আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

صلہ رحمی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৩ টি

হাদীস নং: ৬৬২০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
ابن ابی عمر سفیان، ابوزناد حضرت ابوالزناد اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح بیان کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَوْ جَلَدُّهُ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ وَهِيَ لُغَةُ أَبِي هُرَيْرَةَ وَإِنَّمَا هِيَ جَلَدْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
سلیمان بن معبد سلیمان بن حرب حماد بن زید ایوب عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کرتے ہیں۔
حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید سالم نضر حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اے اللہ میں جس مومن بندے کو برا کہوں تو تو اسے اس بندے کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کو ذریعہ بنا دے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ سَالِمٍ مَوْلَی النَّصْرِيِّينَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّمَا مُحَمَّدٌ بَشَرٌ يَغْضَبُ کَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ وَإِنِّي قَدْ اتَّخَذْتُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ آذَيْتُهُ أَوْ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ کَفَّارَةً وَقُرْبَةً تُقَرِّبُهُ بِهَا إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں اے اللہ میں جس مومن بندے کو برا کہوں تو تو اسے اس بندے کے لئے قیامت کے دن اپنے قرب کا ذریعہ بنا دے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِکَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْکَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
زہیر بن حرب، عبد بن حمید زہیر یعقوب بن ابراہیم، ابن اخی ابن شہاب عمہ سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ارشاد فرماتے ہیں اے اللہ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں اور تو ہرگز وعدے کے خلاف نہیں کرتا میں جس مومن کا بھی برا کہوں یا اسے سزا دوں تو قیامت کے دن اسے اس کے لئے کفارہ کر دے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي اتَّخَذْتُ عِنْدَکَ عَهْدًا لَنْ تُخْلِفَنِيهِ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِکَ کَفَّارَةً لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
ہارون بن عبداللہ حجاج بن شاعر، حجاج بن محمد ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں تو صرف ایک انسان ہوں اور میں نے اپنے رب تعالیٰ سے یہ وعدہ کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے جس بندے کو میں سب و شتم کروں تو تو اسے اس کے لئے پاکیزگی اور اجر کا ذریعہ بنا دے۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَی رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَيُّ عَبْدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ شَتَمْتُهُ أَنْ يَکُونَ ذَلِکَ لَهُ زَکَاةً وَأَجْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
ابن ابی خلف روح عبد بن حمید ابوعاصم، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِيهِ ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ ح و حَدَّثَنَاه عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
زہیر بن حرب، ابومعن رقاشی زہیر اسحاق بن ابی طلحہ حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ام سلیم کے پاس ایک یتیم بچی تھی اور وہ ام انس تھی رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا یہ تو وہی بچی ہے تو تو بڑی ہوگئی ہے اللہ کرے تیری عمر بڑی نہ ہو یہ سن کر وہ لڑکی ام سلیم کے پاس روتے ہوئے آئی ام سلیم نے کہا اے بیٹی تجھے کیا ہوا اس لڑکی نے کہا رسول اللہ ﷺ نے مجھے بد دعا دی ہے کہ میری عمر بڑی نہ ہو تو اب میں کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی یا اس نے کہا میرا زمانہ زیادہ نہ ہوگا تو حضرت ام سلیم جلدی میں اپنے سر پر چادر اوڑھتے ہوئے نکلی یہاں تک کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا اے ام سلیم تجے کیا ہوا حضرت ام سلیم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی کیا آپ ﷺ نے میری یتیم بچی کے لئے بد دعا کی ہے آپ نے فرمایا اے ام سلیم وہ کیا ؟ حضرت ام سلیم نے عرض کیا اس بچی کا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے اسے یہ بد دعا دی ہے کہ اس کی عمر بڑی نہ ہو اور نہ اس کا زمانہ بڑا ہو راوی کہتے ہیں کہ اس کی عمر بڑی نہ ہو اور نہ اس کا زمانہ بڑا ہو راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ سن کر ہنسے پھر فرمایا اے ام سلیم کیا تو نہیں جانتی کہ میں نے اپنے پروردگار سے شرط لگائی ہے اور میں نے عرض کیا ہے کہ میں ایک انسان ہوں میں راضی ہوتا ہوں جس طرح کہ انسان راضی ہوتا ہے اور مجھے غصہ آتا ہے جس طرح کہ انسان کو غصہ آتا ہے تو اگر میں اپنی امت میں سے کسی آدمی کو بد دعا دوں اور وہ اس بد دعا کا مستحق نہ ہو تو (اے اللہ ! ) اس بد دعا کو اس کے لئے پاکیزگی کا سبب بنادینا اور اسے اس کے لئے ایسا قرب کرنا کہ جس سے وہ قیامت کے دن تجھ سے تقرب حاصل کرے۔ راوی ابومعن نے تینوں جگہ یتیمہ تصغیر کے ساتھ ذکر کیا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو مَعْنٍ الرَّقَاشِيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ کَانَتْ عِنْدَ أُمِّ سُلَيْمٍ يَتِيمَةٌ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ فَرَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَتِيمَةَ فَقَالَ آنْتِ هِيَهْ لَقَدْ کَبِرْتِ لَا کَبِرَ سِنُّکِ فَرَجَعَتْ الْيَتِيمَةُ إِلَی أُمِّ سُلَيْمٍ تَبْکِي فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَا لَکِ يَا بُنَيَّةُ قَالَتْ الْجَارِيَةُ دَعَا عَلَيَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يَکْبَرَ سِنِّي فَالْآنَ لَا يَکْبَرُ سِنِّي أَبَدًا أَوْ قَالَتْ قَرْنِي فَخَرَجَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مُسْتَعْجِلَةً تَلُوثُ خِمَارَهَا حَتَّی لَقِيَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَکِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَدَعَوْتَ عَلَی يَتِيمَتِي قَالَ وَمَا ذَاکِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ زَعَمَتْ أَنَّکَ دَعَوْتَ أَنْ لَا يَکْبَرَ سِنُّهَا وَلَا يَکْبَرَ قَرْنُهَا قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ أَمَا تَعْلَمِينَ أَنَّ شَرْطِي عَلَی رَبِّي أَنِّي اشْتَرَطْتُ عَلَی رَبِّي فَقُلْتُ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَرْضَی کَمَا يَرْضَی الْبَشَرُ وَأَغْضَبُ کَمَا يَغْضَبُ الْبَشَرُ فَأَيُّمَا أَحَدٍ دَعَوْتُ عَلَيْهِ مِنْ أُمَّتِي بِدَعْوَةٍ لَيْسَ لَهَا بِأَهْلٍ أَنْ يَجْعَلَهَا لَهُ طَهُورًا وَزَکَاةً وَقُرْبَةً يُقَرِّبُهُ بِهَا مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ و قَالَ أَبُو مَعْنٍ يُتَيِّمَةٌ بِالتَّصْغِيرِ فِي الْمَوَاضِعِ الثَّلَاثَةِ مِنْ الْحَدِيثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
محمد بن مثنی، عنبری ابن بشار ابن مثنی امیہ بن خالد شعبہ، ابی حمزہ قصاب حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہ اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو میں دروازے کے پیچھے چھپ گیا حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے مجھے میرے دونوں کندھوں کے درمیان تھپکی دی اور فرمایا جاؤ معاویہ کو بلا کر لاؤ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں آیا اور پھر میں نے عرض کیا وہ (کھانا) کھا رہے ہیں ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا جاؤ معاویہ کو بلا کر لاؤ حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے پھر آ کر عرض کیا وہ کھانا کھا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس کا پیٹ نہ بھرے ابن المثنی نے کہا میں نے امیہ سے کہا حطانی کیا ہے انہوں نے کہا تھپکی دینا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ الْقَصَّابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَوَارَيْتُ خَلْفَ بَابٍ قَالَ فَجَائَ فَحَطَأَنِي حَطْأَةً وَقَالَ اذْهَبْ وَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْکُلُ قَالَ ثُمَّ قَالَ لِيَ اذْهَبْ فَادْعُ لِي مُعَاوِيَةَ قَالَ فَجِئْتُ فَقُلْتُ هُوَ يَأْکُلُ فَقَالَ لَا أَشْبَعَ اللَّهُ بَطْنَهُ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی قُلْتُ لِأُمَيَّةَ مَا حَطَأَنِي قَالَ قَفَدَنِي قَفْدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬২৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ایسے آدمی پر لعنت کرنا یا اسکے خلاف دعا فرمانا حالانکہ وہ اس کا مستحق نہ ہو تو وہ ایسے آدمی کے لئے اجر اور رحمت ہے۔
اسحاق بن منصور نضر بن شمیل شعبہ، ابوحمزہ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا تو اچانک رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے تو میں آپ ﷺ سے چھپ گیا پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا أَبُو حَمْزَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا کُنْتُ أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَجَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَبَأْتُ مِنْهُ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رخے انسان کی مذمت کے اور اس طرح کرنے کی حرمت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن زناد اعرج حضرت ابویوہرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں میں سب سے برا وہ آدمی ہے جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رخے انسان کی مذمت کے اور اس طرح کرنے کی حرمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، یزید بن ابی حبیب، عراک ابن مالک حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں میں سب سے برا وہ آدمی ہے کہ جو دو رخوں والا ہے کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسرے لوگوں کے پاس جاتا ہے اس کا رخ اور ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ ذُو الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دو رخے انسان کی مذمت کے اور اس طرح کرنے کی حرمت کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مشیب حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم قیامت کے دن سب سے زیادہ برے حال میں اس آدمی کو پاؤ گے کہ جو کچھ لوگوں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے اور دوسروں کے پاس جاتا ہے تو اس کا رخ اور ہوتا ہے۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجِدُونَ مِنْ شَرِّ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ بولنے کی حرمت اور اس کے جواز کی صورتوں کے بیان میں
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس حضرت ابن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ حمید بن عبدالرحمن بن عوف (رض) نے مجھے خبر دی ہے کہ ان کی والدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط ابتداء ٍہجرت اور نبی ﷺ سے بیعت کرنے والوں میں سے تھیں وہ خبر دیتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ آدمی جھوٹا نہیں ہے کہ جو لوگوں کے درمیان صلح کراتا ہے اور اچھی بات کہتا ہے اور دوسرے کی طرف اچھی بات منسوب کرتا ہے ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں سے صرف تین موقعوں پر جھوٹ بولنے کا جواز سنا ہے (1) جنگ (2) لوگوں کے درمیان صلح کرتے وقت (3) آدمی کا اپنی بیوی سے بات کرتے وقت اور بیوی کا اپنے خاوند سے بات کرتے وقت۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ أُمَّهُ أُمَّ کُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ وَکَانَتْ مِنْ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لَيْسَ الْکَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَلَمْ أَسْمَعْ يُرَخَّصُ فِي شَيْئٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ کَذِبٌ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ الْحَرْبُ وَالْإِصْلَاحُ بَيْنَ النَّاسِ وَحَدِيثُ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ وَحَدِيثُ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ بولنے کی حرمت اور اس کے جواز کی صورتوں کے بیان میں
عمرو ناقد یعقوب بن ابراہیم، سعد ابوصالح محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ حضرت ابن شہاب (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ وَقَالَتْ وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْئٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ بِمِثْلِ مَا جَعَلَهُ يُونُسُ مِنْ قَوْلِ ابْنِ شِهَابٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ بولنے کی حرمت اور اس کے جواز کی صورتوں کے بیان میں
عمروناقد، اسماعیل بن ابراہیم، زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں دوسرے آدمی کی طرف خیر کی بات منسوب کرنے کا ذکر ہے اور اس کے بعد کا ذکر نہیں ہے۔
و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَی قَوْلِهِ وَنَمَی خَيْرًا وَلَمْ يَذْکُرْ مَا بَعْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چغلی کی حرمت کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، ابوالاحوص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ سخت قبیح چیز کیا ہے وہ چغلی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت اور دشمنی پھیلاتی ہے اور حضرت محمد ﷺ نے فرمایا آدمی سچ کہتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ سچا لکھا جاتا ہے اور وہ جھوٹ کہتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُنَبِّئُکُمْ مَا الْعَضْهُ هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّی يُکْتَبَ صِدِّيقًا وَيَکْذِبُ حَتَّی يُکْتَبَ کَذَّابًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، اسحاق جریر، منصور ابو وائل حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا سچ نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے کر جاتی ہے اور انسانی سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ سچا لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور انسان جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ حَتَّی يُکْتَبَ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِي إِلَی الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَکْذِبُ حَتَّی يُکْتَبَ کَذَّابًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شبیہ ہناد بن سری ابوالاحوص منصور ابو وائل حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور بندہ سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور جھوٹ برائی ہے اور یہ برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے اور بندہ جھوٹ بولنے میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الصِّدْقَ بِرٌّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِنَّ الْکَذِبَ فُجُورٌ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتَّی يُکْتَبَ کَذَّابًا قَالَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৩৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ بولنے کی برائی اور سچ بولنے کی اچھائی اور اس کے فضلیت کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابومعاویہ وکیع، ابوکریب ابومعاویہ اعمش، شقیق حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم پر سچ بولنا لازم ہے کیونکہ سچ بولنا نیکی کا راستہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے اور انسان لگاتار سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے اور تم لوگ جھوٹ بولنے سے بچو کیونکہ جھوٹ برائی کا راستہ دکھاتا ہے اور برائی دوزخ کا راستہ دکھاتی ہے اور انسان لگاتار جھوٹ بولتا رہتا ہے جھوٹ بولنے کا متمنی رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَکِيعٌ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْکُمْ بِالصِّدْقِ فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَی الْبِرِّ وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَی الْجَنَّةِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ وَيَتَحَرَّی الصِّدْقَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا وَإِيَّاکُمْ وَالْکَذِبَ فَإِنَّ الْکَذِبَ يَهْدِي إِلَی الْفُجُورِ وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِي إِلَی النَّارِ وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَکْذِبُ وَيَتَحَرَّی الْکَذِبَ حَتَّی يُکْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ کَذَّابًا
tahqiq

তাহকীক: