আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
حدود کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৭২ টি
হাদীস নং: ৪৪১৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) رسول اللہ ﷺ کے منبر پر بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے۔ بیشک اللہ نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ پر کتاب نازل فرمائی اور جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا اس میں آیت رجم بھی ہے۔ ہم نے اسے پڑھا، یاد رکھا اور اسے سمجھا۔ رسول اللہ ﷺ نے (زانی کو) سنگسار کیا اور آپ ﷺ کے بعد ہم نے بھی سنگسار کیا۔ پس میں ڈرتا ہوں کہ لوگوں پر زمانہ دراز گزرے گا کہ کہنے والا کہے گا کہ ہم اللہ کی کتاب میں سنگسار کا حکم نہیں پاتے تو وہ ایک فریضہ کو چھوڑنے پر گمراہ ہوں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے حالانکہ جب شادی شدہ مرد، عورت زنا کریں جب ان پر گواہی قائم ہوجائے یا اعتراف کرلیں تو اللہ کی کتاب میں اسے سنگسار کرنا ثابت ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ جَالِسٌ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْکِتَابَ فَکَانَ مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ قَرَأْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا فَرَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ فَأَخْشَی إِنْ طَالَ بِالنَّاسِ زَمَانٌ أَنْ يَقُولَ قَائِلٌ مَا نَجِدُ الرَّجْمَ فِي کِتَابِ اللَّهِ فَيَضِلُّوا بِتَرْکِ فَرِيضَةٍ أَنْزَلَهَا اللَّهُ وَإِنَّ الرَّجْمَ فِي کِتَابِ اللَّهِ حَقٌّ عَلَی مَنْ زَنَی إِذَا أَحْصَنَ مِنْ الرِّجَالِ وَالنِّسَائِ إِذَا قَامَتْ الْبَيِّنَةُ أَوْ کَانَ الْحَبَلُ أَوْ الِاعْتِرَافُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪১৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن ابی عمر، سفیان، زہری ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث ابن سعد، عقیل، ابن شہاب، ابی سلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ مسجد میں تھے اور اس نے آپ ﷺ کو پکار کر کہا اے اللہ کے رسول ﷺ ؟ میں زنا کر بیٹھا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس سے رو گردانی کی اور اس کی طرف سے چہرہ اقدس پھیرلیا۔ اس نے پھر آپ ﷺ سے کہا اے اللہ کے رسول ؟ میں زنا کر بیٹھا ہوں۔ آپ ﷺ نے اس سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی بات کو چار مرتبہ دھرایا۔ جب اس نے اپنے آپ پر چار گواہیاں دے دیں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا کیا تجھے جنون ہوگیا ہے ؟ اس نے عرض کیا نہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو شادی شدہ ہے اس نے عرض کیا جی ہاں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے لے جاؤ اور سنگسار کردو۔ ابن شہاب نے کہا مجھے اس نے خبر دی جس نے جابر بن عبداللہ سے سنا وہ فرماتے ہیں کہ میں ان میں سے تھا جنہوں نے اسے رجم کیا۔ ہم نے اسے عیدگاہ میں سنگسار کیا۔ پس جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا تو ہم نے اسے میدان مرہ میں پایا اور اسے سنگسار کردیا۔
و حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ أَتَی رَجُلٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَنَادَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَتَنَحَّی تِلْقَائَ وَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي زَنَيْتُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ حَتَّی ثَنَی ذَلِکَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا شَهِدَ عَلَی نَفْسِهِ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ دَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبِکَ جُنُونٌ قَالَ لَا قَالَ فَهَلْ أَحْصَنْتَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ فَارْجُمُوهُ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا فَکُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُ فَرَجَمْنَاهُ بِالْمُصَلَّی فَلَمَّا أَذْلَقَتْهُ الْحِجَارَةُ هَرَبَ فَأَدْرَکْنَاهُ بِالْحَرَّةِ فَرَجَمْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
مسلم، لیث، عبدالرحمن بن خالد بن مسافر، ابن شہاب آگے دوسری سند ذکر کی ہے۔
قَالَ مسلم وَرَوَاهُ اللَّيْثُ أَيْضًا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوالیمان، شعیب، زہری، ابن شہاب، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے بھی عقیل کی طرح یہ حدیث مذکور ہے۔
و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَيْضًا وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ کَمَا ذَکَرَ عُقَيْلٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، ابن جریج، زہری، ابی سلمہ، جابر بن عبداللہ، عقیل، زہری، سعید، ابی سلمہ، ابوہریرہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ رِوَايَةِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوکامل، فضیل بن حسین حجدری، ابوعوانہ سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ماعز بن مالک (رض) کو دیکھا جب اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا تو چھوٹے قد والا اور طاقتور تھا۔ اس پر چادر نہ تھی۔ اس نے اپنے اوپر چار مرتبہ اس بات کی گواہی دی کہ اس نے زنا کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا شاید تجھے شک ہو اس نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم اس خطاکار نے زنا کیا ہے۔ تو اسے سنگسار کردیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا گیا جب ہماری جماعت اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے جاتی ہے ان میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کی آواز بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے۔ وہ کسی کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے۔ سنو ! اللہ کی قسم اگر مجھے ان میں سے کسی پر قدرت دی میں اسے ضرور سزا دوں گا۔
و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ رَأَيْتُ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ حِينَ جِيئَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ قَصِيرٌ أَعْضَلُ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَائٌ فَشَهِدَ عَلَی نَفْسِهِ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ أَنَّهُ زَنَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَعَلَّکَ قَالَ لَا وَاللَّهِ إِنَّهُ قَدْ زَنَی الْأَخِرُ قَالَ فَرَجَمَهُ ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ أَلَا کُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ خَلَفَ أَحَدُهُمْ لَهُ نَبِيبٌ کَنَبِيبِ التَّيْسِ يَمْنَحُ أَحَدُهُمْ الْکُثْبَةَ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ يُمْکِنِّي مِنْ أَحَدِهِمْ لَأُنَکِّلَنَّهُ عَنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، سماک بن حرب، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک چھوٹے قد والا آدمی لایا گیا۔ اس پر ایک چادر تھی اس حال میں اس نے زنا کیا تھا۔ آپ ﷺ نے اسے دو مرتبہ رد فرمایا۔ پھر حکم دیا تو اسے رجم کردیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ہماری جماعت اللہ کے راستہ میں جہاد کرتی ہے تم میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے بکرے کی آواز کی طرح آواز نکالتا ہے اور کسی عورت کو تھوڑا سا دودھ دیتا ہے بیشک اللہ مجھے ان میں سے کسی پر جب قوت و قبضہ دے گا تو میں اسے عبرت بنا دوں گا یا ایسی سزا دوں گا جو دوسروں کے لئے عبرت ہوگی راوی کہتے ہیں کہ یہ حدیث میں نے سعید بن جبیر سے بیان کی تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اسے چار مرتبہ واپس کیا تھا۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُا أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ قَصِيرٍ أَشْعَثَ ذِي عَضَلَاتٍ عَلَيْهِ إِزَارٌ وَقَدْ زَنَی فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کُلَّمَا نَفَرْنَا غَازِينَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ أَحَدُکُمْ يَنِبُّ نَبِيبَ التَّيْسِ يَمْنَحُ إِحْدَاهُنَّ الْکُثْبَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُمْکِنِّي مِنْ أَحَدٍ مِنْهُمْ إِلَّا جَعَلْتُهُ نَکَالًا أَوْ نَکَّلْتُهُ قَالَ فَحَدَّثْتُهُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ فَقَالَ إِنَّهُ رَدَّهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، شعبہ، سماک، جابر بن سمرہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ ابن جعفر کی شبابہ نے دو مرتبہ کے لوٹانے میں موافقت کی ہے اور ابوعامر کی حدیث میں ہے کہ آپ ﷺ نے اسے دو یا تین مرتبہ واپس کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ وَوَافَقَهُ شَبَابَةُ عَلَی قَوْلِهِ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي عَامِرٍ فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، ابوکامل جحدری، ابوعوانہ سماک سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ماعز بن مالک سے فرمایا کیا تیری جو بات مجھے پہنچی ہے وہ سچ ہے۔ تو انہوں نے عرض کی آپ ﷺ کو میرے بارے میں کیا بات پہنچی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تو نے آل فلاں کی لڑکی سے زنا کیا ہے۔ انہوں نے عرض کیا ہاں۔ پھر چار گواہیاں دیں پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے رجم کیا گیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ أَحَقٌّ مَا بَلَغَنِي عَنْکَ قَالَ وَمَا بَلَغَکَ عَنِّي قَالَ بَلَغَنِي أَنَّکَ وَقَعْتَ بِجَارِيَةِ آلِ فُلَانٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৮
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
محمد بن مثنی، عبدالاعلی، داود، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ بنی اسلم میں سے ایک آدمی جسے ماعز بن مالک کہا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں برائی کو پہنچا ہوں (زنا کیا ہے) تو آپ ﷺ مجھ پر حد قائم کردیں تو نبی ﷺ نے اسے بار بار رد کیا۔ پھر آپ ﷺ نے ان کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا ہمیں اس میں کوئی بیماری معلوم نہیں لیکن اندازًا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی ہے جس کہ بارے میں اسے گمان ہے کہ سوائے حد قائم کئے کے اس سے نہ نکلے گی۔ راوی کہتا ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے سنگسار کردیں اسے بقیع غرقد کی طرف لے چلے نہ ہم نے اسے باندھا اور نہ اس کے لئے گڑھا کھودا۔ ہم نے اسے ہڈیوں ڈھیلوں اور ٹھکریوں سے مارا وہ بھاگا اور ہم بھی اس کے پیچھے دوڑے۔ یہاں تک کہ وہ حرہ کے عرض میں آگیا اور ہمارے لئے رکا تو ہم نے اسے میدان حرہ کے پتھروں سے مارا۔ یہاں تک کہ اس کا جسم ٹھنڈا ہوگیا۔ پھر شام کے وقت رسول اللہ ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے اور فرمایا ہم جب بھی اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے نکلتے ہیں تو کوئی آدمی ہمارے اہل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ اس کی آواز بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے مجھ پر یہ ضروری ہے کہ جو بھی آدمی جس نے ایسا عمل کیا ہو اور وہ میرے پاس لایا جائے تو میں اسے عبرتناک سزا دوں۔ راوی کہتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے لئے نہ مغفرت مانگی اور نہ اسے برا بھلا کہا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنِي عَبْدُ الْأَعْلَی حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّي أَصَبْتُ فَاحِشَةً فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِرَارًا قَالَ ثُمَّ سَأَلَ قَوْمَهُ فَقَالُوا مَا نَعْلَمُ بِهِ بَأْسًا إِلَّا أَنَّهُ أَصَابَ شَيْئًا يَرَی أَنَّهُ لَا يُخْرِجُهُ مِنْهُ إِلَّا أَنْ يُقَامَ فِيهِ الْحَدُّ قَالَ فَرَجَعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَرْجُمَهُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا بِهِ إِلَی بَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ فَمَا أَوْثَقْنَاهُ وَلَا حَفَرْنَا لَهُ قَالَ فَرَمَيْنَاهُ بِالْعَظْمِ وَالْمَدَرِ وَالْخَزَفِ قَالَ فَاشْتَدَّ وَاشْتَدَدْنَا خَلْفَهُ حَتَّی أَتَی عُرْضَ الْحَرَّةِ فَانْتَصَبَ لَنَا فَرَمَيْنَاهُ بِجَلَامِيدِ الْحَرَّةِ يَعْنِي الْحِجَارَةَ حَتَّی سَکَتَ قَالَ ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا مِنْ الْعَشِيِّ فَقَالَ أَوَ کُلَّمَا انْطَلَقْنَا غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَخَلَّفَ رَجُلٌ فِي عِيَالِنَا لَهُ نَبِيبٌ کَنَبِيبِ التَّيْسِ عَلَيَّ أَنْ لَا أُوتَی بِرَجُلٍ فَعَلَ ذَلِکَ إِلَّا نَکَّلْتُ بِهِ قَالَ فَمَا اسْتَغْفَرَ لَهُ وَلَا سَبَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪২৯
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
محمد بن حاتم بہز، یزید بن زریع، داؤد اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں۔ اس حدیث میں ہے کہ نبی کریم ﷺ شام کے وقت کھڑے ہوئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔ پھر فرمایا اما بعد ! ان قوموں کا کیا حال ہے ؟ جب ہم لڑتے ہیں ان میں سے کوئی ایک ہم سے پیچھے رہ جاتا اس کی آواز بکرے کی آواز کی طرح ہوتی ہے اور في عيالنا نہیں فرمایا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ مَعْنَاهُ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَشِيِّ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ إِذَا غَزَوْنَا يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ عَنَّا لَهُ نَبِيبٌ کَنَبِيبِ التَّيْسِ وَلَمْ يَقُلْ فِي عِيَالِنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩০
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
سریج بن یونس، یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، معاویہ بن ہشام، سفیان اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہے۔ حضرت سفیان کی حدیث میں ہے کہ اس نے زنا کا تین مرتبہ اعتراف کیا۔
و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ دَاوُدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بَعْضَ هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ فَاعْتَرَفَ بِالزِّنَی ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩১
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
محمد بن علاء ہمدانی، یحییٰ بن یعلی، ابن حارث محاربی، غیلان، ابن جامع محاربی، علقمہ بن مرثد، حضرت سلیمان بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم ﷺ کہ پاس آئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کریں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہو واپس جا، اللہ سے معافی مانگ اور اس کی طرف رجوع کر۔ تو وہ تھوڑی دور ہی جا کر لوٹ آئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کریں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہلاکت ہو تیرے لئے۔ لوٹ جا اللہ سے معافی مانگ اور اس کی طرف رجوع کر۔ وہ تھوڑی دور جا کر لوٹا پھر آکر عرض کی اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کریں تو نبی کریم ﷺ نے اسی طرح فرمایا یہاں تک کہ چوتھی دفعہ اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تجھے کس بارے میں پاک کروں ؟ اس نے عرض کیا زنا سے تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا کیا یہ دیوانہ ہے ؟ تو آپ ﷺ کو خبر دی گئی کہ وہ دیوانہ نہیں ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کیا اس نے شراب پی ہے ؟ تو ایک آدمی نے اٹھ کر اسے سونگھا اور اس سے شراب کی بدبو نہ پائی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے زنا کیا ؟ اس نے کہا ہاں۔ آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے رجم کیا گیا اور لوگ اس کے بارے میں دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا کہ یہ ہلاک ہوگیا اور اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا اور دوسرے کہنے والے نے کہا کہ ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ نہیں۔ وہ نبی کریم ﷺ کے پاس لایا گیا اس نے اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں رکھ کر عرض کیا مجھے پتھروں سے قتل کردیں۔ پس صحابہ (رض) دو دن یا تین دن اسی بات پر ٹھہرے رہے یعنی اختلاف رہا۔ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اس حال میں کہ صحابہ (رض) بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے سلام فرمایا اور بیٹھ گئے اور فرمایا ماعز بن مالک (رض) کے لئے بخشش مانگو صحابہ (رض) نے عرض کیا اللہ نے ماعز بن مالک (رض) کو معاف کردیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہوں نے ایسی خالص توبہ کی ہے کہ اگر اس کو امت میں تقسیم کردیا جاتا تو ان سب کے لئے کافی ہوجاتی۔ پھر ایک عورت جو قبیلہ غامد سے تھی جو کہ ازد کی شاخ ہے آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئی۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! مجھے پاک کردیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہو واپس ہوجا اللہ سے معافی مانگ اور اس کی طرف رجوع کر اس نے عرض کیا کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ مجھے واپس کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جیسا کہ آپ ﷺ نے ماعز (رض) کو واپس کیا آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہے ؟ اس نے عرض کیا جی ہاں آپ ﷺ نے اس سے فرمایا وضع حمل تک جو تیرے پیٹ میں ہے ایک انصاری آدمی نے اس کی کفالت کی ذمہ داری لی یہاں تک کہ وضع حمل ہوگیا وہ نبی کریم ﷺ نے کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ غامدیہ نے وضع حمل کردیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہم اس وقت اسے رجم نہیں کریں گے کیونکہ ہم اس کے بچے کو چھوٹا چھوڑیں گے تو اسے دودھ کون پلائے گا ؟ انصار میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ اس کی رضاعت میرے ذمہ ہے پھر اسے رجم کردیا گیا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَعْلَی وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ غَيْلَانَ وَهُوَ ابْنُ جَامِعٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَائَ مَاعِزُ بْنُ مَالِکٍ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ وَيْحَکَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَکَ ارْجِعْ فَاسْتَغْفِرْ اللَّهَ وَتُبْ إِلَيْهِ قَالَ فَرَجَعَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ جَائَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ الرَّابِعَةُ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ فِيمَ أُطَهِّرُکَ فَقَالَ مِنْ الزِّنَی فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبِهِ جُنُونٌ فَأُخْبِرَ أَنَّهُ لَيْسَ بِمَجْنُونٍ فَقَالَ أَشَرِبَ خَمْرًا فَقَامَ رَجُلٌ فَاسْتَنْکَهَهُ فَلَمْ يَجِدْ مِنْهُ رِيحَ خَمْرٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَزَنَيْتَ فَقَالَ نَعَمْ فَأَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ فَکَانَ النَّاسُ فِيهِ فِرْقَتَيْنِ قَائِلٌ يَقُولُ لَقَدْ هَلَکَ لَقَدْ أَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ وَقَائِلٌ يَقُولُ مَا تَوْبَةٌ أَفْضَلَ مِنْ تَوْبَةِ مَاعِزٍ أَنَّهُ جَائَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتُلْنِي بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَلَبِثُوا بِذَلِکَ يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَسَلَّمَ ثُمَّ جَلَسَ فَقَالَ اسْتَغْفِرُوا لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَقَالُوا غَفَرَ اللَّهُ لِمَاعِزِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ أُمَّةٍ لَوَسِعَتْهُمْ قَالَ ثُمَّ جَائَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ مِنْ الْأَزْدِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَقَالَ وَيْحَکِ ارْجِعِي فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ وَتُوبِي إِلَيْهِ فَقَالَتْ أَرَاکَ تُرِيدُ أَنْ تُرَدِّدَنِي کَمَا رَدَّدْتَ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ قَالَ وَمَا ذَاکِ قَالَتْ إِنَّهَا حُبْلَی مِنْ الزِّنَی فَقَالَ آنْتِ قَالَتْ نَعَمْ فَقَالَ لَهَا حَتَّی تَضَعِي مَا فِي بَطْنِکِ قَالَ فَکَفَلَهَا رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ حَتَّی وَضَعَتْ قَالَ فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قَدْ وَضَعَتْ الْغَامِدِيَّةُ فَقَالَ إِذًا لَا نَرْجُمُهَا وَنَدَعُ وَلَدَهَا صَغِيرًا لَيْسَ لَهُ مَنْ يُرْضِعُهُ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِلَيَّ رَضَاعُهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ فَرَجَمَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩২
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، محمد بن عبداللہ بن نمیر، بشیر بن مہاجر، حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی (رض) رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور زنا کیا اور میں ارادہ کرتا ہوں کہ آپ ﷺ مجھے پاک کردیں آپ ﷺ نے اسے لوٹا دیا (واپس کردیا) اگلی صبح وہ پھر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ تحقیق میں نے زنا کیا آپ ﷺ نے دوسری مرتبہ بھی واپس کردیا اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا کیا تم اس کی عقل میں کوئی خرابی جانتے ہو اور تم نے اس میں کوئی غیر پسندیدہ بات دیکھی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہم تو اسے اپنے برگزیدہ لوگوں میں سے کامل العقل جانتے ہیں ماعز آپ ﷺ کے پاس تیسری مرتبہ آیا تو آپ ﷺ نے ان کی قوم کے پاس پیغام بھیجوایا اور اس نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے آپ ﷺ کو خبر دی کہ اسے کوئی بیماری نہ ہے اور نہ ہی عقل میں خرابی ہے جب چوتھی بار ہوئی تو اس کے لئے گڑھا کھودا گیا پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے سنگسار کردیا گیا راوی کہتے ہیں کہ پھر غامدیہ عورت آئی اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول تحقیق میں نے زنا کیا پس آپ ﷺ نے مجھے پاک کردیں آپ ﷺ نے اسے واپس کردیا جب اگلی صبح ہوئی تو اسے نے کہا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ مجھے کیوں واپس کرتے ہیں شاید کہ آپ ﷺ مجھے اسی طرح واپس کرتے ہیں جیسا کہ آپ نے ماعز کو واپس کیا اللہ کی قسم میں تو البتہ حاملہ ہوں آپ ﷺ نے فرمایا اچھا اگر تو واپس نہیں جانا چاہتی تو جا یہاں تک کہ بچہ جن لے۔ جب اس نے بچہ جن لیا تو وہ بچہ کو ایک کپڑے میں لپیٹ کرلے آئی اور عرض کیا یہ میں نے بچہ جن دیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جا اور اسے دودھ پلا یہاں تک کہ یہ کھانے کے قابل ہوجائے یعنی دودھ چھڑا دے پس جب اس نے اس کا دودھ چھڑایا تو وہ بچہ لے کر حاضر ہوئی اس حال میں کہ بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور عرض کی اے اللہ کے نبی میں نے اس کو دودھ چھڑا دیا ہے اور یہ کھانا کھاتا ہے آپ ﷺ نے وہ بچہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی انصاری کے سپرد کیا پھر حکم دیا تو اس کے سینے تک گڑھا کھودا گیا اور لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اسے سنگسار کردیا پس خالد بنی ولید متوجہ ہوئے اور اس کے سر پر ایک پتھر مارا تو خون کی دھار خالد (رض) کے چہرے پر آپڑی اور انہوں نے اسے برا بھلا کہا اللہ کے نبی ﷺ نے ان کی اس بری بات کو سنا تو روکتے ہوئے فرمایا اے خالد اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے تحقیق اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا بھی ایسی توبہ کرتا تو اسے معاف کردیا جاتا پھر آپ ﷺ نے حکم دیا اور اس کا جنازہ ادا کیا گیا اور دفن کیا گیا
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِکٍ الْأَسْلَمِيَّ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَزَنَيْتُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَرَدَّهُ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَاهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَرَدَّهُ الثَّانِيَةَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی قَوْمِهِ فَقَالَ أَتَعْلَمُونَ بِعَقْلِهِ بَأْسًا تُنْکِرُونَ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالُوا مَا نَعْلَمُهُ إِلَّا وَفِيَّ الْعَقْلِ مِنْ صَالِحِينَا فِيمَا نُرَی فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ أَيْضًا فَسَأَلَ عَنْهُ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ وَلَا بِعَقْلِهِ فَلَمَّا کَانَ الرَّابِعَةَ حَفَرَ لَهُ حُفْرَةً ثُمَّ أَمَرَ بِهِ فَرُجِمَ قَالَ فَجَائَتْ الْغَامِدِيَّةُ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ فَطَهِّرْنِي وَإِنَّهُ رَدَّهَا فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ تَرُدُّنِي لَعَلَّکَ أَنْ تَرُدَّنِي کَمَا رَدَدْتَ مَاعِزًا فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبْلَی قَالَ إِمَّا لَا فَاذْهَبِي حَتَّی تَلِدِي فَلَمَّا وَلَدَتْ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي خِرْقَةٍ قَالَتْ هَذَا قَدْ وَلَدْتُهُ قَالَ اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّی تَفْطِمِيهِ فَلَمَّا فَطَمَتْهُ أَتَتْهُ بِالصَّبِيِّ فِي يَدِهِ کِسْرَةُ خُبْزٍ فَقَالَتْ هَذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ فَطَمْتُهُ وَقَدْ أَکَلَ الطَّعَامَ فَدَفَعَ الصَّبِيَّ إِلَی رَجُلٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُفِرَ لَهَا إِلَی صَدْرِهَا وَأَمَرَ النَّاسَ فَرَجَمُوهَا فَيُقْبِلُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِحَجَرٍ فَرَمَی رَأْسَهَا فَتَنَضَّحَ الدَّمُ عَلَی وَجْهِ خَالِدٍ فَسَبَّهَا فَسَمِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّهُ إِيَّاهَا فَقَالَ مَهْلًا يَا خَالِدُ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَکْسٍ لَغُفِرَ لَهُ ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَصَلَّی عَلَيْهَا وَدُفِنَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৩
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوغسان، مالک بن عبدالواحد مسمعی، معاذ یعنی ابن ہشام، یحییٰ بن ابی کثیر، ابوقلابہ، ابوالمہلب، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت جہنیہ قبیلہ کی اللہ کے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس حال میں کہ وہ زنا سے حاملہ تھی اس نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میں حد کے جرم کو پہنچی ہوں پس آپ ﷺ مجھ پر (حد) قائم کریں تو اللہ کے نبی ﷺ نے اس کے ولی کو بلایا اور فرمایا کہ اسے اچھی طرح رکھنا۔ جب حمل وضع ہوجائے تو اسے میرے پاس لے آنا۔ پس اس نے ایسا ہی کیا۔ اللہ کے نبی ﷺ نے عورت کے بارے میں حکم دیا تو اس پر اس کے کپڑے مضبو طی سے باندھ دیئے گئے پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اسے سنگسار کردیا گیا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کا جنازہ پڑھایا۔ تو حضرت عمر (رض) نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! آپ ﷺ اس کا جنازہ پڑھاتے ہیں حالانکہ اس نے زنا کیا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق ! اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر مدینہ والوں میں ستر آدمیوں کے درمیان تقیسم کی جائے تو انہیں کافی ہوجائے اور کیا تم نے اس سے افضل توبہ پائی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو اللہ کی رضا و خوشنودی کے لئے پیش کردیا ہے۔
حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ أَنَّ أَبَا الْمُهَلَّبِ حَدَّثَهُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ حُبْلَی مِنْ الزِّنَی فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَدَعَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا فَقَالَ أَحْسِنْ إِلَيْهَا فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا فَفَعَلَ فَأَمَرَ بِهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُکَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَرُجِمَتْ ثُمَّ صَلَّی عَلَيْهَا فَقَالَ لَهُ عُمَرُ تُصَلِّي عَلَيْهَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَقَدْ زَنَتْ فَقَالَ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ وَهَلْ وَجَدْتَ تَوْبَةً أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا لِلَّهِ تَعَالَی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৪
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان بن مسلم، ابان عطار، یحییٰ بن ابی کثیر ان اسناد سے یہ حدیث مروی ہے
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৫
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود، حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت زید بن خالد جہنی (رض) سے روایت ہے کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ ﷺ میرے لئے اللہ کی کتاب کے ساتھ فیصلہ فرمائیں۔ دوسرے فریق نے کہا اور وہ اس سے زیادہ سمجھدار تھا کہ آپ ﷺ ہمارے درمیان کتاب اللہ سے فیصلہ فرما دیں اور مجھے اجازت دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیان کرو۔ اس نے کہا میرا بیٹا اس کے ہاں ملازم تھا اور اس نے اس کی بیوی کے ساتھ زنا کیا ہے۔ تو مجھے خبر دی گئی کہ میرے بیٹے کو سنگسار کرنا لازم ہے تو میں نے اس کا بدلہ اپنے بیٹے کی طرف سے ایک سو بکریاں اور ایک باندی ادا کردی۔ پھر میں نے اہل علم سے پوچھا انہوں نے مجھے خبر دی کہ میرے بیٹے پر سو کوڑے ہیں اور ایک سال کے لئے جلا وطنی اور اس کی بیوی کو سنگسار کرنا لازم ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا۔ لونڈی اور بکریاں تو واپس ہیں اور تیرے بیٹے کو سو کوڑے لگیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی۔ اے انیس ! کل صبح اس عورت کی طرف جا۔ اگر وہ اعتراف کرلے تو اسے سنگسار کر دے۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس کے پاس صبح کی اس نے اعتراف کرلیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے سنگسار کردیا گیا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُمَا قَالَا إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَعْرَابِ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْشُدُکَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ لِي بِکِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ الْخَصْمُ الْآخَرُ وَهُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ نَعَمْ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِکِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي کَانَ عَسِيفًا عَلَی هَذَا فَزَنَی بِامْرَأَتِهِ وَإِنِّي أُخْبِرْتُ أَنَّ عَلَی ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَوَلِيدَةٍ فَسَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّمَا عَلَی ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَأَنَّ عَلَی امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَکُمَا بِکِتَابِ اللَّهِ الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ رَدٌّ وَعَلَی ابْنِکَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ إِلَی امْرَأَةِ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا قَالَ فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَأَمَرَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৬
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شا دی شدہ کو زنا میں سنگسار کرنے کے بیان میں
ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، عمرو ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، صالح، عبد بن حمید، عبدالرزاق، زہری ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ کُلُّهُمْ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৪৩৭
حدود کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ذمی یہودیوں کو زنا سنگسار کرنے کے بیان میں
حکم بن موسی، ابوصالح، شعیب بن اسحاق، عبیداللہ نافع، حضرت عبدالرحمن بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک یہودی اور یہودیہ کو لایا گیا ان دونوں نے زنا کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ یہود کے پاس تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم تورات میں کیا پاتے ہو اس کے بارے میں جس نے زنا کیا ؟ انہوں نے کہا ہم ان کے چہروں کو سیاہ کرتے ہیں اور سوار کرتے ہیں اس طرح کہ ہم ان کے چہروں کو ایک دوسرے کے مخالف کرتے ہیں اور ان کو چکر لگواتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم سچے ہو تو تورات لے آو۔ وہ اسے لے آئے اور پڑھنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ آیت رجم تک پہنچے تو اس نوجوان نے جو پڑھ رہا تھا اپنا ہاتھ آیت پر رکھ لیا اور اس کے آگے اور پیچھے سے پڑھنا شروع کردیا تو آپ ﷺ سے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) نے کہا جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ ﷺ اسے ہاتھ اٹھانے کا حکم دیں۔ اس نے ہٹایا تو اس کے نیچے آیت رجم تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا، انہیں رجم کردیا گیا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا میں بھی ان دونوں کو سنگسار کرنے والو میں سے تھا۔ تحقیق ! میں نے اس مرد کو دیکھا کہ وہ اپنے آپ پر پتھر برداشت کرکے اس عورت کو بچا رہا تھا۔
حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ وَيَهُودِيَّةٍ قَدْ زَنَيَا فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی جَائَ يَهُودَ فَقَالَ مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ عَلَی مَنْ زَنَی قَالُوا نُسَوِّدُ وُجُوهَهُمَا وَنُحَمِّلُهُمَا وَنُخَالِفُ بَيْنَ وُجُوهِهِمَا وَيُطَافُ بِهِمَا قَالَ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِينَ فَجَائُوا بِهَا فَقَرَئُوهَا حَتَّی إِذَا مَرُّوا بِآيَةِ الرَّجْمِ وَضَعَ الْفَتَی الَّذِي يَقْرَأُ يَدَهُ عَلَی آيَةِ الرَّجْمِ وَقَرَأَ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا وَرَائَهَا فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْهُ فَلْيَرْفَعْ يَدَهُ فَرَفَعَهَا فَإِذَا تَحْتَهَا آيَةُ الرَّجْمِ فَأَمَرَ بِهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُجِمَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ کُنْتُ فِيمَنْ رَجَمَهُمَا فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَقِيهَا مِنْ الْحِجَارَةِ بِنَفْسِهِ
তাহকীক: