আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
شکار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৯ টি
হাদীস নং: ১৪৮৪
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سانپ کو مانا
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمہارے گھروں میں گھریلو سانپ رہتے ہیں، تم انہیں تین بار آگاہ کر دو تم تنگی میں ہو (یعنی دیکھو دوبارہ نظر نہ آنا ورنہ تنگی و پریشانی سے دوچار ہوگا) پھر اگر اس تنبیہ کے بعد کوئی سانپ نظر آئے تو اسے مار ڈالو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس حدیث کو عبیداللہ بن عمر نے بسند «صيفي عن أبي سعيد الخدري» روایت کیا ہے جب کہ مالک بن انس نے اس حدیث کو بسند «صيفي عن أبي السائب مولی هشام بن زهرة عن أبي سعيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا،
حدیث نمبر: 1484 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِبُيُوتِكُمْ عُمَّارًا، فَحَرِّجُوا عَلَيْهِنَّ ثَلَاثًا، فَإِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْهُنَّ شَيْءٌ فَاقْتُلُوهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৫
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سانپ کو مانا
ابولیلیٰ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب گھر میں سانپ نکلے تو اس سے کہو : ہم نوح اور سلیمان بن داود کے عہد و اقرار کی رو سے یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمیں نہ ستاؤ پھر اگر وہ دوبارہ نکلے تو اسے مار دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو ثابت بنانی کی روایت سے صرف ابن ابی لیلیٰ ہی کے طریق سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأدب ١٧٤ (٥٢٦٠) ، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٢٨٠ (٩٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٥٢) (ضعیف) (سند میں ” محمد بن أبی لیلیٰ “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1508) // ضعيف الجامع الصغير (590) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1485
حدیث نمبر: 1485 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: قَالَأَبُو لَيْلَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا ظَهَرَتِ الْحَيَّةُ فِي الْمَسْكَنِ، فَقُولُوا لَهَا: إِنَّا نَسْأَلُكِ بِعَهْدِ نُوحٍ، وَبِعَهْدِ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، أَنْ لَا تُؤْذِيَنَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاقْتُلُوهَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৬
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتوں کو ہلاک کرنا
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں تمام کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیتا، سو اب تم ان میں سے ہر کالے سیاہ کتے کو مار ڈالو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عبداللہ بن مغفل کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر، جابر، ابورافع، اور ابوایوب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض احادیث میں مروی ہے کہ کالا کتا شیطان ہوتا ہے ٢ ؎، ٤ - «الأسود البهيم» اس کتے کو کہتے ہیں جس میں سفیدی بالکل نہ ہو، ٥ - بعض اہل علم نے کالے کتے کے کئے شکار کو مکروہ سمجھا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصید ١ (٢٨٤٥) ، سنن النسائی/الصید ١٠ (٤٢٨٥) ، و ١٤ (٤٢٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٦٤٩) ، و مسند احمد (٤/٨٥، ٨٦) ، و (٥/٥٤، ٥٦، ٥٧) سنن الدارمی/الصید ٣ (٢٠٥١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ابتداء میں سارے کتوں کے مارنے کا حکم ہوا پھر کالے سیاہ کتوں کو چھوڑ کر یہ حکم منسوخ ہوگیا ، بعد میں کسی بھی کتے کو جب تک وہ موذی نہ ہو مارنے سے منع کردیا گیا ، حتیٰ کہ شکار ، زمین ، جائیداد ، مکان اور جانوروں کی حفاظت و نگہبانی کے لیے انہیں پالنے کی اجازت بھی دی گئی۔ ٢ ؎ : یہ حدیث صحیح مسلم (رقم ١٥٧٢ ) میں جابر (رض) سے مروی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (4102 / التحقيق الثانی) ، غاية المرام (148) ، صحيح أبي داود (2535) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1486
حدیث نمبر: 1486 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مَنْصُورُ بْنُ زَاذَانَ، وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا كُلِّهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ: أَنَّ الْكَلْبَ الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ شَيْطَانٌ، وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ الْبَهِيمُ الَّذِي لَا يَكُونُ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْبَيَاضِ، وَقَدْ كَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ صَيْدَ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ الْبَهِيمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৭
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتوں کو ہلاک کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے ایسا کتا پالا یا رکھا جو سدھایا ہوا شکاری اور جانوروں کی نگرانی کرنے والا نہ ہو تو اس کے ثواب میں سے ہر دن دو قیراط کے برابر کم ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے یہ بھی فرمایا : «أو كلب زرع» یا وہ کتا کھیتی کی نگرانی کرنے والا نہ ہو ، ٣ - اس باب میں عبداللہ بن مغفل، ابوہریرہ، اور سفیان بن أبی زہیر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصید والذبائح ٦ (٥٤٨٢) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (البیوع ٣١) ، (١٥٧٤) ، سنن النسائی/الصید ١٢ (٤٢٨٩) و ١٣ (٤٢٩١-٤٢٩٢) (تحفة الأشراف : ٧٥٤٩) ، وط/الاستئذان ٥ (١٣) ، و مسند احمد (٢/٤، ٨، ٣٧، ٤٧، ٦٠) ، وسنن الدارمی/الصید ٢ (٢٠٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : قیراط ایک وزن ہے جو اختلاف زمانہ کے ساتھ بدلتا رہا ہے ، یہ کسی چیز کا چوبیسواں حصہ ہوتا ہے ، کتا پالنے سے ثواب میں کمی کے کئی اسباب ہوسکتے ہیں : ایسے گھروں میں فرشتوں کا داخل نہ ہونا ، گھر والے کی غفلت کی صورت میں برتن میں کتے کا منہ ڈالنا ، پھر پانی اور مٹی سے دھوئے بغیر اس کا استعمال کرنا ، ممانعت کے باوجود کتے کا پالنا ، گھر میں آنے والے دوسرے لوگوں کو اس سے تکلیف پہنچنا وغیرہ وغیرہ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (2534) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1487
حدیث نمبر: 1487 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا لَيْسَ بِضَارٍ، وَلَا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، نَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৮
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتوں کو ہلاک کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے شکاری یا جانوروں کی نگرانی کرنے والے کتے کے علاوہ دیگر کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ابن عمر (رض) سے کہا گیا : ابوہریرہ (رض) یہ بھی کہتے تھے : «أو كلب زرع» یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے (یعنی یہ بھی مستثنیٰ ہیں) ، تو ابن عمر (رض) نے کہا : ابوہریرہ (رض) کے پاس کھیتی تھی (اس لیے انہوں نے اس کے بارے میں پوچھا ہوگا) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ١٧ (٣٣٢٣) ، (دون ما استشنیٰ منہا) صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (البیوع ٣١) (١٥٧١) ، سنن النسائی/الصید ٩ (٤٣٨٢- ٤٢٨٤) ، سنن ابن ماجہ/الصید ١ (٣٢٠٢) ، (دون ماستثنی منھا) (تحفة الأشراف : ٧٣٥٣) ، وط/الاستئذان ٥ (١٤) ، و مسند احمد (٢/٢٢-٢٣، ١١٣، ١٣٢، ١٣٦) ، سنن الدارمی/الصید ٣ (٢٠٥٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2549) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1488
حدیث نمبر: 1488 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ: أَوْ كَلْبَ زَرْعٍ، فَقَالَ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ لَهُ زَرْعٌ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৮৯
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتوں کو ہلاک کرنا
عبداللہ بن مغفل (رض) کہتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو رسول اللہ ﷺ کے مبارک چہرے سے درخت کی شاخوں کو ہٹا رہے تھے اور آپ خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا : اگر یہ بات نہ ہوتی کہ کتے دیگر مخلوقات کی طرح ایک مخلوق ہیں تو میں انہیں مارنے کا حکم دیتا ١ ؎، سو اب تم ان میں سے ہر سیاہ کالے کتے کو مار ڈالو، جو گھر والے بھی شکاری، یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے یا بکریوں کی نگرانی کرنے والے کتوں کے سوا کوئی دوسرا کتا باندھے رکھتے ہیں ہر دن ان کے عمل (ثواب) سے ایک قیراط کم ہوگا ۔
حدیث نمبر: 1489 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ اتَّخَذَ كَلْبًا، إِلَّا كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ صَيْدٍ، أَوْ زَرْعٍ، انْتَقَصَ مِنْ أَجْرِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ: أَنَّهُ رَخَّصَ فِي إِمْسَاكِ الْكَلْبِ، وَإِنْ كَانَ لِلرَّجُلِ شَاةٌ وَاحِدَةٌ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯০
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتوں کو ہلاک کرنا
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص بھی جانوروں کی نگرانی کرنے والے یا شکاری یا کھیتی کی نگرانی کرنے والے کتے کے سوا کوئی دوسرا کتا پالے گا تو ہر روز اس کے ثواب میں سے ایک قیراط کم ہوگا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - عطا بن ابی رباح نے کتا پالنے کی رخصت دی ہے اگرچہ کسی کے پاس ایک ہی بکری کیوں نہ ہو۔ اس سند سے بھی ابوہریرہ (رض) سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحرث ٣ (٣٣٢٢) وبدء الخلق ١٧ (٣٣٢٤) ، صحیح مسلم/المساقاة ١٠ (البیوع ٣١) ، (١٩) ، سنن ابی داود/ الصید ١ (٢٨٤٤) ، سنن النسائی/الصید ١٤ (٤٢٩٤) ، سنن ابن ماجہ/الصید ٢ (٣٢٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٢٧١) ، و مسند احمد (٢/٢٦٧، ٣٤٥) (صحیح) (لیس عند (خ) ” أو صید “ إلا معلقا بعد الحدیث ٢٣٢٣) ۔ وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن عمر (رض) سے مروی حدیث رقم : ١٤٨٧ میں دو قیراط کا ذکر ہے ، اس کی مختلف توجیہ کی گئی ہیں : ( ١ ) آپ ﷺ نے پہلے ایک قیراط کی خبر دی جسے ابوہریرہ (رض) نے روایت کی ، بعد میں دو قیراط کی خبر دی جسے ابن عمر (رض) نے روایت کی۔ ( ٢ ) ایک قیراط اور دو قیراط کا فرق کتے کے موذی ہونے کے اعتبار سے ہوسکتا ہے ، ( ٣ ) یہ ممکن ہے کہ دو قیراط کی کمی کا تعلق مدینہ منورہ سے ہو ، اور ایک قیراط کا تعلق اس کے علاوہ سے ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3205) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1490
حدیث نمبر: 1490 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: إِنِّي لَمِمَّنْ يَرْفَعُ أَغْصَانَ الشَّجَرَةِ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ، لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا، فَاقْتُلُوا مِنْهَا كُلَّ أَسْوَدَ بَهِيمٍ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ يَرْتَبِطُونَ كَلْبًا، إِلَّا نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطٌ، إِلَّا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ حَرْثٍ، أَوْ كَلْبَ غَنَمٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯১
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بانس وغیرہ سے ذبح کرنا
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کل ہم دشمن سے ملیں گے اور ہمارے پاس (جانور ذبح کرنے کے لیے) چھری نہیں ہے (تو کیا حکم ہے ؟ ) ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو خون بہا دے ١ ؎ اور اس پر اللہ کا نام یعنی بسم اللہ پڑھا گیا ہو تو اسے کھاؤ، بجز دانت اور ناخن سے ذبح کیے گئے جانور کے، اور میں تم سے دانت اور ناخن کی ٢ ؎ تفسیر بیان کرتا ہوں : دانت، ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے ٣ ؎۔
حدیث نمبر: 1491 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَال: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا، وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوهُ، مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا، أَوْ ظُفُرًا، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ: أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৯২
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اونٹ بھاگ جائے۔
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، لوگوں کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک کر بھاگ گیا، ان کے پاس گھوڑے بھی نہ تھے، ایک آدمی نے اس کو تیر مارا سو اللہ نے اس کو روک دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ان چوپایوں میں جنگلی جانوروں کی طرح بھگوڑے بھی ہوتے ہیں، اس لیے اگر ان میں سے کوئی ایسا کرے (یعنی بدک جائے) تو اس کے ساتھ اسی طرح کرو ١ ؎۔
حدیث نمبر: 1492 حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ، وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ، فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ، فَحَبَسَهُ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا ،
তাহকীক: