আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
لباس اور زینت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০২ টি
হাদীস নং: ৫৫৬৫
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، فاطمہ بنت منذر، اسماء بنت ابوبکر (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری بیٹی دلہن بنی ہے اسے چچک نکلی ہے جس کے وجہ سے اس کے بال جھڑ گئے ہیں تو کیا میں اس کو بالوں کا جوڑا لگا سکتی ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے بال جوڑنے والی اور بال جڑوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ قَالَتْ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي ابْنَةً عُرَيِّسًا أَصَابَتْهَا حَصْبَةٌ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا أَفَأَصِلُهُ فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৬৬
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ ابن نمیر، ابی عبدہ، ابوکریب، وکیع، عمر وناقد، اسود بن عامر، شعبہ، ہشام ابن عروہ ابومعاویہ حضرت ہشام بن عروہ (رض) سے اس سند کے ساتھ حضرت ابومعاویہ (رض) کی حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے صرف لفظی فرق ہے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَعَبْدَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ أَخْبَرَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ غَيْرَ أَنَّ وَکِيعًا وَشُعْبَةَ فِي حَدِيثِهِمَا فَتَمَرَّطَ شَعْرُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৬৭
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
احمد بن سعید دارمی، حبان، وہیب، منصور، امہ، حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا میں نے اپنی بیٹی کی شادی کی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے ہیں حالانکہ اس کا خاوند بالوں کو پسند کرتا ہے اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں اس کے بالوں میں جوڑا لگا دوں ؟ تو آپ ﷺ نے منع فرما دیا۔
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي فَتَمَرَّقَ شَعَرُ رَأْسِهَا وَزَوْجُهَا يَسْتَحْسِنُهَا أَفَأَصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَنَهَاهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৬৮
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
محمد بن مثنی، ابن بشار ابوداؤد شعبہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکر شعبہ، عمرو بن مرہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انصار کی ایک لڑکی کی شادی ہوئی اور وہ بیمار ہوگئی اور اس کے سر کے بال جھڑ گئے تو لوگوں نے ارادہ کیا کہ اس کے بالوں میں جوڑا لگا دیا جائے انہوں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے جوڑا لگانے والی اور جوڑا لگوانے والی پر لعنت فرمائی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ تَزَوَّجَتْ وَأَنَّهَا مَرِضَتْ فَتَمَرَّطَ شَعَرُهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَصِلُوهُ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَلَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৬৯
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
زہیر بن حرب، زید بن حبان، ابراہیم، بن نافع حسن بن مسلم بن یناق صفیہ بنت شیبہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت نے اپنی بیٹی کی شادی کی پھر وہ لڑکی بیمار ہوگئی اور اس کے سر کے بال گرگئے تو وہ عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری بیٹی کا خاوند چاہتا ہے کہ میں اس کے بالوں میں جوڑا لگا دو تو رسول اللہ اللہ ﷺ نے فرمایا جوڑا لگانے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقَ عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ زَوَّجَتْ ابْنَةً لَهَا فَاشْتَکَتْ فَتَسَاقَطَ شَعْرُهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا يُرِيدُهَا أَفَأَصِلُ شَعَرَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُعِنَ الْوَاصِلَاتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭০
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
محمد بن حاتم، عبدالرحمن بن مہدی، حضرت ابراہیم بن نافع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جوڑا لگانے والی اور جوڑا لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ لُعِنَ الْمُوصِلَاتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭১
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، زہیر یحییٰ قطان عبیداللہ نافع ابن عمر حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جوڑا لگانے اور جوڑا لگوانے والی اور گودنے والی اور گدوانے والی پر لعنت فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ وَالْوَاشِمَةَ وَالْمُسْتَوْشِمَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭২
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
محمد بن عبداللہ ابن بزیع، بشر بن مفضل، صخر ابن جویریہ، نافع، عبداللہ حضرت عبیداللہ (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا صَخْرُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭৩
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
اسحاق بن ابراہیم، عثمان بن ابی شیبہ اسحاق جریر، منصورابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ اللہ نے تعالیٰ نے گودنے والی اور گدوانے والی اور (خوبصورتی کی خاطر) پلکوں کے بالوں کو اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی اور دانتوں کو (خوبصورتی کی خاطر) کشادہ کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کی (دی گئی) بناوٹ میں تبدیلی کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات بنی اسد کی ایک عورت تک پہنچی جس کو ام یعقوب کہا جاتا ہے اور وہ قرآن مجید پڑھا کرتی تھی۔ تو وہ (یہ بات سن کر) حضرت عبیداللہ (رض) کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ وہ کیا بات ہے کہ جو آپ کی طرف سے مجھ تک پہنچی ہے کہ آپ نے گودنے والی اور گدوانے والی اور پلکوں کے بال اکھیڑنے والی اور اکھڑوانے والی اور دانتوں میں (خوبصورتی کی خاطر) کشادگی کرنے والی اور اللہ تعالیٰ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ؟ حضرت عبداللہ (رض) فرمانے لگے کہ میں اس پر لعنت کیوں نہ کروں کہ جس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت کی ہے اور یہ بات اللہ کی کتاب (قرآن مجید) میں موجود ہے، وہ عورت کہنے لگی کہ میں نے قرآن مجید کے دونوں گتوں کے درمیان والا پڑھ ڈالا ہے میں نے تو (یہ بات) کہیں نہیں پائی۔ حضرت عبداللہ (رض) فرمانے لگے کہ اگر تو قرآن مجید پڑھتی تو اسے ضرور پالیتی۔ اللہ عز وجل نے فرمایا (وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا) " اللہ کا رسول تمہیں جو کچھ دے اس سے لے لو اور تمہیں جس سے روک دے اس سے رک جاؤ " وہ عورت کہنے لگی کہ ان کاموں میں سے کچھ کام تو آپ کی بیوی بھی کرتی ہے۔ حضرت عبداللہ (رض) فرمانے لگے کہ جاؤ جا کر دیکھو۔ وہ عورت ان کی بیوی کے پاس گئی تو کچھ بھی نہیں دیکھا پھر واپس حضرت عبداللہ (رض) کی طرف آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تو ان باتوں میں سے ان میں کچھ بھی نہیں دیکھا۔ حضرت عبداللہ (رض) فرمانے لگے کہ اگر وہ اس طرح کرتی تو میں اس سے ہم بستری نہ کرتا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالنَّامِصَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ قَالَ فَبَلَغَ ذَلِکَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ وَکَانَتْ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَأَتَتْهُ فَقَالَتْ مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْکَ أَنَّکَ لَعَنْتَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَمَا لِي لَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ لَقَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْ الْمُصْحَفِ فَمَا وَجَدْتُهُ فَقَالَ لَئِنْ کُنْتِ قَرَأْتِيهِ لَقَدْ وَجَدْتِيهِ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَمَا آتَاکُمْ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ فَإِنِّي أَرَی شَيْئًا مِنْ هَذَا عَلَی امْرَأَتِکَ الْآنَ قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي قَالَ فَدَخَلَتْ عَلَی امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ فَلَمْ تَرَ شَيْئًا فَجَائَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا فَقَالَ أَمَا لَوْ کَانَ ذَلِکَ لَمْ نُجَامِعْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭৪
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
محمد بن مثنی، ابن بشار عبدالرحمن ابن مہدی سفیان، محمد بن رافع یحییٰ بن آدم مفضل ابن مہلہل منصور جریر، سفیان، حضرت منصور (رض) سے اس سند کے ساتھ حضرت جریر (رض) کی روایت کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے صرف لفظی تبدیلی ہے ترجمہ میں کوئی فرق نہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ وَهُوَ ابْنُ مُهَلْهِلٍ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَفِي حَدِيثِ مُفَضَّلٍ الْوَاشِمَاتِ وَالْمَوْشُومَاتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭৫
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت منصور (رض) سے اس سند کے ساتھ نبی ﷺ کی روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس میں ام یعقوب کے پورے واقعہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔
حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ الْحَدِيثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَرَّدًا عَنْ سَائِرِ الْقِصَّةِ مِنْ ذِکْرِ أُمِّ يَعْقُوبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭৬
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
شیبان بن فروخ جریر، ابن حازم اعمش، ابراہیم، علقمہ عبداللہ حضرت عبداللہ نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭৭
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
حسن بن علی حلوانی محمد بن رافع عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ عورت اپنے سر کے بالوں کو جوڑ لگائے۔
و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا زَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَصِلَ الْمَرْأَةُ بِرَأْسِهَا شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭৮
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف معاویہ بن ابی سفیان، حضرت حمید بن عبدالرحمن بن عوف (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اس حال میں کہ وہ منبر پر تشریف فرما تھے انہوں نے بالوں کا ایک چٹلا اپنے ہاتھ میں لیا جو کہ ان کے خادم کے پاس تھا اور فرمانے لگے اے مدینہ والو ! تمہارے علماء کہاں ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ اس طرح کی چیزوں سے منع فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ برباد ہوگئے جس وقت کہ ان کی عورتوں نے اس طرح کی عیش و عشرت شروع کردی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ کَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৭৯
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس عبد بن حمید عبدالرزاق معمر، زہری، حضرت زہری سے مالک کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے لیکن معمر کی حدیث میں ہے بنی اسرائیل کو اسی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا گیا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৮০
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر شعبہ، ابن مثنی ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ حضرت سعید بن مسیب (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ (رض) مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے ہمیں ایک خطبہ ارشاد فرمایا اور بالوں کا ایک لپٹا ہوا گچھا نکال کر فرمایا کہ مجھے یہ خیال بھی نہیں تھا کہ یہودیوں کے علاوہ بھی کوئی اس طرح کرے گا رسول اللہ ﷺ تک یہ بات پہنچی تو آپ ﷺ نے اسے جھوٹ (دھوکہ بازی) قرار دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخْرَجَ کُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا کُنْتُ أُرَی أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৮১
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ مصنوعی بالوں کا لگانا اور لگوانا اور گودنا اور گدوانا اور پلکوں سے بالوں کا اکھیڑنا اور اکھڑوانا اور دانتوں کو کشادہ کرنا اور اللہ کی بناوٹ میں تبدیلی کرنا سب حرام ہے۔
ابوغسان مسمعی محمد بن مثنی معاذ ابن ہشام ابی قتادہ، سعید بن مسیب، حضرت سعید (رض) سے روایت ہے کہ حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک دن فرمایا کہ تم نے بہت بری پوشش اختیار کرلی ہے اور اللہ کے نبی ﷺ نے جھوٹ (یعنی بالوں میں جوڑلگانے) سے منع کیا ہے راوی کہتے ہیں کہ ایک آدمی ایک ایسی لکڑی لئے ہوئے آیا کہ جس کے سرے پر ایک چیتھڑا لگا ہوا تھا حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا کہ یہ تو جھوٹ ہے حضرت قتادہ (رض) (اس کے معنی بیان کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ عورتیں کپڑے باندھ کر اپنے بالوں کو لمبا کرلیتی ہیں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّکُمْ قَدْ أَحْدَثْتُمْ زِيَّ سَوْئٍ وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الزُّورِ قَالَ وَجَائَ رَجُلٌ بِعَصًا عَلَی رَأْسِهَا خِرْقَةٌ قَالَ مُعَاوِيَةُ أَلَا وَهَذَا الزُّورُ قَالَ قَتَادَةُ يَعْنِي مَا يُکَثِّرُ بِهِ النِّسَائُ أَشْعَارَهُنَّ مِنْ الْخِرَقِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৮২
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان عورتوں کے بیان میں کہ جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیتی ہیں۔
زہیر بن حرب، جریر، سہیل بن ابوصالح ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دوزخ والوں کی دو قسمیں ایسی ہیں کہ جنہیں میں نے نہیں دیکھا ایک قسم تو ان لوگوں کی ہے کہ جن کے پاس بیلوں کی دموں کی طرح کوڑے ہیں جس سے وہ لوگوں کو مارتے ہیں اور دوسری قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں وہ سیدھے راستے سے بہکانے والی اور خود بھی بھٹکی ہوئی ہیں ان عورتوں کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہیں وہ عورتیں جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی جنت کی خوشبو پاسکیں گی جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت (یعنی دور) سے محسوس کی جاسکتی ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صِنْفَانِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَمْ أَرَهُمَا قَوْمٌ مَعَهُمْ سِيَاطٌ کَأَذْنَابِ الْبَقَرِ يَضْرِبُونَ بِهَا النَّاسَ وَنِسَائٌ کَاسِيَاتٌ عَارِيَاتٌ مُمِيلَاتٌ مَائِلَاتٌ رُئُوسُهُنَّ کَأَسْنِمَةِ الْبُخْتِ الْمَائِلَةِ لَا يَدْخُلْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يَجِدْنَ رِيحَهَا وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ کَذَا وَکَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৮৩
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھوکہ کا لباس پہننے اور جو چیز نہ ملے اس کے اظہار کرنے کی ممانعت کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، عبدہ ہشام ابن عروہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا میں ظاہر کروں کہ میرے خاوند نے مجھے فلاں چیز دی ہے حالانکہ اس نے مجھے نہیں دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسی چیز کو ظاہر کرنے والا کہ جو چیز اس کو نہ دی گئی ہو وہ جھوٹ کے کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ وَعَبْدَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ امْرَأَةً قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ إِنَّ زَوْجِي أَعْطَانِي مَا لَمْ يُعْطِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ کَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৫৮৪
لباس اور زینت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دھوکہ کا لباس پہننے اور جو چیز نہ ملے اس کے اظہار کرنے کی ممانعت کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدہ ہشام فاطمہ حضرت اسما (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی ﷺ کی خدمت میں آئی اور اس نے عرض کیا : میری ایک سوکن ہے کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے کہ اگر میں اس پر یہ ظاہر کروں کہ میرے خاوند نے مجھے فلاں مال دیا ہے حالانکہ میرے خاوند نے مجھے کوئی مال نہیں دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسی چیز کو ظاہر کرنے والا کہ جو چیز اسے نہ دی گئی ہو وہ جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والے کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ فَاطِمَةَ عَنْ أَسْمَائَ جَائَتْ امْرَأَةٌ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنَّ لِي ضَرَّةً فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ أَنْ أَتَشَبَّعَ مِنْ مَالِ زَوْجِي بِمَا لَمْ يُعْطِنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَ کَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ
তাহকীক: