আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
دیت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮ টি
হাদীস নং: ১৪০৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کے ولی کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے ورنہ معاف کردے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ جب اللہ نے اپنے رسول کے لیے مکہ کو فتح کردیا تو آپ ﷺ نے لوگوں میں کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا : جس کا کوئی شخص مارا گیا ہو اسے دو باتوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے : یا تو معاف کر دے یا (قصاص میں) اسے قتل کرے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے (کماسیأتی) ، ٢ - اس باب میں وائل بن حجر، انس، ابوشریح اور خویلد بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١٢) ، واللقطة ٧ (٢٤٣٤) ، والدیات ٨ (٦٨٨٠) ، صحیح مسلم/الحج ٨٢ (١٣٥٥) ، سنن ابی داود/ الدیات ٤ (٤٥٠٥) ، سنن النسائی/القسامة ٣٠ (٤٧٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣ (٢٦٢٤) ، ویأتي في العلم برقم ٢٦٦٧، (تحفة الأشراف : ١٥٣٨٣) ، و مسند احمد (٢/٢٣٨) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2624) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1405
حدیث نمبر: 1405 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، وَيَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَكَّةَ قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ إِمَّا أَنْ يَعْفُوَ، وَإِمَّا أَنْ يَقْتُلَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي شُرَيْحٍ خُوَيْلِدِ بْنِ عَمْرٍو.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کے ولی کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے ورنہ معاف کردے
ابوشریح کعبی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مکہ کو اللہ نے حرمت والا (محترم) بنایا ہے، لوگوں نے اسے نہیں بنایا، پس جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ اس میں خونریزی نہ کرے، نہ اس کا درخت کاٹے، (اب) اگر کوئی (خونریزی کے لیے) اس دلیل سے رخصت نکالے کہ مکہ رسول اللہ ﷺ کے لیے حلال کیا گیا تھا (تو اس کا یہ استدلال باطل ہے) اس لیے کہ اللہ نے اسے میرے لیے حلال کیا تھا لوگوں کے لیے نہیں، اور میرے لیے بھی دن کے ایک خاص وقت میں حلال کیا گیا تھا، پھر وہ تاقیامت حرام ہے ؟ اے خزاعہ والو ! تم نے ہذیل کے اس آدمی کو قتل کیا ہے، میں اس کی دیت ادا کرنے والا ہوں، (سن لو) آج کے بعد جس کا بھی کوئی آدمی مارا جائے گا تو مقتول کے ورثاء کو دو چیزوں میں سے کسی ایک کا اختیار ہوگا : یا تو وہ (اس کے بدلے) اسے قتل کردیں، یا اس سے دیت لے لیں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابوہریرہ (رض) کی حدیث بھی حسن صحیح ہے، ٢ - اسے شیبان نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی کے مثل روایت کیا ہے، ٣ - اور یہ (حدیث بنام ابوشریح کعبی کی جگہ بنام) ابوشریح خزاعی بھی روایت کی گئی ہے۔ (اور یہ دونوں ایک ہی ہیں) اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا : جس کا کوئی آدمی مارا جائے تو اسے اختیار ہے یا تو وہ اس کے بدلے اسے قتل کر دے، یا معاف کر دے، یا دیت وصول کرے ، ٤ - بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم ٨٠٩ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2220) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1406
حدیث نمبر: 1406 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْكَعْبِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَسْفِكَنَّ فِيهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَنَّ فِيهَا شَجَرًا، فَإِنْ تَرَخَّصَ مُتَرَخِّصٌ ، فَقَالَ: أُحِلَّتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ أَحَلَّهَا لِي، وَلَمْ يُحِلَّهَا لِلنَّاسِ، وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ إِنَّكُمْ مَعْشَرَ خُزَاعَةَ قَتَلْتُمْ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ هُذَيْلٍ، وَإِنِّي عَاقِلُهُ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَهْلُهُ بَيْنَ خِيرَتَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَقْتُلُوا، أَوْ يَأْخُذُوا الْعَقْلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ أَيْضًا، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ مِثْلَ هَذَا، وَرُوِي عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَلَهُ أَنْ يَقْتُلَ، أَوْ يَعْفُوَ، أَوْ يَأْخُذَ الدِّيَةَ . وَذَهَبَ إِلَى هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مقتول کے ولی کو اختیار ہے چاہے تو قصاص لے ورنہ معاف کردے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی قتل کردیا گیا، تو قاتل مقتول کے ولی (وارث) کے سپرد کردیا گیا، قاتل نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں نے اسے قصداً قتل نہیں کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : خبردار ! اگر وہ (قاتل) اپنے قول میں سچا ہے پھر بھی تم نے اسے قتل کردیا تو تم جہنم میں جاؤ گے ١ ؎، چناچہ مقتول کے ولی نے اسے چھوڑ دیا، وہ آدمی رسی سے بندھا ہوا تھا، تو وہ رسی گھسیٹتا ہوا باہر نکلا، اس لیے اس کا نام ذوالنسعہ (رسی یا تسمے والا) رکھ دیا گیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور «نسعہ» : رسی کو کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الدیات ٣ (٤٤٩٨) ، سنن النسائی/القسامة ٥ (٤٧٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٣٤ (٢٦٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٥٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کیونکہ قاتل اپنے دعویٰ میں اگر سچا ہے تو اسے قتل کردینے کی صورت میں ولی کے گناہ گار ہونے کا خدشہ ہے ، اس لیے اس کا نہ قتل کرنا زیادہ مناسب ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2690) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1407
حدیث نمبر: 1407 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدُفِعَ الْقَاتِلُ إِلَى وَلِيِّهِ، فَقَالَ الْقَاتِلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا أَرَدْتُ قَتْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَا إِنَّهُ إِنْ كَانَ قَوْلُهُ صَادِقًا فَقَتَلْتَهُ دَخَلْتَ النَّارَ ، فَخَلَّى عَنْهُ الرَّجُلُ، قَالَ: وَكَانَ مَكْتُوفًا بِنِسْعَةٍ، قَالَ: فَخَرَجَ يَجُرُّ نِسْعَتَهُ، قَالَ: فَكَانَ يُسَمَّى: ذَا النِّسْعَةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالنِّسْعَةُ حَبْلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مثلہ کی ممانعت
بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کسی لشکر پر امیر مقرر کر کے بھیجتے تو خاص طور سے اسے اپنے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی وصیت فرماتے، اور جو مسلمان اس کے ساتھ ہوتے انہیں بھلائی کی وصیت کرتے، چناچہ آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے اس کے راستے میں جہاد کرو، جو کفر کرے اس سے لڑو، جہاد کرو، مگر مال غنیمت میں خیانت نہ کرو، بدعہدی نہ کرو، مثلہ ١ ؎ نہ کرو اور نہ کسی بچے کو قتل کرو ، حدیث میں کچھ تفصیل ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - بریدہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن مسعود، شداد بن اوس، عمران بن حصین، انس، سمرہ، مغیرہ، یعلیٰ بن مرہ اور ابوایوب سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم نے مثلہ کو حرام کہا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجہاد ٢ (١٧٢١) ، سنن ابی داود/ الجہاد ٩٠ (٢٦١٢) ، سنن ابن ماجہ/الجہاد ٣٨ (٢٨٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٩٢٩) ، و مسند احمد (٥/٣٥٢، ٣٥٨) ، وسنن الدارمی/السیر (٢٤٨٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مردہ کے ناک ، کان وغیرہ کاٹ کر صورت بگاڑ دینے کو مثلہ کہتے ہیں۔ ٢ ؎؎ : پوری حدیث صحیح مسلم میں مذکورہ باب میں ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2858) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1408
حدیث نمبر: 1408 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، فَقَالَ: اغْزُوا بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا ، وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَشَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَنَسٍ، وَسَمُرَةَ، وَالْمُغِيرَةِ، وَيَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، وَأَبِي أَيُّوبَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُرَيْدَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَكَرِهَ أَهْلُ الْعِلْمِ الْمُثْلَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪০৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مثلہ کی ممانعت
شداد بن اوس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بیشک اللہ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، لہٰذا جب تم قتل ١ ؎ کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، تمہارے ہر آدمی کو چاہیئے کہ اپنی چھری تیز کرلے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصید ١١ (١٩٥٥) ، سنن ابی داود/ الضحایا ١٢ (٢٨١٥) ، سنن النسائی/الضحایا ٢٢ (٤٤١٠) ، و ٢٧ (٤٤١٩) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ٣ (٣١٧٠) ، (تحفة الأشراف : ٨٤١٧) ، و مسند احمد (٤/١٢٣، ١٢٤، ١٢٥) ، و سنن الدارمی/الأضاحي ١٠ (٢٠١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : انسان کو ہر چیز کے ساتھ رحم دل ہونا چاہیئے ، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے نہ صرف انسانوں کے ساتھ بلکہ جانوروں کے ساتھ بھی احسان اور رحم دلی کی تعلیم دی ہے ، رسول اللہ ﷺ نے اس حدیث میں جو کچھ فرمایا اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم جب کسی شخص کو بطور قصاص قتل کرو تو قتل کے لیے ایسا طریقہ اپناؤ جو آسان ہو اور سب سے کم تکلیف کا باعث ہو ، اسی طرح جب کوئی جانور ذبح کرو تو اس کے ساتھ بھی احسان کرو یعنی ذبح سے پہلے چھری خوب تیز کرلو ، بہتر ہوگا کہ چھری تیز کرنے کا عمل جانور کے سامنے نہ ہو اور نہ ہی ایک جانور دوسرے جانور کے سامنے ذبح کیا جائے ، اسی طرح اس کی کھال اس وقت اتاری جائے جب وہ ٹھنڈا پڑجائے۔ ٢ ؎ : حدیث میں قتل سے مراد موذی جانور کا قتل ہے یا بطور قصاص کسی قاتل کو قتل کرنا اور میدان جنگ میں دشمن کو قتل کرنا ہے ، ان تمام صورتوں میں قتل کی اجازت ہے ، لیکن دشمنی کے جذبات میں ایذا دیدے کر مارنے کی اجازت نہیں ہے ، جیسے اسلام سے پہلے مثلہ کیا جاتا تھا ، پہلے ہاتھ کاٹتے پھر پیر پھر ناک پھر کان وغیرہ ، اسلام نے اس سے منع فرما دیا اور کہا کہ تلوار کے ایک وار سے سر تن سے جدا کرو تاکہ کم سے کم تکلیف ہو۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (3170) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1409
حدیث نمبر: 1409 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ: شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ضائع کردینے کی دیت
مغیرہ بن شعبہ (رض) کہتے ہیں کہ دو عورتیں سوکن تھیں، ان میں سے ایک نے دوسری کو پتھر یا خیمے کی میخ (گھونٹی) سے مارا، تو اس کا حمل ساقط ہوگیا، رسول اللہ ﷺ نے اس حمل کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ فرمایا اور دیت کی ادائیگی اس عورت کے عصبہ کے ذمہ ٹھہرائی ١ ؎۔ حسن بصری کہتے ہیں : زید بن حباب نے سفیان ثوری سے روایت کی، اور سفیان ثوری نے منصور سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ٢٥ (٦٩٠٤ - ٦٩٠٨) ، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ، ١١ (١٦٨٢) ، سنن ابی داود/ الدیات ٢١ (٤٥٦٨) ، سنن النسائی/القسامة ٣٩ (٤٨٢٥) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٧ (٢٦٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٥١٠) ، و مسند احمد (٤/٢٢٤، ٢٤٥، ٢٤٦، ٢٤٩) ، و سنن الدارمی/الدیات ٢٠ (٢٤٢٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث قتل کی دوسری قسم شبہ عمد کے سلسلہ میں اصل ہے ، شبہ عمد : وہ قتل ہے جس میں قتل کے لیے ایسی چیزوں کا استعمال ہوتا ہے جن سے عموماً قتل واقع نہیں ہوتا جیسے : لاٹھی اور اسی جیسی دوسری چیزیں ، اس میں دیت مغلظہ لی جاتی ہے ، یہ سو اونٹ ہے ، ان میں چالیس حاملہ اونٹنیاں ہوں گی ، اس دیت کی ذمہ داری قاتل کے عصبہ پر ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو باپ کی جہت سے قاتل کے قریبی یا دور کے رشتہ دار ہیں ، خواہ اس کے وارثین میں سے نہ ہوں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2206) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1411
حدیث نمبر: 1411 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا ضَرَّتَيْنِ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ، أَوْ عَمُودِ فُسْطَاطٍ، فَأَلْقَتْ جَنِينَهَا فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ غُرَّةٌ عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَصَبَةِ الْمَرْأَةِ . قَالَالْحَسَنُ، وَأَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، بِهَذَا الْحَدِيثِ نَحْوَهُ، وقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حمل ضائع کردینے کی دیت
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «جنين» (حمل) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی (دینے) کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا تھا وہ کہنے لگا : کیا ایسے کی دیت دی جائے گی، جس نے نہ کچھ کھایا نہ پیا، نہ چیخا، نہ آواز نکالی، اس طرح کا خون تو ضائع اور باطل ہوجاتا ہے، (یہ سن کر) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ شاعروں والی بات کر رہا ہے ١ ؎، «جنين» (حمل گرا دینے) کی دیت میں «غرة» یعنی غلام یا لونڈی دینا ہے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں حمل بن مالک بن نابغہ اور مغیرہ بن شعبہ سے احادیث آئی ہیں، ٣ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ٤ - غرہ کی تفسیر بعض اہل علم نے، غلام، لونڈی یا پانچ سو درہم سے کی ہے، ٥ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں : «غرة» سے مراد گھوڑا یا خچر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الطب ٤٦ (٥٧٥٨) ، والفرائض ١١ (٥٧٥٩) ، والدیات ٢٥ (٦٩٠٤) ، و ١٠ ٦٩٠٩، ٦٩١٠) ، صحیح مسلم/القسامة ١١ (١٦٨١) ، سنن ابی داود/ الدیات ٢١ (٤٥٧٦) ، القسامة ٣٩ (٤٨٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١١ (٢٦٣٩) ، (تحفة الأشراف : ٥١٠٦) ، و موطا امام مالک/العقول ٧ (٥) ، و مسند احمد (٢/٢٣٦، ٢٧٤، ٤٣٨، ٤٩٨، ٥٣٥، ٥٣٩) ، وانظر ما یأتي برقم : ٢١١١ (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : چونکہ اس آدمی نے ایک شرعی حکم کو رد کرنے اور باطل کو ثابت کرنے کے لیے بتکلف قافیہ دار اور مسجع بات کہی ، اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کی مذمت کی ، اگر مسجع کلام سے مقصود یہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ، رسول اللہ ﷺ کا بعض کلام مسجع ملتا ہے ، یہ اور بات ہے کہ ایسا آپ کی زبان مبارک سے اتفاقاً بلاقصد و ارادہ نکلا ہے۔ ٢ ؎ : یہ اس صورت میں ہوگا جب بچہ پیٹ سے مردہ نکلے اور اگر زندہ پیدا ہو پھر پیٹ میں پہنچنے والی مار کے اثر سے وہ مرجائے تو اس میں دیت یا قصاص واجب ہوگا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2639) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1410
حدیث نمبر: 1410 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَنِينِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ، فَقَالَ الَّذِي قُضِيَ عَلَيْهِ، أَيُعْطَى مَنْ لَا شَرِبَ، وَلَا أَكَلَ، وَلَا صَاحَ، فَاسْتَهَلَّ، فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ هَذَا لَيَقُولُ بِقَوْلِ شَاعِرٍ: بَلْ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ، أَوْ أَمَةٌ . وَفِي الْبَاب، عَنْ حَمَلِ بْنِ مَالِكِ بْنِ النَّابِغَةِ، وَالْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: الْغُرَّةُ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ، أَوْ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوْ فَرَسٌ أَوْ بَغْلٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے
ابوجحیفہ کہتے ہیں کہ میں نے علی (رض) سے پوچھا کیا ١ ؎: امیر المؤمنین ! کیا آپ کے پاس کاغذ میں لکھی ہوئی کوئی ایسی تحریر ہے جو قرآن میں نہیں ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جان کو پیدا کیا ! میں سوائے اس فہم و بصیرت کے جسے اللہ تعالیٰ قرآن کے سلسلہ میں آدمی کو نوازتا ہے اور اس صحیفہ میں موجود چیز کے کچھ نہیں جانتا، میں نے پوچھا : صحیفہ میں کیا ہے ؟ کہا : اس میں دیت، قید یوں کے آزاد کرنے کا ذکر اور آپ کا یہ فرمان ہے : مومن کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - علی (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی روایت ہے، ٣ - بعض اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، سفیان ثوری، مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں : مومن کافر کے بدلے نہیں قتل کیا جائے گا، ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں : ذمی کے بدلے بطور قصاص مسلمان کو قتل کیا جائے گا، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العلم ٣٩ (١١١) ، والجہاد ١٧١ (٣٠٤٧) ، والدیات ٢٤ (٦٩٠٣) ، و ٣١ (٦٩١٥) ، سنن النسائی/القسامة ١٣، ١٤ (٤٧٤٨) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢١ (٢٦٥٨) ، (تحفة الأشراف : ١٠٣١١) ، و مسند احمد (١/٧٩) ، وسنن الدارمی/الدیات ٥ (٢٤٠١) (وانظر ما یأتي برقم ٢١٢٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : علی (رض) سے ابوجحیفہ کے سوال کرنے کی وجہ سے بعض شیعہ کہتے ہیں کہ اہل بیت بالخصوص علی (رض) کے پاس نبی اکرم ﷺ کی بتائی ہوئی کچھ ایسی باتیں ہیں جو دوسروں کو معلوم نہیں ، کچھ اسی طرح کا سوال علی (رض) سے قیس بن عبادہ اور اشتر نخعی نے بھی کیا تھا ، اس کا ذکر سنن نسائی میں ہے۔ ٢ ؎ : رسول اللہ ﷺ کا یہ حکم عام ہے ہر کافر کے لیے خواہ حربی ہو یا ذمی ، لہٰذا مومن کافر کے بدلے قصاصاً قتل نہیں کیا جائے گا ، ایک حدیث میں یہ آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ذمی کے بدلے ایک مسلمان کے قتل کا حکم دیا ، لیکن یہ حدیث ضعیف ہے ، اس کا صحیح ہونا اگر ثابت بھی ہوجائے تو یہ منسوخ ہوگی اور «لايقتل مسلم بکافر» والی روایت اس کے لیے ناسخ ہوگی ، کیونکہ آپ کا یہ فرمان فتح مکہ کے سال کا ہے جب کہ ذمی والی روایت اس سے پہلے کی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2658) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1412
حدیث نمبر: 1412 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَنَا مُطَرِّفٌ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو جُحَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَلِيٍّ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ عِنْدَكُمْ سَوْدَاءُ فِي بَيْضَاءَ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ، قَالَ: لَا، وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، مَا عَلِمْتُهُ إِلَّا فَهْمًا يُعْطِيهِ اللَّهُ رَجُلًا فِي الْقُرْآنِ وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ، قُلْتُ: وَمَا فِي الصَّحِيفَةِ ؟ قَالَ: الْعَقْلُ، وَفِكَاكُ الْأَسِيرِ، وَأَنْ لَا يُقْتَلَ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَمَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: يُقْتَلُ الْمُسْلِمُ بِالْمُعَاهِدِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کافر کے بدلے میں قتل نہ کیا جائے
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مسلمان کافر کے بدلے قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا ، اور اسی سند سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کافر کی دیت مومن کی دیت کا نصف ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو (رض) کی حدیث حسن ہے، ٢ - یہودی اور نصرانی کی دیت میں اہل علم کا اختلاف ہے، یہودی اور نصرانی کی دیت کی بابت بعض اہل علم کا مسلک نبی اکرم ﷺ سے مروی حدیث کے موافق ہے، ٣ - عمر بن عبدالعزیز کہتے ہیں : یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمان کی دیت کا نصف ہے، احمد بن حنبل اسی کے قائل ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٨٦٦١) (صحیح) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (2659) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1413 عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ یہودی اور نصرانی کی دیت چار ہزار درہم اور مجوسی کی آٹھ سو درہم ہے۔ ( امام ترمذی کہتے ہیں :) ١ - مالک بن انس، شافعی اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں، ٢ - بعض اہل علم کہتے ہیں : یہودی اور نصرانی کی دیت مسلمانوں کی دیت کے برابر ہے، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/القسامة ٣٧ (٤٨١٠) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٣ (٢٦٤٤) ، (تحفة الأشراف :) ، و مسند احمد (٢/١٨٣، ٢٢٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : حسن صحيح، ابن ماجة (2659) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1413
حدیث نمبر: 1413 حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ أَحْمَدَ، وحَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ ، وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دِيَةُ عَقْلِ الْكَافِرِ، نِصْفُ دِيَةِ عَقْلِ الْمُؤْمِنِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ، فَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي دِيَةِ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ إِلَى مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ، نِصْفُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ، وَبِهَذَا يَقُولُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ. وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ: أَرْبَعَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ، وَدِيَةُ الْمَجُوسِيِّ: ثَمَانُ مِائَةِ دِرْهَمٍ، وَبِهَذَا يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيُّ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: دِيَةُ الْيَهُودِيِّ، وَالنَّصْرَانِيِّ، مِثْلُ دِيَةِ الْمُسْلِمِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৪
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اپنے غلام کو قتل کردے
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنے غلام کو قتل کرے گا ہم بھی اسے قتل کردیں گے اور جو اپنے غلام کا کان، ناک کاٹے گا ہم بھی اس کا کان، ناک کاٹیں گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - تابعین میں سے بعض اہل علم کا یہی مسلک ہے، ابراہیم نخعی اسی کے قائل ہیں، ٣ - بعض اہل علم مثلاً حسن بصری اور عطا بن ابی رباح وغیرہ کہتے ہیں : آزاد اور غلام کے درمیان قصاص نہیں ہے، (نہ قتل کرنے میں، نہ ہی قتل سے کم زخم پہنچانے) میں، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٤ - بعض اہل علم کہتے ہیں : اگر کوئی اپنے غلام کو قتل کر دے تو اس کے بدلے اسے قتل نہیں کیا جائے گا، اور جب دوسرے کے غلام کو قتل کرے گا تو اسے اس کے بدلے میں قتل کیا جائے گا، سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا یہی قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الدیات ٧ (٤٥١٥) ، سنن النسائی/القسامة ١٠ (٤٧٥١) ، و ١١ (٤٧٥٢) ، و ١٧ (٤٧٦٧) ، و ١٧ (٤٧٦٨) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٣ (٢٦٦٣) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٨٦) ، و مسند احمد (٥/١٠، ١١، ١٢، ١٨) (ضعیف) (قتادہ اور حسن بصری دونوں مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے ہے، نیز حدیث عقیقہ کے سوا دیگر احادیث کے حسن کے سمرہ سے سماع میں سخت اختلاف ہے ) قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (2663) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1414
حدیث نمبر: 1414 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ قَتَلَ عَبْدَهُ قَتَلْنَاهُ، وَمَنْ جَدَعَ عَبْدَهُ جَدَعْنَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ، مِنْهُمْ إِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ إِلَى هَذَا، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، وَعَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ: لَيْسَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ قِصَاصٌ فِي النَّفْسِ، وَلَا فِيمَا دُونَ النَّفْسِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا قَتَلَ عَبْدَهُ لَا يُقْتَلُ بِهِ، وَإِذَا قَتَلَ عَبْدَ غَيْرِهِ قُتِلَ بِهِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৫
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے ترکہ ملے گا
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر (رض) کہتے تھے : دیت کی ادائیگی عاقلہ ١ ؎ پر ہے، اور بیوی اپنے شوہر کی دیت سے میراث میں کچھ نہیں پائے گی، یہاں تک کہ ان کو ضحاک بن سفیان کلابی نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں ایک فرمان لکھا تھا : اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت سے میراث دو ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الفرائض ١٨ (٢٩٢٧) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ١٢ (٢٦٤٢) ، (تحفة الأشراف : ٤٩٧٣) ، و مسند احمد (٣/٤٥٢) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ سعید بن المسیب کے عمر (رض) سے سماع میں اختلاف ہے، ملاحظہ ہو صحیح ابی داود رقم : ٢٥٩٩ ) وضاحت : ١ ؎ : دیت کے باب میں «عقل» ، «عقول» اور «عاقلہ» کا ذکر اکثر آتا ہے اس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے : عقل دیت کا ہم معنی ہے ، اس کی اصل یہ ہے کہ قاتل جب کسی کو قتل کرتا تو دیت کی ادائیگی کے لیے اونٹوں کو جمع کرتا ، پھر انہیں مقتول کے اولیاء کے گھر کے سامنے رسیوں میں باندھ دیتا ، اسی لیے دیت کا نام «عقل» پڑگیا ، اس کی جمع «عقول» آتی ہے ، اور «عاقلہ» باپ کی جہت سے قاتل کے وہ قریبی لوگ ہیں جو قتل خطا کی صورت میں دیت کی ادائیگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ ٢ ؎ : سنن ابوداؤد کی روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ پھر عمر (رض) نے اپنے اس قول بیوی شوہر کی دیت سے میراث نہیں پائے گی سے رجوع کرلیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2642 ) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1415
حدیث نمبر: 1415 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَأَبُو عَمَّارٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ: الدِّيَةُ عَلَى الْعَاقِلَةِ، وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا، حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ وَرِّثْ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৬
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قصاص کے بارے میں
عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ کھایا، اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو دانت کاٹنے والے کے دونوں اگلے دانت ٹوٹ گئے، وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس اپنا معاملہ لے گئے تو آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو اونٹ کے کاٹنے کی طرح کاٹ کھاتا ہے، تمہارے لیے کوئی دیت نہیں، پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی : «والجروح قصاص» ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عمران بن حصین (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں یعلیٰ بن امیہ اور سلمہ بن امیہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں اور یہ دونوں بھائی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الدیات ١٨ (٦٨٩٢) ، صحیح مسلم/القسامة (الحدود) ٤ (١٦٧٣) ، سنن النسائی/القسامة ١٨ (٤٧٦٢-٤٧٦٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٠ (٢٦٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٢٣) ، و مسند احمد (٤/٤٢٧، ٤٣٠، ٤٣٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی : زخموں کا بھی بدلہ ہے۔ (المائدہ : ٤٥ ) ، لہٰذا جن میں قصاص لینا ممکن ہے ان میں قصاص لیا جائے گا اور جن میں ممکن نہیں ان میں قاضی اپنے اجتہاد سے کام لے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1416
حدیث نمبر: 1416 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَال: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّثُ، عَنْعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَنَزَعَ يَدَهُ، فَوَقَعَتْ ثَنِيَّتَاهُ، فَاخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَعَضُّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، كَمَا يَعَضُّ الْفَحْلُ، لَا دِيَةَ لَكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ سورة المائدة آية 45. قَالَ: وَفِي الْبَاب: عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، وَسَلَمَةَ بْنِ أُمَيَّةَ وَهُمَا أَخَوَانِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৭
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تہمت میں قید کرنا
معاویہ بن حیدہ قشیری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی کو تہمت ١ ؎ کی بنا پر قید کیا، پھر (الزام ثابت نہ ہونے پر) اس کو رہا کردیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس باب میں ابوہریرہ (رض) سے بھی روایت ہے، ٢ - بہز بن حکیم بن معاویہ بن حیدۃ قشیری کی حدیث جسے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں، حسن ہے، ٣ - اسماعیل بن ابراہیم ابن علیہ نے بہز بن حکیم سے یہ حدیث اس سے زیادہ مکمل اور مطول روایت کی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأقضیة ٢٩ (٣٦٣٠) ، سنن النسائی/قطع السارق ٢ (٤٨٩٠) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٨٢) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : اس تہمت اور الزام کے کئی سبب ہوسکتے ہیں : اس نے جھوٹی گواہی دی ہوگی ، یا اس کے خلاف کسی نے اس کے مجرم ہونے کا دعویٰ پیش کیا ہوگا ، یا اس کے ذمہ کسی کا قرض باقی ہوگا ، پھر اس کا جرم ثابت نہ ہونے پر اسے رہا کردیا گیا ہوگا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جرم ثابت ہونے سے قبل قید و بند کرنا ایک شرعی امر ہے۔ ٢ ؎ : پوری حدیث کے لیے دیکھئیے سنن ابی داود حوالہ مذکور۔ قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (3785) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1417
حدیث نمبر: 1417 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَبَسَ رَجُلًا فِي تُهْمَةٍ، ثُمَّ خَلَّى عَنْهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بَهْزٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ، هَذَا الْحَدِيثَ أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৮
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔
سعید بن زید (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ١ ؎ اور جس نے ایک بالشت بھی زمین چرائی قیامت کے دن اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث میں حاتم بن سیاہ مروزی نے اضافہ کیا ہے، معمر کہتے ہیں : زہری سے مجھے حدیث پہنچی ہے، لیکن میں نے ان سے نہیں سنا کہ انہوں نے اس حدیث یعنی «من قتل دون ماله فهو شهيد» جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے میں کچھ اضافہ کیا ہو، اسی طرح شعیب بن ابوحمزہ نے یہ حدیث بطریق : «الزهري عن طلحة بن عبد اللہ عن عبدالرحمٰن بن عمرو بن سهل عن سعيد بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، نیز سفیان بن عیینہ نے بطریق : «الزهري عن طلحة بن عبد اللہ عن سعيد بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے، اس میں سفیان نے عبدالرحمٰن بن عمرو بن سہل کا ذکر نہیں کیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ السنة ٣٢ (٤٧٧٢) ، سنن النسائی/المحاربة ٢٢ (٤٠٩٥) ، سنن ابن ماجہ/الحدود ٢١ (٢٥٨٠) ، (تحفة الأشراف : ٤٤٦١) ، و مسند احمد (١/١٨٧، ١٨٨، ١٨٩، ١٩٠) ویأتي برقم : ١٤٢١ (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اپنی جان ، مال ، اہل و عیال اور عزت و ناموس کی حفاظت اور دفاع ایک شرعی امر ہے ، ایسا کرتے ہوئے اگر کسی کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے تو اسے شہادت کا درجہ نصیب ہوگا ، لیکن یہ شہید میدان جہاد کے شہید کے مثل نہیں ہے ، اسے غسل دیا جائے گا ، اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی اور اسے کفن بھی دیا جائے گا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (4580) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1418
حدیث نمبر: 1418 حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، وَحَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْالزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ سَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، وَزَادَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ مَعْمَرٌ: بَلَغَنِي عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْهُ، زَادَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، ، وَهَكَذَا رَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَهْلٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৯
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔
عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جائے وہ شہید ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - عبداللہ بن عمرو (رض) کی حدیث حسن ہے، یہ دوسری سندوں سے بھی ان سے مروی ہے ٢ - بعض اہل علم نے آدمی کو اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے دفاع کی اجازت دی ہے، ٣ - اس باب میں علی، سعید بن زید، ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور جابر (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں : آدمی اپنے مال کی حفاظت کے لیے دفاع کرے خواہ اس کا مال دو درہم ہی کیوں نہ ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ٣٣ (٢٤٨٠) ، صحیح مسلم/الإیمان ٦٢ (٢٢٥) ، سنن ابی داود/ السنة ٣٢ (٤٧٧١) ، سنن النسائی/المحاربة ٢٢ (٤٠٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٨٦٠٣) ، و مسند احمد (٢/١٦٣، ١٩٣، ١٩٤، ٢٠٥، ٢٠٦، ٢١٠، ٢١٥، ٢١٧، ٢٢١، ٢٢٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی کسی دوسرے شخص کا ناحق مال لینا چاہتا ہے تو یہ دیکھے بغیر کہ مال کم ہے یا زیادہ مظلوم کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنے مال کی حفاظت کے لیے اس کا دفاع کرے ، دفاع کرتے وقت غاصب اگر مارا جائے تو دفاع کرنے والے پر قصاص اور دیت میں سے کچھ بھی نہیں ہے اور اگر دفاع کرنے والا مارا جائے تو وہ شہید ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح الأحكام (41) ، الإرواء (1528) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1419
حدیث نمبر: 1419 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ، عَنْإِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ عَنْ نَفْسِهِ وَمَالِهِ، وقَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يُقَاتِلُ عَنْ مَالِهِ وَلَوْ دِرْهَمَيْنِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২০
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔
عبداللہ بن عمرو (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس آدمی کا مال ناحق چھینا جائے اور وہ اس کی حفاظت کے لیے دفاع کرتا ہوا مارا جائے تو وہ شہید ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1420 حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْكُوفِيُّ شَيْخٌ ثِقَةٌ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ سُفْيَانُ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، قَال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২১
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اپنے مال کی حفاظت میں مرنے والا شہید ہے۔
سعید بن زید (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو اپنے مال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنے دین کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے، جو اپنی جان کی حفاظت کی خاطر مارا جائے وہ شہید ہے اور جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتے ہوئے قتل کیا جائے وہ شہید ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابراہیم بن سعد سے کئی راویوں نے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : ١٤١٨ (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح الأحكام (42) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1421
حدیث نمبر: 1421 حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دِينِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ، وَمَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ نَحْوَ هَذَا، وَيَعْقُوبُ هُوَ: ابْنُ إبرَاهِيمَ بنِ سَعْدِ بنِ إبرَاهِيمَ بنِ عَبدِ الرحمنِ بنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪২২
دیت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسامت کے بارے میں
سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید (رض) کہیں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوئے، جب وہ خیبر پہنچے تو الگ الگ راستوں پر ہوگئے، پھر محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا، کسی نے ان کو قتل کردیا تھا، آپ نے انہیں دفنا دیا، پھر وہ (یعنی راوی حدیث) حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمٰن بن سہل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمٰن بن سہل ان میں سب سے چھوٹے تھے، وہ اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے (اس معاملہ میں آپ سے) گفتگو کرنا چاہتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا : بڑے کا لحاظ کرو، لہٰذا وہ خاموش ہوگئے اور ان کے دونوں ساتھیوں نے گفتگو کی، پھر وہ بھی ان دونوں کے ساتھ شریک گفتگو ہوگئے، ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا، آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم لوگ پچاس قسمیں کھاؤ گے (کہ فلاں نے اس کو قتل کیا ہے) تاکہ تم اپنے ساتھی کے خون بہا کے مستحق ہوجاؤ (یا کہا) قاتل کے خون کے مستحق ہوجاؤ؟ ان لوگوں نے عرض کیا : ہم قسم کیسے کھائیں جب کہ ہم حاضر نہیں تھے ؟ آپ نے فرمایا : تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تم سے بری ہوجائیں گے ، ان لوگوں نے کہا : ہم کافر قوم کی قسم کیسے قبول کرلیں ؟ پھر رسول اللہ ﷺ نے جب یہ معاملہ دیکھا تو ان کی دیت ١ ؎ خود ادا کردی۔ اس سند سے بھی سہل بن ابو حثمہ اور رافع بن خدیج سے اسی طرح اسی معنی کی حدیث مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1422 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَاكَ، ثُمَّ إِنَّ مُحَيِّصَةَ وَجَدَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا قَدْ قُتِلَ فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَبِّرْ لِلْكُبْرِ ، فَصَمَتَ وَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ: أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ، أَوْ قَاتِلَكُمْ ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ، قَالَ: فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ.
তাহকীক: