আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

شکار کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯২ টি

হাদীস নং: ৫০৩২
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، ابوشعبہ، توبہ، عنبری، شعبی، ابن عمر (رض) ، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے ساتھ آپ ﷺ کے صحابہ (رض) میں سے کچھ لوگ تھے ان میں حضرت سعد (رض) بھی تھے اور آپ ﷺ کی خدمت میں گوہ کا گوشت لایا گیا تو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ایک نے آواز دے کر عرض کیا یہ گوہ کا گوشت ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم کھاؤ کیونکہ یہ حلال ہے لیکن مجھے یہ کھانا نہیں۔
و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ سَمِعَ الشَّعْبِيَّ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ مَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ سَعْدٌ وَأُتُوا بِلَحْمِ ضَبٍّ فَنَادَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُوا فَإِنَّهُ حَلَالٌ وَلَکِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩৩
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، توبہ عنبری، شعبی، حسن، حضرت توبہ عبنری فرماتے ہیں کہ مجھ سے شعبی نے کہا کہ کیا تو نے حسن کی وہ حدیث سنی ہے جو انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ہے اور میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ تقریبا دو یا ڈیڑھ سال بیٹھا رہا مگر میں نے اس روایت کے علاوہ اور کوئی روایت ان سے سنی ہی نہیں کہ جو انہوں نے نبی ﷺ سے نقل کی ہو راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کے صحابہ (رض) میں سے جن میں حضرت سعد (رض) بھی تھے وہ معاذ کی حدیث کی طرح نقل کرتے ہیں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ تَوْبَةَ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ قَالَ لِي الشَّعْبِيُّ أَرَأَيْتَ حَدِيثَ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَاعَدْتُ ابْنَ عُمَرَ قَرِيبًا مِنْ سَنَتَيْنِ أَوْ سَنَةٍ وَنِصْفٍ فَلَمْ أَسْمَعْهُ رَوَی عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ هَذَا قَالَ کَانَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ سَعْدٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩৪
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک بن شہاب، ابی امامہ بن سہل بن حنیف، ابن عباس (رض) ، خالد بن ولید، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں اور خالد بن ولید (رض) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں داخل ہوا تو آپ ﷺ کی خدمت میں بھنی ہوئی ایک گوہ پیش کی گئی رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف اپنا ہاتھ مبارک بڑھایا تو حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں جو عورتیں موجود تھیں ان میں سے ایک عورت نے کہا رسول اللہ ﷺ جو کچھ کھانا چاہتے ہیں وہ آپ ﷺ کو بتادو (گوہ کا علم ہونے پر) رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ کیا یہ حرام ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ گوہ میری سر زمین میں نہیں پائی جاتی اس لئے میں نے اسے ناپسند کیا حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں نے اس گوہ کو کھینچا اور اسے کھانا شروع کردیا اور رسول اللہ ﷺ دیکھ رہے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ مَيْمُونَةَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ فَأَهْوَی إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ بَعْضُ النِّسْوَةِ اللَّاتِي فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ أَخْبِرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَأْکُلَ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقُلْتُ أَحَرَامٌ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَکِنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَکَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩৫
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوامامہ بن سہل بن حنیف انصاری، حضرت ابن عباس خبر دیتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید جن کو سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کہا جاتا ہے وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت میمونہ (رض) کے ہاں گئے اور وہ (حضرت میمونہ (رض) حضرت خالد اور حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہم) کی خالہ تھیں حضرت میمونہ کے پاس ایک بھنی ہوئی گوہ رکھی ہوئی تھی جو کہ ان کی بہن حضرت ہفیدہ بنت حارث نجد سے لائی تھیں انہوں نے وہ گوہ رسول اللہ ﷺ کے آگے پیش کردی اور آپ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ آپ ﷺ کسی کھانے کی طرف اس وقت تک ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے جب تک کہ اس کے بارے میں آپ ﷺ کو بتا نہ دیا جاتا ہو اور اس کھانے کا نام لے لیا جاتا ہو تو رسول اللہ ﷺ نے گوہ کی طرف اپنا ہاتھ مبارک بڑھایا تو وہاں موجود عورتوں میں سے ایک عورت نے کہا رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ تم نے پیش کیا ہے وہ بتادو وہ کہنے لگیں اے اللہ کے رسول یہ گوہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک کھینچ لیا حضرت خالد بن ولید نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا گوہ حرام ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں لیکن یہ گوہ چونکہ میری سر زمین میں نہیں ہوتی جس کی وجہ سے میں نے اسے ناپسند سمجھا حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں نے اس گوہ کو اپنی طرف کھینچا اور اسے کھانا شروع کردیا اور رسول اللہ ﷺ دیکھتے رہے اور مجھے منع نہیں فرمایا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ وَهْبٍ قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ الَّذِي يُقَالُ لَهُ سَيْفُ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ خَالَتُهُ وَخَالَةُ ابْنِ عَبَّاسٍ فَوَجَدَ عِنْدَهَا ضَبًّا مَحْنُوذًا قَدِمَتْ بِهِ أُخْتُهَا حُفَيْدَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ فَقَدَّمَتْ الضَّبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ قَلَّمَا يُقَدَّمُ إِلَيْهِ طَعَامٌ حَتَّی يُحَدَّثَ بِهِ وَيُسَمَّی لَهُ فَأَهْوَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ إِلَی الضَّبِّ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ النِّسْوَةِ الْحُضُورِ أَخْبِرْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَدَّمْتُنَّ لَهُ قُلْنَ هُوَ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ أَحَرَامٌ الضَّبُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا وَلَکِنَّهُ لَمْ يَکُنْ بِأَرْضِ قَوْمِي فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ قَالَ خَالِدٌ فَاجْتَرَرْتُهُ فَأَکَلْتُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ يَنْظُرُ فَلَمْ يَنْهَنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩৬
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن نضر، عبد بن حمید، ابوبکر، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابوصالح بن کیسان، ابن شہاب، ابی امامہ بن سہل، ابن عباس، حضرت خالد بن ولید فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت میمونہ بنت حارث (رض) کے گھر میں داخل ہوئے اور حضرت میمونہ (رض) حضرت خالد کی خالہ تھیں تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں گوہ کا گوشت پیش کیا گیا جو کہ ام حفیدہ بنت ہارث (رض) نجد سے لائی تھیں اور یہ ام حفیدہ، قبیلہ بنی جعفر کے کسی آدمی کے نکاح میں تھیں اور رسول اللہ ﷺ کچھ نہیں کھاتے تھے جب تک کہ معلوم نہ ہوجاتا کہ وہ کیا چیز ہے پھر آگے یونس کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی اور اس حدیث کے آخر میں یہ زائد ہے کہ ابن الاصم نے حضرت میمونہ (رض) سے نقل کیا ہے جو کہ حضرت میمونہ کی پرورش میں تھے۔
و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنِي و قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ وَهِيَ خَالَتُهُ فَقُدِّمَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمُ ضَبٍّ جَائَتْ بِهِ أُمُّ حُفَيْدٍ بِنْتُ الْحَارِثِ مِنْ نَجْدٍ وَکَانَتْ تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي جَعْفَرٍ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْکُلُ شَيْئًا حَتَّی يَعْلَمَ مَا هُوَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ وَزَادَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ وَحَدَّثَهُ ابْنُ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَکَانَ فِي حَجْرِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩৭
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، ابی امامہ بن سہل بن حنیف، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اور ہم حضرت میمونہ کے گھر میں تھے کہ آپ ﷺ کی خدمت میں دو بھنے ہوئے گوہ لائے گئے اور اس میں یزید بن الاصم عن میمونہ کا ذکر نہیں ہے۔
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْکُرْ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩৮
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث، خلاد بن یزید، سعید بن ابی ہلال، ابومنکدر، ابوامامہ بن سہل، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور وہ (ابن عباس) حضرت میمونہ (رض) کے گھر میں تھے اور حضرت خالد بن ولید (رض) بھی وہاں موجود تھے آپ ﷺ کی خدمت میں گوہ کا گوشت پیش کیا گیا پھر آگے زہری کی حدیث کی طرح حدیث ذکر فرمائی
و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ ابْنِ الْمُنْکَدِرِ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِلَحْمِ ضَبٍّ فَذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৩৯
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
محمد بن بشار، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، ابی بشر، سعید بن جبیر، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میری خالہ ام حفیدہ نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ گھی کچھ پنیر اور چند گو ہیں بطور ہدیہ کے پیش کیں آپ ﷺ نے گھی اور پنیر میں سے تو کچھ کھالیا اور گوہ سے نفرت کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ کے دسترخوان پر گوہ کو کھا گیا ہے اور اگر گوہ حرام ہوتی تو آپ ﷺ کے دسترخوان پر نہ کھائی جاتی۔۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا أَهْدَتْ خَالَتِي أَمُّ حُفَيْدٍ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا فَأَکَلَ مِنْ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ وَتَرَکَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُکِلَ عَلَی مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ کَانَ حَرَامًا مَا أُکِلَ عَلَی مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪০
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، شیبانی، یزید بن اصم، حضرت یزید بن اصم سے روایت ہے کہتے ہیں کہ ایک دولہا نے مدینہ میں ہماری دعوت کی (اور دعوت میں) اس نے تیرہ گوہ (پکا کر) ہمارے سامنے رکھے تو ہم میں سے کچھ نے گوہ کھالی اور کچھ نے چھوڑ دئیے میں اگلے دن حضرت ابن عباس (رض) سے ملا تو میں نے ان کو (گوہ کے بارے میں) بتایا۔ حضرت ابن عباس (رض) کے ارد گرد بہت سے لوگ بھی اکٹھے ہوگئے ان میں سے ایک آدمی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نہ میں گوہ کھاتا ہوں اور نہ ہی میں گوہ کھانے سے منع کرتا ہوں اور نہ ہی گوہ کو حرام قرار دیتا ہوں حضرت ابن عباس (رض) فرمانے لگے کہ تم نے جو کہا برا کہا نبی ﷺ تو صرف حلال اور حرام بیان کرنے کے لئے مبعوث ہوئے ہیں رسول اللہ ﷺ حضرت میمونہ (رض) کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ ﷺ ُ کے پاس حضرت فضل بن عباس (رض) اور حضرت خالد بن ولید (رض) اور ایک عورت بھی موجود تھی ان سب کے سامنے دسترخوان پر ایک گوشت رکھا گیا تو جب نبی ﷺ نے اسے کھانا چاہا تو حضرت میمونہ نے عرض کیا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک روک لیا اور آپ ﷺ نے فرمایا یہ گوشت میں نے کبھی نہیں کھایا ان سے فرمایا تم کھاؤ تو حضرت فضل اور حضرت خالد بن ولید اور اس عورت نے گوہ کے گوشت میں سے کھایا حضرت میمونہ فرماتی ہیں کہ میں بھی کچھ نہیں کھاؤں گی سوائے اس چیز کے کہ جس میں سے رسول اللہ ﷺ کھائیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا فَآکِلٌ وَتَارِکٌ فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَکْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّی قَالَ بَعْضُهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا آکُلُهُ وَلَا أَنْهَی عَنْهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَامْرَأَةٌ أُخْرَی إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خُوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْکُلَ قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ فَکَفَّ يَدَهُ وَقَالَ هَذَا لَحْمٌ لَمْ آکُلْهُ قَطُّ وَقَالَ لَهُمْ کُلُوا فَأَکَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالْمَرْأَةُ وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ لَا آکُلُ مِنْ شَيْئٍ إِلَّا شَيْئٌ يَأْکُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪১
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، ابن جریج، زبیر، حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک گوہ لائی گئی تو آپ ﷺ نے اسے کھانے سے انکار فرما دیا اور آپ ﷺ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں شاید کہ یہ گوہ ان زمانوں میں سے ہوں جن زمانوں کی قومیں مسخ ہوگئیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَی أَنْ يَأْکُلَ مِنْهُ وَقَالَ لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنْ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪২
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، حضرت ابوزبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے گوہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تم اسے نہ کھاؤ اور فرمایا کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اس گوہ کو حرام قرار نہیں دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے بہت سوں کو نفع دیتے ہیں اور عام طور پر یہ چرواہوں کی خوراک ہوتی ہے اور اگر گوہ میرے پاس بھی ہوتی تو میں بھی اسے کھاتا۔
و حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ الضَّبِّ فَقَالَ لَا تَطْعَمُوهُ وَقَذِرَهُ وَقَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَائِ مِنْهُ وَلَوْ کَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪৩
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، داؤد، ابی نضرہ، ابوسعید، حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم ایک ایسی زمین میں رہتے ہیں کہ جہاں گوہ بہت کثرت سے پائی جاتی ہے تو آپ ﷺ ہمیں گو کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ یا اس نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ہمیں کیا فتوی دیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھ سے بنی اسرائیل کی ایک قوم کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس کی شکل بگاڑ کر گوہ جیسی شکل کردی گئی تھی تو آپ ﷺ نے نہ تو گوہ کھانے کا حکم فرمایا اور نہ ہی اس سے منع فرمایا حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں کہ اس کے کچھ عرصہ بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے بہت سے لوگوں کو نفع دیتے ہیں عام طور پر چرواہوں کی خوراک یہی ہے اور اگر گوہ میرے پاس ہوتی تو میں بھی اسے کھاتا رسول اللہ ﷺ نے تو اس سے صرف ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا تھا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ فَمَا تُفْتِينَا قَالَ ذُکِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَلَمَّا کَانَ بَعْدَ ذَلِکَ قَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَائِ وَلَوْ کَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪৪
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ گوہ مباح ہونے کے بیان میں
محمد بن حاتم، بہز، ابوعقیل دورقی، ابونضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور اس نے عرض کیا میں ایک ایسے نشیبی علاقہ میں رہتا ہوں کہ جہاں گوہ بہت ہوتی ہیں اور عام طور پر میرے گھر والوں کا کھانا یہی ہے تو آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ہم نے اس دیہاتی سے کہا دوبارہ بیان کر اس نے دوبارہ عرض کیا تو آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے تیسری مرتبہ میں اسے آواز دی اور فرمایا اے دیہاتی اللہ نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت پر لعنت فرمائی یا غصہ کیا تو ان کو مسخ کر کے جانور بنادیا جو زمین میں پھرتے ہیں اور میں نہیں جانتا ہوسکتا ہے کہ شاید یہ گوہ بھی انہی جانوروں میں سے ہو اس لئے نہ تو میں اسے کھاتا ہوں اور نہ ہی اسے کھانے سے منع کرتا ہوں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي قَالَ فَلَمْ يُجِبْهُ فَقُلْنَا عَاوِدْهُ فَعَاوَدَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ يَا أَعْرَابِيُّ إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَی سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ فَلَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا فَلَسْتُ آکُلُهَا وَلَا أَنْهَی عَنْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪৫
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے جواز کے بیان میں
ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، ابی یعفور، حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوئے جس میں ٹڈیاں کھاتے رہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ نَأْکُلُ الْجَرَادَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪৬
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، حضرت ابویعفور (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے ابوبکر کی روایت میں سات غزوات کا ذکر ہے اور اسحاق کی روایت میں چھ غزوات کا اور ابن ابی عمر (رض) نے چھ یا سات غزوات کا ذکر کیا ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَبُو بَکْرٍ فِي رِوَايَتِهِ سَبْعَ غَزَوَاتٍ و قَالَ إِسْحَقُ سِتَّ و قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ سِتَّ أَوْ سَبْعَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪৭
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ٹڈی کھانے کے جواز کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی یعفور، حضرت ابویعفور (رض) سے اس سند کی روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں سات غزوات کا ذکر ہے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪৮
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرگوش کھانے کے جواز میں
محمد بن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ہشام بن زید، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ ہم جا رہے تھے کہ ظہران کے مقام سے گزرے تو ہم نے ایک خرگوش کا پیچھا کیا لوگ اس کی طرف دوڑے لیکن وہ تھک گئے راوی کہتے ہیں کہ پھر میں دوڑا یہاں تک کہ میں نے اسے پکڑ لیا اور جب میں اسے حضرت ابوطلحہ کے پاس لایا تو انہوں نے خرگوش کو ذبح کیا اس کی سرین اور اس کی دونوں رانیں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے آیا تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مَرَرْنَا فَاسْتَنْفَجْنَا أَرْنَبًا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ فَسَعَوْا عَلَيْهِ فَلَغَبُوا قَالَ فَسَعَيْتُ حَتَّی أَدْرَکْتُهَا فَأَتَيْتُ بِهَا أَبَا طَلْحَةَ فَذَبَحَهَا فَبَعَثَ بِوَرِکِهَا وَفَخِذَيْهَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَبِلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৪৯
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خرگوش کھانے کے جواز میں
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، یحییٰ بن حبیب، خلاد بن حارث، شعبہ، یحیی، شعبہ سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے جس میں خرگوش کی سرین یا خرگوش کی دونوں رانوں کا ذکر ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَی بِوَرِکِهَا أَوْ فَخِذَيْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫০
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکار کرنے اور دوڑنے میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان سے مدد لینے کے جواز میں اور کنکری پھینکنے کی کرا ہے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، کہمس، ابن بریدہ، عبداللہ بن مغفل، حضرت ابن بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مغفل نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک آدمی کو کنکری پھینکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے فرمایا کنکری نہ پھینک کیونکہ رسول اللہ ﷺ اسے ناپسند کرتے تھے یا آپ ﷺ خذف (کنکری پھینکنے) سے منع فرماتے تھے کیونکہ اس سے نہ شکار کیا جاتا ہے اور نہ ہی اس سے دشمن مرتا ہے لیکن اس سے دانت ٹوٹ جاتا ہے یا آنکھ پھوٹ جاتی ہے حضرت عبداللہ نے اس کے بعد پھر اسے کنکری پھینکتے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ میں تجھے رسول اللہ ﷺ کے فرمان کی خبر دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اسے ناپسند سمجھتے تھے یا کنکری پھینکنے سے منع فرماتے تھے اگر میں نے تجھے کنکری پھینکتے دیکھا تو میں تجھ سے کبھی بھی بات نہیں کروں گا
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا کَهْمَسٌ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ رَأَی عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ لَا تَخْذِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَکْرَهُ أَوْ قَالَ يَنْهَی عَنْ الْخَذْفِ فَإِنَّهُ لَا يُصْطَادُ بِهِ الصَّيْدُ وَلَا يُنْکَأُ بِهِ الْعَدُوُّ وَلَکِنَّهُ يَکْسِرُ السِّنَّ وَيَفْقَأُ الْعَيْنَ ثُمَّ رَآهُ بَعْدَ ذَلِکَ يَخْذِفُ فَقَالَ لَهُ أُخْبِرُکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَکْرَهُ أَوْ يَنْهَی عَنْ الْخَذْفِ ثُمَّ أَرَاکَ تَخْذِفُ لَا أُکَلِّمُکَ کَلِمَةً کَذَا وَکَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫০৫১
شکار کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شکار کرنے اور دوڑنے میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان سے مدد لینے کے جواز میں اور کنکری پھینکنے کی کرا ہے کے بیان میں
ابوداؤد، سلیمان بن معبد، عثمان بن عمر، کہمس سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے
حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ مَعْبَدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا کَهْمَسٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক: