আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

آرزو کرنے کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৪১ টি

হাদীস নং: ৭২৪৬
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے، ان سے مالک (رض) نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم سب جوان اور ہم عمر تھے، ہم آپ کی خدمت میں بیس دن تک ٹھہرے رہے۔ نبی کریم ﷺ بہت شفیق تھے۔ جب آپ نے معلوم کیا کہ اب ہمارا دل اپنے گھر والوں کی طرف مشتاق ہے تو آپ نے ہم سے پوچھا کہ اپنے پیچھے ہم کن لوگوں کو چھوڑ کر آئے ہیں۔ ہم نے آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے گھر چلے جاؤ اور ان کے ساتھ رہو اور انہیں اسلام سکھاؤ اور دین بتاؤ اور بہت سی باتیں آپ نے کہیں جن میں بعض مجھے یاد نہیں ہیں اور بعض یاد ہیں اور (فرمایا کہ) جس طرح مجھے تم نے نماز پڑھتے دیکھا اسی طرح نماز پڑھو۔ پس جب نماز کا وقت آجائے تو تم میں سے ایک تمہارے لیے اذان کہے اور جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرائے۔
حدیث نمبر: 7246 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ الْحُوَيْرِثِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ رَفِيقًا، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا ظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَهَيْنَا أَهْلَنَا أَوْ قَدِ اشْتَقْنَا سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا بَعْدَنَا ؟، ‏‏‏‏‏‏فَأَخْبَرْنَاهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَقِيمُوا فِيهِمْ، ‏‏‏‏‏‏وَعَلِّمُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَمُرُوهُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَذَكَرَ أَشْيَاءَ أَحْفَظُهَا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ لَا أَحْفَظُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ، ‏‏‏‏‏‏فَلْيُؤَذِّنْ لَكُمْ أَحَدُكُمْ، ‏‏‏‏‏‏وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৪৭
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے، ان سے سلیمان تیمی نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے، ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی شخص کو بلال (رض) کی اذان سحری کھانے سے نہ روکے کیونکہ وہ صرف اس لیے اذان دیتے ہیں یا نداء کرتے ہیں تاکہ جو نماز کے لیے بیدار ہیں وہ واپس آجائیں اور جو سوئے ہوئے ہیں وہ بیدار ہوجائیں اور فجر وہ نہیں ہے جو اس طرح لمبی دھار ہوتی ہے۔ یحییٰ نے اس کے اظہار کے لیے اپنے دونوں ہاتھ ملائے اور کہا یہاں تک کہ وہ اس طرح ظاہر ہوجائے اور اس کے اظہار کے لیے انہوں نے اپنی دونوں شہادت کی انگلیوں کو پھیلا کر بتلایا۔
حدیث نمبر: 7247 حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ التَّيْمِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لَا يَمْنَعَنَّ أَحَدَكُمْ أَذَانُ بِلَالٍ مِنْ سَحُورِهِ فَإِنَّهُ يُؤَذِّنُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ يُنَادِي لِيَرْجِعَ قَائِمَكُمْ وَيُنَبِّهَ نَائِمَكُمْ وَلَيْسَ الْفَجْرُ أَنْ يَقُولَ هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَجَمَعَ يَحْيَى كَفَّيْهِ حَتَّى يَقُولَ هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَمَدَّ يَحْيَى إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَتَيْنِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৪৮
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمر (رض) سے سنا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلال (رمضان میں) رات ہی میں اذان دیتے ہیں (وہ نماز فجر کی اذان نہیں ہوتی) پس تم کھاؤ پیو، یہاں تک کہ عبداللہ ابن ام مکتوم اذان دیں (تو کھانا پینا بند کر دو ) ۔
حدیث نمبر: 7248 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَرَضِيَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৪৯
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے حکم بن عتبہ نے، ان سے ابراہیم نخعی نے، ان سے علقمہ بن قیس نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں ظہر کی پانچ رکعت نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کیا نماز (کی رکعتوں) میں کچھ بڑھ گیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے ؟ صحابہ نے کہا کہ آپ نے پانچ رکعت نماز پڑھائی ہے۔ پھر نبی کریم ﷺ نے سلام کے بعد دو سجدے (سہو کے) کئے۔
حدیث نمبر: 7249 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْحَكَمِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَلْقَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ خَمْسًا، ‏‏‏‏‏‏فَقِيلَ:‏‏‏‏ أَزِيدَ فِي الصَّلَاةِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَمَا ذَاكَ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ صَلَّيْتَ خَمْسًا، ‏‏‏‏‏‏فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا سَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫০
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے مالک نے بیان کیا ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو ہی رکعت پر (مغرب یا عشاء کی نماز میں) نماز ختم کردی تو ذوالیدین (رض) نے کہا کہ یا رسول اللہ ! نماز کم کردی گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں ؟ آپ ﷺ نے پوچھا : کیا ذوالیدین صحیح کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا جی ہاں۔ پھر نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور آخری رکعتیں پڑھیں پھر سلام پھیرا، تکبیر کی اور سجدہ کیا (نماز کے عام) سجدے جیسا یا اس سے طویل، پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا، پھر تکبیر کہی اور نماز کے سجدے جیسا سجدہ کیا، پھر سر اٹھایا۔
حدیث نمبر: 7250 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَانْصَرَفَ مِنَ اثْنَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ ذُو الْيَدَيْنِ:‏‏‏‏ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْ نَسِيتَ ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ أَصَدَقَ ذُو الْيَدَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ النَّاسُ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أُخْرَيَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ أَوْ أَطْوَلَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫১
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ مسجد قباء میں لوگ صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک آنے والے نے ان کے پاس پہنچ کر کہا کہ رسول اللہ ﷺ پر رات قرآن کی آیت نازل ہوئی ہے اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرلیں پس تم بھی اسی طرف رخ کرلو۔ ان لوگوں کے چہرے شام (یعنی بیت المقدس) کی طرف تھے، پھر وہ لوگ کعبہ کی طرف مڑ گئے۔
حدیث نمبر: 7251 حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَا النَّاسُ بِقُبَاءٍ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ إِذْ جَاءَهُمْ آتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَال:‏‏‏‏ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَقَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ قُرْآنٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَقْبِلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّأْمِ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫২
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ بلخی نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن جراح نے بیان کیا، ان سے اسرائیل بن یونس نے، ان سے ابواسحاق سبیعی نے اور ان سے براء بن عازب (رض) نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے لیکن آپ کی آرزو تھی کہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے (سورۃ البقرہ میں) یہ آیت نازل کی قد نرى تقلب وجهك في السماء فلنولينک قبلة ترضاها‏ ہم آپ کے منہ کے باربار آسمان کی طرف اٹھنے کو دیکھتے ہیں، عنقریب ہم آپ کو منہ کو اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے آپ خوش ہوں گے۔ چناچہ رخ کعبہ کی طرف کردیا گیا۔ ایک صاحب نے عصر کی نماز نبی کریم ﷺ کے ساتھ پڑھی، پھر وہ مدینہ سے نکل کر انصار کی ایک جماعت تک پہنچے اور کہا کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ہے اور کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوگیا ہے چناچہ سب لوگ کعبہ رخ ہوگئے حالانکہ وہ عصر کی نماز کے رکوع میں تھے۔
حدیث نمبر: 7252 حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْرَائِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الْبَرَاءِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُوَجَّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى:‏‏‏‏ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا سورة البقرة آية 144، ‏‏‏‏‏‏فَوُجِّهَ نَحْوَ الْكَعْبَةِ وَصَلَّى مَعَهُ رَجُلٌ الْعَصْرَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَرَجَ، ‏‏‏‏‏‏فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ هُوَ يَشْهَدُ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَانْحَرَفُوا وَهُمْ رُكُوعٌ فِي صَلَاةِ الْعَصْرِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫৩
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
مجھ سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک (رض) نے بیان کیا کہ میں ابوطلحہ انصاری، ابوعبیدہ بن الجراح اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ اتنے میں ایک آنے والے شخص نے آ کر خبر دی کہ شراب حرام کردی گئی ہے۔ ابوطلحہ (رض) نے اس شخص کی خبر سنتے ہی کہا : انس ! ان مٹکوں کو بڑھ کر سب کو توڑ دے۔ انس (رض) نے بیان کیا کہ میں ایک ہاون دستہ کی طرف بڑھا جو ہمارے پاس تھا اور میں نے اس کے نچلے حصہ سے ان مٹکوں پر مارا جس سے وہ سب ٹوٹ گئے۔
حدیث نمبر: 7253 حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أَسْقِيأَبَا طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيَّ، ‏‏‏‏‏‏وَأَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ شَرَابًا مِنْ فَضِيخٍ وَهُوَ تَمْرٌ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَهُمْ آتٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ:‏‏‏‏ يَا أَنَسُ قُمْ إِلَى هَذِهِ الْجِرَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَاكْسِرْهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَنَسٌ:‏‏‏‏ فَقُمْتُ إِلَى مِهْرَاسٍ لَنَا فَضَرَبْتُهَا بِأَسْفَلِهِ حَتَّى انْكَسَرَتْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫৪
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے، ان سے صلہ بن زفر نے اور ان سے حذیفہ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل نجران سے فرمایا میں تمہارے پاس ایک امانت دار آدمی جو حقیقی امانت دار ہوگا بھیجوں گا۔ نبی کریم ﷺ کے صحابہ منتظر رہے (کہ کون اس صفت سے موصوف ہے) تو آپ نے ابوعبیدہ (رض) کو بھیجا۔
حدیث نمبر: 7254 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صِلَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ حُذَيْفَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِأَهْلِ نَجْرَانَ:‏‏‏‏ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫৫
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے خالد بن مہران نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر امت میں ایک امانت دار ہوتا ہے اور اس امت کے امانت دار ابوعبیدہ ابن الجراح (رض) ہیں۔
حدیث نمبر: 7255 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ خَالِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫৬
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبید بن حنین نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عباس (رض) نے کہ عمر (رض) نے بیان کیا کہ قبیلہ انصار کے ایک صاحب تھے (اوس بن خولیٰ نام) جب وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں شرکت نہ کرسکتے اور میں شریک ہوتا تو انہیں آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی خبریں بتاتا اور جب میں نبی کریم ﷺ کی مجلس میں شریک نہ ہو پاتا اور وہ شریک ہوتے تو وہ آ کر نبی کریم ﷺ کی مجلس کی خبر مجھے بتاتے۔
حدیث نمبر: 7256 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ وَكَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِذَا غَابَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدْتُهُ أَتَيْتُهُ بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا غِبْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشَهِدَهُ أَتَانِي بِمَا يَكُونُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫৭
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے، ان سے ابوعبدالرحمٰن نے اور ان سے علی (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس کا امیر ایک صاحب عبداللہ بن حذافہ سہمی کو بنایا، پھر (اس نے کیا کیا کہ) آگ جلوائی اور (لشکریوں سے) کہا کہ اس میں داخل ہوجاؤ۔ جس پر بعض لوگوں نے داخل ہونا چاہا لیکن کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم آگ ہی سے بھاگ کر آئے ہیں۔ پھر اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ جنہوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا کہ اگر تم اس میں داخل ہوجاتے تو اس میں قیامت تک رہتے۔ اور دوسرے لوگوں سے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت حلال نہیں ہے اطاعت صرف نیک کاموں میں ہے۔
حدیث نمبر: 7257 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ زُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ، ‏‏‏‏‏‏جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا، ‏‏‏‏‏‏فَأَوْقَدَ نَارًا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ ادْخُلُوهَا فَأَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ آخَرُونَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَذَكَرُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا:‏‏‏‏ لَوْ دَخَلُوهَا لَمْ يَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ لِلْآخَرِينَ:‏‏‏‏ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةٍ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৫৮
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا، ان سے صالح نے، ان سے ابن شہاب نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ خبر دی اور انہیں ابوہریرہ اور زید بن خالد (رض) نے خبر دی کہ دو شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس اپنا جھگڑا لائے۔ دوسری سند اور امام بخاری (رح) نے کہا (تفصیل آگے حدیث ذیل میں ہے) ۔
حدیث نمبر: 7258 - 7259 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ صَالِحٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏ وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَاهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৬০
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اذان و نماز اور روزہ اور فرائض واحکام میں سچے آدمی کی خبر واحد کے جائز ہونے کا بیان اور اللہ تعالیٰ کا قول کہ پس کیوں نہیں ان کے ہر ایک فرقہ میں سے کچھ لوگ چلتے، تاکہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنی قوم ڈرائیں، جب کہ وہ ان لوگوں کے پاس واپس آئیں، شاید کہ وہ لوگ ڈریں، اور ایک آدمی کو بھی طائفہ کہا جاتا ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے کہ اگر مومنین کی دو جماعتیں جنگ کریں چنانچہ اگر دو آدمی جنگ کریں، تو وہ اس آیت کے مفہوم میں داخل ہونگے، اس لئے کہ اللہ نے فرمایا کہ اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو، اور اس امر کا بیان کہ کس طرح نبی ﷺ نے اپنے امراء یکے بعد دیگرے روانہ فرمائے تاکہ ان میں سے ایک اگر غلطی کرے تو وہ سنت کی طرف پھیر دیاجائے۔
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے کہ دیہاتیوں میں سے ایک صاحب کھڑے ہوئے اور کہا کہ یا رسول اللہ ! کتاب اللہ کے مطابق میرا فیصلہ فرما دیجئیے۔ اس کے بعد ان کا مقابل فریق کھڑا ہوا اور کہا انہوں نے صحیح کہا یا رسول اللہ ! ہمارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کر دیجئیے اور مجھے کہنے کی اجازت دیجئیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کہو۔ انہوں نے کہا کہ میرا لڑکا ان کے یہاں مزدوری کیا کرتا تھا، عسيف بمعنی الأجير مزدور ہے، پھر اس نے ان کی عورت سے زنا کرلیا تو لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے پر رجم کی سزا ہوگی لیکن میں نے اس کی طرف سے سو بکریوں اور ایک باندی کا فدیہ دیا (اور لڑکے کو چھڑا لیا) پھر میں نے اہل علم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ اس کی بیوی پر رجم کی سزا لاگو ہوگی اور میرے لڑکے کو سو کوڑے اور ایک سال کے لیے جلا وطنی کی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، باندی اور بکریاں تو اسے واپس کر دو اور تمہارے لڑکے پر سو کوڑے اور ایک سال جلا وطنی کی سزا ہے اور اے انیس ! (قبیلہ اسلم کے ایک صحابی) اس کی بیوی کے پاس جاؤ، اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے رجم کر دو ۔ چناچہ انیس (رض) ان کے پاس گئے اور اس نے اقرار کرلیا پھر انیس (رض) نے اس کو سنگسار کر ڈالا۔
حدیث نمبر: 7260 وحَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اقْضِ لِي بِكِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ خَصْمُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏اقْضِ لَهُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأْذَنْ لِي، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قُلْ:‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَالْعَسِيفُ الْأَجِيرُ فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةٍ مِنَ الْغَنَمِ وَوَلِيدَةٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ سَأَلْتُ أَهْلَ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَلَى امْرَأَتِهِ الرَّجْمَ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّمَا عَلَى ابْنِي جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَمَّا الْوَلِيدَةُ وَالْغَنَمُ فَرُدُّوهَا، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَّا أَنْتَ يَا أُنَيْسُ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ فَاغْدُ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا، ‏‏‏‏‏‏فَغَدَا عَلَيْهَا أُنَيْسٌ فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৬১
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا حضرت زبیر کو تنہا دشمن کی خبر لانے کے لئے بھیجنے کا بیان
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن المنکدر نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ (رض) سے سنا، بیان کیا کہ غزوہ خندق کے دن نبی کریم ﷺ نے (دشمن سے خبر لانے کے لیے) صحابہ سے کہا تو زبیر (رض) تیار ہوگئے پھر ان سے کہا تو زبیر (رض) ہی تیار ہوئے۔ پھر کہا، پھر بھی انہوں نے ہی آمادگی دکھلائی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کے حواری (مددگار) ہوتے ہیں اور میری حواری زبیر ہیں۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ میں نے یہ روایت ابن المنکدر سے یاد کی اور ایوب نے ابن المنکدر سے کہا، اے ابوبکر ! (یہ محمد بن منکدر کی کنیت ہے) ان سے جابر (رض) کی حدیث بیان کیجئے کیونکہ لوگ پسند کرتے ہیں کہ آپ جابر (رض) کی احادیث بیان کریں تو انہوں نے اسی مجلس میں کہا کہ میں نے جابر (رض) سے سنا اور چار احادیث میں پے در پے یہ کہا کہ میں نے جابر (رض) سے سنا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا کہ میں نے سفیان بن عیینہ سے کہا کہ سفیان ثوری تو غزوہ قریظہ کہتے ہیں (بجائے غزوہ خندق کے) انہوں نے کہا کہ میں نے اتنے ہی یقین کے ساتھ یاد کیا ہے جیسا کہ تم اس وقت بیٹھے ہو کہ انہوں نے غزوہ خندق کہا، سفیان نے کہا کہ یہ دونوں ایک ہی غزوہ ہیں (کیونکہ) غزوہ خندق کے فوراً بعد اسی دن غزوہ قریظہ پیش آیا اور وہ مسکرائے۔
حدیث نمبر: 7261 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمَدِينِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ نَدَبَهُمْ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ ثَلَاثًا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيٌّ وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ حَفِظْتُهُ مِنْ ابْنِ الْمُنْكَدِر وَقَالَ لَهُ أَيُّوبُ:‏‏‏‏ يَا أَبَا بَكْرٍ حَدِّثْهُمْ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ الْقَوْمَ يُعْجِبُهُمْ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ عَنْ جَابِرٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ:‏‏‏‏ سَمِعْتُ جَابِرًا، ‏‏‏‏‏‏فَتَابَعَ بَيْنَ أَحَادِيثَ سَمِعْتُ جَابِرًا، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ الثَّوْرِيَّ يَقُولُ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ كَذَا حَفِظْتُهُ مِنْهُ كَمَا أَنَّكَ جَالِسٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ قَالَ سُفْيَانُ:‏‏‏‏ هُوَ يَوْمٌ وَاحِدٌ وَتَبَسَّمَ سُفْيَانُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৬২
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ نبی ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیدی جائے
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے ابوموسیٰ (رض) نے کہ نبی کریم ﷺ ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازہ کی نگرانی کا حکم دیا، پھر ایک صحابی آئے اور اجازت چاہی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ۔ وہ ابوبکر (رض) تھے، پھر عمر (رض) آئے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، پھر عثمان (رض) آئے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں بھی اجازت دے دو اور جنت کی بشارت دے دو ۔
حدیث نمبر: 7262 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي مُوسَى ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَدَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي بِحِفْظِ الْبَابِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৬৩
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا قول کہ نبی ﷺ کے گھروں میں داخل نہ ہو مگر یہ کہ تمہیں اجازت دیدی جائے چنانچہ جب ایک اجازت دیدے تو داخل ہونا جائز ہے۔
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے، ان سے عبید بن حنین نے، انہوں نے ابن عباس (رض) سے سنا اور ان سے عمر (رض) نے بیان کیا کہ میں حاضر ہوا تو رسول اللہ ﷺ اپنے بالا خانہ میں تشریف رکھتے تھے اور آپ کا ایک کالا غلام سیڑھی کے اوپر (نگرانی کر رہا) تھا میں نے اس سے کہا کہ کہو کہ عمر بن خطاب کھڑا ہے اور اجازت چاہتا ہے۔
حدیث نمبر: 7263 حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَشْرُبَةٍ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَغُلَامٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْوَدُ عَلَى رَأْسِ الدَّرَجَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْتُ:‏‏‏‏ قُلْ هَذَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَذِنَ لِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৬৪
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امر کا بیان کہ نبی ﷺ امراء اور قاصدوں کو یکے بعد دیگرے بھیجتے تھے اور حضرت ابن عباس نے کہا آنحضرت ﷺ نے حضرت دحیہ کلبی کو خط دے کر عظیم بصری کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کو قیصر کے پاس روانہ کردے۔
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن عباس (رض) نے خبر دی کہ رسول اللہ ﷺ نے کسریٰ پرویز شاہ ایران کو خط بھیجا اور قاصد عبداللہ بن حذافہ (رض) کو حکم دیا کہ خط بحرین کے گورنر منذر بن ساوی کے حوالہ کریں وہ اسے کسریٰ تک پہنچائے گا۔ جب کسریٰ نے وہ خط پڑھا تو اسے پھاڑ دیا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن المسیب نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے اسے بددعا دی کہ اللہ انہیں بھی ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔
حدیث نمبر: 7264 حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يُونُسَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَبَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا قَرَأَهُ كِسْرَى مَزَّقَهُ، ‏‏‏‏‏‏فَحَسِبْتُ أَنَّ ابْنَ الْمُسَيَّبِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَدَعَا عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৬৫
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس امر کا بیان کہ نبی ﷺ امراء اور قاصدوں کو یکے بعد دیگرے بھیجتے تھے اور حضرت ابن عباس نے کہا آنحضرت ﷺ نے حضرت دحیہ کلبی کو خط دے کر عظیم بصری کی طرف بھیجا تاکہ وہ اس کو قیصر کے پاس روانہ کردے۔
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے، ان سے سلمہ بن الاکوع (رض) نے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک صاحب ہند بن اسماء سے فرمایا کہ اپنی قوم میں یا لوگوں میں اعلان کر دو عاشورہ کے دن کہ جس نے کھالیا ہو وہ اپنا بقیہ دن (بےکھائے) پورا کرے اور اس نے نہ کھایا ہو وہ روزہ رکھے۔
حدیث نمبر: 7265 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ:‏‏‏‏ أَذِّنْ فِي قَوْمِكَ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ أَنَّ مَنْ أَكَلَ فَلْيُتِمَّ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭২৬৬
آرزو کرنے کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عرب کے وفود کو نبی ﷺ کی وصیتوں کا بیان کہ ان لوگوں کو پہنچادیں جو ان سے پیچھے رہ گئے ہیں اس کو مالک بن حویرث نے بیان کیا ہے۔
ہم سے علی بن الجعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی (دوسری سند) امام بخاری (رح) نے کہا کہ اور مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، کہا ہم کو نضر بن شمیل نے خبر دی، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان سے ابوجمرہ نے بیان کیا کہ ابن عباس (رض) مجھے خاص اپنے تخت پر بٹھا لیتے تھے۔ انہوں نے ایک بار بیان کیا کہ قبیلہ عبدالقیس کا وفد آیا جب وہ لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچے نبی کریم ﷺ نے پوچھا کس قوم کا وفد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ربیعہ قبیلہ کا (عبدالقیس اسی قبیلے کا ایک شاخ ہے) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مبارک ہو اس وفد کو یا یوں فرمایا کہ مبارک ہو بلا رسوائی اور شرمندگی اٹھائے آئے ہو۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ہمارے اور آپ کے بیچ میں مضر کافروں کا ملک پڑتا ہے۔ آپ ہمیں ایسی بات کا حکم دیجئیے جس سے ہم جنت میں داخل ہوں اور پیچھے رہ جانے والوں کو بھی بتائیں۔ پھر انہوں نے شراب کے برتنوں کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے انہیں چار چیزوں سے روکا اور چار چیزوں کا حکم دیا۔ آپ نے ایمان بااللہ کا حکم دیا۔ دریافت فرمایا جانتے ہو ایمان باللہ کیا چیز ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ فرمایا کہ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنے کا (حکم دیا) اور زکوٰۃ دینے کا۔ میرا خیال ہے کہ حدیث میں رمضان کے روزوں کا بھی ذکر ہے اور غنیمت میں سے پانچواں حصہ (بیت المال) میں دینا اور آپ نے انہیں دباء، حنتم، مزفت اور نقیر کے برتن (جن میں عرب لوگ شراب رکھتے اور بناتے تھے) کے استعمال سے منع کیا اور بعض اوقات مقیر کہا۔ فرمایا کہ انہیں یاد رکھو اور انہیں پہنچا دو جو نہیں آسکے ہیں۔
حدیث نمبر: 7266 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَانَابْنُ عَبَّاسٍ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ لِي:‏‏‏‏ إِنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَنِ الْوَفْدُ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ رَبِيعَةُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ أَوِ الْقَوْمِ غَيْرَ خَزَايَا وَلَا نَدَامَى، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارَ مُضَرَ، ‏‏‏‏‏‏فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، ‏‏‏‏‏‏وَنُخْبِرُ بِهِ مَنْ وَرَاءَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَسَأَلُوا عَنِ الْأَشْرِبَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَنَهَاهُمْ عَنْ أَرْبَعٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأَمَرَهُمْ بِأَرْبَعٍ:‏‏‏‏ أَمَرَهُمْ بِالْإِيمَانِ بِاللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَلْ تَدْرُونَ مَا الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِقَامُ الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ، ‏‏‏‏‏‏وَأَظُنُّ فِيهِ صِيَامُ رَمَضَانَ، ‏‏‏‏‏‏وَتُؤْتُوا مِنَ الْمَغَانِمِ الْخُمُسَ، ‏‏‏‏‏‏وَنَهَاهُمْ عَنِ الدُّبَّاءِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْحَنْتَمِ، ‏‏‏‏‏‏وَالْمُزَفَّتِ، ‏‏‏‏‏‏وَالنَّقِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَرُبَّمَا قَالَ:‏‏‏‏ الْمُقَيَّرِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ احْفَظُوهُنَّ وَأَبْلِغُوهُنَّ مَنْ وَرَاءَكُمْ.
tahqiq

তাহকীক: