আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

امارت اور خلافت کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭১ টি

হাদীস নং: ৪৭৮১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکموں کے ظلم پر صبر کرنے کے حکم کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ، ابوشعبہ، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں خلوت رسول اللہ ﷺ کا ذکر نہیں۔
و حَدَّثَنِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَقُلْ خَلَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکموں کی اطاعت کے بیان میں اگرچہ وہ تمہارے حقوق نہ دیں
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، علقمہ بن وائل، حضرمی بن وائل حضرمی، حضرت علقمہ بن وائل (رض) اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت سلمی بن یزید جعفی (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ اس بارے میں کیا حکم فرماتے ہیں کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مسلط ہوجائیں جو ہم سے اپنے حقوق تو مانگیں اور ہمارے حقوق کو روک لیں آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا اس نے آپ ﷺ سے پھر پوچھا آپ ﷺ نے پھر اعراض فرمایا پھر اس نے دوسری یا تیسری مرتبہ پوچھا تو اسے اشعث بن قیس نے کھینچ لیا اور کہا : اس کیا بات سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان پر ان کا بوجھ اور تمہارے اوپر تمہارا بوجھ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَأَلَ سَلَمَةُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ قَامَتْ عَلَيْنَا أُمَرَائُ يَسْأَلُونَا حَقَّهُمْ وَيَمْنَعُونَا حَقَّنَا فَمَا تَأْمُرُنَا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ سَأَلَهُ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ وَقَالَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاکموں کی اطاعت کے بیان میں اگرچہ وہ تمہارے حقوق نہ دیں
ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، شعبہ، سماک، اس سند کے ساتھ یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ اسے اشعث بن قیس نے کھینچا تو رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ان کی بات سنو اور اطاعت کرو کیونکہ ان کو بوجھ ان پر اور تمہارا بوجھ تمہارے اوپر ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ فَجَذَبَهُ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا عَلَيْهِمْ مَا حُمِّلُوا وَعَلَيْکُمْ مَا حُمِّلْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
محمد بن مثنی عنزی، ولید بن مسلم، عبدالرحمن بن یزید بن جابر بسر بن عبیداللہ حضرمی، ابوادریس، حضرت حذیفہ بن یمان (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رض) تو رسول اللہ ﷺ سے خیر و بھلائی کے متعلق سوال کرتے تھے اور میں برائی کے بارے میں اس خوف کی وجہ سے کہ وہ مجھے پہنچ جائے سوال کرتا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہم جاہلیت اور شر میں تھے اللہ ہمارے پاس یہ بھلائی لائے تو کیا اس بھلائی کے بعد بھی کوئی شر ہوگا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں میں نے عرض کیا کیا اس برائی کے بعد کوئی بھلائی بھی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اور اس خیر میں کچھ کدورت ہوگی میں نے عرض کیا کیسی کدورت ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا میری سنت کے علاوہ کو سنت سمجھیں گے اور میری ہدایت کے علاوہ کو ہدایت جان لیں گے تو ان کو پہچان لے گا اور نفرت کرے گا میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے بعد کوئی برائی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا ہاں جہنم کے دروازوں پر کھڑے ہو کر جہنم کی طرف بلایا جائے گا جس نے ان کی دعوت کو قبول کرلیا وہ اسے جہنم میں ڈال دیں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ ﷺ ہمارے لئے ان کی صفت بیان فرما دیں آپ ﷺ نے فرمایا ہاں وہ ایسی قوم ہوگی جو ہمارے رنگ جیسی ہوگی اور ہماری زبان میں ہی گفتگو کرے گی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اگر یہ مجھے ملے تو آپ ﷺ کیا حکم فرماتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کی جماعت کو اور ان کے امام کو لازم کرلینا میں نے عرض کیا اگر مسلمانوں کی کوئی جماعت ہو نہ کوئی امام۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر ان تمام فرقوں سے علیحدہ ہوجانا اگرچہ تجھے موت کے آنے تک درخت کی جڑوں کو کاٹنا پڑے تو اسی حالت میں موت کے سپرد ہوجائے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْحَضْرَمِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ يَقُولُا کَانَ النَّاسُ يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَيْرِ وَکُنْتُ أَسْأَلُهُ عَنْ الشَّرِّ مَخَافَةَ أَنْ يُدْرِکَنِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا فِي جَاهِلِيَّةٍ وَشَرٍّ فَجَائَنَا اللَّهُ بِهَذَا الْخَيْرِ فَهَلْ بَعْدَ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِکَ الشَّرِّ مِنْ خَيْرٍ قَالَ نَعَمْ وَفِيهِ دَخَنٌ قُلْتُ وَمَا دَخَنُهُ قَالَ قَوْمٌ يَسْتَنُّونَ بِغَيْرِ سُنَّتِي وَيَهْدُونَ بِغَيْرِ هَدْيِي تَعْرِفُ مِنْهُمْ وَتُنْکِرُ فَقُلْتُ هَلْ بَعْدَ ذَلِکَ الْخَيْرِ مِنْ شَرٍّ قَالَ نَعَمْ دُعَاةٌ عَلَی أَبْوَابِ جَهَنَّمَ مَنْ أَجَابَهُمْ إِلَيْهَا قَذَفُوهُ فِيهَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا قَالَ نَعَمْ قَوْمٌ مِنْ جِلْدَتِنَا وَيَتَکَلَّمُونَ بِأَلْسِنَتِنَا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا تَرَی إِنْ أَدْرَکَنِي ذَلِکَ قَالَ تَلْزَمُ جَمَاعَةَ الْمُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ فَقُلْتُ فَإِنْ لَمْ تَکُنْ لَهُمْ جَمَاعَةٌ وَلَا إِمَامٌ قَالَ فَاعْتَزِلْ تِلْکَ الْفِرَقَ کُلَّهَا وَلَوْ أَنْ تَعَضَّ عَلَی أَصْلِ شَجَرَةٍ حَتَّی يُدْرِکَکَ الْمَوْتُ وَأَنْتَ عَلَی ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
محمد بن سہل بن عسکر تمیمی، یحییٰ بن حسان، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ ابن حسان، معاویہ ابن سلام، زید بن سلام، ابوسلام، حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ ہم شر میں مبتلا تھے اللہ ہمارے پاس اس بھلائی کو لایا جس میں ہم ہیں تو کیا اس بھلائی کے پیچھے بھی کوئی برائی ہے آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں میں نے عرض کیا کیا اس برائی کے پیچھے کوئی خیر بھی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے پیچھے کوئی برائی بھی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں میں نے عرض کیا کیا اس خیر کے پیچھے کوئی برائی ہوگی آپ ﷺ نے فرمایا میرے بعد ایسے مقتداء ہوں گے جو میری ہدایت سے راہنمائی حاصل نہ کریں گے اور نہ میری سنت کو اپنائیں گے اور عنقریب ان میں ایسے لوگ کھڑے ہوں گے کہ ان کے دل انسانی جسموں میں شیطان کے دل ہوں گے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میں کیسے کروں اگر اس زمانہ کو پاؤں آپ ﷺ نے فرمایا امیر کی بات سن اور اطاعت کر اگرچہ تیری پیٹھ پر مارا جائے یا تیرا مال غصب کرلیا جائے پھر بھی ان کی بات سن اور اطاعت کر۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْکَرٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ عَنْ أَبِي سَلَّامٍ قَالَ قَالَ حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا بِشَرٍّ فَجَائَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَنَحْنُ فِيهِ فَهَلْ مِنْ وَرَائِ هَذَا الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ هَلْ وَرَائَ ذَلِکَ الشَّرِّ خَيْرٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَهَلْ وَرَائَ ذَلِکَ الْخَيْرِ شَرٌّ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ کَيْفَ قَالَ يَکُونُ بَعْدِي أَئِمَّةٌ لَا يَهْتَدُونَ بِهُدَايَ وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي وَسَيَقُومُ فِيهِمْ رِجَالٌ قُلُوبُهُمْ قُلُوبُ الشَّيَاطِينِ فِي جُثْمَانِ إِنْسٍ قَالَ قُلْتُ کَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَدْرَکْتُ ذَلِکَ قَالَ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ لِلْأَمِيرِ وَإِنْ ضُرِبَ ظَهْرُکَ وَأُخِذَ مَالُکَ فَاسْمَعْ وَأَطِعْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
شیبان بن فروخ جریر، ابن حازم، غیلان، ابن جریر، ابی قیس بن ریاح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا اور جس نے اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے کے نیچے جنگ کی کسی عصبیت کی بناء پر غصہ کرتے ہوئے عصبیت کی طرف بلایا یا عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل کردیا گیا تو وہ جاہلیت کے طور پر قتل کیا گیا اور جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک وبد سب کو قتل کیا کسی مومن کا لحاظ کیا اور نہ کسی سے کیا ہوا وعدہ پورا کیا تو وہ میرے دین پر نہیں اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي قَيْسِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ خَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ فَمَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِعَصَبَةٍ أَوْ يَدْعُو إِلَی عَصَبَةٍ أَوْ يَنْصُرُ عَصَبَةً فَقُتِلَ فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ وَمَنْ خَرَجَ عَلَی أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا وَلَا يَتَحَاشَی مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي لِذِي عَهْدٍ عَهْدَهُ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
عبیداللہ بن عمر قواریری، حماد بن زید، ایو ب، غیلان بن جریر، زیاد بن ریاح قیسی، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا باقی حدیث اسی طرح ہے اس حدیث میں ( لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا) کے الفاظ ہیں۔
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ الْقَيْسِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ جَرِيرٍ وَقَالَ لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، مہدی بن میمون، غیلان بن جریر، زیاد بن ریاح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص امیر کی اطاعت سے نکل گیا اور جماعت سے علیحدہ ہوگیا پھر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا جو شخص اندھی تقلید میں کسی کے جھنڈے تلے عصبیت پر غصہ کرتے ہوئے مارا گیا اور وہ جنگ کرتا ہو عصبیت کے لئے تو وہ میری امت میں سے نہیں ہے اور میری امت میں سے جس نے میری امت پر خروج کیا کہ اس کے نیک اور برے کو قتل کرے مومن کا لحاظ کرے نہ کسی ذمی کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے تو وہ میرے دین پر نہیں۔
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ خَرَجَ مِنْ الطَّاعَةِ وَفَارَقَ الْجَمَاعَةَ ثُمَّ مَاتَ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً وَمَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَغْضَبُ لِلْعَصَبَةِ وَيُقَاتِلُ لِلْعَصَبَةِ فَلَيْسَ مِنْ أُمَّتِي وَمَنْ خَرَجَ مِنْ أُمَّتِي عَلَی أُمَّتِي يَضْرِبُ بَرَّهَا وَفَاجِرَهَا لَا يَتَحَاشَ مِنْ مُؤْمِنِهَا وَلَا يَفِي بِذِي عَهْدِهَا فَلَيْسَ مِنِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৮৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، غیلان بن جریر، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے بہرحال ابن مثنی نے اپنی روایت میں نبی ﷺ کا ذکر نہیں کیا اور بشار نے اپنی حدیث مبارکہ میں قال رسول اللہ ﷺ کہا ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا ابْنُ الْمُثَنَّی فَلَمْ يَذْکُرْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَدِيثِ وَأَمَّا ابْنُ بَشَّارٍ فَقَالَ فِي رِوَايَتِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
حسن بن ربیع، حماد بن زید، جعد، ابوعثمان، ابورجاء، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی اپنے امیر میں کوئی ایسی بات دیکھے جوا سے ناپسند ہو تو چاہئے کہ صبر کرے کیونکہ جو آدمی جماعت سے ایک بالشت بھر بھی جدا ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي رَجَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ يَرْوِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَأَی مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا يَکْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ فَإِنَّهُ مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا فَمَاتَ فَمِيتَةٌ جَاهِلِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯১
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
شیبان بن فروغ، حماد، عبدالورث، جعد، ابورجاء عطار دی، ابن عباس، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ فرمایا جسے اپنے امیر سے کوئی بات ناپسند ہو تو چاہئے کہ اس پر صبر کرے کیونکہ لوگوں میں سے جو بھی سلطان کی اطاعت سے ایک بالشت بھی نکلا اور اس پر اسی کی موت واقع ہوگئی تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا الْجَعْدُ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَائٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَرِهَ مِنْ أَمِيرِهِ شَيْئًا فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ خَرَجَ مِنْ السُّلْطَانِ شِبْرًا فَمَاتَ عَلَيْهِ إِلَّا مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯২
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
ہریم بن عبداعلی، معتمر، ابومجلز، جندب بن عبداللہ بجلی، حضرت جندب بن عبداللہ بجلی (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو کسی کی اندھی تقلید میں عصبیت کی طرف بلاتا ہو یا عصبیت کی مدد کرتا ہوا قتل کیا گیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا هُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قُتِلَ تَحْتَ رَايَةٍ عِمِّيَّةٍ يَدْعُو عَصَبِيَّةً أَوْ يَنْصُرُ عَصَبِيَّةً فَقِتْلَةٌ جَاهِلِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৩
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابن محمد بن زید، زید بن محمد، نافع، عبداللہ بن عمر، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) واقعہ حرہ کے وقت جو یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ہوا عبداللہ بن مطیع کے پاس آئے تو ابن مطیع نے کہا ابوعبدالرحمن کے لئے غالیچہ بچھاؤ تو ابن عمر (رض) نے کہا میں آپ کے پاس بیٹھنے کے لئے نہیں آیا میں تو آپ کے پاس اس لئے آیا ہوں کہ آپ کو ایسی حدیث بیان کروں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی آپ ﷺ نے فرمایا جس نے اطاعت امیر سے ہاتھ نکال لیا تو وہ قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اس کے پاس کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ تھی وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ قَالَ جَائَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ حِينَ کَانَ مِنْ أَمْرِ الْحَرَّةِ مَا کَانَ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ اطْرَحُوا لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وِسَادَةً فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِکَ لِأَجْلِسَ أَتَيْتُکَ لِأُحَدِّثَکَ حَدِيثًا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ خَلَعَ يَدًا مِنْ طَاعَةٍ لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَلَيْسَ فِي عُنُقِهِ بَيْعَةٌ مَاتَ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৪
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
ابن نمیر، یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، لیث، عبیداللہ بن ابی جعفر، بکیر بن عبداللہ بن اشج، نافع، ابن عمر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ ابن مطیع کے پاس گئے اور نبی ﷺ کی حدیث مبارکہ اسی طرح بیان کی۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُکَيْرٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ بُکَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَی ابْنَ مُطِيعٍ فَذَکَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৫
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ فتنوں کے ظہور کے وقت جماعت کے ساتھ رہنے کے حکم اور کفر کی طرف بلانے سے روکنے کے بیان میں
عمرو بن علی، ابن مہدی، محمد بن عمرو بن جبلہ، بشر بن عمر، ہشام بن سعد، زید بن اسلم، ابن عمر، اس سند کے ساتھ بھی یہی حدیث حضرت ابن عمر (رض) کے واسطہ سے نبی ﷺ سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৬
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے والے کے حکم کے بیان میں
ابوبکر بن نافع، محمد بن بشا ر، غندر، محمد بن جعفر، شعبہ، زیاد بن علاقہ حضرت عرفجہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب فتنے اور فساد ظاہر ہوں گے اور جو اس امت کی جماعت کے معاملات میں تفریق ڈالنے کا ارادہ کرے اسے تلوار کے ساتھ مار دو وہ شخص کوئی بھی ہو۔
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ و قَالَ ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ سَتَکُونُ هَنَاتٌ وَهَنَاتٌ فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ أَمْرَ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوهُ بِالسَّيْفِ کَائِنًا مَنْ کَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৭
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے والے کے حکم کے بیان میں
احمد بن خراش، حبان، ابوعوانہ، قاسم بن زکریا، عبیداللہ بن موسی، شیبان، اسحاق بن ابراہیم، مصعب بن مقدام خثعمی، اسرائیل، حجاج، عارم بن فضل، حماد بن زید، عبداللہ بن مختار، ان چار اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے لیکن انہوں نے فَاضرِبُوہ کی بجائے فَاقْتُلُوهُ کا لفظ ذکر کیا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْخَثْعَمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ح و حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُخْتَارِ وَرَجُلٌ سَمَّاهُ کُلُّهُمْ عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ عَنْ عَرْفَجَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمْ جَمِيعًا فَاقْتُلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৮
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مسلمانوں کی جماعت میں تفریق ڈالنے والے کے حکم کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، یونس، ابویعفور عرفجہ، حضرت عرفجہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے تم اپنے معاملات میں کسی ایک آدمی پر متفق ہو پھر تمہارے پاس کوئی آدمی آئے اور تمہارے اتحاد کی لاٹھی کو توڑنے یا تمہاری جماعت میں تفریق ڈالنا چاہے تو اسے قتل کردو۔
و حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي يَعْفُورٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَتَاکُمْ وَأَمْرُکُمْ جَمِيعٌ عَلَی رَجُلٍ وَاحِدٍ يُرِيدُ أَنْ يَشُقَّ عَصَاکُمْ أَوْ يُفَرِّقَ جَمَاعَتَکُمْ فَاقْتُلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৭৯৯
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب دو خلفاء کی بیعت لی جائے تو کیا کرنا چاہئے
وہب بن بقیہ واسطی، خلاد بن عبداللہ، جریری، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب دو خلفاء کی بیعت کی جائے تو ان دونوں میں سے دوسرے کو قتل کردو۔
و حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بُويِعَ لِخَلِيفَتَيْنِ فَاقْتُلُوا الْآخَرَ مِنْهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৮০০
امارت اور خلافت کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خلاف شرع امور میں حکام کے رد کرنے کے وجوب اور جب تک وہ نماز وغیر ادا کرتے ہوں ان سے جنگ نہ کرنے کے بیان میں
ہداب بن خالد ازدی، ہمام بن یحیی، قتادہ، حسن، ضبہ بن محصن، حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب ایسے امراء ہوں گے جن کے خلاف شریعت اعمال کو تم پہچان لوگے اور بعض اعمال نہ پہچان سکو گے پس جس نے اس کے اعمال بد کو پہچان لیا وہ بری ہوگیا جو نہ پہچان سکا وہ محفوظ رہا لیکن جو ان امور پر خوش ہوا اور تابعداری کی (وہ محفوظ نہ رہا) صحابہ (رض) نے عرض کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا نہیں جب تک وہ نماز ادا کرتے رہیں۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ ضَبَّةَ بْنِ مِحْصَنٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَتَکُونُ أُمَرَائُ فَتَعْرِفُونَ وَتُنْکِرُونَ فَمَنْ عَرَفَ بَرِئَ وَمَنْ أَنْکَرَ سَلِمَ وَلَکِنْ مَنْ رَضِيَ وَتَابَعَ قَالُوا أَفَلَا نُقَاتِلُهُمْ قَالَ لَا مَا صَلَّوْا
tahqiq

তাহকীক: