আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৬০৮ টি

হাদীস নং: ২৮৭১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
شیبان بن فروخ، ابوعوانہ، حضرت زید بن جبیر سے روایت ہے فرمایا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ احرام کی حالت میں کن جانوروں کو قتل کیا جاسکتا ہے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے کی کسی زوجہ مطہرہ نے مجھ سے بیان کیا کہ آپ ﷺ کاٹنے والے کتے، چوہے اور بچھو اور کوا اور سانپ کے قتل کرنے کا حکم فرماتے تھے اور فرمایا کہ نماز میں بھی انہیں قتل کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ مَا يَقْتُلُ الرَّجُلُ مِنْ الدَّوَابِّ وَهُوَ مُحْرِمٌ قَالَ حَدَّثَتْنِي إِحْدَی نِسْوَةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ کَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْکَلْبِ الْعَقُورِ وَالْفَأْرَةِ وَالْعَقْرَبِ وَالْحُدَيَّا وَالْغُرَابِ وَالْحَيَّةِ قَالَ وَفِي الصَّلَاةِ أَيْضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ جن کو قتل کرنے میں احرام والے پر کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا، کاٹنے ولا کتا۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ لَيْسَ عَلَی الْمُحْرِمِ فِي قَتْلِهِنَّ جُنَاحٌ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
ہارون بن عبداللہ، محمد بن بکر، ابن جریج، حضرت ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت نافع (رض) سے کہا کہ آپ نے احرام والے کے لئے جانوروں کے قتل کرنے کے بارے میں حضرت ابن عمر (رض) سے کیا سنا ؟ حضرت نافع (رض) نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جانوروں میں سے پانچ ایسے جانور ہیں کہ ان کے قتل کرنے میں احرام والے پر کوئی گناہ نہیں کوا، چیل، بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا۔
و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِنَافِعٍ مَاذَا سَمِعْتَ ابْنَ عُمَرَ يُحِلُّ لِلْحَرَامِ قَتْلَهُ مِنْ الدَّوَابِّ فَقَالَ لِي نَافِعٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ لَا جُنَاحَ عَلَی مَنْ قَتَلَهُنَّ فِي قَتْلِهِنَّ الْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ وَالْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
قتیبہ، ابن رمح، لیث بن سعد، شیبان بن فروخ، جریر یعنی ابن حازم، نافع، ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابن نمیر، عبیداللہ، ابوکامل، حماد، ایوب، ابن مثنی، یزید بن ہارون، یحییٰ بن سعید، نافع، ابن عمران سندوں کے ساتھ حضرت نافع نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا پھر اسی طرح آگے حدیث بیان کی۔
و حَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ جَمِيعًا عَنْ نَافِعٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِکٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ وَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ نَافعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ابْنُ جُرَيْجٍ وَحْدَهُ وَقَدْ تَابَعَ ابْنَ جُرَيْجٍ عَلَی ذَلِکَ ابْنُ إِسْحَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
فضل بن سہل، یزید بن ہارون، محمد بن اسحاق، نافع، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ پانچ جانور ایسے ہیں کہ جن کے قتل کرنے میں کوئی گناہ نہیں وہ جانور کہ جن کو حرم میں قتل کیا جائے پھر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
و حَدَّثَنِيهِ فَضْلُ بْنُ سَهْلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ عَنْ نَافِعٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَا قُتِلَ مِنْهُنَّ فِي الْحَرَمِ فَذَکَرَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ احرام اور غیر احرام والے کے لئے حرم اور غیر حرم میں جن جانوروں کا قتل مستحب ہے۔
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، یحییٰ ابن یحیی، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ جانور ایسے ہیں کہ جو ان کو احرام کی حالت میں قتل کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ان جانوروں میں بچھو، چوہا، کاٹنے والا کتا، کوا اور چیل ہیں۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ حَرَامٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ فِيهِنَّ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْکَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَاللَّفْظُ لِيَحْيَی بْنِ يَحْيَی
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
عبیداللہ بن عمر قواریری، حماد یعنی ابن زید، ایوب، ابوربیع، حماد، ایوب، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ والے سال میرے ہاں تشریف لائے اور میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور میرے چہرے پر جوئیں گر رہیں تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنا سر منڈا دے اور تین دنوں کے روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دے یا ایک قربانی کر۔ ایوب راوی نے کہا کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے ابتداء میں کس چیز کا ذکر فرمایا۔
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَی عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ قِدْرٍ لِي و قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَی وَجْهِي فَقَالَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّ رَأْسِکَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاکِينَ أَوْ انْسُکْ نَسِيکَةً قَالَ أَيُّوبُ فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِکَ بَدَأَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
علی بن حجر سعدی، زہیر بن حرب، یعقوب بن ابراہیم، ابن علیہ، حضرت ایوب (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح نقل کی گئی ہے
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৭৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میرے بارے میں یہ آیت نازل کی گئی تم میں سے جو آدمی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے حضرت کعب (رض) کہتے ہیں کہ میں آپ ﷺ کی خدمت میں آیا آپ ﷺ نے فرمایا قریب ہوجاؤ تو میں اور قریب ہوگیا آپ ﷺ نے فرمایا قریب ہوجاؤ تو میں قریب ہوگیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دیتی ہیں ؟ ابن عون کہتے ہیں اور راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت کعب (رض) نے عرض کیا جی ہاں حضرت کعب کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے مجھے فدیہ کے طور پر روزوں کا یا صدقہ کرنے کا یا قربانی کرنے کا جو آسانی سے ہو سکے کرنے کا حکم فرمایا۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًی مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَوْتُ فَقَالَ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّکَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَظُنُّهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ مَا تَيَسَّرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
ابن نمیر، سییف، مجاہد، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ان پر کھڑے ہوئے اس حال میں کہ میرے سر سے جوئیں جھڑ رہی تھیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے تکلیف دیتی ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو اپنا سر منڈالے حضرت کعب (رض) کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تم میں سے جو کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھ لے یا صدقہ دے دے یا قربانی کرلے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ تو تین دن کے روزے رکھ یا ایک ٹو کرا چھ مسکینوں کے درمیان صدقہ کر دے یا تو قربانی کر غرض یہ کہ جو تجھے آسانی ہو کرلے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سَيْفٌ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَی حَدَّثَنِي کَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا فَقَالَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّکَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقْ رَأْسَکَ قَالَ فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًی مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاکِينَ أَوْ انْسُکْ مَا تَيَسَّرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
محمد بن ابی عمر، سفیان، ابن ابی نجیح، ایوب، حمید، عبدالکریم، مجاہد، حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ ان کے پاس سے گزرے اور حال یہ کہ آپ حدیبیہ میں تھے اور ابھی تک آپ ﷺ مکہ مکرمہ میں داخل نہیں ہوئے تھے اور میں احرام کی حالت میں ہانڈی کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور جوئیں میرے چہرے پر سے جھڑ رہی تھیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں ؟ حضرت کعب (رض) نے عرض کیا کہ جی یہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنا سر منڈا دے اور چھ مسکینوں کے درمیان ایک فرق کا کھانا تقسیم کر اور فرق تین صاع کا ہوتا ہے یا تین دنوں کے روزے رکھ یا قربانی کر ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا یا ایک بکری ذبح کر۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ وَأَيُّوبَ وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْکَرِيمِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَکَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَی وَجْهِهِ فَقَالَ أَيُؤْذِيکَ هَوَامُّکَ هَذِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاحْلِقْ رَأْسَکَ وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاکِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ انْسُکْ نَسِيکَةً قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ أَوْ اذْبَحْ شَاةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، خالد، ابی قلابہ، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت کعب بن عجرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ حدیبیہ والے سال ان کے پاس سے گزرے اور فرمایا کہ کیا تجھے جوئیں بہت تکلیف دے رہی ہیں ؟ حضرت کعب نے عرض کیا کہ جی ہاں تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے سر کو منڈا دو پھر ایک بکری ذبح کر کے قربانی کر یا تین دنوں کے روزے رکھ یا کھجوروں میں سے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دے۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ آذَاکَ هَوَامُّ رَأْسِکَ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْلِقْ رَأْسَکَ ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُکًا أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَی سِتَّةِ مَسَاکِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، عبدالرحمن بن اصبہانی، حضرت عبداللہ بن معقل سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں کعب کے پاس مسجد میں بیٹھا تھا تو میں نے ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا (فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ) 2 ۔ البقرۃ : 196) کعب (رض) نے فرمایا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی میرے سر میں تکلیف تھی تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی طرف بلایا گیا حال یہ تھا کہ جوئیں میرے چہرے پر سے جھڑ رہی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تجھے بہت تکلیف پہنچ رہی ہے کیا تو ایک بکری لے سکتا ہے ؟ میں نے کہا نہیں تو یہ آیت نازل ہوئی (فَفِدْيَةٌ مِّنْ صِيَامٍ اَوْ صَدَقَةٍ اَوْ نُسُكٍ ) 2 ۔ البقرۃ : 196) کہ اس کا فدیہ روزے ہیں یا صدقہ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ہر مسکین کے لئے آدھا آدھا صاع کھانا کھلانا کعب فرماتے ہیں کہ یہ آیت خاص طور پر میرے بارے میں نازل ہوئی لیکن اس کا حکم تمہارے لئے بھی عام ہے۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ قَالَ قَعَدْتُ إِلَی کَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ فَقَالَ کَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَزَلَتْ فِيَّ کَانَ بِي أَذًی مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَی وَجْهِي فَقَالَ مَا کُنْتُ أُرَی أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْکَ مَا أَرَی أَتَجِدُ شَاةً فَقُلْتُ لَا فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ قَالَ صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاکِينَ نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِکُلِّ مِسْکِينٍ قَالَ فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَکُمْ عَامَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کو جب کوئی تکلیف وغیرہ پیش آجائے تو سر منڈانے فدیہ اور اس کی مقدار کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، زکریا بن ابی زائدہ، عبدالرحمن بن اصبہانی، عبداللہ بن معقل، حضرت کعب بن عجرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے ساتھ احرام کی حالت میں نکلے تو ان کے سر اور داڑھی میں جوئیں پڑگئیں یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیج کر اس کو بلا لیا اور ایک حجام کو بلوا کر اس کا سر منڈوادیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا تیرے پاس قربانی ہے ؟ حضرت کعب (رض) نے عرض کیا کہ میں اس کی قدرت نہیں رکھتا تو آپ ﷺ نے حضرت کعب کو حکم فرمایا کہ تین روزے رکھیں یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلائیں ہر دو مسکینوں کے لئے ایک صاع کا کھانا ہو تو اللہ تعالیٰ نے خاص ایسے وقت آیت نازل فرمائی (فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيْضًا اَوْ بِه اَذًى مِّنْ رَّاْسِه) 2 ۔ البقرۃ : 196) پھر اس آیت کا حکم مسلمانوں کے لئے عام ہوگیا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ حَدَّثَنِي کَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ هَلْ عِنْدَکَ نُسُکٌ قَالَ مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاکِينَ لِکُلِّ مِسْکِينَيْنِ صَاعٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًی مِنْ رَأْسِهِ ثُمَّ کَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے پچھنے لگوانے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، سفیان بن عیینہ، عمرو، طاؤس، عطاء، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں پچھنے لگوائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ وَعَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ محرم کے پچھنے لگوانے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، معلی بن منصور، سلیمان بن بلال، علقمہ بن ابی علقمہ، عبدالرحمن اعرج، حضرت ابن بحینہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے احرام کی حالت میں مکہ کے راستے میں اپنے سر مبارک کے درمیانی حصہ میں پچھنے لگوائے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ ابْنِ بُحَيْنَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِطَرِيقِ مَکَّةَ وَهُوَ مُحْرِمٌ وَسَطَ رَأْسِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام والے کے لئے اپنی آنکھوں کا علان کروانے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابوب بن موسی، نبیہ بن وہب سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم ابان بن عثمان (رض) کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبیداللہ کی آنکھوں میں تکلیف ہوئی اور جب روحاء کے مقام پر پہنچے تو شدید درد ہونے لگا تب انہوں نے ابان بن عثمان کی طرف اس مسئلہ کے بارے میں اپنا قاصد بھیجا چناچہ ابان نے ان کو جواب بھیجا کہ ایلوے کا لیپ لگالو کیونکہ عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کی آنکھوں میں تکلیف پڑگئی اور وہ آدمی احرام کی حالت میں تھا تو نبی ﷺ نے اس کی آنکھوں پر ایلوے کا لیپ کرایا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِمَلَلٍ اشْتَکَی عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ عَيْنَيْهِ فَلَمَّا کُنَّا بِالرَّوْحَائِ اشْتَدَّ وَجَعُهُ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ يَسْأَلُهُ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ اضْمِدْهُمَا بِالصَّبِرِ فَإِنَّ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ إِذَا اشْتَکَی عَيْنَيْهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ ضَمَّدَهُمَا بِالصَّبِرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام والے کے لئے اپنی آنکھوں کا علان کروانے کے جواز کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، عبدالصمد بن عبدالوارث، ایوب بن موسی، حضرت نبیہ بن وہب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبیداللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں تو انہوں نے اپنی آنکھوں میں سرمہ لگوانا چاہا تو حضرت ابان بن عثمان نے ان کو منع فرما دیا اور انہیں حکم فرمایا کہ ایلوے کا لیپ لگا لو کیونکہ حضرت عثمان بن عفان نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے ایسے ہی کیا تھا۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنِي نُبَيْهُ بْنُ وَهْبٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ رَمِدَتْ عَيْنُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَکْحُلَهَا فَنَهَاهُ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ وَأَمَرَهُ أَنْ يُضَمِّدَهَا بِالصَّبِرِ وَحَدَّثَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৮৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام والے کو اپنا سر اور بدن دھونے کے جواز کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، قتیبہ بن سعید، سفیان بن عیینہ، زید ابن اسلم، قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، حضرت ابراہیم بن عبداللہ بن حنین اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت مسور بن مخرمہ (رض) کے درمیان ابواء کے مقام پر اختلاف ہوگیا حضرت عبداللہ فرماتے تھے کہ احرام والا آدمی اپنا سر دھو سکتا ہے اور حضرت مسور فرماتے تھے کہ احرام والا آدمی اپنے سر کو نہیں دھو سکتا تو حضرت ابن عباس (رض) نے مجھے حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی طرف اس مسئلہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے بھیجا تو میں نے ان کو لکڑیوں کے درمیان ایک کپڑے سے پردہ کئے ہوئے غسل کرتے ہوئے پایا راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان پر سلام کیا تو انہوں نے فرمایا کون ہے ؟ میں نے کہا کہ میں عبداللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت ابن عباس (رض) نے آپ کی طرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ میں آپ سے پوچھوں کہ کیا رسول اللہ ﷺ احرام کی حالت میں اپنا سر دھوتے تھے ؟ حضرت ایوب نے اپنے ہاتھ سے کپڑے کو نیچے کیا یہاں تک کہ آپ کا سر ظاہر ہوا پھر انہوں نے کسی پانی ڈالنے والے کو فرمایا کہ پانی ڈالو تو اس نے آپ کے سر پر پانی ڈالا پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو ہلایا پھر ہاتھوں کو سر پر پھیر کر آگے سے پیچھے کی طرف لائے اور پیچھے سے آگے کی طرف لائے پھر حضرت ابوایوب (رض) فرمانے لگے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ أَنَّهُمَا اخْتَلَفَا بِالْأَبْوَائِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ وَقَالَ الْمِسْوَرُ لَا يَغْسِلُ الْمُحْرِمُ رَأْسَهُ فَأَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَی أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَسْأَلُهُ عَنْ ذَلِکَ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ بَيْنَ الْقَرْنَيْنِ وَهُوَ يَسْتَتِرُ بِثَوْبٍ قَالَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حُنَيْنٍ أَرْسَلَنِي إِلَيْکَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُکَ کَيْفَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَوَضَعَ أَبُو أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَدَهُ عَلَی الثَّوْبِ فَطَأْطَأَهُ حَتَّی بَدَا لِي رَأْسُهُ ثُمَّ قَالَ لِإِنْسَانٍ يَصُبُّ اصْبُبْ فَصَبَّ عَلَی رَأْسِهِ ثُمَّ حَرَّکَ رَأْسَهُ بِيَدَيْهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ ثُمَّ قَالَ هَکَذَا رَأَيْتُهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৮৯০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ احرام والے کو اپنا سر اور بدن دھونے کے جواز کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابن جریج، حضرت زید بن اسلم سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ حضرت ابوایوب (رض) نے اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے سر پر آگے اور پیچھے پھیرا تو حضرت مسور نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا کہ میں کبھی بھی آپ سے حجت نہیں کروں گا۔
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَأَمَرَّ أَبُو أَيُّوبَ بِيَدَيْهِ عَلَی رَأْسِهِ جَمِيعًا عَلَی جَمِيعِ رَأْسِهِ فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ فَقَالَ الْمِسْوَرُ لِابْنِ عَبَّاسٍ لَا أُمَارِيکَ أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক: