আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

کھیتی باڑی کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৭৮ টি

হাদীস নং: ৪০৮২
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبدالمجید بن سہیل بن عبدالرحمن بن عوف، سعید بن مسیب، حضرت ابوسعید خدری اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو خیبر کا عامل مقرر فرمایا تو وہ عمدہ کھجور لے کر حاضر ہوا تو اسے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہیں اس نے عرض کیا نہیں اللہ کی قسم اے اللہ کے رسول ﷺ ہم اس کا ایک صاع دو صاع کے بدلے اور دو صاع تین صاع کے بدلے لیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا مت کرو گھیٹا دراہم کے بدلے فروخت کر اور پھر عمدہ کھجور ان دراہم کے عوض خرید لے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی خَيْبَرَ فَجَائَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَکُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَکَذَا فَقَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا تَفْعَلْ بِعْ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৩
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
اسحاق بن منصور، یحییٰ بن صالح، معاویہ، ابن سلام، محمد بن سہیل تمیمی، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، یحییٰ بن حسان، ابن کثیر، عقبہ بن عبدالغافر، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ حضرت بلال (رض) کھجور لائے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں فرمایا یہ کہاں سے لائے ہو حضرت بلال (رض) نے عرض کیا ہمارے پاس ردی کھجوریں تھیں میں ان میں سے دو صاع کو ایک صاع کے بدلے نبی کریم ﷺ کے کھانے کے لئے فروخت کر کے لایا ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا افسوس یہ تو عین سود ہے ایسا مت کرو البتہ جب تم کھجور خریدنے کا ارادہ کرو دوسری بیع کے ساتھ پھر اس قیمت کے بدلے یہ خرید لو ابن سہم نے اپنی حدیث میں عِنْدَ ذَلِکَ ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ صَالِحٍ الْوُحَاظِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلٍ التَّمِيمِيُّ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُمَا جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ حَسَّانَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ وَهُوَ ابْنُ سَلَّامٍ أَخْبَرَنِي يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ أَبِي کَثِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَبْدِ الْغَافِرِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ يَقُولُا جَائَ بِلَالٌ بِتَمْرٍ بَرْنِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَيْنَ هَذَا فَقَالَ بِلَالٌ تَمْرٌ کَانَ عِنْدَنَا رَدِيئٌ فَبِعْتُ مِنْهُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ لِمَطْعَمِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عِنْدَ ذَلِکَ أَوَّهْ عَيْنُ الرِّبَا لَا تَفْعَلْ وَلَکِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَشْتَرِيَ التَّمْرَ فَبِعْهُ بِبَيْعٍ آخَرَ ثُمَّ اشْتَرِ بِهِ لَمْ يَذْکُرْ ابْنُ سَهْلٍ فِي حَدِيثِهِ عِنْدَ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৪
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل، ابی قزعہ باہلی، ابی نضرہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کھجوریں لائی گئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا یہ کھجوریں ہماری کھجوروں کی نسبت کتنی عمدہ ہیں تو اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم اپنی کھجور کے دو صاع اس کھجور کے ایک صاع کے بدلے فروخت کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ سود ہے ان کو واپس کردو تم ہماری کھجوروں کو فروخت کرو اور ان میں سے اس رقم سے ہمارے لئے خریدو۔
و حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَقَالَ مَا هَذَا التَّمْرُ مِنْ تَمْرِنَا فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعْنَا تَمْرَنَا صَاعَيْنِ بِصَاعٍ مِنْ هَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ هَذَا الرِّبَا فَرُدُّوهُ ثُمَّ بِيعُوا تَمْرَنَا وَاشْتَرُوا لَنَا مِنْ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৫
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
اسحاق بن منصور، عبیداللہ بن موسی، شیبان، یحیی، ابی سلمہ، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ملی جلی کھجوریں دی جاتی تھیں تو ہم دو صاع ایک صاع کے بدلے فروخت کرتے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو پہنچی تو فرمایا دو صاع کھجور کے بدلے ایک صاع کھجور اور دو صاع گندم کے بدلے ایک صاع گندم اور ایک درہم دو درہم کے برابر نہیں یعنی ایسی بیع نہ کرو۔
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی عَنْ شَيْبَانَ عَنْ يَحْيَی عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ کُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الْخِلْطُ مِنْ التَّمْرِ فَکُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا صَاعَيْ تَمْرٍ بِصَاعٍ وَلَا صَاعَيْ حِنْطَةٍ بِصَاعٍ وَلَا دِرْهَمَ بِدِرْهَمَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৬
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، سعید الجریری، حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عباس (رض) سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا کیا ہاتھوں ہاتھ میں نے کہا ہاں تو انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں میں نے ابوسعید (رض) کو اس کی خبر دی میں نے کہا میں نے ابن عباس (رض) سے بیع صرف کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کیا ہاتھوں ہاتھ ؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اس میں کوئی حرج نہیں ابوسعید (رض) نے فرمایا کیا انہوں نے اسی طرح فرمایا ہے ؟ ہم ان کی طرف لکھیں گے تو وہ تم کو ایسا فتوی نہ دیں گے اور کہا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے پاس بعض جوان کھجور لے کر حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے اس پر تعجب کیا اور فرمایا ہماری زمینوں کی کھجوریں تو ایسی نہیں ہیں اس نے کہا ہماری زمین کی کھجوروں یا ہمارے اس سال کی کھجوروں کو کچھ عیب آگیا تھا میں نے یہ کھجوریں لیں اور اس کے عوض میں کچھ زیادہ کھجوریں دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تو نے زیادہ دیا اور سود دیا اب ان کے قریب نہ جانا جب تجھے اپنی کھجوروں میں کچھ عیب معلوم ہو تو ان کو بیچ ڈال پھر کھجور میں سے جس کا تو ارادہ کرے خرید لے۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا بَأْسَ بِهِ فَأَخْبَرْتُ أَبَا سَعِيدٍ فَقُلْتُ إِنِّي سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ أَيَدًا بِيَدٍ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَلَا بَأْسَ بِهِ قَالَ أَوَ قَالَ ذَلِکَ إِنَّا سَنَکْتُبُ إِلَيْهِ فَلَا يُفْتِيکُمُوهُ قَالَ فَوَاللَّهِ لَقَدْ جَائَ بَعْضُ فِتْيَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمْرٍ فَأَنْکَرَهُ فَقَالَ کَأَنَّ هَذَا لَيْسَ مِنْ تَمْرِ أَرْضِنَا قَالَ کَانَ فِي تَمْرِ أَرْضِنَا أَوْ فِي تَمْرِنَا الْعَامَ بَعْضُ الشَّيْئِ فَأَخَذْتُ هَذَا وَزِدْتُ بَعْضَ الزِّيَادَةِ فَقَالَ أَضْعَفْتَ أَرْبَيْتَ لَا تَقْرَبَنَّ هَذَا إِذَا رَابَکَ مِنْ تَمْرِکَ شَيْئٌ فَبِعْهُ ثُمَّ اشْتَرِ الَّذِي تُرِيدُ مِنْ التَّمْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৭
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبدالاعلی، داود، حضرت ابونضرہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) سے اور ابن عباس (رض) سے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اس میں کوئی حرج خیال نہ کیا میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو ان سے میں نے بیع صرف کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا جو زیادتی کی وہ سود ہے میں نے ابن عمر اور ابن عباس (رض) کے قول کی وجہ سے اس کا انکار کیا تو ابوسعید نے فرمایا میں تجھ سے سوائے اس کے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کچھ بھی بیان نہیں کرتا ایک کھجور والا ایک صاع عمدہ کھجور لایا اور نبی کریم ﷺ کی کھجور بھی اس رنگ کی تھیں اسے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرے پاس یہ کھجور کہاں سے آئی تو اس نے کہا میں دو صاع کھجور لے گیا اور اس کے عوض یہ ایک صاع کھجور خرید کر لایا کیونکہ اس کا نرخ بازار میں اسی طرح ہے اور اس کا بھاؤ اسی طرح ہوتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیرے لئے ہلاکت ہو تو نے سود دیا جب تو اس کا ارادہ کرے تو اپنی کھجور کو کسی چیز کے بدلے فروخت کر دے پھر تو اپنے سامان کے عوض جو کھجور چاہئے خرید لے ابوسعید (رض) نے کہا کھجور کھجور کے بدلے زیادہ حقدار ہے کہ وہ سود ہوجائے یا چاندی چاندی کے عوض ابونضرہ کہتے ہیں اس کے بعد میں ابن عمر کے پاس آیا تو انہوں نے بھی مجھے منع کردیا اور حضرت ابن عباس (رض) کے پاس میں نہ جاسکا ابوصہبا (رح) نے مجھ سے بیان کیا کہ اس نے ابن عباس (رض) سے مکہ میں اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی أَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّرْفِ فَلَمْ يَرَيَا بِهِ بَأْسًا فَإِنِّي لَقَاعِدٌ عِنْدَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الصَّرْفِ فَقَالَ مَا زَادَ فَهُوَ رِبًا فَأَنْکَرْتُ ذَلِکَ لِقَوْلِهِمَا فَقَالَ لَا أُحَدِّثُکَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَائَهُ صَاحِبُ نَخْلِهِ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ طَيِّبٍ وَکَانَ تَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا اللَّوْنَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّی لَکَ هَذَا قَالَ انْطَلَقْتُ بِصَاعَيْنِ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ هَذَا الصَّاعَ فَإِنَّ سِعْرَ هَذَا فِي السُّوقِ کَذَا وَسِعْرَ هَذَا کَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْلَکَ أَرْبَيْتَ إِذَا أَرَدْتَ ذَلِکَ فَبِعْ تَمْرَکَ بِسِلْعَةٍ ثُمَّ اشْتَرِ بِسِلْعَتِکَ أَيَّ تَمْرٍ شِئْتَ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ أَحَقُّ أَنْ يَکُونَ رِبًا أَمْ الْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ قَالَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ بَعْدُ فَنَهَانِي وَلَمْ آتِ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ فَحَدَّثَنِي أَبُو الصَّهْبَائِ أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْهُ بِمَکَّةَ فَکَرِهَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৮
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
محمد بن عباد، محمد بن حاتم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، ابن عباد، سفیان، عمرو، ابی صالح، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ کہ دینار دینار کے ساتھ اور درہم درہم کے ساتھ برابر برابر فروخت ہو جس نے زیادہ دیا یا زیادہ لیا تو یہ سود ہوا راوی کہتے ہیں میں نے ان سے عرض کیا ابن عباس (رض) تو اس کے خلاف کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا میں ابن عباس (رض) سے ملا تو میں نے کہا جو آپ کہتے ہیں اس کے بارے میں آپ ﷺ کا کیا خیال ہے کیا اس بارے میں آپ نے کوئی بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے یا اسے آپ ﷺ نے اللہ عزوجل کی کتاب میں پایا ہے تو انہوں نے کہا میں نے اس بارے میں رسول اللہ ﷺ سے سنا نہیں اور نہ اللہ کی کتاب میں پایا لیکن مجھے اسامہ بن زید (رض) نے یہ حدیث بیان کی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود ادھار میں ہے۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُا الدِّينَارُ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمُ بِالدِّرْهَمِ مِثْلًا بِمِثْلٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَی فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ غَيْرَ هَذَا فَقَالَ لَقَدْ لَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ هَذَا الَّذِي تَقُولُ أَشَيْئٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ وَجَدْتَهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَجِدْهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৮৯
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید، ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯০
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
زہیر بن حرب، عفان، محمد بن حاتم، بہز، وہیب، ابن طاو س، ابن عباس، حضرت اسامہ بن زید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نقد بہ نقد میں سود نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا رِبًا فِيمَا کَانَ يَدًا بِيَدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯১
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کھانے کی برابر برابر بیع کے بیان میں
حکم بن موسی، ہقل، اوزاعی، حضرت عطاء بن ابی رباح سے روایت ہے کہ ابوسعید خدری (رض) نے ابن عباس (رض) سے ملاقات کی تو ان سے عرض کیا آپ اپنے قول بیع صرف کے بارے میں کیا فرماتے ہیں کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے یا اس بارے میں اللہ کی کتاب میں اس کی وضاحت پائی ہے ؟ ابن عباس (رض) نے فرمایا ہرگز نہیں، میں کچھ نہیں کہتا۔ رہا اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد تو آپ ﷺ اس کو زیادہ جاننے والے ہیں اور رہی اللہ کی کتاب تو میں اس کا علم نہیں رکھتا لیکن مجھے اسامہ بن زید (رض) نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سود صرف ادھار میں ہے۔
حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا هِقْلٌ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَطَائُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَقِيَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ قَوْلَکَ فِي الصَّرْفِ أَشَيْئًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْ شَيْئًا وَجَدْتَهُ فِي کِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ کَلَّا لَا أَقُولُ أَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِهِ وَأَمَّا کِتَابُ اللَّهِ فَلَا أَعْلَمُهُ وَلَکِنْ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯২
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، مغیرہ، شباک، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے یا کھلانے والے پر لعنت فرمائی۔ کہتے ہیں، میں نے عرض کیا اس کے لکھنے والا اور اس کے گواہ تو کہا ہم تو وہی بیان کرتے ہیں جو ہم نے سنا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ قَالَ سَأَلَ شِبَاکٌ إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ قَالَ قُلْتُ وَکَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ قَالَ إِنَّمَا نُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৩
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ سود کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کے بیان میں
محمد بن صباح، زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، ہشیم، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے اور کھلانے والے، سود لکھنے والے اور اس کی گواہی دینے والوں پر لعنت فرمائی اور ارشاد فرمایا یہ سب گناہ میں برابر شریک ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ وَکَاتِبَهُ وَشَاهِدَيْهِ وَقَالَ هُمْ سَوَائٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৪
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر ہمدانی، زکریا، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا اور حضرت نعمان (رض) نے اپنی دونوں انگلیوں سے اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیا آپ ﷺ فرماتے تھے حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہات ہیں جنہیں اکثر لوگ نہیں جانتے پس جو شبہ میں ڈالنے والی چیز سے بچا اس نے اپنے دین اور عزت کو محفوظ کرلیا اور جو شبہ ڈالنے والی چیزوں میں پڑگیا تو وہ حرام میں پڑگیا اس کی مثال اس چرواہے کی ہے جو کسی دوسرے کی چراگاہ کے ارد گرد چراتا ہے، تو قریب ہے کہ جانور اس چراگاہ میں سے بھی چر لیں خبردار رہو ہر بادشاہ کے لئے چراگاہ کی حد ہوتی ہے اور اللہ کی چراگاہ کی حد اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں آگاہ رہو جسم میں ایک لوتھڑا ہے جب وہ سنور گیا تو سارا بدن سنور گیا اور جب وہ بگڑ کیا تو سارا ہی بدن بگڑ کیا آگاہ رہو کہ وہ دل ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَأَهْوَی النُّعْمَانُ بِإِصْبَعَيْهِ إِلَی أُذُنَيْهِ إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ وَبَيْنَهُمَا مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ کَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ فَمَنْ اتَّقَی الشُّبُهَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ کَالرَّاعِي يَرْعَی حَوْلَ الْحِمَی يُوشِکُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ أَلَا وَإِنَّ لِکُلِّ مَلِکٍ حِمًی أَلَا وَإِنَّ حِمَی اللَّهِ مَحَارِمُهُ أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّهُ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّهُ أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৫
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ قَالَا حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৬
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، جریر، مطرف، ابی فروہ ہمدانی، قتیبہ، یعقوب ابن عبدالرحمن قاری، ابن عجلان، عبدالرحمن بن سعید، شعبی، حضرت نعمان بن بشیر (رض) ہی سے یہ حدیث دوسرے راویوں سے بھی مروی ہے لیکن زکریا کی حدیث ان تمام روایات میں سے زیادہ مکمل اور پوری ہے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُطَرِّفٍ وَأَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعِيدٍ کُلُّهُمْ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ زَکَرِيَّائَ أَتَمُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَأَکْثَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৭
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حلال کو اختیار کرنے اور شبہات کو چھوڑ دینے کے بیان میں
عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد، خالد بن یزید، سعید بن ابی ہلال، عون بن عبداللہ بن عامر شعبی، حضرت نعمان بن بشیر بن سعد (رض) صحابی رسول ﷺ سے روایت ہے کہ وہ حمص میں لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے باقی حدیث مبارکہ زکریا شعبی کے واسطہ سے ان کے قول " قریب ہے کہ وہ اس حرام میں واقع ہوجانے تک " ذکر کی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ نُعْمَانَ بْنَ بَشِيرِ بْنِ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ بِحِمْصَ وَهُوَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ زَکَرِيَّائَ عَنْ الشَّعْبِيِّ إِلَی قَوْلِهِ يُوشِکُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৮
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
محمد بن عبداللہ بن نمیر، زکریا، عامر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ وہ اپنے ایک اونٹ پر سفر کر رہے تھے وہ چلتے چلتے تھک گیا انہوں نے اسے چھوڑ دینے کا ارادہ کیا کہتے ہیں مجھے نبی کریم ﷺ ملے آپ ﷺ نے میرے لئے دعا کی اور اونٹ کو مارا تو وہ ایسے چلنے لگا کہ اس جیسا کبھی نہ چلا تھا آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھے ایک اوقیہ پر بیچ دو میں نے کہا نہیں پھر فرمایا اس کو مجھے فروخت کردو تو میں نے اسے آپ ﷺ کو ایک اوقیہ پر فروخت کردیا اور اس پر سوار ہو کر اپنے اہل و عیال تک جانے کا استثناء کیا جب میں پہنچا تو آپ ﷺ کے پاس وہ اونٹ لے کر حاضر ہوا تو آپ ﷺ نے مجھے اس کی قیمت نقد ادا کردی پھر میں واپس آگیا تو آپ ﷺ نے میرے پیچھے ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا کیا تم نے یہ خیال کیا ہے کہ میں نے تم سے کم قیمت لگوائی ہے تاکہ تجھ سے تیرا اونٹ لے لوں اپنا اونٹ بھی لے جا اور دراہم بھی تیرے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ کَانَ يَسِيرُ عَلَی جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا فَأَرَادَ أَنْ يُسَيِّبَهُ قَالَ فَلَحِقَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا لِي وَضَرَبَهُ فَسَارَ سَيْرًا لَمْ يَسِرْ مِثْلَهُ قَالَ بِعْنِيهِ بِوُقِيَّةٍ قُلْتُ لَا ثُمَّ قَالَ بِعْنِيهِ فَبِعْتُهُ بِوُقِيَّةٍ وَاسْتَثْنَيْتُ عَلَيْهِ حُمْلَانَهُ إِلَی أَهْلِي فَلَمَّا بَلَغْتُ أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ فَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ ثُمَّ رَجَعْتُ فَأَرْسَلَ فِي أَثَرِي فَقَالَ أَتُرَانِي مَاکَسْتُکَ لِآخُذَ جَمَلَکَ خُذْ جَمَلَکَ وَدَرَاهِمَکَ فَهُوَ لَکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪০৯৯
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
علی بن خشرم، عیسیٰ ابن یونس، زکریا، عامر، جابر بن عبداللہ اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ عَامِرٍ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১০০
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، جریر، مغیرہ، شعبی، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک غزوہ کیا آپ ﷺ مجھ سے ملے اور میری سواری پانی لانے والا ایک اونٹ تھا جو تھک گیا اور چلنے سے عاجز آگیا تھا آپ ﷺ نے مجھے فرمایا تیرے اونٹ کو کیا ہوگیا میں نے عرض کیا بیمار ہوگیا ہے تو رسول اللہ ﷺ پیچھے ہوئے اور اونٹ کو ڈانٹا اور اس کے لئے دعا کی پھر وہ ہمیشہ سب اونٹوں سے آگے ہی چلتا رہا آپ ﷺ نے مجھ سے کہا اب اپنے اونٹ کو تو کیسا خیال کرتا ہے میں نے عرض کیا بہت اچھا تحقیق اسے آپ ﷺ کی برکت پہنچی ہے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اسے مجھے فروخت کرتا ہے میں نے شرم کی اور میرے پاس اس اونٹ کے علاوہ کوئی دوسرا پانی لانے والا نہ تھا میں نے عرض کیا جی ہاں پھر میں نے اس شرط پر آپ ﷺ کو وہ اونٹ بیچ دیا کہ میں مدینہ کے پہنچنے تک اس پر سواری کروں گا میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میری نئی نئی شادی ہوئی ہے میں نے آپ ﷺ سے اجازت مانگی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی میں لوگوں سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گیا جب میں پہنچا میرے ماموں نے مجھ سے اونٹ کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں اس کی خبر دی جو میں کرچکا تھا تو اس نے مجھے اس بارے میں ملامت کی حضرت جابر (رض) کہتے ہیں جب میں نے آپ ﷺ سے اجازت طلب کی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو نے کنورای سے شادی کی ہے یا بیوہ سے تو میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے بیوہ سے شادی کی ہے تو آپ ﷺ نے کہا تو نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی کہ تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میرے والد فوت یا شہید ہوچکے ہیں اور میری چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں میں نے ان کی ہم عمر لڑکی سے نکاح کرنا پسند نہ کیا جو انہیں ادب نہ سکھائے اور نہ ان کی نگرانی کرے بیوہ سے شادی میں نے اس لئے کی ہے تاکہ وہ ان کی نگرانی کرے اور ان کو ادب سکھائے جب رسول اللہ ﷺ مدینہ آئے تو میں صبح صبح ہی آپ ﷺ کے پاس اونٹ لے کر حاضر ہوا آپ ﷺ نے اس کی قیمت ادا کردی اور وہ اونٹ بھی مجھے واپس کردیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاحَقَ بِي وَتَحْتِي نَاضِحٌ لِي قَدْ أَعْيَا وَلَا يَکَادُ يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِي مَا لِبَعِيرِکَ قَالَ قُلْتُ عَلِيلٌ قَالَ فَتَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزَجَرَهُ وَدَعَا لَهُ فَمَا زَالَ بَيْنَ يَدَيْ الْإِبِلِ قُدَّامَهَا يَسِيرُ قَالَ فَقَالَ لِي کَيْفَ تَرَی بَعِيرَکَ قَالَ قُلْتُ بِخَيْرٍ قَدْ أَصَابَتْهُ بَرَکَتُکَ قَالَ أَفَتَبِيعُنِيهِ فَاسْتَحْيَيْتُ وَلَمْ يَکُنْ لَنَا نَاضِحٌ غَيْرُهُ قَالَ فَقُلْتُ نَعَمْ فَبِعْتُهُ إِيَّاهُ عَلَی أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّی أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَرُوسٌ فَاسْتَأْذَنْتُهُ فَأَذِنَ لِي فَتَقَدَّمْتُ النَّاسَ إِلَی الْمَدِينَةِ حَتَّی انْتَهَيْتُ فَلَقِيَنِي خَالِي فَسَأَلَنِي عَنْ الْبَعِيرِ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا صَنَعْتُ فِيهِ فَلَامَنِي فِيهِ قَالَ وَقَدْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِي حِينَ اسْتَأْذَنْتُهُ مَا تَزَوَّجْتَ أَبِکْرًا أَمْ ثَيِّبًا فَقُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا قَالَ أَفَلَا تَزَوَّجْتَ بِکْرًا تُلَاعِبُکَ وَتُلَاعِبُهَا فَقُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُوُفِّيَ وَالِدِي أَوْ اسْتُشْهِدَ وَلِي أَخَوَاتٌ صِغَارٌ فَکَرِهْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ إِلَيْهِنَّ مِثْلَهُنَّ فَلَا تُؤَدِّبُهُنَّ وَلَا تَقُومُ عَلَيْهِنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا لِتَقُومَ عَلَيْهِنَّ وَتُؤَدِّبَهُنَّ قَالَ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ غَدَوْتُ إِلَيْهِ بِالْبَعِيرِ فَأَعْطَانِي ثَمَنَهُ وَرَدَّهُ عَلَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪১০১
کھیتی باڑی کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اونٹ کی بیع اور سواری کے استثناء کے بیان میں
عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، سالم بن ابی جعد، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ ہم مکہ سے مدینہ کی طرف رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے تو میرا اونٹ بیمار ہوگیا اور باقی حدیث کو اسی قصہ کے ساتھ بیان کیا اور اس حدیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تو اپنا یہ اونٹ مجھے فروخت کر دے ؟ میں نے کہا : بلکہ وہ آپ ﷺ کے لئے (ہدیہ) ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ اسے مجھے فروخت کردے۔ میں نے کہا : بلکہ وہ تو آپ ﷺ ہی کے لئے ہے، اے اللہ کے رسول۔ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ اسے مجھے فروخت کردے۔ تو میں نے عرض کیا میرے ذمہ ایک آدمی کا ایک اوقیہ سونا قرض ہے تو یہ اس کے عوض آپ ﷺ لے لیں آپ ﷺ نے فرمایا میں نے خرید لیا اور اسی اونٹ پر مدینہ چلے جانا جب میں مدینہ پہنچا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال (رض) سے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دے دو تو انہوں نے مجھے ایک اوقیہ سونا اور کچھ زائد دے دیا میں نے کہا رسول اللہ ﷺ کی یہ زیادتی (ازراہ محبت کہا) کبھی مجھ سے جدا نہ ہوگی فرماتے ہیں کہ وہ سونا میرے پاس ایک تھیلی میں رہا حتی کہ حرہ کے دن اسے مجھ سے شام والوں نے لے لیا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ مَکَّةَ إِلَی الْمَدِينَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاعْتَلَّ جَمَلِي وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَفِيهِ ثُمَّ قَالَ لِي بِعْنِي جَمَلَکَ هَذَا قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَکَ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ لَا بَلْ هُوَ لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لَا بَلْ بِعْنِيهِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّ لِرَجُلٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَهُوَ لَکَ بِهَا قَالَ قَدْ أَخَذْتُهُ فَتَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبِلَالٍ أَعْطِهِ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزِدْهُ قَالَ فَأَعْطَانِي أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ وَزَادَنِي قِيرَاطًا قَالَ فَقُلْتُ لَا تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَکَانَ فِي کِيسٍ لِي فَأَخَذَهُ أَهْلُ الشَّامِ يَوْمَ الْحَرَّةِ
tahqiq

তাহকীক: