আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

پینے کی چیزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৮ টি

হাদীস নং: ৫২২৭
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، یحییٰ بہرانی، ابن عباس، حضرت یحییٰ بن بہرانی (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے نبیذ کا ذکر کیا تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ کے لئے مشکیزے میں نبیذ تیار کیا جاتا تھا شعبہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اس نبیذ کو سوموار کی رات کو پیتے تھے پھر آپ ﷺ اسے سوموار کے دن اور منگل کے دن عصر تک پیتے تھے پھر اگر اس میں سے کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے تھے یا اسے بہا دیتے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَی الْبَهْرَانِيِّ قَالَ ذَکَرُوا النَّبِيذَ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْتَبَذُ لَهُ فِي سِقَائٍ قَالَ شُعْبَةُ مِنْ لَيْلَةِ الِاثْنَيْنِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَائِ إِلَی الْعَصْرِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْهُ شَيْئٌ سَقَاهُ الْخَادِمَ أَوْ صَبَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৮
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابرہیم، ابوبکر، ابوکریب، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش، ابی عمر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کشمش پانی میں بھگوئی جاتی تھی۔ آپ ﷺ اسے اس دن پیتے پھر اگلے دن اور پھر تیسرے دن شام تک آپ ﷺ اسے پیتے تھے پھر آپ ﷺ اسی پینے کا یا بہانے کا حکم فرماتے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي عُمَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْقَعُ لَهُ الزَّبِيبُ فَيَشْرَبُهُ الْيَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ إِلَی مَسَائِ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ فَيُسْقَی أَوْ يُهَرَاقُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৯
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
اسحاق بن ابراہیم، جریر، اعمش، یحیی، ابوعمر، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لئے کشمش مشکیزے میں بھگوئی جاتی تھی۔ آپ ﷺ اس دن اسے پیتے پھر اگلے دن اور پھر اس کے بعد اس سے اگلے دن جب شام ہوتی تو آپ ﷺ اسے پیتے اور پلاتے اور اگر کچھ بچ جاتی تو اسے بہا دیتے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْبَذُ لَهُ الزَّبِيبُ فِي السِّقَائِ فَيَشْرَبُهُ يَوْمَهُ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ فَإِذَا کَانَ مَسَائُ الثَّالِثَةِ شَرِبَهُ وَسَقَاهُ فَإِنْ فَضَلَ شَيْئٌ أَهَرَاقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩০
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
محمد بن احمد، ابوخلف، زکریا بن عدی، عبیداللہ، زید، ابوعمر، نخعی، حضرت یحییٰ نخعی (رض) سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے شراب کی خریدو فروخت اور اس کی تجارت کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا شراب کی نہ خریدوفرخت درست ہے اور نہ ہی اس کی تجارت جائز ہے راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے پھر نبیذ کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں نکلے پھر جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) میں سے کچھ لوگوں نے سبز گھڑوں، لکڑی کے گٹھیلے اور کدو کے تون بے میں نبیذ بنائی ہوئی تھی آپ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم فرمایا کہ اسے بہا دیا جائے پھر آپ ﷺ نے ایک مشکیزے میں نبیذ بنانے کے بارے میں فرمایا تو مشکیزے میں کشمش اور پانی ڈالا گیا اور رات بھر اسے بھگوئے رکھا پھر صبح کو آپ ﷺ نے پیا اور پلایا پھر تیسرے دن کی صبح کو اس میں سے جو نبیذ بچ گئی اسے بہا دینے کا حکم فرمایا تو اسے بہا دیا گیا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَی أَبِي عُمَرَ النَّخَعِيِّ قَالَ سَأَلَ قَوْمٌ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ الْخَمْرِ وَشِرَائِهَا وَالتِّجَارَةِ فِيهَا فَقَالَ أَمُسْلِمُونَ أَنْتُمْ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ بَيْعُهَا وَلَا شِرَاؤُهَا وَلَا التِّجَارَةُ فِيهَا قَالَ فَسَأَلُوهُ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ثُمَّ رَجَعَ وَقَدْ نَبَذَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِي حَنَاتِمَ وَنَقِيرٍ وَدُبَّائٍ فَأَمَرَ بِهِ فَأُهْرِيقَ ثُمَّ أَمَرَ بِسِقَائٍ فَجُعِلَ فِيهِ زَبِيبٌ وَمَائٌ فَجُعِلَ مِنْ اللَّيْلِ فَأَصْبَحَ فَشَرِبَ مِنْهُ يَوْمَهُ ذَلِکَ وَلَيْلَتَهُ الْمُسْتَقْبَلَةَ وَمِنْ الْغَدِ حَتَّی أَمْسَی فَشَرِبَ وَسَقَی فَلَمَّا أَصْبَحَ أَمَرَ بِمَا بَقِيَ مِنْهُ فَأُهْرِيقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩১
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
شیبان بن فروخ، قاسم، ابن فضل حدانی، ثمامہ ابن حزن قشیری، حضرت ثمامہ بن حزن قشیری فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے ملاقات کی اور ان سے نبیذ کے بارے میں پوچھا تو حضرت عائشہ (رض) نے حبشہ کی ایک باندی کو بلوایا اور فرمایا اس باندی سے پوچھو کیونکہ یہ باندی رسول اللہ ﷺ کے لئے نبیذ بنایا کرتی تھی تو وہ حبشی باندی کہنے لگی کہ میں آپ ﷺ کے لئے رات کو مشکیزے میں نبیذ بھگوتی اور اس کا منہ باندھ کر اسے لٹکا دیا کرتی تھی تو جب صبح ہوتی تو آپ ﷺ اس میں سے پی لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيَّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ يَعْنِي ابْنَ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيَّ قَالَ لَقِيتُ عَائِشَةَ فَسَأَلْتُهَا عَنْ النَّبِيذِ فَدَعَتْ عَائِشَةُ جَارِيَةً حَبَشِيَّةً فَقَالَتْ سَلْ هَذِهِ فَإِنَّهَا کَانَتْ تَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ الْحَبَشِيَّةُ کُنْتُ أَنْبِذُ لَهُ فِي سِقَائٍ مِنْ اللَّيْلِ وَأُوکِيهِ وَأُعَلِّقُهُ فَإِذَا أَصْبَحَ شَرِبَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩২
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
محمد بن مثنی عنزی، عبدالوہاب ثقفی، یونس، حسن، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے لئے ایک مشکیزے میں نبیذ بناتے تھے اور اس مشکیزے کے اوپر کے حصہ کو باندھ دیتے تھے اور اس مشکیزے میں سوارخ تھے صبح کو ہم نبیذ بھگوتے تو شام کو آپ ﷺ پی لیتے اور شام کو نبیذ بھگوتے تو صبح کو آپ ﷺ پی لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِقَائٍ يُوکَی أَعْلَاهُ وَلَهُ عَزْلَائُ نَنْبِذُهُ غُدْوَةً فَيَشْرَبُهُ عِشَائً وَنَنْبِذُهُ عِشَائً فَيَشْرَبُهُ غُدْوَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৩
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، ابن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابواسید ساعدی (رض) نے اپنی شادی میں رسول اللہ ﷺ کی دعوت کی حضرت ابواسید کی بیوی ہی اس دن کام کر رہی تھی اور دلہن بھی وہی تھی حضرت سہل کہنے لگے کہ تم جانتے ہو کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پلایا تھا رات کو اس نے ایک بڑے پیالہ میں کچھ کھجور ریں بھگو دی تھیں تو جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے وہی بھگوئی ہوئی کھجوریں آپ ﷺ کو پلا دیں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُرْسِهِ فَکَانَتْ امْرَأَتُهُ يَوْمَئِذٍ خَادِمَهُمْ وَهِيَ الْعَرُوسُ قَالَ سَهْلٌ تَدْرُونَ مَا سَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْقَعَتْ لَهُ تَمَرَاتٍ مِنْ اللَّيْلِ فِي تَوْرٍ فَلَمَّا أَکَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৪
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدلرحمن، ابی حازم، حضرت سہل (رض) فرماتے ہیں کہ ابو اسید ساعدی (رض) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دعوت دی اور پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث ذکر کی لیکن اس میں یہ ذکر نہیں کہ جب آپ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو انہوں نے آپ ﷺ کو نبیذ پلایا۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلًا يَقُولُا أَتَی أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ فَلَمَّا أَکَلَ سَقَتْهُ إِيَّاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৫
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
محمد بن سہل تمیمی، ابن ابی مریم، محمد ابوغسان، ابوحازم، سہل بن سعد، حضرت سہل بن سعد (رض) سے یہی حدیث منقول ہے اور اس میں پتھر کے پیالے کا ذکر ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کھانے سے فارغ ہوئے تو حضرت سہل نے بھگوئی ہوئی ان کھجوروں کو خاص طور پر صرف آپ ﷺ کو پلایا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي أَبَا غَسَّانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الطَّعَامِ أَمَاثَتْهُ فَسَقَتْهُ تَخُصُّهُ بِذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৬
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
محمد بن سہل تمیمی، ابوبکر بن اسحاق، ابوبکر، ابن ابی مریم، محمد بن مطرف، ابوغسان، ابوحازم، حضرت سہل بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے حضرت ابواسید (رض) کو حکم فرمایا کہ اس عورت کی طرف جاؤ۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ أَخْبَرَنِي أَبُو حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ ذُکِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ الْعَرَبِ فَأَمَرَ أَبَا أُسَيْدٍ أَنْ يُرْسِلَ إِلَيْهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَقَدِمَتْ فَنَزَلَتْ فِي أُجُمِ بَنِي سَاعِدَةَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَائَهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ مُنَکِّسَةٌ رَأْسَهَا فَلَمَّا کَلَّمَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْکَ قَالَ قَدْ أَعَذْتُکِ مِنِّي فَقَالُوا لَهَا أَتَدْرِينَ مَنْ هَذَا فَقَالَتْ لَا فَقَالُوا هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَکِ لِيَخْطُبَکِ قَالَتْ أَنَا کُنْتُ أَشْقَی مِنْ ذَلِکَ قَالَ سَهْلٌ فَأَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ حَتَّی جَلَسَ فِي سَقِيفَةِ بَنِي سَاعِدَةَ هُوَ وَأَصْحَابُهُ ثُمَّ قَالَ اسْقِنَا لِسَهْلٍ قَالَ فَأَخْرَجْتُ لَهُمْ هَذَا الْقَدَحَ فَأَسْقَيْتُهُمْ فِيهِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ فَأَخْرَجَ لَنَا سَهْلٌ ذَلِکَ الْقَدَحَ فَشَرِبْنَا فِيهِ قَالَ ثُمَّ اسْتَوْهَبَهُ بَعْدَ ذَلِکَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَوَهَبَهُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ اسْقِنَا يَا سَهْلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৭
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس نبیذ کے بیان میں کہ جس میں شدت نہ پیدا ہوئی ہو اور نہ ہی اس میں نشہ پیدا ہوا ہو تو وہ حلال ہے۔
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، عفان، حماد بن سلمہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے اس پیالے سے رسول اللہ ﷺ کو پینے کی تمام چیزیں یعنی شہد اور نبیذ اور پانی اور دودھ پلایا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِقَدَحِي هَذَا الشَّرَابَ کُلَّهُ الْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ وَالْمَائَ وَاللَّبَنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৮
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پینے کے جواز میں
عبیداللہ بن معاذ غبری، ابوشعبہ، ابواسحاق، براء، ابوبکر صدیق، حضرت براء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ کی طرف نکلے تو ہمارا ایک چرواہے کے پاس سے گزر ہوا اور رسول اللہ ﷺ کو پیاس لگی ہوئی تھی حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے لئے تھوڑا سا دودھ دوہا اور آپ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ لَمَّا خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ مَرَرْنَا بِرَاعٍ وَقَدْ عَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَحَلَبْتُ لَهُ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৯
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پینے کے جواز میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق ہمدانی، حضرت براء فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تشریف لائے تو سراقہ بن مالک جعشم آپ ﷺ کا تعاقب کرنے لگا حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے بد دعا فرمائی تو اس کا گھوڑا دھنس گیا سراقہ نے عرض کیا آپ ﷺ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں میں آپ ﷺ کو کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا راوی کہتے ہیں کہ آپ نے اللہ سے دعا کی راوی کہتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ کو پیاس لگی اور بکریوں کے ایک چرواہے کے پاس سے گزر ہوا حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں رسول اللہ کے لئے دودھ دوہا اور وہ دودھ لے کے میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے وہ دودھ پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَقَ الْهَمْدَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولَ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَأَتْبَعَهُ سُراقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَتْ فَرَسُهُ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّکَ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ قَالَ فَعَطِشَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرُّوا بِرَاعِي غَنَمٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ فَأَخَذْتُ قَدَحًا فَحَلَبْتُ فِيهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪০
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پینے کے جواز میں
محمد بن عباد، زہیر بن حرب، ابن عباد، ابوصفوان، یونس، زہری، ابن مسیب، ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ معراج کی رات بیت المقدس میں نبی ﷺ کی خدمت میں ایک شراب اور ایک دودھ کا پیالہ لایا گیا آپ ﷺ نے دونوں کی طرف دیکھا اور پھر دودھ کا پیالہ لے لیا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ سے کہا تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں کہ جس نے آپ ﷺ کو فطرت کی ہدایت عطا فرمائی اگر آپ ﷺ شراب کا پیالہ لے لیتے تو آپ ﷺ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو صَفْوَانَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ بِإِيلِيَائَ بِقَدَحَيْنِ مِنْ خَمْرٍ وَلَبَنٍ فَنَظَرَ إِلَيْهِمَا فَأَخَذَ اللَّبَنَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي هَدَاکَ لِلْفِطْرَةِ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪১
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ دودھ پینے کے جواز میں
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے گئے پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں بیت المقدس کا ذکر نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ بِإِيلِيَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪২
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبد بن حمید، ابوعاصم، ابن مثنی، ضحاک، ابن جریج، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت ابوحمید ساعدی (رض) فرماتے ہیں میں کہ نبی ﷺ کی خدمت میں نقیع کے مقام سے ایک (شخص) دودھ کا پیالہ لے کر آیا وہ پیالہ ڈھکا ہوا نہیں تھا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اس پیالہ کو ڈھانکا کیوں نہیں اگرچہ لکڑی کی ایک آڑ ہی سے اس کو ڈھک دیتے حضرت ابوحمید فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے رات کو مشکیزوں کے منہ باندھنے کا اور رات کو دروازوں کو بند رکھنے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ مِنْ النَّقِيعِ لَيْسَ مُخَمَّرًا فَقَالَ أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ إِنَّمَا أُمِرَ بِالْأَسْقِيَةِ أَنْ تُوکَأَ لَيْلًا وَبِالْأَبْوَابِ أَنْ تُغْلَقَ لَيْلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪৩
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں
ابراہیم بن دینار، روح بن عبادہ، ابن جریج، زکریا بن اسحاق، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت ابوحمید ساعدی (رض) فرماتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ لائے اور پھر اسی طرح حدیث ذکر کی اور اس میں رات کا ذکر نہیں ہے۔
و حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَزَکَرِيَّائُ بْنُ إِسْحَقَ قَالَا أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّهُ أَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَدَحِ لَبَنٍ بِمِثْلِهِ قَالَ وَلَمْ يَذْکُرْ زَکَرِيَّائُ قَوْلَ أَبِي حُمَيْدٍ بِاللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪৪
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابوصالح، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے آپ ﷺ نے پانی طلب فرمایا تو ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا ہم آپ ﷺ کو نبیذ پلائیں آپ نے فرمایا ہاں تو وہ آدمی دوڑتا ہوا نکلا اور ایک پیالہ لے کر آیا جس میں نبیذ تھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے اسے ڈھانکا کیوں نہیں اگرچہ ایک لکڑی ہی اس پر رکھ دی جاتی راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ نے وہ نبیذ پی لی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَی فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَسْقِيکَ نَبِيذًا فَقَالَ بَلَی قَالَ فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَسْعَی فَجَائَ بِقَدَحٍ فِيهِ نَبِيذٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَّا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا قَالَ فَشَرِبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪৫
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبیذ اور برتنوں کو ڈھکنے کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابوسفیان، ابوصالح، جابر بن عبداللہ، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جسے ابوحمید کہا جاتا ہے وہ نقیع کے مقام سے دودھ کا ایک پیالہ لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے ابوحمید سے فرمایا کہ تم نے اسے ڈھکا کیوں نہیں کم ازکم اس کے عرض پر ایک لکڑی ہی رکھ دی جاتی۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبِي صَالِحٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو حُمَيْدٍ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ مِنْ النَّقِيعِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا خَمَّرْتَهُ وَلَوْ تَعْرُضُ عَلَيْهِ عُودًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৪৬
پینے کی چیزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سوتے وقت برتنوں کو ڈھانکنے مشکیزوں کے منہ باندھنے دروازوں کو بند کرنے چراغ بجھانے بچوں اور جانوروں کو مغرب کے بعد باہر نہ نکالنے کے استح کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے برتنوں کو ڈھانک دیا کرو اور مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور دروازہ بند کرلیا کرو اور چراغ بھجا دیا کرو کیونکہ شیطان مشکیزوں کو نہیں کھولتا اور دروازے کو بھی نہیں کھولتا اور ڈھکے ہوئے برتن کا ڈھکن بھی نہیں اتارتا اور اگر تم میں سے کسی کو ڈھکنے کے لئے کچھ نہ ملے تو صرف برتن پر اس کے عرض پر ایک لکڑی ہی رکھ دی جائے اور اللہ تعالیٰ کا نام بھی لے لے تو ایسے ہی کرنا چاہئے کیونکہ چوہا لوگوں کے گھر جلا دیتا ہے قتیبہ نے اپنی حدیث میں (وَأَغْلِقُوا الْبَابَ ) یعنی دروزہ بند کرنے کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ غَطُّوا الْإِنَائَ وَأَوْکُوا السِّقَائَ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ وَأَطْفِئُوا السِّرَاجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَحُلُّ سِقَائً وَلَا يَفْتَحُ بَابًا وَلَا يَکْشِفُ إِنَائً فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُکُمْ إِلَّا أَنْ يَعْرُضَ عَلَی إِنَائِهِ عُودًا وَيَذْکُرَ اسْمَ اللَّهِ فَلْيَفْعَلْ فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَی أَهْلِ الْبَيْتِ بَيْتَهُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ قُتَيْبَةُ فِي حَدِيثِهِ وَأَغْلِقُوا الْبَابَ
tahqiq

তাহকীক: