আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৪১ টি
হাদীস নং: ৫৯১৭
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
ابن مثنی عبیداللہ بن سعید یحییٰ عبیداللہ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ الْمُثَنَّی وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯১৮
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوابوں کے اللہ کی طرف سے اور نبوت کا جزء ہونے کے بیان میں
قتیبہ ابن رمح لیث، بن سعد ابن رافع ابن ابی فدیک ضحاک ابن عثمان نافع لیث، حضرت نافع (رح) سے روایت ہے کہ میرا گمان ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) نے کہا خواب نبوت کے ستر اجزاء میں سے ایک جزء ہیں۔
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ قَالَ نَافِعٌ حَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ جُزْئٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْئًا مِنْ النُّبُوَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯১৯
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے تحقیق مجھے ہی دیکھا کے بیان میں
ابوربیع سلیمان بن داؤد عتکی حماد ابن زید ایوب ہشام محمد حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ وَهِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২০
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے تحقیق مجھے ہی دیکھا کے بیان میں
ابوطاہر حرملہ ابن وہب، یونس ابن شہاب ابوسلمہ بن عبدالرحمن حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا عنقریب وہ مجھے بیداری میں دیکھے گا یا گویا کہ اس نے مجھے بیداری میں دیکھا شیطان میری شکل و صورت نہیں اختیار کرسکتا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَسَيَرَانِي فِي الْيَقَظَةِ أَوْ لَکَأَنَّمَا رَآنِي فِي الْيَقَظَةِ لَا يَتَمَثَّلُ الشَّيْطَانُ بِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২১
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے تحقیق مجھے ہی دیکھا کے بیان میں
ابوسلمہ حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے خواب میں دیکھا تحقیق ! اس نے حق کو ہی دیکھا۔
وَقَالَ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فَقَدْ رَأَی الْحَقَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২২
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے تحقیق مجھے ہی دیکھا کے بیان میں
زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، زہری، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا عَمِّي فَذَكَرَ الْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا بِإِسْنَادَيْهِمَا سَوَاءً مِثْلَ حَدِيثِ يُونُسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২৩
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے تحقیق مجھے ہی دیکھا کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح ابی زبیر حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے مجھے نیند میں دیکھا تحقیق اس نے مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان کے لئے یہ بات مناسب نہیں وہ کہ میری صورت اختیار کرے اور جب تم میں سے کوئی برا خواب دیکھے تو کسی کو نہ بتائے کہ خواب میں اس کے ساتھ شیطان کھیلتا ہے۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي إِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَمَثَّلَ فِي صُورَتِي وَقَالَ إِذَا حَلَمَ أَحَدُکُمْ فَلَا يُخْبِرْ أَحَدًا بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي الْمَنَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২৪
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کے فرمان جس نے مجھے خواب میں دیکھا اس نے تحقیق مجھے ہی دیکھا کے بیان میں
محمد بن حاتم، روح زکریا بن اسحاق ابوزبیر حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے نیند میں مجھے دیکھا تو تحقیق مجھے ہی دیکھا کیونکہ شیطان کے لئے مناسب نہیں کہ وہ میری مشابہت اختیار کرلے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَآنِي فِي النَّوْمِ فَقَدْ رَآنِي فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِلشَّيْطَانِ أَنْ يَتَشَبَّهَ بِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২৫
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھلینے کی خبر نہ دینے کی بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کو ایک اعرابی نے آکر عرض کیا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرا سر کاٹ دیا گیا ہے اور میں اس کے پیچھے جاتا ہوں تو نبی ﷺ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا اپنے ساتھ شیطان کے کھیلنے کی خبر نہ دو ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِأَعْرَابِيٍّ جَائَهُ فَقَالَ إِنِّي حَلَمْتُ أَنَّ رَأْسِي قُطِعَ فَأَنَا أَتَّبِعُهُ فَزَجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ لَا تُخْبِرْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِکَ فِي الْمَنَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২৬
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھلینے کی خبر نہ دینے کی بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا سر کاٹا گیا ہے پھر وہ لڑھکتا ہوا جا رہا ہے اور میں اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے اعرابی سے فرمایا اپنے ساتھ خواب میں شیطان کے کھیلنے کا لوگوں سے بیان نہ کرو اور جابر (رض) نے کہا میں نے نبی ﷺ سے اس کے بعد خطبہ دیتے ہوئے سنا آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی اپنے ساتھ خواب میں شیطان کے کھیلنے کو بیان نہ کرے۔
و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ أَعْرَابِيٌّ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّ رَأْسِي ضُرِبَ فَتَدَحْرَجَ فَاشْتَدَدْتُ عَلَی أَثَرِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْأَعْرَابِيِّ لَا تُحَدِّثْ النَّاسَ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِکَ فِي مَنَامِکَ وَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَخْطُبُ فَقَالَ لَا يُحَدِّثَنَّ أَحَدُکُمْ بِتَلَعُّبِ الشَّيْطَانِ بِهِ فِي مَنَامِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২৭
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خواب میں شیطان کے اپنے ساتھ کھلینے کی خبر نہ دینے کی بیان میں
ابوبکر بن ابی شبیہ ابوسعید اشج وکیع، اعمش، ابوسفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے خواب میں دیکھا گویا کہ میرا سر کاٹ دیا گیا نبی ﷺ ہنس پڑے اور فرمایا جب تم میں سے کسی کے ساتھ اس کے خواب میں شیطان کھیلے تو اپنے اس خواب کا لوگوں سے تذکرہ نہ کیا کرو اور ابوبکر کی روایت میں ہے جب تم میں سے کسی کے ساتھ کھیلا جائے اور شیطان کا ذکر نہیں کیا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ کَأَنَّ رَأْسِي قُطِعَ قَالَ فَضَحِکَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِکُمْ فِي مَنَامِهِ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ النَّاسَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ إِذَا لُعِبَ بِأَحَدِکُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ الشَّيْطَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২৮
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
حاجب بن ولید، محمد بن حرب، زبیدی، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، ابن عباس یا ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے آج رات خواب میں بادل دیکھے جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا ہے میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس سے اپنے اپنے ہاتھوں میں چلو بھر بھر کرلے رہے ہیں ان میں سے بعض زیادہ لے رہے ہیں اور بعض کم اور میں نے ایک رسی دیکھی جو آسمان سے زمین تک ہے میں نے آپ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے اس رسی کو پکڑا اور اوپر چڑھ گئے پھر آپ ﷺ کے بعد ایک آدمی نے اسے پکڑا وہ بھی چڑھ گیا پھر ایک دوسرا آدمی بھی اسے پکڑ کر اوپر چڑھ گیا پھر ایک اور آدمی نے اسے پکڑا تو وہ رسی ٹوٹ گئی پھر اس کے لئے جوڑ دی گئی تو وہ چڑھ گیا حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان اللہ کی قسم آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی تعبیر کروں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تعبیر کرو۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا بادل سے مراد اسلام کا سایہ ہے اور گھی اور شہد کے ٹپکنے سے مراد قرآن مجید کی حلاوت و نرمی ہے اس سے لوگوں کا حاصل کرنا قرآن مجید سے کم اور زیادہ حاصل کرنے کے مترادف ہے اور رسی جو آسمان سے زمین تک ہے اس سے مراد وہ حق ہے جس پر آپ ﷺ قائم ہیں آپ ﷺ اسے مضبوطی سے تھامے ہوئے ہیں اللہ اس کے ذریعے آپ ﷺ کو بلند فرمائے گا پھر آپ ﷺ کے بعد جو آدمی اس کو تھامے گا وہ اس کے ذریعہ بلند ہوگا پھر اس کے بعد دوسرا آدمی پکڑے گا وہ بھی بلند ہوجائے گا پھر اس کے بعد ایک دوسرا آدمی پکڑے گا وہ بھی بلند ہوجائے گا پھر اس کے بعد ایک دوسرا آدمی پکڑے گا تو اس سے دین میں خلل واقع ہوگا لیکن وہ خرابی دور ہوجائے گی اور وہ بھی بلندی پر چلا جائے گا اے اللہ کے رسول میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان آپ ﷺ مجھے بتائیں کہ میں نے تعیبر درست کی ہے یا خطاء کی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بعض تعبیر تو نے درست کی ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے ابوبکر (رض) نے عرض کیا اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول آپ ﷺ مجھے بتائیں جو میں نے غلطی کی آپ ﷺ نے فرمایا قسم مت دو ۔
حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ الزُّبَيْدِيِّ أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَوْ أَبَا هُرَيْرَةَ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَی اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ فَأَرَی النَّاسَ يَتَکَفَّفُونَ مِنْهَا بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَی سَبَبًا وَاصِلًا مِنْ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ فَأَرَاکَ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَعَلَا ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلَا ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ بِهِ ثُمَّ وُصِلَ لَهُ فَعَلَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَاللَّهِ لَتَدَعَنِّي فَلَأَعْبُرَنَّهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اعْبُرْهَا قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الَّذِي يَنْطِفُ مِنْ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُهُ وَلِينُهُ وَأَمَّا مَا يَتَکَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذَلِکَ فَالْمُسْتَکْثِرُ مِنْ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنْ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيکَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ بِهِ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ فَأَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا قَالَ فَوَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ قَالَ لَا تُقْسِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯২৯
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
ابن ابی عمر سفیان، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد سے واپسی پر ایک آدمی نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آج رات میں نے خواب میں ایک بادل دیکھا جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا باقی حدیث یونس کی روایت کے مطابق ہے۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْصَرَفَهُ مِنْ أُحُدٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ ظُلَّةً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ بِمَعْنَی حَدِيثِ يُونُسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩০
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ ابن عباس (رض) یا حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آج رات میں نے بادل دیکھا باقی حدیث انہیں کی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَوْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ کَانَ مَعْمَرٌ أَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ وَأَحْيَانًا يَقُولُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَرَی اللَّيْلَةَ ظُلَّةً بِمَعْنَی حَدِيثِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩১
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ خوابوں کی تعبیر کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، محمد بن کثیر سلیمان بن کثیر زہری، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صحابہ (رض) سے فرمایا کرتے تھے تم میں سے جس نے خواب دیکھا ہو وہ اسے بیان کرے تاکہ میں اسے اس خواب کی تعبیر بتاؤں ایک آدمی آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے بادل دیکھا باقی حدیث گزر چکی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ کَثِيرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ مَنْ رَأَی مِنْکُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ ظُلَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩২
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب حماد بن سلمہ ثابت حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے ایک رات وہ دیکھا جو سونے والا دیکھتا ہے گویا کہ ہم عقبہ بن رافع کے گھر میں ہیں اور ہمارے پاس ابن طاب قسم کی تازہ کھجوروں میں سے کھجوریں لائیں گئیں تو میں نے اس کی تعبیر یہ سمجھی کہ دنیا میں ہماری عظمت ہوگی اور آخرت میں بچاؤ ہوگا اور ہمارا دین بہت عمدہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِيمَا يَرَی النَّائِمُ کَأَنَّا فِي دَارِ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ فَأُتِينَا بِرُطَبٍ مِنْ رُطَبِ ابْنِ طَابٍ فَأَوَّلْتُ الرِّفْعَةَ لَنَا فِي الدُّنْيَا وَالْعَاقِبَةَ فِي الْآخِرَةِ وَأَنَّ دِينَنَا قَدْ طَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৩
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں
نصر بن علی ابی صخر بن جویریہ نافع ابن عمر حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں مسواک کر رہا ہوں دو آدمیوں نے مجھے کھینچا ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا میں نے وہ مسواک ان میں سے چھوٹے کو دے دی تو مجھے کہا گیا کہ بڑے کو دو تو میں نے وہ مسواک بڑے کو دے دی۔
و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ أَخْبَرَنِي أَبِي حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَذَبَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَکْبَرُ مِنْ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي کَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ إِلَی الْأَکْبَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৪
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں
ابوعامر عبداللہ بن براد اشعری ابوکریب محمد بن علاء ابواسامہ بریدہ حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایسی زمین کی طرف جا رہا ہوں جہاں کھجوریں ہیں میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ جگہ یمامہ یا ہجر ہے مگر وہ شہر یثرب تھا اور میں نے اپنے اس خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو حرکت دی تو وہ اوپر سے ٹوٹ گئی اس کی تعبیر وہ ہوئی جو مومنین کو غزوہ احد کے دن تکلیف پہنچی پھر میں نے تلوار کو دوبارہ حرکت دی تو وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور سالم تھی اس کی تعبیر اللہ کی طرف سے فتح مکہ کی صورت میں اور مسلمانوں کے اجتماع سے ہوئی اور اسی خواب میں میں نے گائے کو بھی دیکھا اور اللہ بہتر ثواب عطا فرمانے والے ہیں۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کا غزوہ احد میں شہید ہونا تھا اور خیر سے مراد وہ بھلائی ہے جو اللہ نے اس کے بعد عطا کی اور سچائی کا ثواب وہ ہے جو ہمارے پاس اللہ نے غزوہ بدر کے بعد عطا کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ جَدِّهِ عَنْ أَبِي مُوسَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أُهَاجِرُ مِنْ مَکَّةَ إِلَی أَرْضٍ بِهَا نَخْلٌ فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَی أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ هَجَرُ فَإِذَا هِيَ الْمَدِينَةُ يَثْرِبُ وَرَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ هَذِهِ أَنِّي هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا هُوَ مَا أُصِيبَ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَی فَعَادَ أَحْسَنَ مَا کَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَائَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ فِيهَا أَيْضًا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمْ النَّفَرُ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِذَا الْخَيْرُ مَا جَائَ اللَّهُ بِهِ مِنْ الْخَيْرِ بَعْدُ وَثَوَابُ الصِّدْقِ الَّذِي آتَانَا اللَّهُ بَعْدَ يَوْمِ بَدْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৫
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں
محمد بن سہل تمیمی ابویمان شعیب عبداللہ بن ابی حسین نافع بن جبیر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے زمانہ مبارک میں مسیلمہ کذاب مدینہ آیا اور اس نے کہنا شروع کردیا کہ اگر محمد اپنے بعد حکومت میرے سپرد کردیں تو میں ان کی اتباع کرتا ہوں اور وہ اپنی قوم کے کافی آدمیوں کے ہمراہ (مدینہ) آیا نبی ﷺ اس کی طرف تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ ثابت بن قیس بن شماس بھی تھے اور نبی ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ایک لکڑی کا ٹکڑا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ مسیلمہ کے پاس ان کے ساتھیوں میں جا کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا اگر تو مجھ سے لکڑی کا یہ ٹکڑا بھی مانگے تو میں تجھے نہ دوں گا اور میں تیرے بارے میں اللہ کے حکم سے ہرگز تجاوز نہ کروں گا اور اگر تو نے (میری اتباع سے) پیٹھ پھیری تو اللہ تجھ کو قتل کرے گا اور میں تیرے بارے میں وہی گمان رکھتا ہوں جو مجھے تیرے بارے میں خواب میں دکھایا گیا ہے اور یہ ثابت ہیں جو تجھے میری طرف سے جواب دیں گے پھر آپ ﷺ اس سے واپس تشریف لائے ابن عباس (رض) نے کہا میں نے نبی ﷺ کے قول کے بارے میں کہ تیرے بارے میں وہی گمان کرتا ہوں جو مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے، پوچھا تو ابوہریرہ (رض) نے مجھے خبر دی کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے سوتے ہوئے دیکھا کہ میرے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن ہیں جن سے مجھے فکر پیدا ہوگئی تو خواب میں ہی میری طرف وحی کی گئی کہ ان دونوں (کنگنوں) پر پھونک مارو میں نے انہیں پھونکا تو وہ اڑ گئے میں نے ان کی تعبیر یہ کی کہ دو جھوٹے میرے بعد نکلیں گے پس ان میں سے ایک عنسی صنعاء کا رہنے والا ہے اور دوسرا مسیلمہ یمامہ والا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَدِمَ مُسَيْلِمَةُ الْکَذَّابُ عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَقُولُ إِنْ جَعَلَ لِي مُحَمَّدٌ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ تَبِعْتُهُ فَقَدِمَهَا فِي بَشَرٍ کَثِيرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَأَقْبَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِطْعَةُ جَرِيدَةٍ حَتَّی وَقَفَ عَلَی مُسَيْلِمَةَ فِي أَصْحَابِهِ قَالَ لَوْ سَأَلْتَنِي هَذِهِ الْقِطْعَةَ مَا أَعْطَيْتُکَهَا وَلَنْ أَتَعَدَّی أَمْرَ اللَّهِ فِيکَ وَلَئِنْ أَدْبَرْتَ لَيَعْقِرَنَّکَ اللَّهُ وَإِنِّي لَأُرَاکَ الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا أُرِيتُ وَهَذَا ثَابِتٌ يُجِيبُکَ عَنِّي ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُ عَنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ أَرَی الَّذِي أُرِيتُ فِيکَ مَا أُرِيتُ فَأَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ فِي يَدَيَّ سِوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَأَهَمَّنِي شَأْنُهُمَا فَأُوحِيَ إِلَيَّ فِي الْمَنَامِ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَطَارَا فَأَوَّلْتُهُمَا کَذَّابَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنْ بَعْدِي فَکَانَ أَحَدُهُمَا الْعَنْسِيَّ صَاحِبَ صَنْعَائَ وَالْآخَرُ مُسَيْلِمَةَ صَاحِبَ الْيَمَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৬
خواب اور اسکی تعبیر کے بیان میں
পরিচ্ছেদঃ نبی اقدس ﷺ کے خوابوں کے بیان میں
محمد بن رافع عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس زمین کے خزانے لائے گئے اور میرے ہاتھوں میں سونے کے دو کنگن رکھ دیئے گئے تو وہ مجھ پر سخت گران گزرے اور انہوں نے مجھے فکر مند کردیا میری طرف وحی کی گئی کہ ان کو پھونک مار و میں نے انہیں پھونک ماری تو وہ دونوں جاتے رہے میں نے ان کی تعبیر یہ سمجھی کہ یہ دونوں کذاب ہوں گے جن کے درمیان میں ہوں ایک تو والئی صنعاء اور دوسرا والئی یمامہ۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا أَنَا نَائِمٌ أُتِيتُ خَزَائِنَ الْأَرْضِ فَوَضَعَ فِي يَدَيَّ أُسْوَارَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ فَکَبُرَا عَلَيَّ وَأَهَمَّانِي فَأُوحِيَ إِلَيَّ أَنْ انْفُخْهُمَا فَنَفَخْتُهُمَا فَذَهَبَا فَأَوَّلْتُهُمَا الْکَذَّابَيْنِ اللَّذَيْنِ أَنَا بَيْنَهُمَا صَاحِبَ صَنْعَائَ وَصَاحِبَ الْيَمَامَةِ
তাহকীক: