আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
حج کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৬০৮ টি
হাদীস নং: ৩২৩০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ اللہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت اسامہ (رض) اور حضرت بلال (رض) اور حضرت عثمان بن طلحہ (رض) بھی تھے اور کعبہ کا دروازہ آپ ﷺ پر بند ہوگیا پھر آپ ﷺ دیر تک اندر رہے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت بلال (رض) جس وقت باہر نکلے تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے اندر کیا کیا ؟ حضرت بلال (رض) نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے دو ستونوں کو اپنے بائیں طرف اور ایک ستون کو اپنے دائیں طرف اور تین ستونوں کو اپنے پیچھے کیا اور بیت اللہ کے اس وقت چھ ستون تھے پھر آپ ﷺ نے نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ ثُمَّ مَکَثَ فِيهَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَسَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَعَلَ عَمُودَيْنِ عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودًا عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَائَهُ وَکَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَی سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
ابوربیع، قتیبہ بن سعید، ابوکامل، حماد، بن زید، حماد، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن تشریف لائے اور کعبہ کے صحن میں اترے آپ ﷺ نے حضرت عثمان بن طلحہ (رض) کو بلایا تو وہ چابی لے کر آئے اور دروازہ کھولا پھر نبی ﷺ اور حضرت بلال اور اسامہ (رض) اور عثمان (رض) کعبہ کے اندر داخل ہوئے اور دروازہ بند کرنے کا حکم دیا گیا پھر آپ ﷺ کعبہ میں کچھ دیر ٹھہرے رہے پھر دروازہ کھلا حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ میں جلدی میں سب لوگوں سے پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملا جب آپ ﷺ باہر نکلے اور حضرت بلال آپ ﷺ کے پیچھے تھے تو میں نے حضرت بلال سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ حضرت بلال (رض) نے کہا کہ ہاں میں نے کہا کہاں ؟ حضرت بلال (رض) نے کہا کہ اپنے سامنے کے دو ستونوں کے درمیان حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں یہ بھول گیا کہ میں ان سے پوچھتا کہ کتنی رکعتیں پڑھی تھیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَبُو کَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَزَلَ بِفِنَائِ الْکَعْبَةِ وَأَرْسَلَ إِلَی عُثْمَانَ بْنِ طَلْحَةَ فَجَائَ بِالْمِفْتَحِ فَفَتَحَ الْبَابَ قَالَ ثُمَّ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَأَمَرَ بِالْبَابِ فَأُغْلِقَ فَلَبِثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فَتَحَ الْبَابَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَبَادَرْتُ النَّاسَ فَتَلَقَّيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا وَبِلَالٌ عَلَی إِثْرِهِ فَقُلْتُ لِبِلَالٍ هَلْ صَلَّی فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَيْنَ قَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ تِلْقَائَ وَجْهِهِ قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ کَمْ صَلَّی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے سال حضرت اسامہ بن زید (رض) کی اونٹنی پر سوار تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اونٹنی کو کعبہ کے صحن میں بٹھایا پھر حضرت عثمان بن طلحہ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ مجھے چابی لا کردو وہ اپنی والدہ کی طرف چابی لینے کے لئے گئے تو انہوں نے انکار کیا تو حضرت عثمان (رض) کہنے لگے کہ مجھے چابی دے دو ورنہ میں اپنی تلوار میان سے نکال لوں گا حضرت عثمان کی والدہ نے ان کو چابی دے دی تو وہ اسے لے کر نبی ﷺ کی طرف آئے آپ ﷺ نے دروازہ کھولا پھر حماد بن زید کی حدیث کی طرح ذکر فرمایا۔
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ عَلَی نَاقَةٍ لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ حَتَّی أَنَاخَ بِفِنَائِ الْکَعْبَةِ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَقَالَ ائْتِنِي بِالْمِفْتَاحِ فَذَهَبَ إِلَی أُمِّهِ فَأَبَتْ أَنْ تُعْطِيَهُ فَقَالَ وَاللَّهِ لَتُعْطِينِهِ أَوْ لَيَخْرُجَنَّ هَذَا السَّيْفُ مِنْ صُلْبِي قَالَ فَأَعْطَتْهُ إِيَّاهُ فَجَائَ بِهِ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ فَفَتَحَ الْبَابَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
زہیر بن حرب، یحییٰ قطان، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، ابن نمیر، عبدہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور آپ ﷺ کے ساتھ حضرت اسامہ حضرت بلال اور حضرت عثمان (رض) بھی تھے پھر ان پر دروازہ بند ہوگیا پھر کافی دیر بعد دروازہ کھلا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا تو میری ملاقات حضرت بلال سے ہوئی تو میں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے کہاں نماز پڑھی انہوں نے کہا کہ اپنے سامنے والے دو ستونوں کے درمیان تو میں حضرت بلال (رض) سے یہ پوچھنا بھول گیا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ؟
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَمَعَهُ أُسَامَةُ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَجَافُوا عَلَيْهِمْ الْبَابَ طَوِيلًا ثُمَّ فُتِحَ فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ دَخَلَ فَلَقِيتُ بِلَالًا فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْمُقَدَّمَيْنِ فَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُ کَمْ صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
حمید بن مسعدہ، خالد ابن حارث، عبداللہ بن عون، نافع، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں کعبہ کی طرف پہنچا تو نبی ﷺ اور حضرت بلال اور اسامہ (رض) کعبہ میں داخل ہوگئے تھے اور ان پر حضرت عثمان (رض) نے دروازہ بند کردیا تھا آپ ﷺ کعبہ میں کچھ دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھولا گیا تو نبی ﷺ باہر نکلے اور میں سیٹرھی سے اندر گیا اور بیت اللہ میں داخل ہوا اور میں نے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کہاں نماز پڑھی ہے انہوں نے فرمایا کہ یہاں حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں یہ بھول گیا کہ میں ان سے پوچھتا کہ آپ ﷺ نے کتنی رکعت پڑھی ہیں ؟
و حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ انْتَهَی إِلَی الْکَعْبَةِ وَقَدْ دَخَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ وَأُسَامَةُ وَأَجَافَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْبَابَ قَالَ فَمَکَثُوا فِيهِ مَلِيًّا ثُمَّ فُتِحَ الْبَابُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَقِيتُ الدَّرَجَةَ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّی النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا هَا هُنَا قَالَ وَنَسِيتُ أَنْ أَسْأَلَهُمْ کَمْ صَلَّی
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، ابن شہاب، حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور حضرت اسامہ اور حضرت بلال اور حضرت عثمان (رض) بھی آپ کے ساتھ تھے اور دروازہ ان پر بند ہوگیا تو جب دروازہ کھولا گیا تو سب سے پہلے میں داخل ہوا اور میں حضرت بلال (رض) سے ملا اور ان سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں آپ ﷺ نے درمیانی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا کُنْتُ فِي أَوَّلِ مَنْ وَلَجَ فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّی فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ صَلَّی بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، حضرت سالم بن عبداللہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کعبہ میں داخل ہوئے اور حضرت اسامہ اور حضرت بلال (رض) اور حضرت عثمان (رض) بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ وہ اندر داخل نہیں ہوسکے پھر ان پر دروازہ بند کردیا گیا حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت بلال (رض) یا عثمان بن طلحہ (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کعبہ کے وسط میں دو یمانی ستونوں کے درمیان نماز پڑھی۔
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ وَلَمْ يَدْخُلْهَا مَعَهُمْ أَحَدٌ ثُمَّ أُغْلِقَتْ عَلَيْهِمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ فَأَخْبَرَنِي بِلَالٌ أَوْ عُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی فِي جَوْفِ الْکَعْبَةِ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، ابن بکر، عبد، محمد بن بکر، ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے کہا کہ کیا آپ نے حضرت ابن عباس کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ تم کو کعبہ میں طواف کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے اندر داخل ہونے کا حکم نہیں دیا گیا عطاء کہتے ہیں کہ وہ کعبہ کے اندر داخل ہونے سے نہیں روکتے لیکن میں نے سنا کہ وہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت اسامہ (رض) بن زید نے خبر دی ہے کہ نبی ﷺ جب کعبہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے اس کے تمام کونوں میں دعا مانگی اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ باہر تشریف لے آئے تو جب آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے بیت اللہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں اور آپ نے فرمایا یہ قبلہ ہے میں نے عرض کیا کہ اس کے کناروں کا کیا حکم ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ بیت اللہ کا ہر کنارہ قبلہ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ بَکْرٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قُلْتُ لِعَطَائٍ أَسَمِعْتَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُا إِنَّمَا أُمِرْتُمْ بِالطَّوَافِ وَلَمْ تُؤْمَرُوا بِدُخُولِهِ قَالَ لَمْ يَکُنْ يَنْهَی عَنْ دُخُولِهِ وَلَکِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا دَخَلَ الْبَيْتَ دَعَا فِي نَوَاحِيهِ کُلِّهَا وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ حَتَّی خَرَجَ فَلَمَّا خَرَجَ رَکَعَ فِي قُبُلِ الْبَيْتِ رَکْعَتَيْنِ وَقَالَ هَذِهِ الْقِبْلَةُ قُلْتُ لَهُ مَا نَوَاحِيهَا أَفِي زَوَايَاهَا قَالَ بَلْ فِي کُلِّ قِبْلَةٍ مِنْ الْبَيْتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
شیبان بن فروخ، ہمام، عطاء، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے اس میں چھ ستون تھے آپ ﷺ نے ہر ستون کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگی اور نماز نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا عَطَائٌ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْکَعْبَةَ وَفِيهَا سِتُّ سَوَارٍ فَقَامَ عِنْدَ سَارِيَةٍ فَدَعَا وَلَمْ يُصَلِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৩৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حاجی اور غیر حاجی کے لئے کعبة اللہ میں داخلے اور اس میں نماز پڑھنے کے استح کے بیان میں
سریج بن یونس، ہشیم، اسماعیل بن ابی خالد، عبداللہ بن ابی اوفی، حضرت اسماعیل بن خالد (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے صحابی رسول اللہ ﷺ حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے عرض کیا کہ کیا نبی ﷺ اپنی عمر مبارک میں بیت اللہ میں داخل ہوئے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔
و حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنِي هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَی صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ قَالَ لَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪০
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کے لوگوں نے نیا نیا کفر چھوڑ کر اسلام قبول نہ کیا ہوتا تو میں بیت اللہ کو توڑتا اور اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر بناتا کیونکہ قریش نے جس وقت بیت اللہ کو بنایا تو اسے کم (چھوٹا) کردیا اور میں اس کے پیچھے بھی دروازہ بناتا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْکَعْبَةَ وَلَجَعَلْتُهَا عَلَی أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتْ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪১
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪২
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، عبداللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق (رض) ، عبداللہ بن عمر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہاری قوم نے جس وقت کعبہ بنایا تو اسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں سے چھوٹا کردیا حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر کیوں نہیں بنا دیتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم نے کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں کرتا، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ حضرت عائشہ (رض) نے یہ بات ضرور رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوگی کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جو دو کونے حجر (یعنی حطیم) سے ملے ہوئے ہیں رسول اللہ ﷺ نے اس کا استلام چھوڑ دیا ہے اس لئے کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بنیادوں پر پورا نہیں بنا ہوا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَکِ حِينَ بَنَوْا الْکَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَی قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَفَعَلْتُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ کَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَکَ اسْتِلَامَ الرُّکْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَی قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৩
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب مخرمہ، ہارون، بن سعید، ابن وہب، مخرمہ بن بکیر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تیری قوم نے جاہلیت کو یا فرمایا کہ کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں کعبہ کا خزانہ اللہ کے راستے میں خرچ کردیتا اور میں اس کا دروازہ زمین کے ساتھ بناتا اور حطیم کو کعبہ میں ملا دیتا۔
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَخْرَمَةَ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُکَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ أَوْ قَالَ بِکُفْرٍ لَأَنْفَقْتُ کَنْزَ الْکَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ وَلَأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنْ الْحِجْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৪
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
محمد بن حاتم، ابن مہدی، سلیم بن حبان، سعید، ابن میناء، حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ مجھے میری خالہ حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! اگر تیری قوم کے لوگوں نے شرک نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا تو میں کعبہ کو گرا کر اسے زمین سے ملا دیتا اور اس کے دو دروازے بناتا ایک دروازہ مشرق کی طرف اور ایک دروازہ مغرب کی طرف اور حطیم کی طرف سے چھ ہاتھ جگہ کعبہ میں اور زیادہ کردیتا کیونکہ قریش نے جب کعبہ دوبارہ بنایا تھا تو اسے چھوٹا کردیا تھا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَائَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ حَدَّثَتْنِي خَالَتِي يَعْنِي عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْکٍ لَهَدَمْتُ الْکَعْبَةَ فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنْ الْحِجْرِ فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتْ الْکَعْبَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৫
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
ہناد بن سری، ابن ابی زائدہ، ابن ابی سلیمان، حضرت عطاء سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ یزید بن معاویہ (رض) کے زمانہ میں جس وقت کہ شام والوں نے مکہ والوں سے جنگ کی اور بیت اللہ جل گیا اور اس کے نتیجے میں جو ہونا تھا وہ ہوگیا تو حضرت ابن زبیر (رض) نے بیت اللہ کو اسی حال میں چھوڑ دیا تاکہ حج کے موسم میں لوگ آئیں حضرت ابن زبیر (رض) چاہتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو شام والوں کے خلاف ابھاریں اور انہیں برانگیختہ کریں جب وہ لوگ واپس ہونے لگے تو حضرت زبیر نے فرمایا اے لوگو ! مجھے کعبۃ اللہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے توڑ کر دوبارہ بناوں یا اس کی مرمت وغیرہ کروا دوں حضرت ابن عباس (رض) فرمانے لگے کہ میری یہ رائے ہے کہ اس کا جو حصہ خراب ہوگیا اس کو درست کروا لیا جائے باقی بیت اللہ کو اسی طرح رہنے دیا جائے جس طرح کہ لوگوں کے زمانہ میں تھا اور انہی پتھروں کو باقی رہنے دو کہ جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی ﷺ کو مبعوث کیا گیا تو حضرت ابن زبیر (رض) فرمانے لگے کہ اگر تم میں سے کسی کا گھر جل جائے تو وہ خوش نہیں ہوگا جب تک کہ اسے نیا نہ بنالے تو اپنے رب کے گھر کو کیوں نہ بنایا جائے ؟ میں تین مرتبہ استخارہ کروں گا پھر اس کام پر پختہ عزم کروں گا جب انہوں نے تین مرتبہ استخارہ کرلیا تو انہوں نے اسے توڑنے کا ارادہ کیا تو لوگوں کو خطرہ پیدا ہوا کہ جو آدمی سب سے پہلے بیت اللہ کو توڑنے کے لئے اس پر چڑھے گا تو اس پر آسمان سے کوئی چیز بلا نازل نہ ہوجائے تو ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس نے اس میں سے ایک پتھر گرایا تو جب لوگوں نے اس پر دیکھا کہ کوئی تکلیف نہیں پہنچی تو سب لوگوں نے اسے مل کو توڑ ڈالا یہاں تک کہ اسے زمین کے برابر کردیا حضرت ابن زبیر (رض) نے چند ستون کھڑے کر کے اس پر پردے ڈال دئیے یہاں تک کہ اس کی دیواریں بلند ہوگئیں اور حضرت ابن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر لوگوں نے کفر کو نیا نیا چھوڑا نہ ہوتا اور میرے پاس اس کی تعمیر کا خرچہ بھی نہیں ہے اگر میں دوبارہ بناتا تو حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں داخل کردیتا اور اس میں ایک دروازہ ایسا بناتا کہ جس سے لوگ باہر نکلیں حضرت ابن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ آج میرے پاس اس کا خرچہ بھی موجود ہے اور مجھے لوگوں کا ڈر بھی نہیں ہے راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابن زبیر نے حطیم میں سے پانچ ہاتھ جگہ بیت اللہ میں زیادہ کردی یہاں تک کہ اس جگہ سے اس کی بنیاد ظاہر ہوئی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) والی بنیاد جسے لوگوں نے دیکھا حضرت ابن زبیرنے اس بنیاد پر دیوار کی تعمیر شروع کرادی اس طرح بیت اللہ لمبائی میں اٹھارہ ہاتھ ہوگیا جب اس میں زیادتی کی تو اس کا طول کم معلوم ہونے لگا پھر اس کے طول میں دس ہاتھ زیادتی کی اور اس کے دو دروازے بنائے کہ ایک دروازہ سے داخل ہوں اور دوسرے دروازے سے باہر نکلا جائے تو جب حضرت زبیر (رض) شہید کر دئیے گئے تو حجاج نے جواباً عبدالملک بن مروان کو اس کی خبر دی اور لکھا کہ حضرت ابن زبیر (رض) نے کعبۃ اللہ کی جو تعمیر کی ہے وہ ان بنیادوں کے مطابق ہے جنہیں مکہ کے ب اعتماد لوگوں نے دیکھا ہے تو عبدالملک نے جوابًا حجاج کو لکھا کہ ہمیں حضرت ابن زبیر (رض) کے رد وبدل سے کوئی غرض نہیں انہوں نے طول میں جو اضافہ کیا ہے اور حطیم سے جو زائد جگہ بیت اللہ میں داخل کی ہے اسے واپس نکال دو اور اسے پہلی طرح دوبارہ بنادو اور جو دروازہ انہوں نے کھولا ہے اسے بھی بند کردو پھر حجاج نے بیت اللہ کو گرا کر دوبارہ پہلے کی طرح اسے بنادیا۔
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ قَالَ لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ فَکَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا کَانَ تَرَکَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّی قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أَوْ يُحَرِّبَهُمْ عَلَی أَهْلِ الشَّامِ فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْکَعْبَةِ أَنْقُضُهَا ثُمَّ أَبْنِي بِنَائَهَا أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَی مِنْهَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا أَرَی أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَی مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ لَوْ کَانَ أَحَدُکُمْ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّی يُجِدَّهُ فَکَيْفَ بَيْتُ رَبِّکُمْ إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا ثُمَّ عَازِمٌ عَلَی أَمْرِي فَلَمَّا مَضَی الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَی أَنْ يَنْقُضَهَا فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنْ السَّمَائِ حَتَّی صَعِدَهُ رَجُلٌ فَأَلْقَی مِنْهُ حِجَارَةً فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْئٌ تَتَابَعُوا فَنَقَضُوهُ حَتَّی بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّی ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِکُفْرٍ وَلَيْسَ عِنْدِي مِنْ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَی بِنَائِهِ لَکُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ قَالَ فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ قَالَ فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنْ الْحِجْرِ حَتَّی أَبْدَی أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَبَنَی عَلَيْهِ الْبِنَائَ وَکَانَ طُولُ الْکَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ کَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ يُخْبِرُهُ بِذَلِکَ وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَائَ عَلَی أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِکِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْئٍ أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَی بِنَائِهِ وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ وَأَعَادَهُ إِلَی بِنَائِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৬
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، عبداللہ بن عبیداللہ بن عمیر ولید، بن عطاء حارث، ابن عبداللہ بن ابی ربیعہ، عبداللہ بن عبیداللہ، (رض) فرماتے ہیں کہ حارث بن عبداللہ عبدالملک بن مروان کے دور خلافت میں ان کے پاس وفد لے کر گئے تو عبدالملک کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ابوخبیب یعنی ابن زبیر (رض) حضرت عائشہ (رض) سے سنے بغیر روایت کرتے ہیں حارث کہنے لگے کہ نہیں بلکہ میں نے خود حضرت عائشہ (رض) سے یہ حدیث سنی ہے عبدالملک کہنے لگا کہ تم نے جو سنا ہے اسے بیان کرو وہ کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تیری قوم کے لوگوں نے بیت اللہ کی بنیادوں کو کم کو دیا ہے اور اگر تیری قوم کے لوگوں نے شرک کو نیا نیا نہ چھوڑا ہوتا تو جتنا انہوں نے اس میں سے چھوڑ دیا ہے میں اسے دوبارہ بنا دیتا تو اگر میرے بعد تیری قوم اسے دوبارہ بنانے کا ارادہ کرے تو آو میں تمہیں دکھاؤں کہ انہوں نے اس کی تعمیر میں سے کیا چھوڑا ہے پھر آپ ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) کو وہ جگہ دکھائی جو کہ تقربیا سات ہاتھ تھی یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے اور اس پر ولید بن عطاء نے یہ اضافہ کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں بیت اللہ میں دو دروازے زمین کے ساتھ بنا دیتا ایک مشرق کی طرف اور ایک مغرب کی طرف اور کیا تم جانتی ہو کہ تمہاری قوم کے لوگوں نے اس کے دروازے کو بلند کیوں کردیا تھا ؟ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تکبر اور غرور کی وجہ سے کہ بیت اللہ میں کوئی داخل نہ ہو سوائے ان لوگوں کے کہ جن کے لئے یہ چاہیں تو جب کوئی آدمی بیت اللہ میں داخل ہونے کو ارادہ کرتا تو وہ اسے بلاتے اور جب وہ داخل ہونے کے قرین ہوتا تو وہ اسے دھکا دیتے اور وہ گرپڑتا عبدالملک نے حارث سے کہا کیا تم نے یہ حدیث حضرت عائشہ (رض) سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ! راوی کہتے ہیں کہ عبدالملک کچھ دیر اپنی لاٹھی سے زمین کریدتا رہا اور کہنے لگا کہ کاش کہ میں نے اس کی تعمیر کو اسی حال پر چھوڑ دیا ہوتا۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَائٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَفَدَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ فِي خِلَافَتِهِ فَقَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ مَا أَظُنُّ أَبَا خُبَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا کَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا قَالَ الْحَارِثُ بَلَی أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا قَالَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا قَالَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَوْمَکِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْکِ أَعَدْتُ مَا تَرَکُوا مِنْهُ فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِکِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَکِ مَا تَرَکُوا مِنْهُ فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَائٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ کَانَ قَوْمُکِ رَفَعُوا بَابَهَا قَالَتْ قُلْتُ لَا قَالَ تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا فَکَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّی إِذَا کَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ قَالَ عَبْدُ الْمَلِکِ لِلْحَارِثِ أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَکَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ ثُمَّ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي تَرَکْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৭
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
محمد بن عمرو بن حبلہ، ابوعاصم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، حضرت ابن جریج سے اس سند کے ساتھ ابن بکر کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَکْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৮
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کے بیان میں
محمد بن حاتم، عبداللہ بن بکر، حاتم بن ابی صغیرہ، ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان بیت اللہ کے طواف کے دوران کہہ رہا تھا کہ اللہ ابن زبیر (رض) کو ہلاک کر دے وہ ام المومنین پر جھوٹ کہتا تھا اور کہتا ہے کہ میں نے ان سے سنا وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ ! اگر تیری قوم کے لوگوں نے نیانیا کفر چھوڑا نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو توڑ کر حطیم والے حصہ کو اس میں شامل کردیتا کیونکہ تیری قوم کے لوگوں نے بیت اللہ کی تعمیر کو کم کردیا ہے حارث بن عبداللہ کہتے ہیں اے امیرالمومنین ! آپ ایسے نہ کہیں کیونکہ میں نے ام المومنین (رض) سے یہ حدیث خود سنی ہے عبدالملک نے کہا کہ اگر میں یہ بات بیت اللہ کو گرانے سے پہلے سن لیتا تو میں حضرت ابن زبیر والی تعمیر کو قائم رہنے دیتا۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَکْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ إِذْ قَالَ قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَکْذِبُ عَلَی أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ يَقُولُ سَمِعْتُهَا تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّی أَزِيدَ فِيهِ مِنْ الْحِجْرِ فَإِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَائِ فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا قَالَ لَوْ کُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَکْتُهُ عَلَی مَا بَنَی ابْنُ الزُّبَيْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৩২৪৯
حج کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کعبہ کی دیوار اور اس کے دروازے کے بیان میں
سعید بن منصور، ابواحوص، اشعث بن ابی شعثاء، اسود بن یزید، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے حطیم کی دیوار کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ بیت اللہ میں شامل ہے یا نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں نے عرض کیا کہ پھر اسے بیت اللہ میں داخل کیوں نہیں کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگوں کے پاس اس کا خرچہ کم ہوگیا تھا میں نے عرض کیا کہ اس کا دروازہ بلند کیوں ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری قوم کے لوگوں نے اس طرح کیا ہے تاکہ جسے چاہیں داخل کریں اور جسے چاہیں روک دیں اور اگر تمہاری قوم کے لوگوں نے نیا نیا کفر نہ چھوڑا ہوتا اور مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ یہ انہیں ناگوار لگے گا تو میں حطیم کی دیواروں کو بیت اللہ میں داخل کردیتا اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دیتا۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ حَدَّثَنَا أَشْعَثُ بْنُ أَبِي الشَّعْثَائِ عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْجَدْرِ أَمِنْ الْبَيْتِ هُوَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ فَلِمَ لَمْ يُدْخِلُوهُ فِي الْبَيْتِ قَالَ إِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرَتْ بِهِمْ النَّفَقَةُ قُلْتُ فَمَا شَأْنُ بَابِهِ مُرْتَفِعًا قَالَ فَعَلَ ذَلِکِ قَوْمُکِ لِيُدْخِلُوا مَنْ شَائُوا وَيَمْنَعُوا مَنْ شَائُوا وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَخَافُ أَنْ تُنْکِرَ قُلُوبُهُمْ لَنَظَرْتُ أَنْ أُدْخِلَ الْجَدْرَ فِي الْبَيْتِ وَأَنْ أُلْزِقَ بَابَهُ بِالْأَرْضِ
তাহকীক: