضروری نہیں ، ورثاء کو اپنی ذمہ داری کا خود احساس ہونا چاہیئے ، اور ورثاء میں سے اسے پورا کرنے کی زیادہ ذمہ داری اولاد پر ہے ، اگر نذر کا تعلق مال سے ہے تو اسے پوری کرنا مستحب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1546
حدیث نمبر: 1546 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْضِ عَنْهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৫৪৭
نذر اور قسموں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گردنیں آزاد کرنے کی فضلیت۔
ابوامامہ (رض) اور دوسرے صحابہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : جو مسلمان کسی مسلمان کو آزاد کرے گا، تو یہ آزاد کرنا اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگا، اس آزاد کیے گئے مرد کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان دو مسلمان عورتوں کو آزاد کرے گا، تو یہ دونوں اس کے لیے جہنم سے خلاصی کا باعث ہوں گی، ان دونوں آزاد عورتوں کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا، جو مسلمان عورت کسی مسلمان عورت کو آزاد کرے گی، تو یہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگی، اس آزاد کی گئی عورت کا ہر عضو اس آزاد کرنے والے کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یہ حدیث دلیل ہے کہ مردوں کے لیے مرد آزاد کرنا عورت کے آزاد کرنے سے افضل ہے، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مسلمان مرد کو آزاد کیا وہ اس کے لیے جہنم سے نجات کا باعث ہوگا، اس آزاد کئے گئے مرد کا ہر عضو اس کے عضو کی طرف سے کفایت کرے گا ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی جو اپنی سندوں کے اعتبار سے صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٤٨٦٤) (صحیح) وأما حدیث غیرہ من أصحاب النبی ﷺ فأخرجہ من حدیث أبي نجیح السلمي (عمرو بن عبیسة) ، سنن ابی داود/ العتق ١٤ (٣٩٦٥، ٣٩٦٦) ، و مسند احمد (٤/١١٣، ٣٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٥٥ و ١٠٧٧٢) ومن حدیث کعب بن مرة : د (برقم ٣٩٦٧) ، و ن (رقم ٣١٤٢) و سنن ابن ماجہ/العتق ٤ (٢٥٢٢) ، و مسند احمد (٤/٢٣٤، ٢٣٥، ٣٢١) (تحفة الأشراف : ١١١٦٣ ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2522) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1547
حدیث نمبر: 1547 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ هُوَ أَخُو سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأَتَيْنِ مُسْلِمَتَيْنِ، كَانَتَا فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُمَا عُضْوًا مِنْهُ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ أَعْتَقَتِ امْرَأَةً مُسْلِمَةً، كَانَتْ فَكَاكَهَا مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْحَدِيثِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ عِتْقَ الذُّكُورِ لِلرِّجَالِ أَفْضَلُ مِنْ عِتْقِ الْإِنَاثِ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا، كَانَ فَكَاكَهُ مِنَ النَّارِ، يُجْزِي كُلُّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ .
তাহকীক: