আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
فیصلوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬৪ টি
হাদীস নং: ১৩৪২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدعی کے لئے گواہ اور مدعی علیہ پر قسم ہے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ قسم مدعی علیہ پر ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ پر ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرہن ٦ (٢٥١٤) ، والشہادات ٢٠ (٢٦٦٨) ، وتفسیر سورة آل عمران ٣ (٤٥٥٢) ، صحیح مسلم/الأقضیة ١ (١٧١١) ، سنن ابی داود/ الأقضیة ٢٣ (٣٦١٩) ، سنن النسائی/القضاة ٣٦ (٥٤٤٠) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٧ (٢٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ٥٧٩٢) ، و مسند احمد (١/٢٠٣، ٢٨٨، ٣٤٣، ٣٥١، ٣٥٦، ٣٦٣) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (2641) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1342
حدیث نمبر: 1342 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: أَنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي وَالْيَمِينَ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک گواہ ہو تو مدعی قسم کھائے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا۔ ربیعہ کہتے ہیں : مجھے سعد بن عبادہ کے بیٹے نے خبر دی کہ ہم نے سعد (رض) کی کتاب میں لکھا پایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - اس باب میں علی، جابر، ابن عباس اور سرق (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوہریرہ (رض) کی حدیث کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الأقضیة ٢١ (٣٦١٠) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣١ (٢٣٦٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٦٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو دوسرے گواہ کے بدلے مدعی سے قسم لے کر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا ، جمہور کا یہی مذہب ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ درست ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2368 - 2671) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1343
حدیث نمبر: 1343 حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . قَالَ رَبِيعَةُ: وَأَخْبَرَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: وَجْدنَا فِي كِتَاب سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسُرَّقَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک گواہ ہو تو مدعی قسم کھائے
جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣١ (٢٣٦٩) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٠٧) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح انظر ما قبله (1343) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1344
حدیث نمبر: 1344 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اگر ایک گواہ ہو تو مدعی قسم کھائے
ابو جعفر صادق سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا، راوی کہتے ہیں : اور علی نے بھی اسی سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، ٢ - اسی طرح سفیان ثوری نے بھی بطریق : «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور عبدالعزیز بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کو بطریق : «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» (مرفوعاً ) روایت کیا ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ حقوق اور اموال کے سلسلے میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کھلانا جائز ہے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے صرف حقوق اور اموال کے سلسلے ہی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ٤ - اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ١٩٣٢٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : باب کی یہ احادیث اہل کوفہ کے خلاف حجت ہیں ، ان کا استدلال «وأشهدوا ذوي عدل منکم إذا استشهدوا شهدين من رجالکم» سے استدلال کامل نہیں بالخصوص جبکہ وہ مفہوم مخالف کے قائل نہیں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1345
حدیث نمبر: 1345 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ ، قَالَ: وَقَضَى بِهَا عَلِيٌّ فِيكُمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ، وَهَكَذَا رَوَىسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَرَوَى عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَيَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، رَأَوْا أَنَّ الْيَمِينَ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ جَائِزٌ، فِي الْحُقُوقِ وَالْأَمْوَالِ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَالُوا: لَا يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ، إِلَّا فِي الْحُقُوقِ وَالْأَمْوَالِ، وَلَمْ يَرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، وَغَيْرِهِمْ، أَنْ يُقْضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا ، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی واجبی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو وہ اس مال سے باقی شریکوں کا حصہ ادا کرے گا اور غلام (پورا) آزاد ہوجائے گا ورنہ جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی آزاد ہوگا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے سالم بن عبداللہ نے بھی بطریق : «عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الشرکة ٥ (٢٤٩١) ، و ١٤ (٢٥٠٣) ، والعتق ٤ (٢٥٢٢) ، صحیح مسلم/العتق ١ (١٥٠١) ، الأیمان والنذور ١٢ (١٥٠١/٤٧-٥٠) ، سنن ابی داود/ العتق ٦ (٣٩٤٠) ، سنن النسائی/البیوع ١٠٥ (٤٧١٢) ، سنن ابن ماجہ/العتق ٧ (٢٥٢٨) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٥) ، وط/العتق ١ (١) و مسند احمد (٢/٢، ١٥، ٣٤، ٧٧، ١٠٥، ١١٢، ١٤٢، ١٥٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2528) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1346
حدیث نمبر: 1346 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا، أَوْ قَالَ: شِقْصًا، أَوْ قَالَ: شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ بِقِيمَةِ الْعَدْلِ فَهُوَ عَتِيقٌ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ . قَالَ أَيُّوبُ: وَرُبَّمَا قَالَ نَافِعٌ: فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي: فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنا
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ رہا ہو (تو وہ باقی شریکوں کا حصہ بھی ادا کرے گا) اور وہ اس کے مال سے آزاد ہوجائے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ٦٩٣٥) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2528) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1347
حدیث نمبر: 1347 حَدَّثَنَا بِذَلِكَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْأَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي عَبْدٍ، فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ ثَمَنَهُ، فَهُوَ عَتِيقٌ مِنْ مَالِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مشترکہ غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کرنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہوگی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1348 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْبَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا، أَوْ قَالَ شِقْصًا فِي مَمْلُوكٍ، فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ، قُوِّمَ قِيمَةَ عَدْلٍ، ثُمَّ يُسْتَسْعَى فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتَقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو،
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৪৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بھر کے لئے کوئی چیز ھبہ کرنا
سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمریٰ ١ ؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے ، یا فرمایا : عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ البیوع ٨٧ (٣٥٤٩) ، (تحفة الأشراف : ٤٥٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : کسی کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کرنے کو عمریٰ کہتے ہیں ، مثلاً یوں کہے کہ میں نے تمہیں یہ گھر تمہاری عمر بھر کے لیے دے دیا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1349
حدیث نمبر: 1349 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا، أَوْ مِيرَاثٌ لِأَهْلِهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، وَجَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُعَاوِيَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عمر بھر کے لئے کوئی چیز ھبہ کرنا
جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس آدمی کو عمریٰ دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کے گھر والوں یعنی ورثاء کا ہے کیونکہ وہ اسی کا ہوجاتا ہے جس کو دیا جاتا ہے، عمری دینے والے کی طرف نہیں لوٹتا ہے اس لیے کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث ثابت ہوگئی ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور اسی طرح معمر اور دیگر کئی لوگوں نے زہری سے مالک کی روایت ہی کی طرح روایت کی ہے اور بعض نے زہری سے روایت کی ہے، مگر اس نے اس میں «ولعقبه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣ - اور یہ حدیث اس کے علاوہ اور بھی سندوں سے جابر سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمریٰ جس کو دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے اور اس میں «لعقبه» کا ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب دینے والا یہ کہے کہ یہ تیری عمر تک تیرا ہے اور تیرے بعد تیری اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہوگا جس کو دیا گیا ہے۔ اور دینے والے کے پاس لوٹ کر نہیں جائے گا اور جب وہ یہ نہ کہے کہ (تیری اولاد) کا بھی ہے تو جسے دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد دینے والے کا ہوجائے گا۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے ١ ؎، ٥ - اور دیگر کئی سندوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمریٰ جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہوجائے گا ، ٦ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں : جس کو گھر دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد وہ گھر اس کے وارثوں کا ہوجائے گا اگرچہ اس کے وارثوں کو نہ دیا گیا ہو۔ سفیان ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الہبة ٣٢ (٢٦٢٥) ، صحیح مسلم/الہبات ٤ (١٦٢٦) ، سنن ابی داود/ البیوع ٨٧ (٣٥٥٠-٣٥٥٢) ، و ٨٨ (٣٥٥٣- ٣٥٥٧) و ٨٩ (٣٥٥٨) ، سنن النسائی/العمری ٢ (٣٧٥٨، ٣٧٦٠-٣٧٦٢، و ٣٧٦٦-٣٧٧٠) ، و ٣ (٧٧١-٣٧٧٣، ٣٧٨٢) ، ٤ (٣٧٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الہبات ٣ (٢٣٨٠) ، و ٤ (٢٣٨٢) ، (تحفة الأشراف : ٣١٤٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ان کا کہنا ہے کہ اس نے اس آدمی کو اس چیز سے فائدہ اٹھانے کا اختیار دیا تھا نہ کہ اس چیز کا اسے مالک بنادیا تھا۔ ٢ ؎ : عمرہ کی تین قسمیں ہیں : ایک ہمیشہ ہمیش کے لیے دینا ، مثلاً یوں کہے کہ یہ مکان ہمیشہ کے لیے تمہارا ہے یا یوں کہے کہ یہ چیز تیرے اور تیرے وارثوں کے لیے ہے ، تو یہ اس کی ملکیت میں دینا اور ہبہ کرنا ہوگا جو دینے والے کی طرف لوٹ کر نہیں آئے گا ، دوسری قسم وہ ہے جو وقت کے ساتھ مقید ہو ، مثلاً یوں کہے کہ یہ چیز تمہاری زندگی تک تمہاری ہے اس صورت میں نہ یہ ہبہ شمار ہوگی نہ تملیک بلکہ یہ عارضی طور پر ایک مخصوص مدت تک کے لیے عاریۃً دینا شمار ہوگا ، مدت ختم ہونے کے ساتھ یہ چیز پہلے کی طرف لوٹ جائے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس شرط کے ساتھ عمریٰ صحیح نہیں ، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس طرح مشروط طور پر عمریٰ کرنا صحیح ہے مگر شرط فاسد ہے ، پہلے کی طرف نہیں لوٹے گی ، لیکن راجح قول پہلا ہی ہے ، آخری دونوں قول مرجوح ہیں ، اور تیسری قسم بغیر کسی شرط کے دینا ہے ، مثلاً وہ یوں کہے کہ میں نے اپنا مکان تمہارے لیے عمریٰ کیا ، جمہور نے اس صورت کو بھی تملیک پر محمول کیا ہے ، اس صورت میں بھی وہ چیز پہلے کی طرف واپس نہیں ہوگی ، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ منافع کی ملکیت کی صورت ہے ، رقبہ کی ملکیت کی نہیں ، لہٰذا جسے یہ چیز عمریٰ کی گئی ہے اس کی موت کے بعد وہ پہلے کی طرف لوٹ آئے گی ، لیکن راجح جمہو رہی کا قول ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2380) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1350
حدیث نمبر: 1350 حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَيُّمَا رَجُلٍ أُعْمِرَ عُمْرَى لَهُ وَلِعَقِبِهِ، فَإِنَّهَا لِلَّذِي يُعْطَاهَا لَا تَرْجِعُ إِلَى الَّذِي أَعْطَاهَا لِأَنَّهُ أَعْطَى عَطَاءً وَقَعَتْ فِيهِ الْمَوَارِيثُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رَوَى مَعْمَرٌ وَغَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، مِثْلَ رِوَايَةِ مَالِكٍ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ وَلِعَقِبِهِ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا وَلَيْسَ فِيهَا لِعَقِبِهِ ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: إِذَا قَالَ: هِيَ لَكَ حَيَاتَكَ وَلِعَقِبِكَ، فَإِنَّهَا لِمَنْ أُعْمِرَهَا، لَا تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ، وَإِذَا لَمْ يَقُلْ لِعَقِبِكَ، فَهِيَ رَاجِعَةٌ إِلَى الْأَوَّلِ إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَرُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ قَالُوا: إِذَا مَاتَ الْمُعْمَرُ، فَهُوَ لِوَرَثَتِهِ، وَإِنْ لَمْ تُجْعَلْ لِعَقِبِهِ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رقبیٰ
جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہے اور رقبیٰ ١ ؎ بھی جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اور بعض نے اسی سند سے ابوزبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے جابر سے موقوفاً نقل کیا ہے، اسے نبی اکرم ﷺ تک مرفوع نہیں کیا ہے، ٣ - رقبیٰ کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ یہ چیز جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری ہے اور اگر تم مجھ سے پہلے مرگئے تو یہ پھر میری طرف لوٹ آئے گی، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عمریٰ کی طرح رقبیٰ بھی جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں ہی کا ہوگا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے عمریٰ اور رقبیٰ کے درمیان فرق کیا ہے، ان لوگوں نے عمریٰ کو تو معمر (جس کے نام چیز دی گئی تھی) کی موت کے بعد اس کے ورثاء کا حق بتایا ہے اور رقبیٰ کو کہا ہے کہ ورثاء کا حق نہیں ہوگا بلکہ وہ دینے والی کی طرف لوٹ جائے گا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف : ٢٧٠٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : «رقبیٰ» ، «رقب» سے ہے جس کے معنی انتظار کے ہیں۔ اسلام نے اس میں اتنی تبدیلی کی کہ وہ چیز موہوب لہ (جس کو وہ چیز دی گئی) کی ہی رہے گی۔ موہوب لہ کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو وراثت میں تقسیم ہوگی۔ واہب کو بھی نہیں لوٹے گی ، جیسے عمریٰ میں ہے۔ رقبیٰ میں یہ ہوتا تھا کہ ہبہ کرنے والا یوں کہتا کہ یہ چیز میں نے تم کو تمہاری عمر تک دے دی ، تمہاری موت کے بعد یہ چیز مجھے لوٹ آئے گی ، اور اگر میں مرگیا تو تمہاری ہی رہے گی ، پھر تم مرجاؤ گے تو میرے وارثوں کو لوٹ آئے گی۔ اب ہر ایک دوسرے کی موت کا انتظار کیا کرتا تھا۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2383) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1351
حدیث نمبر: 1351 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا، وَالرُّقْبَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ جَابِرٍ، مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْهُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، أَنَّ الرُّقْبَى جَائِزَةٌ مِثْلَ الْعُمْرَى، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَفَرَّقَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، بَيْنَ الْعُمْرَى، وَالرُّقْبَى، فَأَجَازُوا الْعُمْرَى، وَلَمْ يُجِيزُوا الرُّقْبَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَتَفْسِيرُ الرُّقْبَى: أَنْ يَقُولَ هَذَا الشَّيْءُ لَكَ مَا عِشْتَ، فَإِنْ مُتَّ قَبْلِي فَهِيَ رَاجِعَةٌ إِلَيَّ، وَقَالَ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، الرُّقْبَى مِثْلُ الْعُمْرَى، وَهِيَ لِمَنْ أُعْطِيَهَا، وَلَا تَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫২
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کے درمیان صلح کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے منقول احادیث
عمرو بن عوف مزنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہوگی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٣ (٢٣٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٧٧٥) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ” کثیر بن عبداللہ “ ضعیف راوی ہیں، دیکھئے : الارواء رقم ١٣٠٣ ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2353) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1352
حدیث نمبر: 1352 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: الصُّلْحُ جَائِزٌ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، إِلَّا صُلْحًا حَرَّمَ حَلَالًا، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا، وَالْمُسْلِمُونَ عَلَى شُرُوطِهِمْ إِلَّا شَرْطًا حَرَّمَ حَلَالًا، أَوْ أَحَلَّ حَرَامًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৩
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پڑوسی کی دیوار پر لکڑی رکھنا
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا : جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے ۔ ابوہریرہ (رض) نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا : کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو ؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، ٤ - بعض اہل علم سے مروی ہے : جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ٢٠ (٢٤٦٣) ، صحیح مسلم/المساقاة ٢٩ (البیوع ٥٠) ، (١٦٠٩) ، سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٤) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٥ (٢٣٣٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٥٤) ، وط/الأقضیة ٢٦ (٣٢) ، و مسند احمد (٢/٣٩٦) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2335) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1353
حدیث نمبر: 1353 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ، فَلَا يَمْنَعْهُ . فَلَمَّا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ، طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ، وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالُوا لَهُ: أَنْ يَمْنَعَ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৪
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ قسم دلانے والے کی تصدیق پر ہی قسم صحیح ہوتی ہے۔
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قسم اسی چیز پر واقع ہوگی جس پر تمہارا ساتھی (فریق مخالف) قسم لے رہا ہے (توریہ کا اعتبار نہیں ہوگا) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے ہشیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے عبداللہ بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔ اور عبداللہ بن ابی صالح، سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ٤ - ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا، اور جب قسم لینے والا مظلوم ہو تو قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٤ (١٦٥٣) ، سنن ابی داود/ الأیمان والنذور ٨ (٣٢٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٤ (٢١٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢٨٢٦) ، و مسند احمد (٢/٢٢٨) ، و سنن الدارمی/النذور ١١ (٢٣٩٤) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2121) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1354
حدیث نمبر: 1354 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْيَمِينُ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ ، وقَالَ قُتَيْبَةُ: عَلَى مَا صَدَّقَكَ عَلَيْهِ صَاحِبُكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ هُشَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ: هُوَ أَخُو سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَرُوِيَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: إِذَا كَانَ الْمُسْتَحْلِفُ ظَالِمًا، فَالنِّيَّةُ نِيَّةُ الْحَالِفِ، وَإِذَا كَانَ الْمُسْتَحْلِفُ مَظْلُومًا، فَالنِّيَّةُ نِيَّةُ الَّذِي اسْتَحْلَفَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৫
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف کی صورت میں راستہ کتنا بڑا بنایا جائے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : راستہ سات ہاتھ (چوڑا) رکھو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ١٢٢١٨) ، وانظر ما یأتي (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2338) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1355
حدیث نمبر: 1355 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ الْمُثَنَّى بْنِ سَعِيدٍ الضُّبَعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْعَلُوا الطَّرِيقَ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৬
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اختلاف کی صورت میں راستہ کتنا بڑا بنایا جائے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب راستے کے سلسلے میں تم میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ (چوڑا) رکھو ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ (سابقہ) وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - بشیر بن کعب کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، اور بعض نے اسے قتادہ سے اور قتادہ نے بشیر بن نہیک سے اور بشیر نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المظالم ٢٩ (٢٤٧٣) ، صحیح مسلم/المساقاة ٣١ (البیوع ٥٢) ، (١٦١٣) ، سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٣) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٦ (٢٣٣٨) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢٢٣) ، و مسند احمد (٢/٤٦٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : سات ہاتھ راستہ آدمیوں اور جانوروں کے آنے جانے کے لیے کافی ہے ، جسے دونوں فریق کو مل کر چھوڑنا چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1356
حدیث نمبر: 1356 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا تَشَاجَرْتُمْ فِي الطَّرِيقِ، فَاجْعَلُوهُ سَبْعَةَ أَذْرُعٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ وَكِيعٍ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৭
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ والدین کی جدائی کے وقت بچے کو اختیار دیا جائے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے اپنی ماں کے ساتھ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ماں باپ کے درمیان بچے کے سلسلے میں اختلاف ہوجائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بچہ کم سن ہو تو اس کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ اور جب وہ سات سال کا ہوجائے تو اس کو اختیار دیا جائے، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے یا چاہے تو ماں کے ساتھ رہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الطلاق ٣٥ (٢٢٧٧) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٦) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥١) ، (تحفة الأشراف : ١٥٤٦٣) ، و مسند احمد (٢/٤٤٧) ، وسنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح ) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2351) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1357
حدیث نمبر: 1357 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَدِّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَيْمُونَةَ اسْمُهُ: سُلَيْمٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: يُخَيَّرُ الْغُلَامُ بَيْنَ أَبَوَيْهِ إِذَا وَقَعَتْ بَيْنَهُمَا الْمُنَازَعَةُ فِي الْوَلَدِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَالَا: مَا كَانَ الْوَلَدُ صَغِيرًا، فَالْأُمُّ أَحَقُّ، فَإِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِينَ، خُيِّرَ بَيْنَ أَبَوَيْهِ ، هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ: هُوَ هِلَالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ وَهُوَ مَدَنِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৮
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باپ اپنے بیٹے کے مال میں سے جو چاہے لے سکتا ہے۔
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : سب سے پاکیزہ چیز جس کو تم کھاتے ہو تمہاری اپنی کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے عمارہ بن عمیر سے اور عمارہ نے اپنی ماں سے اور ان کی ماں نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے، لیکن اکثر راویوں نے «عن أمّه» کے بجائے «عن عمته» کہا ہے یعنی عمارہ بن عمیر نے اپنی پھوپھی سے اور انہوں نے عائشہ (رض) سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باپ کو بیٹے کے مال میں کلی اختیار ہے وہ جتنا چاہے لے سکتا ہے، ٥ - اور بعض کہتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے کے مال سے بوقت ضرورت ہی لے سکتا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ البیوع ٧٩ (٣٥٢٨) ، سنن النسائی/البیوع ١ (٤٤٥٤) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ١ (٢١٣٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٩٩٢) ، و مسند احمد (٦/٣١، ٤٢، ١٢٧، ١٦٢، ١٩٣، ٢٢٠) ، سنن الدارمی/البیوع ٦ (٢٥٧٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن عمرو (رض) سے اسی معنی کی ایک حدیث مروی ہے ، «أَنْتَ وَ مَالُكَ لأَبِيْكَ» یعنی تم اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے (سنن ابی داود رقم : ٣٥٣٠ /صحیح) اس میں بھی عموم ہے ، ضرورت کی قید نہیں ہے ، اور عائشہ (رض) کی اس حدیث میں سنن أبی داود میں (برقم : ٣٥٢٩ ) جو «إذا احتجتم» جب تم ضرورت مند ہو کی زیادتی ہے وہ بقول ابوداؤد منکر ہے ، لیکن لڑکے کی وفات پر (پوتے کی موجودگی میں) باپ کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے ، اس سے حدیث کی تخصیص ہوجاتی ہے۔ یعنی بیٹے کا کل مال باپ کی ملکیت نہیں ، صرف بقدر ضرورت ہی لے سکتا ہے۔ «واللہ اعلم»۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2137) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1358
حدیث نمبر: 1358 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَطْيَبَ مَا أَكَلْتُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ، وَإِنَّ أَوْلَادَكُمْ مِنْ كَسْبِكُمْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَكْثَرُهُمْ قَالُوا: عَنْ عَمَّتِهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: إِنَّ يَدَ الْوَالِدِ مَبْسُوطَةٌ فِي مَالِ وَلَدِهِ، يَأْخُذُ مَا شَاءَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَأْخُذُ مِنْ مَالِهِ إِلَّا عِنْدَ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৫৯
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی کوئی چیز توڑی جائے تو؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ (رض) نے (غصے میں) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٧٧) ، وراجع : صحیح البخاری/المظالم ٣٤ (٢٤٨١) ، والنکاح ١٠٧ (٥٢٢٥) ، سنن ابی داود/ البیوع ٩١ (٣٥٦٧) ، سنن النسائی/عشرة النساء ٤ (٣٤٠٧) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٤ (٢٣٣٤) ، مسند احمد (٣/١٠٥، ٢٦٣) ، سنن الدارمی/البیوع ٥٨ (٢٦٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی کوئی چیز کسی سے تلف ہوجائے تو وہ ویسی ہی چیز تاوان میں دے اور جب اس جیسی چیز دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا اس کے ذمہ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (2334) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1359
حدیث نمبر: 1359 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَهْدَتْ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فِي قَصْعَةٍ، فَضَرَبَتْ عَائِشَةُ الْقَصْعَةَ بِيَدِهَا، فَأَلْقَتْ مَا فِيهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: طَعَامٌ بِطَعَامٍ، وَإِنَاءٌ بِإِنَاءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬০
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی شخص کی کوئی چیز توڑی جائے تو؟
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک پیالہ منگنی لیا وہ ٹوٹ گیا، تو آپ نے جن سے پیالہ لیا تھا انہیں اس کا تاوان ادا کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١ - یہ حدیث محفوظ نہیں ہے، ٢ - سوید نے مجھ سے وہی حدیث بیان کرنی چاہی تھی جسے ثوری نے روایت کی ہے ١ ؎، ٣ - ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف : ٦٨٨) (ضعیف جداً ) (سند میں ” سوید بن عبد العزیز “ سخت ضعیف ہے، صحیح واقعہ وہ جو اگلی حدیث میں مذکور ہے ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ سوید بن عبدالعزیز کو مذکورہ حدیث کی روایت میں وہم ہوا ہے انہوں نے اسے حمید کے واسطے سے انس سے «أن النبي صلی اللہ عليه وسلم استعار قصعة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کردیا جو محفوظ نہیں ہے بلکہ محفوظ وہ روایت ہے جسے سفیان ثوری نے حمید کے واسطے سے انس سے «أهدت بعض أزواج النبي صلی اللہ عليه وسلم» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد جدا صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 1360
حدیث نمبر: 1360 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ قَصْعَةً، فَضَاعَتْ فَضَمِنَهَا لَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي سُوَيْدٌ الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أصح اسم أبي داود عمر بن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৬১
فیصلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مردو عورت کب بالغ ہوتے ہیں
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک لشکر میں پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول نہیں کیا، پھر آئندہ سال مجھے آپ کے سامنے ایک اور لشکر میں پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول کرلیا۔ نافع کہتے ہیں : میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اس حدیث کو بیان کیا تو انہوں نے کہا : بالغ اور نابالغ کے درمیان یہی حد ہے۔ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کے ہوجائیں (مال غنیمت سے) ان کو حصہ دیا جائے۔
حدیث نمبر: 1361 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْنَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَلَمْ يَقْبَلْنِي، فَعُرِضْتُ عَلَيْهِ مِنْ قَابِلٍ فِي جَيْشٍ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَقَبِلَنِي . قَالَ نَافِعٌ: وَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: هَذَا حَدُّ مَا بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، ثُمَّ كَتَبَ أَنْ يُفْرَضَ لِمَنْ يَبْلُغُ الْخَمْسَ عَشْرَةَ،
তাহকীক: