আল জামিউস সহীহ- ইমাম বুখারী রহঃ (উর্দু)

الجامع الصحيح للبخاري

حیلوں کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৮ টি

হাদীস নং: ৬৯৭৪
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ طاعون سے بھاگنے کے لئے حیلہ جوئی کی کراہت کا بیان
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے کہ انہوں نے اسامہ بن زید (رض) سے سنا ‘ وہ سعد بن ابی وقاص (رض) سے حدیث نقل کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے طاعون کا ذکر کیا اور فرمایا کہ یہ ایک عذاب ہے جس کے ذریعہ بعض امتوں کو عذاب دیا گیا تھا اس کے بعد اس کا کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور وہ کبھی چلا جاتا ہے اور کبھی واپس آجاتا ہے۔ پس جو شخص کسی سر زمین پر اس کے پھیلنے کے متعلق سنے تو وہاں نہ جائے لیکن اگر کوئی کسی جگہ ہو اور وہاں یہ وبا پھوٹ پڑے تو وہاں سے بھاگے بھی نہیں۔
حدیث نمبر: 6974 حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، ‏‏‏‏‏‏يُحَدِّثُ سَعْدًا، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الْوَجَعَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ رِجْزٌ أَوْ عَذَابٌ عُذِّبَ بِهِ بَعْضُ الْأُمَمِ ثُمَّ بَقِيَ مِنْهُ بَقِيَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَيَذْهَبُ الْمَرَّةَ وَيَأْتِي الْأُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَمَنْ سَمِعَ بِهِ بِأَرْضٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يُقْدِمَنَّ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ كَانَ بِأَرْضٍ وَقَعَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَخْرُجْ فِرَارًا مِنْهُ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৫
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنے کا بیان اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک ہزار درہم یا اس سے زائدہ کسی کو ہبہ کردے اور وہ اس کے پاس برسوں تک رہ جائے پھر وہ حیلہ سے کام لے اور ہبہ کرنے والا اس کو واپس لے لے تو زکوٰۃ ان دونوں میں سے کسی پر واجب نہیں ان دونوں نے ہبہ میں آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی اور زکوٰۃ کو ساقط کردیا۔
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے کو خود چاٹ جاتا ہے ‘ ہمارے لیے بری مثال مناسب نہیں۔
حدیث نمبر: 6975 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِكْرِمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْكَلْبِ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَيْسَ لَنَا مَثَلُ السَّوْءِ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৬
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنے کا بیان اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک ہزار درہم یا اس سے زائدہ کسی کو ہبہ کردے اور وہ اس کے پاس برسوں تک رہ جائے پھر وہ حیلہ سے کام لے اور ہبہ کرنے والا اس کو واپس لے لے تو زکوٰۃ ان دونوں میں سے کسی پر واجب نہیں ان دونوں نے ہبہ میں آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی اور زکوٰۃ کو ساقط کردیا۔
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو معمر نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے شفعہ کا حکم ہر اس چیز میں دیا تھا جو تقسیم نہ ہوسکتی ہو۔ پس جب حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ کر دئیے جائیں تو پھر شفعہ نہیں۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ شفعہ کا حق پڑوسی کو بھی ہوتا ہے پھر خود ہی اپنی بات کو غلط قرار دیا اور کہا کہ اگر کسی نے کوئی گھر خریدا اور اسے خطرہ ہے کہ اس کا پڑوسی حق شفعہ کی بنا پر اس سے گھر لے لے گا تو اس نے اس کے سو حصے کر کے ایک حصہ اس میں سے پہلے خرید لیا اور باقی حصے بعد میں خریدے تو ایسی صورت میں پہلے حصے میں تو پڑوسی کو شفعہ کا حق ہوگا۔ گھر کے باقی حصوں میں اسے یہ حق نہیں ہوگا اور اس کے لیے جائز ہے کہ یہ حیلہ کرے۔
حدیث نمبر: 6976 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، ‏‏‏‏‏‏عَنِ الزُّهْرِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِنَّمَا جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةَ فِي كُلِّ مَا لَمْ يُقْسَمْ، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا شُفْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ:‏‏‏‏ الشُّفْعَةُ لِلْجِوَارِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ عَمَدَ إِلَى مَا شَدَّدَهُ فَأَبْطَلَهُ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ إِنِ اشْتَرَى دَارًا فَخَافَ أَنْ يَأْخُذَ الْجَارُ بِالشُّفْعَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَاشْتَرَى سَهْمًا مِنْ مِائَةِ سَهْمٍ ثُمَّ اشْتَرَى الْبَاقِيَ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ لِلْجَارِ الشُّفْعَةُ فِي السَّهْمِ الْأَوَّلِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا شُفْعَةَ لَهُ فِي بَاقِي الدَّارِ وَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ فِي ذَلِكَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৭
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنے کا بیان اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک ہزار درہم یا اس سے زائدہ کسی کو ہبہ کردے اور وہ اس کے پاس برسوں تک رہ جائے پھر وہ حیلہ سے کام لے اور ہبہ کرنے والا اس کو واپس لے لے تو زکوٰۃ ان دونوں میں سے کسی پر واجب نہیں ان دونوں نے ہبہ میں آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی اور زکوٰۃ کو ساقط کردیا۔
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے عمرو بن شرید سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مسور بن مخرمہ (رض) آئے اور انہوں نے میرے مونڈھے پر اپنا ہاتھ رکھا پھر میں ان کے ساتھ سعد بن ابی وقاص (رض) کے یہاں گیا تو ابورافع نے اس پر کہا کہ اس کا چار سو سے زیادہ میں نہیں دے سکتا اور وہ بھی قسطوں میں دوں گا۔ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ مجھے تو اس کے پانچ سو نقد مل رہے تھے اور میں نے انکار کردیا۔ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ بیچتا۔ علی بن عبداللہ مدینی نے کہا میں نے سفیان بن عیینہ سے اس پر پوچھا کہ معمر نے اس طرح نہیں بیان کیا ہے۔ سفیان نے کہا کہ لیکن مجھ سے تو ابراہیم بن میسرہ نے یہ حدیث اسی طرح نقل کی۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص چاہے کہ شفیع کو حق شفعہ نہ دے تو اسے حیلہ کرنے کی اجازت ہے اور حیلہ یہ ہے کہ جائیداد کا مالک خریدار کو وہ جائیداد ہبہ کر دے پھر خریدار یعنی موہوب لہ اس ہبہ کے معاوضہ میں مالک جائیداد کو ہزار درہم مثلاً ہبہ کر دے اس صورت میں شفیع کو شفعہ کا حق نہ رہے گا۔
حدیث نمبر: 6977 حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ جَاءَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي، ‏‏‏‏‏‏فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى سَعْدٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏لِلْمِسْوَرِ:‏‏‏‏ أَلَا تَأْمُرُ هَذَا أَنْ يَشْتَرِيَ مِنِّي بَيْتِي الَّذِي فِي دَارِي ؟، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَا أَزِيدُهُ عَلَى أَرْبَعِ مِائَةٍ إِمَّا مُقَطَّعَةٍ وَإِمَّا مُنَجَّمَةٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أُعْطِيتُ خَمْسَ مِائَةٍ نَقْدًا فَمَنَعْتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا بِعْتُكَهُ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ قَالَ:‏‏‏‏ مَا أَعْطَيْتُكَهُ، ‏‏‏‏‏‏قُلْتُ لِسُفْيَانَ:‏‏‏‏ إِنَّ مَعْمَرًا لَمْ يَقُلْ هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ لَكِنَّهُ قَالَ لِي هَكَذَا، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ:‏‏‏‏ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَبِيعَ الشُّفْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَهُ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏فَيَهَبَ الْبَائِعُ لِلْمُشْتَرِي الدَّارَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَحُدُّهَا وَيَدْفَعُهَا إِلَيْهِ وَيُعَوِّضُهُ الْمُشْتَرِي أَلْفَ دِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا يَكُونُ لِلشَّفِيعِ فِيهَا شُفْعَةٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৮
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہبہ اور شفعہ میں حیلہ کرنے کا بیان اور بعض لوگوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص ایک ہزار درہم یا اس سے زائدہ کسی کو ہبہ کردے اور وہ اس کے پاس برسوں تک رہ جائے پھر وہ حیلہ سے کام لے اور ہبہ کرنے والا اس کو واپس لے لے تو زکوٰۃ ان دونوں میں سے کسی پر واجب نہیں ان دونوں نے ہبہ میں آنحضرت ﷺ کی مخالفت کی اور زکوٰۃ کو ساقط کردیا۔
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن شرید نے، ان سے ابورافع نے کہ سعد (رض) نے ان کے ایک گھر کی چار سو مثقال قیمت لگائی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی اپنے پڑوس کا زیادہ مستحق ہے تو میں اسے تمہیں نہ دیتا۔ اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر کسی نے کسی گھر کا حصہ خریدا اور چاہا کہ اس کا حق شفہ باطل کر دے تو اسے اس گھر کو اپنے چھوٹے بیٹے کو ہبہ کردینا چاہیے، اب نابالغ پر قسم بھی نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 6978 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ سَعْدًا سَاوَمَهُ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالٍ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ، ‏‏‏‏‏‏لَمَا أَعْطَيْتُكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ:‏‏‏‏ إِنِ اشْتَرَى نَصِيبَ دَارٍ فَأَرَادَ أَنْ يُبْطِلَ الشُّفْعَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَهَبَ لِابْنِهِ الصَّغِيرِ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا يَكُونُ عَلَيْهِ يَمِينٌ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৯
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عامل کا حیلہ کرنا تاکہ اس کو ہدیہ بھیجاجائے
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے ابوحمید الساعدی (رض) نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو بنی سلیم کے صدقات کی وصولی کے لیے عامل بنایا ان کا نام ابن اللتیبہ تھا پھر جب یہ عامل واپس آیا اور نبی کریم ﷺ نے ان کا حساب لیا ‘ اس نے سرکاری مال علیحدہ کیا اور کچھ مال کی نسبت کہنے لگا کہ یہ (مجھے) تحفہ میں ملا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر فرمایا کہ پھر کیوں نہ تم اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھے رہے اگر تم سچے ہو تو وہیں یہ تحفہ تمہارے پاس آجاتا۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد ! میں تم میں سے کسی ایک کو اس کام پر عامل بناتا ہوں جس کا اللہ نے مجھے والی بنایا ہے پھر وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارا مال اور یہ تحفہ ہے جو مجھے دیا گیا تھا۔ اسے اپنے ماں باپ کے گھر بیٹھا رہنا چاہیے تھا تاکہ اس کا تحفہ وہیں پہنچ جاتا۔ اللہ کی قسم ! تم میں سے جو بھی حق کے سوا کوئی چیز لے گا وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اس چیز کو اٹھائے ہوئے ہوگا بلکہ میں تم میں ہر اس شخص کو پہچان لوں گا جو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اونٹ اٹھائے ہوگا جو بلبلا رہا ہوگا یا گائے اٹھائے ہوگا جو اپنی آواز نکال رہی ہوگی یا بکری اٹھائے ہوگا جو اپنی آواز نکال رہی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ اٹھایا یہاں تک کہ آپ کے بغل کی سفیدی دکھائی دینے لگی اور فرمایا، اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا۔ یہ فرماتے ہوئے نبی کریم ﷺ کو میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں سے سنا۔
حدیث نمبر: 6979 حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ الْلَّتَبِيَّةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيكَ وَأُمِّكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ هَدِيَّتُكَ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ خَطَبَنَا، ‏‏‏‏‏‏فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ:‏‏‏‏ أَمَّا بَعْدُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏فَيَأْتِي فَيَقُولُ:‏‏‏‏ هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، ‏‏‏‏‏‏أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ، ‏‏‏‏‏‏وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ شَاةً تَيْعَرُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ رَفَعَ يَدَهُ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطِهِ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ بَصْرَ عَيْنِي وَسَمْعَ أُذُنِي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮০
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عامل کا حیلہ کرنا تاکہ اس کو ہدیہ بھیجاجائے
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے ‘ ان سے عمرو بن شرید نے اور ان سے ابورافع (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پڑوسی اپنے پڑوسی کا زیادہ حقدار ہے۔ اور بعض لوگوں نے کہا اگر کسی شخص نے ایک گھر بیس ہزار درہم کا خریدا (تو شفعہ کا حق ساقط کرنے کے لیے) یہ حیلہ کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ مالک مکان کو نو ہزار نو سو ننانوے درہم نقد ادا کرے اب بیس ہزار کے تکملہ میں جو باقی رہے یعنی دس ہزار اور ایک درہم اس کے بدل مالک مکان کو ایک دینار (اشرفی) دیدے۔ اس صورت میں اگر شفیع اس مکان کو لینا چاہے گا تو اس کو بیس ہزار درہم پر لینا ہوگا ورنہ وہ اس گھر کو نہیں لے سکتا۔ ایسی صورت میں اگر بیع کے بعد یہ گھر (بائع کے سوا) اور کسی کا نکلا تو خریدار بائع سے وہی قیمت واپس لے گا جو اس نے دی ہے یعنی نو ہزار نو سو ننانوے درہم اور ایک دینار (بیس ہزار درہم نہیں واپس سکتا) کیونکہ جب وہ گھر کسی اور کا نکلا تو اب وہ بیع صرف جو بائع اور مشتری کے بیچ میں ہوگئی تھی بالکل باطل ہوگئی (تو اصل دینار پھرنا لازم ہوگا نہ کہ اس کے ثمن (یعنی دس ہزار اور ایک درہم) اگر اس گھر میں کوئی عیب نکلا لیکن وہ بائع کے سوا کسی اور کی ملک نہیں نکلا تو خریدار اس گھر کو بائع کو واپس اور بیس ہزار درہم اس سے لے سکتا ہے۔ امام بخاری (رح) نے کہا تو ان لوگوں نے مسلمانوں کے آپس میں مکر و فریب کو جائز رکھا اور نبی کریم ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ مسلمان کی بیع میں جو مسلمان کے ساتھ ہو نہ عیب ہونا چاہیے یعنی (بیماری) نہ خباثت نہ کوئی آفت۔
حدیث نمبر: 6980 حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ:‏‏‏‏ إِنِ اشْتَرَى دَارًا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏فَلَا بَأْسَ أَنْ يَحْتَالَ حَتَّى يَشْتَرِيَ الدَّارَ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَيَنْقُدَهُ تِسْعَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَتِسْعَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَيَنْقُدَهُ دِينَارًا بِمَا بَقِيَ مِنَ الْعِشْرِينَ الْأَلْفَ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ طَلَبَ الشَّفِيعُ أَخَذَهَا بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا فَلَا سَبِيلَ لَهُ عَلَى الدَّارِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنِ اسْتُحِقَّتِ الدَّارُ، ‏‏‏‏‏‏رَجَعَ الْمُشْتَرِي عَلَى الْبَائِعِ بِمَا دَفَعَ إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَهُوَ تِسْعَةُ آلَافِ دِرْهَمٍ وَتِسْعُ مِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ دِرْهَمًا وَدِينَارٌ، ‏‏‏‏‏‏لِأَنَّ الْبَيْعَ حِينَ اسْتُحِقَّ انْتَقَضَ الصَّرْفُ فِي الدِّينَارِ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنْ وَجَدَ بِهَذِهِ الدَّارِ عَيْبًا وَلَمْ تُسْتَحَقَّ فَإِنَّهُ يَرُدُّهَا عَلَيْهِ بِعِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَأَجَازَ هَذَا الْخِدَاعَ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ بَيْعُ الْمُسْلِمِ لَا دَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا خِبْثَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَلَا غَائِلَةَ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮১
حیلوں کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عامل کا حیلہ کرنا تاکہ اس کو ہدیہ بھیجاجائے
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے سفیان نے ‘ ان سے ابراہیم بن میسرہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن شرید نے کہ ابورافع (رض) نے سعد بن مالک (رض) کو ایک گھر چار سو مثقال میں بیچا اور کہا کہ اگر میں نے نبی کریم ﷺ سے یہ نہ سنا ہوتا کہ پڑوسی حق پڑوس کا زیادہ حقدار ہے تو میں آپ کو یہ گھر نہ دیتا (اور کسی کے ہاتھ بیچ ڈالتا) ۔
حدیث نمبر: 6981 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا يَحْيَى ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سُفْيَانَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّ أَبَا رَافِعٍ سَاوَمَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ بَيْتًا بِأَرْبَعِ مِائَةِ مِثْقَالٍ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ:‏‏‏‏ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِمَا أَعْطَيْتُكَ.
tahqiq

তাহকীক: