আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭১ টি

হাদীস নং: ৪৮৬১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو صرف اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے اس کے دین کی تصدیق کی خاطر اپنے گھر سے نکلتا ہے تو اللہ اس کے لئے اس بات کا ضامن ہوجاتا ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا یا اسے اس کے گھر لوٹائے گا کہ اس کے ساتھ اجر وثواب یا مال غنیمت ہوگا۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَکَفَّلَ اللَّهُ لِمَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِهِ لَا يُخْرِجُهُ مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا جِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ وَتَصْدِيقُ کَلِمَتِهِ بِأَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ أَوْ يَرْجِعَهُ إِلَی مَسْکَنِهِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ مَعَ مَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جو آدمی بھی زخمی ہوتا ہے تو اللہ جانتا ہے کہ کسے زخم دیا گیا ہے وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے زخم کا رنگ تو خون کی طرح ہوگا لیکن اس کی خوشبو مشک کی طرح ہوگی۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُکْلَمُ أَحَدٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُکْلَمُ فِي سَبِيلِهِ إِلَّا جَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالرِّيحُ رِيحُ مِسْکٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ، حضرت ہمام بن منبہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ کی کئی احادیث ذکر کیں ان میں سے یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر وہ زخم جو کسی مسلمان کو اللہ کے راستے میں لگے پھر وہ قیامت کے دن اپنی اسی صورت پر ہوگا جس طرح وہ زخم لگائے جانے کے وقت تھا کہ اس سے خون نکل رہا ہوگا اس کا رنگ خون کا رنگ ہوگا اور خوشبو مشک کی خوشبو ہوگی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر مومنوں پر دشوار نہ ہوتا تو میں اللہ کے راستہ میں لڑنے والے کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا لیکن میں اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ ان سب کو سواریاں عطا کرسکوں اور نہ وہ وسعت رکھتے ہیں کہ وہ میرے ساتھ جاسکیں اور ان کے دل میرے سے پیچھے رہ جانے سے خوش نہیں ہیں۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلُّ کَلْمٍ يُکْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ تَکُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ کَهَيْئَتِهَا إِذَا طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ دَمٍ وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْکِ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ فِي يَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خَلْفَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَکِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلَهُمْ وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً فَيَتَّبِعُونِي وَلَا تَطِيبُ أَنْفُسُهُمْ أَنْ يَقْعُدُوا بَعْدِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے اگر مومنین پر مشکل نہ ہوتی تو میں کسی لشکر سے پیچھے نہ رہتا باقی حدیث ان اسناد سے اسی طرح روایت کی ہے اضافہ یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند ہے کہ مجھے اللہ کے راستہ میں شہید کیا جائے پھر زندہ کیا جائے باقی حدیث ابوزرعہ کی ابوہریرہ (رض) کی حدیث کی طرح ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی الْمُؤْمِنِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ أُحْيَا بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ، یحییٰ بن سعید، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر میری امت پر مشکل نہ ہوتا تو مجھے یہ بات پسند تھی کہ میں کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَی أُمَّتِي لَأَحْبَبْتُ أَنْ لَا أَتَخَلَّفَ خَلْفَ سَرِيَّةٍ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جہاد اور اللہ کے راستہ میں نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر ضامن ہوتا ہے جو اس کے راستہ میں نکلا ہو آپ ﷺ کے قول میں اللہ کے راستہ میں کسی لڑنے والے لشکر سے کبھی پیچھے نہ رہتا تک۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِهِ إِلَی قَوْلِهِ مَا تَخَلَّفْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوخالد احمر، شعبہ، قتادہ، حمید، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کوئی شخص ایسا نہیں جس کا اللہ کے ہاں اجر وثواب ہو اور وہ دنیا کی طرف لوٹنے کو بلکہ پسند کرتا ہو اور نہ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس کا ہوجائے سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے پھر قتل کیا جائے بوجہ اس کے جو اس نے شہادت کی فضیلت دیکھی۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ لَهَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ يَسُرُّهَا أَنَّهَا تَرْجِعُ إِلَی الدُّنْيَا وَلَا أَنَّ لَهَا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا إِلَّا الشَّهِيدُ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّی أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ فِي الدُّنْيَا لِمَا يَرَی مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس بن مالک (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا نہیں جسے جنت میں داخل کردیا جائے وہ اس بات کی پسند کرتا ہو کہ اسے دنیا میں لوٹا دیا جائے اور اس کے لئے روئے زمین کی تمام چیزیں ہوں سوائے شہید کے کہ وہ تمنا کرتا ہے کہ اسے لوٹایا جائے پھر اسے دس مرتبہ قتل کیا جائے بوجہ اس کے جو اس نے عزت و کر امت دیکھی۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ إِلَی الدُّنْيَا وَأَنَّ لَهُ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ شَيْئٍ غَيْرُ الشَّهِيدِ فَإِنَّهُ يَتَمَنَّی أَنْ يَرْجِعَ فَيُقْتَلَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَی مِنْ الْکَرَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৬৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
سعید بن منصور، خالد بن عبداللہ واسطی، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ سے عرض کیا گیا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے کے برابر بھی کوئی عبادت ہے آپ ﷺ نے فرمایا تم اس عبادت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ابوہریرہ ﷺ کہتے ہیں کہ یہ سوال آپ ﷺ کے سامنے دو یا تین مرتبہ دہرایا گیا اور ہر مرتبہ کے جواب میں یہی فرمایا تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے اور تیسری مرتبہ فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا جہاد سے واپسی تک اس شخص کی طرح جو روزہ ادار قیام کرنے والا اور اللہ کی آیات پر عمل کرنے والا ہو اور روزہ و نماز سے تھکنے والا نہ ہو۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعْدِلُ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ قَالَ فَأَعَادُوا عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا تَسْتَطِيعُونَهُ وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْقَانِتِ بِآيَاتِ اللَّهِ لَا يَفْتُرُ مِنْ صِيَامٍ وَلَا صَلَاةٍ حَتَّى يَرْجِعَ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، زہیر بن حرب، جریر، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، سہیل، ان دو اسناد سے بھی یہی حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ کُلُّهُمْ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
حسن بن علی حلوانی، ابوتوبہ، معاویہ، زید بن سلام، ابوسلام، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا کہ ایک شخص نے کہا مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد سوائے حاجیوں کو پانی پلانے کے کوئی عمل نہ کروں اور دوسرے نے کہا مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسلام لانے کے بعد مسجد حرام کو آباد کرنے کے علاوہ کوئی عمل نہ کروں تیسرے نے کہا اللہ کے راستہ میں جہاد اس سے افضل ہے جو تم نے کہا۔ حضرت عمر (رض) نے ان سب کو ڈاٹنا اور کہا کہ اپنی آوازوں کو رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس بلند نہ کرو یہ جمعہ کا دن تھا لیکن جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر میں نے آپ ﷺ سے اس کا فتوی طلب کیا جس میں انہوں نے اختلاف کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی کیا تم حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کو آباد کرنے کو اس شخص کے عمل کے برابر قرا دیتے ہو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لایا ہو اور اس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہو۔
حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَجُلٌ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أُسْقِيَ الْحَاجَّ وَقَالَ آخَرُ مَا أُبَالِي أَنْ لَا أَعْمَلَ عَمَلًا بَعْدَ الْإِسْلَامِ إِلَّا أَنْ أَعْمُرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ وَقَالَ آخَرُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَفْضَلُ مِمَّا قُلْتُمْ فَزَجَرَهُمْ عُمَرُ وَقَالَ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَکُمْ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ وَلَکِنْ إِذَا صَلَّيْتُ الْجُمُعَةَ دَخَلْتُ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فِيمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجِّ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ کَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ الْآيَةَ إِلَی آخِرِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں شہادت کی فضلیت کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، معاویہ، زید، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے منبر کے پاس تھا باقی حدیث گزر چکی ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ أَخْبَرَنِي زَيْدٌ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ قَالَ حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ قَالَ کُنْتُ عِنْدَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي تَوْبَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، حماد بن سلمہ، ثابت، انس بن مالک، حضرت انس (رض) بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں ایک صبح یا شام نکلنا دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ صبح جسے بندہ اللہ کے راستہ میں طلوع کرے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالْغَدْوَةَ يَغْدُوهَا الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، ابی حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ایک صبح یا شام اللہ کے راستہ میں جانا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا سے افضل ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ غَدْوَةٌ أَوْ رَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
ابن ابی عمر، مروان بن معاویہ، یحییٰ بن سعید، ذکوان، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میری امت میں ایسے لوگ نہ ہوتے باقی حدیث گزر چکی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے اللہ کے راستہ میں شام یا صبح کرنا الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا سے افضل ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ ذَکْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ رِجَالًا مِنْ أُمَّتِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ وَلَرَوْحَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ غَدْوَةٌ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، زہیر بن حرب، ابوبکر اسحاق، مقری، عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، شرحبیل بن شریک معافری، ابوعبدالرحمن حبلی حضرت ابوایوب سے روایت ہے کہ اللہ کے راستہ میں صبح یا شام کرنا بہتر ہے ہر اس چیز سے جس پر سورج طلوع اور غروب ہوتا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَإِسْحَقَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ وَغَرَبَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ عز وجل کے راستہ میں صبح یا شام کو نکلنے کی فضلیت کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن قہزاذ، علی بن حسن، عبداللہ بن مبارک، سعید بن ایوب بن شریح، شرحبیل بن شریک، ابوعبدالرحمن حبلی، ابوایوب انصاری، اس سند سے بھی یہ حدیث بالکل من وعن مروی ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ وَحَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ قَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيکٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ سَوَائً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৭৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جنت میں مجاہد کے لئے اللہ تعالیٰ کے تیار کردہ درجات کے بیان میں
سعید بن منصور، عبداللہ بن وہب ابوہانی خولانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوسعید جو اللہ کے رب ہونے پر اسلام کے دین ہونے پر اور محمد ﷺ کے نبی ہونے پر راضی ہوا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی ابوسعید نے اس بات پر تعجب کیا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ان کو دوبارہ شمار فرمائیں آپ نے ایسا (دوبارہ) کیا پھر فرمایا ایک اور بات بھی ہے کہ اس کی وجہ سے بندے کے جنت میں سو درجات بلند ہوتے ہیں اور ہر دو درجات کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد اللہ کے راستہ میں جہاد۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ فَعَجِبَ لَهَا أَبُو سَعِيدٍ فَقَالَ أَعِدْهَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَفَعَلَ ثُمَّ قَالَ وَأُخْرَی يُرْفَعُ بِهَا الْعَبْدُ مِائَةَ دَرَجَةٍ فِي الْجَنَّةِ مَا بَيْنَ کُلِّ دَرَجَتَيْنِ کَمَا بَيْنَ السَّمَائِ وَالْأَرْضِ قَالَ وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮৮০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جسے اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اس کے قرض کے سوا تمام گناہوں کے معاف ہونے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابوسعید، عبداللہ حضرت ابوقتادہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام (رض) کے درمیان کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا اللہ کے راستہ میں جہاد اور اللہ پر ایمان لانا افضل الاعمال ہیں ایک آدمی نے کھڑا ہو کر عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں تو میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اس بارے میں آپ ﷺ کیا فرماتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا ہاں اگر تو اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے اور تو صبر کرنے والا (ثابت قدم) ، ثواب کی نیت رکھنے والا اور پیٹھ پھیرے بغیر دشمن کی طرف متوجہ رہنے والا ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم نے کیا کہا تھا اس نے کہا میں نے کہا تھا کہ اگر میں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جاؤں تو کیا میرے گناہ مجھ سے دور ہوجائیں گے تو نبی ﷺ نے فرمایا ہاں اس صورت میں کہ تو صبر کرنے والا ثواب کی نیت رکھنے والا اور پیٹھ پھیرے بغیر دشمن کی طرف متوجہ رہنے والا ہو تو سوائے قرض کے (سب گناہ معاف ہوجائیں گے) کیونکہ جبرائیل نے مجھے یہی کہا ہے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ أَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ قَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক: