আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

صلہ رحمی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২২৩ টি

হাদীস নং: ৬৬৮০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تکبر کی حرمت کے بیان میں
احمد بن یوسف ازدی عمر ابن حفص بن غیاث ابی اعمش، اسحاق ابی مسلم حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عزت اللہ کی تعالیٰ کی ازار ہے اور کبریائی اللہ تعالیٰ کی رداء ہے تو جو آدمی مجھ سے یہ صفتیں چھینے گا میں اسے عذاب دوں گا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْأَغَرِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِزُّ إِزَارُهُ وَالْکِبْرِيَائُ رِدَاؤُهُ فَمَنْ يُنَازِعُنِي عَذَّبْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کسی انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے نا امید کرنے کی ممانعت کے بیان میں
سوید بن سعید، معتمر بن سلیمان، ابوعمران جونی حضرت جندب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایک آدمی نے کہا اللہ کی قسم اللہ فلاں آدمی کی مغفرت نہیں فرمائے گا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کون آدمی ہے جو میرے بارے میں قسم کھاتا ہے کہ میں فلاں آدمی کی مغفرت نہیں کروں گا۔ (وہ سن لے) میں نے فلاں کو معاف کردیا اور میں نے تیرے اعمال ضائع کر دئے یا جیسا کہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُعْتَمِرِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ وَاللَّهِ لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لِفُلَانٍ وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَی قَالَ مَنْ ذَا الَّذِي يَتَأَلَّی عَلَيَّ أَنْ لَا أَغْفِرَ لِفُلَانٍ فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لِفُلَانٍ وَأَحْبَطْتُ عَمَلَکَ أَوْ کَمَا قَالَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کمزوروں اور گمناموں کی فضلیت کے بیان میں
سوید بن سعید، حفص بن میسرہ علاء، بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہت سے پراگندہ بالوں والے دروازوں سے دھتکارے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے اعتماد پر قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا کردیتا ہے۔
حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَی اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگ ہلاک ہوگئی کہنے کی ممانعت کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ، بن قعنب، حماد بن سلمہ، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب کسی آدمی نے کہا : لوگ ہلاک ہوگئے تو وہ خود ان سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَالَ الرَّجُلُ هَلَکَ النَّاسُ فَهُوَ أَهْلَکُهُمْ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ لَا أَدْرِي أَهْلَکَهُمْ بِالنَّصْبِ أَوْ أَهْلَکُهُمْ بِالرَّفْعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ لوگ ہلاک ہوگئی کہنے کی ممانعت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، روح بن قاسم، احمد بن عثمان بن حکیم، بن مخلد، سلیمان بن بلال سہیل اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ جَمِيعًا عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، قتیبہ محمد بن رمح، لیث، بن سعد ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ یزید بن ہارون، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی یحییٰ بن سعید ابوبکر ابن محمد عمر بن حزم عمرہ سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جبرائیل (علیہ السلام) مجھے ہمیشہ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث بنادیں گے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِي أَبُو بَکْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيُوَرِّثَنَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں
عمرو ناقد عبدالعزیز بن ابی حازم، ہشام بن عروہ اس سند سے بھی سیدہ عائشہ (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں
عبیداللہ بن عمر قواریری یزید بن زریع عمر ابن محمد حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے جبرائیل (علیہ السلام) ہمیشہ پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ عنقریب اسے وراث قرار دے دیں گے۔
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّی ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں
ابوکامل جحدری اسحاق بن ابراہیم، اسحاق ابوکامل اسحاق عبدالعزیز بن عبدالصمد ابوعمران عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوذر جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کرلے اور اپنے پڑوسی کی خبر گیری کرلے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأَکْثِرْ مَائَهَا وَتَعَاهَدْ جِيرَانَکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৮৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ادریس شعبہ، ابوکریب ابن ادریس شعبہ، ابوعمران جونی عبداللہ بن صامت حضرت ابوزر (رض) سے روایت ہے کہ میرے حبیب ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی کہ جب تو سالن پکائے تو اس کے شوربہ کو زیادہ کرلے پھر اپنے پڑوس کے گھر والوں کو دیکھ لے اور انہیں اس میں سے نیکی کے ساتھ بھیج دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ إِنَّ خَلِيلِي صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَانِي إِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَأَکْثِرْ مَائَهُ ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِکَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯০
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ملاقات کے وقت خندہ پیشانی سے ملنے کے استح کے بیان میں
ابوغسان مسمعی عثمان بن عمر ابوعامر خزاز ابوعمران جونی عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا نیکی میں کسی بھی چیز کو حقیر نہ سمجھو اگرچہ تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی (خوش روی) سے ہی ملے۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْخَزَّازَ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْقِرَنَّ مِنْ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا وَلَوْ أَنْ تَلْقَی أَخَاکَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯১
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جو حرام کام نہ ہو اس میں سفارش کے استح کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، حفص بن غیاث یزید بن عبداللہ (رض) حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کوئی ضرورت مند حاضر ہوتا تو آپ ﷺ اپنی مجلس میں موجود حاضرین کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے کہ تم اس کی سفارش کرو تمہیں ثواب دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کی زبان پر وہی کلمہ جاری کروائے گا جسے وہ پسند کرتا ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَاهُ طَالِبُ حَاجَةٍ أَقْبَلَ عَلَی جُلَسَائِهِ فَقَالَ اشْفَعُوا فَلْتُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯২
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نیکی لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور بری ہم نشینی سے پرہیز کرنے کے مستحب ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، سفیان بن عیینہ، برید بن عبداللہ حضرت ابوموسی (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نیک ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال خوشبو والے اور بھٹی دھونکنے والے کی طرح ہے پس خوشبو والا یا تو تجھے کچھ ویسے ہی عطا کر دے گا یا تو اس سے خرید لے گا ورنہ تو اس سے عمدہ خوشبو تو پائے گا ہی اور بھٹی دھونکنے والا یا تو تیرے کپڑے جلا دے گا ورنہ تو اس بدبو کو تو پائے ہی گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالْجَلِيسِ السَّوْئِ کَحَامِلِ الْمِسْکِ وَنَافِخِ الْکِيرِ فَحَامِلُ الْمِسْکِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَکَ وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً وَنَافِخُ الْکِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَکَ وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৩
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن قہزاد سلیم بن سلیمان عبداللہ معمر، ابن شہاب عبداللہ بن ابی بکر بن حزم عروہ عبداللہ بن عبدالرحمن بن بہزام ابوبکر بن اسحاق ابویمان شعبی، زہری، عبداللہ بن ابی بکر عروہ بن زبیر عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک عورت آئی اور اس کے ہمراہ اس کی دو بیٹیاں تھیں اس نے مجھ سے مانگا لیکن میرے پاس ایک کھجور کے سوا کچھ نہ تھا میں نے اسے وہی عطا کردی پس اس نے لے کر اسے اپنی دونوں بیٹیوں کو تقسیم کر کے دے دیا اور اس نے خود کچھ نہ کھایا پھر کھڑی ہوئی اور وہ اور اس کی بیٹیاں چلی گئیں پھر نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے آپ ﷺ سے اس کی اس حرکت کو بیان کیا تو نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کو بیٹیوں کے ساتھ آزمایا گیا اور اس نے ان سے اچھا سلوک کیا تو وہ اس مرد کے لئے جہنم سے پردہ ہوں گی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرِ بْنِ حَزْمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بِهْرَامَ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ جَائَتْنِي امْرَأَةٌ وَمَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا فَسَأَلَتْنِي فَلَمْ تَجِدْ عِنْدِي شَيْئًا غَيْرَ تَمْرَةٍ وَاحِدَةٍ فَأَعْطَيْتُهَا إِيَّاهَا فَأَخَذَتْهَا فَقَسَمَتْهَا بَيْنَ ابْنَتَيْهَا وَلَمْ تَأْکُلْ مِنْهَا شَيْئًا ثُمَّ قَامَتْ فَخَرَجَتْ وَابْنَتَاهَا فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ ابْتُلِيَ مِنْ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ فَأَحْسَنَ إِلَيْهِنَّ کُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৪
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، بکر ابن مضر ابن ہاد ابن زیاد ابن عباس عراک بن مالک عمر بن عبدالعزیز سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میرے پاس ایک مسکین عورت اپنی دو بیٹیاں اٹھائے ہوئے آئی میں نے اسے تین کھجوریں دیں اور اس نے اپنی دونوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کو اپنے منہ میں کھانے کے لئے رکھ لیا پھر اس کی لڑکیوں نے اس سے یہ کھجور بھی کھانے کے لئے طلب کی تو اس نے اس کھجور کو دو ٹکڑوں میں توڑ کر ان دونوں کو دے دیا جسے وہ خود کھانے کا ارادہ رکھتی تھی مجھے اس کی اس حالت نے متعجب کردیا پس میں نے اس کے اس واقعہ کو رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اس عمل نے اس کے لئے جنت کو واجب کردیا ہے اور جہنم سے اسے آزاد کردیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ أَنَّ زِيَادَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَی ابْنِ عَيَّاشٍ حَدَّثَهُ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ جَائَتْنِي مِسْکِينَةٌ تَحْمِلُ ابْنَتَيْنِ لَهَا فَأَطْعَمْتُهَا ثَلَاثَ تَمَرَاتٍ فَأَعْطَتْ کُلَّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا تَمْرَةً وَرَفَعَتْ إِلَی فِيهَا تَمْرَةً لِتَأْکُلَهَا فَاسْتَطْعَمَتْهَا ابْنَتَاهَا فَشَقَّتْ التَّمْرَةَ الَّتِي کَانَتْ تُرِيدُ أَنْ تَأْکُلَهَا بَيْنَهُمَا فَأَعْجَبَنِي شَأْنُهَا فَذَکَرْتُ الَّذِي صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৫
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیٹیوں کے ساتھ حسن سلوک کی فضلیت کے بیان میں
عمرو ناقد ابواحمد ابوبکر بن انس حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں میں اور وہ قیامت کے دن اس طرح ہوں گے اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَالَ جَارِيَتَيْنِ حَتَّی تَبْلُغَا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَا وَهُوَ وَضَمَّ أَصَابِعَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৬
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب سعید بن مسیب حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس مسلمان آدمی کے تین بچے فوت ہوجائیں اسے آگ صرف قسم کو پورا کرنے کے لئے چھوئے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَمُوتُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَمَسَّهُ النَّارُ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৭
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو نا قد زہیر بن حرب سفیان بن عیینہ، عبد بن حمید ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، مالک ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے البتہ حضرت سفیان کی حدیث میں ہے کہ وہ صرف قسم کو پورا کرنے کے لئے جہنم میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَابْنُ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَالِکٍ وَبِمَعْنَی حَدِيثِهِ إِلَّا أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৮
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز ابن محمد سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی عورتوں سے فرمایا تم میں سے جس کسی کے بھی تین بچے فوت ہوجائیں گے اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے گی تو جنت میں داخل ہوگی ان میں سے ایک عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اگر دو مرجائیں ؟ (تو کیا حکم ہے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا : یا دو (یعنی دو مرجائیں تب بھی یہی حکم ہے ) ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاکُنَّ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَتَحْتَسِبَهُ إِلَّا دَخَلَتْ الْجَنَّةَ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ أَوْ اثْنَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَوْ اثْنَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৬৯৯
صلہ رحمی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جس کے بچے فوت ہوجائیں اور وہ ثواب کی امید پر صبر کرے اس کی فضلیت کے بیان میں
ابوکامل جحدری فضیل بن حسین ابوعوانہ، عبدالرحمن بن اصبہانی ابوصالح ذکوان حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول مرد تو آپ ﷺ سے احادیث لے گئے اور آپ ﷺ اپنے پاس سے ایک دن ہمارے لئے بھی مقرر کردیں تاکہ ہم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ ﷺ سے وہ تعلیم حاصل کریں جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم فلاں فلاں دن جمع ہوا کرو پس وہ جمع ہوگئیں اور رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور انہیں (احکام کی) تعلیم دی جو اللہ نے آپ ﷺ کو سکھائی تھے پھر فرمایا تم میں سے جو عورت اپنے سے پہلے اپنے تین بچوں کو بھیجے گی تو وہ اس کے لئے جہنم سے پردہ ہوں گے ایک عورت نے کہا اور دو اور دو اور دو ؟ (کا کیا حکم ہے ؟ ) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور دو اور دو اور دو ۔ (کے لئے بھی یہی بشارت ہے) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَکْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِکَ فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِکَ يَوْمًا نَأْتِيکَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَکَ اللَّهُ قَالَ اجْتَمِعْنَ يَوْمَ کَذَا وَکَذَا فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ مَا مِنْکُنَّ مِنْ امْرَأَةٍ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلَاثَةً إِلَّا کَانُوا لَهَا حِجَابًا مِنْ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ
tahqiq

তাহকীক: