আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২ টি
হাদীস নং: ১৪৪২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نشہ والے کی حد
ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حد قائم کرتے ہوئے چالیس جوتیوں کی سزا دی، مسعر راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے شراب کی حد میں (آپ نے چالیس جوتیوں کی سزا دی) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوسعید (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢ - اس باب میں علی، عبدالرحمٰن بن ازہر، ابوہریرہ، سائب، ابن عباس اور عقبہ بن حارث (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبریٰ ) (تحفة الأشراف : ٣٩٧٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں زید العمی سخت ضعیف راوی ہے، لیکن دیگر احادیث صحیحہ سے شرابی کو جوتے سے مارنا ثابت ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1442
حدیث نمبر: 1442 حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ زَيْدٍ الْعَمِّيِّ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ الْحَدَّ بِنَعْلَيْنِ أَرْبَعِينَ . قَالَ مِسْعَرٌ: أَظُنُّهُ فِي الْخَمْرِ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَالسَّائِبِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَعُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو الصِّدِّيقِ النَّاجِيُّ اسْمُهُ: بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو، وَيُقَالُ: بَكْرُ بْنُ قَيْسٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نشہ والے کی حد
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی، آپ نے اسے کھجور کی دو چھڑیوں سے چالیس کے قریب مارا، ابوبکر (رض) نے بھی (اپنے دور خلافت میں) ایسا ہی کیا، پھر جب عمر (رض) خلیفہ ہوئے تو انہوں نے اس سلسلے میں لوگوں سے مشورہ کیا، چناچہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا : حدوں میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہیں، چناچہ عمر نے اسی کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - انس کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ میں سے اہل علم اور دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ شرابی کی حد اسی کوڑے ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ٢ (٦٧٧١) ، (بدون قصة الاستشارة) ، صحیح مسلم/الحدود ٨ (١٧٠٦) سنن ابی داود/ الحدود ٣٦ (٤٤٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٦ (٢٥٧٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٤) ، و مسند احمد (٣/١١٥، ١٨٠، ٢٤٧، ٢٧٢- ٢٧٣) ، سنن الدارمی/الحدود ٩ (٢٣٥٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ شرابی کی حد چالیس کوڑے ہیں ، البتہ امام اس سے زائد اسی کوڑے تک کی سزا دے سکتا ہے ، لیکن اس کا انحصار حسب ضرورت امام کے اپنے اجتہاد پر ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2377) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1443
حدیث نمبر: 1443 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ، فَضَرَبَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ ، وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ، اسْتَشَارَ النَّاسَ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: كَأَخَفِّ الْحُدُودِ ثَمَانِينَ، فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ حَدَّ السَّكْرَانِ ثَمَانُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شرابی کی سزا تین مرتبہ کوڑے اور چوتھی مرتبہ پر قتل ہے۔
معاویہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئے تو اسے قتل کر دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - معاویہ (رض) کی حدیث کو اسی طرح ثوری نے بطریق : «عاصم عن أبي صالح عن معاوية عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور ابن جریج اور معمر نے بطریق : «سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ ابوصالح کی حدیث جو بواسطہ معاویہ نبی اکرم ﷺ سے اس سلسلہ میں آئی ہے، یہ ابوصالح کی اس حدیث سے جو بواسطہ ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے زیادہ صحیح ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ، شرید، شرحبیل بن اوس، جریر، ابورمد بلوی اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - یہ حکم ابتداء اسلام میں تھا ١ ؎ پھر اس کے بعد منسوخ ہوگیا، اسی طرح محمد بن اسحاق نے «محمد بن المنکدر عن جابر بن عبد الله» کے طریق سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرمایا : جو شراب پئیے اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر چوتھی بار پئیے تو اسے قتل کر دو ، پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ایسا آدمی لایا گیا جس نے چوتھی بار شراب پی تھی، تو آپ نے اسے کوڑے لگائے اور قتل نہیں کیا، اسی طرح زہری نے قبیصہ بن ذویب سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٥ - چناچہ قتل کا حکم منسوخ ہوگیا، پہلے اس کی رخصت تھی، عام اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، میرے علم میں اس مسئلہ میں ان کے درمیان نہ پہلے اختلاف تھا نہ اب اختلاف ہے، اور اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بیشمار سندوں سے آئی ہے کہ آپ نے فرمایا : جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو اس کا خون تین میں سے کسی ایک چیز کی بنا پر ہی حلال ہوسکتا ہے : ناحق کسی کا قاتل ہو، شادی شدہ زانی ہو، یا اپنا دین (اسلام) چھوڑنے والا (مرتد) ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٣٧ (٤٤٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٧ (٢٥٧٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٤١٢) ، و مسند احمد (٤/٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی شرابی کے قتل کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا پھر منسوخ ہوگیا چناچہ قتل سے متعلق روایت بعض اہل ظاہر کو چھوڑ کر تمام اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2572 - 2573) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1444
حدیث نمبر: 1444 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَالشَّرِيدِ، وَشُرَحْبِيلَ بْنِ أَوْسٍ، وَجَرِيرٍ، وَأَبِي الرَّمَدِ الْبَلَوِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ مُعَاوِيَةَ هَكَذَا رَوَى الثَّوْرِيُّ أَيْضًا، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَىابْنُ جُرَيْجٍ، وَمَعْمَرٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ: حَدِيثُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّمَا كَانَ هَذَا فِي أَوَّلِ الْأَمْرِ ثُمَّ نُسِخَ بَعْدُ، هَكَذَا رَوَىمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ، فَإِنْ عَادَ فِي الرَّابِعَةِ فَاقْتُلُوهُ ، قَالَ: ثُمَّ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فِي الرَّابِعَةِ، فَضَرَبَهُ، وَلَمْ يَقْتُلْهُ، وَكَذَلِكَ رَوَى الزُّهْرِيُّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، قَالَ: فَرُفِعَ الْقَتْلُ، وَكَانَتْ رُخْصَةً، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ فِي الْقَدِيمِ وَالْحَدِيثِ، وَمِمَّا يُقَوِّي هَذَا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوْجُهٍ كَثِيرَةٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ، النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی قیمت کی چیز چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ چوتھائی دینار ١ ؎ اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عائشہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سندوں سے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ (رض) سے مرفوعاً آئی ہے، جب کہ بعض لوگوں نے اسے عمرہ کے واسطہ سے عائشہ (رض) سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٨٩) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٤) ، سنن ابی داود/ الحدود ١١ (٤٣٨٣) ، سنن النسائی/قطع السارق ٩ (٤٩٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٥) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٢٠) ، وط/الحدود ٧ (٢٤) ، و مسند احمد (٦/٣٦، ٨٠، ٨١، ١٠٤، ١٦٣، ٢٤٩، ٢٥٢) ، سنن الدارمی/الحدو ٤ (٢٣٤٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : موجودہ وزن کے اعتبار سے ایک دینار کا وزن تقریباً سوا چار گرام سونا ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2402) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1445
حدیث نمبر: 1445 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَتْهُ عَمْرَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ: يَقْطَعُ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، مَرْفُوعًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کتنی قیمت کی چیز چوری کرنے پر ہاتھ کاٹا جائے۔
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ڈھال کی چوری پر ہاتھ کاٹا جس کی قیمت تین درہم ١ ؎ تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں سعد، عبداللہ بن عمرو، ابن عباس، ابوہریرہ اور ایمن (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان میں ابوبکر (رض) بھی شامل ہیں، انہوں نے پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ٤ - عثمان اور علی (رض) سے مروی ہے کہ ان لوگوں نے چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا، ٥ - ابوہریرہ اور ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ پانچ درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ٦ - بعض فقہائے تابعین کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس، شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں : چوتھائی دینار اور اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا، ٧ - اور ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم کی چوری پر ہی ہاتھ کاٹا جائے گا، لیکن یہ مرسل (یعنی منقطع) حدیث ہے اسے قاسم بن عبدالرحمٰن نے ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے، حالانکہ قاسم نے ابن مسعود سے نہیں سنا ہے، بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، چناچہ سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں : دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے، ٨ - علی (رض) کہتے ہیں کہ دس درہم سے کم کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، لیکن اس کی سند متصل نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحدود ١٣ (٦٧٩٥) ، صحیح مسلم/الحدود ١ (١٦٨٦) ، سنن ابی داود/ الحدود ١١ (٤٣٨٥) ، سنن النسائی/قطع السارق ٨ (٤٩١٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٢ (٢٥٨٤) ، التحفة : ٨٢٧٨) ، موطا امام مالک/الحدود ٧ (٢١) ، و مسند احمد (٢/٦، ٥٤، ٦٤، ٨٠، ١٤٣) ، سنن الدارمی/الحدود ٤ (٢٣٤٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : آج کے وزن کے اعتبار سے ایک درہم (چاندی) تقریباً تین گرام کے برابر ہے ، معلوم ہوا کہ چوتھائی دینار (سونا) : یعنی تین درہم (چاندی) یا اس سے زیادہ کی مالیت کا سامان اگر کوئی چوری کرتا ہے تو اس کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2584) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1446
حدیث نمبر: 1446 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مِجَنٍّ قِيمَتُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَعْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَيْمَنَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ، أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: قَطَعَ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، وَرُوِي عَنْ عُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ، أَنَّهُمَا: قَطَعَا فِي رُبُعِ دِينَارٍ، وَرُوِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: تُقْطَعُ الْيَدُ فِي خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، رَأَوْا الْقَطْعَ فِي رُبُعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: لَا قَطْعَ إِلَّا فِي دِينَارٍ، أَوْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَهُوَ حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، رَوَاهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالْقَاسِمُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالُوا: لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَرُوِي عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: لَا قَطْعَ فِي أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چور کا ہاتھ کاٹ کر اس کے گلے میں لٹکا دینا
عبدالرحمٰن بن محیریز کہتے ہیں کہ میں نے فضالہ بن عبید سے پوچھا : کیا چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کی گردن میں لٹکانا سنت ہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چور لایا گیا اس کا ہاتھ کاٹا گیا، پھر آپ نے حکم دیا ہاتھ اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے صرف عمر بن علی مقدمی ہی کی روایت سے جانتے ہیں، انہوں نے اسے حجاج بن ارطاۃ سے روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٢١ (٤٤١١) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٩ (٤٩٨٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٣ (٢٥٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٠٢٩) ، و مسند احمد (٦/١٩) (ضعیف) (سند میں ” حجاج بن ارطاة “ ضعیف، اور ” عبدالرحمن بن محیریز “ مجہول ہیں) دیکھئے : الإرواء : ٢٤٣٢ ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2587) ، المشکاة (3605 / التحقيق الثاني) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1447
حدیث نمبر: 1447 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ، قَالَ: سَأَلْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ، عَنْ تَعْلِيقِ الْيَدِ فِي عُنُقِ السَّارِقِ، أَمِنَ السُّنَّةِ هُوَ ؟ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَارِقٍ، فَقُطِعَتْ يَدُهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَعُلِّقَتْ فِي عُنُقِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقَدَّمِيِّ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ: هُوَ أَخُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ شَامِيٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خائن، اچکے اور ڈاکو
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : خیانت کرنے والے، ڈاکو اور اچکے کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - مغیرہ بن مسلم نے ابن جریج کی حدیث کی طرح اسے ابوزبیر سے، ابوزبیر نے جابر (رض) سے اور جابر نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ١٣ (٤٣٩١) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٤ (٤٩٧٤) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٦ (٢٥٩١) ، (تحفة الأشراف : ٢٨٠٠) ، و مسند احمد (٣/٣٨٠) ، سنن الدارمی/الحدود ٨ (٢٣٥٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کسی محفوظ جگہ سے جہاں مال اچھی طرح سے چھپا کر رکھا گیا مال چرانا «سرقہ» ہے اور خیانت ، اچکنا اور ڈاکہ زنی یہ سب کے سب «سرقہ» کی تعریف سے خارج ہیں ، لہٰذا ان کی سزا ہاتھ کاٹنا نہیں ہے ، «خائن» اسے کہتے ہیں جو خفیہ طریقہ پر مال لیتا رہے اور مالک کے ساتھ خیر خواہی اور ہمدردی کا اظہار کرے۔ حدیث میں مذکورہ جرائم پر حاکم جو مناسب سزا تجویز کرے گا وہ نافذ کی جائے گی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2589) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1448
حدیث نمبر: 1448 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ عَلَى خَائِنٍ، وَلَا مُنْتَهِبٍ، وَلَا مُخْتَلِسٍ، قَطْعٌ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَقَدْ رَوَاهُ مُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ هُوَ: بَصْرِيٌّ أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ الْقَسْمَلِيِّ، كَذَا قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৪৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پھلوں اور کھجور کے خوشوں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : پھل اور کھجور کے گابھے کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اسی طرح بعض اور لوگوں نے بھی لیث بن سعد کی روایت کی طرح بطریق : «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، ٢ - مالک بن انس اور کئی لوگوں نے اس حدیث کو بطریق : «يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، ان لوگوں نے اس حدیث کی سند میں واسع بن حبان کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ١٢ (٤٣٨٨) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٤ (٤٩٩٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢٧ (٢٥٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٣٥٨٨) ، وط/الحدود ١١ (٣٢) ، و مسند احمد (٣/٤٦٣، ٤٦٤) و (٥/١٤٠، ١٤٢) ، سنن الدارمی/الحدود ٧ (٢٣٥٠) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2593) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1449
حدیث نمبر: 1449 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ، وَلَا كَثَرٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَكَذَا رَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَ رِوَايَةِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پھلوں اور کھجور کے خوشوں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
بسر بن ارطاۃ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : جنگ کے دوران (چوری کرنے والے کا) ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ٢ - ابن لہیعہ کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، انہیں میں اوزاعی بھی ہیں، یہ لوگ کہتے ہیں : دشمن کی موجودگی میں جہاد کے دوران (چوری کرنے پر) حد قائم نہیں کی جائے گی، کیونکہ جس پر حد قائم کی جائے گی اندیشہ ہے کہ وہ دشمن سے مل جائے، البتہ امام جب دارالحرب سے نکل کر دارالاسلام واپس آ جائے تو چوری کرنے والے پر حد قائم کرے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ١٨ (٤٤٠٨) ، سنن النسائی/قطع السارق ١٧ (٤٩٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٢٠١٥) ، و مسند احمد (٤/١٨١) (صحیح) (متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے جس کا ذکر مؤلف نے کیا ہے، ورنہ اس کے راوی ” ابن لھیعہ “ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : مسند احمد میں عبادہ بن صامت کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : «أقيموا الحدود في الحضر والسفر» حضر اور سفر دونوں میں حدود قائم کرو ، اس میں اور بسر بن ارطاۃ کی حدیث میں تعارض ہے ، علامہ شوکانی کہتے ہیں : دونوں میں کوئی تعارض نہیں ہے ، کیونکہ بسر ارطاۃ کی حدیث خاص ہے جب کہ عبادہ کی حدیث عام ہے ، کیونکہ ہر مسافر مجاہد نہیں ہوتا البتہ ہر مجاہد مسافر ہوتا ہے ، نیز بسر کی حدیث کا تعلق چوری کی حد سے ہے ، جب کہ عبادہ کی حدیث کا تعلق عام حد سے ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، المشکاة (3601 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1450
حدیث نمبر: 1450 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ شُيَيْمِ بْنِ بَيْتَانَ، عَنْ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تُقْطَعُ الْأَيْدِي فِي الْغَزْوِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ ابْنِ لَهِيعَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ هَذَا، وَيُقَالُ بُسْرُ بْنُ أَبِي أَرْطَاةَ أَيْضًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ الْأَوْزَاعِيُّ، لَا يَرَوْنَ أَنْ يُقَامَ الْحَدُّ فِي الْغَزْوِ بِحَضْرَةِ الْعَدُوِّ، مَخَافَةَ أَنْ يَلْحَقَ مَنْ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ بِالْعَدُوِّ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ مِنْ أَرْضِ الْحَرْبِ، وَرَجَعَ إِلَى دَارِ الْإِسْلَامِ، أَقَامَ الْحَدَّ عَلَى مَنْ أَصَابَهُ، كَذَلِكَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے زناکرے
حبیب بن سالم کہتے ہیں کہ نعمان بن بشیر (رض) کے پاس ایک ایسے شخص کا مقدمہ پیش ہوا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کیا تھا، انہوں نے کہا : میں اس میں رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا : اگر اس کی بیوی نے اسے لونڈی کے ساتھ جماع کی اجازت دی ہے تو (بطور تادیب) اسے سو کوڑے ماروں گا اور اگر اس نے اجازت نہیں دی ہے تو (بطور حد) اسے رجم کروں گا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٢٨ (٤٤٥٨) ، سنن النسائی/النکاح ٧٠ (٣٣٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود (٢٥٥١) ، (تحفة الأشراف : ١١٦١٣) ، و مسند احمد (٦/٢٧٢، ٢٧٦، ٢٧٦، ٢٧٧) ، سنن الدارمی/الحدود ٢٠ (٢٣٧٤) (ضعیف) (سند میں ” حبیب بن سالم “ میں بہت کلام ہے، نیز بقول خطابی ان کا سماع نعمان (رض) سے نہیں ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2551) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1451
حدیث نمبر: 1451 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَيُّوبَ بْنِ مِسْكِينٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، رَجُلٌ وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ رَجَمْتُهُ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص اپنی بیوی کی لونڈی سے زناکرے
اس سند سے بھی نعمان بن بشیر سے اسی جیسی حدیث آئی ہے۔ قتادہ کہتے ہیں کہ انہوں نے کہا : حبیب بن سالم کے پاس یہ مسئلہ لکھ کر بھیجا گیا ١ ؎۔ ابوبشر نے بھی یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - نعمان کی حدیث کی سند میں اضطراب ہے میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ قتادہ نے اس حدیث کو حبیب بن سالم سے نہیں سنا ہے، انہوں نے اسے خالد بن عرفطہٰ سے روایت کیا ہے، ٢ - اس باب میں سلمہ بن محبق سے بھی روایت ہے، ٣ - بیوی کی لونڈی کے ساتھ زنا کرنے والے کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے، چناچہ نبی اکرم ﷺ کے کئی صحابہ سے مروی ہے جن میں علی اور ابن عمر بھی شامل ہیں کہ اس پر رجم واجب ہے، ابن مسعود کہتے ہیں : اس پر کوئی حد نہیں ہے، البتہ اس کی تادیبی سزا ہوگی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا مسلک اس (حدیث) کے مطابق ہے جو نبی اکرم ﷺ سے بواسطہ نعمان بن بشیر آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (ضعیف ) وضاحت : ١ ؎ : گویا قتادہ نے یہ حدیث حبیب بن سالم سے نہیں سنی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ** صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1452
حدیث نمبر: 1452 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ نَحْوَهُ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبَّقِ، قَالَ: أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ النُّعْمَانِ فِي إِسْنَادِهِ اضْطِرَابٌ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: لَمْ يَسْمَعْ قَتَادَةُ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ، إِنَّمَا رَوَاهُ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ، وَيُرْوَى عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ قَالَ: كُتِبَ بِهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، وَأَبُو بِشْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ هَذَا أَيْضًا، إنما قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ، فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، فَرُوِيَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَابْنُ عُمَرَ، أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ، وقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَيْسَ عَلَيْهِ حَدٌّ، وَلَكِنْ يُعَزَّرُ، وَذَهَبَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، إِلَى مَا رَوَى النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جس کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے
وائل بن حجر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے ساتھ زبردستی زنا کیا گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حد سے بری کردیا اور زانی پر حد جاری کی، راوی نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ آپ نے اسے کچھ مہر بھی دلایا ہو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، اس کی اسناد متصل نہیں ہے، ٢ - یہ حدیث دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٣ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے ہوئے سنا : عبدالجبار بن وائل بن حجر کا سماع ان کے باپ سے ثابت نہیں ہے، انہوں نے اپنے والد کا زمانہ نہیں پایا ہے، کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے والد کی موت کے کچھ مہینے بعد پیدا ہوئے، ٣ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے کہ جس سے جبراً زنا کیا گیا ہو اس پر حد واجب نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٠ (٢٥٩٨) (ضعیف) (نہ تو ” حجاج بن ارطاة “ نے ” عبدالجبار “ سے سنا ہے، نہ ہی ” عبدالجبار “ نے اپنے باپ سے سنا ہے، یعنی سند میں دو جگہ انقطاع ہے، لیکن یہ مسئلہ اگلی حدیث سے ثابت ہے ) وضاحت : ١ ؎ : لیکن دوسری احادیث سے یہ ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جماع کے بدلے اس عورت کو کچھ دلایا بھی ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (3571) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1453
حدیث نمبر: 1453 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا مُعَمَّرُ بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّقِّيُّ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَرَأَ عَنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَدَّ، وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا، وَلَمْ يُذْكَرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: سَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ، وَلَا أَدْرَكَهُ، يُقَالُ: إِنَّهُ وُلِدَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ بِأَشْهُرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنْ لَيْسَ عَلَى الْمُسْتَكْرَهَةِ حَدٌّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورت جس کے ساتھ زبردستی زنا کیا جائے
وائل بن حجر کندی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک عورت نماز کے لیے نکلی، اسے ایک آدمی ملا، اس نے عورت کو ڈھانپ لیا اور اس سے اپنی حاجت پوری کی (یعنی اس سے زبردستی زنا کیا) ، وہ عورت چیخنے لگی اور وہ چلا گیا، پھر اس کے پاس سے ایک (دوسرا) آدمی گزرا تو یہ عورت بولی : اس (دوسرے) آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا ہے ١ ؎ اور اس کے پاس سے مہاجرین کی بھی ایک جماعت گزری تو یہ عورت بولی : اس آدمی نے میرے ساتھ ایسا ایسا (یعنی زنا) کیا ہے، (یہ سن کر) وہ لوگ گئے اور جا کر انہوں نے اس آدمی کو پکڑ لیا جس کے بارے میں اس عورت نے گمان کیا تھا کہ اسی نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے اور اسے اس عورت کے پاس لائے، وہ بولی : ہاں، وہ یہی ہے، پھر وہ لوگ اسے رسول اللہ ﷺ کے پاس لائے، چناچہ جب آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا، تو اس عورت کے ساتھ زنا کرنے والا کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس کے ساتھ زنا کرنے والا میں ہوں، پھر آپ نے اس عورت سے فرمایا : تو جا اللہ نے تیری بخشش کردی ہے ٢ ؎ اور آپ نے اس آدمی کو (جو قصوروار نہیں تھا) اچھی بات کہی ٣ ؎ اور جس آدمی نے زنا کیا تھا اس کے متعلق آپ نے فرمایا : اسے رجم کرو ، آپ نے یہ بھی فرمایا : اس (زانی) نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ اس طرح توبہ کرلیں تو ان سب کی توبہ قبول ہوجائے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢ - علقمہ بن وائل بن حجر کا سماع ان کے والد سے ثابت ہے، یہ عبدالجبار بن وائل سے بڑے ہیں اور عبدالجبار کا سماع ان کے والد سے ثابت نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٧ (٤٣٧٩) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٧) ، و مسند احمد (٦/٣٩٩) (حسن) (اس میں رجم کی بات صحیح نہیں ہے، راجح یہی ہے کہ رجم نہیں کیا گیا، دیکھئے : الصحیحہ رقم ٩٠٠ ) وضاحت : ١ ؎ : حالانکہ زنا کرنے والا کوئی اور تھا ، عورت نے غلطی سے اسے سمجھ لیا۔ ٢ ؎ : کیونکہ تجھ سے حد والا کام زبردستی کرایا گیا ہے۔ ٣ ؎ : یعنی اس کے لیے تسلی کے کلمات کہے ، کیونکہ یہ بےقصور تھا۔ ٤ ؎ : چونکہ اس نے خود سے زنا کا اقرار کیا اور شادی شدہ تھا ، اس لیے آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے رجم کیا جائے۔ قال الشيخ الألباني : حسن - دون قوله ارجموه والأرجح أنه لم يرجم -، المشکاة (3572) ، الصحيحة (900) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1454
حدیث نمبر: 1454 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْكِنْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً خَرَجَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُرِيدُ الصَّلَاةَ، فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا، فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا، فَصَاحَتْ، فَانْطَلَقَ، وَمَرَّ عَلَيْهَا رَجُلٌ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، وَمَرَّتْ بِعِصَابَةٍ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ، فَقَالَتْ: إِنَّ ذَاكَ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا، فَانْطَلَقُوا، فَأَخَذُوا الرَّجُلَ الَّذِي ظَنَّتْ أَنَّهُ وَقَعَ عَلَيْهَا وَأَتَوْهَا، فَقَالَتْ: نَعَمْ هُوَ هَذَا، فَأَتَوْا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَمَرَ بِهِ لِيُرْجَمَ، قَامَ صَاحِبُهَا الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا صَاحِبُهَا، فَقَالَ لَهَا: اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا، وَقَالَ لِلرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا: ارْجُمُوهُ، وَقَالَ: لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، سَمِعَ مِنْ أَبِيهِ، وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص جانور سے بدکاری کرے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس آدمی کو جانور کے ساتھ وطی (جماع) کرتے ہوئے پاؤ تو اسے قتل کر دو اور (ساتھ میں) جانور کو بھی قتل کر دو ۔ عبداللہ بن عباس (رض) سے پوچھا گیا : جانور کو قتل کرنے کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس سلسلے میں کچھ نہیں سنا ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ جس جانور کے ساتھ یہ برا فعل کیا گیا ہو، اس کا گوشت کھانے اور اس سے فائدہ اٹھانے کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند سمجھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عمرو بن ابی عمرو کی حدیث کو جسے وہ بطریق : «عكرمة عن ابن عباس عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کرتے ہیں۔ ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٢٩ (٣٠٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٣ (٤٤٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) ، و مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠ (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی عاصم کی روایت جو ابن عباس سے موقوف ہے یہ زیادہ صحیح ہے عمرو بن ابی عمرو کی روایت سے جو اس سے پہلے مذکور ہوئی ہے۔ ٢ ؎ : یعنی ان کا عمل عاصم کی موقوف روایت پر ہے کہ جانور سے وطی کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (2564) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1455
حدیث نمبر: 1455 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ وَقَعَ عَلَى بَهِيمَةٍ فَاقْتُلُوهُ وَاقْتُلُوا الْبَهِيمَةَ ، فَقِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا شَأْنُ الْبَهِيمَةِ ؟ قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا، وَلَكِنْ: أَرَى رَسُولَ اللَّهِ كَرِهَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْ لَحْمِهَا، أَوْ يُنْتَفَعَ بِهَا، وَقَدْ عُمِلَ بِهَا ذَلِكَ الْعَمَلُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لواطت کی سزا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جسے قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرتے ہوئے پاؤ تو فاعل اور مفعول (بدفعلی کرنے اور کرانے والے) دونوں کو قتل کر دو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث بواسطہ ابن عباس (رض) نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند سے جانی جاتی ہے، محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عمرو بن ابی عمرو سے روایت کیا ہے، (لیکن اس میں ہے) آپ نے فرمایا : قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) کرنے والا ملعون ہے ، راوی نے اس حدیث میں قتل کا ذکر نہیں کیا، البتہ اس میں یہ بیان ہے کہ جانور سے وطی (جماع) کرنے والا ملعون ہے ، اور یہ حدیث بطریق : «عاصم بن عمر عن سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی گئی ہے۔ (اس میں ہے کہ) آپ نے فرمایا : فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ، ٢ - اس حدیث کی سند میں کلام ہے، ہم نہیں جانتے کہ اسے سہیل بن ابی صالح سے عاصم بن عمر العمری کے علاوہ کسی اور نے روایت کیا ہے اور عاصم بن عمر کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، ٣ - اس باب میں جابر اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اغلام بازی (بدفعلی) کرنے والے کی حد کے سلسلہ میں اہل علم کا اختلاف ہے، بعض کہتے ہیں : بدفعلی کرنے والا شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ اس کی سزا رجم ہے، مالک شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - فقہاء تابعین میں سے بعض اہل علم نے جن میں حسن بصری، ابراہیم نخعی اور عطا بن ابی رباح وغیرہ شامل ہیں کہتے ہیں : بدفعلی کرنے والے کی سزا زانی کی سزا کی طرح ہے، ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الحدود ٢٩ (٤٤٦٢) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٣ (٢٥٦١) (تحفة الأشراف : ٦١٧٦) ، و مسند احمد (١/٢٦٩، ٣٠٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس میں کوئی شک نہیں کہ اغلام بازی امور معصیت کے کاموں میں سے ہلاکت خیزی کے اعتبار سے سب سے خطرناک کام ہے اور فساد و بگاڑ کے اعتبار سے کفر کے بعد اسی کا درجہ ہے ، اس کی تباہ کاری بسا اوقات قتل کی تباہ کاریوں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے ، قوم لوط سے پہلے عالمی پیمانہ پر کوئی دوسری قوم اس فحش عمل میں ملوث نہیں پائی گئی تھی ، یہی وجہ ہے کہ یہ قوم مختلف قسم کے عذاب سے دوچار ہوئی ، چناچہ یہ اپنی رہائش گاہوں کے ساتھ پلٹ دی گئی اور زمین میں دھنسنے کے ساتھ آسمان سے نازل ہونے والے پتھروں کا شکار ہوئی ، اسی لیے جمہور علماء کا کہنا ہے کہ اس کی سزا زنا کی سزا سے کہیں سخت ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3561) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1456
حدیث نمبر: 1456 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ يَعْمَلُ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، فَاقْتُلُوا الْفَاعِلَ، وَالْمَفْعُولَ بِهِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنَّمَا يُعْرَفُ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، فَقَالَ: مَلْعُونٌ مَنْ عَمِلَ عَمَلَ قَوْمِ لُوطٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ الْقَتْلَ، وَذَكَرَ فِيهِ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى بَهِيمَةً، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اقْتُلُوا الْفَاعِلَ وَالْمَفْعُولَ بِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ فِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ، وَلَا نَعْرِفُ أَحَدًا رَوَاهُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيِّ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي حَدِّ اللُّوطِيِّ، فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِ الرَّجْمَ أَحْصَنَ أَوْ لَمْ يُحْصِنْ، وَهَذَا قَوْلُ مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، وَغَيْرُهُمْ قَالُوا: حَدُّ اللُّوطِيِّ حَدُّ الزَّانِي، وَهُوَ قَوْلُ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لواطت کی سزا
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے اپنی امت کے بارے میں جس چیز کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ قوم لوط کا عمل (اغلام بازی) ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - اور ہم اسے صرف اسی سند «عن عبد اللہ بن محمد بن عقيل بن أبي طالب عن جابر» سے ہی جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الحدود ١٢ (٢٥٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٦٧) (حسن ) قال الشيخ الألباني : حسن، ابن ماجة (2563) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1457
حدیث نمبر: 1457 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي عَمَلُ قَوْمِ لُوطٍ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ جَابِرٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرتد کی سزا
عکرمہ سے روایت ہے کہ علی (رض) نے کچھ ایسے لوگوں کو زندہ جلا دیا جو اسلام سے مرتد ہوگئے تھے، جب ابن عباس (رض) کو یہ بات معلوم ہوئی ١ ؎ تو انہوں نے کہا : اگر (علی (رض) کی جگہ) میں ہوتا تو انہیں قتل کرتا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : جو اپنے دین (اسلام) کو بدل ڈالے اسے قتل کرو ، اور میں انہیں جلاتا نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : اللہ کے عذاب خاص جیسا تم لوگ عذاب نہ دو ، پھر اس بات کی خبر علی (رض) کو ہوئی تو انہوں نے کہا : ابن عباس (رض) نے سچ کہا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث صحیح حسن ہے، ٢ - مرتد کے سلسلے میں اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٣ - جب عورت اسلام سے مرتد ہوجائے تو اس کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، اہل علم کی ایک جماعت کہتی ہے : اسے قتل کیا جائے گا، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - اور اہل علم کی دوسری جماعت کہتی ہے : اسے قتل نہیں بلکہ قید کیا جائے گا، سفیان ثوری اور ان کے علاوہ بعض اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٤٩ (٣٠١٧) ، والمرتدین ٢ (٦٩٢٢) ، سنن ابی داود/ الحدود ١ (٤٣٥١) ، سنن النسائی/المحاربة ١٤ (٤٠٦٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢ (٢٥٣٥) (تحفة الأشراف : ٥٩٨٧) ، و مسند احمد (١/٢٨٢، ٢٨٣، ٣٢٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن عباس (رض) علی (رض) کی جانب سے اس وقت بصرہ کے گورنر تھے۔ ٢ ؎ : جو شخص اسلام میں داخل ہوگیا اور اسے اچھی طرح پہچاننے کے بعد پھر اس سے مرتد ہوگیا تو اس کا کفر اسلام نہ لانے والے کافر سے بڑھ کر ہے ، اس لیے ایسے شخص کی سزا قتل ہے اور یہ سزا حدیث رسول «من بدل دينه فاقتلوه» کے مطابق سب کے لیے عام ہے خواہ مرد ہو یا عورت۔ «واللہ اعلم » قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2535) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1458
حدیث نمبر: 1458 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ عَلِيًّا حَرَّقَ قَوْمًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: لَوْ كُنْتُ أَنَا لَقَتَلْتُهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ ، وَلَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ، لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا، فَقَالَ: صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْمُرْتَدِّ، وَاخْتَلَفُوا فِي الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ عَنِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ: تُقْتَلُ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَالَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ: تُحْبَسُ، وَلَا تُقْتَلُ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৫৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں پر ہتھیار اٹھائے۔
ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو ہمارے خلاف ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے ١ ؎۔ اس باب میں ابن عمر، ابن زبیر، ابوہریرہ اور سلمہ بن الاکوع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ابوموسیٰ اشعری (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الفتن ٧ (٧٠٧١) ، صحیح مسلم/الإیمان ٤٢ (١٠٠) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ١٩ (٢٥٧٧) ، (تحفة الأشراف : ٠٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مسلمانوں کے خلاف ناحق ہتھیار اٹھانے والا اگر اسے حلال سمجھ کر ان سے صف آرا ہے تو اس کے کافر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں اور اگر اس کا یہ عمل کسی دنیاوی طمع و حرص کی بناء پر ہے تو اس کا شمار باغیوں میں سے ہوگا اور اس سے قتال جائز ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2575 - 2577) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1459
حدیث نمبر: 1459 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو السَّائِبِ سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ جَدِّهِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ حَمَلَ عَلَيْنَا السِّلَاحَ فَلَيْسَ مِنَّا ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى، حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جادوگر کی سزا
جندب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جادوگر کی سزا تلوار سے گردن مارنا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن سے بھی مروی ہے، اور صحیح یہ ہے کہ جندب سے موقوفاً مروی ہے۔ ٢ - ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ٣ - اسماعیل بن مسلم مکی اپنے حفظ کے تعلق سے حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں، اور اسماعیل بن مسلم جن کی نسبت عبدی اور بصریٰ ہے وکیع نے انہیں ثقہ کہا ہے۔ ٤ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ اور کچھ دوسرے لوگوں کا اسی پر عمل ہے، مالک بن انس کا یہی قول ہے، ٥ - شافعی کہتے ہیں : جب جادوگر کا جادو حد کفر تک پہنچے تو اسے قتل کیا جائے گا اور جب اس کا جادو حد کفر تک نہ پہنچے تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا قتل نہیں ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٣٢٦٩) (ضعیف) (سند میں ” اسماعیل بن مسلم “ ضعیف ہیں جیسا کہ مؤلف نے خود صراحت کر سنن الدارمی/ ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، الضعيفة (1446) ، المشکاة (3551 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (2699) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1460
حدیث نمبر: 1460 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَدُّ السَّاحِرِ ضَرْبَةٌ بِالسَّيْفِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا، إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ، يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَ وَكِيعٌ: هُوَ ثِقَةٌ، وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ أَيْضًا، وَالصَّحِيحُ عَنْ جُنْدَبٍ مَوْقُوفٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: إِنَّمَا يُقْتَلُ السَّاحِرُ إِذَا كَانَ يَعْمَلُ فِي سِحْرِهِ مَا يَبْلُغُ بِهِ الْكُفْرَ، فَإِذَا عَمِلَ عَمَلًا دُونَ الْكُفْرِ، فَلَمْ نَرَ عَلَيْهِ قَتْلًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪৬১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو شخص غنیمت کا مال چرانے والی کی سزا
عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص کو اللہ کی راہ میں مال (غنیمت) میں خیانت کرتے ہوئے پاؤ اس کا سامان جلا دو ۔ صالح کہتے ہیں : میں مسلمہ کے پاس گیا، ان کے ساتھ سالم بن عبداللہ تھے تو مسلمہ نے ایک ایسے آدمی کو پایا جس نے مال غنیمت میں خیانت کی تھی، چناچہ سالم نے (ان سے) یہ حدیث بیان کی، تو مسلمہ نے حکم دیا پھر اس (خائن) کا سامان جلا دیا گیا اور اس کے سامان میں ایک مصحف بھی پایا گیا تو سالم نے کہا : اسے بیچ دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : اسے صالح بن محمد بن زائدہ نے روایت کیا ہے، یہی ابو واقد لیثی ہے، یہ منکرالحدیث ہے، ٣ - بخاری کہتے ہیں کہ مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے دوسری احادیث بھی آئی ہیں، آپ نے ان میں اس (خائن) کے سامان جلانے کا حکم نہیں دیا ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اوزاعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الجہاد ١٤٥ (٢٧١٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٦٣) ، سنن الدارمی/السیر ٤٩ (٢٥٣٧) (ضعیف) (سند میں ” صالح بن محمد بن زائدہ “ ضعیف ہیں ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ضعيف أبي داود (468) // عندنا (580 / 2713) ، المشکاة (3633 / التحقيق الثاني) ، تحقيق المختارة (191 - 194) // ضعيف الجامع الصغير (5871) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1461
حدیث نمبر: 1461 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو السَّوَّاقُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَاحْرِقُوا مَتَاعَهُ ، قَالَ صَالِحٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى مَسْلَمَةَ، وَمَعَهُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، فَوَجَدَ رَجُلًا قَدْ غَلَّ، فَحَدَّثَ سَالِمٌ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَأَمَرَ بِهِ فَأُحْرِقَ مَتَاعُهُ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِهِ مُصْحَفٌ، فَقَالَ سَالِمٌ: بِعْ هَذَا وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا الْحَدِيثُ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ الْأَوْزَاعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّمَا رَوَى هَذَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ وَهُوَ: أَبُو وَاقِدٍ اللَّيْثِيُّ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَقَدْ رُوِيَ فِي غَيْرِ حَدِيثٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْغَالِّ، فَلَمْ يَأْمُرْ فِيهِ بِحَرْقِ مَتَاعِهِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক: