আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৮ টি

হাদীস নং: ৭৩৫৩
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کے خلاف دلیل جو اس کا قائل ہے کہ نبی ﷺ کے تمام احکام ظاہر تھے (تمام صحابہ کو معلوم تھے) اور اس کا بیان کہ بعض صحابی آنحضرت ﷺ کے پاس سے غائب اور اسلام کے امور سے غائب اور بے خبر رہتے تھے
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے، ان سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اشعری (رض) نے عمر (رض) سے (ملنے کی) اجازت چاہی اور یہ دیکھ کر کہ عمر (رض) مشغول ہیں آپ جلدی سے واپس چلے گئے۔ پھر عمر (رض) نے کہا کہ کیا میں نے ابھی عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی ؟ انہیں بلا لو۔ چناچہ انہیں بلایا گیا تو عمر (رض) نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا ؟ (جلدی واپس ہوگئے) انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے۔ عمر (رض) نے کہا کہ اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ، ورنہ میں تمہارے ساتھ یہ (سختی) کروں گا۔ چناچہ ابوموسیٰ (رض) انصار کی ایک مجلس میں گئے انہوں نے کہا کہ اس کی گواہی ہم میں سب سے چھوٹا دے سکتا ہے۔ چناچہ ابوسعید خدری (رض) کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمیں دربار نبوی سے اس کا حکم دیا جاتا تھا۔ اس پر عمر (رض) نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ حکم مجھے معلوم نہیں تھا، مجھے بازار کے کاموں خریدو فروخت نے اس حدیث سے غافل رکھا۔
حدیث نمبر: 7353 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَطَاءٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَأْذَنَ أَبُو مُوسَى عَلَى عُمَرَ فَكَأَنَّهُ وَجَدَهُ مَشْغُولًا، ‏‏‏‏‏‏فَرَجَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَال عُمَرُ:‏‏‏‏ أَلَمْ أَسْمَعْ صَوْتَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ ائْذَنُوا لَهُ فَدُعِيَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّا كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأْتِنِي عَلَى هَذَا بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَفْعَلَنَّ بِكَ، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالُوا:‏‏‏‏ لَا يَشْهَدُ إِلَّا أَصَاغِرُنَا فَقَامَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ كُنَّا نُؤْمَرُ بِهَذَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ خَفِيَ عَلَيَّ هَذَا مِنْ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْهَانِي الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৪
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کے خلاف دلیل جو اس کا قائل ہے کہ نبی ﷺ کے تمام احکام ظاہر تھے (تمام صحابہ کو معلوم تھے) اور اس کا بیان کہ بعض صحابی آنحضرت ﷺ کے پاس سے غائب اور اسلام کے امور سے غائب اور بے خبر رہتے تھے
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا، مجھ سے زہری نے، انہوں نے اعرج سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوہریرہ (رض) نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ کی بات زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں، اللہ کے حضور میں سب کو جانا ہے۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجرین کو بازار کے کاروبار مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنے مالوں کی دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی۔ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا، یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کرلوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے۔ چناچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی، پھیلا دی اور اس ذات کی قسم جس نے نبی کریم ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا تھا پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی، نہیں بھولا۔
حدیث نمبر: 7354 حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنَ الْأَعْرَجِ ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمُ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ، ‏‏‏‏‏‏فَشَهِدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَقْبِضْهُ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي، ‏‏‏‏‏‏فَبَسَطْتُ بُرْدَةً كَانَتْ عَلَيَّ، ‏‏‏‏‏‏فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৫
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جس نے خیال کیا کہ نبی ﷺ کا انکار نہ کرنا حجت ہے۔ اور آپ کے علاوہ کسی کا عدم انکار حجت نہیں ہے
ہم سے حماد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے، کہا ہم سے ہمارے والد معاذ بن حسان نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) کو دیکھا کہ وہ ابن صیاد کے واقعہ پر اللہ کی قسم کھاتے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اللہ کی قسم کھاتے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر (رض) کو نبی کریم ﷺ کے سامنے اللہ کی قسم کھاتے دیکھا اور نبی کریم ﷺ نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا۔
حدیث نمبر: 7355 حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ الصَّائِدِ الدَّجَّالُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ:‏‏‏‏ تَحْلِفُ بِاللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৬
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان احکام کا بیان جو دلائل کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیوں کر ہے اور نبی ﷺ نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان فرمائے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے آیت"فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ"(جس نے ذرہ برابر نیکی کی تو وہ اس کو دیکھے گا) پڑھ کر بتائی۔ اور نبی ﷺ سے گوہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کہتا ہوں اور نبی ﷺ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اس سے حضرت ابن عباس نے یہ استدلال کیا کہ گوہ حرام ہے
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے زید بن اسلم نے، ان سے ابی صالح السمان نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں۔ ایک شخص کے لیے ان کا رکھنا کار ثواب ہے، دوسرے کے لیے برابر برابر نہ عذاب نہ ثواب اور تیسرے کے لیے وبال جان ہیں۔ جس کے لیے وہ اجر ہیں یہ وہ شخص ہے جس نے اسے اللہ کے راستے کے لیے باندھ کر رکھا اور اس کی رسی چراہ گاہ میں دراز کردی تو وہ گھوڑا جتنی دور تک چراہ گاہ میں گھوم کر چرے گا وہ مالک کی نیکیوں میں ترقی کا ذریعہ ہوگا اور اگر گھوڑے نے اس دراز رسی کو بھی تڑوا لیا اور ایک یا دو دوڑ اس نے لگائی تو اس کے نشانات قدم اور اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث اجر و ثواب ہوگی اور اگر گھوڑا کسی نہر سے گزرا اور اس نے نہر کا پانی پی لیا، مالک نے اسے پلانے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا تب بھی مالک کے لیے یہ اجر کا باعث ہوگا اور ایسا گھوڑا اپنے مالک کے لیے ثواب ہوتا ہے اور دوسرا شخص برابر برابر والا ہوتا ہے جو گھوڑے کو اظہار بےنیازی یا اپنے بچاؤ کی غرض سے باندھتا ہے اور اس کی پشت اور گردن پر اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا تو یہ گھوڑا اس کے لیے نہ عذاب ہے نہ ثواب اور تیسرا وہ شخص ہے جو گھوڑے کو فخر اور ریا کے لیے باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ ﷺ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں مجھ پر اس جامع اور نادر آیت کے سوا اور کچھ نہیں نازل فرمایا ہے فمن يعمل مثقال ذرة خيرا يره * ومن يعمل مثقال ذرة شرا يره‏ پس جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھے گا اور جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھے گا۔
حدیث نمبر: 7356 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ الْخَيْلُ لِثَلَاثَةٍ:‏‏‏‏ لِرَجُلٍ أَجْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلَى رَجُلٍ وِزْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا الَّذِي لَهُ أَجْرٌ فَرَجُلٌ رَبَطَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَطَالَ لَهَا فِي مَرْجٍ أَوْ رَوْضَةٍ فَمَا أَصَابَتْ فِي طِيَلِهَا ذَلِكَ مِنَ الْمَرْجِ أَوِ الرَّوْضَةِ كَانَ لَهُ حَسَنَاتٍ وَلَوْ أَنَّهَا قَطَعَتْ طِيَلَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَنَّتْ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ كَانَتْ آثَارُهَا وَأَرْوَاثُهَا حَسَنَاتٍ لَهُ وَلَوْ أَنَّهَا مَرَّتْ بِنَهَرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَشَرِبَتْ مِنْهُ وَلَمْ يُرِدْ أَنْ يَسْقِيَ بِهِ كَانَ ذَلِكَ حَسَنَاتٍ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَهِيَ لِذَلِكَ الرَّجُلِ أَجْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا تَغَنِّيًا وَتَعَفُّفًا وَلَمْ يَنْسَ حَقَّ اللَّهِ فِي رِقَابِهَا وَلَا ظُهُورِهَا فَهِيَ لَهُ سِتْرٌ وَرَجُلٌ رَبَطَهَا فَخْرًا وَرِيَاءً فَهِيَ عَلَى ذَلِكَ وِزْرٌ، ‏‏‏‏‏‏وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحُمُرِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيَّ فِيهَا إِلَّا هَذِهِ الْآيَةَ الْفَاذَّةَ الْجَامِعَةَ فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ‏‏‏‏ 7 ‏‏‏‏ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ‏‏‏‏ 8 ‏‏‏‏ سورة الزلزلة آية 7-8.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৭
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان احکام کا بیان جو دلائل کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیوں کر ہے اور نبی ﷺ نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان فرمائے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے آیت"فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ"(جس نے ذرہ برابر نیکی کی تو وہ اس کو دیکھے گا) پڑھ کر بتائی۔ اور نبی ﷺ سے گوہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کہتا ہوں اور نبی ﷺ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اس سے حضرت ابن عباس نے یہ استدلال کیا کہ گوہ حرام ہے
ہم سے یحییٰ بن جعفر بیکندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے منصور بن صفیہ نے، ان سے کی والدہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ ایک خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا اور ہم سے محمد نے بیان کیا یعنی ابن عقبہ نے، کہا ہم سے فضیل بن سلیمان النمیری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے غسل کس طرح کیا جائے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مشک لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر۔ اس عورت نے پوچھا : یا رسول اللہ ! میں اس سے پاکی کس طرح حاصل کروں گی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کرو۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ کس طرح پاکی حاصل کروں ؟ نبی کریم ﷺ نے پھر وہی جواب دیا کہ پاکی حاصل کرو۔ عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کا منشا سمجھ گئی اور اس عورت کو میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور انہیں طریقہ بتایا کہ پاکی سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس کپڑے کو خون کے مقاموں پر پھیر تاکہ خون کی بدبو رفع ہوجائے۔
حدیث نمبر: 7357 حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أُمِّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عُقْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّمَيْرِيُّ الْبَصْرِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ابْنُ شَيْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَتْنِي أُمِّي ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَيْضِ كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنْهُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ تَأْخُذِينَ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، ‏‏‏‏‏‏فَتَوَضَّئِينَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَوَضَّئِي، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَيْفَ أَتَوَضَّأُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَوَضَّئِينَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ عَائِشَةُ:‏‏‏‏ فَعَرَفْتُ الَّذِي يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَعَلَّمْتُهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৮
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان احکام کا بیان جو دلائل کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیوں کر ہے اور نبی ﷺ نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان فرمائے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے آیت"فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ"(جس نے ذرہ برابر نیکی کی تو وہ اس کو دیکھے گا) پڑھ کر بتائی۔ اور نبی ﷺ سے گوہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کہتا ہوں اور نبی ﷺ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اس سے حضرت ابن عباس نے یہ استدلال کیا کہ گوہ حرام ہے
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے ابوبشر نے، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے کہ ام حفید بنت حارث بن حزن (رض) نے رسول اللہ ﷺ کو گھی اور پنیر اور بھنا ہوا سانڈا ہدیہ میں بھیجا نبی کریم ﷺ نے یہ چیزیں قبول فرما لیں اور آپ کے دستر خوان پر انہیں کھایا گیا لیکن نبی کریم ﷺ نے اس (سانڈے کو) ہاتھ نہیں لگایا، جیسے آپ کو پسند نہ ہو اور اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دستر خوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کھانے کے لیے کہتے۔
حدیث نمبر: 7358 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أُمَّ حُفَيْدٍ بِنْتَ الْحَارِثِ بْنِ حَزْنٍ أَهْدَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، ‏‏‏‏‏‏فَدَعَا بِهِنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَأُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَرَكَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَالْمُتَقَذِّرِ لَهُنَّ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْ كُنَّ حَرَامًا مَا أُكِلْنَ عَلَى مَائِدَتِهِ وَلَا أَمَرَ بِأَكْلِهِنَّ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৫৯
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان احکام کا بیان جو دلائل کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیوں کر ہے اور نبی ﷺ نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان فرمائے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے آیت"فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ"(جس نے ذرہ برابر نیکی کی تو وہ اس کو دیکھے گا) پڑھ کر بتائی۔ اور نبی ﷺ سے گوہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کہتا ہوں اور نبی ﷺ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اس سے حضرت ابن عباس نے یہ استدلال کیا کہ گوہ حرام ہے
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا مجھے یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں جابر بن عبداللہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص کچی لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا (یہ فرمایا کہ) ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے (یہاں تک کہ وہ بو رفع ہوجائے) اور آپ کے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں سبزیاں تھیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس میں بو محسوس کی، پھر آپ کو اس میں رکھی ہوئی سبزیوں کے متعلق بتایا گیا تو آپ نے اپنے بعض صحابی کی طرف جو آپ کے ساتھ تھے اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کے پاس لے جاؤ لیکن جب ان صحابی نے اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانا پسند نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر ان سے فرمایا کہ تم کھالو کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے۔ (آپ کی مراد فرشتوں سے تھی) سعید بن کثیر بن عفیر نے جو امام بخاری (رح) کے شیخ ہیں، عبداللہ بن وہب سے اس حدیث میں یوں روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں اور لیث و ابوصفوان عبداللہ بن سعید اموی نے بھی اس حدیث کو یونس سے روایت کیا لیکن انہوں نے ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا، اب میں نہیں جانتا کہ ہانڈی کا قصہ حدیث میں داخل ہے یا زہری نے بڑھا دیا ہے۔
حدیث نمبر: 7359 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا فَلْيَعْتَزِلْنَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ ابْنُ وَهْبٍ:‏‏‏‏ يَعْنِي:‏‏‏‏ طَبَقًا فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنْ بُقُولٍ، ‏‏‏‏‏‏فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلَ عَنْهَا ؟، ‏‏‏‏‏‏فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَرِّبُوهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَرَّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ ابْنُ عُفَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ وَهْبٍ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ وَلَمْ يَذْكُرِ اللَّيْثُ وَأَبُو صَفْوَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَقِصَّةَ الْقِدْرِ فَلَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ أَوْ فِي الْحَدِيثِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬০
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ان احکام کا بیان جو دلائل کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ اور دلالت کے معنی اور اس کی تفسیر کیوں کر ہے اور نبی ﷺ نے گھوڑے وغیرہ کے احکام بیان فرمائے پھر آپ سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے آیت"فمن یعمل مثقال ذرۃ خیرایرہ"(جس نے ذرہ برابر نیکی کی تو وہ اس کو دیکھے گا) پڑھ کر بتائی۔ اور نبی ﷺ سے گوہ کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ نہ میں اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس کو حرام کہتا ہوں اور نبی ﷺ کے دستر خوان پر گوہ کھائی گئی اس سے حضرت ابن عباس نے یہ استدلال کیا کہ گوہ حرام ہے
مجھ سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد اور چچا نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے، انہیں محمد بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ان کے والد جبیر بن مطعم (رض) نے خبر دی کہ ایک خاتون رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو نبی کریم ﷺ نے انہیں ایک حکم دیا۔ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں تو پھر کیا کروں گی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب مجھے نہ پانا تو ابوبکر (رض) کے پاس جانا۔ حمیدی نے ابراہیم بن سعد سے یہ اضافہ کیا کہ غالباً خاتون کی مراد وفات تھی۔ امام بخاری (رح) نے کہا کہ حمیدی نے اس روایت میں ابراہیم بن سعد سے اتنا بڑھایا ہے کہ آپ کو نہ پاؤں، اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی وفات ہوجائے۔
حدیث نمبر: 7360 حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَمِّي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَاهُ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنْ لَمْ أَجِدْكَ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَأْتِي أَبَا بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏زَادَ لَنَا الْحُمَيْدِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ كَأَنَّهَا تَعْنِي الْمَوْتَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬১
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
وہ مدینے میں قریش کی ایک جماعت سے حدیث بیان کر رہے تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا جتنے لوگ اہل کتاب سے احادیث نقل کرتے ہیں ان سب میں کعب احبار بہت سچے تھے اور باوجود اس کے کبھی کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی، یہ مطلب نہیں ہے کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے۔
وَقَالَ أَبُو الْيَمَانِ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ رَهْطًا مِنْ قُرَيْشٍ بِالْمَدِينَةِ وَذَكَرَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنْ كَانَ مِنْ أَصْدَقِ هَؤُلَاءِ الْمُحَدِّثِينَ الَّذِينَ يُحَدِّثُونَ عَنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَإِنْ كُنَّا مَعَ ذَلِكَ لَنَبْلُو عَلَيْهِ الْكَذِبَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬২
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمانا کہ اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق نہ پوچھو۔ اور ابوالیمان نے بواسطہ شعیب زہری، حمید بن عبدالرحمن نقل کیا ہے حمید نے معاویہ کو قریش کے کچھ لوگوں سے جو مدینہ میں تھے روایت کرتے ہوئے سنا اور کعب احبار کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ان محدثین میں سب سے زیادہ سچے تھے جو اہل کتاب سے روایت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ہم ان کی روایت میں غلط بات پاتے تھے (اس لئے نہیں کہ وہ قصدا جھوٹ بولتے تھے بلکہ کتاب کی تحریف کے سبب سے ان میں غلط روایتیں شامل کردی گئی تھیں۔)
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو علی بن المبارک نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہوا اور جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوا آخر آیت تک جو سورة البقرہ میں ہے۔
حدیث نمبر: 7362 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ بِالْعِبْرَانِيَّةِ وَيُفَسِّرُونَهَا بِالْعَرَبِيَّةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا تُصَدِّقُوا أَهْلَ الْكِتَابِ وَلَا تُكَذِّبُوهُمْ وَقُولُوا:‏‏‏‏ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৩
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا فرمانا کہ اہل کتاب سے کسی چیز کے متعلق نہ پوچھو۔ اور ابوالیمان نے بواسطہ شعیب زہری، حمید بن عبدالرحمن نقل کیا ہے حمید نے معاویہ کو قریش کے کچھ لوگوں سے جو مدینہ میں تھے روایت کرتے ہوئے سنا اور کعب احبار کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ ان محدثین میں سب سے زیادہ سچے تھے جو اہل کتاب سے روایت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود ہم ان کی روایت میں غلط بات پاتے تھے (اس لئے نہیں کہ وہ قصدا جھوٹ بولتے تھے بلکہ کتاب کی تحریف کے سبب سے ان میں غلط روایتیں شامل کردی گئی تھیں۔)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے بیان کیا کہ تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کردی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں۔ تمہارے پاس (قرآن و حدیث کا) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے۔ واللہ ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 7363 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَسْأَلُونَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَنْ شَيْءٍ وَكِتَابُكُمُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثُ تَقْرَءُونَهُ مَحْضًا لَمْ يُشَبْ ؟ وَقَدْ حَدَّثَكُمْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ بَدَّلُوا كِتَابَ اللَّهِ وَغَيَّرُوهُ وَكَتَبُوا بِأَيْدِيهِمُ الْكِتَابَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالُوا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلا سورة البقرة آية 79 أَلَا يَنْهَاكُمْ مَا جَاءَكُمْ مِنَ الْعِلْمِ عَنْ مَسْأَلَتِهِمْ ؟ لَا وَاللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِنْهُمْ رَجُلًا يَسْأَلُكُمْ عَنِ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَيْكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৪
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا کے مکروہ ہونے کا بیان
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی، انہیں سلام بن ابی مطیع نے، انہیں ابوعمران الجونی نے، ان سے جندب بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تمہارے دل ملے رہیں قرآن پڑھو اور جب تم میں اختلاف ہوجائے تو اس سے دور ہوجاؤ۔
حدیث نمبر: 7364 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي مُطِيعٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ سَلَّامًا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৫
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا کے مکروہ ہونے کا بیان
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ بصریٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تک تمہارے دلوں میں اتحاد و اتفاق ہو قرآن پڑھو اور جب اختلاف ہوجائے تو اس سے دور ہوجاؤ۔ اور یزید بن ہارون واسطی نے ہارون اعور سے بیان کیا، ان سے ابوعمران نے بیان کیا، ان سے جندب (رض) نے نبی کریم ﷺ سے بیان کیا۔
حدیث نمبر: 7365 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا ائْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا اخْتَلَفْتُمْ فَقُومُوا عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هَارُونَ الْأَعْوَرِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جُنْدَبٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৬
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا کے مکروہ ہونے کا بیان
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، انہیں معمر نے، انہیں زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ جب نبی کریم ﷺ کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں بہت سے صحابہ موجود تھے، جن میں عمر بن خطاب (رض) بھی تھے اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ عمر (رض) نے کہا کہ اس وقت آپ ﷺ نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو۔ عمر (رض) نے کہا نبی کریم ﷺ تکلیف میں مبتلا ہیں، تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے اور یہی ہمارے لیے کافی ہے۔ گھر کے لوگوں میں بھی اختلاف ہوگیا اور آپس میں بحث کرنے لگے۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے قریب (لکھنے کا سامان) کر دو ۔ وہ تمہارے لیے ایسی چیز لکھ دیں گے کہ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے اور بعض نے وہی بات کہی جو عمر (رض) کہہ چکے تھے۔ جب نبی کریم ﷺ کے پاس لوگ اختلاف و بحث زیادہ کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ۔ عبیداللہ (رض) نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) کہا کرتے تھے کہ سب سے بھاری مصیبت تو وہ تھے جو رسول اللہ ﷺ اور اس نوشت لکھوانے کے درمیان حائل ہوئے، یعنی جھگڑا اور شور۔
حدیث نمبر: 7366 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مَعْمَرٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا حُضِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلُمَّ أَكْتُبْ لَكُمْ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُمَرُ:‏‏‏‏ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَلَبَهُ الْوَجَعُ وَعِنْدَكُمُ الْقُرْآنُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَسْبُنَا كِتَابُ اللَّهِ وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْبَيْتِ وَاخْتَصَمُوا، ‏‏‏‏‏‏فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ:‏‏‏‏ قَرِّبُوا يَكْتُبْ لَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ:‏‏‏‏ مَا قَالَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا أَكْثَرُوا اللَّغَطَ وَالِاخْتِلَافَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُومُوا عَنِّي، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ:‏‏‏‏ فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ إِنَّ الرَّزِيَّةَ كُلَّ الرَّزِيَّةِ مَا حَالَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمْ ذَلِكَ الْكِتَابَ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ وَلَغَطِهِمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৭
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امر کا بیان کہ نبی ﷺ کا منع فرمانا تحریم کا سبب ہے بجز اس کے جس کا مباح ہونا معلوم ہو۔ اور یہی حال آپ کے امر کا بھی ہے جیسے لوگوں کو جبکہ وہ حج سے فارغ ہوگئے آپ کا یہ فرمانا کہ اپنی بیویوں کے پاس جاؤ، جابر نے کہا آپ نے صحبت کو ان لوگوں پر فرض نہیں کیا بلکہ ان لوگوں کے لئے حلال کردیا اور ام عطیہ نے کہا کہ ہم عورتوں کو جنازے کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا لیکن حرام نہیں کیا گیا۔
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عطاء نے بیان کیا، ان سے جابر (رض) نے (دوسری سند) امام ابوعبداللہ بخاری (رح) نے کہا کہ محمد بن بکر برقی نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر (رض) سے سنا، اس وقت اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا اس کے ساتھ عمرہ کا نہیں باندھا۔ عطاء نے بیان کیا کہ جابر (رض) نے کہا کہ پھر نبی کریم ﷺ 4 ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہوجائیں اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ حلال ہوجاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔ عطاء نے بیان کیا اور ان سے جابر (رض) نے کہ ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا، پھر نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور پھر بھی نبی کریم ﷺ نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے، کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔ عطاء نے کہا کہ جابر (رض) نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو، اس کو ہلایا۔ پھر نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا، تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میرے پاس ہدی (قربانی کا جانور) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا، پس تم بھی حلال ہوجاؤ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے سے معلوم ہوجاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا۔ چناچہ ہم حلال ہوگئے اور ہم نے نبی کریم ﷺ کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی۔
حدیث نمبر: 7367 حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَابِرٌ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ البُرْسَانِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ عُمْرَةٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ:‏‏‏‏ قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحِلَّ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ أَحِلُّوا وَأَصِيبُوا مِنَ النِّسَاءِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ عَطَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَابِرٌ:‏‏‏‏ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَكِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَبَلَغَهُ أَنَّا نَقُولُ:‏‏‏‏ لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْن عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ إِلَى نِسَائِنَا، ‏‏‏‏‏‏فَنَأْتِي عَرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاكِيرُنَا الْمَذْيَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَيَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ هَكَذَا وَحَرَّكَهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاكُمْ لِلَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَصْدَقُكُمْ وَأَبَرُّكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ كَمَا تَحِلُّونَ، ‏‏‏‏‏‏فَحِلُّوا، ‏‏‏‏‏‏فَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৮
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امر کا بیان کہ نبی ﷺ کا منع فرمانا تحریم کا سبب ہے بجز اس کے جس کا مباح ہونا معلوم ہو۔ اور یہی حال آپ کے امر کا بھی ہے جیسے لوگوں کو جبکہ وہ حج سے فارغ ہوگئے آپ کا یہ فرمانا کہ اپنی بیویوں کے پاس جاؤ، جابر نے کہا آپ نے صحبت کو ان لوگوں پر فرض نہیں کیا بلکہ ان لوگوں کے لئے حلال کردیا اور ام عطیہ نے کہا کہ ہم عورتوں کو جنازے کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا لیکن حرام نہیں کیا گیا۔
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا، ان سے حسین بن ذکوان معلم نے، ان سے عبیداللہ بن بریدہ نے، کہا مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مغرب کی نماز سے پہلے بھی نماز پڑھو اور تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ ﷺ پسند نہیں کرتے تھے کہ اسے لوگ لازمی سنت بنالیں۔
حدیث نمبر: 7368 حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحُسَيْنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلُّوا قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُنَّةً.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৬৯
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے پاتے ہیں، اور ہر کام میں ان لوگوں سے مشورہ لو، اور اس امر کا بیان کہ مشورہ عزم سے پہلے ہے اور اصل حال ظاہر ہونے سے پہلے ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب آپ عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں، جب رسول اللہ ﷺ عزم کرلیں تو کسی بشر کو یہ حق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف کرے اور نبی ﷺ نے جنگ کے دن اپنے صحابہ سے مدینہ میں ٹھہر کر جنگ کرنے اور نکل کر جنگ کرنے کے متعلق مشورہ کیا، لوگوں نے نکل کر ہی جنگ کرنے کو مناسب خیال کیا، جب آپ نے اپنی زرہ پہن لی اور ارادہ کرلیا تو لوگوں نے کہا کہ مدینہ میں ٹھہرنا ہی مناسب ہے، لیکن آپ نے عزم کرلینے کے بعد ان کی طرف توجہ نہ کی اور فرمایا کہ کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ زرہ پہن کر اتار دے جب تک کہ اللہ تعالیٰ حکم نہ دیں اور آپ نے علی اور اسامہ (رض) سے عائشہ (رض) پر تہمت لگائے اجنے کے سلسلہ میں مشورہ کیا اور ان کی باتیں آپ نے سنیں یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا تو آپ نے تہمت لگانے والوں کو کوڑے لگوائے اور ان کے اختلاف کی طرف متوجہ نہ ہوئے، بلکہ وہی فیصلہ کیا جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا اور نبی ﷺ کے بعد ائمہ (خلفاء) ایماندار اہل علم سے مباح امور میں مشورہ لیتے تھے تاکہ ان میں جو آسان ہو اسے اختیار کریں اور اگر کتاب یا سنت اس کو واضح کردیتی تو نبی ﷺ کی اقتداء کرتے ہوئے دوسروں کی طرف متوجہ نہ ہوتے، اور حضرت ابوبکر (رض) نے ان لوگوں سے جہاد کا ارادہ کیا جنہوں نے زکوٰۃ روک دی تھی، تو عمر (رض) نے کہا کہ آپ کیونکر جہاد کریں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، جب وہ لوگ لا الہ الا اللہ کہہ دیں تو ان لوگوں نے ہم سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کرلیا، سوائے حق اسلام کے، تو حضرت ابوبکر (رض) نے کہا خدا کی قسم میں اس سے جہاد کروں گا جس نے اس چیز کے درمیان تفریق کی جس کو رسول اللہ ﷺ نے جمع کیا ہے، پھر عمر (رض) بھی ان کے ہم خیال ہوگئے، ابوبکر مشورہ کی طرف متوجہ نہیں ہوئے اس لئے کہ ان کے پاس ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا اور دین اور اس کے احکام کو بدلنا چاہا رسول اللہ ﷺ کا حکم موجود تھا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنا دین بدل ڈالا تو اس کو قتل کردو اور قراء خواہ وہ بوڑھے تھے یا جوان، حضرت عمر (رض) کے مشیر تھے اور اللہ بزرگ و برتر کی کتاب (کے حکم) کے نزدیک وہ لوگ رک جانے والے تھے۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے، ان سے صالح بن کیسان نے، ان سے ابن شہاب نے، کہا کہ مجھ سے عروہ بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ (رض) نے کہ جب تہمت لگانے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے علی بن ابی طالب، اسامہ بن زید (رض) کو بلایا کیونکہ اس معاملہ میں وحی اس وقت تک نہیں آئی تھی اور نبی کریم ﷺ اپنی اہل خانہ کو جدا کرنے کے سلسلہ میں ان سے مشورہ لینا چاہتے تھے تو اسامہ (رض) نے وہی مشورہ دیا جو انہیں معلوم تھا یعنی نبی کریم ﷺ کی اہل خانہ کی برات کا لیکن علی (رض) نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی پابندی تو عائد نہیں کی ہے اور اس کے سوا اور بہت سی عورتیں ہیں، باندی سے آپ دریافت فرما لیں، وہ آپ سے صحیح بات بتادے گی۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے شبہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں، آٹا گوندھ کر بھی سو جاتی ہیں اور پڑوس کی بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے، اس کے بعد نبی کریم ﷺ منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا، اے مسلمانو ! میرے معاملے میں اس سے کون نمٹے گا جس کی اذیتیں اب میرے اہل خانہ تک پہنچ گئی ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں نے ان کے بارے میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں جانا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے عائشہ (رض) کی پاک دامنی کا قصہ بیان کیا اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا۔
حدیث نمبر: 7369 حَدَّثَنَا الْأُوَيْسِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي عُرْوَةُ ، ‏‏‏‏‏‏وَابْنُ الْمُسَيَّبِ ، ‏‏‏‏‏‏ وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ ، ‏‏‏‏‏‏ وَعُبَيْدُ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، ‏‏‏‏‏‏حِينَ قَال لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ حِينَ اسْتَلْبَثَ الْوَحْيُ يَسْأَلُهُمَا وَهُوَ يَسْتَشِيرُهُمَا فِي فِرَاقِ أَهْلِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَّا أُسَامَةُ فَأَشَارَ بِالَّذِي يَعْلَمُ مِنْ بَرَاءَةِ أَهْلِهِ وَأَمَّا عَلِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَمْ يُضَيِّقْ اللَّهُ عَلَيْكَ وَالنِّسَاءُ سِوَاهَا كَثِيرٌ وَسَلِ الْجَارِيَةَ تَصْدُقْكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هَلْ رَأَيْتِ مِنْ شَيْءٍ يَرِيبُكِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ مَا رَأَيْتُ أَمْرًا أَكْثَرَ مِنْ أَنَّهَا جَارِيَةٌ حَدِيثَةُ السِّنِّ تَنَامُ عَنْ عَجِينِ أَهْلِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَتَأْتِي الدَّاجِنُ، ‏‏‏‏‏‏فَتَأْكُلُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ رَجُلٍ بَلَغَنِي أَذَاهُ فِي أَهْلِي وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ عَلَى أَهْلِي إِلَّا خَيْرًا، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرَ بَرَاءَةَ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৩৭০
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے پاتے ہیں، اور ہر کام میں ان لوگوں سے مشورہ لو، اور اس امر کا بیان کہ مشورہ عزم سے پہلے ہے اور اصل حال ظاہر ہونے سے پہلے ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب آپ عزم کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کریں، جب رسول اللہ ﷺ عزم کرلیں تو کسی بشر کو یہ حق نہیں کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خلاف کرے اور نبی ﷺ نے جنگ کے دن اپنے صحابہ سے مدینہ میں ٹھہر کر جنگ کرنے اور نکل کر جنگ کرنے کے متعلق مشورہ کیا، لوگوں نے نکل کر ہی جنگ کرنے کو مناسب خیال کیا، جب آپ نے اپنی زرہ پہن لی اور ارادہ کرلیا تو لوگوں نے کہا کہ مدینہ میں ٹھہرنا ہی مناسب ہے، لیکن آپ نے عزم کرلینے کے بعد ان کی طرف توجہ نہ کی اور فرمایا کہ کسی نبی کے لئے مناسب نہیں کہ وہ زرہ پہن کر اتار دے جب تک کہ اللہ تعالیٰ حکم نہ دیں اور آپ نے علی اور اسامہ (رض) سے عائشہ (رض) پر تہمت لگائے اجنے کے سلسلہ میں مشورہ کیا اور ان کی باتیں آپ نے سنیں یہاں تک کہ قرآن نازل ہوا تو آپ نے تہمت لگانے والوں کو کوڑے لگوائے اور ان کے اختلاف کی طرف متوجہ نہ ہوئے، بلکہ وہی فیصلہ کیا جس کا اللہ نے آپ کو حکم دیا اور نبی ﷺ کے بعد ائمہ (خلفاء) ایماندار اہل علم سے مباح امور میں مشورہ لیتے تھے تاکہ ان میں جو آسان ہو اسے اختیار کریں اور اگر کتاب یا سنت اس کو واضح کردیتی تو نبی ﷺ کی اقتداء کرتے ہوئے دوسروں کی طرف متوجہ نہ ہوتے، اور حضرت ابوبکر (رض) نے ان لوگوں سے جہاد کا ارادہ کیا جنہوں نے زکوٰۃ روک دی تھی، تو عمر (رض) نے کہا کہ آپ کیونکر جہاد کریں گے جب کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جہاد کروں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہہ دیں، جب وہ لوگ لا الہ الا اللہ کہہ دیں تو ان لوگوں نے ہم سے اپنا خون اور اپنا مال محفوظ کرلیا، سوائے حق اسلام کے، تو حضرت ابوبکر (رض) نے کہا خدا کی قسم میں اس سے جہاد کروں گا جس نے اس چیز کے درمیان تفریق کی جس کو رسول اللہ ﷺ نے جمع کیا ہے، پھر عمر (رض) بھی ان کے ہم خیال ہوگئے، ابوبکر مشورہ کی طرف متوجہ نہیں ہوئے اس لئے کہ ان کے پاس ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا اور دین اور اس کے احکام کو بدلنا چاہا رسول اللہ ﷺ کا حکم موجود تھا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنا دین بدل ڈالا تو اس کو قتل کردو اور قراء خواہ وہ بوڑھے تھے یا جوان، حضرت عمر (رض) کے مشیر تھے اور اللہ بزرگ و برتر کی کتاب (کے حکم) کے نزدیک وہ لوگ رک جانے والے تھے۔
ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ اور ان سے عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کو خطاب کیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل خانہ کو بدنام کرتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں مجھے کوئی بری بات کبھی نہیں معلوم ہوئی۔ عروہ سے روایت ہے، انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ عائشہ (رض) کو جب اس واقعہ کا علم ہوا (کہ کچھ لوگ انہیں بدنام کر رہے ہیں) تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہا : یا رسول اللہ ! کیا مجھے آپ اپنے والد کے گھر جانے کی اجازت دیں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے انہیں اجازت دی اور ان کے ساتھ غلام کو بھیجا۔ انصار میں سے ایک صاحب ابوایوب (رض) نے کہا سبحانک ما يكون لنا أن نتکلم بهذا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ سبحانک هذا بهتان عظيم‏.‏ تیری ذات پاک ہے، اے اللہ ! ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم اس طرح کی باتیں کریں تیری ذات پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔
حدیث نمبر: 7370 حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ الْغَسَّانِيُّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُرْوَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَخَطَبَ النَّاسَ، ‏‏‏‏‏‏فَحَمِدَ اللَّهَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ مَا تُشِيرُونَ عَلَيَّ فِي قَوْمٍ يَسُبُّونَ أَهْلِي مَا عَلِمْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُوءٍ قَطُّ، ‏‏‏‏‏‏وَعَنْ عُرْوَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا أُخْبِرَتْ عَائِشَةُ بِالْأَمْرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَنْطَلِقَ إِلَى أَهْلِي، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنَ لَهَا وَأَرْسَلَ مَعَهَا الْغُلَامَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ:‏‏‏‏ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا سُبْحَانَكَ هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ.
tahqiq

তাহকীক: