আল মুসনাদুস সহীহ- ইমাম মুসলিম রহঃ (উর্দু)
المسند الصحيح لمسلم
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৬৭ টি
হাদীস নং: ১৭৩০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ہناد بن سری، ابواحوص، اشعث، مسروق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے عمل کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ ہمیشگی کو اگرچہ تھوڑا ہو پسند فرماتے تھے، انہوں نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ آپ ﷺ نماز کس وقت پڑھتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا جب مرغ کا چیخنا سنتے تو آپ ﷺ کھڑے ہوتے اور نماز پڑھتے۔
حَدَّثَنِي هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ أَشْعَثَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ عَمَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کَانَ يُحِبُّ الدَّائِمَ قَالَ قُلْتُ أَيَّ حِينٍ کَانَ يُصَلِّي فَقَالَتْ کَانَ إِذَا سَمِعَ الصَّارِخَ قَامَ فَصَلَّی
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ابوکریب، ابن بشر، مسعر، سعد بن ابراہیم، ابی سلمہ، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کے آخری حصہ میں اپنے گھر میں یا اپنے پاس سوتے ہوئے ہی پایا (یعنی آپ ﷺ تہجد کی نماز پڑھ کر سو جاتے) ۔
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا أَلْفَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّحَرُ الْأَعْلَی فِي بَيْتِي أَوْ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، نصر بن علی، ابن ابی عمر، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، ابونضر، ابوسلمہ، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ جب فجر کی دو رکعتیں پڑھ لیتے تو اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے باتیں فرماتے ورنہ لیٹ جاتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَإِنْ کُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ابن ابی عمر، سفیان، زیاد بن سعد، ابی عتاب، ابوسلمہ، حضرت عائشہ (رض) نبی ﷺ سے اسی حدیث کی طرح روایت نقل کرتی ہیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي عَتَّابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
زہیر بن حرب، جریر، اعمش، تمیم بن سلمہ، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ رات کی نماز پڑھ لیتے اور وتر پڑھنے لگتے تو مجھے فرماتے اے عائشہ اٹھو اور وتر پڑھو۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنْ اللَّيْلِ فَإِذَا أَوْتَرَ قَالَ قُومِي فَأَوْتِرِي يَا عَائِشَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، سلیمان بن بلال، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، قاسم بن محمد، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ رات کو نماز پڑھتے تھے اور وہ عائشہ (رض) آپ ﷺ کے سامنے لیٹی ہوتیں تو جب وتر پڑھنے باقی رہ جاتے تو آپ ﷺ ان کو جگا دیتے اور وہ وتر پڑھ لیتیں۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ وَهِيَ مُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ فَإِذَا بَقِيَ الْوِتْرُ أَيْقَظَهَا فَأَوْتَرَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
یحییٰ بن یحیی، سفیان بن عیینہ، ابویعفور، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، مسلم مسروق، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی یہاں تک کہ سحر کے وقت آپ ﷺ کے وتر کی نماز پہنچ گئی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ وَاسْمُهُ وَاقِدٌ وَلَقَبُهُ وَقْدَانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ کِلَاهُمَا عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی السَّحَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، وکیع، سفیان، ابی حصین، یحییٰ بن وثاب، مسروق، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وتر کی نماز رات کے ہر حصہ میں سے ابتدائی رات اور درمیانی رات اور رات کے آخر میں پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وتر (کی نماز) سحر کے وقت تک پہنچ گئی۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ وَثَّابٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَأَوْسَطِهِ وَآخِرِهِ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی السَّحَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
علی بن حجر، حسان قاضی، کرمان، سعید بن مسروق، ابی ضحی، مسروق، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھی یہاں تک کہ آپ ﷺ کی وتر کی نماز رات کے آخر تک پہنچ گئی۔
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ قَاضِي کِرْمَانَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُلَّ اللَّيْلِ قَدْ أَوْتَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْتَهَی وِتْرُهُ إِلَی آخِرِ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৩৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب آپ ﷺ سوئے رہتے یا کوئی تکلیف وغیرہ ہوتی تو آپ ﷺ تہجد کی نماز (دن کو پڑھتے)
محمد بن مثنی، محمد بن ابی عدی، سعید بن قتادہ، زرارہ سے روایت ہے کہ حضرت سعد بن ہشام بن عامر (رض) نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کا ارادہ کیا تو وہ مدینہ منورہ آگئے اور اپنی زمین وغیرہ بیچنے کا ارادہ کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ خرید سکیں اور مرتے دم تک روم والوں سے جہاد کریں تو جب وہ مدینہ منورہ میں آگئے اور مدینہ والوں میں سے کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے حضرت سعد کو اس طرح کرنے سے منع کیا اور ان کو بتایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کی حیاہ طیبہ میں چھ آدمیوں نے بھی اسی طرح کا ارادہ کیا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ نے انہیں بھی ایسا کرنے سے روک دیا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہارے لئے میری زندگی میں نمونہ نہیں ہے ؟ جب مدینہ والوں نے حضرت سعد (رض) سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اپنی اس بیوی سے رجوع کیا جس کو وہ طلاق دے چکے تھے اور اپنے اس رجوع کرنے پر لوگوں کو گواہ بنالیا پھر وہ حضرت ابن عباس (رض) کی طرف آئے تو ان سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں پوچھا تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ کیا میں تجھے وہ آدمی نہ بتاؤں جو زمین والوں میں سے سب سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں جانتا ہے ! حضرت سعد (رض) نے کہا وہ کون ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : حضرت عائشہ (رض) ، تو ان کی طرف جا اور ان سے پوچھ پھر اس کے بعد میرے پاس آ اور وہ جو جواب دیں مجھے بھی اس سے باخبر کرنا، حضرت سعد (رض) نے کہا کہ میں پھر حضرت عائشہ (رض) کی طرف چلا، حکیم بن افلح کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ مجھے حضرت عائشہ (رض) کی طرف لے کر چلو، وہ کہنے لگے کہ میں تجھے حضرت عائشہ (رض) کی طرف لے کر نہیں جاسکتا کیونکہ میں نے انہیں اس بات سے روکا تھا کہ وہ ان دو گروہوں (علی اور معاویہ) کے درمیان کچھ نہ کہیں تو انہوں نے نہ مانا اور چلی گئیں، حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ان پر قسم ڈالی تو وہ ہمارے ساتھ حضرت عائشہ (رض) کی طرف آنے کے لئے چل پڑے اور ہم نے اجازت طلب کی حضرت عائشہ (رض) نے ہمیں اجازت دی اور ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت عائشہ (رض) نے حکیم بن افلح کو پہنچان لیا اور فرمایا : کیا یہ حکیم ہیں ؟ حکیم کہنے لگے کہ جی ہاں ! حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : تیرے ساتھ کون ہے ؟ حکیم نے کہا کہ سعد بن ہشام ہیں، آپ نے فرمایا ہشام کون ہے ؟ حکیم نے کہا کہ عامر کا بیٹا، حضرت عائشہ (رض) نے عامر پر رحم کی دعا فرمائی اور اچھے کلمات کہے، حضرت قتادہ (رض) کہتے ہیں کہ عامر غزوہ احد میں شہید کر دئے گئے تھے، تو میں نے عرض کیا اے ام المومنین مجھے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں بتائیے ! حضرت عائشہ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے ؟ میں نے عرض کیا ہاں، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ اللہ کے نبی ﷺ کا اخلاق قرآن ہی تو تھا، حضرت سعد کہتے ہیں کہ میں نے ارادہ کیا کہ میں اٹھ کھڑا ہوجاؤں اور مرتے دم تک کسی سے کچھ نہ پوچھوں پھر مجھے خیال آیا تو میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے قیام کے بارے میں بتائیے، حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کیا تو نے (یَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ) نہیں پڑھی ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کی ابتداء ہی میں رات کے قیام کو فرض کردیا تھا تو اللہ کے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام (رض) نے ایک سال رات کو قیام فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخری حصہ کو بارہ مہینوں تک آسمان میں روک دیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آخر میں تخفیف نازل فرمائی تو پھر رات کا قیام فرض ہونے کے بعد نفل ہوگیا، حضرت سعد (رض) نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ اے ام المومنین مجھے رسول اللہ ﷺ کی نماز وتر کے بارے میں بتائیے ! تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ ہم آپ ﷺ کے لئے مسواک اور وضو کا پانی تیار رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات کو جب چاہتا بیدار کردیتا تو آپ ﷺ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور نو رکعات نماز پڑھتے ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ ﷺ اٹھتے اور سلام نہ پھیر تے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ ﷺ بیٹھتے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ ﷺ سلام پھیرتے سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے پھر آپ ﷺ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں، اے میرے بیٹے ! پھر جب اللہ کے نبی کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ ﷺ کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح کہ پہلے بیان کیا تو یہ نو رکعتیں ہوئیں اے میرے بیٹے ! اور اللہ کے نبی ﷺ جب بھی کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند فرماتے کہ اس پر دوام کیا جائے اور جب آپ ﷺ پر نیند کا غلبہ ہوتا یا کوئی درد وغیرہ ہوتی کہ جس کی وجہ سے رات کو قیام نہ ہوسکتا ہو تو آپ ﷺ دن کو بارہ رکعتیں پڑھتے اور مجھے نہیں معلوم کہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک ہی رات میں سارا قرآن مجید پڑھا ہو اور نہ ہی مجھے یہ معلوم ہے کہ آپ ﷺ نے پورا مہینہ روزے رکھے ہوں سوائے رمضان کے، حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ میں ابن عباس (رض) کی طرف گیا اور ان سے اس ساری حدیث کو بیان کیا تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ سیدہ عائشہ (رض) نے سچ فرمایا اور اگر میں ان کے پاس ہوتا یا ان کی خدمت میں حاضری دیتا تو میں یہ حدیث سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے بالمشافہ (براہ راست) سنتا، راوی کہتے ہیں کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ آپ ان کے پاس نہیں جاتے تو میں ان کی حدیث آپ کو بیان نہ کرتا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ فَأَرَادَ أَنْ يَبِيعَ عَقَارًا لَهُ بِهَا فَيَجْعَلَهُ فِي السِّلَاحِ وَالْکُرَاعِ وَيُجَاهِدَ الرُّومَ حَتَّی يَمُوتَ فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَقِيَ أُنَاسًا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَنَهَوْهُ عَنْ ذَلِکَ وَأَخْبَرُوهُ أَنَّ رَهْطًا سِتَّةً أَرَادُوا ذَلِکَ فِي حَيَاةِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَلَيْسَ لَکُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ فَلَمَّا حَدَّثُوهُ بِذَلِکَ رَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَقَدْ کَانَ طَلَّقَهَا وَأَشْهَدَ عَلَی رَجْعَتِهَا فَأَتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَسَأَلَهُ عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِوِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ عَائِشَةُ فَأْتِهَا فَاسْأَلْهَا ثُمَّ ائْتِنِي فَأَخْبِرْنِي بِرَدِّهَا عَلَيْکَ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهَا فَأَتَيْتُ عَلَی حَکِيمِ بْنِ أَفْلَحَ فَاسْتَلْحَقْتُهُ إِلَيْهَا فَقَالَ مَا أَنَا بِقَارِبِهَا لِأَنِّي نَهَيْتُهَا أَنْ تَقُولَ فِي هَاتَيْنِ الشِّيعَتَيْنِ شَيْئًا فَأَبَتْ فِيهِمَا إِلَّا مُضِيًّا قَالَ فَأَقْسَمْتُ عَلَيْهِ فَجَائَ فَانْطَلَقْنَا إِلَی عَائِشَةَ فَاسْتَأْذَنَّا عَلَيْهَا فَأَذِنَتْ لَنَا فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَحَکِيمٌ فَعَرَفَتْهُ فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَتْ مَنْ مَعَکَ قَالَ سَعْدُ بْنُ هِشَامٍ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ فَتَرَحَّمَتْ عَلَيْهِ وَقَالَتْ خَيْرًا قَالَ قَتَادَةُ وَکَانَ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلَی قَالَتْ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ الْقُرْآنَ قَالَ فَهَمَمْتُ أَنْ أَقُومَ وَلَا أَسْأَلَ أَحَدًا عَنْ شَيْئٍ حَتَّی أَمُوتَ ثُمَّ بَدَا لِي فَقُلْتُ أَنْبِئِينِي عَنْ قِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ أَلَسْتَ تَقْرَأُ يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ قُلْتُ بَلَی قَالَتْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ افْتَرَضَ قِيَامَ اللَّيْلِ فِي أَوَّلِ هَذِهِ السُّورَةِ فَقَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَوْلًا وَأَمْسَکَ اللَّهُ خَاتِمَتَهَا اثْنَيْ عَشَرَ شَهْرًا فِي السَّمَائِ حَتَّی أَنْزَلَ اللَّهُ فِي آخِرِ هَذِهِ السُّورَةِ التَّخْفِيفَ فَصَارَ قِيَامُ اللَّيْلِ تَطَوُّعًا بَعْدَ فَرِيضَةٍ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْبِئِينِي عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ کُنَّا نُعِدُّ لَهُ سِوَاکَهُ وَطَهُورَهُ فَيَبْعَثُهُ اللَّهُ مَا شَائَ أَنْ يَبْعَثَهُ مِنْ اللَّيْلِ فَيَتَسَوَّکُ وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي تِسْعَ رَکَعَاتٍ لَا يَجْلِسُ فِيهَا إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ فَيَذْکُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يَنْهَضُ وَلَا يُسَلِّمُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّ التَّاسِعَةَ ثُمَّ يَقْعُدُ فَيَذْکُرُ اللَّهَ وَيَحْمَدُهُ وَيَدْعُوهُ ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمًا يُسْمِعُنَا ثُمَّ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ وَهُوَ قَاعِدٌ وَتِلْکَ إِحْدَی عَشْرَةَ رَکْعَةً يَا بُنَيَّ فَلَمَّا سَنَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَهُ اللَّحْمُ أَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَصَنَعَ فِي الرَّکْعَتَيْنِ مِثْلَ صَنِيعِهِ الْأَوَّلِ فَتِلْکَ تِسْعٌ يَا بُنَيَّ وَکَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی صَلَاةً أَحَبَّ أَنْ يُدَاوِمَ عَلَيْهَا وَکَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً وَلَا أَعْلَمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ الْقُرْآنَ کُلَّهُ فِي لَيْلَةٍ وَلَا صَلَّی لَيْلَةً إِلَی الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَهْرًا کَامِلًا غَيْرَ رَمَضَانَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِهَا فَقَالَ صَدَقَتْ لَوْ کُنْتُ أَقْرَبُهَا أَوْ أَدْخُلُ عَلَيْهَا لَأَتَيْتُهَا حَتَّی تُشَافِهَنِي بِهِ قَالَ قُلْتُ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا حَدَّثْتُکَ حَدِيثَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪০
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
محمد بن مثنی، معاذ بن ہشام، قتادہ، زرارہ بن اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد (رض) بن ہشام (رض) نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پھر وہ اپنی جائیداد بیچنے کے لئے مدینہ منورہ کی طرف چلے گئے اس کے بعد آگے حدیث اسی طرح ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَی الْمَدِينَةِ لِيَبِيعَ عَقَارَهُ فَذَکَرَ نَحْوَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪১
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، سعید بن ابی عروبہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عباس (رض) کے پاس گیا اور ان سے وتر کے بارے میں پوچھا اور پوری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا کہ ہشام کون ہے ؟ میں نے عرض کیا ابن عامر، وہ کہنے لگیں وہ کتنے اچھے آدمی تھے یہ عامر غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ أَنَّهُ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ الْوِتْرِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَقَالَ فِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قُلْتُ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ عَامِرٌ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪২
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، قتادہ، زرارہ بن اوفی فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ہشام (رض) ان کے ہمسائے تھے انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اور سعید کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی، اس حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا کہ ہشام کون ہے ؟ وہ کہنے لگے کہ ابن عامر، حضرت عائشہ (رض) فرمانے لگیں کہ وہ کیا ہی اچھے آدمی تھے، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ احد میں شہید ہوئے تھے اور اس میں یہ بھی ہے کہ حکیم بن افلح نے کہا کہ اگر مجھے پتہ چل جاتا کہ تو ان کے پاس نہیں جاتا تو میں ان کی حدیث تیرے سامنے بیان نہ کرتا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ کَانَ جَارًا لَهُ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ سَعِيدٍ وَفِيهِ قَالَتْ مَنْ هِشَامٌ قَالَ ابْنُ عَامِرٍ قَالَتْ نِعْمَ الْمَرْئُ کَانَ أُصِيبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ وَفِيهِ فَقَالَ حَکِيمُ بْنُ أَفْلَحَ أَمَا إِنِّي لَوْ عَلِمْتُ أَنَّکَ لَا تَدْخُلُ عَلَيْهَا مَا أَنْبَأْتُکَ بِحَدِيثِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৩
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابی عوانہ، قتادہ، زرارہ بن اوفی، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی رات کی نماز کسی درد یا کسی اور وجہ سے فوت ہوجاتی تو آپ ﷺ دن میں بارہ رکعات پڑھ لیتے۔
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مِنْ اللَّيْلِ مِنْ وَجَعٍ أَوْ غَيْرِهِ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৪
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
علی بن خشرم، عیسی، ابن یونس، شعبہ، قتادہ، زرارہ ابن اوفی، سعد بن ہشام انصاری، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بھی کوئی کام کرتے تو اس پر دوام فرماتے اور جب رات کو سو جاتے یا بیمار ہوتے تو دن میں بارہ رکعات نماز پڑھ لیتے تھے، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ ﷺ ساری رات بیدار رہے ہوں اور نہ ہی رمضان کے علاوہ پورا مہینہ رو زے رکھے ہوں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ أَخْبَرَنَا عِيسَی وَهُوَ ابْنُ يُونُسَ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلًا أَثْبَتَهُ وَکَانَ إِذَا نَامَ مِنْ اللَّيْلِ أَوْ مَرِضَ صَلَّی مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَکْعَةً قَالَتْ وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّی الصَّبَاحِ وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلَّا رَمَضَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৫
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز (تہجد) اور نبی ﷺ کی رات کی نماز کی رکعتوں کی تعداد اور وتر پڑھنے کے بیان میں
ہارون بن معروف، عبداللہ بن وہب، ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سائب بن یزید، عبیداللہ بن عبدللہ، عبدالرحمن، بن عبدالقاری، حضرت عمر بن خطاب فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی وظیفہ سے یا اس میں سے کسی عمل سے سو جائے تو فجر کی نماز اور ظہر کی نماز کے درمیان کرلے تو اس کے لئے اس طرح لکھ دیا جاتا ہے گویا کہ اس نے رات کو ہی پڑھ لیا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَاهُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْئٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ کُتِبَ لَهُ کَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنْ اللَّيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৬
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة الاوابین چاشت کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں
زہیر بن حرب، ابن نمیر، اسماعیل ابن علیہ، ایوب، قاسم شیبانی فرماتے ہیں کہ حضرت زید (رض) بن ارقم (رض) نے ایک جماعت کو دیکھا کہ وہ لوگ چاشت کی نماز پڑھ رہے ہیں انہوں نے فرمایا کہ لوگوں کو اچھی طرح علم ہے کہ نماز اس وقت کے علاوہ میں افضل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ اس وقت ہے جس وقت اونٹ کے بچوں کے پیر گرم ہوجائیں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ الشَّيْبَانِيِّ أَنَّ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ رَأَی قَوْمًا يُصَلُّونَ مِنْ الضُّحَی فَقَالَ أَمَا لَقَدْ عَلِمُوا أَنَّ الصَّلَاةَ فِي غَيْرِ هَذِهِ السَّاعَةِ أَفْضَلُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ حِينَ تَرْمَضُ الْفِصَالُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৭
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ صلوة الاوابین چاشت کی نماز کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں کے پاؤں جلنے لگیں
زہیر بن حرب، یحییٰ بن سعید، ہشام بن ابی عبداللہ، قاسم شیبانی، زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبا والوں کی طرف نکلے کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ کا وقت اس وقت ہے کہ جب اونٹ کے بچوں کے پیر جلنے لگ جائیں۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ الشَّيْبَانِيُّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی أَهْلِ قُبَائَ وَهُمْ يُصَلُّونَ فَقَالَ صَلَاةُ الْأَوَّابِينَ إِذَا رَمِضَتْ الْفِصَالُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৮
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر ایک رکعت رات کے آخری حصہ میں ہے
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، عبداللہ بن دینار، ابن عمر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں ہیں تو جب تم میں سے کسی آدمی کو صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت اور پڑھ لے اس ساری نماز کو جو اس نے پڑھی ہے طاق کر دے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَی مَثْنَی فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُکُمْ الصُّبْحَ صَلَّی رَکْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّی
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৭৪৯
مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام کا بیان
পরিচ্ছেদঃ رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور وتر ایک رکعت رات کے آخری حصہ میں ہے
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، زہری، سالم روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو رکعتیں ہے جب صبح ہونے کا ڈر ہو تو ایک رکعت پڑھ کر آخری دو رکعتوں کو وتر (طاق) بنا لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ مَثْنَی مَثْنَی فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِرَکْعَةٍ
তাহকীক: