আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬০৮ টি
হাদীস নং: ৩৩৩০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین، بن علی زائدہ، سلیمان، ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ حرم ہے تو جو آدمی اس حرم میں کوئی نیا کام یعنی گناہ وغیرہ کرے گا یا ایسے کرنے والے کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی اور قیامت کے دن نہ اس سے کوئی فرض اور نہ ہی کوئی نفل قبول کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
ابوبکر بن نضر بن ابونضر، عبیداللہ، سفیان، حضرت اعمش (رض) سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے لیکن اس میں قیامت کے دن کا ذکر نہیں ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ہی ہے اور ایک عام مسلمان کے پناہ دینے کا اعتبار کیا جاسکتا ہے تو جو آدمی کسی مسلمان کی پناہ کو توڑے گا اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہوگی قیامت کے دن اس سے کوئی نفل اور نہ کوئی فرض قبول کیا جائے گا۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَقُلْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزَادَ وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ فَمَنْ أَخْفَرَ مُسْلِمًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ میں ہر نیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اس لئے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دو پتھریلے کناروں کی درمیانی جگہ حرم ہے
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَائَ تَرْتَعُ بِالْمَدِينَةِ مَا ذَعَرْتُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، اسحاق، عبدالرزاق، معمر، زہری، سعید بن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ اگر میں مدینہ کے دو پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ میں ہر نیوں کو چرتا ہوا دیکھوں تو میں انہیں ہراساں نہیں کروں گا اور آپ ﷺ نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کو حرم قرار دیا ہے۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَوْ وَجَدْتُ الظِّبَائَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا مَا ذَعَرْتُهَا وَجَعَلَ اثْنَيْ عَشَرَ مِيلًا حَوْلَ الْمَدِينَةِ حِمًی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جب لوگ شروع کا پھل دیکھتے تو وہ اسے نبی ﷺ کی طرف لے آتے تو رسول اللہ ﷺ اسے پکڑتے اور دعا فرماتے اے اللہ ہمارے لئے ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ہمارے لئے ہمارے مد میں برکت عطا فرما اے اللہ ! ابراہیم (علیہ السلام) تیرے بندے اور تیرے خلیل اور تیرے نبی ہیں اور میں تیرا بندہ اور تیرا نبی ہوں اور انہوں نے مکہ کے لئے تجھ سے دعا کی تھی اور میں مدینہ کے لئے تجھ سے ان دعاؤں کا دو گنا کی دعا کرتا ہوں جو کہ تجھ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کے لئے کی تھیں پھر آپ ﷺ کسی چھوٹے بچے کو بلا کر اسے یہ پھل عطا فرماتے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ کَانَ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا أَوَّلَ الثَّمَرِ جَائُوا بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي ثَمَرِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَبْدُکَ وَخَلِيلُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنِّي عَبْدُکَ وَنَبِيُّکَ وَإِنَّهُ دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَإِنِّي أَدْعُوکَ لِلْمَدِينَةِ بِمِثْلِ مَا دَعَاکَ لِمَکَّةَ وَمِثْلِهِ مَعَهُ قَالَ ثُمَّ يَدْعُو أَصْغَرَ وَلِيدٍ لَهُ فَيُعْطِيهِ ذَلِکَ الثَّمَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی کریم (رض) کی برکت کی دعا اور اس کی حدود حرم کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن محمد، سہیل بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہلا پھل لایا جاتا تھا تو آپ ﷺ فرماتے اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں اور ہمارے پھلوں میں اور ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت در برکت عطا فرما پھر آپ ﷺ وہ پھل جو آپ ﷺ کے پاس موجود ہوتا لڑکوں میں سے سب سے چھوٹے کو عطا فرماتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُؤْتَی بِأَوَّلِ الثَّمَرِ فَيَقُولُ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَفِي ثِمَارِنَا وَفِي مُدِّنَا وَفِي صَاعِنَا بَرَکَةً مَعَ بَرَکَةٍ ثُمَّ يُعْطِيهِ أَصْغَرَ مَنْ يَحْضُرُهُ مِنْ الْوِلْدَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
حماد بن اسماعیل بن علیۃ، وہیب، یحییٰ بن ابی اسحاق، حضرت ابوسعید (رض) مولیٰ مہری سے روایت ہے جب مدینہ کے لوگ قحط سالی اور تنگی میں مبتلا ہوئے تو وہ حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاس آیا اور ان سے عرض کیا کہ میرے بچے بہت زیادہ ہیں اور تنگی میں مبتلا ہوں تو میں چاہتا ہوں کہ میں اپنے بچوں کو کسی خوشحال جگہ کی طرف لے جاؤں تو حضرت ابوسعید (رض) نے فرمایا کہ ایسا نہ کرنا اور مدینہ میں رہنا کیونکہ ہم ایک مرتبہ نبی ﷺ کے ساتھ نکلے تھے تو راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہ عسفان کے مقام پر آئے تو آپ ﷺ نے اس مقام پر کچھ راتیں قیام فرمایا تو لوگ کہنے لگے اللہ کی قسم یہاں ہمارے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے اور پیچھے ہمارے بچوں کی نگرانی کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے اور ہم ان کی طرف سے مطمئن نہیں ہیں تو یہ بات نبی ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری یہ کس طرح کی باتیں مجھ تک پہنچی ہیں ؟ راوی کہتے ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے کس طرح فرمایا اور اس کے ساتھ آپ ﷺ نے حلف اٹھایا یا فرمایا کہ قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی اونٹنی پر زین کسنے کا حکم کروں اور جب تک مدینہ نہ پہنچ جاؤں اس کی گرہ نہ کھولوں پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے اللہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم بنایا تھا اور میں مدینہ کو حرم بناتا ہوں مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کا حصہ حرم ہے اس حرم میں خون نہ بہایا جائے اور نہ اس میں جنگ کے لئے ہتھیار اٹھائے جائیں اور نہ ہی یہاں کے درختوں کے پتے توڑے جائیں سوائے جانوروں کے چارہ کے۔ اے اللہ ہمارے لئے ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اے اللہ ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اے اللہ ہمارے مد میں برکت عطا فرما اے اللہ ہمارے مدینہ میں برکت عطا فرما اے اللہ مدینہ میں مکہ کی بنسبت دو گنا برکت فرما اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے کہ مدینہ کی ہر گھاٹی اور درہ پر دو فرشتے مقرر ہیں اور تمہارے واپس آنے تک اس کی حفاظت کرتے ہیں پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ اب نکلو پھر ہم چلے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوئے قسم ہے اس ذات کی کہ جس کی ہم قسم کھاتے ہیں کہ ابھی ہم نے مدینہ میں داخل ہو کر سامان نہیں اتارا تھا کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا حالانکہ اس سے قبل ان میں کسی طرح کی کوئی بےچینی نہیں پائی جاتی تھی۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ إِسْمَعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ وُهَيْبٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ أَصَابَهُمْ بِالْمَدِينَةِ جَهْدٌ وَشِدَّةٌ وَأَنَّهُ أَتَی أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَقَالَ لَهُ إِنِّي کَثِيرُ الْعِيَالِ وَقَدْ أَصَابَتْنَا شِدَّةٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْقُلَ عِيَالِي إِلَی بَعْضِ الرِّيفِ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ لَا تَفْعَلْ الْزَمْ الْمَدِينَةَ فَإِنَّا خَرَجْنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظُنُّ أَنَّهُ قَالَ حَتَّی قَدِمْنَا عُسْفَانَ فَأَقَامَ بِهَا لَيَالِيَ فَقَالَ النَّاسُ وَاللَّهِ مَا نَحْنُ هَا هُنَا فِي شَيْئٍ وَإِنَّ عِيَالَنَا لَخُلُوفٌ مَا نَأْمَنُ عَلَيْهِمْ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي مِنْ حَدِيثِکُمْ مَا أَدْرِي کَيْفَ قَالَ وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ أَوْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَوْ إِنْ شِئْتُمْ لَا أَدْرِي أَيَّتَهُمَا قَالَ لَآمُرَنَّ بِنَاقَتِي تُرْحَلُ ثُمَّ لَا أَحُلُّ لَهَا عُقْدَةً حَتَّی أَقْدَمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَکَّةَ فَجَعَلَهَا حَرَمًا وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ حَرَامًا مَا بَيْنَ مَأْزِمَيْهَا أَنْ لَا يُهْرَاقَ فِيهَا دَمٌ وَلَا يُحْمَلَ فِيهَا سِلَاحٌ لِقِتَالٍ وَلَا تُخْبَطَ فِيهَا شَجَرَةٌ إِلَّا لِعَلْفٍ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مُدِّنَا اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا اللَّهُمَّ اجْعَلْ مَعَ الْبَرَکَةِ بَرَکَتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ الْمَدِينَةِ شِعْبٌ وَلَا نَقْبٌ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَکَانِ يَحْرُسَانِهَا حَتَّی تَقْدَمُوا إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا فَأَقْبَلْنَا إِلَی الْمَدِينَةِ فَوَالَّذِي نَحْلِفُ بِهِ أَوْ يُحْلَفُ بِهِ الشَّکُّ مِنْ حَمَّادٍ مَا وَضَعْنَا رِحَالَنَا حِينَ دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ حَتَّی أَغَارَ عَلَيْنَا بَنُو عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَطَفَانَ وَمَا يَهِيجُهُمْ قَبْلَ ذَلِکَ شَيْئٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
زہیر بن حرب، اسماعیل بن علیہ، علی بن مبارک، یحییٰ بن ابی کثیر، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ ہمارے لئے ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت عطا فرما اور ایک برکت کے ساتھ دو برکتیں کر دے۔
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَکِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا وَاجْعَلْ مَعَ الْبَرَکَةِ بَرَکَتَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبیداللہ بن موسی، شیبان اسحاق بن منصور، عبدالصمد، حرب، حضرت یحییٰ بن ابی کثیر (رض) سے ان سندوں کے ساتھ اسی حدیث کی طرح حدیث نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا شَيْبَانُ ح و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ کِلَاهُمَا عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৩৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، سعید بن ابی سعید، حضرت ابوسعید مولیٰ مہری سے روایت ہے کہ وہ حرہ کی رات میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاس آئے اور ان سے مدینہ سے واپس چلے جانے کے بارے میں مشورہ طلب کیا اور شکایت کی کہ مدینہ میں مہنگائی بہت ہے اور ان کی عیال داری بال بچے زیادہ ہیں اور میں مدینہ کی مشقت اور اس کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرسکتا تو حضرت ابوسعید (رض) نے اس سے کہا کہ تجھ پر افسوس ہے میں تجھے اس کا حکم (مشورہ) نہیں دوں گا کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے اور اسی حال میں اس کی موت آجائے تو میں اس کی سفارش کروں گا یا فرمایا کہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا جبکہ وہ مسلمان ہو۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَی الْمَهْرِيِّ أَنَّهُ جَائَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ لَيَالِي الْحَرَّةِ فَاسْتَشَارَهُ فِي الْجَلَائِ مِنْ الْمَدِينَةِ وَشَکَا إِلَيْهِ أَسْعَارَهَا وَکَثْرَةَ عِيَالِهِ وَأَخْبَرَهُ أَنْ لَا صَبْرَ لَهُ عَلَی جَهْدِ الْمَدِينَةِ وَلَأْوَائِهَا فَقَالَ لَهُ وَيْحَکَ لَا آمُرُکَ بِذَلِکَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِهَا فَيَمُوتَ إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا کَانَ مُسْلِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ ابن نمیر، ابوکریب، ابواسامہ، ابوبکر ابن انمیر، ابواسامہ، ولید بن کثیر، سعید بن عبدالرحمن، حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی حصہ کو حرم قرار دیا ہے جیسا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مکہ کو حرم قرار دیا ہے راوی کہتے ہیں کہ پھر ابوسعید (رض) کسی کے ہاتھ میں مدینہ میں پرندہ دیکھ لیتے تو اس کے ہاتھ سے اس کو چھڑا لیتے اور آزاد کردیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي حَرَّمْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ کَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَکَّةَ قَالَ ثُمَّ کَانَ أَبُو سَعِيدٍ يَأْخُذُ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَجِدُ أَحَدَنَا فِي يَدِهِ الطَّيْرُ فَيَفُکُّهُ مِنْ يَدِهِ ثُمَّ يُرْسِلُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ولی بن مسہر، یسیر بن عمرو، حضرت سہل بن حنیف (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے مدینہ کی طرف اشارہ فرمایا اور فرمایا کہ یہ حرم ہے اور امن کی جگہ ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ يُسَيْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ أَهْوَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ إِلَی الْمَدِينَةِ فَقَالَ إِنَّهَا حَرَمٌ آمِنٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ، ہشام، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو وہاں بخار کی وبا آئی ہوئی تھی تو حضرت ابوبکر اور حضرت بلال (رض) بیمار ہوگئے تو جب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ (رض) کی بیماری دیکھی تو فرمایا اے اللہ جیسا کہ تو نے ہمارے لئے مکہ کو محبوب فرمایا مدینہ کو بھی ہمیں محبوب فرمایا اس سے بھی زیادہ محبوب فرما دے اور مدینہ کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمارے لئے مدینہ کے صاع میں اور ان کے مد میں برکت عطا فرما اور مدینہ کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ فَاشْتَکَی أَبُو بَکْرٍ وَاشْتَکَی بِلَالٌ فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَکْوَی أَصْحَابِهِ قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ کَمَا حَبَّبْتَ مَکَّةَ أَوْ أَشَدَّ وَصَحِّحْهَا وَبَارِکْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَحَوِّلْ حُمَّاهَا إِلَی الْجُحْفَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ابوکریب، ابواسامہ، ابن نمیر، ہشام، حضرت ہشام بن عروہ (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت منقول ہے۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
زہیر بن حرب، عثمان بن عمر، عیسیٰ ابن حفص بن عاصم، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے گا تو میں اس کے لئے سفارش کروں گا یا قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَبَرَ عَلَی لَأْوَائِهَا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، قطن بن وہب بن عویمربن اجدع، حضرت یحنس مولیٰ زبیر (رض) سے روایت ہے وہ خبر دیتے ہیں کہ میں فتنہ کے دور میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بیٹھا تھا کہ ان کی آزاد کردہ باندی ان کے پاس آئی اور اس نے آپ کو سلام کیا اور عرض کرنے لگی کہ اے ابوعبدالرحمن ہم پر زمانے کی سختی ہے معاشی حالات کی تنگی جس کی وجہ سے میں نے یہاں سے نکلنے کا ارادہ کیا ہے تو حضرت عبداللہ (رض) نے اس عورت سے فرمایا کہ یہیں بیٹھی رہو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں اس کی سفارش کروں گا یا آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبِ بْنِ عُوَيْمِرِ بْنِ الْأَجْدَعِ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَی الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ کَانَ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْفِتْنَةِ فَأَتَتْهُ مَوْلَاةٌ لَهُ تُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَقَالَتْ إِنِّي أَرَدْتُ الْخُرُوجَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ اشْتَدَّ عَلَيْنَا الزَّمَانُ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ اقْعُدِي لَکَاعِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، قطن، یحنس، مصعب، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دوں گا یا فرمایا کہ میں اس کے لئے سفارش کروں گا۔
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ عَنْ قَطَنٍ الْخُزَاعِيِّ عَنْ يُحَنَّسَ مَوْلَی مُصْعَبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَبَرَ عَلَی لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا کُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَعْنِي الْمَدِينَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن حجر، اسماعیل، حعفر، علاء بن عبدا لرحمن، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میری اُمّت میں سے جو کوئی بھی مدینہ کی تکلیفوں اور اس کی سختیوں پر صبر کرے گا تو میں اس کے لئے قیامت کے دن سفارش کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْبِرُ عَلَی لَأْوَائِ الْمَدِينَةِ وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِي إِلَّا کُنْتُ لَهُ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَوْ شَهِيدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، ابوہارون، موسیٰ بن ابی عیسی، ابوعبد اللہ، حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا ہے۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي هَارُونَ مُوسَی بْنِ أَبِي عِيسَی أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاظَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِه
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩৩৪৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مدینہ میں رہنے والوں کو تکالیف پر صبر کرنے کی فضیلت کے بیان میں
یوسف بن عیسی، فضل بن موسیٰ ہشام، عروہ، صالح بن ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی بھی مدینہ کی تکلیفوں پر صبر کرے گا پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔
و حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْبِرُ أَحَدٌ عَلَی لَأْوَائِ الْمَدِينَةِ بِمِثْلِهِ
তাহকীক: