আল জামিউল কাবীর- ইমাম তিরমিযী রহঃ (উর্দু)
الجامع الكبير للترمذي
وترکا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৬ টি
হাদীস নং: ৪৭২
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ سواری پر وتر پڑھنا
سعید بن یسار کہتے ہیں کہ میں ایک سفر میں ابن عمر (رض) کے ساتھ چل رہا تھا، میں ان سے پیچھے رہ گیا، تو انہوں نے پوچھا : تم کہاں رہ گئے تھے ؟ میں نے کہا : میں وتر پڑھ رہا تھا، انہوں نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ کی ذات میں تمہارے لیے اسوہ نہیں ؟ میں نے رسول اللہ ﷺ کو تو اپنی سواری ہی پر وتر پڑھتے دیکھا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابن عمر (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس (رض) سے بھی روایت ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آدمی اپنی سواری پر وتر پڑھ سکتا ہے۔ اور یہی شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٤- اور بعض اہل علم کہتے ہیں کہ آدمی سواری پر وتر نہ پڑھے، جب وہ وتر کا ارادہ کرے تو اسے اتر کر زمین پر پڑھے۔ یہ بعض اہل کوفہ کا قول ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوتر ٥ (٩٩٩) ، وتقصیر الصلاة ٧ (١٠٩٥) ، و ٨ (١٠٩٨) ، و ١٢ (١١٠٥) ، صحیح مسلم/المسافرین ٤ (٧٠٠) ، سنن النسائی/قیام اللیل ٣٣ (١٦٨٧-١٦٨٩) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٢٧ (١٢٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ٧٠٨٥) ، موطا امام مالک/ صلاة اللیل ٣ (١٥) ، مسند احمد (٢/٥٧، ١٣٨) ، سنن الدارمی/الصلاة ٢١٣) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : متعدد احادیث سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ سواری پر بھی وتر پڑھا کرتے تھے ، اس لیے کسی کو یہ حق نہیں کہ اس کو ناپسند کرے اور یہ صرف جائز ہے نہ کہ فرض و واجب ہے ، کبھی کبھی آپ ﷺ سواری سے اتر کر بھی پڑھا کرتے تھے ، ہر دونوں صورتیں جائز ہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 472
حدیث نمبر: 472 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ فَتَخَلَّفْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتَ ؟ فَقُلْتُ: أَوْتَرْتُ، فَقَالَ: أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ ذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ إِلَى هَذَا، وَرَأَوْا أَنْ يُوتِرَ الرَّجُلُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَبِهِ يَقُولُ الشافعي، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا يُوتِرُ الرَّجُلُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ نَزَلَ فَأَوْتَرَ عَلَى الْأَرْضِ، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْكُوفَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৩
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ اس کے لیے جنت میں سونے کا ایک محل تعمیر فرمائے گا ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس کی حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں ام ہانی، ابوہریرہ، نعیم بن ہمار، ابوذر، عائشہ، ابوامامہ، عتبہ بن عبد سلمی، ابن ابی اوفی، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور ابن عباس (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٧ (١٣٨٠) ، ( تحفة الأشراف : ٥٠٥) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن فلان بن انس مجہول راوی ہے) وضاحت : ١ ؎ : اس سیاق و لفظ کے ساتھ یہ حدیث ضعیف ہے نہ کہ نفس چاشت کی صلاۃ ، آگے والی حدیث صحیح ہے جس سے آٹھ رکعت چاشت کی صلاۃ کا ثبوت ملتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، ابن ماجة (1380) // عندنا برقم (291) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 473
حدیث نمبر: 473 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ فُلَانِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ عَمِّهِ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى الضُّحَى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً بَنَى اللَّهُ لَهُ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ فِي الْجَنَّةِ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ هَانِئٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَنُعَيْمِ بْنِ هَمَّارٍ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَعَائِشَةَ، وَأَبِي أُمَامَةَ، وَعُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ، وَابْنِ أَبِي أَوْفَى، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৪
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ مجھے صرف ام ہانی (رض) نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو چاشت کی نماز پڑھتے دیکھا ہے، ام ہانی (رض) بیان کرتی ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ ان کے گھر میں داخل ہوئے تو غسل کیا اور آٹھ رکعتیں پڑھیں، میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اس سے بھی ہلکی نماز کبھی پڑھی ہو، البتہ آپ رکوع اور سجدے پورے پورے کر رہے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- احمد بن حنبل کی نظر میں اس باب میں سب سے زیادہ صحیح ام ہانی (رض) کی حدیث ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تقصیر الصلاة ١٢ (١١٠٣) ، والتہجد ٣١ (١١٧٦) ، والمغازی ٥٠ (٤٢٩٢) ، صحیح مسلم/المسافرین ١٣ (٨٠/٣٣٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٠١ (١٢٩١) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٠٠٧) ، مسند احمد (٦/٣٤٢-٣٤٣) ، سنن الدارمی/الصلاة ١٥١ (١٤٩٣) ، وانظر أیضا : صحیح البخاری/الغسل ٢١ (٢٨٠) ، والصلاة ٤ (٣٥٧) ، الجزیة ٩ (٣١٧١) ، والأدب ٩٤ (٦١٥٨) ، وسنن النسائی/الطہارة ١٤٣ (٢٢٦) ، والغسل ١١ (٤١٥) ، وسنن ابن ماجہ/الطہارة ٥٩ (٤٦٥) ، والإقامة ١٨٧ (١٣٢٣) ، وط/قصر الصلاة ٨ (٢٨) ، و مسند احمد (٦/٣٤١، ٤٢٣، ٤٢٤، ٤٢٥) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1379) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 474
حدیث نمبر: 474 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: مَا أَخْبَرَنِي أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلَّا أُمَّ هَانِئٍ، فَإِنَّهَا حَدَّثَتْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ بَيْتَهَا يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ، فَاغْتَسَلَ فَسَبَّحَ ثَمَانَ رَكَعَاتٍ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ أَخَفَّ مِنْهَا، غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَكَأَنَّ أَحْمَدَ رَأَى أَصَحَّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَ أُمِّ هَانِئٍ وَاخْتَلَفُوا فِي نُعَيْمٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: نُعَيْمُ بْنُ خَمَّارٍ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: ابْنُ هَمَّارٍ، وَيُقَالُ: ابْنُ هَبَّارٍ وَيُقَالُ: ابْنُ هَمَّامٍ، وَالصَّحِيحُ ابْنُ هَمَّارٍ، وَأَبُو نُعَيْمٍ وَهِمَ فِيهِ، فَقَالَ: ابْنُ حِمَازٍ وَأَخْطَأَ فِيهِ ثُمَّ تَرَكَ، فَقَالَ نُعَيْمٌ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وأَخْبَرَنِي بِذَلِكَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৫
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
ابو الدرداء (رض) یا ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے ابن آدم ! تو دن کے شروع میں میری رضا کے لیے چار رکعتیں پڑھا کر، میں پورے دن تمہارے لیے کافی ہوں گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٩٢٧) و ١١٩٠٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 475
حدیث نمبر: 475 حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ السِّمْنَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُسْهِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَوْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ: ابْنَ آدَمَ ارْكَعْ لِي مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ أَكْفِكَ آخِرَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৬
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے چاشت کی دو رکعتوں کی محافظت کی، اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : وکیع، نضر بن شمیل اور دوسرے کئی ائمہ نے یہ حدیث نہ اس بن قہم سے روایت کی ہے۔ اور ہم نہ اس کو صرف ان کی اسی حدیث سے جانتے ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٧ (١٣٨٢) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٤٩١) (ضعیف) (سند میں نہ اس بن قہم ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف، المشکاة (1318) // ضعيف ابن ماجة (292 / 1382) ، ضعيف الجامع (5549) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 476
حدیث نمبر: 476 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ، عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ حَافَظَ عَلَى شُفْعَةِ الضُّحَى غُفِرَ لَهُ ذُنُوبُهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رَوَى وَكِيعٌ، وَالنَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ نَهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ وَلَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِهِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৭
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ چاشت کی نماز
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اسے نہیں چھوڑیں گے، اور آپ اسے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب اسے نہیں پڑھیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٢٢٧) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1379) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 477
حدیث نمبر: 477 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ: لَا يَدَعُ وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ: لَا يُصَلِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৮
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ زوال کے وقت نماز پڑھنا
عبداللہ بن سائب (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، اور فرماتے : یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں اوپر چڑھے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- عبداللہ بن سائب (رض) کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں علی اور ابوایوب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھتے اور ان کے آخر میں ہی سلام پھیرتے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٥٣١٨) ، وانظر : مسند احمد (٣/٤١١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : ہوسکتا ہے کہ یہ ظہر سے پہلے والی چار رکعت سنت مؤکدہ ہی ہوں ، کسی نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں یا دونوں ایک ہی ہیں۔ ٢ ؎ : یہ حدیث ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے اور اس میں آخر میں سلام پھیرنے ولا ٹکڑا ضعیف ہے ( دیکھئیے صحیح ابوداود ١١٥٣) قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1157) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 478
حدیث نمبر: 478 حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ هُوَ: أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ، وَقَالَ: إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي أَيُّوبَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الزَّوَالِ لَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৭৯
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ نماز حاجت
عبداللہ بن ابی اوفی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جسے اللہ تعالیٰ سے کوئی ضرورت ہو یا بنی آدم میں سے کسی سے کوئی کام ہو تو پہلے وہ اچھی طرح وضو کرے، پھر دو رکعتیں ادا کرے، پھر اللہ کی حمد و ثنا بیان کرے اور نبی اکرم ﷺ پر صلاۃ (درود) و سلام بھیجے، پھر کہے : «لا إله إلا اللہ الحليم الكريم سبحان اللہ رب العرش العظيم الحمد لله رب العالمين أسألک موجبات رحمتک وعزائم مغفرتک والغنيمة من کل بر والسلامة من کل إثم لا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا هما إلا فرجته ولا حاجة هي لک رضا إلا قضيتها يا أرحم الراحمين» اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ حلیم (بردبار) ہے، کریم (بزرگی والا) ہے، پاک ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے، تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو رب العالمین (سارے جہانوں کا پالنہار) ہے، میں تجھ سے تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزوں کا اور تیری بخشش کے یقینی ہونے کا سوال کرتا ہوں، اور ہر نیکی میں سے حصہ پانے کا اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں، اے ارحم الراحمین ! تو میرا کوئی گناہ باقی نہ چھوڑ مگر تو اسے بخش دے اور نہ کوئی غم چھوڑ، مگر تو اسے دور فرما دے اور نہ کوئی ایسی ضرورت چھوڑ جس میں تیری خوشنودی ہو مگر تو اسے پوری فرما دے امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس کی سند میں کلام ہے، فائد بن عبدالرحمٰن کو حدیث کے سلسلے میں ضعیف قرار دیا جاتا ہے، اور فائد ہی ابوالورقاء ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقازہ ١٨٩ (١٣٨٤) ، ( تحفة الأشراف : ٥١٧٨) (ضعیف جداً ) (سند میں فائد بن عبدالرحمن سخت ضعیف راوی ہے) قال الشيخ الألباني : ضعيف جدا، ابن ماجة (1384) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (293) ، ضعيف الجامع الصغير (5809) ، المشکاة (1327) // صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 479
حدیث نمبر: 479 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ، وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَكْرٍ، عَنْ فَائِدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ كَانَتْ لَهُ إِلَى اللَّهِ حَاجَةٌ أَوْ إِلَى أَحَدٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فَلْيَتَوَضَّأْ فَلْيُحْسِنْ الْوُضُوءَ، ثُمَّ لِيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ لِيُثْنِ عَلَى اللَّهِ وَلْيُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لِيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْحَلِيمُ الْكَرِيمُ، سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، أَسْأَلُكَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِكَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِكَ، وَالْغَنِيمَةَ مِنْ كُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلَامَةَ مِنْ كُلِّ إِثْمٍ، لَا تَدَعْ لِي ذَنْبًا إِلَّا غَفَرْتَهُ، وَلَا هَمًّا إِلَّا فَرَّجْتَهُ، وَلَا حَاجَةً هِيَ لَكَ رِضًا إِلَّا قَضَيْتَهَا يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَقَالٌ فَائِدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَفَائِدٌ هُوَ أَبُو الْوَرْقَاءِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮০
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ استخارے کی نماز
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں ہر معاملے میں استخارہ کرنا ١ ؎ اسی طرح سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے۔ آپ فرماتے : تم میں سے کوئی شخص جب کسی کام کا ارادہ کرے تو دو رکعت پڑھے، پھر کہے : «اللهم إني أستخيرک بعلمک وأستقدرک بقدرتک وأسألک من فضلک العظيم فإنک تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري أو قال في عاجل أمري» یا کہے «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فيسره لي ثم بارک لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعيشتي وعاقبة أمري» یا کہے «في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث کان ثم أرضني به» اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں، اور تیری طاقت کے ذریعے تجھ سے طاقت طلب کرتا ہوں، اور تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا، تو علم والا ہے اور میں لا علم ہوں، تو تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے، اے اللہ اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے (یا آپ نے فرمایا : یا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے) بہتر ہے، تو اسے تو میرے لیے آسان بنا دے اور مجھے اس میں برکت عطا فرما، اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے حق میں، میرے دین، میری روزی اور انجام کے اعتبار سے یا فرمایا میری دنیا اور آخرت کے لحاظ سے میرے لیے برا ہے تو اسے تو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے خیر مقدر فرما دے وہ جہاں بھی ہو، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔ آپ نے فرمایا : اور اپنی حاجت کا نام لے ٢ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- جابر (رض) کی حدیث حسن صحیح غریب ہے ہم اسے صرف عبدالرحمٰن بن ابی الموالی کی روایت سے جانتے ہیں، یہ ایک مدنی ثقہ شیخ ہیں، ان سے سفیان نے بھی ایک حدیث روایت کی ہے، اور عبدالرحمٰن سے دیگر کئی ائمہ نے بھی روایت کی ہے، یہی عبدالرحمٰن بن زید بن ابی الموالی ہیں، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود اور ابوایوب انصاری (رض) سے احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التہجد ٢٥ (١١٦٢) ، والدعوات ٤٨ (٨٣٦٢) ، التوحید ١٠ (٧٣٩٠) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦٦ (١٥٣٨) ، سنن النسائی/النکاح ٢٧ (٣٢٥٥) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٨٨ (١٣٨٣) ، ( تحفة الأشراف : ٣٠٥٥) ، مسند احمد (٣/٣٤٤) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : استخارہ کے لغوی معنی خیر طلب کرنے کے ہیں ، چونکہ اس دعا کے ذریعہ انسان اللہ تعالیٰ سے خیر و بھلائی طلب کرتا ہے اس لیے اسے دعا استخارہ کہا جاتا ہے ، اس کا مسنون طریقہ یہی ہے کہ فرض نماز کے علاوہ دو رکعت پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھی جائے ، استخارے کا تعلق صرف مباح کاموں سے ہے ، فرائض و واجبات اور سنن و مستحبات کی ادائیگی اور محرمات و مکروہات شرعیہ سے اجتناب ہر حال میں ضروری ہے ، ان میں استخارہ نہیں ہے۔ ٢ ؎ : یعنی : لفظ «هذا الأمر» ( یہ کام ) کی جگہ اپنی ضرورت کا نام لے۔ اور کسی دوسرے شخص کے لیے استخارہ کرنا کسی بھی حدیث سے ثابت نہیں ہے ، ہر آدمی اپنے لیے استخارہ خود کرے تاکہ اپنی حاجت اپنے رب کریم سے خود ب اسلوب احسن بیان کرسکے اور اسے اپنے رب سے خود مانگنے کی عادت پڑے ، یہ جو آج کل دوسروں سے استخارہ کروانے والا عمل جاری ہوچکا ہے یہ نری بدعت ہے ، استخارہ کے بعد سو جانا اور خواب دیکھنا وغیرہ بھی نہ نبی اکرم ﷺ سے ثابت ہے اور نہ ہی صحابہ کرام و تابعین عظام سے بلکہ استخارہ کے بعد کہ جب اسے ایک ، تین پانچ یا سات بار کیا جائے ، دل کا اطمینان ، مطلوبہ عمل کے لیے جس طرف ہوجائے اسے آدمی اختیار کرلے ، خواب میں بھی اس کی وضاحت ہوسکتی ہے مگر خواب استخارہ کا جزء نہیں ہے ، عورتیں بھی استخارہ خود کرسکتی ہیں ، کہیں پر ممانعت نہیں۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1383) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 480
حدیث نمبر: 480 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ، قَالَ: وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي أَيُّوبَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الْمَوَالِي، وَهُوَ شَيْخٌ مَدِينِيٌّ ثِقَةٌ، رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ حَدِيثًا، وَقَدْ رَوَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْأَئِمَّةِ، وَهُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْمَوَالِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮১
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة التسبیح
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ام سلیم (رض) نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر عرض کیا کہ مجھے کچھ ایسے کلمات سکھا دیجئیے جنہیں میں نماز ١ ؎ میں کہا کروں، آپ نے فرمایا : دس بار «الله أكبر» کہو، دس بار «سبحان الله» کہو، دس بار «الحمد لله» کہو، پھر جو چاہو مانگو، وہ (اللہ) ہر چیز پر ہاں، ہاں کہتا ہے ، (یعنی قبول کرتا ہے) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- انس (رض) کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس، عبداللہ بن عمرو، فضل بن عباس اور ابورافع (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صلاۃ التسبیح کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ سے اور بھی کئی حدیثیں مروی ہیں لیکن کوئی زیادہ صحیح نہیں ہیں، ٤- ابن مبارک اور دیگر کئی اہل علم صلاۃ التسبیح کے قائل ہیں اور انہوں نے اس کی فضیلت کا ذکر کیا ہے، ٥- ابو وہب محمد بن مزاحم العامری نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے صلاۃ التسبیح کے بارے میں پوچھا کہ جس میں تسبیح پڑھی جاتی ہے، تو انہوں نے کہا : پہلے تکبیر تحریمہ کہے، پھر «سبحانک اللهم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا إله غيرك» اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے، اے اللہ تو ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے سب تعریفیں تیرے ہی لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام، بلند ہے تیری شان اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں کہے، پھر پندرہ مرتبہ «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ والله أكبر» کہے، پھر «أعوذ بالله من الشيطان الرجيم» اور «بسم اللہ الرحمن الرحيم» کہے، پھر سورة فاتحہ اور کوئی سورة پڑھے، پھر دس مرتبہ «سبحان اللہ والحمد لله ولا إله إلا اللہ والله أكبر » کہے، پھر رکوع میں جائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سر اٹھائے اور دس مرتبہ یہی کلمات کہے، پھر سجدہ کرے دس بار یہی کلمات کہے پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائے اور دس بار یہی کلمات کہے، پھر دوسرا سجدہ کرے اور دس بار یہی کلمات کہے، اس طرح سے وہ چاروں رکعتیں پڑھے، تو ہر رکعت میں یہ کل ٧٥ تسبیحات ہوں گی۔ ہر رکعت کے شروع میں پندرہ تسبیحیں کہے گا، پھر دس دس کہے گا، اور اگر وہ رات کو نماز پڑھ رہا ہو تو میرے نزدیک مستحب ہے کہ وہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے اور اگر دن میں پڑھے تو چاہے تو (دو رکعت کے بعد) سلام پھیرے اور چاہے تو نہ پھیرے۔ ابو وہب وہب بن زمعہ سے روایت ہے کہ عبدالعزیز بن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا : رکوع میں پہلے «سبحان ربي العظيم» اور سجدہ میں پہلے «سبحان ربي الأعلی» تین تین بار کہے، پھر تسبیحات پڑھے۔ عبدالعزیز ہی ابن ابی رزمہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک سے پوچھا : اگر اس نماز میں سہو ہوجائے تو کیا وہ سجدہ سہو میں دس دس تسبیحیں کہے گا ؟ انہوں نے کہا : نہیں یہ صرف تین سو تسبیحات ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/السہو ٥٧ (١٣٠٠) ، ( تحفة الأشراف : ١٨٥) ، مسند احمد (٣/١٢٠) (حسن الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : بظاہر اس حدیث کا تعلق صلاۃ التسبیح سے نہیں عام نمازوں سے ہے ، بلکہ مسند ابی یعلیٰ میں فرض صلاۃ کا لفظ وارد ہے ؟ نیز اس حدیث میں وارد طریقہ تسبیح صلاۃ التسبیح میں ہے بھی نہیں ہے ؟۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 481
حدیث نمبر: 481 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ غَدَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: عَلِّمْنِي كَلِمَاتٍ أَقُولُهُنَّ فِي صَلَاتِي، فَقَالَ: كَبِّرِي اللَّهَ عَشْرًا، وَسَبِّحِي اللَّهَ عَشْرًا، وَاحْمَدِيهِ عَشْرًا، ثُمَّ سَلِي مَا شِئْتِ، يَقُولُ: نَعَمْ نَعَمْ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍوَ، وَالْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي رَافِعٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ حَدِيثٍ فِي صَلَاةِ التَّسْبِيحِ وَلَا يَصِحُّ مِنْهُ كَبِيرُ شَيْءٍ، وَقَدْ رَأَى ابْنُ الْمُبَارَكِ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صَلَاةَ التَّسْبِيحِ وَذَكَرُوا الْفَضْلَ فِيهِ، حَدَّثَنَاأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو وَهْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْمُبَارَكِ عَنِ الصَّلَاةِ الَّتِي يُسَبَّحُ فِيهَا، فَقَالَ: يُكَبِّرُ، ثُمَّ يَقُولُ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، ثُمَّ يَقُولُ: خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَتَعَوَّذُ وَيَقْرَأُ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ سورة الفاتحة آية 1 وَفَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَسُورَةً، ثُمَّ يَقُولُ: عَشْرَ مَرَّاتٍ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، ثُمَّ يَرْكَعُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ يَسْجُدُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، ثُمَّ يَسْجُدُ الثَّانِيَةَ فَيَقُولُهَا عَشْرًا، يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى هَذَا، فَذَلِكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ تَسْبِيحَةً فِي كُلِّ رَكْعَةٍ، يَبْدَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِخَمْسَ عَشْرَةَ تَسْبِيحَةً، ثُمَّ يَقْرَأُ ثُمَّ يُسَبِّحُ عَشْرًا، فَإِنْ صَلَّى لَيْلًا فَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُسَلِّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، وَإِنْ صَلَّى نَهَارًا فَإِنْ شَاءَ سَلَّمَ وَإِنْ شَاءَ لَمْ يُسَلِّمْ قَالَ أَبُو وَهْبٍ: وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رِزْمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ قَالَ: يَبْدَأُ فِي الرُّكُوعِ بِ: سُبْحَانَ رَبِيَ الْعَظِيمِ وَفِي السُّجُودِ بِ: سُبْحَانَ رَبِيَ الْأَعْلَى ثَلَاثًا، ثُمَّ يُسَبِّحُ التَّسْبِيحَاتِ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ: وَحَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي رِزْمَةَ، قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ: إِنْ سَهَا فِيهَا يُسَبِّحُ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ عَشْرًا عَشْرًا، قَالَ: لَا إِنَّمَا هِيَ ثَلَاثُ مِائَةِ تَسْبِيحَةٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮২
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة التسبیح
ابورافع (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (اپنے چچا) عباس (رض) سے فرمایا : اے چچا ! کیا میں آپ کے ساتھ صلہ رحمی نہ کروں، کیا میں آپ کو نہ دوں ؟ کیا میں آپ کو نفع نہ پہنچاؤں ؟ وہ بولے : کیوں نہیں، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا : آپ چار رکعت نماز پڑھیں، ہر رکعت میں سورة فاتحہ اور کوئی سورت پڑھیں، جب قرأت پوری ہوجائے تو «اللہ اکبر» ، «الحمد للہ» ، «سبحان اللہ» ، «لا إلہ إلا اللہ» پندرہ مرتبہ رکوع کرنے سے پہلے کہیں، پھر رکوع میں جائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات رکوع میں کہیں، پھر اپنا سر اٹھائیں اور یہی کلمات دس مرتبہ رکوع سے کھڑے ہو کر کہیں۔ پھر سجدے میں جائیں تو یہی کلمات دس مرتبہ کہیں، پھر سر اٹھائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔ پھر دوسرے سجدے میں جائیں تو دس مرتبہ یہی کلمات کہیں، پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائیں تو کھڑے ہونے سے پہلے دس مرتبہ یہی کلمات کہیں۔ اسی طرح ہر رکعت میں کہیں، یہ کل ٧٥ کلمات ہوئے اور چاروں رکعتوں میں تین سو کلمات ہوئے۔ تو اگر آپ کے گناہ بہت زیادہ ریت والے بادلوں کے برابر بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا ۔ تو انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! روزانہ یہ کلمات کہنے کی قدرت کس میں ہے ؟ آپ نے فرمایا : آپ روزانہ یہ کلمات نہیں کہہ سکتے تو ہر جمعہ کو کہیں اور اگر ہر جمعہ کو بھی نہیں کہہ سکتے تو ہر ماہ میں کہیں ، وہ برابر یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ آپ نے فرمایا : تو ایک سال میں آپ اسے کہہ لیں ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابورافع (رض) کی روایت سے غریب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٩٠ (١٣٨٦) ، ( تحفة الأشراف : ١٢٠١٥) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : عبداللہ بن عباس (رض) سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ اگر آپ سال بھر میں بھی ایک بار صلاۃ التسبیح نہ پڑھ سکتے ہوں تو پھر زندگی میں ایک بار ہی سہی ، عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے مروی بعض احادیث میں ذکر ہے کہ یہ صلاۃ التسبیح سورج ڈھلنے کے بعد پڑھی جائے ، اولیٰ ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (1386) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 482
حدیث نمبر: 482 حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ الْعُكْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: يَا عَمِّ أَلَا أَصِلُكَ أَلَا أَحْبُوكَ أَلَا أَنْفَعُكَ قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: يَا عَمِّ صَلِّ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ تَقْرَأُ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ، فَإِذَا انْقَضَتِ الْقِرَاءَةُ فَقُلْ: اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَرْكَعَ، ثُمَّ ارْكَعْ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا ثُمَّ اسْجُدْ فَقُلْهَا عَشْرًا ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ اسْجُدِ الثَّانِيَةَ فَقُلْهَا عَشْرًا، ثُمَّ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَقُلْهَا عَشْرًا قَبْلَ أَنْ تَقُومَ، فَتِلْكَ خَمْسٌ وَسَبْعُونَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ هِيَ ثَلَاثُ مِائَةٍ فِي أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ، فَلَوْ كَانَتْ ذُنُوبُكَ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ لَغَفَرَهَا اللَّهُ لَكَ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَقُولَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ، قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَقُولَهَا فِي كُلِّ يَوْمٍ فَقُلْهَا فِي جُمْعَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَقُولَهَا فِي جُمُعَةٍ فَقُلْهَا فِي شَهْرٍ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ لَهُ حَتَّى قَالَ: فَقُلْهَا فِي سَنَةٍ قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي رَافِعٍ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৩
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ پر درود کس طرح بھیجا جائے
کعب بن عجرہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا، اللہ کے رسول ! آپ پر سلام بھیجنا تو ہم نے جان لیا ہے ١ ؎ لیکن آپ پر صلاۃ (درود) بھیجنے کا طریقہ کیا ہے ؟۔ آپ نے فرمایا : کہو : «اللهم صل علی محمد وعلی آل محمد کما صليت علی إبراهيم إنک حميد مجيد وبارک علی محمد وعلی آل محمد کما بارکت علی إبراهيم إنک حميد مجيد» ٢ ؎ اے اللہ ! محمد اور آل محمد پر رحمت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید (تعریف کے قابل) اور مجید (بزرگی والا) ہے، اور محمد اور آل محمد پر برکت نازل فرما جیسا کہ تو نے ابراہیم پر برکت نازل فرمائی ہے، یقیناً تو حمید (تعریف کے قابل) اور مجید (بزرگی والا) ہے ۔ زائدہ نے بطریق اعمش عن الحکم عن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ ایک زائد لفظ کی روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا : اور ہم (درود میں) «وعلينا معهم» یعنی اور ہمارے اوپر بھی رحمت و برکت بھیج بھی کہتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- کعب بن عجرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں علی، ابوحمید، ابومسعود، طلحہ، ابوسعید، بریدہ، زید بن خارجہ اور ابوہریرہ (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ١٠ (٣٣٧) ، وتفسیر الأحزاب ١٠ (٤٧٩٧) ، والدعوات ٣٢ (٦٣٥٧) ، صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٦) ، سنن ابی داود/ الصلاة ١٨٣ (٩٧٦) ، سنن النسائی/السہو ٥١ (١٢٨٨) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة ٢٥ (٩٠٤) ، ( تحفة الأشراف : ١١١١٣) ، مسند احمد (٤/٢٤١، ٢٤٤) ، سنن الدارمی/الصلاة ٨٥ (١٣٨١) (صحیح) وضاحت : ١ ؎ : اس سے مراد وہ سلام ہے جو التحیات میں پڑھا جاتا ہے۔ ٢ ؎ : مولف نے درود ابراہیمی کے سلسلے میں مروی صرف ایک روایت کا ذکر کیا ہے ، اس باب میں کئی ایک روایات میں متعدد الفاظ وارد ہوئے ہیں ، عام طور پر جو درود ابراہیمی پڑھا جاتا ہے وہ صحیح طرق سے مروی ہے۔ قال الشيخ الألباني : صحيح، ابن ماجة (704) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 483
حدیث نمبر: 483 حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، وَالْأَجْلَحِ، وَمَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا السَّلَامُ عَلَيْكَ قَدْ عَلِمْنَا، فَكَيْفَ الصَّلَاةُ عَلَيْكَ ؟ قَالَ: قُولُوا اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ . قَالَ مَحْمُودٌ: قَالَ أَبُو أُسَامَةَ، وَزَادَنِي زَائِدَةُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: وَنَحْنُ نَقُولُ: وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَأَبِي حُمَيْدٍ، وَأَبِي مَسْعُودٍ، وَطَلْحَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَبُرَيْدَةَ، وَزَيْدِ بْنِ خَارِجَةَ، وَيُقَالُ: ابْنُ جَارِيَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى كُنْيَتُهُ أَبُو عِيسَى، وَأَبُو لَيْلَى اسْمُهُ: يَسَارٌ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৪
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ درود کی فضلیت کے بارے میں
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن مجھ سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ١ ؎ وہ ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ صلاۃ (درود) بھیجے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا جو مجھ پر ایک بار صلاۃ (درود) بھیجتا ہے، اللہ اس پر اس کے بدلے دس بار صلاۃ (درود) بھیجتا ہے ٢ ؎، اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں (یہی حدیث آگے آرہی ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٩٣٤) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن یعقوب صدوق لیکن سیٔ الحفظ راوی ہیں، اور محمد بن خالد بھی صدوق ہیں لیکن روایت میں خطا کرتے ہیں (التقریب) وضاحت : ١ ؎ : سب سے زیادہ قریب اور نزدیک ہونے کا مطلب ہے : میری شفاعت کا سب سے زیادہ حقدار ہے۔ ٢ ؎ : یعنی اپنی رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ قال الشيخ الألباني : ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 280) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 484
حدیث نمبر: 484 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَوْلَى النَّاسِ بِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلَاةً قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا وَكَتَبَ لَهُ بِهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৫
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ درود کی فضلیت کے بارے میں
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو مجھ پر ایک بار صلاۃ (درود) بھیجے گا، اللہ اس کے بدلے اس پر دس بار صلاۃ (درود) بھیجے گا ۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- ابوہریرہ (رض) کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف، عامر بن ربیعہ، عمار، ابوطلحہ، انس اور ابی بن کعب (رض) سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- سفیان ثوری اور دیگر کئی اہل علم سے مروی ہے کہ رب کے صلاۃ (درود) سے مراد اس کی رحمت ہے اور فرشتوں کے صلاۃ (درود) سے مراد استغفار ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصلاة ١٧ (٤٠٨) ، سنن ابی داود/ الصلاة ٣٦١ (١٥٣) ، سنن النسائی/السہو ٥٥ (١٢٩٧) ، ( تحفة الأشراف : ١٣٩٧٤) ، مسند احمد (٢/٣٧٣، ٣٧٥، ٤٨٥) ، سنن الدارمی/الرقاق ٥٨ (٢٨١٤) (صحیح) قال الشيخ الألباني : صحيح، صحيح أبي داود (1369) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 485
حدیث نمبر: 485 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ بِهَا عَشْرًا قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، وَعَمَّارٍ، وَأَبِي طَلْحَةَ، وَأَنَسٍ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرُوِي عَنْ سفيان الثوري وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: صَلَاةُ الرَّبِّ الرَّحْمَةُ وَصَلَاةُ الْمَلَائِكَةِ الِاسْتِغْفَارُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৬
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ درود کی فضلیت کے بارے میں
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان رکی رہتی ہے، اس میں سے ذرا سی بھی اوپر نہیں جاتی جب تک کہ تم اپنے نبی کریم ﷺ پر صلاۃ (درود) نہیں بھیج لیتے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٤٤٩) (حسن) (الصحیحة ٢٠٣٥) قال الشيخ الألباني : حسن، الصحيحة (2035) صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 486
حدیث نمبر: 486 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْمَصَاحِفِيُّ الْبَلْخِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْأَسَدِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .قَالَ أَبُو عِيسَى: يعقوب وهو مولى الحرقة، والعلاء هو من التابعين، سَمِعَ مِنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَغَيْرِهِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَعْقُوبَ وَالِدُ الْعَلَاءِ، وَهُوَ أَيْضًا مِنَ التَّابِعِينَ، سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَابْنِ عُمَرَ، وَيَعْقُوبَ جَدُّ الْعَلَاءِ هُوَ مِنْ كِبَارِ التَّابِعِينَ أَيْضًا، قَدْ أَدْرَكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَرَوَى عَنْهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৮৭
وترکا بیان
পরিচ্ছেদঃ درود کی فضلیت کے بارے میں
عمر بن خطاب (رض) کہتے ہیں : ہمارے بازار میں کوئی خرید و فروخت نہ کرے جب تک کہ وہ دین میں خوب سمجھ نہ پیدا کرلے ١ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں : ١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب یہ باپ بیٹے اور دادا تینوں تابعی ہیں، علاء کے دادا اور یعقوب کبار تابعین میں سے ہیں، انہوں نے عمر بن خطاب (رض) کو پایا ہے اور ان سے روایت بھی کی ہے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ١٠٦٥٨) (حسن الإسناد) وضاحت : ١ ؎ : یعنی معاملات کے مسائل نہ سمجھ لے۔ ٢ ؎ : اور اسی بات کو ثابت کرنے کے لیے مولف اس اثر کو اس باب میں لائے ہیں ، ورنہ اس اثر کا اس باب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اوپر حدیث نمبر ( ٤٨٥) میں علاء بن عبدالرحمٰن کا ذکر ہے جنہوں نے اپنے والد کے واسطہ سے ابوہریرہ سے روایت کی ہے یہاں انہیں سب کا تعارف مقصود ہے۔ قال الشيخ الألباني : حسن الإسناد صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني : حديث نمبر 487
حدیث نمبر: 487 حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: لَا يَبِعْ فِي سُوقِنَا إِلَّا مَنْ قَدْ تَفَقَّهَ فِي الدِّينِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، عَبَّاسٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ،
তাহকীক: