আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
آداب کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৫৯ টি
হাদীস নং: ৫৬২৭
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
قتیبہ بن سعید، ابن ابی عمر سفیان، یزید بن خصیفہ ابن ابی عمر اس سند سے یہ حدیث بھی روایت کی گئی ہے ابن ابی عمر (رض) نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے کہ ابوسعید نے کہا میں ان کے ساتھ کھڑا ہوا اور حضرت عمر (رض) کے پاس جا کر گواہی دی۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَقُمْتُ مَعَهُ فَذَهَبْتُ إِلَی عُمَرَ فَشَهِدْتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬২৮
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
ابوطاہر عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر بن اشج بسر بن سعید، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک مجلس میں ابی بن کعب (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت ابوموسی اشعری (رض) غصہ میں آئے اور کھڑے ہو کر کہا میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اجازت تین مرتبہ ہے اگر تجھے اجازت دی جائے تو ٹھیک ورنہ تو لوٹ جا۔ ابی بن کعب (رض) نے کہا واقعہ کیا ہے ؟ ابو موسیٰ (رض) نے کہا میں نے کل حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس جانے کے لئے تین مرتبہ اجازت طلب کی لیکن مجھے اجازت نہ دی گئی تو میں واپس آگیا پھر آج میں ان کے پاس حاضر ہوا تو انہیں خبر دی کہ میں کل آیا تھا تین مرتبہ سلام کیا پھر میں واپس چلا گیا حضرت عمر (رض) نے کہا ہم نے تیری آواز سنی تھی لیکن ہم اس وقت کسی کام میں مشغول تھے کاش تم اجازت ملنے تک اجازت مانگتے رہتے۔ حضرت ابوموسی (رض) نے کہا میں نے اسی طرح اجازت طلب کی جیسا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا حضرت عمر (رض) نے کہا اللہ کی قسم میں تیری پیٹھ یا پیٹ پر سزا دوں گا یا تو کوئی ایسا آدمی پیش کر جو تیری اس حدیث پر گواہی دے ابی بن کعب (رض) نے کہا اللہ کی قسم تیرے ساتھ ہم سے نوعمر ہی جائے گا۔ اے ابوسعید کھڑے ہوجایئے۔ میں کھڑا ہوا یہاں تک کہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ أَنَّ بُسْرَ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا كُنَّا فِي مَجْلِسٍ عِنْدَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَأَتَى أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ مُغْضَبًا حَتَّى وَقَفَ فَقَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ هَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَكَ وَإِلَّا فَارْجِعْ قَالَ أُبَيٌّ وَمَا ذَاكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَمْسِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي فَرَجَعْتُ ثُمَّ جِئْتُهُ الْيَوْمَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَأَخْبَرْتُهُ أَنِّي جِئْتُ أَمْسِ فَسَلَّمْتُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفْتُ قَالَ قَدْ سَمِعْنَاكَ وَنَحْنُ حِينَئِذٍ عَلَى شُغْلٍ فَلَوْ مَا اسْتَأْذَنْتَ حَتَّى يُؤْذَنَ لَكَ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ كَمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَوَاللَّهِ لَأُوجِعَنَّ ظَهْرَكَ وَبَطْنَكَ أَوْ لَتَأْتِيَنَّ بِمَنْ يَشْهَدُ لَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَوَاللَّهِ لَا يَقُومُ مَعَكَ إِلَّا أَحْدَثُنَا سِنًّا قُمْ يَا أَبَا سَعِيدٍ فَقُمْتُ حَتَّى أَتَيْتُ عُمَرَ فَقُلْتُ قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬২৯
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
نصر بن علی جہضمی بشر ابن مفصل سعید بن یزید ابونضرہ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ابوموسی نے حضرت عمر (رض) کے دروازے پر جا کر اجازت مانگی تو عمرنے کہا ایک مرتبہ ہوئی پھر دوسری مرتبہ اجازت طلب کی تو حضرت عمر (رض) نے کہا دو ہوگئیں پھر تیسری مرتبہ اجازت مانگی تو حضرت عمر (رض) نے کہا تین مرتبہ ہوگئی پھر یہ واپس آگئے تو حضرت عمر نے کسی آدمی کو ان کے پیچھے بھیجا وہ انہیں واپس لے آیا تو حضرت عمر (رض) نے کہا اگر اس معاملہ میں آپ کو رسول اللہ ﷺ کی کوئی حدیث یاد ہے تو پیش کرو ورنہ میں آپ کو عبرت ناک سزا دوں گا ابوسعید نے کہا کہ ابوموسی نے ہمارے پاس آکر کہا کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اجازت تین مرتبہ ہوتی ہے حضرت ابوسعید نے کہا لوگوں نے ہنسنا شروع کردیا میں نے کہا تمہارے پاس تمہارا مسلمان بھائی گھبرایا ہوا آیا ہے اور تم ہنستے ہو تم چلو میں تمہارا ساتھی بنتا ہوں اس پریشانی میں۔ پھر وہ حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا یہ ابوسعید یعنی بطور گواہ حاضر ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ أَبَا مُوسَی أَتَی بَابَ عُمَرَ فَاسْتَأْذَنَ فَقَالَ عُمَرُ وَاحِدَةٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ عُمَرُ ثِنْتَانِ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ عُمَرُ ثَلَاثٌ ثُمَّ انْصَرَفَ فَأَتْبَعَهُ فَرَدَّهُ فَقَالَ إِنْ کَانَ هَذَا شَيْئًا حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَا وَإِلَّا فَلَأَجْعَلَنَّکَ عِظَةً قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَأَتَانَا فَقَالَ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ قَالَ فَجَعَلُوا يَضْحَکُونَ قَالَ فَقُلْتُ أَتَاکُمْ أَخُوکُمْ الْمُسْلِمُ قَدْ أُفْزِعَ تَضْحَکُونَ انْطَلِقْ فَأَنَا شَرِيکُکَ فِي هَذِهِ الْعُقُوبَةِ فَأَتَاهُ فَقَالَ هَذَا أَبُو سَعِيدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩০
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، ابومسلمہ ابونضرہ ابوسعید احمد بن حسن بن خراش شبابہ شعبہ، جریر، سعید بن یزید ابونضرہ ابوسعید خدری ان دونوں اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ وَسَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَا سَمِعْنَاهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ بِمَعْنَی حَدِيثِ بِشْرِ بْنِ مُفَضَّلٍ عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩১
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید قطان ابن جریج، عطاء، حضرت عبید بن عمیر (رض) سے روایت ہے کہ ابوموسی (رض) نے حضرت عمر (رض) کے پاس حاضری کے لئے تین مرتبہ اجازت مانگی انہیں گویا کہ (کسی کام میں) مشغول پایا تو واپس آگئے تو حضرت عمر (رض) نے کہا کیا تم نے عبداللہ بن قیس (رض) کی آواز نہیں سنی، اسے اجازت دے دو پھر پھر انہیں بلایا گیا پھر حضرت عمر (رض) نے کہا : تمہیں کس چیز نے اس بات پر ابھارا کہ تم واپس چلے گئے ؟ انہوں نے کہا ہمیں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا تم اس بات پر گواہی پیش کرو ورنہ میں (مناسب اقدام) کروں گا۔ وہ نکلے اور انصار کی ایک مجلس کی طرف چلے، انہوں نے کہا : ہم میں سب سے چھوٹا ہی تیری اس بات کی گواہی دے گا۔ حضرت ابوسعید (رض) کھڑے ہوئے اور کہا ہمیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا یہ بات مجھ پر پوشیدہ تھی اور رسول اللہ ﷺ کے اس حکم سے مجھے بازار کی تجارت نے غافل رکھا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ أَبَا مُوسَی اسْتَأْذَنَ عَلَی عُمَرَ ثَلَاثًا فَکَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا فَرَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ فَدُعِيَ لَهُ فَقَالَ مَا حَمَلَکَ عَلَی مَا صَنَعْتَ قَالَ إِنَّا کُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا قَالَ لَتُقِيمَنَّ عَلَی هَذَا بَيِّنَةً أَوْ لَأَفْعَلَنَّ فَخَرَجَ فَانْطَلَقَ إِلَی مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالُوا لَا يَشْهَدُ لَکَ عَلَی هَذَا إِلَّا أَصْغَرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ کُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا فَقَالَ عُمَرُ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩২
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
محمد بن بشار، ابوعاص حسین بن حریث نضر ابن شمیل نضر ابن سمیل ابن جریج، اس سند بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن نضر کی حدیث میں اس سے مجھے بازار کی تجارت نے غافل رکھا کے الفاظ مذکور نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ح و حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْکُرَ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ أَلْهَانِي عَنْهُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৩
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
حسین بن حریث ابوعمار فصل بن موسیٰ طلحہ بن یحییٰ حضرت ابوموسی اشعری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہو کر السَّلَامُ عَلَيْکُمْ ! عبداللہ بن قیس حاضر ہے کہا لیکن انہیں اجازت نہ ملی انہوں نے پھر کہا السَّلَامُ عَلَيْکُمْ ابوموسی حاضر ہے السَّلَامُ عَلَيْکُمْ اشعری حاضر ہے پھر واپس لوٹ آئے۔ حضرت عمر (رض) نے کہا انہیں میرے پاس لے آؤ، وہ آئے تو فرمایا : اے ابو موسیٰ ! تم واپس کیوں گئے ؟ ہم ایک کام میں مشغول تھے، انہوں نے عرض کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اجازت تین مرتبہ ہوتی ہے۔ اگر تجھے اجازت دے دی جائے تو ٹھیک ورنہ لوٹ جاؤ۔ حضرت عمر (رض) نے کہا تم اس بات پر میرے پاس گواہی لاؤ ورنہ میں کروں گا جو کچھ کروں گا۔ ابوموسی (رض) گئے، حضرت عمر (رض) نے کہا اگر انہیں گواہی مل گئی تو تم انہیں شام کے وقت منبر کے پاس پاؤ گے اور اگر انہیں گواہی نہ ملی تو تم انہیں نہ پاؤ گے۔ پس جب حضرت عمر (رض) شام کو آئے تو انہیں وہاں موجود پاکر کہا : اے ابو موسیٰ ! تو کیا کہتا ہے، کیا تم نے گواہ پالیا ہے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! ابی بن کعب (رض) ۔ عمر (رض) نے کہا : وہ معتبر آدمی ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا : اے ابوطفیل ! یہ کیا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اے ابن خطاب میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ آپ اصحاب رسول کے لئے عذاب جان نہ بنیں۔ حضرت عمر (رض) نے کہا سُبْحَانَ اللَّهِ میں نے ایک بات سنی اور میں نے اس بات پر پکے اور مضبوط ہوجانے کو پسند کیا۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَی عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ قَالَ جَائَ أَبُو مُوسَی إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ فَلَمْ يَأْذَنْ لَهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ هَذَا أَبُو مُوسَی السَّلَامُ عَلَيْکُمْ هَذَا الْأَشْعَرِيُّ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقَالَ رُدُّوا عَلَيَّ رُدُّوا عَلَيَّ فَجَائَ فَقَالَ يَا أَبَا مُوسَی مَا رَدَّکَ کُنَّا فِي شُغْلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الِاسْتِئْذَانُ ثَلَاثٌ فَإِنْ أُذِنَ لَکَ وَإِلَّا فَارْجِعْ قَالَ لَتَأْتِيَنِّي عَلَی هَذَا بِبَيِّنَةٍ وَإِلَّا فَعَلْتُ وَفَعَلْتُ فَذَهَبَ أَبُو مُوسَی قَالَ عُمَرُ إِنْ وَجَدَ بَيِّنَةً تَجِدُوهُ عِنْدَ الْمِنْبَرِ عَشِيَّةً وَإِنْ لَمْ يَجِدْ بَيِّنَةً فَلَمْ تَجِدُوهُ فَلَمَّا أَنْ جَائَ بِالْعَشِيِّ وَجَدُوهُ قَالَ يَا أَبَا مُوسَی مَا تَقُولُ أَقَدْ وَجَدْتَ قَالَ نَعَمْ أُبَيَّ بْنَ کَعْبٍ قَالَ عَدْلٌ قَالَ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ مَا يَقُولُ هَذَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِکَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَلَا تَکُونَنَّ عَذَابًا عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا سَمِعْتُ شَيْئًا فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَتَثَبَّتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৪
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے کے بیان میں۔
ابن عمر بن محمد بن ابان علی بن ہاشم طلحہ بن یحییٰ اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے اس میں یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ابی بن کعب (رض) سے کہا اے ابومنذر کیا تم نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے انہوں نے کہا جی ہاں اے ابن خطاب آپ اصحاب رسول اللہ کے لئے باعث عذاب نہ بنو اس کے بعد عمر (رض) کے قول سُبْحَانَ اللَّهِ اور اس کے بعد کا قول مذکور نہیں۔
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَی بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقَالَ يَا أَبَا الْمُنْذِرِ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَعَمْ فَلَا تَکُنْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ عَذَابًا عَلَی أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَذْکُرْ مِنْ قَوْلِ عُمَرَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৫
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر عبداللہ بن ادریس شعبہ، محمد بن منکدر حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آواز دی نبی ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے میں نے عرض کیا میں ہوں آپ ﷺ میں، میں کہتے ہوئے باہر تشریف لائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَوْتُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا قَالَ فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ أَنَا أَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৬
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوبکر یحییٰ ابوبکر وکیع، شعبہ، محمد بن منکدر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے فرمایا کون ہو ؟ میں نے عرض کیا میں ہوں تو نبی نے فرمایا میں، میں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْکَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا أَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৭
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل ابوعامر محمد بن مثنی، وہب بن جریر، عبدالرحمن بن بشر بہز ان تینوں اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے ان میں ہے کہ آپ ﷺ نے میں ہوں کہنے کو ناپسند فرمایا۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمْ کَأَنَّهُ کَرِهَ ذَلِکَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৮
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، یحییٰ قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے حجرہ مبارک کی درز میں سے جھانکا اور رسول اللہ کے پاس ایک آلہ تھا جس سے آپ اپنے سر مبارک کو کھجلا رہے تھے جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا اگر میں جانتا ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو اسے میں تیری آنکھوں میں چبھو دیتا اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اجازت لینے کا حکم دیکھنے کی وجہ سے تو مقرر کیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًی يَحُکُّ بِهِ رَأْسَهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّکَ تَنْتَظِرُنِي لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِکَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৩৯
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سہل بن سعد انصاری حضرت سہل بن سعد انصاری سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ کے دروازہ کی درز میں سے جھانکا اور رسول اللہ کے پاس ایک کنگھا تھا جس سے آپ ﷺ اپنے سر میں کنگھی کر رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو دیکھ رہا ہے تو میں اس کنگھے کو تیری آنکھ میں چبھو دیتا، اللہ تبارک وتعالی نے اجازت لینے کا حکم دیکھنے ہی کی وجہ سے تو مقرر فرمایا ہے۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًی يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَعْلَمُ أَنَّکَ تَنْظُرُ طَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِکَ إِنَّمَا جَعَلَ اللَّهُ الْإِذْنَ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪০
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد زہیر بن حرب، ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، ابوکامل جحدری عبدالواحد بن زیاد معمر، زہری، حضرت سہل بن سعد (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث نقل کی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَيُونُسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪১
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
یحییٰ بن یحیی، ابوکامل فضیل بن حسین قتیبہ بن سعید، یحییٰ ابوکامل یحییٰ حامد بن زید عبیداللہ بن ابی بکر، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے حجروں میں سے کسی حجرے کے درز میں سے جھانکا تو آپ اس کی طرف تیر لے کر اٹھے گویا میں رسول اللہ کی طرف دیکھ رہا ہوں اور اس کی تاک میں لگے رہے تاکہ اسے چبھو دیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی وَأَبِي کَامِلٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ بَعْضِ حُجَرِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ إِلَيْهِ بِمِشْقَصٍ أَوْ مَشَاقِصَ فَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْتِلُهُ لِيَطْعُنَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪২
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
زہیر بن حرب، جریر، سہیل ابوہریرہ (رض) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے کسی قوم کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانکا تو اس نے ان کے لئے اپنی آنکھ کو پھوڑ دینا حلال و جائز کردیا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ اطَّلَعَ فِي بَيْتِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَقَدْ حَلَّ لَهُمْ أَنْ يَفْقَئُوا عَيْنَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৩
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اجازت مانگنے والے سے جب پوچھا جائے کون ہو تو اس کے لئے میں کہنے کی کراہت کے بیان میں۔
ابن ابی عمر سفیان، ابی زناد اعرج، ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے تجھے تیری اجازت کے بغیر جھانکا اور تو نے کنکری مار کر اس کی آنکھ ضائع کردی تو تم پر کوئی جرم عائد نہ ہوگی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَيْکَ بِغَيْرِ إِذْنٍ فَخَذَفْتَهُ بِحَصَاةٍ فَفَقَأْتَ عَيْنَهُ مَا کَانَ عَلَيْکَ مِنْ جُنَاحٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৪
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچانک نظر پڑجانے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، یزید بن زریع ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ یونس زہیر بن حرب، ہشیم یونس عمرو بن سعید ابوزرعہ، حضرت جریر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے اچانک نظر پڑجانے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنی نظر کو پھیر لوں۔
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظَرِ الْفُجَائَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৪৫
آداب کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اچانک نظر پڑجانے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبدالاعلی اسحاق سفیان، یونس اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی وَقَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক: