আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)

المسند الصحيح لمسلم

روزوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮৫ টি

হাদীস নং: ২৬৫৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم (رض) سے اس دن کے بارے میں فرماتے ہوئے سنا کہ میں روزے سے ہوں تو جو چاہتا ہے کہ روزہ رکھے وہ رکھ لے اور مالک بن انس (رض) اور یونس (رض) کی حدیث کا باقی حصہ ذکر نہیں کیا
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ إِنِّي صَائِمٌ فَمَنْ شَائَ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ وَلَمْ يَذْکُرْ بَاقِي حَدِيثِ مَالِکٍ وَيُونُسَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، ابی بشر، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ ﷺ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو لوگوں نے ان سے اس روزے کے بارے میں پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اور بنی اسرائیل کو فرعون پر غلبہ عطا فرمایا تھا تو ہم اس دن کی عظمت کی وجہ سے روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم تم سے زیادہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں تو آپ ﷺ نے اس روزے کا حکم فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِکَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَی وَبَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَی فِرْعَوْنَ فَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ أَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ فَأَمَرَ بِصَوْمِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
ابن بشار، ابوبکر بن نافع، محمد بن جعفر، شعبہ، ابی بشر اس سند کے ساتھ حضرت ابی بشر (رض) سے اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں ہے کہ آپ نے ان سے اس کی وجہ پوچھی۔
و حَدَّثَنَاه ابْنُ بَشَّارٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ جَمِيعًا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فَسَأَلَهُمْ عَنْ ذَلِکَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، ایوب، عبداللہ بن سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اس دن کی کیا وجہ ہے ؟ تو وہ کہنے لگے کہ یہ وہ عظیم دن ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو نجات عطا فرمائی اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق فرمایا چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے شکرانے کا روزہ رکھا اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم زیادہ حقدار ہیں اور تم سے زیادہ موسیٰ (علیہ السلام) کے قریب ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بھی عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اپنے صحابہ (رض) کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَوَجَدَ الْيَهُودَ صِيَامًا يَوْمَ عَاشُورَائَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي تَصُومُونَهُ فَقَالُوا هَذَا يَوْمٌ عَظِيمٌ أَنْجَی اللَّهُ فِيهِ مُوسَی وَقَوْمَهُ وَغَرَّقَ فِرْعَوْنَ وَقَوْمَهُ فَصَامَهُ مُوسَی شُکْرًا فَنَحْنُ نَصُومُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحْنُ أَحَقُّ وَأَوْلَی بِمُوسَی مِنْکُمْ فَصَامَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৫৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، معمر، حضرت ایوب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ابن سعید بن جبیر ہے نام ذکر نہیں کیا گیا۔
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ ابْنِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ لَمْ يُسَمِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، ابی عمیس، قیس بن سالم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ یہودی لوگ عاشورہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم بھی اس دن کو روزہ رکھو۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي مُوسَی رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ کَانَ يَوْمُ عَاشُورَائَ يَوْمًا تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَتَتَّخِذُهُ عِيدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُومُوهُ أَنْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
احمد بن منذر، حماد بن اسامہ، ابوعمیس، قیس، صدقہ بن ابی عمران، قیس بن مسلم، طارق بن شہاب، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ خیبر کے یہودی عاشورہ کے دن روزہ رکھتے تھے اور اسے عید سمجھتے تھے اور اپنی عورتوں کو زیور پہناتے اور بناؤ سنگھار کرتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم بھی اس دن کا روزہ رکھو۔
وحدثنا احمد بن المنذر حدثنا حماد بن اسامه حدثنا وزاد قال ابواسامة فحدثنی صدقة بن ابی موسیٰ رضی الله عنه قال کان اهل خيبر يصومون يوم عاشورائ يتخذونه عندا ويلبسون نسائهم فيه حليهم وشارتهم فقال رسول الله صلی الله عليه وسلم
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، سفیان، ابوبکر، ابن عیینہ، عبیداللہ ابن ابی یزید، حضرت ابن عباس (رض) سے عاشورہ کے دن کے روزوں کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس عاشورہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن فضیلت کی وجہ سے روزہ رکھا ہو اور نہ کسی مہینے میں سوائے اس مہینے یعنی رمضان کے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَسُئِلَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ مَا عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ يَوْمًا يَطْلُبُ فَضْلَهُ عَلَی الْأَيَّامِ إِلَّا هَذَا الْيَوْمَ وَلَا شَهْرًا إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ يَعْنِي رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عاشورہ کے دن روزہ رکھنے کے بیان میں
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عبیداللہ بن ابی یزید اس سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، حاجب ابن عمر، حضرت حکم بن اعرج سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس گیا اس حال میں کہ وہ زم زم (کے قریب) اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ مجھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں خبر دیجئے انہوں نے فرمایا کہ جب تو محرم کا چاند دیکھے تو تو گنتا رہ اور نویں تاریخ کے دن کی صبح روزے کی حالت میں کر۔ میں نے عرض کیا کہ کیا محمد ﷺ اسی طرح روزہ رکھتے تھے انہوں نے فرمایا ہاں !
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ عَنْ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ عَنْ الْحَکَمِ بْنِ الْأَعْرَجِ قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَهُ فِي زَمْزَمَ فَقُلْتُ لَهُ أَخْبِرْنِي عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلَالَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ وَأَصْبِحْ يَوْمَ التَّاسِعِ صَائِمًا قُلْتُ هَکَذَا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ قَالَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৫
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، معاویہ بن عمرو، حضرت حکم بن اعرج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس حال میں پوچھا کہ وہ زم زم کے پاس اپنی چادر سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا اس کے بعد اسی طرح حدیث مبارکہ ہے
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَمْرٍو حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ الْأَعْرَجِ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَائَهُ عِنْدَ زَمْزَمَ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَاجِبِ بْنِ عُمَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৬
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
حسن بن علی حلوانی، ابن ابی مریم، یحییٰ بن ایوب، اسماعیل بن امیہ، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کے دن روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! اس دن تو یہودی اور نصاری تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب آئندہ سال آئے گا تو ہم نویں تاریخ کا بھی روزہ رکھیں گے راوی نے کہا کہ ابھی آئندہ سال نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔
و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ بْنَ طَرِيفٍ الْمُرِّيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا حِينَ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَاشُورَائَ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَی فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا کَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ إِنْ شَائَ اللَّهُ صُمْنَا الْيَوْمَ التَّاسِعَ قَالَ فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّی تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৭
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ عاشورہ کے روزہ کس دن رکھا جائے؟
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، وکیع، ابن ابی ذئب، قاسم بن عباس، عبداللہ بن عمیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں آنے والے سال تک زندہ رہا تو میں نویں تاریخ کا بھی ضرور روزہ رکھوں گا اور ابوبکر کی روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا عاشورہ کے دن کا روزہ۔
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَيْرٍ لَعَلَّهُ قَالَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ بَقِيتُ إِلَی قَابِلٍ لَأَصُومَنَّ التَّاسِعَ وَفِي رِوَايَةِ أَبِي بَکْرٍ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ عَاشُورَائَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৮
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن کھانے سے رکا رہے۔
قتیبہ بن سعید، حاتم یعنی ابن اسماعیل، یزید ابن ابی عبید، حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو عاشورہ کے دن بھیجا اور اسے حکم فرمایا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ جس آدمی نے روزہ نہ رکھا ہو وہ روزہ رکھ لے اور جس نے کھالیا ہو تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے روزے کو رات تک پورا کرلے۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ يَوْمَ عَاشُورَائَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ مَنْ کَانَ لَمْ يَصُمْ فَلْيَصُمْ وَمَنْ کَانَ أَکَلَ فَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ إِلَی اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৬৯
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن کھانے سے رکا رہے۔
ابوبکر بن نافع، بشر بن مفضل بن لاحق، خالد بن ذکوان، حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشورہ کی صبح کو انصار کی اس بستی کی طرف جو مدینہ منورہ کے ارد گرد تھی یہ پیغام بھجوا دیا کہ جس آدمی نے صبح روزہ رکھا تو وہ اپنے روزے کو پورا کرلے اور جس نے صبح کو افطار کرلیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن روزہ پورا کرلے اس کے بعد ہم روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لئے روئی کی گڑیا بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلتے رہیں۔
و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ بْنِ لَاحِقٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَکْوَانَ عَنْ الرُّبَيِّعِ بِنْتِ مُعَوِّذِ بْنِ عَفْرَائَ قَالَتْ أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ عَاشُورَائَ إِلَی قُرَی الْأَنْصَارِ الَّتِي حَوْلَ الْمَدِينَةِ مَنْ کَانَ أَصْبَحَ صَائِمًا فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ وَمَنْ کَانَ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ فَکُنَّا بَعْدَ ذَلِکَ نَصُومُهُ وَنُصَوِّمُ صِبْيَانَنَا الصِّغَارَ مِنْهُمْ إِنْ شَائَ اللَّهُ وَنَذْهَبُ إِلَی الْمَسْجِدِ فَنَجْعَلُ لَهُمْ اللُّعْبَةَ مِنْ الْعِهْنِ فَإِذَا بَکَی أَحَدُهُمْ عَلَی الطَّعَامِ أَعْطَيْنَاهَا إِيَّاهُ عِنْدَ الْإِفْطَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭০
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس بات کے بیان میں کہ جس نے عاشورہ کے دن کھانا کھالیا ہو تو اسے چاہیے کہ باقی دن کھانے سے رکا رہے۔
یحییٰ بن یحیی، ابومعشر، عطار، حضرت خالد بن ذکوان کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بنت معوذ (رض) سے عاشورہ کے روزے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے انصار کی بستی میں اپنا نمائندہ بھیجا پھر آ کر بشر کی حدیث کی طرح روایت ذکر کی سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا کہ ہم ان بچوں کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے تاکہ وہ ان سے کھیلیں اور وہ ہمارے ساتھ مسجد میں جاتے تو جب وہ ہم سے کھانا مانگتے تو ہم انہیں وہ گڑیاں دے دیتے اور وہ ان سے کھیل میں لگ کر روزہ بھول جاتے یہاں تک کہ ان کا روزہ پورا ہوجاتا۔
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْعَطَّارُ عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَکْوَانَ قَالَ سَأَلْتُ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ مُعَوِّذٍ عَنْ صَوْمِ عَاشُورَائَ قَالَتْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُسُلَهُ فِي قُرَی الْأَنْصَارِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَنَصْنَعُ لَهُمْ اللُّعْبَةَ مِنْ الْعِهْنِ فَنَذْهَبُ بِهِ مَعَنَا فَإِذَا سَأَلُونَا الطَّعَامَ أَعْطَيْنَاهُمْ اللُّعْبَةَ تُلْهِيهِمْ حَتَّی يُتِمُّوا صَوْمَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭১
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدیں کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک ابن شہاب، حضرت ابوعبید مولیٰ بن ازہر سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں عید کے دن حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس موجود تھا تو آپ آئے اور نماز پڑھی پھر نماز سے فارغ ہو کر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا کہ یہ دو دن (ان دنوں میں) ہیں رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے (ان دنوں میں سے) ایک وہ دن کہ جس دن تم (مضان کے روزوں سے فارغ ہوکر) افطار کرتے ہو (عید الفطر) اور دوسرا وہ دن کہ جس میں تم اپنی قربانیوں کا گوشت کھاتے ہو (عینی عید الاضحیٰ ) ۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی ابْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ قَالَ شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَائَ فَصَلَّی ثُمَّ انْصَرَفَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ إِنَّ هَذَيْنِ يَوْمَانِ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِهِمَا يَوْمُ فِطْرِکُمْ مِنْ صِيَامِکُمْ وَالْآخَرُ يَوْمٌ تَأْکُلُونَ فِيهِ مِنْ نُسُکِکُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭২
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدیں کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، مالک، محمد بن یحییٰ بن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں کے روزوں سے منع فرمایا ایک قربانی کے دن اور دوسرا فطر (عید الفطر) کے دن۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَی وَيَوْمِ الْفِطْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৩
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں
قتیبہ بن سعید، جریر، عبدالملک، ابن عمیر، قزعہ، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ میں نے ایک حدیث سنی جو مجھے بڑی عجیب لگی قزعہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید (رض) سے کہا کہ کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے ؟ حضرت ابوسعید نے فرمایا کہ کیا میں رسول اللہ ﷺ پر وہ بات کہہ سکتا ہوں جس کو میں نے آپ سے نہ سنا ہو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ دو دنوں میں روزہ رکھنا درست نہیں ایک قربانی کے دن دوسرے رمضان (رمضان کے بعد) عیدالفطر کے دن۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ وَهُوَ ابْنُ عُمَيْرٍ عَنْ قَزَعَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ مِنْهُ حَدِيثًا فَأَعْجَبَنِي فَقُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَقُولُ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ أَسْمَعْ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا يَصْلُحُ الصِّيَامُ فِي يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْأَضْحَی وَيَوْمِ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ২৬৭৪
روزوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عیدین کے دنوں میں روزہ رکھنے کی حرمت کے بیان میں
ابوکامل جحدری، عبدالعزیز بن مختار، عمرو بن یحیی، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو دنوں کے روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک عید الفطر کے دن دوسرے عید الاضحی یعنی قربانی کے دن۔
و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَی عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ النَّحْرِ
tahqiq

তাহকীক: