আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
جمعہ کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪২ টি
হাদীস নং: ৫০৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منبر پر قرآن پڑھنا
یعلیٰ بن امیہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر پڑھتے سنا : «ونادوا يا مالک» ١ ؎ اور وہ پکار کر کہیں گے اے مالک ! امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یعلیٰ بن امیہ (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، اور یہی ابن عیینہ کی حدیث ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور جابر بن سمرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اہل علم کی ایک جماعت نے امام کے خطبہ میں قرآن کی کچھ آیتیں پڑھنے کو پسند کیا ہے ٢ ؎، شافعی کہتے ہیں : امام جب خطبہ دے اور اس میں قرآن کچھ نہ پڑھے تو خطبہ دہرائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٧ (٣٢٣٠) ، و ١٠ (٣٢٦٦) ، وتفسیر الزخرف ١ (٤٨١٩) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧١) ، ( تحفة الأشراف : ١١٨٣٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : الزخرف : ٧٧ («مالک» جہنم کے دروغہ کا نام ہے جس کو جہنمی پکار کر کہیں گے کہ اپنے رب سے کہو کہ ہمیں موت ہی دیدے تاکہ جہنم کے عذاب سے نجات تو مل جائے ، جواب ملے گا : یہاں ہمیشہ ہمیش کے لیے رہنا ہے ) ٢ ؎ : صحیح مسلم میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ خطبہ جمعہ میں سورة ق پوری پڑھا کرتے تھے ، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بطور وعظ ونصیحت کے قرآن کی کوئی آیت پڑھنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الإرواء (3 / 75) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 508
حدیث نمبر: 508 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، وَقَدِ اخْتَارَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ يَقْرَأَ الْإِمَامُ فِي الْخُطْبَةِ آيًا مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِذَا خَطَبَ الْإِمَامُ فَلَمْ يَقْرَأْ فِي خُطْبَتِهِ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ أَعَادَ الْخُطْبَةَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫০৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خطبہ دیتے وقت امام کی طرف منہ کرنا
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب منبر پر بیٹھتے تو ہم اپنا منہ آپ کی طرف کرلیتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- منصور کی حدیث کو ہم صرف محمد بن فضل بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- محمد بن فضل بن عطیہ ہمارے اصحاب کے نزدیک ضعیف اور ذاہب الحدیث ہیں، ٣- اس باب میں نبی اکرم ﷺ سے روایت کی گئی کوئی چیز صحیح نہیں ہے ١ ؎، ٤- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ خطبے کے وقت امام کی طرف رخ کرنا مستحب سمجھتے ہیں اور یہی سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے، ٥- اس باب میں ابن عمر (رض) سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٤٥٧) (صحیح) (یہ سند سخت ضعیف ہے، اس لیے کہ اس میں راوی محمد بن فضل بن عطیہ کی لوگوں نے تکذیب تک کی ہے، لیکن براء بن عازب اور ابن عمر، انس اور ابو سعید خدری وغیرہ سے مروی شواہد کی بنا پر صحابہ کا یہ تعامل صحیح اور ثابت ہے تفصیل کے لیے دیکھئے : الصحیحة ٢٠٨٠) وضاحت : ١ ؎ : سند کے لحاظ سے اس باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں ہے لیکن متعدد احادیث وآثار سے اس مضمون کو تقویت مل جاتی ہے ( دیکھئیے الصحیحۃ رقم ٢٠٨٠) عام مساجد میں یہ چیز تو بہت آسان ہے لیکن خانہ کعبہ میں مشکل ہے ، تو وہاں یہ بات معاف ہوگی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، الصحيحة (2080) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 509
حدیث نمبر: 509 حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَوَى عَلَى الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاهُ بِوُجُوهِنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَحَدِيثُ مَنْصُورٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ ذَاهِبُ الْحَدِيثِ عِنْدَ أَصْحَابِنَا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ يَسْتَحِبُّونَ اسْتِقْبَالَ الْإِمَامِ إِذَا خَطَبَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَلَا يَصِحُّ فِي هَذَا الْبَاب عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْءٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے خطبہ دیتے ہوئے آنے والا شخص دو رکعت پڑھے
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا تو آپ نے اسے پوچھا : کیا تم نے نماز پڑھ لی ؟ اس نے کہا : نہیں، آپ نے فرمایا : اٹھو اور (دو رکعت) نماز پڑھ لو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ٢٥ (١١٢٦) ، والجمعة ٣٢ (٩٣٠) ، و ٣٣ (٩٣١) ، صحیح مسلم/الجمعة ١٤ (٨٧٥) ، سنن النسائی/الجمعة ٢١ (١٤٠١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٧ (١١١٣) ، ( تحفة الأشراف : ٢٥١١) ، مسند احمد (٣/٢٩٧، ٣٠٨، ٣٦٩) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٦ (١٤٠٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1112) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 510
حدیث نمبر: 510 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصَلَّيْتَ ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَارْكَعْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَاب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے خطبہ دیتے ہوئے آنے والا شخص دو رکعت پڑھے
عیاض بن عبداللہ بن ابی سرح سے روایت ہے کہ ابو سعید خدری (رض) جمعہ کے دن (مسجد میں) داخل ہوئے، مروان بن حکم خطبہ دے رہے تھے، وہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، پہریدار آئے تاکہ انہیں بٹھا دیں لیکن وہ نہیں مانے اور نماز پڑھ ہی لی، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے ان کے پاس آ کر کہا : اللہ آپ پر رحم فرمائے قریب تھا کہ یہ لوگ آپ سے ہاتھا پائی کر بیٹھتے، تو انہوں نے کہا : میں تو یہ دونوں رکعتیں ہرگز چھوڑنے والا تھا نہیں، بعد اس کے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے، پھر انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص جمعہ کے دن پراگندہ حالت میں آیا، نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا، اس نے دو رکعتیں پڑھیں اور نبی اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے۔ ابن ابی عمر کہتے ہیں : سفیان بن عیینہ جب مسجد میں آتے اور امام خطبہ دے رہا ہوتا تو دو رکعتیں پڑھتے تھے، وہ اس کا حکم بھی دیتے تھے، اور ابوعبدالرحمٰن المقری بھی اسے درست سمجھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابو سعید خدری (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- میں نے ابن ابی عمر کو کہتے سنا کہ سفیان بن عیینہ کہتے تھے کہ محمد بن عجلان ثقہ ہیں اور حدیث میں مامون ہیں، ٣- اس باب میں جابر، ابوہریرہ اور سہل بن سعد (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جب کوئی مسجد میں داخل ہو اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ بیٹھ جائے نماز نہ پڑھے، یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے، ٥- پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الزکاة ٣٩ (١٦٧٥) ، (مختصرا) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٦ (١٤٠٩) ، والزکاة ٥٥ (٢٥٣٧) ، ( تحفة الأشراف : ٤٢٧٢) ، مسند احمد (٣/٢٥) ، (کلہم بدون ذکر قصة مروان) (حسن صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے مسجد میں داخل ہوتے وقت دو رکعت تحیۃ المسجد کی تاکید ثابت ہوتی ہے ، اس باب میں اور بہت سی احادیث ہیں حتیٰ کہ تحیۃ المسجد کے لیے مکروہ اوقات کی بھی رکاوٹ نہیں ہے کیونکہ یہ سببی صلاۃ ہے ، ہاں اگر کوئی ایسے وقت مسجد میں داخل ہو کہ جب کسی فرض وسنت صلاۃ کا وقت تھا تو فرض وسنت صلاۃ سے تحیۃ المسجد کی بھی ادائیگی ہو جائیگی۔ قال الشيخ الألباني : (حكاية عياض بن عبد اللہ بن أبي السرح عن أبي سعيد الخدري) حسن صحيح، (قول العلاء بن خالد القرشي عن الحسن البصري) ضعيف الإسناد، ابن ماجة (1113) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 511
حدیث نمبر: 511 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَرْوَانُ يَخْطُبُ، فَقَامَ يُصَلِّي، فَجَاءَ الْحَرَسُ لِيُجْلِسُوهُ فَأَبَى حَتَّى صَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَيْنَاهُ، فَقُلْنَا: رَحِمَكَ اللَّهُ إِنْ كَادُوا لَيَقَعُوا بِكَ، فَقَالَ: مَا كُنْتُ لِأَتْرُكَهُمَا بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَمَرَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ . قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ: كَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ إِذَا جَاءَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَكَانَ يَأْمُرُ بِهِ، وَكَانَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ يَرَاهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وسَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ، يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ ثِقَةً مَأْمُونًا فِي الْحَدِيثِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ. وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق. وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا دَخَلَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَإِنَّهُ يَجْلِسُ وَلَا يُصَلِّي، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب امام خطبہ پڑھتا ہو تو کلام مکروہ ہے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران کسی سے کہا : چپ رہو تو اس نے لغو بات کی یا اس نے اپنا جمعہ لغو کرلیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن ابی اوفی اور جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اسی پر عمل ہے، علماء نے آدمی کے لیے خطبہ کے دوران گفتگو کرنا مکروہ جانا ہے اور کہا ہے کہ اگر کوئی دوسرا گفتگو کرے تو اسے بھی منع نہ کرے سوائے اشارے کے، ٤- البتہ دوران خطبہ سلام کے جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمک الله» کہنے کے سلسلہ میں اختلاف ہے بعض اہل علم نے دوران خطبہ سلام کا جواب دینے اور چھینکنے والے کے جواب میں «يرحمک الله» کہنے کی اجازت دی ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے اسے مکروہ قرار دیا ہے، اور یہی شافعی کا قول ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٣٦ (٩٣٤) ، صحیح مسلم/الجمعة ٣ (٨٥١) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٥ (١١١٢) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٢ (١٤٠٢) ، والعیدین ٢١ (١٥٧٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٦ (١١١٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٢٠٦) ، موطا امام مالک/الجمعة ٢ (٦) ، مسند احمد (٢/٢٤٤، ٢٧٢، ٢٨٠، ٣٩٣، ٣٩٦، ٤٨٥، ٥١٨، ٥٣٢) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٩٥ (١٥٨٩) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی اسے جمعہ کی فضیلت نہیں ملی بلکہ اس سے محروم رہا ، یہ معنی نہیں کہ اس کی نماز ہی نہیں ہوئی کیونکہ اس بات پر اجماع ہے کہ اس کی نماز جمعہ ادا ہوجائے گی ، البتہ وہ جمعہ کی فضیلت سے محروم رہے گا ، اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطبہ جمعہ پورے انہماک اور توجہ سے سننا چاہیئے ، اور خطبہ کے دوران کوئی ناروا حرکت نہیں کرنی چاہیئے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1110) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 512
حدیث نمبر: 512 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ قَالَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ: أَنْصِتْ فَقَدْ لَغَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ: كَرِهُوا لِلرَّجُلِ أَنْ يَتَكَلَّمَ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَقَالُوا: إِنْ تَكَلَّمَ غَيْرُهُ فَلَا يُنْكِرْ عَلَيْهِ إِلَّا بِالْإِشَارَةِ. وَاخْتَلَفُوا فِي رَدِّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، فَرَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي رَدِّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَكَرِهَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ ذَلِكَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن لوگوں کو پھلانگ کر آگے جانا مکروہ ہے
معاذ بن انس جہنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ کے دن جس نے لوگوں کی گردنیں پھاندیں اس نے جہنم کی طرف لے جانے والا پل بنا لیا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- اس باب میں جابر سے بھی روایت ہے۔ سہل بن معاذ بن انس جہنی کی حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف رشد بن سعد کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- البتہ اہل علم کا عمل اسی پر ہے۔ انہوں نے اس بات کو مکروہ سمجھا ہے، کہ آدمی جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے اور انہوں نے اس میں سختی سے کام لیا ہے۔ اور ان کے حفظ کے تعلق سے انہیں ضعیف گردانا ہے۔ بعض اہل علم نے رشدین بن سعد پر کلام کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٨ (١١١٦) ، ( تحفة الأشراف : ١١٢٩٢) ، مسند احمد (٣/٤٣٧) (حسن) (سند میں رشدین بن سعد اور زبان بن فائد دونوں ضعیف راوی ہیں، لیکن شاہد کی وجہ سے حسن لغیرہ ہے، تراجع الالبانی ٤٥، السراج المنیر ١٥١٢، والصحیحہ ٣١٢٢) وضاحت : ١ ؎ : یہ ترجمہ «اتّخَذَ» معروف کے صیغے کا ہے مشہور اعراب مجہول کے صیغے «اتُّخِذَ» کے ساتھ ہے ، اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا کہ جو جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھاندے گا وہ جہنم کا پل بنادیا جائے گا جس پر چڑھ کر لوگ جہنم کو عبور کریں گے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (1116) // ضعيف سنن ابن ماجة (230) ، المشکاة (1392) ، ضعيف الجامع الصغير (5516) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 513
حدیث نمبر: 513 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ تَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ اتَّخَذَ جِسْرًا إِلَى جَهَنَّمَ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ حَدِيثٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، وَالْعَمَلُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَخَطَّى الرَّجُلُ رِقَابَ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَشَدَّدُوا فِي ذَلِكَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي رِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ وَضَعَّفَهُ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کے خطبہ کے دوران احتباء مکروہ ہے
معاذ بن انس جہنی (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے جمعہ کے دن جب کہ امام خطبہ دے رہا ہو گھٹنوں کو پیٹ کے ساتھ ملا کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- عام اہل علم نے جمعہ کے دن حبوہ کو مکروہ جانا ہے، اور بعض نے اس کی رخصت دی ہے، انہیں میں سے عبداللہ بن عمر وغیرہ ہیں۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، یہ دونوں امام کے خطبہ دینے کی حالت میں حبوہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٤ (١١١٠) ، ( تحفة الأشراف : ١١٢٩٩) ، مسند احمد (٣/٤٣٩) (حسن) وضاحت : ١ ؎ : «حبوہ» ایک مخصوص بیٹھک کا نام ہے ، اس کی صورت یہ ہے کہ سرین پر بیٹھا جائے اور دونوں گھٹنوں کو کھڑا رکھا جائے اور انہیں دونوں ہاتھوں سے باندھ لیا جائے ، اس سے ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح بیٹھنے سے نیند آتی ہے اور ہوا خارج ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن، المشکاة (1293) ، صحيح أبي داود (1017) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 514
حدیث نمبر: 514 حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي أَبُو مَرْحُومٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَأَبُو مَرْحُومٍ اسْمُهُ عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مَيْمُونٍ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ الْحِبْوَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ، وَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَغَيْرُهُ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا يَرَيَانِ بِالْحِبْوَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ بَأْسًا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ منبر پر دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا مکروہ ہے
حصین کہتے ہیں کہ بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے دعا ١ ؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا : اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٣ (٨٧٤) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٠ (١١٠٤) ، سنن النسائی/الجمعة ٢٩ (١٤١٣) ، ( تحفة الأشراف : ١٠٣٧٧) ، مسند احمد (٤/١٣٥، ١٣٦، ٢٦١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٠١ (١٦٠١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : صحیح مسلم میں «فی الدعاء» کا لفظ نہیں ہے ، مولف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعا میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے ، اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے دوران خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا ، تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء ( بارش کے طلب ) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا ، صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1012) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 515
حدیث نمبر: 515 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ، وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ يَخْطُبُ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ، فَقَالَ عُمَارَةُ: قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيُدَيَّتَيْنِ الْقُصَيَّرَتَيْنِ، لَقَدْ رأَيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَابةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی اذان
سائب بن یزید (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر (رض) کے زمانے میں (پہلی) اذان اس وقت ہوتی جب امام نکلتا اور (دوسری) جب نماز کھڑی ہوتی ١ ؎ پھر جب عثمان (رض) خلیفہ ہوئے تو انہوں نے زوراء ٢ ؎ میں تیسری اذان کا اضافہ کیا ٣ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٢١ (٩١٢) ، و ٢٢ (٩١٣) ، و ٢٤ (٩١٥) ، و ٢٥ (٩١٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٢٥ (١٠٨٧) ، سنن النسائی/الجمعة ١٥ (١٣٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٧ (١١٣٥) ، ( تحفة الأشراف : ٣٧٩٩) ، مسند احمد (٣/٤٥٠) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یہاں دوسری اذان سے مراد اقامت ہے۔ ٢ ؎ : زوراء مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام تھا۔ ٣ ؎ : عثمان (رض) نے مسجد سے دور بازار میں پہلی اذان دلوائی ، اور فی زمانہ لوگوں نے یہ اذان مسجد کے اندر کردی ہے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اذان عثمان (رض) کی سنت ہے ، اگر کہیں واقعی اس طرح کی ضرورت موجود ہو تو اذان مسجد سے باہر دی جائے ، ویسے اب مائک کے انتظام اور اکثر لوگوں کے ہاتھوں میں گھڑیوں کی موجودگی کے سبب اس طرح کی اذان کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ گئی ، جس ضرورت کے تحت عثمان (رض) یہ زائد اذان دلوائی تھی۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1135) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 516
حدیث نمبر: 516 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ وَإِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا كَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، زَادَ النِّدَاءَ الثَّالِثَ عَلَى الزَّوْرَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ امام کا منبر سے اترنے کا بعد بات کرنا
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ضرورت کی بات اس وقت کرتے جب آپ منبر سے اترتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ہم اس حدیث کو صرف جریر بن حازم کی روایت سے جانتے ہیں، اور میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ جریر بن حازم کو اس حدیث میں وہم ہوا ہے، اور صحیح وہی ہے جو بطریق : «ثابت عن أنس» مروی ہے، انس (رض) کہتے ہیں کہ نماز کھڑی ہوئی اور ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ کا ہاتھ پکڑا تو آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ بعض لوگوں کو اونگھ آنے لگی۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : حدیث یہی ہے، اور جریر کو کبھی کبھی وہم ہوجاتا ہے حالانکہ وہ صدوق ہیں۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ جریر بن حازم کو ثابت کی حدیث میں (بھی) جسے ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے وہم ہوا ہے (جو یہ ہے کہ) آپ نے فرمایا : جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو۔ محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں : نیز حماد بن زید سے روایت کی جاتی ہے کہ ہم لوگ ثابت بنانی کے پاس تھے، اور حجاج صواف نے یحییٰ ابن ابی کثیر کے واسطہ سے حدیث بیان کی، جسے یحییٰ نے عبداللہ بن ابوقتادہ سے اور عبداللہ نے اپنے والد ابوقتادہ سے اور ابوقتادہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : جب نماز کھڑی ہوجائے تو تم کھڑے نہ ہو جب تک کہ مجھے نہ دیکھ لو چناچہ جریر کو وہم ہوا، انہیں گمان ہوا کہ ثابت نے ان سے بیان کیا ہے اور ثابت نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٠ (١١٢٠) ، سنن النسائی/الجمعة ٣٦ (١٤٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٩ (١١١٧) ، ( تحفة الأشراف : ٢٦٠) ، مسند احمد (٣/١٢٧) (شاذ) (جریر سے وہم ہوا ہے، واقعہ عشاء کا ہے، نہ کہ جمعہ کا، جیسا کہ مسلم کی حدیث نمبر ٣٧٠ میں ہے) قال الشيخ الألباني : شاذ، والمحفوظ الذي بعده .، ابن ماجة (1117) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 517
حدیث نمبر: 517 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلَّمُ بِالْحَاجَةِ إِذَا نَزَلَ عَنِ الْمِنْبَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ. قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدًا، يَقُولُ: وَهِمَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَخَذَ رَجُلٌ بِيَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا زَالَ يُكَلِّمُهُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَالْحَدِيثُ هُوَ هَذَا. وَجَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ رُبَّمَا يَهِمُ فِي الشَّيْءِ، وَهُوَ صَدُوقٌ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَهِمَ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ فِي حَدِيثِ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَيُرْوَى عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ فَحَدَّثَ حَجَّاجٌ، الصَّوَّافُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي فَوَهِمَ جَرِيرٌ فَظَنَّ أَنَّ ثَابِتًا حَدَّثَهُمْ عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৮
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
نماز کھڑی ہو جانے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سے ایک آدمی باتیں کر رہا ہے، اور آپ اس کے اور قبلے کے درمیان کھڑے ہیں، آپ برابر اس سے گفتگو کرتے رہے، میں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طول قیام کی وجہ سے بعض لوگ اونگھ رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَا تُقَامُ الصَّلَاةُ يُكَلِّمُهُ الرَّجُلُ يَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ، فَمَا يَزَالُ يُكَلِّمُهُ، فَلَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَنَا يَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫১৯
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کی نماز میں قرأت کے بارے میں
عبیداللہ بن ابی رافع کہتے ہیں : مروان نے ابوہریرہ (رض) کو مدینے میں اپنا نائب مقرر کیا اور وہ خود مکہ کی طرف نکلے، ابوہریرہ (رض) نے ہمیں جمعہ کے دن نماز پڑھائی تو انہوں نے (پہلی رکعت میں) سورة الجمعہ پڑھی اور دوسری رکعت میں «إذا جاءک المنافقون» ، عبیداللہ کہتے ہیں : تو میں ابوہریرہ (رض) سے ملا، میں نے ان سے کہا : آپ نے دو ایسی سورتیں پڑھی ہیں جنہیں علی (رض) کوفہ میں پڑھتے ہیں، اس پر ابوہریرہ (رض) نے کہا : میں نے ان دونوں سورتوں کو رسول اللہ ﷺ کو پڑھتے سنا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، نعمان بن بشیر اور ابوعنبہ خولانی (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ جمعہ کی نماز میں «سبح اسم ربک الأعلی» اور «هل أتاک حديث الغاشية» پڑھتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٧) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٢ (١١٢٤) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٠ (١١١٨) ، ( تحفة الأشراف : ١٤١٠٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1118) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 519
حدیث نمبر: 519 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: اسْتَخْلَفَ مَرْوَانُ، أَبَا هُرَيْرَةَ عَلَى الْمَدِينَةِ وَخَرَجَ إِلَى مَكَّةَ فَصَلَّى بِنَا أَبُو هُرَيْرَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَرَأَ سُورَةَ الْجُمُعَةِ، وَفِي السَّجْدَةِ الثَّانِيَةِ إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُونَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَدْرَكْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقُلْتُ لَهُ: تَقْرَأُ بِسُورَتَيْنِ كَانَ عَلِيٌّ يَقْرَأُ بِهِمَا بِالْكُوفَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهِمَا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَأَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ. عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ: كَاتِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২০
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں کیا پڑھے
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں «الم تنزيل السجدةَ» ، «هل أتى علی الإنسان» پڑھتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عباس (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، ابن مسعود اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- سفیان ثوری، شعبہ اور کئی لوگوں نے بھی یہ حدیث مخول بن راشد سے روایت کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٦ (٨٧٩) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢١٨ (١٠٧٤) ، سنن النسائی/الافتتاح ٤٧ (٩٥٧) ، والجمعة ٣٨ (١٤٢٠) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٦ (٨٢١) ، ( تحفة الأشراف : ٥٦١٣) ، مسند احمد (١/٢٢٦، ٣٠٧، ٣١٦، ٣٢٨، ٣٣٤، ٣٥٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (821) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 520
حدیث نمبر: 520 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ: الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَ هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ سَعْدٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ مُخَوَّلٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২১
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ سے پہلے اور بعد کی نماز
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جمعہ کے بعد دو رکعت (سنت) پڑھتے تھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں جابر (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- یہ حدیث بطریق «نافع عن ابن عمر» ہے، ٤- اسی پر بعض اہل علم کا عمل ہے، اور یہی شافعی اور احمد بھی کہتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الجمعة ١٨ (٨٨٢) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤٤ (١١٣٢) ، سنن النسائی/الجمعة ٤٣ (١٤٢٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩٥ (١١٣١) ، ( تحفة الأشراف : ٦٩٠١) ، وکذا (٦٩٤٨) ، مسند احمد (٢/١١، ٣٥، ٧٥، ٧٧) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث میں جمعہ کے بعد صرف دو رکعت پڑھنے کا ذکر ہے ، اور صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے روایت آئی ہے جس میں چار رکعتیں پڑھنے کا حکم ہے ، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دونوں صورتیں جائز ہیں ، بعض علماء نے یہ تطبیق دی ہے کہ مسجد میں پڑھنے والا چار رکعت پڑھے ، اور گھر میں پڑھے تو دو رکعت پڑھے کچھ لوگ چھ رکعت کے قائل ہیں ، لیکن کسی بھی صحیح مرفوع روایت سے یہ ثابت نہیں کہ کس طرح پڑھی جائے ، اس میں بھی اختلاف ہے ، بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ چاروں رکعتیں ایک سلام کے ساتھ پڑھی جائیں اور بعض کا کہنا ہے کہ دو دو کر کے چار رکعت پڑھی جائیں ، لیکن بہتر یہ ہے کہ دو دو کر کے پڑھی جائیں کیونکہ صحیح حدیث میں ہے «صلاۃ اللیل والنہار مثنیٰ مثنیٰ» رات اور دن کی نفل نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا ہے ۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1131) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 521
حدیث نمبر: 521 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَيْضًا. وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২২
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ سے پہلے اور بعد کی نماز
نافع سے روایت ہے ابن عمر (رض) جب جمعہ پڑھ لیتے تو (گھر) واپس آتے اور دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے پھر کہتے رسول اللہ ﷺ ایسا ہی کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : ٨٢٧٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1130) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 522
حدیث نمبر: 522 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৩
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ سے پہلے اور بعد کی نماز
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے،
حدیث نمبر: 523 حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৪
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو جمعہ کی ایک رکعت کو پا سکے
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس نے نماز میں ایک رکعت پا لی اس نے نماز پا لی ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی تو وہ دوسری رکعت (خود سے) پڑھ لے اور جس نے لوگوں کو سجدے میں پایا تو وہ چار رکعت (ظہر کی نماز) پڑھے۔ اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٢٩ (٥٨٠) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٠ (٦٠٧) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٢٤١ (١١٢١) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٩١ (١١٢٢) ، مسند احمد (٢/٢٤١، ٢٦٥، ٢٧١، ٢٨٠، ٣٧٥، ٣٧٦) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢٢ (١٢٥٨) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : یعنی جماعت کی فضیلت اس نے پالی ، یا اس نے نماز کا وقت پا لیا ، اس کے عموم میں جمعہ کی نماز بھی داخل ہے ، اس لیے جمعہ کی دو رکعتوں میں اگر کوئی ایک رکعت بھی پالے تو گویا اس نے پوری نماز جمعہ جماعت سے پالی۔ ٢ ؎ : کیا نماز جمعہ میں امام کے ساتھ دوسری رکعت کے کسی بھی حصے میں شامل ہونے والا ظہر کی پوری چار رکعت پڑھے گا یا صرف دو رکعت مکمل کرے گا ؟ اس موضوع پر تفصیل جاننے کے لیے قول ثابت اردو شرح مؤطا امام مالک کی کتاب وقوف الصلاۃ کے باب وقت الجمعۃ کا مطالعہ کرلیں ، بموجب صحیح مسلک بالاختصار یہ ہے کہ ایسا مقتدی دو رکعت ہی پڑھے ، چار نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1122) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 524
حدیث نمبر: 524 حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ مِنَ الصَّلَاةِ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلَاةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْجُمُعَةِ صَلَّى إِلَيْهَا أُخْرَى، وَمَنْ أَدْرَكَهُمْ جُلُوسًا صَلَّى أَرْبَعًا. وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৫
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن قیلولہ
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمعہ کے بعد ہی کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- سہل بن سعد کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجمعة ٤٠ (٩٣٩) ، والحرث ٢١ (٢٣٤٩) ، والاطعمة ١٧ (٥٤٠٣) ، والاستئذان ١٦ (٦٢٤٨) ، و ٣٩ (٦٢٧٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٨٤ (١٠٩٩) ، ( تحفة الأشراف : ٤٦٩٨) ، مسند احمد (٥/٣٣٦) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1099) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 525
حدیث نمبر: 525 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مَا كُنَّا نَتَغَذَّى فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَقِيلُ إِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَةِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৬
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو اونگھے جمعہ میں تو وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ بدل دے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٩ (١١١٩) ، ( تحفة الأشراف : ٨٤٠٦) ، مسند احمد (٢/٢٢، ١٣٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1025) ، التعليق علی ابن خزيمة (1819) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 526
حدیث نمبر: 526 حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫২৭
جمعہ کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جمعہ کے دن سفر کرنا
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن رواحہ (رض) کو ایک سریہ میں بھیجا، اتفاق سے وہ جمعہ کا دن تھا، ان کے ساتھی صبح سویرے روانہ ہوگئے، انہوں نے (اپنے جی میں) کہا : میں پیچھے رہ جاتا ہوں، اور رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ لیتا ہوں۔ پھر میں ان لوگوں سے جا ملوں گا، چناچہ جب انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی، تو آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا : تمہیں کس چیز نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ جانے سے روک دیا ؟ ، عرض کیا : میں نے چاہا کہ میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ لوں پھر میں ان سے جا ملوں گا۔ آپ نے فرمایا : اگر تم جو کچھ زمین میں ہے سب خرچ کر ڈالو تو بھی ان کے صبح روانہ ہونے کا ثواب نہیں پاس کو گے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ہم صرف اسی سند سے اسے جانتے ہیں، ٢- یحییٰ بن سعید کہتے ہیں کہ شعبہ کہتے ہیں کہ حکم نے مقسم سے صرف پانچ حدیثیں سنی ہیں اور شعبہ نے انہیں گن کر بتایا تو یہ حدیث شعبہ کی گنی ہوئی حدیثوں میں نہیں تھی۔ گویا حکم نے یہ حدیث مقسم سے نہیں سنی ہے، ٣- جمعہ کے دن سفر کے سلسلے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے جمعہ کے دن سفر پر نکلنے میں کوئی حرج نہیں جانا ہے جب کہ نماز کا وقت نہ ہوا ہو اور بعض کہتے ہیں، جب جمعہ کی صبح ہوجائے تو جمعہ پڑھے بغیر نہ نکلے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف وانظر : مسند احمد (١/٢٢٤) ، ( تحفة الأشراف : ٦٤٧١) (ضعیف الإسناد) (حکم نے یہ حدیث مقسم سے نہیں سنی ہے، یعنی سند میں انقطاع ہے) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے سفر کی مشروعیت پر دلالت کر رہی ہے ، لیکن ضعیف ہے ، مگر جمعہ کے دن جمعہ کی نماز سے پہلے خاص طور پر زوال کے بعد سفر سے ممانعت کی کوئی صحیح حدیث وارد بھی نہیں ہے اس لیے اس بابت علماء میں اختلاف ہے کہ کیا بہتر ہے ؟ دونوں طرف لوگ گئے ہیں جس کا تذکرہ مولف نے کیا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 527
حدیث نمبر: 527 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْحَجَّاجِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ فِي سَرِيَّةٍ، فَوَافَقَ ذَلِكَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَغَدَا أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: أَتَخَلَّفُ فَأُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ فَلَمَّا صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَغْدُوَ مَعَ أَصْحَابِكَ ، فَقَالَ: أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ ثُمَّ أَلْحَقَهُمْ، قَالَ: لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَدْرَكْتَ فَضْلَ غَدْوَتِهِمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ: قَالَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ: وَقَالَ شُعْبَةُ: لَمْ يَسْمَعْ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ إِلَّا خَمْسَةَ أَحَادِيثَ، وَعَدَّهَا شُعْبَةُ. وَلَيْسَ هَذَا الْحَدِيثُ فِيمَا عَدَّ شُعْبَةُ. فَكَأَنَّ هَذَا الْحَدِيثَ لَمْ يَسْمَعْهُ الْحَكَمُ مِنْ مِقْسَمٍ. وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي السَّفَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمْ يَرَ بَعْضُهُمْ بَأْسًا بِأَنْ يَخْرُجَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي السَّفَرِ مَا لَمْ تَحْضُرِ الصَّلَاةُ. وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا أَصْبَحَ فَلَا يَخْرُجْ حَتَّى يُصَلِّيَ الْجُمُعَةَ.
তাহকীক: