আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)
الجامع الصحيح للبخاري
فتنوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৮২ টি
হাদীস নং: ৭০৯৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ارشاد کہ فتنہ مشرق کی طرف سے ظاہر ہوگا
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر (رض) نے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے سنا، نبی کریم ﷺ مشرق کی طرف رخ کئے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے آگاہ ہوجاؤ، فتنہ اس طرف ہے جدھر سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 7093 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَوَهُوَ مُسْتَقْبِلٌ الْمَشْرِقَ، يَقُولُ: أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَا هُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ارشاد کہ فتنہ مشرق کی طرف سے ظاہر ہوگا
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے نافع نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! ہمارے ملک شام میں ہمیں برکت دے، ہمارے یمن میں ہمیں برکت دے۔ صحابہ نے عرض کیا اور ہمارے نجد میں ؟ نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا اے اللہ ہمارے شام میں برکت دے، ہمیں ہمارے یمن میں برکت دے۔ صحابہ نے عرض کی اور ہمارے نجد میں ؟ میرا گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تیسری مرتبہ فرمایا وہاں زلزلے اور فتنے ہیں اور وہاں شیطان کا سینگ طلوع ہوگا۔
حدیث نمبر: 7094 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نَجْدِنَا ؟، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَأْمِنَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يمننا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَفِي نجدنا ؟، فَأَظُنُّهُ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ: هُنَاكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ، وَبِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا ارشاد کہ فتنہ مشرق کی طرف سے ظاہر ہوگا
ہم سے اسحاق بن شاہین واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خلف بن عبداللہ طحان نے بیان کیا، ان سے بیان ابن بصیر نے، ان سے وبرہ بن عبدالرحمٰن نے، ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر (رض) ہمارے پاس آئے تو ہم نے امید کی کہ وہ ہم سے کوئی اچھی بات کریں گے۔ اتنے میں ایک صاحب حکیم نامی ہم سے پہلے ان کے پاس پہنچ گئے اور پوچھا : اے ابوعبدالرحمٰن ! ہم سے زمانہ فتنہ میں قتال کے متعلق حدیث بیان کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تم ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے۔ ابن عمر (رض) نے کہا تمہیں معلوم بھی ہے کہ فتنہ کیا ہے ؟ تمہاری ماں تمہیں روئے۔ محمد ﷺ فتنہ رفع کرنے کے لیے مشرکین سے جنگ کرتے تھے، شرک میں پڑنا یہ فتنہ ہے۔ کیا نبی کریم ﷺ کی لڑائی تم لوگوں کی طرح بادشاہت حاصل کرنے کے لیے ہوتی تھی ؟
حدیث نمبر: 7095 حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ بَيَانٍ ، عَنْ وَبَرَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، فَرَجَوْنَا أَنْ يُحَدِّثَنَا حَدِيثًا حَسَنًا، قَالَ: فَبَادَرَنَا إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدِّثْنَا عَنِ الْقِتَالِ فِي الْفِتْنَةِ، وَاللَّهُ يَقُولُ: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لا تَكُونَ فِتْنَةٌ سورة البقرة آية 193، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي مَا الْفِتْنَةُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ؟، إِنَّمَا كَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يُقَاتِلُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ الدُّخُولُ فِي دِينِهِمْ فِتْنَةً، وَلَيْسَ كَقِتَالِكُمْ عَلَى الْمُلْكِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯৬
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس فتنے کا بیان جو دریا کی طرح موجزن ہوگا۔ اور ابن عیینہ نے خلف بن حوشب سے نقل کیا ہے کہ لوگ فتنوں کے وقت ان اشعار کو مثال کے طور پر پڑھنا بہتر سمجھتے تھے امرؤالقیس نے کہا ہے کہ (١) جنگ پہلے تو ایک کم سن لڑکی معلوم ہوتی ہے کہ ہر جاہل کے سامنے اپنی زینت کے ساتھ دوڑتی ہے۔
(٢) یہاں تک کہ وہ مشتعل ہوجاتی ہے اور اس کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو وہ بغیر شوہر والی بڑھیا کی طرح پیٹھ پھیر لیتی ہے (٣) سفید و سیاہ بال ہو کر اس کا رنگ برا معلوم ہونے لگتا ہے اور متغیر ہو کر سونگھنے اور بوسہ بازی کے لئے مکروہ ہوجاتی ہے۔
(٢) یہاں تک کہ وہ مشتعل ہوجاتی ہے اور اس کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو وہ بغیر شوہر والی بڑھیا کی طرح پیٹھ پھیر لیتی ہے (٣) سفید و سیاہ بال ہو کر اس کا رنگ برا معلوم ہونے لگتا ہے اور متغیر ہو کر سونگھنے اور بوسہ بازی کے لئے مکروہ ہوجاتی ہے۔
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے بیان کیا، انہوں نے حذیفہ (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم عمر (رض) کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ انہوں نے پوچھا : تم میں سے کسے فتنہ کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا فرمان یاد ہے ؟ حذیفہ (رض) نے کہا کہ انسان کا فتنہ (آزمائش) اس کی بیوی، اس کے مال، اس کے بچے اور پڑوسی کے معاملات میں ہوتا ہے جس کا کفارہ نماز، صدقہ، امربالمعروف اور نہی عن المنکر کردیتا ہے۔ عمر (رض) نے کہا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھتا بلکہ اس فتنہ کے بارے میں پوچھتا ہوں جو دریا کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا۔ حذیفہ (رض) نے بیان کیا کہ امیرالمؤمنین آپ پر اس کا کوئی خطرہ نہیں اس کے اور آپ کے درمیان ایک بند دروازہ رکاوٹ ہے۔ عمر (رض) نے پوچھا کیا وہ دروازہ توڑ دیا جائے گا یا کھولا جائے گا ؟ بیان کیا توڑ دیا جائے گا۔ عمر (رض) نے اس پر کہا کہ پھر تو وہ کبھی بند نہ ہو سکے گا۔ میں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے حذیفہ (رض) سے پوچھا : کیا عمر (رض) اس دروازہ کے متعلق جانتے تھے ؟ فرمایا کہ ہاں، جس طرح میں جانتا ہوں کہ کل سے پہلے رات آئے گی کیونکہ میں نے ایسی بات بیان کی تھی جو بےبنیاد نہیں تھی۔ ہمیں ان سے یہ پوچھتے ہوئے ڈر لگا کہ وہ دروازہ کون تھے۔ چناچہ ہم نے مسروق سے کہا (کہ وہ پوچھیں) جب انہوں نے پوچھا کہ وہ دروازہ کون تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ وہ دروازہ عمر (رض) تھے۔
حدیث نمبر: 7096 حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، حَدَّثَنَا شَقِيقٌ ، سَمِعْتُ حُذَيْفَةَ ، يَقُولُ: بَيْنَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ عُمَرَ، إِذْ قَالَ: أَيُّكُمْ يَحْفَظُ قَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْفِتْنَةِ ؟، قَالَ: فِتْنَةُ الرَّجُلِ فِي أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ وَجَارِهِ تُكَفِّرُهَا الصَّلَاةُ وَالصَّدَقَةُ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ، قَالَ: لَيْسَ عَنْ هَذَا أَسْأَلُكَ، وَلَكِنِ الَّتِي تَمُوجُ كَمَوْجِ الْبَحْرِ، قَالَ: لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْهَا بَأْسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ بَيْنَكَ وَبَيْنَهَا بَابًا مُغْلَقًا، قَالَ عُمَرُ: أَيُكْسَرُ الْبَابُ أَمْ يُفْتَحُ ؟، قَالَ: بَلْ يُكْسَرُ، قَالَ عُمَرُ: إِذًا لَا يُغْلَقَ أَبَدًا، قُلْتُ: أَجَلْ، قُلْنَا لِحُذَيْفَةَ: أَكَانَ عُمَرُ يَعْلَمُ الْبَابَ ؟، قَالَ: نَعَمْ، كَمَا يَعْلَمُ أَنَّ دُونَ غَدٍ لَيْلَةً وَذَلِكَ أَنِّي حَدَّثْتُهُ حَدِيثًا لَيْسَ بِالْأَغَالِيطِ، فَهِبْنَا أَنْ نَسْأَلَهُ مَنِ الْبَابُ، فَأَمَرْنَا مَسْرُوقًا، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: مَنِ الْبَابُ ؟، قَالَ: عُمَرُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس فتنے کا بیان جو دریا کی طرح موجزن ہوگا۔ اور ابن عیینہ نے خلف بن حوشب سے نقل کیا ہے کہ لوگ فتنوں کے وقت ان اشعار کو مثال کے طور پر پڑھنا بہتر سمجھتے تھے امرؤالقیس نے کہا ہے کہ (١) جنگ پہلے تو ایک کم سن لڑکی معلوم ہوتی ہے کہ ہر جاہل کے سامنے اپنی زینت کے ساتھ دوڑتی ہے۔
(٢) یہاں تک کہ وہ مشتعل ہوجاتی ہے اور اس کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو وہ بغیر شوہر والی بڑھیا کی طرح پیٹھ پھیر لیتی ہے (٣) سفید و سیاہ بال ہو کر اس کا رنگ برا معلوم ہونے لگتا ہے اور متغیر ہو کر سونگھنے اور بوسہ بازی کے لئے مکروہ ہوجاتی ہے۔
(٢) یہاں تک کہ وہ مشتعل ہوجاتی ہے اور اس کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو وہ بغیر شوہر والی بڑھیا کی طرح پیٹھ پھیر لیتی ہے (٣) سفید و سیاہ بال ہو کر اس کا رنگ برا معلوم ہونے لگتا ہے اور متغیر ہو کر سونگھنے اور بوسہ بازی کے لئے مکروہ ہوجاتی ہے۔
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہیں شریک بن عبداللہ نے، انہیں سعید بن مسیب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ مدینہ کے باغات میں کسی باغ کی طرف اپنی کسی ضرورت کے لیے گئے، میں بھی آپ کے پیچھے پیچھے گیا۔ جب نبی کریم ﷺ باغ میں داخل ہوئے تو میں اس کے دروازے پر بیٹھ گیا اور اپنے دل میں کہا کہ آج میں آپ کا دربان بنوں گا حالانکہ آپ نے مجھے اس کا حکم نہیں دیا تھا۔ آپ اندر چلے گئے اور اپنی حاجت پوری کی۔ پھر آپ کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں پنڈلیوں کو کھول کر انہیں کنوئیں میں لٹکا لیا۔ پھر ابوبکر (رض) آئے اور اندر جانے کی اجازت چاہی۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہیں رہیں، میں آپ کے لیے اجازت لے کر آتا ہوں۔ چناچہ وہ کھڑے رہے اور میں نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا نبی اللہ ! ابوبکر (رض) آپ کے پاس آنے کی اجازت چاہتے ہیں۔ فرمایا کہ انہیں اجازت دے دو اور انہیں جنت کی بشارت سنا دو ۔ چناچہ وہ اندر آگئے اور نبی کریم ﷺ کی دائیں جانب آ کر انہوں نے بھی اپنی پنڈلیوں کو کھول کر کنوئیں میں لٹکا لیا۔ اتنے میں عمر (رض) آئے۔ میں نے کہا ٹھہرو میں نبی کریم ﷺ سے اجازت لے لوں (اور میں نے اندر جا کر آپ سے عرض کیا) آپ ﷺ نے فرمایا ان کو بھی اجازت دے اور بہشت کی خوشخبری بھی۔ خیر وہ بھی آئے اور اسی کنوئیں کی منڈیر پر نبی کریم ﷺ کے بائیں جانب بیٹھے اور اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دیں۔ اور کنوئیں کی منڈیر بھر گئی اور وہاں جگہ نہ رہی۔ پھر عثمان (رض) آئے اور میں نے ان سے بھی کہا کہ یہیں رہئیے یہاں تک کہ آپ کے لیے نبی کریم ﷺ سے اجازت مانگ لوں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ انہیں اجازت دو اور جنت کی بشارت دے دو اور اس کے ساتھ ایک آزمائش ہے جو انہیں پہنچے گی۔ پھر وہ بھی داخل ہوئے، ان کے ساتھ بیٹھنے کے لیے کوئی جگہ نہ تھی۔ چناچہ وہ گھوم کر ان کے سامنے کنوئیں کے کنارے پر آگئے پھر انہوں نے اپنی پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں پاؤں لٹکا لیے، پھر میرے دل میں بھائی (غالباً ابوبردہ یا ابورہم) کی تمنا پیدا ہوئی اور میں دعا کرنے لگا کہ وہ بھی آجاتے، ابن المسیب نے بیان کیا کہ میں نے اس سے ان کی قبروں کی تعبیر لی کہ سب کی قبریں ایک جگہ ہوں گی لیکن عثمان (رض) کی الگ بقیع غرقد میں ہے۔
حدیث نمبر: 7097 حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ، وَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، فَلَمَّا دَخَلَ الْحَائِطَ جَلَسْتُ عَلَى بَابِهِ، وَقُلْتُ: لَأَكُونَنَّ الْيَوْمَ بَوَّابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَأْمُرْنِي، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَضَى حَاجَتَهُ، وَجَلَسَ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ لِيَدْخُلَ، فَقُلْتُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ، فَوَقَفَ، فَجِئْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ، قَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَدَخَلَ، فَجَاءَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَجَاءَ عُمَرُ، فَقُلْتُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَجَاءَ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ فَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَامْتَلَأَ الْقُفُّ، فَلَمْ يَكُنْ فِيهِ مَجْلِسٌ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ: كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلَاءٌ يُصِيبُهُ، فَدَخَلَ فَلَمْ يَجِدْ مَعَهُمْ مَجْلِسًا فَتَحَوَّلَ حَتَّى جَاءَ مُقَابِلَهُمْ عَلَى شَفَةِ الْبِئْرِ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ دَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَجَعَلْتُ أَتَمَنَّى أَخًا لِي وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَأْتِيَ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَتَأَوَّلْتُ ذَلِكَ قُبُورَهُمُ اجْتَمَعَتْ هَا هُنَا، وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس فتنے کا بیان جو دریا کی طرح موجزن ہوگا۔ اور ابن عیینہ نے خلف بن حوشب سے نقل کیا ہے کہ لوگ فتنوں کے وقت ان اشعار کو مثال کے طور پر پڑھنا بہتر سمجھتے تھے امرؤالقیس نے کہا ہے کہ (١) جنگ پہلے تو ایک کم سن لڑکی معلوم ہوتی ہے کہ ہر جاہل کے سامنے اپنی زینت کے ساتھ دوڑتی ہے۔
(٢) یہاں تک کہ وہ مشتعل ہوجاتی ہے اور اس کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو وہ بغیر شوہر والی بڑھیا کی طرح پیٹھ پھیر لیتی ہے (٣) سفید و سیاہ بال ہو کر اس کا رنگ برا معلوم ہونے لگتا ہے اور متغیر ہو کر سونگھنے اور بوسہ بازی کے لئے مکروہ ہوجاتی ہے۔
(٢) یہاں تک کہ وہ مشتعل ہوجاتی ہے اور اس کے شعلے بھڑک اٹھتے ہیں تو وہ بغیر شوہر والی بڑھیا کی طرح پیٹھ پھیر لیتی ہے (٣) سفید و سیاہ بال ہو کر اس کا رنگ برا معلوم ہونے لگتا ہے اور متغیر ہو کر سونگھنے اور بوسہ بازی کے لئے مکروہ ہوجاتی ہے۔
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم کو جعفر نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں سلیمان نے کہ میں نے ابو وائل سے سنا، انہوں نے کہا کہ اسامہ (رض) سے کہا گیا کہ آپ (عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ) سے گفتگو کیوں نہیں کرتے (کہ عام مسلمانوں کی شکایات کا خیال رکھیں) انہوں نے کہا کہ میں نے (خلوت میں) ان سے گفتگو کی ہے لیکن (فتنہ کے) دروازہ کو کھولے بغیر کہ اس طرح میں سب سے پہلے اس دروازہ کو کھولنے والا ہوں گا میں ایسا آدمی نہیں ہوں کہ کسی شخص سے جب وہ دو آدمیوں پر امیر بنادیا جائے یہ کہوں کہ تو سب سے بہتر ہے۔ جبکہ میں رسول اللہ ﷺ سے سن چکا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایک شخص کو (قیامت کے دن) لایا جائے گا اور اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر وہ اس میں اس طرح چکی پیسے گا جیسے گدھا پیستا ہے۔ پھر دوزخ کے لوگ اس کے چاروں طرف جمع ہوجائیں گے اور کہیں گے، اے فلاں ! کیا تم نیکیوں کا حکم کرتے اور برائیوں سے روکا نہیں کرتے تھے ؟ وہ شخص کہے گا کہ میں اچھی بات کے لیے کہتا تو ضرور تھا لیکن خود نہیں کرتا تھا اور بری بات سے روکتا بھی تھا لیکن خود کرتا تھا۔
حدیث نمبر: 7098 حَدَّثَنِي بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ: قِيلَ لِأُسَامَةَ : أَلَا تُكَلِّمُ هَذَا ؟، قَالَ: قَدْ كَلَّمْتُهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَحَ بَابًا أَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يَفْتَحُهُ، وَمَا أَنَا بِالَّذِي أَقُولُ لِرَجُلٍ بَعْدَ أَنْ يَكُونَ أَمِيرًا عَلَى رَجُلَيْنِ أَنْتَ خَيْرٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يُجَاءُ بِرَجُلٍ فَيُطْرَحُ فِي النَّارِ فَيَطْحَنُ فِيهَا كَطَحْنِ الْحِمَارِ بِرَحَاهُ، فَيُطِيفُ بِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَيَقُولُونَ: أَيْ فُلَانُ، أَلَسْتَ كُنْتَ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟، فَيَقُولُ: إِنِّي كُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا أَفْعَلُهُ، وَأَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَأَفْعَلُهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭০৯৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے عثمان بن ہیثم نے بیان کیا، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا، کہا ان سے حسن نے اور ان سے ابوبکرہ (رض) نے بیان کیا کہ جنگ جمل کے زمانہ میں مجھے ایک کلمہ نے فائدہ پہنچایا جب نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا کہ فارس کی سلطنت والوں نے بوران نامی کسریٰ کی بیٹی کو بادشاہ بنا لیا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جس کی حکومت ایک عورت کے ہاتھ میں ہو۔
حدیث نمبر: 7099 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ، قَالَ: لَقَدْ نَفَعَنِي اللَّهُ بِكَلِمَةٍ أَيَّامَ الْجَمَلِ، لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ فَارِسًا مَلَّكُوا ابْنَةَ كِسْرَى، قَالَ: لَنْ يُفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی (رض) نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی (رض) کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی (رض) منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر (رض) ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہوگئے اور میں نے عمار (رض) کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ (رض) بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم ﷺ کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ (رض) کی۔
حدیث نمبر: 7100 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ ، قَالَ: لَمَّا سَارَ طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَائِشَةُ، إِلَى الْبَصْرَةِ بَعَثَ عَلِيٌّ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَدِمَا عَلَيْنَا الْكُوفَةَ، فَصَعِدَا الْمِنْبَرَ، فَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَوْقَ الْمِنْبَرِ فِي أَعْلَاهُ، وَقَامَ عَمَّارٌ أَسْفَلَ مِنَ الْحَسَنِ، فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَسَمِعْتُ عَمَّارًا ، يَقُولُ: إِنَّ عَائِشَةَ قَدْ سَارَتْ إِلَى الْبَصْرَةِ، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَزَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ابْتَلَاكُمْ لِيَعْلَمَ إِيَّاهُ تُطِيعُونَ أَمْ هِيَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی غنیہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا اور ان سے ابو وائل نے بیان کیا کہ کوفہ میں عمار (رض) منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ (رض) اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم ﷺ کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔
حدیث نمبر: 7101 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَامَ عَمَّارٌ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ عَائِشَةَ وَذَكَرَ مَسِيرَهَا، وَقَالَ: إِنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّهَا مِمَّا ابْتُلِيتُمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ کو عمرو نے خبر دی کہ میں نے ابو وائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوموسیٰ اور ابومسعود (رض) دونوں عمار بن یاسر (رض) کے پاس گئے جب انہیں علی (رض) نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود (رض) دونوں عمار (رض) سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار (رض) نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود (رض) نے عمار (رض) اور ابوموسیٰ (رض) دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔
حدیث نمبر: 7102 - 7103 - 7104 حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ : مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کے پاس گئے جب انہیں علی رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ لوگوں کو لڑنے کے لیے تیار کریں۔ ابوموسیٰ اور ابومسعود رضی اللہ عنہما دونوں عمار رضی اللہ عنہ سے کہنے لگے جب سے تم مسلمانوں ہوئے ہو ہم نے کوئی بات اس سے زیادہ بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں نے بھی جب سے تم دونوں مسلمان ہوئے ہو تمہاری کوئی بات اس سے بری نہیں دیکھی جو تم اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ دونوں کو ایک ایک کپڑے کا نیا جوڑا پہنایا پھر تینوں مل کر مسجد میں تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، يَقُولُ: دَخَلَ أَبُو مُوسَى، وَأَبُو مَسْعُودٍ، عَلَى عَمَّارٍ حَيْثُ بَعَثَهُ عَلِيٌّ إِلَى أَهْلِ الْكُوفَةِ يَسْتَنْفِرُهُمْ، فَقَالَا: مَا رَأَيْنَاكَ أَتَيْتَ أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدَنَا مِنْ إِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ مُنْذُ أَسْلَمْتَ، فَقَالَ عَمَّارٌ: ""مَا رَأَيْتُ مِنْكُمَا مُنْذُ أَسْلَمْتُمَا أَمْرًا أَكْرَهَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، وَكَسَاهُمَا حُلَّةً حُلَّةً ثُمَّ رَاحُوا إِلَى الْمَسْجِدِ"".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০৫
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ
ہم سے عبدان نے بیان کیا، ان سے ابوحمزہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے شقیق بن سلمہ نے کہ میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود (رض) نے عمار (رض) سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کرسکتا ہوں۔ (لیکن تم ایک بےعیب ہو) اور جب سے تم نے نبی کریم ﷺ کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار (رض) نے کہا ابومسعود (رض) تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم ﷺ کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود (رض) نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام ! دو حلے لاؤ۔ چناچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ (رض) کو دیا اور دوسرا عمار (رض) کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔
حدیث نمبر: 7105 - 7106 - 7107 حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَمَّارٍ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ عَمَّارٌ : يَا أَبَا مَسْعُودٍ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا: يَا غُلَامُ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا، وَقَالَ: رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০৭
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ N/A
میں ابومسعود، ابوموسیٰ اور عمار رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے کہا ہمارے ساتھ والے جتنے لوگ ہیں میں اگر چاہوں تو تمہارے سوا ان میں سے ہر ایک کا کچھ نہ کچھ عیب بیان کر سکتا ہوں۔ ( لیکن تم ایک بےعیب ہو ) اور جب سے تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، میں نے کوئی عیب کا کام تمہارا نہیں دیکھا۔ ایک یہی عیب کا کام دیکھتا ہوں، تم اس دور میں یعنی لوگوں کو جنگ کے لیے اٹھانے میں جلدی کر رہے ہو۔ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا ابومسعود رضی اللہ عنہ تم سے اور تمہارے ساتھی ابوموسیٰ اشعری سے جب سے تم دونوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی ہے میں نے کوئی عیب کا کام اس سے زیادہ نہیں دیکھا جو تم دونوں اس کام میں دیر کر رہے ہو۔ اس پر ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ مالدار آدمی تھے کہ غلام! دو حلے لاؤ۔ چنانچہ انہوں نے ایک حلہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو دیا اور دوسرا عمار رضی اللہ عنہ کو اور کہا کہ آپ دونوں بھائی کپڑے پہن کر جمعہ پڑھنے چلیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، كُنْتُ جَالِسًا مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَعَمَّارٍ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: ""مَا مِنْ أَصْحَابِكَ أَحَدٌ إِلَّا لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ فِيهِ غَيْرَكَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْت النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنَ اسْتِسْرَاعِكَ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ عَمَّارٌ: يَا أَبَا مَسْعُودٍ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْكَ وَلَا مِنْ صَاحِبِكَ هَذَا شَيْئًا مُنْذُ صَحِبْتُمَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْيَبَ عِنْدِي مِنْ إِبْطَائِكُمَا فِي هَذَا الْأَمْرِ، فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ وَكَانَ مُوسِرًا: يَا غُلَامُ، هَاتِ حُلَّتَيْنِ، فَأَعْطَى إِحْدَاهُمَا أَبَا مُوسَى وَالْأُخْرَى عَمَّارًا، وَقَالَ: رُوحَا فِيهِ إِلَى الْجُمُعَةِ"".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০৮
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے
ہم سے عبداللہ بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں حمزہ بن عبداللہ بن عمر (رض) نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عمر (رض) نے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ کسی قوم پر عذاب نازل کرتا ہے تو عذاب ان سب لوگوں پر آتا ہے جو اس قوم میں ہوتے ہیں پھر انہیں ان کے اعمال کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7108 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১০৯
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا حضرت حسن بن علی کے متعلق فرمانا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان مصالحت کرادے گا۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل ابوموسیٰ نے بیان کیا اور میری ان سے ملاقات کوفہ میں ہوئی تھی۔ وہ ابن شبرمہ کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے عیسیٰ (منصور کے بھائی اور کوفہ کے والی) کے پاس لے چلو تاکہ میں اسے نصیحت کروں۔ غالباً ابن شبرمہ نے خوف محسوس کیا اور نہیں لے گئے۔ انہوں نے اس پر بیان کیا کہ ہم سے حسن بصری نے بیان کیا کہ جب حسن بن علی امیر معاویہ رضی اللہ عنہم کے خلاف لشکر لے کر نکلے تو عمرو بن العاص نے امیر معاویہ (رض) سے کہا کہ میں ایسا لشکر دیکھتا ہوں جو اس وقت تک واپس نہیں جاسکتا جب تک اپنے مقابل کو بھگا نہ لے۔ پھر امیر معاویہ (رض) نے کہا کہ مسلمانوں کے اہل و عیال کا کون کفیل ہوگا ؟ جواب دیا کہ میں، پھر عبداللہ بن عامر اور عبدالرحمٰن بن سمرہ نے کہا کہ ہم امیرمعاویہ (رض) سے ملتے ہیں (اور ان سے صلح کے لیے کہتے ہیں) حسن بصری نے کہا کہ میں نے ابوبکرہ (رض) سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ حسن (رض) آئے تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سید ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ مسلمانوں کی دو جماعتوں میں صلح کرا دے گا۔
حدیث نمبر: 7109 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ أَبُو مُوسَى ، وَلَقِيتُهُ بِالْكُوفَةِ وَجَاءَ إِلَى ابْنِ شُبْرُمَةَ، فَقَالَ: أَدْخِلْنِي عَلَى عِيسَى فَأَعِظَهُ، فَكَأَنَّ ابْنَ شُبْرُمَةَ خَافَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَفْعَلْ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، قَالَ: لَمَّا سَارَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالْكَتَائِبِ، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِمُعَاوِيَةَ: أَرَى كَتِيبَةً لَا تُوَلِّي حَتَّى تُدْبِرَ أُخْرَاهَا، قَالَ مُعَاوِيَةُ: مَنْ لِذَرَارِيِّ الْمُسْلِمِينَ ؟، فَقَالَ: أَنَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ: نَلْقَاهُ، فَنَقُولُ لَهُ: الصُّلْحَ، قَالَ الْحَسَنُ: وَلَقَدْ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَيَخْطُبُ جَاءَ الْحَسَنُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَلَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১১০
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نبی ﷺ کا حضرت حسن بن علی کے متعلق فرمانا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ اور امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان مصالحت کرادے گا۔
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں محمد بن علی نے خبر دی، انہیں اسامہ (رض) کے غلام حرملہ نے خبر دی، عمرو نے بیان کیا کہ میں نے حرملہ کو دیکھا تھا۔ حرملہ نے بیان کیا کہ مجھے اسامہ نے علی (رض) کے پاس بھیجا اور مجھ سے کہا، اس وقت تم سے علی (رض) پوچھیں گے کہ تمہارے ساتھی (اسامہ رضی اللہ عنہ) جنگ جمل و صفین سے کیوں پیچھے رہ گئے تھے تو ان سے کہنا کہ انہوں نے آپ سے کہا ہے کہ اگر آپ شیر کے منہ میں ہوں تب بھی میں اس میں بھی آپ کے ساتھ رہوں لیکن یہ معاملہ ہی ایسا ہے یعنی مسلمانوں کی آپس کی جنگ تو (اس میں شرکت صحیح) نہیں معلوم ہوئی (حرملہ کہتے ہیں کہ) چناچہ انہوں نے کوئی چیز نہیں دی۔ پھر میں حسن، حسین اور عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کے پاس گیا تو انہوں نے میری سواری پر اتنا مال لدوا دیا جتنا کہ اونٹ اٹھا نہ سکتا تھا۔
حدیث نمبر: 7110 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: قَالَ عَمْرٌو ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ ، أَنَّ حَرْمَلَةَ مَوْلَى أُسَامَةَ أَخْبَرَهُ، قَالَ عَمْرٌو: قَدْ رَأَيْتُ حَرْمَلَةَ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أُسَامَةُ إِلَى عَلِيٍّ، وَقَالَ: إِنَّهُ سَيَسْأَلُكَ الْآنَ، فَيَقُولُ: مَا خَلَّفَ صَاحِبَكَ، فَقُلْ لَهُ: يَقُولُ لَكَ: لَوْ كُنْتَ فِي شِدْقِ الْأَسَدِ لَأَحْبَبْتُ أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِيهِ، وَلَكِنَّ هَذَا أَمْرٌ لَمْ أَرَهُ، فَلَمْ يُعْطِنِي شَيْئًا، فَذَهَبْتُ إِلَى حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، وَابْنِ جَعْفَرٍ فَأَوْقَرُوا لِي رَاحِلَتِي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১১১
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو ایک جماعت میں کچھ کہے پھر وہاں سے نکل کر اس کے خلاف کہے
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے نافع نے کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر غدر کرنے والے کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا کھڑا کیا جائے گا اور ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے اور میرے علم میں کوئی غدر اس سے بڑھ کر نہیں ہے کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے اور دیکھو مدینہ والو ! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا، میں اس سے الگ ہوں۔
حدیث نمبر: 7111 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَر حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ، وَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ، وَلَا بَايَعَ فِي هَذَا الْأَمْرِ إِلَّا كَانَتِ الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১১২
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو ایک جماعت میں کچھ کہے پھر وہاں سے نکل کر اس کے خلاف کہے
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا، ان سے جوف نے بیان کیا، ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زیاد اور مروان شام میں تھے اور ابن زبیر (رض) نے مکہ میں اور خوارج نے بصرہ میں قبضہ کرلیا تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ ابوبرزہ اسلمی (رض) کے پاس گیا۔ جب ہم ان کے گھر میں ایک کمرہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جو بانس کا بنا ہوا تھا، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور میرے والد ان سے بات کرنے لگے اور کہا : اے ابوبرزہ ! آپ نہیں دیکھتے لوگ کن باتوں میں آفت اور اختلاف میں الجھ گئے ہیں۔ میں نے ان کی زبان سے سب سے پہلی بات یہ سنی کہ میں جو ان قریش کے لوگوں سے ناراض ہوں تو محض اللہ کی رضا مندی کے لیے، اللہ میرا اجر دینے والا ہے۔ عرب کے لوگو ! تم جانتے ہو پہلے تمہارا کیا حال تھا تم گمراہی میں گرفتار تھے، اللہ نے اسلام کے ذریعہ اور محمد ﷺ کے ذریعہ تم کو اس بری حالت سے نجات دی۔ یہاں تک کہ تم اس رتبہ کو پہنچے۔ ( دنیا کے حاکم اور سردار بن گئے) پھر اسی دنیا نے تم کو خراب کردیا۔ دیکھو ! یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے یعنی مروان دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔ یہ لوگ جو تمہارے سامنے ہیں۔ (خوارج) واللہ ! یہ لوگ صرف دنیا کے لیے لڑ رہے ہیں اور وہ جو مکہ میں ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما، واللہ ! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے۔
حدیث نمبر: 7112 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، عَنْ عَوْفٍ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ ابْنُ زِيَادٍ وَمَرْوَانُ بِالشَّأْمِ، وَوَثَبَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، وَوَثَبَ الْقُرَّاءُ بِالْبَصْرَةِ، فَانْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ فِي دَارِهِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ عُلِّيَّةٍ لَهُ مِنْ قَصَبٍ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَأَنْشَأَ أَبِي يَسْتَطْعِمُهُ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَرْزَةَ، أَلَا تَرَى مَا وَقَعَ فِيهِ النَّاسُ، فَأَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ: إِنِّي احْتَسَبْتُ عِنْدَ اللَّهِ أَنِّي أَصْبَحْتُ سَاخِطًا عَلَى أَحْيَاءِ قُرَيْشٍ، إِنَّكُمْ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ كُنْتُمْ عَلَى الْحَالِ الَّذِي عَلِمْتُمْ مِنَ الذِّلَّةِ وَالْقِلَّةِ وَالضَّلَالَةِ، وَإِنَّ اللَّهَ أَنْقَذَكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ بِكُمْ مَا تَرَوْنَ وَهَذِهِ الدُّنْيَا الَّتِي أَفْسَدَتْ بَيْنَكُمْ، إِنَّ ذَاكَ الَّذِي بِالشَّأْمِ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنَّ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُونَ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا، وَإِنْ ذَاكَ الَّذِي بِمَكَّةَ وَاللَّهِ إِنْ يُقَاتِلُ إِلَّا عَلَى الدُّنْيَا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১১৩
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو ایک جماعت میں کچھ کہے پھر وہاں سے نکل کر اس کے خلاف کہے
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے واصل احدب نے، ان سے ابو وائل نے اور ان سے حذیفہ بن الیمان نے بیان کیا کہ آج کل کے منافق نبی کریم ﷺ کے زمانے کے منافقین سے بدتر ہیں۔ اس وقت چھپاتے تھے اور آج اس کا کھلم کھلا اظہار کر رہے ہیں۔
حدیث نمبر: 7113 حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ ، قَالَ: إِنَّ الْمُنَافِقِينَ الْيَوْمَ شَرٌّ مِنْهُمْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَوْمَئِذٍ يُسِرُّونَ، وَالْيَوْمَ يَجْهَرُونَ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭১১৪
فتنوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اس شخص کا بیان جو ایک جماعت میں کچھ کہے پھر وہاں سے نکل کر اس کے خلاف کہے
ہم سے خلاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے حبیب بن ابی ثابت نے بیان کیا، ان سے ابوالشعثاء نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں نفاق تھا آج تو ایمان کے بعد کفر اختیار کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 7114 حَدَّثَنَا خَلَّادٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ: إِنَّمَا كَانَ النِّفَاقُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَإِنَّمَا هُوَ الْكُفْرُ بَعْدَ الْإِيمَانِ.
তাহকীক: